Baaghi TV

Author: عائشہ ذوالفقار

  • بلال سعید اور صبا قمر کا گانا قبول ریلیز ہوتے ہی مقبول ہوگیا

    بلال سعید اور صبا قمر کا گانا قبول ریلیز ہوتے ہی مقبول ہوگیا

    پاکستان میوزک انڈسٹری کے معورف گلوکار بلال سعید اور اداکارہ صبا قمر کا گانا قبول ریلیز ہوتے ہی مقبول ہوگیا –

    باغی ٹی وی : پاکستان میوزک انڈسٹری کے معورف گلوکار بلال سعید اور اداکارہ صبا قمر کا متنازع گانا قبول ریلیز ہوتے ہی مقبول ہوگیا – بلال سعید کا قبول گانا پنجابی زبان میں ہے اور اسے پنجاب میں ہی فلمایا گیا ہے جبکہ 3 منٹ 59 سیکنڈ کے جاری کیے گئے گانے میں مسجد وزیر خان کا کوئی بھی منظر نہیں ہے لیکن گانے میں دیگر تاریخی عمارتوں کو دکھایا گیا ہے۔

    قبول گانے نے ریلیز ہوتے ہی مقبولیت حاصل کر لی ہے اس گانے کی مقبولیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ اس کو 5 گھنٹے قبل ہی ریلیز کیا گیا ہے اور صرف ان چند گھنٹوں میں اسے سوا 2 لاکھ سے زائد بار دیکھا جا چُکا ہے-

    قبول کی شاعری بھی بلال سعید نے ہی لکھی ہے جب کہ اس کی موسیقی بھی خود انہوں نے ہی ترتیب دی ہے۔قبول کے ذریعے صبا قمر نے میوزک گانوں کی ہدایت کاری میں بھی قدم رکھا ہےاس سے قبل وہ اپنے یوٹیوب چینلز پر مختصر ڈراموں کی ہدایات بھی دیتی رہی ہیں۔

    یا د رہے کہ سوشل میڈیا پر بلال سعید اور صبا قمر کے خلاف تب ہنگامہ شروع ہوا تھا جب رواں ماہ 8 اگست کو سوشل میڈیا پر اداکارہ صبا قمر اور گلوکار بلال سعید کے گانے کی میوزک ویڈیو وائرل ہوئی تھی جس میں وہ اپنے نئے گانے قبول کی شوٹنگ کے لیے تاریخی مسجد وزیرخان میں موجود تھے ۔

    صبا قمر اور بلال سعید کیاس ویڈیو پر سوشل میڈیا صارفین اور معروف سیاسی و مذہبی شخصیات کی جانب سے مسجد کا تقدس پامال کرنے پر حکومت سے کارروائی کرنے کا مطالبہ کیا گیا تھا جس پر دونوں فنکاروں نے وضاحت دیتے ہوئے لوگوں کی دل آزاری ہونے پر معافی مانگ لی تھی-اور یقین دہانی کرئی تھی کہ مذکورہ حصہ ویڈیو سے ڈیلیٹ کر دیا جائے گا-

    صبا قمر اور بلال سعید کی جانب سے مانگی گئی معافی پر یاسر حسین کا ردعمل بھی سامنے آ گیا

    مساجد سینما نہیں ہے مساجد کا تقدس پامال کرنے والوں کے خلاف کاروائی کی جائے ٹویٹر…

    اداکارہ صبا قمر اور بلال سعید کے خلاف مسجد کی بیحرمتی پر تھانہ مزنگ میں مقدمہ کی…

    مسجد وزیر خان کا تقدس پامال کرنے والوں کو جلد از جلد سزا دی جائے چودھری شجاعت…

    مسجد وزیر خان میں ویڈیو پر وضاحت دیتے ہوئے بلال سعید نے معافی مانگ لی

    مسجد میں گانے کے شوٹ کی اجازت کے تیس ہزار روپے لیے گئے ، نوٹیفیکیشن سامنے آ گیا

    قبول ہے ایک گانا تھا ان کا اصل نکاح نہیں تھا کہ انہوں نے ایک مشہور مسجد کے مذہبی…

    مسجد میں گانے کی شوٹنگ پر صبا قمر اور بلال سعید کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی،…

    صبا قمر کی مسجد وزیرخان میں ڈانس کی ویڈیو وائرل

    مسجد وزیر خان میں عکس بندی کے معاملے میں بلال سعید، صبا قمر اور محکمہ اوقاف کے افسروں کے خلاف اندراج مقدمہ کی درخواست پر سماعت میں 12 اگست تک رپورٹ طلب

  • پاکستانی بہادر ،بولڈ اور ذہین ’چڑیلز‘ کی دنیا بھر میں دھوم

    پاکستانی بہادر ،بولڈ اور ذہین ’چڑیلز‘ کی دنیا بھر میں دھوم

    پاکستان کی پہلی اوریجنل ویب سیریز کا اعزاز رکھنے والی ایکشن تھرلر سیریز ’چڑیلز‘ کو ویب اسٹریمنگ ویب سائٹ زی فائیو پر 11 اگست کو ریلیز گیا۔

    باغی ٹی وی : ویب اسٹریمنگ ویب سائٹ پر ’چڑیلز‘ کے پہلے سیزن کی تمام 10 اقساط کو ہی جاری کردیا گیا، جن کے ریلیز ہوتے ہی دنیا بھر میں ان کی دھوم مچ گئی ہے-
    https://www.instagram.com/p/CDvdOfXJYSe/?utm_source=ig_embed
    ہدایت کار عاصم عباسی کی ویب سیریز ’چڑیلز‘میں ایسی چار شادی شدہ خواتین کی کہانی دکھائی گئی ہےجو اپنے شوہروں کی بے وفائی کے بعد جاسوس بن جاتی ہیں۔

    پاکستان کی پہلی ویب سیریز ’چڑیلز‘ میں شوہروں کی بے وفائی کے بعد جاسوس بن جانے والی چاروں خواتین اپنی جیسی دوسری عورتوں کی زندگی بچانے کے لیے کام کرتی ہیں اور بیویوں سے دھوکا کرنے والے شوہروں کو بے نقاب کرتی دکھائی دیتی ہیں اور اس دوران جب وہ جاسوس بن جاتی ہیں تو انہیں معاشرے کے کئی مکروہ چہرے دکھائی دیتے ہیں۔

    جاسوس بن جانے والی خواتین پھر کم عمری کی شادیوں، بچوں کے ساتھ ناروا سلوک، زبردستی کی شادیوں، غربت، جرائم، رنگ و نسل کے واقعات اور خودکشی جیسے بھیانک حقائق کا سامنا کرتی ہیں۔

    ویب سیریز میں ثروت گیلانی نے سارہ، یاسرا رضوی نے جگنو، نمرا بچہ نے بتول اور مہربانو نے زبیدہ کا کردار ادا کیا ہے اور ویب سیریز میں ان چار مختلف شعبوں وکیل ، باکسر،ویڈنگ پلانر سے تعلق رکھنے والی خواتین کو ایک گینگ کے طور پر دکھایا گیا ہے-
    https://www.instagram.com/p/CDMUz1apdrg/?utm_source=ig_embed
    https://www.instagram.com/p/CDMLXO7psbY/?utm_source=ig_embed
    https://www.instagram.com/p/CDOkxHZJ7sX/?utm_source=ig_embed
    https://www.instagram.com/p/CDQx6YYpPoe/?utm_source=ig_embed
    بھارتی اخبار انڈین ایکسپریس نے اپنی رپورٹ کے ابتدائی تبصرے میں ’چڑیلز‘پاکستان کی پہلی اوریجنل ویب سیریز کو خواتین کو مضبوط کرداروں میں دکھائے جانے کی سیریز قرار دیا ہے جو سماج میں ہونے والی جسم فروشی، بچوں کے استحصال، کم عمری کی شادیوں اور خواتین کے ساتھ ہونے والے نازیبا رویوں سے پردہ اٹھاتی ہیں۔

    فیشن ہاؤس کے نام پر جاسوسی کا ادارہ چلانے والی چاروں خواتین کو اپنے منصوبے کو آگے بڑھانے کے لیے درجنوں خواتین کو فیشن اور ماڈلنگ کے نام ملازمت پر رکھتے ہوئے بھی دکھایا گیا ہے۔
    https://www.instagram.com/p/CDRL7_9JeD2/?utm_source=ig_embed
    فیشن کے نام جاسوسی کا ادارہ چلانے والی چاروں خواتین کو برقع پہن کر بیویوں سے بے وفائی کرنے والے شوہروں کی جاسوسی کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے.

    ’چڑیلز‘ شوہروں کی بے وفائی سے پردی اٹھاتیں ذہین بولڈ بہادر اور خوبصورت خواتین کی کہانی

    پاکستان کی پہلی اوریجنل ویب سیریز ’چڑیلز‘ کا ٹریلر جاری

  • شادی کے علاوہ زندگی میں اور بھی بہت کچھ کرنے کو ہے  محب مرزا

    شادی کے علاوہ زندگی میں اور بھی بہت کچھ کرنے کو ہے محب مرزا

    پاکستان شوبز انڈسٹری کے نامور اداکار محب مرزا نے سوشل میڈیا پراپنی شادی کے حوالے سے بڑا بیان دے دیا-

    باغی ٹی وی : سوشل میڈیا ویب سائٹ انسٹاگرام پر اداکار نے اپنی ایک دلکش تصویر شئیر کی جس کا انہوں نے ایک ادھورا سا کیپشن لکھا-انہوں نے لکھا کہ میں سمجھ گیا، اچھا-

    اداکار کے مداح آمنہ شیخ کی شادی کے بعد اب محب مرزا کو بھی شادی دینے کے مشورے دے رہے ہیں مداحاں کو کہنا ہے کہ اب وہ بھی شادی کر لیں انہیں اپنے پسندیدہ اداکار کی شادی کی خبر کا بے چینی سے انتظار ہے-
    https://www.instagram.com/p/CDwCJwiFnUi/?igshid=of9n8jug0ihx
    اُن کی ایک مداح نے کمنٹ کرتے ہوئے سے کہا کہ اب وہ محب کی شادی کی خبر کے انتظار میں ہیں۔

    محب مرزا انسٹاگرام اکاؤنٹ سکرین شاٹ
    محب مرزا نے اپنی مداح کو جواب دیتے ہوئے لکھا کہ شادی کے علاوہ زندگی میں کرنے کو اور بھی بہت کچھ ہے۔

    جبکہ اُن کے اور بھی کئی مداحوں نے ان سے فرمائش کی کہ وہ بھی اب اپنی شادی کی خبر سُنا دیں-

    اس سےقبل محب مرزا نےانسٹا گرام پر ایک پوسٹ شئیر کرتے ہوئے لکھا تھا کہ وقت کبھی ایک سا نہیں رہتا۔
    https://www.instagram.com/p/CDvDvDcFmhv/?igshid=l8ub0m0amqj7
    اداکار محب مرزا نے اپنے پیغام میں لوگوں کو مشورہ دیا کہ وقت کے اتار چڑھاؤ سے پریشان ہونے کے بجائے ہمیشہ مثبت رہیں کیونکہ وقت کبھی بھی ایک جیسا نہیں رہتا اگر اچھا وقت نہیں رہا تو بُرا بھی گزر جائے گا۔

    خیال رہے کہ محب مرزا نے 2005 میں میں ماڈل و اداکارہ آمنہ سیخ سے شادی کی تھی اور شادی کے 10 برس بعد اگست 2015 میں پہلی بیٹی کی پیدائش ہوئی تھی۔جس بعد ان کے درمیان علیحدگی ہوگئی تھی اور گزشتہ برس محب مرزا نے ایک پروگرام میں اس کی تصدیق کی تھی۔

    دوسری جانب آمنہ شیخ رواں ماہ 8 اگست کو ہی عمر فاروقی نامی بزنس مین سے رشتہ ازدواج میں منسلک ہوئی ہیں۔

    اداکارہ و ماڈل آمنہ شیخ نے دوسری شادی کر لی

    ماڈل و اداکارہ آمنہ شیخ نے دوسری شادی کی تصدیق کرتے ہوئے اپنے شوہر کا تعارف کرادیا

  • مولانا محمد اسماعیل سلفی رحمۃ اللہ علیہ  کی اسلام کے لئے خدمات  بقلم:عبدالرحمن ثاقب سکھر

    مولانا محمد اسماعیل سلفی رحمۃ اللہ علیہ کی اسلام کے لئے خدمات بقلم:عبدالرحمن ثاقب سکھر

    کتاب ” #حجیت_حدیث”

    بقلم:- #عبدالرحمن ثاقب سکھر

    مولانا محمد اسماعیل سلفی رحمۃ اللہ علیہ مرکزی جمعیت اہل حدیث پاکستان کے ناظم اعلی بعد ازاں امیر منتخب ہوئے۔ اللہ تعالٰی نے آپ کو بڑی صلاحیتوں سے نوازا تھا۔ آپ بیک وقت منتظم، مدرس، کہنہ مشق صحافی، بےمثال ادیب، مناظر، مصنف اور بلند پایہ خطیب اور عظیم قائد تھے۔
    آپ نے مدرسہ نذیریہ میں شیخ الحدیث مولانا عبد الجبار عمر پوری،مدرسہ غزنویہ امرتسر میں مولانا عبد الغفار غزنوی، مولانا عبد الرحیم غزنوی، قیام امرتسر میں ہی مولانا مفتی محمد حسن ( دیوبندی) بانی جامعہ اشرفیہ لاہور اور سیالکوٹ میں مولائے میر مفسر قرآن علامہ محمد ابرہیم میرسیالکوٹی سے علمی اکتساب کیا۔ فراغت کے بعد آپ نے گوجرانولہ کو اپنا مرکز بنایا اور گوجرانولہ کی جامع مسجد اہل حدیث میں مدرسہ محمدیہ کی بنیاد رکھی۔
    آپ کی علمی شخصیت کو دیکھتے ہوئے مفتی اعظم سعودی عرب شیخ عبد العزیز بن باز رحمہ اللہ نے آپ کو جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ میں پڑھانے کے لیے بلوا بھیجا لیکن آپ نے گوجرانولہ میں رہ کر پاکستان میں خدمت دین کو ترجیح دی۔
    مولانا محمد اسماعیل سلفی رحمۃ اللہ علیہ پانچ وقت نمازیں بھی پڑھاتے، تدریس بھی کرتے، تبلیغی و تنظیمی اسفار بھی جاری رہتے، آپ نے کثیرالاشتغال زندگی گذاری۔ سب کاموں کے باوجود قلم و قرطاس سے ناطہ جوڑے رکھا۔ آپ نے بہت زیادہ تو نہیں لکھا لیکن جو لکھا وہ خوب لکھا۔ آپ کی تحریر میں روانی، سلاست بیانی، الفاظ کا چناؤ اور ان کا برمحل استعمال اور شیفتگی بدرجہ اتم موجود ہوتی تھی۔ آپ کو اردو زبان وادب، اور انشا پردازی کے ساتھ ساتھ عربی زبان اور اس کے لب و لہجہ کے اس کی لطافتوں اور نزاکتوں پر بھی عبور کامل حاصل تھا۔
    مولانا سلفی صاحب کا قرآن مجید کے بعد پسندیدہ موضوع حدیث،حجیت حدیث، تدوین حدیث اور محدثین کے کارنامے تھا۔ال پاکستان اہل حدیث کانفرنس کے موقع پر آپ کی عموماً گفتگو حجیت حدیث، مقام حدیث، مسلک اہل حدیث، تاریخ اہل حدیث اور خدمات اہل حدیث کے موضوع پر ہوا کرتی تھی۔
    برصغیر میں فتنہ انکار حدیث نے اسلام کا لبادہ اوڑھ کر مقام رسالت اور احادیث مبارکہ سے راج فرار کی کوشش کی۔ انہیں دراصل دشمنان اسلام مستشرقین کی سرپرستی حاصل رہی ہے۔ یہ گروہ تحقیق و جستجو کے نام پر مقام رسالت، حفاظت حدیث، تدوین حدیث اور محدثین عظام کی کوششوں کے بارے شکوک وشبہات پیدا کرکے اسلام کا تشخص ختم کرنے پر درپے ہے۔ عبداللہ چکڑالوی سے لےکر جاوید غامدی تک کی یہی کوشش اور چاہت رہی ہے کہ کسی نہ کسی طرح سے اسلام کا حلیہ بگاڑ دیا جائے۔لیکن عاملین بالحدیث کی جماعت نے ہمیشہ سے ان کے ارادوں کو خاک میں ملا دیا ہے۔ اور عملی میدان میں تحریری و تقریری ان کا علمی محاسبہ کیا اور جواب دیاہے۔ اس میں بہت سے علماء اہل حدیث کی کوششیں شامل ہیں۔
    زیرنظر کتاب ” حجیت حدیث” مولانا محمد اسماعیل سلفی صاحب کی ہے جس میں چار رسائل موجود ہیں۔ جس حدیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی عظمت و اہمیت، تشریعی حیثیت، حدیث کی حجت، درایت حدیث کے ساتھ ساتھ منکرین حدیث، مولانا مودودی، مولانا امین احسن اصلاحی وغیرہ کے شبہات اور اعتراضات کا بڑے عمدہ اور دلنشین انداز میں جواب دیا گیا ہے۔ اپنے موضوع پر ایک عمدہ کتاب ہے جو طنز و تشنیع سے ہٹ کر خالص علمی انداز میں لکھی ہے۔ مولانا سلفی صاحب کی کتب فرقہ واریت کے حبس میں ہوا کا تازہ جھونکا کی حیثیت رکھتی ہیں۔ جن میں آپ کا محدثانہ رنگ نظر آتا ہے۔ حدیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے شغف رکھنے والے اور جس کے دل میں حدیث کے بارے معمولی سا بھی شائبہ ہو وہ ضرور اس کا مطالعہ کرے۔ مبتدی طلباء سے لے کر علماء کرام اور عام بندوں کے لیے یکساں مفید ہے۔
    اللہ تعالیٰ جزائے خیر عطا فرمائے محترم جناب حافظ شاہد محمود صاحب حفظہ اللہ کو جنہوں نے مولانا اسماعیل سلفی صاحب کے علاوہ نواب جاہ والا حضرت نواب صدیق حسن خان قنوجی رحمت اللہ علیہ و دیگر علماء کی کتابوں کو پردہ عدم سے نکال کر ایک نئے انداز اور جدید تقاضوں کے مطابق منظر عام پر لائے ہیں اور ہم جیسے طلبہ ان سے مستفید ہورہے ہیں۔

  • حدیقہ کیانی نے زندگی کی 48 بہاریں دیکھ لیں

    حدیقہ کیانی نے زندگی کی 48 بہاریں دیکھ لیں

    پاکستان میوزک انڈسٹری کی عالمی شہرت یافتہ گلوکارہ اور حدیقہ کیانی نے گزشتہ روز اپنی 48 ویں سالگرہ منائی ہے۔

    باغی ٹی وی :پاکستانی معروف گلوکارہ حدیقہ کیانی نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنی ایک خوبصورت تصویر شیئر کی اور ساتھ ہی میں اُن کو 48 ویں سالگرہ کے موقع پر مبارکباد دینے والوں کا شکریہ ادا کیا ۔

    حدیقہ کیانی نے اپنی خوبصورت تصویر شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ سالگرہ کی مبارک باد دینے کے لیے آپ سب کا بہت شکریہ ۔

    حدیقہ کیانی کی جانب سے ٹوئٹ میں اپنے مداحوں کو پیغام دیتے ہوئے لکھا گیا کہ براہ کرم بارشوں سے متاثرہ افراد کی مدد کے لیے آپ جو کچھ کر سکتے ہو وہ کریں۔

    انہوں نے اپنے ٹوئٹ کے آخر میں اپنی عمر بتاتے ہوئے کہا کہ جی ہاں 48 سال ایسے ہی نظر آتے ہیں۔

    حدیقہ کیانی جانب سے شیئر کی گئی تصویر پاکستانی فلم اور ڈرامہ انڈسٹری کے مشہور اداکار و میزبان فہد مصطفیٰ نے ری ٹوئٹ کی اور حدیقہ کیانی کو اُن کی سالگرہ کی مبارکباد دی ۔


    فہد مصطفیٰ نے اپنے ٹو ئٹ میں حدیقہ کیانی کی تعریف کرتے ہوئے لکھا کہ آپ صرف 24 سال کی نظر آتی ہیں ۔

    دوسری جانب پاکستان کے مشہور گلوکار علی ظفر کی جانب سے بھی حدیقہ کیانی کو سالگرہ کی مبارکباد دی گئی ۔

    علی ظفر نے اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر حدیقہ کیانی کی ٹوئٹ شیئر کی اور اُنہیں سالگرہ کی مبارکباد دیتے ہوئے لکھا کہ یہ 48 سال میوزک انڈسٹری کی بہترین سال ہیں حدیقہ کیانی نے میوزک انڈسٹری میں اُس وقت قدم رکھا جب لڑکیوں کے لیے موسیقی کو بطور کیریئر اپنانا بہت مشکل تھا۔


    علی ظفر نے مزید کہا کہ وہ حدیقہ کیانی اور اُن کے بھائی عرفان کیانی کی محنت اور لگن سے کام کرنے کے گواہ ہیں۔

    سئنئیر رپورٹر روؤف کالرا نے بھی حدیقہ کیانی کو سالگرہ کی مبارکباد دی-


    علاوہ ازیں گلو کارہ کے مداحؤں اور ٹویٹر صارفین نے بھی انہیں سالگرہ کی مارکباد دی اور کہا کہ وہ غلط کہہ رہی ہیں کہ وہ 48 سال کی ہیں وہ تو ابی 24 یا پچیس سال کی دکھائی دیتی ہیں بعض صارفین نے کہا کہ انہوں نے بوڑھی کب ہونا ہے وہ انہیں اپنے بچپن سے ہی ایسے دیکھتے آ رہے ہیں-


    https://twitter.com/HaleemaSaadia14/status/1293393426399072257?s=20

    سونو نگم پاکستان کی ننھی گلوکارہ ہادیہ ہاشمی کا کلام سن کر رو پڑے

    شفقت امانت علی کا یوم آزادی کے حوالے سے نیا گیت ریلیز

  • توڑ اُس دستِ جفا کش کو یا رَبّ  تحریر: مقدس کشمیری

    توڑ اُس دستِ جفا کش کو یا رَبّ تحریر: مقدس کشمیری

    "توڑ اُس دستِ جفا کش کو یا رَبّ۔۔۔”

    تحریر مقدس کشمیری

    کہانی ایک ہی مگر کردار جدا جدا وقت اور حالات کے ساتھ ظالم اور ظلم کے زوایے بدلتے رہے مگر مظلوم بے دست وپا ایک کشمیر ہی رہا اس کشمیرکے ہر گھر اور گھر کے ہر فرد کی ایک جیسی کہانی ہے اور ایک جیسا مشترکہ دکھ ماؤں کا بیٹےکھو جانے کادکھ، بیٹیوں کی عصمتیں لٹنے کا غم، جوان بیٹوں کے تڑپتے لاشوں پہ آنسوں بہاتی بوڑھی آنکھیں اور ان انکھوں میں صدیوں سے آبادبے بسی سب دن بدن بڑھ رہا ہے اور ان کا مداوا کم ہو رہا ہے بھارتی فوج کے جور و ستم کی داستانیں اب چنار کے پتے پتےپر رقم ہو چکی مگر وہ آواز ہوا کے دوش پہ نہیں سنائی دیتی جس میں مظلوم کی داد رسی ہو۔
    کہتے ہیں کہ ظالم کو روکنے والا کوئی نہ ہو تو ظلم ہر شب کے بعد بڑھتا ہے پھر ظالم کے ہتھکنڈے بھی اپنے ہوتے اور قانون بھی اپنے یہی کچھ کشمیریوں نصیب ٹھہرا!
    بھارتی فوج جس کو جب چاہے جہاں چاہے گولی مار کر شہید کردیتی ہے اور اسے حریت پسند کا نام دے دیا جاتا ہے ستم کی یہ داستانیں روز رقم ہوتی ہیں اور پرانی ہو جاتی ہیں اگلے روز کا سورج ایک نئی انہونی کو جنم دیتا ہے جموں کے ضلع راجوری کے گاؤں کے رہائشی تین نوجوان روزگار کے سلسلے میں ضلع شوپیاں میں جاتے ہیں، کراۓ پر مکان حاصل کر کے رہائش اختیار کرتے ہیں، اور وہاں مزدوری شروع کر دیتے ہیں،
    اسی دوران 18 جولائی کو بھارتی درندہ صفت فوج کو ضلع شوپیاں کے گاؤں ایمشی پورہ میں حزب سے وابستہ عسکریت پسندوں کی موجودگی کی خبر ملتی ہے،
    بھارتی فورسز، سی آر پی ایف،66راشٹر رائفلز اور پولیس کے خصوصی دستے ان کے خلاف مشترکہ آپریشن تشکیل دیتے ہیں، اور چند گھنٹوں میں حریت پسندوں کا خاتمہ کردیتے ہیں۔ پل بھر ہندوستان میں کہرام مچ جاتا ہے ہر ٹی وی سے زہر اگلا جانے لگتا ملی ٹنٹ دہشت گرد خطرناک آتنک وادی اور جانے کن کن ناموں سے پکارا جاتا کہ بھارتی فوج نے مار دیئے دنیا کو تصویر کا ایسا رخ دکھایا جاتا کہ گویا یہ افراد بھارت کو تباہ کرنے چلے تھے۔
    انڈین میڈیا پر یہ خبر چلتی ہے کہ "حزب المجاہدین سے وابستہ تین خطرناک عسکریت پسند بھارت کی بہادر سینا نے مارگرائے ہیں۔ اور بار بار چلتی اس خبر میں سب کچھ چھپا دیا گیا کہ بے چارے مارے جانے والے اصل میں تھے کون؟
    شناخت بتائی جاتی تو بزدل فوج کی بہادری کا پول کھل جاتا یوں
    بھارتی فوج لاشیں بھی لواحقین کے حوالے نہیں کرتی، اپنے طور پر ہی دفنا دیتی ہے، ادھر بوڑھے والدین کے سہارے جو ان کے لئے دو وقت کی روٹی کمانے گھر والوں سے جدا تھے
    وہ مزدور نوجوان روزگار کے سلسلے میں شوپیاں کے علاقے میں رہائش پزیر تھے، ان کا اپنے گھر والوں سے رابطہ کافی دن منقطع رہتا ہے، گھر والے یہی سمجھتے ہیں کہ شائد سروس ڈاؤن ہیں، یا نیٹ ورک کا مسئلہ ہے، ستم ظریفی دیکھیئے کہ اک قیامت گزر گئی مگر فوج نے اپنے مکر پر پہرہ جماۓ رکھا،چنددنوں بعد ان نوجوانوں کے اہلخانہ تک 18 جولائی کو مارے جانے والے عسکریت پسندوں کی سوشل میڈیا پر گردش کرتی تصاویر پہنچتی ہے تو تب انہیں معلوم ہوا کہ یہ تو ہمارے جگر پارے تھے، 26 سالہ امتیاز احمد، 21 سالہ 21 سالہ محمد یوسف اور 15 سالہ محمد ابرار تھے، جنہیں بھارتی فوج نے شوپیاں سے اغواہ کرکے جعلی انکاؤنٹر میں عسکریت پسندوں کا ٹیگ لگا کر شہید کردیا، 18 جولائ گزرا ایک داستان غم اور بڑھا گیا آنسو دکھ اور کرب تین گھروں کا مقدر ٹھہرا بھارتی فوج کے ہاتھوں شہادت پانے والے بے قصوروں کا
    یہ پہلا واقعہ نہیں ہے کہ بھارتی فوج نے معصوم کشمیری نوجوانوں کو جعلی مقابلوں میں شہید کیا ہو، بلکہ بھارتی فوج کا تو وطیرہ ہی یہی ہے کہ آئے روز کشمیریوں کے گھروں میں چھاپے مار کر، ماؤں بہنوں کی عزتوں کے ساتھ کھلواڑ کرنا اور گھروں کا قیمتی سامان لوٹ کر لے جانا، یا توڑ پھوڑ کرنا، اور مردوں کو چاہے وہ بچے ہوں، بوڑھے ہوں یا نوجوان انہیں اغواء کر کے لے جانا،بعد میں عسکریت پسندوں کا ٹیگ لگا کر جعلی مقابلوں میں شہید کر دینا،
    کون سا جنگی جرم ہے جس کا ارتکاب بھارتی فوج نے نہ کیا ہو،
    ابھی کچھ دن پہلے ہی بھارتی فوج نے فریڈم فائٹرز کے ہاتھوں ہزیمت کا سامنا کرنے کے بعد اپنی ذلت مٹانے کے لیئے، سوپور میں تین سالہ نواسے کے ساتھ سفر کررہے بزرگ کو گاڑی سے نکال کر گولیوں کا نشانہ بنایا، بعد میں تین سالہ عیاد کو شہید نانا کی لاش پر بٹھا کر فوٹو شوٹ کرتے رہے،
    اس سے چند دن پہلے اننت ناگ کے ضلع کولگام میں باپ کے ساتھ دکان پر جارہے دو بہنوں کے اکلوتے بھائی، چھ سالہ نہان احمد کو گولیوں کا نشانہ بنا کر، اس ماں کی گود اجاڑ کر جس نے سات سال کی دعاؤں، التجاؤں کے بعد بیٹے جیسی نعمت لی تھی، اپنی درندگی کا ثبوت دیا۔
    کبھی بھارتی فوج دوارن معرکہ اپنی بہادری کا ثبوت دینے کے لئے کشمیری نوجوانوں کو "ہیومن شیلڈ” کے طور پر استعمال کرتی ہے تو کبھی پاکستانی راہنماؤں کے بیان کو واٹس ایپ سٹیٹس لگانے کے جرم میں گرفتار کر لیا جاتا ہے۔
    کیا کشمیر میں بسنے والے انسان نہیں؟
    یا وہ انسانی حقوق کے حقدار نہیں؟
    کون انصاف دلاۓ گا امتیاز، یوسف ابرار کے لواحقین کو؟
    کون نہان احمد کی ماں کا درد محسوس کرے گا؟
    کون تین سالہ عیاد کے ذہن میں نقش ہوچکے نانا کے تڑپتے لاشے اور بھارتی فورسز کے درندگی کے نقوش کو مٹاۓ گا؟ کیا ظلم کی یہ داستانیں یونہی رقم ہوتی رہیں گی اور ستم کی کہانیں کشمیر کے گھر گھر پھیلتی رہیں گی۔۔۔۔؟؟
    توڑ اُس دستِ جفا کش کو یا رَبّ
    جس نے روح آزادی کشمیر کو پامال کیا۔۔۔!!!

  • تنہائی  کہیں ہمیں شیطان کا ساتھی نہ بنا دے  از قلم :عاقب شاہین پلوامہ

    تنہائی کہیں ہمیں شیطان کا ساتھی نہ بنا دے از قلم :عاقب شاہین پلوامہ

    تنہائی، کہیں ہمیں شیطان ک ساتھی نہ بنا دے!!!
    از قلم عاقب شاہین پلوامہ

    ہے گِلہ مجھ کو تِری لذّتِ پیدائی کا
    تُو ہُوا فاش تو ہیں اب مرے اَسرار بھی فاش

    شُعلے سے ٹُوٹ کے مثلِ شرَر آوارہ نہ رہ
    کر کسی سِینۂ پُر سوز میں خلوَت کی تلاش

    اگر ہم غور کریں تو دیکھتے ہیں کہ کرونا وائرس کی وجہ سے انسان زیادہ خلوت میں رہ گیا ہے…۔ اس وبا کے جہاں بے شمار مثبت پہلو ہیں وہیں کچھ منفی پہلو بھی ہیں۔ وہ زندگی جہاں ہر کسی پر کوئی نہ کوئی مسلط ہے اس وبا نے ملاقاتوں سے اجتناب کے مواقع فراہم کردیے ہیں۔ تنہائی، خلوت اور گوشہ نشینی کے دن اور رات فراہم کردیے ہیں۔ لوگوں کے ساتھ روابط، تعلقات، رشتے، خواہش، جذبات، محبت اور دوستی انسان کو مطمئن اور آسودہ رکھتی ہے لیکن ساتھ ہی مضطرب، بے چین، پریشان اور پر ملال بھی۔۔۔ جبکہ خلوت اور گوشہ نشینی روح کا وہ سفر ہے جو آگہی، تفکر، صبر، شکر اور بندگی کی کشش سے آگاہ کرتی ہے۔ علامہ اقبالؒ نے فرمایا :

    شعلے سے ٹوٹ کے مثل شرر آوارہ نہ رہ
    کر کسی سینہ پر سوز میں خلوت کی تلاش..!!

    اس شعر کی تشریح میں شیخ الشیوخ شہاب الدین سہروردی کے خیالات سے استفادہ کیا جاسکتا ہے۔ فرماتے ہیں ’’تنہائی میں خیالات کی یکسوئی کے سبب باطن صاف ہو جاتا ہے اگر باطن کی صفائی مذہبی رہنمائی اور رسول اللہؐ کی سچی پیروی کا نتیجہ ہے تو اس سے روشن ضمیری، دنیا سے بے تعلقی، ذکر الٰہی کی حلاوت اور مخلصانہ عبادت کا ظہور ہوگا اور اگر مذہبی ہدایت اور رسول کریمؐ کا اتباع مقصود نہیں تو محض نفس کی صفائی ہوگی‘‘۔
    لیکن خلوت کا ایک دوسرا پہلو بھی ہے۔ خلوت میں انسان شیطان کا سب سے آسان ہدف ہوتا ہے۔ شیطان جو رگوں میں خون کی طرح دوڑتا ہے خلوت میں زیادہ شدت سے حملہ آور ہوتا ہے۔۔۔۔
    آج ہمارا ایمان بالغیب انٹرنیٹ اور موبائل کے ذریعے آزمایا جارہا ہے، جہاں ایک کلک کر کے آپ وہ کچھ دیکھ سکتے ہیں
    جس سے ہمارے ایمان کا ایک منٹ میں خاتمہ ہوسکتا ہے۔۔۔
    ہم اپنے دوستوں سے مل کر ایسی تصاویر اور ویڈیوز دیکھتے ہیں جس سے شیطان بھی شرماتا ہے ،ہم خفیہ گروپس بنا کر رات دن شیطان کی پیروی کرتے ہیں۔۔۔ ہمیں لگتا ہے شاید ہمیں کوئی نہیں دیکھ رہا ، الگ کمرے میں سب سے چھپ کر گناہ کرتے رہتے ہیں
    (یستخفون من الناس) لوگوں سے تو چھپا لیتے ھیں (ولا یستخفون من اللہ و ھو معھم) مگر اللہ سے نہیں چھپا سکتے کیونکہ وہ ان کے ساتھ ھے ،
    ہمارا لکھا اور دیکھا ہوا سب ہمارے نامہ اعمال میں محفوظ ہو رہا ھے ،جہاں سے صرف اسے سچی توبہ ہی مٹا سکتی ہے۔۔۔۔

    یہ سب امتحان اس لئے ہیں تاکہ (لیعلم اللہ من یخافه بالغیب) اللہ تعالی جاننا چاہتا ہے کہ کون کون اللہ تعالی سے غائبانہ ڈرتا ہے۔
    یہ لکھنے والے ہاتھ اور پڑھنے والی آنکھیں ، سب ایک دن بول بول کر گواہی دیں گے ،،
    : { الْيَوْم نَخْتِم عَلَى أَفْوَاههمْ وَتُكَلِّمنَا أَيْدِيهمْ وَتَشْهَد أَرْجُلهمْ بِمَا كَانُوا يَكْسِبُونَ) (یسن – 65)
    ” آج ہم انکے منہ پر مہر لگا دیں گے اور ان کے ہاتھ ھم سے بات کریں گے اور ان کے پیر ان کے اعمال کی گواہی دیں گے۔‘
    اس لیے میرے عزیزو !!!
    ایسے کام کرو کہ ہمارے ہاتھ محشر میں گواہی دیں ، اس نے ہمارے ذریعے کبھی کسی ایسی ویب سائٹ پر کلک نہیں کیا جس سے ایمان کا خاتمہ ممکن ہو….ہماری آنکھیں یہ گواہی دیں کہ اس انسان نے مجھ سے کوئی ایسی تصویر یا ویڈیو نہیں دیکھی جس سے اس کے ایمان پر برا اثر پڑا ہو ۔۔۔۔

    ’’ ہم اپنے احباب و اقارب سے چھپ کے گناہ کرتے ہیں ، ڈرتے ہیں کہ اگر کوئی دیکھ لے گا تو رسوائی ہوگی ..مگر وہ دن یاد نہیں.. جب ہماری بیوی، بچے اور والدین بھی سامنے دیکھ رہے ہوں گے اور دوست واحباب بھی موجود ہوں گے ،، زمانہ دیکھ رہا ہو گا اور تھرڈ ایمپائر کی طرح کلپ روک روک کر اور ریورس کر کے دکھایا جا رہا ہو گا ،، ہائے ، اُس رسوائی کا کیا عالَم ہو گا ،،،،،،،،،،،،،،،،

    آج بھی صرف توبہ کے چند لفظ اور آئندہ سے پرہیز کا عزم ہمارے پچھلے کیے ہوئے کو صاف کر سکتا ہے. اور ہمیں اس رسوائی سے بچا سکتا ھے ،،

    خلوت کے گناہ انسان کے عزم وارادے کو متزلزل کر کے رکھ دیتے ہیں. یوں وہ خود اعتمادی اور معاملات میں شفافیت سے بھی ہاتھ دھو بیٹھتا ھے.
    (اِتَّقِ الله حيث ما كنت) جہاں کہیں بھی ہو اللہ سے ڈرو.
    اللّہ تعالٰی ہم سب کی حفاظت فرمائے.
    آمِین…”.

    ايک دن آپ تمام دوست مجھے Off line پائيں گے۔۔!
    فرينڈ ريكوسٹ بھيجيں گے ليكن ايكسیپٹ نہيں ہوگى، ميسنجر پہ پيغام بھيجيں گے اور رپلائى كا گھنٹوں انتظار كرتے رہيں گے،
    ليكن جواب نہيں ملے گا۔ ۔۔!

    میں آپ كو مستقل Off line نظر آؤں گا۔۔۔
    ميرى پوسٹيں بھى آنا بند ہوجائيں گى،
    كيونكہ ميں اس دنيا سے رخصت ہوچكا ہوں گا،
    پھر آپ ميرے ساتھ كسى قسم كا كوئى رابطہ نہيں كر سكيں گے، ميرے كمنٹس كا رپلائى نہيں دے سكيں گے، ايكسكيوز نہيں كر سكيں گے، معذرت نہيں كر سكيں گے ۔۔!

    كيونكہ ميں اس وقت آپ كے ساتھ نہيں ہوں گا۔۔
    قبر كے تنگ و تاريك گڑھے ميں ابدى نيند سويا ہوں گا۔۔۔

    وہاں ميں ٹائم پاس اور تنہائى كو دور كرنے كے ليے كسى سے چيٹ نہيں كر سكوں گا۔۔
    وہاں ميرے اعمال ہى ميرے ليے حسرت اور خوشى كا سامان ہوں گے۔۔۔

    آپ بھى اس بات كى حرص كيجيے اور ميں بھى حرص كرتا ہوں، كہ ہمارى لكھى گئى پوسٹيں ہمیں قبر کے عذاب سے بچانے کا ذریعہ اور ہمارے ليے صدقہ جاريہ بن جائيں۔۔۔

    تو جلدى كيجيے !

    اپنى ٹائم لائن كا جائزہ ليں غير ضرورى پوسٹوں كو ڈيليٹ كريں، اور آئندہ ايسى پوسٹيں كرنے سے گريز كريں۔

    ابھى آپ كے پاس فرصت اور وقت ہے۔۔!

    كيونكہ ابھى تو آپ دنيا ميں wattssUp یا facebookپر online ہيں۔۔ ۔!

    ميں اپنے نفس كو اور آپ كو عربى كے اس شعر كى ياددہانى كروانا چاہتا ہوں:

    يلوح الخط في القرطاس
    دهرا وكاتبه رميم في التراب

    "ہمارا لكھا ہوا زمانہ بھر باقى رہے گا، جبكہ ہم مٹى ميں دھول بن جائيں گے۔”

    خرجت من التراب بغير ذنب
    *وعدت مع الذنوب إلى التراب

    ” ہم مٹى سے تو بغير گناہ كے نكلے تھے، ليكن مٹى ميں گناہ لے كر جارہے ہيں۔”
    جزاکم اللہ خیر
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

  • گورننس کے مسائل  تحریر:عدنان عادل

    گورننس کے مسائل تحریر:عدنان عادل

    گورننس کا مفہوم ہے کہ حکومت کے مختلف ادارے کس طرح اپنے اپنے کام انجام دے رہے ہیں‘ سیاسی نظام کن قواعد کے تحت چلایا جارہا ہے ۔ پاکستان میں اکثر کہا جاتا ہے کہ گورننس کا حال بہت خراب ہے۔ مراد یہ ہوتی ہے کہ حکومتی معاملات میں بدانتظامی ہے‘قومی امور پر غلط فیصلے لیے جاتے ہیں‘قاعدہ قانون کی بجائے سفارش اور کرپشن کا دور دورہ ہے۔ میرٹ کو نظر اندازکیا جارہا ہے۔ سرکاری ادارے وہ کام انجام نہیں دے رہے جن کے لیے انہیں بنایا گیا ہے۔حکومت عوام کووہ خدمات مہیا نہیں کرپارہی جو اسکے فرائض میں شامل ہے۔ حکومتی کارکردگی پر ایک طویل نوحہ پڑھا جاتا ہے۔جب خراب گورننس کا شکوہ کیا جاتا ہے تو سیاستدان الزام لگاتے ہیں کہ بیوروکریسی انہیں کام نہیں کرنے دیتی۔انکی بات نہیںمانتی۔ہر کام میں رولز کا بہانہ کرکے روڑے اٹکاتی ہے۔ انکے بتائے ہوئے کاموں میں رکاوٹ ڈالتی ہے۔ سرکاری افسر رشوت خور ہیں‘ کام چور ہیں۔ اعلی سرکاری افسروں کا موقف ہے کہ ارکانِ پارلیمان کا کام صرف قانون سازی ہے‘ لیکن وہ انتظامی امور میں مداخلت کرتے ہیں۔انہیں قاعدہ‘ قانون کے خلاف کام کرنے پر مجبور کرتے ہیں۔ یہی خرابی کی جڑ ہے۔ سیاستدان دباؤ ڈال کر اہم عہدوں پر بدعنوان افسروں کا تقرر کرواتے ہیں جس سے رشوت خوری میں اضافہ ہوتا ہے‘ نااہل سرکاری اہلکاربدا نتظامی کا باعث بنتے ہیں۔ لاقانونیت پھیلتی ہے۔اچھے افسران کھڈے لائن لگے رہتے ہیں۔جو افسرحکومت میں شامل سیاستدانوں کے جائز و ناجائز کام کرتے رہیں انہیں اچھے عہدوں پر تعینات کیا جاتا ہے۔ سرکاری کاروباری اداروں جیسے ریلوے‘ پی آئی اے وغیرہ میں سیاستدانوں نے ضرورت سے زیادہ اور میرٹ کے بغیر اتنے نالائق‘ نکمے لوگ بھرتی کیے کہ انکا بیڑہ غرق ہوگیا۔ کرپٹ سیاستدانوں اور بدعنوان سرکاری افسروں کا گٹھ جوڑہے جس نے گورننس کا ستیا ناس کردیا ہے۔ اکثر لوگوں کا خیال ہے کہ جنرل ایوب خان کے زمانہ تک پاکستان میں گورننس کے حالات اتنے خراب نہیں تھے جتنے آج ہیں۔ اُس دور کو اچھے الفاظ میں یادکیا جاتا ہے۔ یہ امن و امان اور تیز معاشی ترقی کا زمانہ سمجھا جاتا ہے۔میری رائے میںگورننس کی موجودہ اَبتر صورتحال کی ایک سے زیادہ وجوہات ہیں۔ ان میںایک بڑی وجہ انتظامی امور میں سیاسی مداخلت کا بڑھ جانا ہے۔ ایوب خان کے دور تک اس زمانہ میں انتظامیہ میں سیاستدانوں کی مداخلت بہت کم تھی۔ ضلع کا ڈپٹی کمشنر اور سپرنٹنڈنٹ پولیس طاقتور تھے۔ عام طور سے میرٹ اور قانون کی حکمرانی تھی۔ رشوت خوری کم تھی۔ اس نظام کے بخوبی چلنے کی ایک بڑی وجہ یہ تھی کہ برطانوی عہد میں میرٹ کی بنیاد پرقائم کیے جانے والا سول سروس کا نظام کام کررہا تھا۔ مقابلہ کا امتحان پاس کرکے آنے والے سی ایس پی افسر وں کو آئینی تحفظ حاصل تھا۔ حکومت میں شامل سیاستدان یا ارکانِ پارلیمان اعلی سرکاری افسروں پر دباؤ ڈالنے کی پوزیشن میں نہیں تھے۔ان سی ایس پی افسران سے یہ شکایت تو ہوسکتی تھی کہ وہ عوام سے الگ تھلگ رہتے تھے لیکن وہ عام طور سے نااہل اور کرپٹ نہیں تھے۔ان میں ایسے قابل لوگ تھے جنہوں نے نو زائیدہ پاکستان کی تعمیر کی۔ اسلام آباد اور جوہر آباد ایسے نئے شہر تعمیر کیے۔گلبرگ لاہور اور کراچی میں متعددخوبصورت رہائشی بستیاں بنائیں۔پانی کے بڑے ڈیم بنائے گئے۔ پاکستان انٹرنیشل ائیرلائینز بنائی جو دنیا کی بہترین کمرشل فضائیہ بنی۔پاکستان ائیر فورس تشکیل دی گئی۔ زیرو سے شروع ہونے والے ملک میںاتنی تیز رفتار ترقی ہوئی کہ دنیا میںاسکی مثال دی جاتی تھی۔ جنوبی کوریا‘ سنگاپور جو اب ہم سے بہت زیادہ ترقی یافتہ ہیں اسوقت پاکستان سے بہت پیچھے اور پسماندہ تھے۔ میرٹ اوراہلیت پر مبنی پاکستان کے سول سروس کے نظام کوجنرل ایوب خان کی حکومت کے بعد مسلسل کمزور کیا گیا۔ذوالفقار علی بھٹو نے سول سروس سے قانونی تحفظ چھین لیا۔سرکاری محکموںمیں سیاسی مداخلت کے دروازے کھول دیے ۔ سرکاری افسر سیاسی حکمرانوں کی خواہشات کی تعمیل کے تابع ہوگئے۔ اسکے نتائج ہمارے سامنے ہیں۔ آج کو ئی سول ادار ہ اپنا کام ٹھیک سے کرنے کے قابل نہیں۔ پہلے جومسئلہ ڈپٹی کمشنر اور سپرنٹنڈنٹ پولیس کی سطح پر حل ہوجایا کرتا تھا اب اس کو سلجھانے کے لیے وزیراعلی‘ وزیراعظم اور اعلی عدالتوں کو مداخلت کرنا پڑتی ہے۔ سویلین اداروں کی تباہی کا نتیجہ ہے کہ اب کچھ عرصہ سے چھوٹے چھوٹے مسائل کے حل کے لیے فوج طلب کرنا پڑتی ہے۔ کراچی میں امن بحال کرنے کے لیے فوجی جنرل کی قیادت میں رینجرز کو آپریشن کرنا پڑا۔کراچی کے نالوں کی صفائی کے لیے بھی فوج اور رینجرزکی نگرانی میں نیشنل ڈزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی اور فرنٹئیر ورکس آرگنائزیشن کو کام کرنا پڑا۔سوِل انتظامیہ کی حالت یہ ہے کہ گزشتہ دو سال میں سیاسی مصلحتوں کی خاطر پنجاب میںپانچ مرتبہ انسپکٹر جنرل آف پولیس تبدیل کیے گئے۔ جب تک سویلین اداروں کو سیاسی مداخلت سے پاک نہیں کیا جائے گا ملک میں گورننس کا حال خراب رہے گا۔ پاکستان کی گورننس کو بہتر بنانے کے لیے ضروری ہے کہ سول سروس کے ارکان کو وہ آئینی تحفظ دیا جائے جو اسے جنرل ایوب خان کے دور تک حاصل تھا تاکہ انتظامیہ میں بے جا سیاسی مداخلت کا راستہ بند کیا جاسکے۔ ارکان ِاسمبلی قانون بنائیں‘ منتخب حکومت پالیسی بنائے لیکن انتظامیہ کے کام کاج میں سیاسی مداخلت نہ کرے۔ سیاستدان سرکاری افسروں کی تعیناتی اور تبادلہ میںدخل اندازی نہ کریں۔ منتخب ارکان اسمبلی اور وزراء کے پاس اتنی طاقت نہیں ہونی چاہیے کہ وہ افسروں کو زبانی احکام دیکر قاعدہ قانون کی خلاف ورزی پر مجبور کرسکیں یا اپنی پسند کے کرپٹ افسروں سے گٹھ جوڑ کرکے قومی خزانہ کی لوٹ مار کرسکیں‘ اربوں‘ کھربوں کے ٹھیکے پسند کے ٹھیکیداروں کو دے سکیں۔سرکاری اداروں میں میرٹ اور قابلیت کی بنیاد پر بھرتیاں کرکے‘ اُنہیں قانون ا ور قواعد کے مطابق چلا کر قانون کی حکمرانی قائم کی جائے۔ صوبہ کے چیف سیکرٹری اور پولیس کے سربراہ انسپکٹر جنرل کے عہدوں کو آئینی عہدے بنایا جائے۔ سیاسی حکومت ایک بار جب ان عہدوں پر تقرر کردے تو تین سال تک انہیں ہٹایا نہ جاسکے۔ اگر ان پر کسی غیرقانونی کام میںملوث ہونے کا الزام ہو تو صوبائی اسمبلی دو تہائی اکثریت سے قرارداد منظور کرکے انہیں ہٹائے ۔ ہماری بقا اس میں ہے کہ جیسے پاک فوج قاعدہ‘ قانون اور نظم و ضبط کے تحت کام کرنے والا ایک موثر ادارہ ہے اسی طرح سول انتظامیہ کو بھی مضبوط اور مؤثر ادارہ بنایا جائے۔

  • آغا علی نے اہلیہ حنا سے شادی سے پہلے لئے گئے وعدے کی وضاحت دے دی

    آغا علی نے اہلیہ حنا سے شادی سے پہلے لئے گئے وعدے کی وضاحت دے دی

    پاکستان کے معروف اداکار آغا علی کا اہلیہ حنا الطاف کو شادی کے بعد موٹے نہ ہونا کا وعدہ لینے پر تنقید کا نشانہ بنانے والوں کو وضاحت دے دی-

    باغی ٹی وی : رواں سال مئی میں رمضان المبارک کے جمعۃالوداع کے دن رشتہ ازدواج میں منسلک ہونے والی پاکستانی شوبز جوڑی حنا الطاف اور آغا علی نے ٹی وی شو میں شرکت کی جس میں شادی سے قبل لئے گئے وعدوں کے حوالے سے بات چیت ہوئی۔
    https://www.instagram.com/p/CDvH7vlBCSK/?igshid=ulnfaua59z1l
    پروگرام کے دوران حنا الطاف نے انکشاف کیا کہ آغا علی نے شادی سے قبل انہیں کسی موٹی خاتون کی تصویر دکھائی اور کہا کہ اگر وہ ان جتنی موٹی ہوتیں تو وہ ان سے شادی نہیں کرتے۔

    تاہم حنا الطاف کی بات کے دوران آغا علی نے مداخلت کی اور دعوی کیا کہ انہوں نے یہ نہیں بلکہ کچھ اور کہا تھا۔

    جس کے بعد آغا علی نے انکشاف کیا کہ انہوں نے شادی سے قبل حنا الطاف سے صرف ایک ہی وعدہ لیا تھا، جس پر اداکار نے ہنستے ہوئے اہلیہ کو کہا کہ وہ کیا وعدہ تھا اب بتائیں۔

    آغا علی کے کہنے پر حنا الطاف نے ہنستے ہوئے کہا کہ شادی سے قبل شوہر نے ان سے وعدہ لیا تھا کہ وہ کبھی موٹی نہیں ہوں گی۔

    حنا الطاف نے ہنستے ہوئے بات جاری رکھی کہ اب جیسے ہی وہ کھانا کھا کر اٹھتی ہیں تو آغا علی چلتے پھرتے آہستہ سے بولتے ہیں کہ انہوں نے صرف ایک ہی وعدہ لیا تھا۔

    آغا علی نے بھی انکشاف کیا کہ حنا الطاف نے بھی ان سے ایسا ہی وعدہ لیا تھا کہ وہ بھی وزن نہیں بڑھائیں گے۔

    پروگرام کا یہ کلپ سوشل میڈیا پر وائرل ہوگیا، جس میں صارفین نے تنقید کرتے ہوئے کہا کہ آغا علی کا اپنی اہلیہ سے وزن سے متعلق لیا گیا وعدہ تضحیک آمیز ہے ۔

    سوشل میڈیا پر تنقید کا نشانہ بننے پر آغا علی نے انسٹا گرام اسٹوری میں وضاحتی پیغام جاری کیا تھا-

    آغا علی نے اپنے انسٹاگرام اکاؤنٹ پر اسٹوریز شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ میں نے اپنی اہلیہ سے کہا تھا کہ وہ غیر ضروری وزن بڑھانے سے گریز کریں کیونکہ وہ ایک اداکارہ ہیں انہیں فٹ رہنے کی ضرورت ہے۔

    انہوں نے لکھا کہ کوئی بھی پروڈیوسر اور ہدایتکار زیادہ وزن والی اداکاراؤں کو پسند نہیں کرتا ۔

    آغا علی انسٹاگرام سٹوری سکرین شاٹ
    آغا علی نے اپنے وزن کم کرنے کے حوالے سے بتایا کہ میں نے اپنا وزن کم کرنے کیلئے بہت محنت کی ہے جب میرا وزن زیادہ تھا تو میں کچھ نہیں تھا اور مجھے نظر انداز کیا جاتا تھا۔

    آغا نے تنقید کرنے والوں کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ کچھ لوگ صرف توجہ حاصل کرنے کیلئے دوسروں پر تنقید کرتے ہیں کیونکہ انہیں ویسے تو توجہ ملنی نہیں ہے۔

    اپنی ایک اور انسٹاگرام اسٹوری میں آغا علی نے تنقید کرنے والوں سے سوال کیا کہ باڈی شیمنگ ہوتی کیا ہے ؟ کیا آپ جانتے ہیں ؟ کیا کبھی کسی نے مجھے کسی کے وزن کا مذاق اڑاتے ہوئے دیکھا ہے ؟

    آغا علی انسٹاگرام سٹوری سکرین شاٹ
    آغا کامزید کہنا تھا کہ اگر کوئی ماں اپنے بیٹے کو ، کوئی بھائی یا کوئی شوہر اپنی اہلیہ کو مشورہ دے کہ غیر ضروری وزن سے پرہیز کرے تو یہ باڈی شیمنگ نہیں ہے

    ماڈل و اداکارہ آمنہ شیخ نے دوسری شادی کی تصدیق کرتے ہوئے اپنے شوہر کا تعارف کرادیا

    صبا قمر کی مسجد میں گانے کی شوٹنگ نے کس طرح میری زندگی کی سب سے اہم خوشی چھین لی

  • بھارت کے عالمی شہرت یافتہ اردو شاعر راحت اندوری کورونا وائرس کے باعث چل بسے

    بھارت کے عالمی شہرت یافتہ اردو شاعر راحت اندوری کورونا وائرس کے باعث چل بسے

    بھارت کے معروف اور عالمی شہرت یافتہ اردو شاعر راحت اندوری کورونا وائرس کے باعث چل بسے-

    باغی ٹی وی : بھارتی میڈیا کے مطابق اردو ادب کے استاد اور معروف شاعر راحت اندوری کووڈ-19 کے وارڈ میں دوران علاج دو مرتبہ دل کے دورے کے سبب خالق حقیقی سے جاملے 71 سالہ شاعر کو کورونا وائرس کا ٹیسٹ مثبت آنے پر اسپتال میں داخل کیا گیا تھا۔


    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر اپنی آخری ٹوئٹ میں راحت اندوری نے مداحوں کو کورونا ٹیسٹ مثبت آنے اور اسپتال میں داخل ہونے کی اطلاع دی، انہوں نے دعائے صحت کی اپیل کرتے ہوئے مزید لکھا تھا کہ وہ ارووبندو اسپتال میں داخل ہیں اُن کے لئے دعا کریں –

    انہوں نے لکھا تھا کہ وہ اپنی صحت سے متعلق ٹوئٹر اور فیس بُک پر ہی آگاہ کرتے رہیں گے لیکن وہ کورونا سے لڑت ہوئے جان کی بازی ہا رگئے ہیں- بھارتی میڈیا کے مطابق راحت اندوری کووڈ-19 کے وارڈ میں دوران علاج دو مرتبہ دل کے دورے کے سبب خالق حقیقی سے جاملے

    راحت اندوری کی غزلیں اور نظمیں زبان زد عام تھیں اور انہیں پاک و ہند میں یکساں مقبولیت حاصل تھی انکا یہ شعر سیاست دانوں میں کافی مقبول تھا اور انتخابی جلسوں کی رونق ہوا کرتا تھا۔

    راحت اندوری نے اردو ادب میں پی ایچ ڈی کیا تھا اور مقامی کالج میں درس تدریس سے وابستہ رہے، وہ ایک مصور بھی تھے اور شاعری کے علاوہ فلموں کے لیے گیت بھی لکھے جن میں گھاتک فلم کا نغمہ کوئی جائے تو لے آئے، میری لاکھ دعائیں پائے اور ’ منا بھائی ایم بی ایس ایس‘ کے دو نغمے بھی کافی مقبول ہوئے تھے-

    نامور شاعر کی موت پر معروف شخصیات غم کا اظہار کر رہی ہیں اور اور ان کی موت کو ایک بڑا نقصان قرار دے رہی ہیں-

    امیتابھ بچن اپنے فلمی کیرئیر کے حوالے سے پریشان

    2 دن تک زیر علاج رہنے کے بعد سنجے دت ہسپتال سے ڈسچارج