Baaghi TV

Author: عائشہ ذوالفقار

  • زیادتی کے بعد قتل ہونے والی 5 سالہ مروہ کے والدین کو پروگرام میں مدعو کرنے پر صارفین ندا یاسر پر برہم

    زیادتی کے بعد قتل ہونے والی 5 سالہ مروہ کے والدین کو پروگرام میں مدعو کرنے پر صارفین ندا یاسر پر برہم

    سوشل میڈیا صارفنی نے نجی ٹی وی کے مارننگ شو کی میزبان اداکارہ ندا یاسرکو کراچی میں زیادتی کے بعد قتل ہونے والی 5 سالہ مروہ کے والدین کو پروگرام میں مدعو کرنے پر شدید تنقید کا نشانہ بنایا-

    باغی ٹی وی : حال ہی میں نجی ٹی وی کے مارننگ شو کی میزبان اداکارہ ندا یاسر نے کراچی میں زیادتی کے بعد قتل ہونے والی 5 سالہ مروہ کے والدین کو پروگرام میں مدعو کرکے افسوسناک واقعے سے متعلق متعدد سوالات کیے جس پر سوشل میڈیا صارفین نے اظہار برہمی کرتے ہوئے پیمرا سے شو بند کرانے کا مطالبہ کردیا۔

    کراچی کے علاقے عیسٰی نگری میں 5 سالہ مروہ کو دو ملزمان نے زیادتی کا نشانہ بنایا اور لاش کچرا کنڈی میں پھینک دی تھی۔ اس دل سوز واقعے پر ہر دل دکھ سے بھرا ہوا ہے۔ ایسے میں ندا یاسر نے اپنے مارننگ شو میں مروہ کے والدین کو بلایا اور واقعے سے متعلق متعدد سوالات پوچھے۔

    ندا یاسر نے اپنے پروگرام میں معروف سماجی کارکن صارم برنی اور ایک قانون دان کو بلایا۔ پروگرام کے دوران ندا یاسر نے واقعے سے متعلق والدین سے سوالات کئے جس پر برقع میں ملبوس مروہ کی دادی زار و قطار رونے لگیں اور ایک موقع پر خود ندا یاسر بھی اپنے جذبات پر قابو نہیں رکھ سکیں۔

    مارننگ شو کے ویڈیو کلپ سوشل میڈیا پر وائرل ہوئے تو صارفین ندا یاسر پر شدید غم وغصے سے پھٹ پڑے، صارفین نے کہا کہ مظلوم والدین سے پوری دنیا کے سامنے اس طرح کے سوالات ان کی دل جوئی کے بجائے انہیں مزید دکھی کرنے کا سبب بنے۔

    ایک صارف نے لکھا کہ میزبان نے ایک بار پھر غمزدہ والدین کے زخموں کو ہرا کردیا۔ ایک صارف نے لکھا کہ میڈیا کو اخلاقیات سیکھنے اور ضابطہ اخلاق پر عمل کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ چند صارفین نے پیمرا کی جانب سے اب تک پروگرام پر پابندی نہ لگانے پر تعجب کا اظہار بھی کیا۔

    جبکہ چند صارفین نے ندا یاسرویڈیو کے بیک گراؤنڈ میوزک پر اعتراض کرتے ہوئے تنقید کی کچھ صارفین نے کہا کہ متاثرہ فیملی کو اس طرح شو میں بلا کر بار بار سوال کرنا ایک تکلیف دہ عمل ہے-

    منیب بٹ ملکی حالات کے پیش نظر اپنی بیٹی امل کے لئے خوفزہ

    ماہرہ خان کامن ویلتھ کی ٹیم کے ساتھ خواتین اور بچوں کے ساتھ ہونے والے جنسی ہراسانی…

    مروہ قتل کیس:شوبز فنکاروں کا ملک میں مجرموں کو سرعام پھانسی دینے کے قانون کا…

    جنسی زیادتی میں ملوث افراد کو سرعام پھانسی دینی چاہئیے تاکہ انہیں دوسروں کے لیے مثال بنایا جاسکے اقرا عزیز

    5 سالہ بچی کے قاتلوں کے لئے صرف پھانسی کی سزا کافی نہیں اُشنا شاہ

    اکیلی عورت ذمہ داری ہوتی ہے موقع نہیں مایا علی

    میں ایسا ملک چاہتی ہوں جس میں ہر عقیدے اور ہر صنف کا احترام کیا جائے اور ہر ایک کو…

    ملک میں بڑھتے زیادتی کے واقعات کے پیش نظر یاسر حسین کی پڑھی گئی نظم مملکت خداداد…

    میں پھانسی کے خلاف نہیں ہوں مگر پھانسی اصل مجرم کو ہونی چاہیے نہ کہ کسی کو بھی…

    بشری انصاری کا مولانا طارق جمیل سے جنسی زیادتی کے بڑھتے واقعات کے خلاف احتجاج کرنے…

  • نیٹ فلیکس نے ترکی میں متنازع بولڈ فلم ’کیوٹیز‘ کی ریلیز روک دی

    نیٹ فلیکس نے ترکی میں متنازع بولڈ فلم ’کیوٹیز‘ کی ریلیز روک دی

    اسٹریمنگ ویب سائٹ ’نیٹ فلیکس‘ نے ترک حکومت کی دھمکی کے بعد وہاں متنازع بولڈ فلم ’کیوٹیز‘ کی ریلیز روک دی حال ہی میں ایوارڈ یافتہ فرانسیسی فلم ’کیوٹیز‘ کا مختصر ٹریلر جاری کرتے ہوئے ’نیٹ فلیکس‘ نے فلم کو رواں ماہ 9 ستمبر کو ریلیز کرنے کا اعلان کیا تھا-

    باغی ٹی وی : نیٹ فلیکس نے فرانسیسی فلم ’کیوٹیز‘ کا ٹریلر ریلیز کرتے ہوئے فلم کو رواں ماہ 9 ستمبر کو ریلیز کرنے کا اعلان کیا ہے فلم کے ٹریلر میں ہی انتہائی کم عمر لڑکیوں کو بولڈ انداز میں دیکھا جا سکتا ہے جس پر دنیا بھر کے افراد نے نیٹ فلیکس پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا گیا کہ وہ ’کیوٹیز‘ کو ریلیز نہ کرے۔

    11 سال کی مسلم لڑکی کو فلم میں انتہائی بولڈ اور جنسی رجحانات کی جانب راغب دکھانے والی اس فلم کے ٹریلر پر ہی لوگوں نے اعتراض کیا اور مذکورہ فلم کے خلاف چینج آرگنائزیشن پلیٹ فارم پر نوید وردک کی جانب سے آن لائن پٹیشن بنائی گئی جس میں نیٹ فلیکس سے مذکورہ فلم کو ریلیز نہ کرنے کا مطالبہ کیا گیا – دنیا بھر میں نیٹ فلیکس کی سبسکرپشن کو ختم کرنے کی مہم شروع ہوگئی تھی-

    کیوٹیز پر تنقید کے بعد نیٹ فلیکس نے اپنی ایک ٹوئٹ میں وضاحت کی تھی کہ انہوں نے مذکورہ فلم سے متنازع تصاویر کو ہٹا دیا ہے اور یہ کہ فلم میں دکھائے جانے والے مناظر اسٹریمنگ ویب سائٹ کی پالیسی کو بیان نہیں کرتے۔

    جس کے بعد تُرک حکومت نے بھی کے فلم اور میڈیا ریگولیٹر ادارے نے نیٹ فلیکس کی فلم کو بچوں کے استصال پر مبنی فلم قرار دیتے ہوئے نیٹ فلیکس کو مذکورہ فلم کو ترکی میں ریلیز نہ کرنے کا کہا تھا اور رواں ماہ ستمبر کے پہلے ہی ہفتے میں نیٹ فلیکس کو مذکورہ فلم ترکی میں ریلیز کرنے سے روک دیا تھا۔

    ترک حکومت کے ریڈیو اینڈ ٹیلی وژن ہائی کونسل (آر ٹی یو کے) کی جانب سے جاری بیان میں ’کیوٹیز‘ کو نامناسب فلم قرار دیتے ہوئے بتایا گیا تھا کہ میڈیا ریگولیٹر ادارہ نیٹ فلیکس کو مذکورہ فلم ترکی میں بلاک کرنے کا حکم دے گا۔

    خبر رساں ادارے رائٹرز نے ترک میڈیا کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا تھا کہ اگر نیٹ فلیکس نے ’کیوٹیز‘ کو اسلامی ملک میں بلاک نہیں کیا تو رجب طیب اردوان کی حکومت اسٹریمنگ ویب سائٹ کا عارضی طور پر لائسنس بھی منسوخ کرسکتی ہے۔

    تاہم اب نیٹ فلیکس نے مذکورہ فلم کو دنیا کے متعدد ممالک میں ریلیز کرتے ہوئے ترکی میں اس کی ریلیز روک دی۔

    خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق نیٹ فلیکس کے ترجمان نے فلم کو ترکی میں ریلیز نہ کرنے کی تصدیق کی۔

    نیٹ فلیکس کے ترجمان کا کہنا تھا کہ اسٹریمنگ ویب سائٹ نے ترک میڈیا ریگولیٹر ادارے کی ہدایات پر عمل کرتے ہوئے وہاں ’کیوٹیز‘ کی نمائش روک دی۔

    نیٹ فلیکس نے جہاں فلم کو ترکی میں ریلیز نہیں کیا وہیں اسٹریمنگ ویب سائٹ نے ’کیوٹیز‘ کو 9 ستمبر کو دنیا بھر میں ریلیز کردیا تھا۔

    جبکہ دوسری جانب پاکستانی معروف اداکار حمزہ علی عباسی نے بھی اسی مہم کی حمایت کرتے ہوئےٕ اپنی ٹوئٹ میں نیٹ فلیکس سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ مذکورہ فلم کی ریلیز کینسل کرے دوسری صورت میں وہ نیٹ فلیکس کی سبسکرپشن کینسل کردیں گے-

    تاہم پاکستان میں بھی ’کیوٹیز‘ کو ریلیز کیے جانے کے بعد معروف اداکار حمزہ علی عباسی نے نیٹ فلیکس کی سبسکرپشن ختم کردی تھی اور انہوں نے مداحوں کو بھی اسٹریمنگ ویب سائٹ کی سبسکرپشن ختم کرنے کی اپیل کی تھی۔

    واضح رہے کہ ’کیوٹیز‘ کی کہانی افریقی ملک سینیگال کے پناہ گزین مسلمان خاندان اور اس گھر کی جوان ہوتی 11 سالہ بچی کے بلوغت کو پہنچنے والے رجحانات کے گرد گھومتی ہے جس میں 11 سالہ بچی کے والد دوسری شادی بھی کرتے ہیں جب کہ ان کے گھر میں مسائل بھی رہتے ہیں۔

    فلم میں دکھایا گیا ہے کہ کس طرح 11 سالہ بچی اپنے آبائی مذہب اور انٹرنیٹ دور کے ٹرینڈز کے درمیان الجھ کر بے راہ روی کا شکار بن جاتی ہے اور اپنی عمر دیگر فرانسیسی بچیوں کے آزاد ماحول، تنگ لباس اور ان کی جانب سے بولڈ ڈانس کرنے سے متاثر ہوکر ان کے راستے پر چل پڑتی ہے اور پھر انتہائی کم عمری میں ہی وہ اپنی ہم عمر لڑکیوں کے ساتھ فحش حرکتیں کرنے لگتی ہے اور مسلمان بچی کی بولڈ اور فحش حرکتوں کو ان سے عمر میں بڑے لڑکے موبائل پر ریکارڈ کرکے سوشل میڈیا پر وائرل کردیتے ہیں۔

  • میگھن مارکل کے ہاں دوسرے بچے کی آمد متوقع  غیر ملکی میڈیا کا دعوی

    میگھن مارکل کے ہاں دوسرے بچے کی آمد متوقع غیر ملکی میڈیا کا دعوی

    شاہی حیثیت سے دستبردار ہونے والے ڈیوک آف سسیکس (پرنس ہیری) کی اہلیہ میگھن مارکل کی ایک بار پھر حاملہ ہونے کی خبریں زیر گردش ہیں-

    باغی ٹی وی :غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق پرنس ہیری کی اہلیہ میگھن ،ارکل نے اپنی قریبی دوست امل کلونی سے درخواست کی ہے کہ وہ ان کیلئے ’بے بی شاور‘ کی تقریب منعقد کریں۔

    سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی اطلاعات کے مطابق میگھن کے ہاں اس بار لڑکی کی پیدائش کی توقع کی جارہی ہے۔

    میگھن کے گھر نئے مہمان کی آمد سے متعلق پہلے بھی کئی مرتبہ خبریں گردش کرتی رہی ہیں لیکن اس بار مداحوں کو اپنی پسندیدہ اداکارہ کی جانب سے اس خبر کی تصدیق کا بے صبری سے انتظار ہے۔

    خیال رہے کہ مئی 2018 میں شادی کرنے والے ہیری اور میگھن کا ہاں گزشتہ برس 6 مئی کو پہلے بیٹے کی پیدائش ہوئی تھی ہیری اور میگھن کے بیٹے کو ’ماسٹر آرچی ماؤنٹ بینٹن ونڈسر‘ کا نام دیا گیا تھا۔

    ’آرچی‘ کے نام سے پہلے شہزادے کا لقب استعمال نہیں کیا گیا بلکہ ان کے نام سے پہلے ماسٹر لگایا گیا۔

    شہزادہ ہیری کی 36ویں سالگرہ پرشہزادہ ولیم اور کیٹ مڈلٹن کی جانب سے نیک خواہشات کا اظہار

  • موٹر وے زیادتی کیس کے خلاف احتجاج میں شرکت پر خلیل الرحمن تنقید کی زد میں

    موٹر وے زیادتی کیس کے خلاف احتجاج میں شرکت پر خلیل الرحمن تنقید کی زد میں

    حال ہی میں لاہور موٹروے زیادتی کیس کے خلاف ہونے والے احتجاج پرپاکستان کے نامور ہدایت کار اور ڈرامہ رائٹر خلیل الرحمٰن قمر
    کو تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔

    باغی ٹی وی : ویسے تو خلیل الرحمٰن قمر اپنے پروجیکٹس اور خواتین سے متعلق بیانات کے باعث خبروں میں رہتے ہیں انہوں نے اپنے مقبول ڈرامے ’میرے پاس تم ہو‘ کی وجہ سے شہرت حاصل کرنے کے بعد اپنے متعدد انٹرویوز میں خواتین سے متعلق نامناسب اور متنازع بیانات دئیے تھے۔

    خلیل الرحمٰن قمر نے 3 مارچ کی شب ’نیو ٹی وی‘ کے ایک پروگرام میں ’عورت مارچ‘ پر بحث کے دوران خواتین کے حقوق کی رہنما ماروی سرمد کے لیے گالی گلوچ اورانتہائی نامناسب زبان استعمال کی تھی جس پر انہیں سخت تنقید کا نشانہ بنایا گیا تھا۔

    جبکہ ایک انٹرویو میں مصنف کا کہنا تھا کہ اگر عوت برابری کی بات کرتی ہے تو پھر لڑکیاں اٹھا کر لے جائیں مردوں کو اور گینگ ریپ کریں ان کا پھر بات ہو برابری کی اور پتا چلے کہ کون سی برابری مانگ رہی ہیں انہوں نے کہا تھا کہ میں ہر عورت کو عورت نہیں کہتے میری نظر میں عورت کے پاس ایک خوبصورتی ہے اور وہ اس کی وفا اور حیا ہے اگر وہ نہیں تو میرے لیے وہ عورت ہی نہیں-

    خلیل الرحمٰن قمر کا کہنا ہے کہ ان سے بڑا فیمنست اس ملک میں کوئی نہیں ہے لیکن وہ صرف اچھی خواتین کو سپورٹ کرتے ہیں-

    تاہم حال ہی میں خلیل الرحمٰن قمر جب موٹر وے پر پیش آنے والے ریپ کے واقعے کے خلاف لاہور میں جاری احتجاج میں شرکت کے لیے پہنچے تو عوام کی جانب سے ان کے گزشتہ بیانات کی وجہ سے ان کے خلاف شدید نعرے بازی کی گئی۔

    سوشل میڈیا پر زیر گردش ایک ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے جب خلیل الرحمٰن قمر میڈیا سے گفتگو کرنے لگے تو کچھ لوگوں کی جانب خواتین سے متعلق ماضی میں دئیے گئے بیانات کا حوالہ دیا گیا اور ان کے خلاف نعرے بازی بھی کی گئی۔


    ویڈیو میں ایک شخص کو یہ کہتے ہوئے سنا جاسکتا ہے خلیل الرحمٰن قمر تو کہتے تھے کہ عورتوں کو گھر میں بیٹھنا چاہیے۔

    جس کے بعد خلیل الرحمٰن قمر نے کہا کہ میں اس بے شرمی پر لعنت بھیجتا ہوں کہ کوئی اگر سمجھتا ہے کہ خلیل الرحمٰن قمر نے کبھی کہا ہے کہ عورتوں کو گھر میں بیٹھنا چاہیے۔

    انہوں نے کہا جس نے یہ بات پھیلائی میں اس پر لعنت بھیجتا ہوں –

    خلیل الرحمٰن قمر نے کہا کہ میں ہمیشہ کہتا رہا ہوں کہ میں عورت کو ایک فاختہ کی طرح اڑتے ہوئے دیکھنا چاہتا ہوں لیکن حدود کے اندر اس سے کم میں نے کبھی نہیں کہا۔

    خلیل الرحمٰن قمر نے کہا کہ اللہ گواہ ہے کہ میں اس بات کے سخت خلاف تھا کہ عورت مارچ نہیں ہونا چاہیے کیونکہ خواتین کے اور ہم سب کے مسائل ایک جیسے ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ جب اس ملک میں قانون کی بالادستی ہوگی تو انشاءاللہ ہمیں یہ بھی سمجھ آجائے گی کہ خدانخواستہ کہیں عورت سے زیادتی نہیں ہورہی۔

    خلیل الرحمٰن قمر نے مزید کہا تھا کہ اس بہیمانہ واقعے پر ہم سب کے دل بری طرح رو رہے ہیں اور تڑپ رہے ہیں کہ اگر فوری انصاف نہیں ملا توپتہ نہیں ہمارا معاشرہ کس طرف چلا جائے۔

    ایک اور ویڈیو میں خلیل الرحمٰن قمر نے احتجاج میں شرکت سے متعلق اپنے خیالات کا اظہار کیا اور کہا کہ دعا کریں یہ صرف احتجاج نہ رہے پہلے ہی میرے ملک اور نبی کی ساری امت کو احتجاج پر لگایا ہوا ہے ہماری آج کی یہ کوشش بار آور ثابت ہو اور جلد سے جلد ملزموں کو اللہ کے فضل وکرم اور اور اسی نظام عدل سے کیفر کردار تک پہنچایا جائے۔

    سی سی پی او لاہور عمر شیخ کے بیان سے متعلق خلیل الرحمٰن قمر نے کہا کہ بعض اوقات پریشر ہوتا ہے اور سہواً بھی منہ سے ایسی باتیں نکل جاتی ہیں اور میری ان سے درخواست ہے کہ اگر سہواً ہوا ہے تو وہ فوراً معافی مانگ لیں۔

    آخر میں انہوں نے کہا کہ میرا مطالبہ ہے کہ جلد از جلد ملزموں کو گرفتار کر کے ان کو سخت سے سخت سزا دی جائے-

    واضح رہے کہ حال ہی میں لاہور موٹر وے پر گوجرانوالہ کی رہائشی ثناء نامی خاتون کے ساتھ خوفناک واقعہ اس وقت پیش آیا جب لاہور موٹر وے پر اُن کی گاڑی کا پیٹرول ختم ہو گیا اس دوران ملزمان نے موقع کا فائدہ اٹھاتے ہوئے خاتون کی گاڑی کے شیشے توڑ کر انہیں گن پوائنٹ پر کھیتوں میں لے جا کر زیادتی کا نشانہ بنایا-

    جس کے بعد سی سی پی او نے کہا تھا کہ خاتون رات ساڑھے 12 بجے ڈیفنس سے گوجرانوالہ جانے کے لیے نکلیں، میں حیران ہوں کہ تین بچوں کی ماں ہیں، اکیلی ڈرائیور ہیں، آپ ڈیفنس سے نکلی ہیں تو آپ جی ٹی روڈ کا سیدھا راستہ لیں اور گھر چلی جائیں اور اگر آپ موٹروے کی طرف سے نکلی ہیں تو اپنی گاڑی کا پیٹرول چیک کر لیں۔

    اس واقعے کے بعد اور سی سی پی او کے بیان کے بعد سے عوام میں شدید غم و غصہ پایا گیا تھا عوام سمیت حکومت اور شوبز کی معروف شخصیات نے بھی سی سی پی او کے اس بیان کی بھر پور مذمت کی اور شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے ان کو ہٹانے کا مطالبہ کیا۔

    عورت کو عزت اور مقام دینا چاہیے جس کی وہ حقدار ہے اعجاز اسلم

    عورت کو عزت اور مقام دینا چاہیے جس کی وہ حقدار ہے اعجاز اسلم

  • جاگ اٹھے ہیں دیوانے   بقلم:عبدالرحمن ثاقب سکھر

    جاگ اٹھے ہیں دیوانے بقلم:عبدالرحمن ثاقب سکھر

    جاگ اٹھے ہیں دیوانے

    بقلم:- عبدالرحمن ثاقب سکھر

    حب صحابہ کرام رضی اللہ عنہم ہمارے ایمان کا جزو لاینفک ہے کیونکہ صحابہ کرام معیار ایمان اور معیار حق ہیں۔ اللہ تعالی نے اس پاک باز جماعت اور نفوس قدسیہ کے لئے آسمان سے جنت کے سرٹیفیکیٹ عطا کئے۔ اور ان کے لیے اپنی رضا کا اعلان فرمایا اور انہیں مختلف اعلی القابات سے بھی نوازا۔ حضرات صحابہ کرام، خاتم النبیین رحمۃ اللعالمین صلی اللہ علیہ وسلم وہ جاں نثار ساتھی ہیں جنہوں نے اپنے ہاتھ رسول اکرم صلی وسلم کے مقدس ہاتھوں میں دے کر اسلام کی بیعت کی۔ اور پھر تازیست اسلام کی ترویج و اشاعت میں مصروف رہے اور دین اسلام کو بعد میں آنے والے لوگوں تک پہنچانے کا فریضہ سرانجام دیا۔ صحابہ کرام جناب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اشارے کے منتظر رہا کرتے تھے اور آپ کے ادنی سے اشارے پر ہر چیز قربان کر دیا کرتے تھے۔ اللہ تعالی نے کر ان کی اداؤں اور وفاؤں کو کو دیکھ کر انہیں نہ صرف معاف فرمادیا بلکہ کلمہ تقوی کا انہیں حقدار ٹھہرا کر بہشت کے وارث بنا دیا۔ ہر مسلمان جس طرح سے عقیدہ ختم نبوت کے بارے کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کر سکتا بعینہ ناموس صحابہ پر کوئی کمپرومائز نہیں کر سکتا۔ جس طرح سے ہم ناموس رسالت صلی اللہ علیہ وسلم پر اپنی ہر چیز قربان کرنا سعادت سمجھتے ہیں بعینہ اسی طرح ناموس صحابہ پر کٹ مرنا بھی باعث فخر سمجھتے ہیں۔ مسلمان صحابہ کرام کو ختم نبوت کے روشن ستارے سمجھتے ہیں اور ان ستاروں پر دل و جان سے فدا ہونے کا جذبہ رکھتے ہیں۔ اور ان سے محبت اپنا ایمان اور نجات کا ذریعہ سمجھتے ہیں۔ کیونکہ فرمان رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہے جو ان صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے محبت کرے گا وہ مجھ( محمد صلی اللہ علیہ وسلم ) سے محبت کرے گا اور جو مجھ سے محبت کرے گا وہ درحقیقت اللہ تعالی سے محبت کرے گا۔ اور جو ان سے بغض رکھے گا وہ مجھ ( محمد صلی اللہ علیہ وسلم) سے بغض رکھے گا۔ گا۔ وہ اللہ تعالی سے بغض رکھے گا۔ اس لئے ہم صحابہ کرام سے محبت اللہ تعالی اور رسول اکرم صلی وسلم سے محبت کا ذریعہ سمجھتے ہیں۔اور اس محبت پر کسی قسم کا کوئی سمجھوتا نہیں ہوسکتا۔
    اس ماہ محرم میں اسلام آباد میں ایک ملعون ذاکر نے خلیفہ اول، یار غار، افضل الناس بعد الانبیاء سید نا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی نہ صرف تکفیر کی بلکہ بات بدزبانی سے آگے بڑھا دی۔ اور 10 محرم عاشورہ کے دن کراچی کی سب سے بڑی شاہراہ بند روڈ پر کاتب وحی وحی خال المسلمین سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ اور خسر رسول سیدنا ابو سفیان رضی اللہ عنہ پر لعن طعن کیا گیا۔ جسے کچھ ٹی وی چینلز نے لائیو بھی دکھایا۔ جو کہ ملک کی سنی اکثریت کے جذبات کو ابھارنے اور وطن عزیز میں فرقہ واریت کو ہوا دینے کی سوچی سمجھی سازش تھی۔ جس کے پیچھے حکومت میں بیٹھے ہوئے وہ وزراء ہیں۔ جن کی طرف شیعہ علماء بھی اشارہ کر رہے ہیں اور کہہ رہے ہیں کہ جس ذاکر پر اسلام آباد داخلے پر پابندی عائد تھی اس پر سے پابندی کس نے اور کیوں ہٹائی؟
    اور پھر لاہور سے ماتمی سنگت لا کر مجلس اور فرقہ وارانہ تقریر کروانی گی۔ اور جب ملک میں شور اٹھا تو اس ملعون ذاکر کو ملک سے فرار کروا دیا گیا۔ حالانکہ اس سے پہلے بھی اس پر درجن بھر ایف آئی آر مختلف مقامات پر درج تھیں۔ اور اس واقعہ کی ایف آئی آر بھی کٹ چکی تھی۔ اس طرح سے عاشورہ کے دن کراچی میں ہونے والے واقعہ کی ایف آئی آر درج ہونے کے باوجود تاحال جعفر تقی نامی ذاکر کو گرفتار نہیں کیا گیا۔ اسی طرح سے مختلف مقامات پر حضرات صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے بارے تسلسل سے گستاخیاں کی جارہی ہیں۔ اور سوشل میڈیا ان گندی حرکات سے بھرا پڑا ہے۔
    سنی مسلمان جو کہ اس ملک کی بڑی اکثریت ہیں وہ ان گستاخیوں کو روکنے کے لئے گھروں سے باہر نکلے پر مجبور ہوگئے۔ تینوں مکاتب فکر کے سنجیدہ علماء اور قیادت نے ایک حکمت عملی کے تحت فیصلہ کیا کہ جمعہ کے روز 11ستمبر کو علمائے دیوبند عوام کو لے کر پرامن عظمت صحابہ ریلی نکالیں گے۔ اگلے دن 12ستمبر کو بریلوی علماء عظمت صحابہ ریلی نکالیں گے اور اس سے اگلے روز 13 ستمبر کو علمائے اہلحدیث عظمت صحابہ ریلی نکالیں گے۔ پھر اہل کراچی نے علماء و مشائخ کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے تاریخ رقم کردی۔
    عظمت صحابہ ریلی کے سلسلہ میں اہلحدیث علماء و قائدین نے کوششیں شروع کیں اس سلسلے میں اہل حدیث ایکشن کمیٹی تشکیل دی گئی۔ جس میں سرکردہ اہلحدیث تنظیموں مرکزی جمعیت اہل حدیث پاکستان، جمعیت اہل حدیث سندھ۔تحریک اہلحدیث پاکستان، جماعت غرباء اہلحدیث پاکستان۔ اہل حدیث مدارس وجامعات جامعہ ابی بکر الاسلامیہ، جامعہ ستاریہ اسلامیہ، جامعہ الاحسان الاسلامیہ۔ المعہد القرآن الکریم،المعھد السلفی، مرکز المدینہ و دیگر اداروں نے شرکت کی۔ ایک اجلاس المعھد السلفی میں علامہ عبداللہ ناصر رحمانی حفظہ اللہ امیر جمعیت اہل حدیث سندھ کی میزبانی میں ہوا۔ 10 ستمبر بروز جمعرات کو عظمت صحابہ ریلی کے سلسلہ میں اہل حدیث علماء کنونشن الشیخ ضیاء الرحمن مدنی صاحب حفظہ اللہ کی میزبانی میں جامعہ ابی بکر الاسلامیہ میں ہوا جس میں چار سو سے زائد علمائے اہل حدیث شریک ہوئے۔جہاں ریلی کے بارے مشاورت ہوئی۔ خطبات جمعہ میں عوام کو عظمت صحابہ ریلی میں شرکت کی ترغیب دلائی گئی۔ علماء کرام مشائخ عظام اور قائدین کرام نے اپنی اپنی سطح پر رابطے کیے اور لوگوں کو ریلی میں شرکت کے لئے دعوت دی اور حالات کی نزاکت سے آگاہ کیا کہ ناموس رسالت اور ناموس صحاب اس وقت نکلنا اور آواز بلند کرنا بہت ضروری ہے۔ علماء کرام و مشائخ عظام نے ریلی کی کامیابی کے لیے رب کے حضور گڑگڑا کر دعائیں کیں۔ 13 ستمبر کو عوام جذبہ حب اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے سرشار ہوکر گھروں سے نکلے اور عظمت صحابہ کے ترانے بلند کرتے ہوئے جامع مسجد اہلحدیث کورٹ روڈ کراچی پہنچے۔ جہاں سے شرکاء ریلی کی شکل میں پریس کلب کی طرف نکلے ریلی میں ہزاروں کی تعداد میں لوگ تھے اور عظمت صحابہ کے فلک شگاف نعرے بلند کر رہے تھے اور ناموس صحابہ کے لئے مرمٹنے کا عزم اپنے دلوں میں لیے ہوئے تھے۔
    سوشل میڈیا کے ذریعے ریلی کی لائیو کوریج کی جا رہی تھی پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا بھی ساتھ ساتھ چل رہا تھا راستے میں ریلی کے ساتھ مزید قافلے بھی شامل ہوتے رہے۔ ریلی میں میں جماعتوں کے بجائے صرف وطن عزیز پاکستان کے ہی پرچم تھے کیوں کہ ہم محب وطن پاکستانی ہیں۔ جب ریلی پریس کلب پہنچی تو عوام کا جم غفیر اور ٹھاٹھیں مارتا ہوا سمندر نظر آرہا تھا۔ پریس کلب پر علمائے کرام و قائدین مولانا مفتی محمد یوسف قصوری صاحب امیر مرکزی جمعیت اہل حدیث سندھ، ڈاکٹر مفتی خلیل الرحمن لکھوی مدیر المعھد القرآن الکریم، مولانا شیخ ضیاء الرحمن مدنی مدیر جامعہ ابی بکر الاسلامیہ، حکیم ناصر منجا کوٹی، مفتی عبدالحنان سامرودی، مولانا داؤد شاکر، مولانا محمد ابراہیم طارق، خلیل الرحمن جاوید، مولانا ضیاء الحق بھٹی، محمد اشرف قریشی, مولانا محمد ابراہیم جونا گڑھی، مولانا محمد شریف حصاروی، مولانا انس مدنی، مولانا حافظ محمد سلفی نائب امیر جماعت غرباء اہلحدیث پاکستان، مولانا عبدالوکیل ناصر، ڈاکٹر فیض الابرار صدیقی، شیخ ارشد علی، مولانا نصیب شاہ سلفی، مولانا محب اللہ، ایم مزمل صدیقی, پروفیسر محمد یونس صدیقی، ڈاکٹر عامر محمدی، جے یو آئی کے قاری محمد عثمان اور دیگر نے خطاب کیا۔
    مقررین نے کہا کہ شان، عظمت اور رفعت بیان کرتے ہوئے صحابہ کرام کو روشنی کا مینار اور امت کے محسن قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ کہ کسی بھی صحابی پر انگلی اٹھانا اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے فرامین پر انگلی اٹھانا ہے۔ اہل سنت والجماعت کا متفقہ عقیدہ ہے کہ تمام صحابہ معیار ایمان اور عادل ہیں۔ مقررین نے کہا کہ کسی بھی فرقہ کو قانون سے بالاتر ہو کر عوام پر مسلط ہونے کا موقع دینا فرقہ واریت اور انتہا پسندی کو فروغ دینا ہے دفاع صحابہ حدیث جماعتوں کا مستقل ایجنڈا ہے۔ اس ضمن میں مجرموں کو گرفتار کرکے کے قرار واقعی سزا دلوانے میں میں ریاست نے کردار ادا نہ کیا تو ہم بھی اپنے مطالبات سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔
    بحمداللہ ملک بھر کے مسلمان نہ صرف بیدار ہوچکے ہیں بلکہ میدان عمل میں بھی نکل چکے ہیں اور دفاع ناموس رسالت اور دفاع ناموس صحابہ کا فریضہ سر انجام دیتے رہیں گے۔ ان شاءاللہ

  • شہزادہ ہیری کی 36ویں سالگرہ پرشہزادہ ولیم اور کیٹ مڈلٹن کی جانب سے نیک خواہشات کا اظہار

    شہزادہ ہیری کی 36ویں سالگرہ پرشہزادہ ولیم اور کیٹ مڈلٹن کی جانب سے نیک خواہشات کا اظہار

    برطانوی شہزادہ ولیم اور ان کی اہلیہ کیٹ مڈلٹن نے شہزادہ ہیری کو ان کی 36ویں سالگرہ پر نیک خواہشات پر مبنی پیغام بھجوایا۔

    باغی ٹی وی : ڈیوک اور ڈچز آف کیمبرج شہزادہ ولیم اور ان کی اہلیہ کیٹ مڈلٹن کا شاہی خطاب اور مرتبہ) نے چھوٹے بھائی اور دیور کے ساتھ اختلافات کے حوالے سے اطلاعات کو اس وقت غلط ثابت کردیا جب انہوں نے اپنے آفیشل رائل ٹوئٹر ہینڈل سے شہزادہ ہیری کو ان کی سالگرہ پر محبت اور نیک خواہشات کا پیغام بھجوایا۔


    شہزادہ ولیم نے لندن اولمپک پارک میں فروری 2017 میں ایک خوشگوار یادوں پر مبنی تصویر بھی شیئر کی ہے جس میں ڈیوک آف سسیکس (پرنس ہیری) ایک ریس میں اپنے بڑے بھائی اور بھابھی کو پیچھے چھوڑتے نظر آرہے ہیں۔

    تصویر کے ساتھ پرنس ولیم اور کیٹ مڈلٹن نے ٹوئٹ کیا ہے کہ پرنس ہیری کو ان کی سالگرہ کے موقع پر مبارکباد-


    واضح رہے کہ اس سے قبل ملکہ برطانیہ الزبتھ ثانی نے بھی اپنے پوتے کو سالگرہ کی مبارکباد بھجوائی۔

    یاد رہے کہ شہزادہ ہیری اپنی 36ویں سالگرہ اپنی اہلیہ میگھن مارکل اور اپنے بیٹے شہزادہ آرچی کے ساتھ کیلی فورنیا میں منارہے ہیں۔

    اس وقت مذہب اور مسلک سے ہٹ کر ہمیں ایک ہونے کی ضرورت ہے فخر عالم

  • بیٹے اذلان کی  سالگرہ پر ماہرہ خان کا محبت بھرا پیغام

    بیٹے اذلان کی سالگرہ پر ماہرہ خان کا محبت بھرا پیغام

    پاکستان شوبز انڈسٹری کی معروف اور صف اول کی اداکارہ ماہرہ خان نے اپنے بیٹے اذلان کی گیارہویں سالگرہ پر محبت بھرا پیغام جاری کیا ہے-

    باغی ٹی وی :سماجی رابطے کی ویب سائٹ انسٹاگرام پر ماہرہ خان نے اپنے بیٹے اذلان کی گیارہوں سالگرہ کے موقع پر اذلان کے ساتھ اپنی ایک تصویر شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ گیارہ برس قبل جب آپ اس دنیا میں آئے تب سے میری زندگی کا ہر لمحہ میرے لیے انتہائی خوشگوار رہا ہے اور میں اللہ تعالیٰ کی بے حد شکر گزار ہوں کہ اس نے مجھے آپ کی ماں کے طور پر منتخب کیا۔
    https://www.instagram.com/p/CFJ7GPshr0S/?igshid=1eoqpf5gywom9
    ماہرہ خان نے لکھا کہ میں آپ کے لیے اور اس دنیا کے تمام بچوں کے لیے دعا گو ہوں کہ آپ لوگ خوش اور صحت مند رہیں، اور بہادر اور مہربان بنیں۔ (آمین)۔

    ماہرہ خان کی اس پوسٹ پر رد عمل دیتے ہوئے نہ صرف ساتھ اداکاراؤں منال خان ،اداکارہ غنا علی اور طوبیٰ صدیقی نے اذلان کو سالگرہ وش کرتے ہوئے نیک خواہشات کا اظہار کیا بلکہ مداحوں کی جانب سے بھی اذلان کے لیے دعائیہ پیغامات اور نیک تمناؤں کا سلسلہ جاری ہے-

  • بچے کی حوالگی کیس میں عدالت نے محسن عباس حیدر کوآئندہ سماعت پر ہر صورت جواب جمع کرانے کا حکم دے دیا

    بچے کی حوالگی کیس میں عدالت نے محسن عباس حیدر کوآئندہ سماعت پر ہر صورت جواب جمع کرانے کا حکم دے دیا

    پاکستان شوبز انڈسٹری کے نامور گلوکار اور اداکارمحسن عباس حیدر کو بچے کی مستقل حوالگی کیس میں عدالت نے اداکار کوآئندہ سماعت پر ہر صورت جواب جمع کرانے کا حکم دے دیا۔

    باغی ٹی وی : لاہور کی گارڈین عدالت میں اداکار محسن عباس حیدر کی سابقہ اہلیہ فاطمہ سہیل کی بچے کی مستقل حوالگی کی درخواست پر سماعت ہوئی گارڈین عدالت کے جج سید نوید مظفر نے سماعت کی۔

    دوران سماعت فاطمہ سہیل نے موقف اختیار کیا کہ محسن عباس سے علیحدگی ہوچکی ہے میں بیٹے کی بہتر انداز میں پرورش کرسکتی ہوں لہذا بچے کی بہتر پرورش کے لیے اسے مستقل طور پر میرے حوالے کیا جائے۔

    عدالت نے محسن عباس کو آخری موقع دیتے ہوئے پیش ہونے کا حکم دے دیا اور آئندہ سماعت پر ہر صورت جواب جمع کروانے کا حکم دیتے ہوئے سماعت 23 ستمبر تک ملتوی کردی۔

    واضح رہے کہ فاطمہ سہیل نے گزشتہ برس اپنے شوہر محسن عباس حیدر پر تشدد اور بے وفائی کا الزام لگاتے ہوئے کہا تھا کہ محسن کے نازش نامی ماڈل سے ناجائز تعلقات ہیں جس کی وجہ سے شوہر ان پر تشدد کرتا ہے۔ بعد ازاں فاطمہ سہیل نے لاہور کی فیملی عدالت میں خلع کا دعوی دائر کیا تھا جس پر فیصلہ سناتے ہوئے جج نے ستمبر 2019 میں خلع کی ڈگری جاری کردی تھی۔ دونوں کا ایک بیٹا ہے جو فی الحال اپنی والدہ کے ساتھ ہی رہتا ہے۔

    اداکارہ آمنہ الیاس اور اداکار داور محمود نے شادی کی خبروں کی تردید کردی

  • معروف ٹِک ٹاک اسٹار عادل راجپوت کا کار حادثہ اور موت کا ڈرامہ محض فالوورز اور شہرت حاصل کرنے کے لیے رچایا گیا

    معروف ٹِک ٹاک اسٹار عادل راجپوت کا کار حادثہ اور موت کا ڈرامہ محض فالوورز اور شہرت حاصل کرنے کے لیے رچایا گیا

    لیاقت پور کے مشہور ومعروف ٹِک ٹاک اسٹار عادل راجپوت کا کار حادثہ ڈرامہ نکلا-

    باغی ٹی وی : آج دوپہر کو عادل راجپوت کے ٹک تاک پیج پر ایک ویڈیو وائرل ہوئی جس میں عادل راجپوت کی اہلیہ روتے ہوئے عادل کی کار حادثے میں موت کا بتا رہی ہیں اس ویڈیو کے وائرل ہوتے ہی ٹوئٹر پر ہیش ٹیگ جسٹس فار عادل ٹوئٹر پر ٹرینڈ کر رہا ہے اور لوگ عادل کی موت کو ایک پلانڈ ایکسیڈینٹ قرار دیتے ہوئے اس کے اصل حقائق جاننے اورمجرموں کو سزا دینے اور عادل کو انصاف دلانے کا مطالبہ کر رہے ہیں-

    یہاں تک کہ شبہ ظاہر کیا گیا کہ عادل کے مبینہ قتل میں ٹک ٹا ک ندیم نانی والا ملوث ہو سکتا ہے-

    تاہم اب خبریں سامنے آئی ہیں کہ عادل راجپوت کی اہلیہ کی طرف سے کا کار حادثہ اور موت کی وائرل کی گئی ویڈیو محض فالوورز حاصل کرنے کے لئے اور مشہور ہونے کے لئےایک ڈرامہ رچایا گیا تھا-

    اس حوالے سے ٹک ٹاک اسٹار کے محلے والوں نے کہا کہ جب ٹک ٹاک پر ویڈیو وائرل ہوئی تو ہم پریشانی میں فوراً ان کے گھر بھاگے اورکافی تعداد میں لوگ ان کے گھر کے باہر اکٹھے ہو گئے لیکن یہاں آکر پتہ چلا کہ یہ سب شہرت حاصل کرنے کے لئے ڈرامہ رچایا گیا ہے یہ سب جھوٹ ہے-


    ٹک ٹاک سٹار کے اہل محلہ نے کہا کہ ان کے اس جھوٹ سے ہمیں بہت زیادہ تکلیف پہنچی کہ جس سٹار کو ہم فالو کرتے ہیں اور ہمارے لیاقت پور کی شان ہے جسے پورے پاکستان سے متعدد لوگ پسند کرتے ہیں اس نے ہمارے ساتھ ایسا گھٹیا مذاق کیا ہے اس بات سے ہمیں بہت تکلیف پہنچی ہے-

    اس ویڈیو وائرل ہونے کے بعد سے صارفین کی جانب سے ٹک ٹاک سٹارا ور اس کی اہلیہ کے لئے ملا جلا ردعمل سامنے آ رہا ہے-


    واضح رہے کہ عادل کی ایک ویڈیو وائرل ہوئی جس میں عادل راجپوت نے ایک ہفتہ قبل موت کی دھمکیوں کے بارے میں انکشاف کیا تھا۔ انہوں نے اپنے ٹِک ٹوک پیج پر ایک ویڈیو شیئر کی جس میں ہراساں کرنے والے کو مطلع کیا گیا کہ وہ ایسے کسی پیغامات سے نہیں ڈرتا ہے۔ اور وہ اس مقصد کے خلاف آواز اٹھاتا رہے گا-

    اپنے ویڈیو پیغام میں عادل نے بتایا کہ وہ ایک شخص کی جانب سے ٹیکسٹ موصول ہوا جس میں مجھے وہ دھمکی دے رہے ہیں کہ باز آ جاؤ ورنہ اپنی حالت کے آپ خود ذمہ دار ہوں گے انہوں نے دھمکی دینے والے کا نام لینے سے اجتناب کرتے ہوئے کہا کہ اب تم ایک ویڈیو بناؤ اس میں دیکھنا کہ کتنے لوگ میں آپ کے پیچھے لگاتا ہوں-

    دوسری جانب عادل راجپوت کی اہلیہ نے بھی روتے ہوئے ایک ویڈیو شئیر کی تھی جس میں انہوں نے بتایا تھا کہ ان کے شوہر اور ٹک ٹاک سٹار عادل اب اس دنیا میں نہیں رہے ان کی کار حادثے میں موت واقع ہو گئی ہے-

    معروف ٹِک ٹاک اسٹار عادل راجپوت کا کار حادثے میں انتقا ل

    ہراسانی ہر جگہ موجود ہے لیکن اصل مسئلہ ذہنیت ہے ماہرہ خان

    اس وقت مذہب اور مسلک سے ہٹ کر ہمیں ایک ہونے کی ضرورت ہے فخر عالم

  • عدالت میں رکھا قرآن مجید مجرم کی بجائے اگرججوں کے ہاتھوں میں دے دیا جائے تو بہتر فیصلے ہو سکتے ہیں  انور مقصود

    عدالت میں رکھا قرآن مجید مجرم کی بجائے اگرججوں کے ہاتھوں میں دے دیا جائے تو بہتر فیصلے ہو سکتے ہیں انور مقصود

    پاکستان کے معروف و مقبول رائٹر، مصنف، ڈرامہ نگار اور ادیب انور مقصود نے ملک کے عدالتی نظام کو بہتر بنانے کے لئے مشورہ دے دیا-

    باغی ٹی وی : پاکستان کے معروف و مقبول رائٹر، مصنف، ڈرامہ نگار اور ادیب انور مقصود اکثر و بیشتر ملکی حالات اور حکومت کی کارگردگی پر انہیں تنقید بھرے طنز و مزاح کا نشانہ بناتے رہتے ہیں-

    تاہم ابھی انور مقصود نے ملک عدالتی نظام اور ججز پر طنز کرتے ہوئے لکھا کہ عدالت میں رکھا قرآن مجید مجرم کے ہاتھوں میں دینے کی بجائے اگر ججوں کے ہاتھوں میں دے دیا جائے تو بہتر فیصلے ہو سکتے ہیں-

    واضح رہے کہ اس سے قبل وفاقی وزیر فواد چودھری نے کہا ہے کہ عدالتوں کو ہاتھ جوڑ کر کہنا پڑے گا کہ ججز کو ٹریننگ دیں۔ زیادتی کے کیسز میں صلح نہیں ہو سکتی۔ نظام انصاف کو نافذ کرنے سے معاملہ حل ہوگا۔

    قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے فواد چودھری کا کہنا تھا کہ زیادتی کے مقدمات میں خواتین افسروں کو تفتیشی لگانا چاہیے۔ نظام انصاف میں اصلاحات کی جائیں۔ ریپ کیسزمیں سزائیں صرف پانچ فیصد ہیں۔ اگر سزائیں 85 فیصد تک ہوتیں تو اتنے واقعات نہ ہوتے۔

    فواد چودھری نے کہا کہ لاہور سیالکوٹ موٹروے واقعہ نے سب کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے۔ عوام چاہتے ہیں کہ ملزمان کو سرعام پھانسی دی جائے۔ عوام کے غصہ میں اضافہ تب ہوتا جب ایسے واقعات پے درپے ہو رہے ہوں۔

    عدالتوں کو ہاتھ جوڑ کر کہنا پڑے گا کہ ججز کو ٹریننگ دیں، فواد چوہدری