Baaghi TV

Author: عائشہ ذوالفقار

  • پاکستانی نژاد اداکارکو نازیبا ویڈیو جاری کرنے لے الزام میں کویت کی عدالت نے سزا سُنا دی

    پاکستانی نژاد اداکارکو نازیبا ویڈیو جاری کرنے لے الزام میں کویت کی عدالت نے سزا سُنا دی

    پاکستانی نژاد اداکار فرحان ال علی کو سوشل میڈیا پر اپنی نازیبا ویڈیو جاری کرنے کے الزام میں کویت کی عدالت نے 2 سال قید اور جرمانے کی سزا سنادی۔

    باغی ٹی وی : کویت کی عدالت نے پاکستانی نژاد اداکار فرحان ال علی کو سوشل میڈیا پر اپنی نازیبا ویڈیو جاری کرنے کے الزام میں 2 سال قید اور جرمانے کی سزا سنادی۔عرب اخبار گلف نیوز نے ایک اور رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ کویت کی عدالت نے پاکستانی نژاد اداکار فرحان ال علی کو اپنی ہی نازیبا ویڈیو جاری کرنے کے الزام میں جیل بھیج دیا اور ایک ہزار کویتی دینار کا جرمانہ بھی عائد کیا-

    رپورٹ میں بتایا گیا کہ عدالت نے حکم دیا کہ سزا مکمل کرنے کے بعد پاکستانی اداکار کو ملک بدر بھی کیا جائے-

    فرحان ال علی کے حوالے سے جون میں عرب ویب سائٹ البوابہ نے بتایا تھا کہ پاکستانی اداکار نے پولیس کے سامنے نازیبا ویڈیو جاری کرنے کا اعتراف کرلیا۔

    رپورٹ کے مطابق فرحان ال علی نے اپنے اسنیپ چیٹ اکاؤنٹ پر اپنی ایک مختصر ویڈیو شیئر کی تھی، جس میں کپڑوں کے بغیر دکھائی دیے تھے۔

    مذکورہ ویڈیو وائرل ہونے کے بعد فرحان ال علی پر سخت تنقید کی گئی تھی اور ساتھ ہی پولیس نے ان کے خلاف کارروائی کا آغاز کیا تو انہوں نے دعوی کیا تھا کہ ان کا اسنیپ چیٹ اکاؤنٹ ہیک ہوگیا تھا۔

    تاہم بعد ازاں گرفتاری کے بعد جون میں کویتی اخبارات نے خبروں میں دعوی کیا تھا کہ پاکستانی اداکار نے پولیس کے سامنے اپنی نازیبا ویڈیو شیئر کرنے کا اعتراف کرلیا۔

    فرحان ال علی کویت کے متعدد اسٹیج تھیٹرز سمیت ٹی وی ڈراموں میں شاندار اداکاری کے جوہر دکھا چکے ہیں اور ان کی اداکاری کو کافی سراہا بھی جاتا رہا ہے۔

  • کچھ  لوگ مجھ پر جادو کروا رہے ہیں  ادکارہ میرا کا انکشاف

    کچھ لوگ مجھ پر جادو کروا رہے ہیں ادکارہ میرا کا انکشاف

    پاکستان شوبز انڈسٹری کی سینئر اداکارہ اور اسکینڈل کوئین میرا کا کہنا ہے کہ میرے پیرو مرشد نے بتایا ہے کہ کچھ لوگ مجھ پر جادو کرارہے ہیں۔

    باغی ٹی وی : اپنی گلابی انگلش اور اسکینڈل کوئین کے نام سے مشہور اداکارہ میرا نے خود پر انکشاف کیا ہے-اداکارہ کا کہنا ہے کہ میرے پیرو مرشد نے بتایا ہے کہ کچھ لوگ مجھ پر جادو کرارہے ہیں۔

    انہوں نے کہا جو لوگ میرے دشمن ہیں اور میرے خلاف ہیں وہ میرے خلاف غلط خبریں پھیلانے میں کبھی پیچھے نہیں رہے-

    اداکارہ نے کہا ہے کہ جب سے ان کے شو کے دوران فائرنگ ہوئی ہے وہ خوف کا شکار ہیں اور گھر سے نکل نہیں پا رہیں۔

    یاد رہے کہ گزشتہ دنوں فیصل آباد میں اداکارہ میرا کے اسٹیج ڈرامے کے دوران سبینہ تھیٹر کے باہر نامعلوم موٹر سائیکل سوار فائرنگ کر کے فرار ہو گئے تھے فائرنگ کے نتیجے میں گاڑیوں کے شیشے ٹوٹ گئے تھے اور علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا تھا۔

    جبکہ فائرنگ کے وقت اداکارہ میرا بھی اسٹیج پر موجود تھیں۔

    میرا پر دھوکے سے گھر اپنے نام کروانے پر مقدمہ درج

    میرا فائرنگ کیس:باغی ٹی وی کی خبر پر پولیس نے مقدمہ درج کرلیا، ملزمان کی گرفتاری…

    فیصل آباد میں فلمسٹار میرا جی کی پرفارمنس کے دوران فائرنگ

  • فلم انڈسٹری کے لئے لیفٹیننٹ جنرل (ر)عاصم سلیم باجوہ کے اٹھائے گئے اقدامات گیم چینجر ثابت ہوں گے علی ظفر

    فلم انڈسٹری کے لئے لیفٹیننٹ جنرل (ر)عاصم سلیم باجوہ کے اٹھائے گئے اقدامات گیم چینجر ثابت ہوں گے علی ظفر

    پاکستان شوبز انڈسٹری کے نامور گلوکار و اداکار علی ظفر نے چیئرمین سی پیک اتھارٹی اور معاون خصوصی برائے اطلاعات ونشریات لیفٹیننٹ جنرل (ر) عاصم سلیم باجوہ کا فلم انڈسٹری کی بحالی کیلئے ضروری اقدامات کی اصولی منظوری پر شکریہ ادا کیا ہے۔

    باغی ٹی وی : پاکستان شوبز انڈسٹری کے نامور گلوکار و اداکار علی ظفر نے چیئرمین سی پیک اتھارٹی اور معاون خصوصی برائے اطلاعات ونشریات لیفٹیننٹ جنرل (ر) عاصم سلیم باجوہ کا فلم انڈسٹری کی بحالی کیلئے ضروری اقدامات کی اصولی منظوری پر شکریہ ادا کیا ہے انہوں نے لکھا کہ فلم انڈسٹری کے مسائل کے حل کے لیے اٹھائے گئے اقدامات کے شکرگزار ہیں۔

    سوشل میڈیا سائٹ ٹوئٹر پر عاصم سلیم باجوہ نے وزیراعظم کی زیر صدارت فلم انڈسٹری کی بحالی سے متعلق اجلاس کی تفصیلات بتاتے ہوئے لکھا کہ فلم انڈسٹری کی بحالی کے لیے ضروری اقدامات کی اصولی منظوری دے دی گئی۔

    انہوں نے بتایا کہ ملکی کلچر اور سماجی اقدار کے فروغ سمیت پروڈکشن کا معیار بہتر بنایا جائے گا، متعلقہ وزارتوں کو ضروری اقدامات کی ہدایات کردی گئیں ہیں۔

    عاصم سلیم باجوہ نے یہ بھی لکھا کہ ’پاکستان ترقی کی راہ پر گامزن ہے۔

    گلوکارعلی ظفر نے عاصم سلیم باجوہ کے ٹوئٹ پر ردعمل دیتے ہوئے عمران خان اور ٹیم کے اس اقدام کو خوش آئند قرار دیا-


    علی ظفر نے عاصم سلیم باجوہ کو ٹیگ کرتے ہوئے لکھا کہ فلم انڈسٹری کے لئے اس طرح کے جوش و خروش کو جاری رکھنے کے لئے
    آپ کا شکریہ-

    انہوں نے لکھا کہ فلم انڈسٹری کی بہتری کیلئے اٹھائے گئے یہ اقدامات گیم چینجر ثابت ہوں گے۔

    فلم انڈسٹری کی بحالی کے لیے وزیر اعظم کا اہم قدم،روڈمیپ تیارکرنے کاحکم

    گلوکارہ میشا شفیع کےخلاف ایک ارب روپے ہتک عزت کے مقدمے کی سماعت،عدالت نے 28…

  • صنعت کی ترقی میں حصہ ڈالنے کے لیے پرجوش ہوں  ہمایوں سعید

    صنعت کی ترقی میں حصہ ڈالنے کے لیے پرجوش ہوں ہمایوں سعید

    پاکستان کے صف اول کے اداکارہمایوں سعید نے چیئرمین سی پیک اتھارٹی اور معاون خصوصی برائے اطلاعات ونشریات لیفٹیننٹ جنرل (ر) عاصم سلیم باجوہ کا فلم انڈسٹری کی بحالی کیلئے ضروری اقدامات کی اصولی منظوری پر شکریہ ادا کیا ہے۔

    باغی ٹی وی : ہمایوں سعید نے چیئرمین سی پیک اتھارٹی اور معاون خصوصی برائے اطلاعات ونشریات لیفٹیننٹ جنرل (ر) عاصم سلیم باجوہ کا فلم انڈسٹری کی بحالی کیلئے ضروری اقدامات کی اصولی منظوری پر شکریہ ادا کیا ہے۔ انہوں نے لکھا کہ فلم انڈسٹری کے مسائل کے حل کے لیے اٹھائے گئے اقدامات کے شکرگزار ہیں۔

    سوشل میڈیا ویب سائٹ ٹوئٹر پر عاصم سلیم باجوہ نے وزیراعظم کی زیر صدارت فلم انڈسٹری کی بحالی سے متعلق اجلاس کی تفصیلات بتاتے ہوئے لکھا کہ فلم انڈسٹری کی بحالی کے لیے ضروری اقدامات کی اصولی منظوری دے دی گئی۔

    انہوں نے بتایا کہ ملکی کلچر اور سماجی اقدار کے فروغ سمیت پروڈکشن کا معیار بہتر بنایا جائے گا متعلقہ وزارتوں کو ضروری اقدامات کی ہدایات کردی گئیں ہیں۔

    عاصم سلیم باجوہ نے کہا کہ پاکستان ترقی کی راہ پر گامزن ہے۔


    ہمایوں سعید نے ان کے ٹوئٹ پر ردعمل دیتے ہوئے عمران خان اور ٹیم کے اس اقدام کو خوش آئند قرار دیا اور لکھا کہ وہ پُرامید ہیں کہ ان اقدامات پر جلد عمل بھی کیا جائے گا۔

    انہوں نے عاصم باجوہ کو ٹیگ کرتے ہوئے لکھا کہ اس مقصد کے حصول کیلئے آپ کی مسلسل کاوشوں کا شکریہ، پاکستان فلم انڈسٹری نے اس لمحے کے لیے طویل انتظار کیا ہے۔

    ہمایوں سعید نے لکھا کہ وہ صنعت کی ترقی میں حصہ ڈالنے کے لیے پرجوش ہیں۔

    فلم انڈسٹری کی بحالی کے لیے وزیر اعظم کا اہم قدم،روڈمیپ تیارکرنے کاحکم

  • عاصم اظہر کا نیا گانا ریلیز ہوتے ہی مقبول ہوگیا

    عاصم اظہر کا نیا گانا ریلیز ہوتے ہی مقبول ہوگیا

    پاکستان میوزک انڈسٹری کے معروف گلوکار عاصم اظہر کا نیا گانا ’تصویر‘ ریلیز ہوتے ہی مقبول ہوگیا۔

    باغی ٹی وی : پاکستان میوزک انڈسٹری کے نامور گلوکار عاصم اظہر نے اپنے مداحوں کے لیے ایک اور گانا جاری کردیا ہے جس کا عنوان ’تصویر‘ ہے۔

    اس گانے میں عاصم اظہر کو ایک نئے روپ میں دکھایا گیا ہے جسے مداحوں کی جانب سے اُن کے کام کو خوب سراہا جارہا ہے۔
    https://www.instagram.com/p/CFKSac0JZkF/?utm_source=ig_embed
    گلوکار کے نئے گانے ’تصویر ‘ کی شاعری اُداس کردینے والی ہےعاصم اظہر کو گانے میں روتا ہوا دیکھ کر سوشل میڈیا صارفین نے اس گانے کو تشکیل دینے کے پیچھے کی وجہ ہانیہ عامر کو قرار دے دیا۔

    گانے کو قاسم اظہر نے کمپوز کیا ہے جبکہ عمران رضا نے اس گانے کو تحریر کیا ہے۔


    عاصم اظہر کی اس پوسٹ پر اُن کی والدہ و اداکارہ گل رعنا نے کمنٹ کرتے ہوئے لکھا تھا کہ بیٹا میں تمہاری ماں ہوں اس لیے ٹھیک سے تمہاری تعریف بھی نہیں کرسکتی لیکن واقعی میں تم ایک حقیقی اسٹار ہو۔

    دوسری جانب اداکارہ اُشنا شاہ نے پوسٹ پر کمنٹ کرتے ہوئے عاصم اظہر کی گائیکی اور گانے کی شاعری کو قاتلانہ قرار دیا تھا۔

    اداکارہ نادیہ حسین نے بھی عاصم اظہر کے گانے کی تعریف کی-

    واضح رہے کہ اس سے قبل بھی عاصم اظہر کے گانےجو تو نہ ملا، ہمراہ اور تیرا وہ پیار کو خوب مقبولیت حاصل ہوئی ہے۔

    عاصم اظہر کے نئے گانے کی ویڈٰیو نے سوشل میڈیا پر دھوم مچا دی

    عاصم اظہرکا مصنوعی خوبصورتی کو اپنانے سے انکار

    عالمی شہرت یافتہ گلوکارہ حدیقہ کیانی ٹیلی ویژن پر اداکاری کرنے کے لیے تیار

    حریم فاروق کا ملکہ ترنم نورجہان کو خراج تحسین

  • سارے مارننگ شوز افسوسناک ہیں   نور بخاری

    سارے مارننگ شوز افسوسناک ہیں نور بخاری

    مروہ کے والدین کو شو میں بُلانے کے حوالے سے سابق اداکارہ و میزبان نور بخاری کا کہنا ہے کہ شو میں متاثرین کو بُلایا جاتا ہے اور کہا جاتا ہے رلاؤ ان کو اور رلاؤ۔

    باغی ٹی وی : مارننگ شوکی میزبان ندا یاسر کو زیادتی کے بعد قتل ہونے والی مروہ کے والدین کو شومیں بلاکران سے بچی کے کیس سے متعلق انتہائی غیر سنجیدہ سوالات پوچھنے پرپچھلے کچھ دنوں سے شدید تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے-

    پاکستان کے معروف میزبان عامر لیاقت کی سابق بیوی بشریٰ اقبال نے بھی ندا یاسر کی اس حرکت پر تنقید کرتے ہوئے ایک ویڈیو جاری کی ہے جس میں انہوں نے کہا کہ تمام نیوز اور اینٹرٹینمنٹ چینلز سے ایک گزارش خدارا یہ قوم کی بچیاں ہیں، ہماری بیٹیاں ہیں, ان کے ساتھ پہلے زیادتی ہوتی ہے اس کے بعد بار بار زیادتی ہوتی ہے۔

    انہوں نے کہا کہ ان کے گھر والوں کے زخموں اور دکھوں پر مرہم رکھنے کے بجاۓ انہیں نوچ نوچ کر کیوں اپنی کمائی کا ذریعہ بناتے ہیں۔ اپنے پروگرامز میں بلا کر ان ماں باپ یا گھر والوں سے ان کی بیٹی کی عصمت دری کا واقعہ پوچھنا یا بیان کرنا ان کے لیے کسی موت سے کم نہیں۔
    https://www.instagram.com/p/CFN-TFyBvXC/?igshid=1qctq728ul7q0
    انہوں نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بس کردیں ریٹنگز کی دوڑ!! یہ دکھ، صدمہ ہم سب کا اجتماعی دکھ ہے۔ ان ریپ کیسز اور زیادتیوں کے خلاف آواز بنیں نہ کہ ان کی تکلیف میں اضافے کا باعث!! ذرائع ابلاغ کا درست استعمال بھی ہماری معاشرتی ذمہ داریوں میں شامل ہے۔

    بشریٰ اقبال کی اس ویڈیو پر سابق میزبان اور اداکارہ نور بخاری نے رد عمل دیتے ہوئے مارننگ شوز کی حقیقت بیان کرتے ہوئے کہا کہ ہاں یہ سب یہی کرتے ہیں۔ سارے مارننگ شوز افسوسناک ہیں۔ یہ لوگ متاثرین کو بلاتے ہیں اور پھر میزبان کو کہا جاتا ہے رلاؤ ان کو رلاؤ اور رلاؤ۔

    انہوں نے کہا کہ میں نے ایک بار ایک شو اسی نفرت انگیز رویے کی وجہ سے چھوڑا تھا۔ نور بخاری کے کمنٹ کا اسکرین شاٹ سوشل میڈیا پر وائرل ہورہا ہے-

  • مجلہ "اسوہ حسنہ” کا خصوصی نمبر  بقلم: عبدالرحمن ثاقب سکھر

    مجلہ "اسوہ حسنہ” کا خصوصی نمبر بقلم: عبدالرحمن ثاقب سکھر

    مجلہ "اسوہ حسنہ” کا خصوصی نمبر

    بقلم:- عبدالرحمن ثاقب سکھر

    سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: عالم قیام کرنے والے روزہ دار اور مجاہد سے افضل ہے۔ جب عالم فوت ہو جاتا ہے تو اسلام میں ایک ایسا خلا پیدا ہوتا ہے کہ اس جیسا جانشین ہیں اسے پر کرسکتا ہے۔ (انسائیکلوپیڈیا سیرت صحابہ کرام 1/398)
    بلا ریب علماء ہی انبیاء کرام علیہم السلام کے وارث ہوتے ہیں جو دین کی دعوت لوگوں تک پہنچاتے ہیں اور اس مشن پیغمبرانہ کی ادائیگی میں اپنی ساری توانائیاں صرف کر دیتے ہیں۔ اور اپنی درویشانہ زندگی میں "ان اجری الا علی اللہ” کے مصداق نظر آتے ہیں. یہ علماء و مشائخ کرام دنیا کے ذہین ترین انسان ہوتے ہیں لیکن ان کی جستجو و طلب دنیا نہیں بلکہ آخرت کی کامیابی و کامرانی کی طرف مرکوز رہتی ہے۔ مدارس و جامعات کی چٹائیوں پر بیٹھ کر طلب علم میں مصروف رہنے والے طلبہ کی علمی رہنمائی کر کے انہیں ہیرے کی طرح تراش کر ملت کو بطور تحفہ پیش کرتے ہیں۔ ایک ایک عالم دین اور شیخ الحدیث اپنی اپنی جگہ ایک تحریک ہوتا ہے جو معاشرے کی نہ صرف دینی رہنمائی کرتا ہے بلکہ معاشرے کے بیگاڑ کو روکنے کے لیے بھی اپنا کردار ادا کرتاہے۔
    کسی عالم دین کا اس دنیا فانی سے جانا محض کسی شخصیت، شکل و صورت یا دم ولحم کا فقدان نہیں ہوتا بلکہ اس کے سینے میں محفوظ و مامون میراث نبوت کا فقدان ہوتا ہے۔ اور علماء کے جانا علامات قیامت ہوتا ہے۔ جیسا کہ نبی اکرم صلی وسلم کا فرمان ہے۔
    سیدنا عبداللہ ابن عباس رضی اللہ عنہ نے پوچھا کہ: کیا تم جانتے ہو کہ علم کس طرح سے ختم ہوگا؟ ہم نے کہا کہ نہیں! انہوں نے فرمایا کہ علماء کے اٹھ جانے سے (سنن دارمی)
    گذشتہ چند ماہ میں بہت سی علمی شخصیات ہم سے رخصت ہوگئیں جن کا خلا پر ہونا بہت مشکل نظر آتا ہے۔ یہ علمی شخصیات یکے بعد دیگرے ہمیں داغ مفارقت دیتی رہیں۔ علماء کی وفات پر جماعت کا ہر فرد مغموم و محزون نظر آیا اور علماء کی جماعت کے ساتھ ساتھ عام انسان بھی ان علماء کرام و مشائخ عظام کی وفات کواپنا ذاتی نقصان سمجھ رہا تھا اور دکھ کا اظہار کرتے ہوئے نظر آرہا تھا۔
    حقیقت یہ ہے کہ امسال اس قدر علماء و مشائخ عظام کی پے در پے وفات سے ایسا خلا پیدا ہو چکا ہے جس کا پر ہونا ناممکن ہے کیونکہ جو مسند خالی ہو جاتی ہے بظاہر اس مسند پر جانشین اجاتا ہے لیکن علمی و عملی طور پر وہ اس مقام کا حامل نہیں ہوتا جس قدر اس مسند کو چھوڑ جانے والا تھا۔
    جامعہ ابی بکر الاسلامیہ کراچی صرف ایک عالمی علمی دانشگاہ ہی نہیں بلکہ تعلیم و تعلم کے ساتھ ساتھ دینی و فکری رہنمائی کرنے والی ایک تحریک ہے جہاں سے قرآن و سنت کے چشمہ صافی سے دنیا کو سیراب کیا جاتا ہے اور وقت کے تقاضوں کے مطابق عامۃ الناس کی رہنمائی کی جاتی ہے۔
    بانی جامعہ ہمارے مربی و محسن فضیلۃ الشیخ پروفیسر محمد ظفر اللہ رحمۃ اللہ علیہ کی دلی تمنا تھی کہ جامعہ ابی بکر الاسلامیہ کا ایک علمی مجلہ ہونا چاہیے۔ بحمد اللہ پندرہ سال قبل جامعہ کی انتظامیہ نے یہ قدم اٹھایا اور فضیلت الشیخ ڈاکٹر مقبول احمد مکی صاحب حفظہ اللہ کی ذمہ داری لگائی جنہوں نے احسن انداز میں اس ذمہ داری کو نبھایا اور مجلہ کو معنوی اور صوری طور پر خوبصورت بنانے کے ساتھ ساتھ علمی و ادبی معیار کو بھی بلند رکھا اور مختلف مواقع پر مجلہ اسوہ حسنہ کے خصوصی نمبر بھی شائع کئے۔ جن میں سے چند کا ذکر کیا جاتا ہے۔
    تحفظ ناموس رسالت نمبر 2005
    قرآن نمبر 2006
    سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم نمبر 2012
    پروفیسر محمد ظفر اللہ رحمہ اللہ نمبر 2012
    سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم نمبر 2013
    سعودی عرب نمبر 2013
    سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم نمبر 2014
    دفاع بلاد حرمین نمبر 2015
    بےدینی، دہریت اور الحاد نمبر 2020
    اور اب سال 2020 میں وفات پا جانے والے جید علماء کرام کی سوانح حیات پر خصوصی نمبر” گلستان علم و عرفان کے انمول موتی جو ہم سے بچھڑ گئے نمبر 2020
    اس خاص نمبر میں الشیخ قاضی محمد عیاض، محدث العصر مولانا عبدالحمید ہزاروی، شیخ الحدیث مولانا عبد الرشید ہزاروی، پروفیسر عبدالرحمن لدھیانوی، شیخ الحدیث مولانا محمد یونس بٹ، پروفیسر حافظ ثناء اللہ خان، بابائے قرآت قاری محمد یحیی رسول نگری، حافظ صلاح الدین یوسف، محدث العصر مولانا ضیاء الرحمن الاعظمی مدنی، مولانا انیس الحق افغانی رحمھم اللہ علیہم پر اہل علم و قلم کے مضامین شائع کئے ہیں۔ 124 صفحات پر یہ علماء کرام کی سوانح حیات پر مشتمل دستاویز ہے۔ جو کہ اصحاب علم وفضل سے محبت رکھنے والوں کے لیے ایک انمول تحفہ ہے۔
    میں سمجھتا ہوں کہ وقت کے لحاظ اور علماء کرام کی زندگیوں اور علمی جد و جہد سے آگاھ کرنے کے لیے ” مجلہ اسوہ حسنہ” کی انتظامیہ نے بہت ہی احسن قدم اٹھایا ہے۔ اور طالبان علوم نبوت کے اشتیاق کو بڑھانے کے لیے یہ خصوصی نمبر شائع کرکے ہم طلاب علم کے لیے علماء کرام و مشائخ عظام کے حالات کو جاننے کا سامان مہیا کیا ہے۔
    مجلہ اسوہ حسنہ کی تسلسل سے اشاعت کے لیے خصوصی دلچسپی لینے پر فضیلة الشیخ ضیاء الرحمن مدنی صاحب حفظہ اللہ مدیر جامعہ ابی بکر الاسلامیہ اور جامعہ کے اساتذہ کرام جو کہ مجلہ کے قلمی معاونین بھی ہیں لائق صد تحسین ہیں ان کا شکریہ ادا کرنا بھی ضروری سمجھتا ہوں۔ اللہ تعالی انہیں جزائے خیر عطا فرمائے۔ آمین
    اس اشاعت خاص پر میں مدیر مجلہ محترم ڈاکٹر مقبول احمد مکی صاحب حفظہ اللہ کی ٹیم کو مبارک باد پیش کرتا ہوں اور دوست و احباب سے گذارش کرتا ہوں کہ وہ اس خصوصی نمبر کو ضرور حاصل کریں۔ خود بھی اس کا مطالعہ کریں اور اپنے بچوں کو بھی مجلہ پڑھنے کےلئے دیں تاکہ ان کے دلوں میں بھی دین اسلام کے داعی بننے کا جذبہ اور لگن بڑھے۔
    ملنے کا پتہ:
    دفتر مجلہ اسوہ حسنہ جامعہ ابی بکر الاسلامیہ گلشن اقبال کراچی

  • چھوٹے بچوں کے نازیبا ڈانس کی ویڈیو وائرل، سوشل میڈیا صارفین کی تنقید

    چھوٹے بچوں کے نازیبا ڈانس کی ویڈیو وائرل، سوشل میڈیا صارفین کی تنقید

    سوشل میڈیا پر وائرل چھوٹے بچوں کے نازیبا ڈانس کی ویڈیو پر سوشل میڈیا صارفین غم وغصے کا اظہار کر رہے ہیں-

    باغی ٹی وی : سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر ایک ویڈیو وائرل ہو رہے ہے جس میں ایک کم عمر بچے کو نوجوان لڑکی کے ساتھ ڈانس کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے-

    ویڈیو میں گانے اوراس نا زیبا ڈانس پر سوشل میڈیا صارفین ناپسندیدگی اور غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے شدید تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں-


    عائزے نامی صارف نے شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے لکھا کہ قوم کی جہلیت ملاحظہ فرمائیں اگر یہ بچے بہن بھائی بھی ہیں تو بھی والدین کو شرم نا آئی اوپر سے ایڈیٹنگ میں بیہودہ گانا-


    مبشر ابرار نامی صارف نے لکھا کہ شرم تو دور کی بات ہے عوام خوش ہوتی ہے کہ ایسے والدین ہوں اور ایسے بچھے ہوں پھر بڑے ہو کر جب کچھ غلط کریں تو بولیں گے ہم سے تربیت سحیح نہیں ہوئی کہنے کا مطلب یہ ہے کہ کیا چیز سکھائی جا رہی ہے اور کسیسی تربیت کی جا رہی ہے نوجوان نسل کو کیسا مستقبل دیا جا رہیا ہے پھر بولیں گے ٹائم بہت خراب ہے-
    https://twitter.com/forxmpl/status/1306964945763020800?s=20
    https://twitter.com/Bushra_Nazir_/status/1306965346876784642?s=20
    ایک صارف نے لکھا کہ ٹک ٹاک پر پابندی لگا دینی چاہیئے-
    https://twitter.com/forxmpl/status/1306966095815938053?s=20


    https://twitter.com/Anankhan695/status/1306954435109761026?s=20

  • وقار ذکاء نے مروہ کے والدین سے متعلق ندا یاسر کا جھوٹ بے نقاب کر دیا

    وقار ذکاء نے مروہ کے والدین سے متعلق ندا یاسر کا جھوٹ بے نقاب کر دیا

    پاکستان کے نامور میزبان وقار ذکاء نے انکشاف کیا ہے کہ مروہ کی فیملی نے میڈیا کے کسی نمائندے سے رابطہ نہیں کیا تھا۔

    باغی ٹی وی : گزشتہ روزمعروف میزبان ندا یاسر نے اپنے پروگرام میں زیادتی کا نشانہ بننے والی 5 سالہ بچی مروہ کے والدین کو مدعو کرنے پر معافی مانگی تھی اُنہوں نے اپنے ویڈیو پیغام میں مروہ کے والدین کو اپنے شو پر بلانے پر وضاحت دیتے ہوئے کہا تھا کہ بچی کے اہلخانہ نے ان سے خود رابطہ کیا تھا اور یہ پروگرام ریٹنگ کے لیے نہیں کیا گیا تھا۔

    ندا یاسر نے اپنے ویڈیو پیغام میں کہا تھا کہ پورا شو دیکھا جائے تو آپ کو اندازہ ہوگا کہ پہلے دن ان کی ایف آئی آر بھی نہیں درج ہوئی تھی اور جب انہوں نے احتجاج کیا تو دوسرے دن ایف آئی آر درج کی گئی تھی، اس طرح کے کیسز کو جب میڈیا سپورٹ ملتی ہے تو اداروں کا کام تیز ہوجاتا ہے۔

    ندا یاسر کی معافی پر وقار ذکاء نےسماجی رابطے کی ویب سائٹانسٹاگرام پر اپنی ایک ویڈیو شیئر کی جس میں اُن کا کہنا ہے کہ میزبان ندا یاسر نے اپنے ویڈیو پیغام میں غلط بیانی سے معافی مانگنے کی کوشش کی ہے۔
    https://www.instagram.com/tv/CFP4fi3J0P1/?igshid=4m2grhoyru34
    وقار ذکاء نے اپنے ویڈیو پیغام میں مروہ کے والد کا بیان بھی شامل کیا جس میں مروہ کے والد نے ندا یاسر کے بیان کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ اُنہوں نے ندا اور شو کی انتظامیہ سے کوئی رابطہ نہیں کیا تھا بلکہ انتظامیہ نے خود اُن سے رابطہ کرکے اُنہیں شو پر آنے کے لیے دعوت دی تھی۔

    دوسری جانب مروہ کے تایا نے بھی شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مروہ کے حادثے سے پہلے اُن کا میڈیا کے کسی نمائندے سے کوئی رابطہ نہیں تھا لیکن مروہ کے حادثے کے بعد خود میڈیا والے اُن کے پاس آئے اور اُن سے رابطہ کیا۔

    مروہ کے تایا نے ندا یاسر کے ایف آئی آر والے بیان کی بھی تردید کرتے ہوئے کہا کہ ندا یاسر نے جھوٹ بولا کہ اُن کے شو میں جانے کے بعد پولیس نے ایف آئی آر درج کی تھی بلکہ سچ تو یہ ہے کہ ہم نے 4 ستمبر کو ہی مروہ کی گمشدگی کی ایف آئی آر کٹوا دی تھی۔

    ندا یاسر کا بیان سُننے کے بعد وقار ذکاء نے اُنہیں میزبانی چھوڑنے کا مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ میرا آپ کو اخلاقی مشورہ یے کہ اب آپ کو پروڈیوسر بن جانا چاہیے اور اپنی جگہ کسی دوسری لڑکی کو آگے آکر میزبانی کرنے کا موقع دینا چاہیے کیونکہ اس اور اتنے بڑے جھوٹ جے بعد اب شاید ہی عوام آپ کو پسند کرے گی اور دوبارہ اسکرین پر دیکھنا چاہے گی۔

    واضح رہے کہ مروہ کی فیملی کو اپنے مارننگ شو میں مدعو کرنے اور پھر اُن سے نامناسب سوالات کرنے پر سوشل میڈیا پر ندا یاسر کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا جارہا تھا اور پاکستان کے ٹوئٹر ٹرینڈ پینل پر ہیش ٹیگ BanNidaYasir کا ٹرینڈ بھی زیر گردش رہا

    سوشل میڈیا پر کچھ صارفین نے ندا یاسر کے خلاف پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی(پیمرا) میں شکایت بھی درج کرائی تھی۔

    صارفین کا کہنا تھا کہ ندا یاسر نے یہ پروگرام محض ریٹنگ حاصل کرنے کے لیے کیا تھا بچی کے والدین کو مدعو کر کے نامناسب سوال کرنے سے اُن کے احساسات مجروح ہوئے ہیں جس جے بعد ندا یاسر نے عوام سے ہاتھ جوڑ کر معافی مانگی تھی-

    زیادتی کے بعد قتل ہونے والی 5 سالہ مروہ کے والدین کو پروگرام میں مدعو کرنے پر…

    مروہ کے والدین کو پروگرام میں مدعو کرنے پر سیمی راحیل چینل اور شو سے منسلک افراد پر برہم

  • ندا یاسر نے مروہ کے والدین کو پروگرم میں مدعو کرنے پر معافی مانگ لی

    ندا یاسر نے مروہ کے والدین کو پروگرم میں مدعو کرنے پر معافی مانگ لی

    پاکستان کی معروف میزبان اور اداکارہ ندا یاسر نے اپنے پروگرام میں زیادتی کے بعد قتل کی جانے والی 5 سالہ ننھی بچی مروہ کے والدین کو مدعو کرنے پر معافی مانگ لی۔

    باغی ٹی وی : میزبان اور اداکارہ ندا یاسر نے مروہ کے والدین کو اپنے شو پر مدع کرنے پر معافی مانگتے ہوئے وضاحت دی اور کہا کہ بچی کے اہلخانہ نے ان سے خود رابطہ کیا تھا اور یہ پروگرام ریٹنگ کیلئے نہیں کیا گیاتھا۔

    مروہ کے والدین کو شو پر بُلا کر تکلیف بھرے سوالات کرنے پر سوشل میڈیا پر ندا یاسر کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا جارہا تھا اور پاکستان کے ٹوئٹر ٹرینڈ پینل پر ہیش ٹیگ BanNidaYasir کا ٹرینڈ بھی زیر گردش رہا۔

    سوشل میڈیا پر کچھ صارفین سمیت سئنئیر اداکاری سیمی راحیل نے ندا یاسر کے خلاف پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی(پیمرا) میں شکایت بھی درج کرائی۔

    صارفین کا کہنا تھا کہ ندا یاسر نے یہ پروگرام محض ریٹنگ حاصل کرنے کیلئے کیا تھا اور بچی کے والدین کو مدعو کر کے نامناسب سوال کرنے سے اُن کے احساسات مجروح ہوئے ہیں۔

    مذکورہ شو پر پابندی کے مطالبے نے ایک تنازع کی صورت اختیار کرلی تھی جس پر ندا یاسر نے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر جاری کردہ ایک ویڈیو بیان میں مداحوں سے معافی مانگ لی۔

    03 منٹ اور 23 سیکنڈ پر مبنی ویڈیو پیغام شیئر کرتے ہوئے ندا یاسر نے لکھا کہ براہ کرم مجھے معاف کردیں۔
    https://www.instagram.com/tv/CFO5ilJBruU/?igshid=r9vvxgmaadfl
    اپنے ویڈیو پیغام میں میزبان نے شو سے متعلق وضاحت دیتے ہوئے کہا کہ دیکھنے میں آرہا ہے کہ کچھ لوگ مجھ سے ناراض ہیں،اور ان کی ناراضی کی وجہ یہ ہے کہ میں نے مروہ کے والدین کو بلا کر کچھ ایسے سوالات کیے جو مجھے نہیں کرنے چاہیے تھے۔

    انہوں نے کہا کہ ’سب سے پہلے تو میں معافی مانگنا چاہوں گی میں آپ لوگوں کو ناراض نہیں دیکھ سکتی اگر جانے انجانے میں مجھ سے کوئی ایسی بات ہوئی یا سوال ہوئے ہیں تو میں آپ سے ہاتھ جوڑ کر معافی مانگتی ہوں۔

    ندا یاسر نے اپنے ویڈیو بیان میں کہا کہ میں وضاحت دینا چاہوں گی کہ ہم ایک ہفتہ قبل شو کی منصوبہ بندی کرتے ہیں اور ایسے پروگرام ترتیب دیتے ہیں جس سے آپ کی صبح خوشگوار ہو جس میں ہنسی مذاق ہو۔

    انہوں نے کہا کہ ہم نے مروہ کے اہلخانہ سے رابطہ نہیں کیا تھا بلکہ انہوں نے صارم برنی کے توسط سے ہم سے رابطہ کیا تھا کیونکہ انہیں میڈیا سپورٹ کی ضرورت تھی۔

    ندا یاسر نے کہا کہ پورا شو دیکھا جائے تو آپ کو اندازہ ہوگا کہ پہلے دن ان کی ایف آئی آر بھی نہیں درج ہوئی تھی اور جب انہوں نے احتجاج کیا تو دوسرے دن ایف آئی آر درج کی گئی تھی اس طرح کے کیسز کو جب میڈیا سپورٹ ملتی ہے تو اداروں کا کام تیز ہوجاتا ہے۔

    ان کا مزید کہنا تھا کہ روزانہ ایسے بہت سے کیسز ہوتے ہیں اور آپ کو پتا بھی نہیں چلتا اور ریپسٹ اسی طرح کھلے عام گھومتے رہتے ہیں۔

    ندا یاسر نے کہا کہ مروہ کے اہلخانہ کی درخواست سن کر مجھے لگا کہ سارے کام پروگرامز چھوڑ کر اس وقت مجھے انہیں سپورٹ کرنا ہے اور خدا گواہ ہے یہ کسی ٹی آر پی کے لیے نہیں کیا گیا۔

    میزبان نے کہا کہ یہ شوز مجھے ڈپریس اور اداس کردیتے ہیں میں خود ایک ماں ہوں مگر اس وقت اس بچی کے اہلخانہ کو میرے تعاون کی ضرورت تھی اور میں نے اپنا فرض سمجھ کر انہیں یہاں بلایا تاکہ ہماری سپورٹ مل سکے۔

    ندا یاسر نے کہا کہ یقین جانیں اس شو کے 2 دن بعد وہ ریپسٹ پکڑا گیا اس خاندان نے مجھے بہت دعائیں دی ندا یاسر نے کہا کہ میں اس خاندان کو مروہ تو واپس نہیں کرسکتی لیکن جو تسکین ان کو ملی، ریپسٹ ان کے ہاتھ میں آیا تو یقین جانیں وہ لوگ مجھے دعائیں دے کر گئے۔

    ندا یاسر نے یہ بھی کہا کہ اگر آپ کو لگتا ہے کہ میں نے کوئی غلط بات کی یا کچھ غلط بولا تو اس کے لئے میں آپ سب سے معافی مانگتی ہوں –

    ندا یاسر نے کہا کہ پھر بھی میں انسان ہوں جانے انجانے میں مجھ سے غلطی ہوسکتی ہے کچھ غلط بولا ہو تو براہِ کرم مجھے معاف کردیں۔

    اپنے ویڈیو پیغام کے آخر میں انہوں نے کہا کہ میں تہہ دل سے معذرت کرتی ہوں اور کوشش کروں گی کہ آئندہ اور بھی زیادہ پھونک پھونک کر قدم رکھوں۔

    مروہ کے والدین کو پروگرام میں مدعو کرنے پر سیمی راحیل چینل اور شو سے منسلک افراد پر برہم

    زیادتی کے بعد قتل ہونے والی 5 سالہ مروہ کے والدین کو پروگرام میں مدعو کرنے پر…