Baaghi TV

Author: عائشہ ذوالفقار

  • یوم آزادی، ایک عہد کا دن   تحریر: عشاء نعیم

    یوم آزادی، ایک عہد کا دن تحریر: عشاء نعیم

    یوم آزادی، ایک عہد کا دن
    تحریر عشاء نعیم

    تہتر سال پہلے دنیا کے نقشے پہ ایک ایسا وطن ابھرا تھا جس کے بننے سے بھی پہلے کفار کی نیندیں حرام ہو گئی تھیں اور انھوں نے اس کے معرض وجود میں آنے سے بھی پہلے سازشیں کیں اور اس کے جغرافیہ میں تبدیلی کر دی اور بہت سے اہم علاقے ڈنڈی مارتے ہوئے اس کے دشمن ملک کے حوالے کر دئیے ۔
    جن میں پنجاب کے کچھ علاقے، جونا گڑھ ،مناوادر،حیدر آباد اور سب سے اہم ریاست جسے بانی پاکستان نے شہہ رگ قرار دیا ‘کشمیر’ جس کی سرحد کہیں سے بھارت کے ساتھ نہیں لگتی تھی، صرف ایک علاقہ گورداس پور جو پاکستان کے حصے میں آیا تھا وہ بھی بھارت میں شامل کردیا ۔تاکہ بھارت بعد میں اسی راستے سے کشمیر پہ قابض ہو سکے ۔
    اور ہوا بھی وہی ستائیس اکتوبر 1947ء میں ہی بھارت نے اپنی غیر قانونی ،غیر انسانی طریقے سے، حق خودارادیت کی دھیجیاں اڑاتے ہوئے کشمیر میں اپنی فوجیں داخل کردیں ۔
    (اس کی اگلی منزل پاکستان تھا لیکن الحمداللہ پاکستان قائم و دائم ہے اور تا قیامت رہے گا ۔ان شا اللہ)۔
    لیکن کشمیریوں نے اس قبضے کو کبھی تسلیم نہیں کیا اور ہمیشہ سے وہاں نعرہ لگتا ہے "پاکستان سے رشتہ کیا لا الہ الا اللہ "۔
    "تیری جان میری جان ،پاکستان پاکستان، حافظ سعید سے رشتہ کیا لا الہ الا اللہ "۔ہم پاکستانی ہیں پاکستان ہمارا ہے”۔
    کشمیریوں کے معاملہ جب اقوام متحدہ میں پہنچا تو وہاں فیصلہ کیا گیا کشمیری اپنا فیصلہ ایک ریفرنڈم کے ذریعے خود کریں گے کہ وہ کس ملک کے ساتھ رہنا چاہتے ہیں، جسے بھارت نے بھی تسلیم کیا ۔
    لیکن چونکہ بھارت جانتا ہے کشمیریوں کا فیصلہ کیا ہے کشمیریوں پہ ظلم و ستم ، لالچ کرفیو ،ہر قسم کا ہتھیار ناکام ثابت ہو گیا ہے ان کا ہر جنازہ جو بھارت فوج کے ہاتھوں شہادت کے نتیجے میں نکلتا ہے ،پاکستان کے پرچم میں لپٹا،
    کشمیریوں کے ہاتھوں میں پاکستان کے پرچم اور ایک جم غفیر کے لبوں پہ ‘ ہے حق ہمارا آزادی، پاکستان سے رشتہ کیا لا الہ الا اللہ ، کشمیریوں کا فیصلہ سناتا ہے۔
    اسی پاکستان نے اور پاکستانیوں نے بھی ہمیشہ کشمیر کو اپنا حصہ اور اپنا حق سمجھا ہے ۔اور ان کی جدوجہد آزادی کی ہر طرح سے حمایت کی ہے ۔کیونکہ قائد اعظم نے اپنی موت سے چند روزقبل فرمایا تھا
    ’’ کشمیر سیاسی اور قومی اعتبار سے پاکستان کی شہ رگ ہے۔کوئی خود دار ملک اور قوم یہ برداشت نہیں کرسکتی کہ اپنی شہ رگ کو دشمن کی تلوار کے حوالے کر دے”۔
    وقت کے ساتھ پاکستان کشمیر کے متعلق پالیسی کبھی جارحانہ اور کبھی کمزور لگی ۔کسی حکومت کے دور میں لگا مسلہ کشمیر دبا دیا گیا ہے تو کبھی محسوس ہوا یہ حکومت آزاد کروا کر ہی دم لے گی ۔
    موجودہ حکومت بھی شروع میں کشمیر کے معاملے میں بہت پرجوش نظر آئی لیکن جب پانچ اگست 2019 ء جب بھارت نے کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کی تو اس وقت قوم منتظر تھی کہ پاکستان اپنی فوجیں کشمیر میں اتار دے گا لیکن ایسا کچھ ہوتا نظر نہ آیا قوم کی نظریں لگی رہیں۔،لیکن پالیسی کچھ اور نظر آئی کیوں کہ پانچ اگست سے پہلے ہی پاکستان کی ایک بہت بڑی اور کشمیریوں کی حمایتی جماعت جماعت الدعوہ کو کالعدم قرار دیا جا چکا تھا اور اب مزید ان پہ الزامات کے ساتھ ساتھ (جو پہلے بھارت لگاتا تھا ) سزائیں بھی سنائی جانے لگیں ۔یہ جماعت جسے اقوام متحدہ نے بھی تسلیم کیا تھا کہ یہ ایک فلاحی جماعت ہے لیکن کشمیریوں کے حق میں بھی بولتی تھی سو اسے پابند کرنے کا صاف مطلب تھا کہ پاکستان میں کشمیریوں کی آواز کو پابند کرنا۔۔۔۔۔اور بہت سے صحافی و دیگر طبقے کے لوگ بھی کہتے ہیں جب کشمیریوں کی آواز حافظ سعید کو پابند کرتے ہو تو کشمیر کی آزادی کی حمایت کیسی ؟
    لیکن وقت مزید آگے بڑھا تو ایک خوش آئند اعلان ہوا کشمیر کی تحریک آزادی کے روح رواں سید علی گیلانی صاحب کو نشان پاکستان دینے کا اعلان ہوا ،جس سے اندھیرے میں کچھ روشنی ہونے کا امکان نظر آیا ۔
    لیکن اس کے بعد پھر خاموشی اور اب اچانک پاکستان نے کشمیر کا نقشہ اپنے نقشے میں شامل کرلیا ہے اور آفیشلی جاری کرنے کے ساتھ اعلان ہوا ہے کہ اسے اقوام متحدہ سے منظور کروایا جائے گا ۔
    یہ انتہائی خوش کن اعلان ہے ۔
    اس سے قوم کی بہت سی امیدیں وابستہ ہیں کیونکہ اگر حکومت پاکستان یہ نقشہ اقوام متحدہ میں اپروو کروانے میں کامیاب ہو جاتی ہے تو پاکستان کے لیے کشمیر کا حصول آسان ہو جائے گا ۔
    لیکن مسلہ یہ ہے کیا اقوام متحدہ جو تہتر سال سے اس مسلے پہ چند ایک جملے بولنے اور سننے کے علا وہ خاموشی اختیار کیے ہوئے ہے ،واقعی اس نقشے کو تسلیم کر لے گی ؟
    اقوام متحدہ جو ایک(غیر مسلم ) انسان کے لیے تڑپ اٹھتی ہے ،جو سوڈان میں تو ایک سال کے اندر اندر عیسائیوں کی الگ ریاست قائم کروادیتی ہے کیا کشمیریوں کے بہتے خون کو روکنے کے لیے کیے جانے والے اس اقدام کی حمایت کرے گی ؟
    یا موجودہ حکومت یہ سب کر کے صرف قوم کے دماغ ٹھنڈے کرنا چاہتی ہے ؟
    میرے سوالوں کے جواب یقینا کسی کے پاس نہیں بلکہ یہ وقت کے پاس ہیں اور وقت ہی دے گا ۔
    پاکستان کو بنے تہتر سال ہو گئے ہیں لیکن یہ ابھی بھی مکمل نہیں ہے کیونکہ شہہ رگ کے بغیر کوئی وجود قائم نہیں رہ سکتا ہے اور ہماری شہہ رگ پہ دشمن قابض ہے دشمن سے اپنی شہہ رگ کو ہر صورت چھڑوانا ہوگا ۔
    تاکہ تکمیل پاکستان ہو سکے ۔
    ابھی تکمیل باقی ہے
    ابھی کشمیر باقی ہے
    سن اے دشمن ہم لوٹیں گے
    تیری طرف ابھی ہماری جاگیر باقی ہے

  • آزادی، ایک جذبہ، ایک جنون   تحریر:محمد نعیم شہزاد

    آزادی، ایک جذبہ، ایک جنون تحریر:محمد نعیم شہزاد

    آزادی، ایک جذبہ، ایک جنون
    محمد نعیم شہزاد

    آزادی نام ہے ایک جذبے کا، ایک لگن ہے جو قلب و روح کو مضطرب رکھتی ہے اور جابر کے سامنے کلمہ حق بیان کرنے کی تڑپ پیدا کرتی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ جنگ اور پیار میں سب جائز ہے۔ آزادی جنگ اور پیار دونوں کے جذبات کا دلنشین مرکب ہے، یہ محبت ہے اپنے وطن کی، یہ جنگ ہے باطل کو مٹانے کی اور اپنے وطن کا پھریرا لہرانے کی۔ یہ جذبہ سب جذبات پر غالب ہے اور وطن کی محبت تمام محبتوں پر حاوی ہے۔ آزادی متاعِ عزیز ہے مگر اس کے حصول کے لیے کس چیز کی ضرورت ہے؟ غور کریں تو معلوم ہو گا کہ آزادی کے لیے سچے جذبے اور لگن کے سوا کسی چیز کی ضرورت نہیں ہے۔
    یہ لگن ہی ہے جو اپنا آپ بھلا دیتی ہے اور صرف آزاد فضاؤں میں بسنے کی تمنا بے چین رکھتی ہے۔ دن، رات ایک ہی لگن میں مگن آزادی کے پروانے جان تک دینے سے دریغ نہیں کرتے اور اپنے خون سے آزادی کی داستان کو امر کر دیتے ہیں ۔

    لہو وطن کے شہیدوں کا رنگ لایا ہے

    اچھل رہا ہے زمانے میں نام آزادی

    مملکت خداداد پاکستان آزادی کے 73 ویں جشن کی تیاری میں ہے۔ یہ وہی ریاست ہے جس کے بارے میں کہا گیا کہ پاکستان بن تو گیا ہے مگر قائم نہ رہ سکے گا۔ تحریک آزادی پاکستان کے راہنما محمد علی جناح کے الفاظ آج بھی کان میں گونجتے ہیں کہ کوئی طاقت بھی پاکستان کو ختم نہیں کر سکتی اور ہم اپنی آنکھوں سے اس عظیم قائد کی بصیرت کا مشاہدہ کرتے ہیں۔
    وسائل کی کمی کے باوجود، جان و مال کے نقصان کے بعد لٹے پھٹے کارواں کو آزاد وطن میں آباد کر کے اس عظیم شخص نے اسی جذبہ حریت کے تحت یہ الفاظ ادا کیے جن کی صداقت پر آج دنیا شاہد ہے۔ اس عالیشان جذبہ کی بنیاد دو قومی نظریہ پر استوار تھی۔ یہ ایک ایسی مضبوط بنیاد ہے جس پر تعمیر وطن ممکن ہوئی۔ جذبوں کی صداقت کو ایک شاعر نے ان الفاظ میں بیان کیا ہے

    سرفروشی کی تمنا اب ہمارے دل میں ہے

    دیکھنا ہے زور کتنا بازوئے قاتل میں ہے

    آزادی کے 73 برسوں میں ارض وطن نے مختلف موسموں کے رنگ دیکھے۔ سیاسی اکھاڑ پچھاڑ، طاقت اور اختیار کے حصول کی جنگ، اقرباء پروری، بددیانتی اس ملک کے لیے ناسور بنی رہی اور اس کی ترقی کی راہ میں حائل رہی مگر ارض پاکستان نے خدائے ذوالجلال کی رحمت و عنایت سے وہ کمال پایا جو کسی اور کو حاصل نہ ہوا۔ آج بڑی بڑی طاقتیں پاکستان سے دوستی کی خواہاں ہیں اور پاکستان سے اچھے تعلقات بنانا چاہتی ہیں۔ پاکستان کے ساتھ دفاعی اور تجارتی معاہدے کیے جاتے ہیں۔ قدرت نے پاکستان کو گوادر پورٹ کی شکل میں ایک عظیم الشان انعام سے نوازا ہے۔ اور ریاست پاکستان اپنے وجود کو برقرار رکھے ہوئے ہے جس پر جتنا شکر ادا کیا جائے کم ہے مگر اک کسک باقی ہے، پاکستان تقسیم ہند کے فارمولے اور نظریہ پاکستان کے مطابق ابھی اپنے وجود کی تکمیل کا منتظر ہے۔ کشمیر جنت نظیر پر جابر بھارت قابض ہے اور ہر ستم روا رکھے ہوئے ہیں۔ 5 اگست 2019 کو آئینی ترمیم کے ذریعے کشمیر کی الگ حیثیت کا انکار کرتے ہوئے اسے اپنا اٹوٹ انگ ظاہر کیے ہوئے ہے۔ اس انگ بے رنگ کا ٹوٹنا ہے اچھا جس کا وجود زمانے بھر کے لیے سوائے تباہی و بربادی کے اور کچھ معنی نہیں رکھتا۔ 73 برسوں میں تحریک آزادی کشمیر نےبھی کئی اتار چڑھاؤ دیکھے، ہواؤں کے بدلتے رخ، اپنے بیگانوں کی کج ادائی اور حقوق انسانی کی تنظیموں کی سماعت سے محرومی عام رہی مگر جب نوجوان آزادی کے جذبے سے معمور ہوں اور زبان حال سے کہہ رہے ہوں

    دل سے نکلے گی نہ مر کر بھی وطن کی الفت

    میری مٹی سے بھی خوشبوئے وفا آئے گی

    تو ان کے جذبوں کو مات نہیں دی جا سکتی۔ سال بھر سے وادی جنت نظیر میں بدترین لاک ڈاؤن ہے، ذرائع مواصلات بند ہیں، مگر دنیا میں بھارتی دہشت گردی کی بازگشت گونجتی ہے۔ کشمیری حریت رہنماؤں سے دنیا اظہار ہمدردی کرتی ہے اور ان کو ہیرو مانتی ہے۔ راستے کھل رہے ہیں، منزل نظر آ رہی ہے پاکستان نے اپنا نیا نقشہ جاری کر کے بھارت کے اٹوٹ انگ کا نظریہ توڑ دیا ہے شاہراہ کشمیر کا نام بدل کر

    کیا کرشمہ ہے مرے جذبۂ آزادی کا

    تھی جو دیوار کبھی اب ہے وہ در کی صورت

    دیواریں گر رہی ہیں، راستے کھل رہے ہیں اور انقلاب برپا ہوتا نظر آ رہا ہے۔ زمانہ تیزی سے تبدیلی کی طرف گامزن ہے۔

    یہ کہہ رہی ہے اشاروں میں گردش گردوں

    کہ جلد ہم کوئی سخت انقلاب دیکھیں گے

    در و دیوار آزادی کے نغموں سے گونج رہے ہیں، فضائیں معطر ہیں افق سے آزادی کا سورج طلوع ہوا چاہتا ہے مگر ہم ہزیمت کا شکار کیوں ہیں، کیوں اپنے وطن کے محبان کو پابند سلاسل کرتے ہیں۔ اغیار تو جان کے دشمن تھے ہی اپنے تو بیگانوں جیسی روش پر نہ اتریں ۔ چمن میں بہار کی آمد ہے مگر نغمہ سرا بلبلیں پنجروں میں بند ہیں۔ کشمیر میں روز اٹھتے لاشوں کو دیکھنے سے محروم بصارتوں کو وطن پرستی جرم نظر آتی ہے۔ وقت بدل جاتا ہے مگر انسانی رویے یاد رکھے جاتے ہیں۔ محسنین کی جگہ زندان نہیں بلکہ ان کا مسکن آزاد وطن کی آزاد فضائیں ہیں۔ آزادی کے متوالوں کی آزادی بحال کی جائے اور ملکی ترقی میں اپنا حصہ شامل کرنے دیا جائے۔ وہ دن دور نہیں ہے جب ہم حقیقی اور مکمل آزادی کا سورج دیکھیں گے۔

    نہ ہوگا رائیگاں خون شہیدان وطن ہرگز

    یہی سرخی بنے گی ایک دن عنوان آزادی

  • یوم آزادی پاکستان اور کشمیر کا بدلتا منظر نامہ تحریر: جویریہ بتول

    یوم آزادی پاکستان اور کشمیر کا بدلتا منظر نامہ تحریر: جویریہ بتول

    یوم آزادی پاکستان اور کشمیر کا بدلتا منظر نامہ
    جویریہ بتول

    یومِ آزادی قریب ہے اور دل میں مچلتا شکر کا اک سمندر ہے…
    جذبات کے دریا کے دھارے ہیں تو آنکھوں میں تشکر کے آنسو…
    کہ آزادی کتنی عظیم نعمت ہے اور اس کے لیئے آگ و خون کے کتنے صحرا و دریا طے کرنا پڑتے ہیں…؟
    گزشتہ یومِ آزادی سے اس یومِ آزادی تک کا عرصہ ایک درد کی کیفیت میں گزرتا رہا ہے…
    کشمیر میں کرفیو کے بعد پاکستان اور اہلیانِ پاکستان کو ایک عجب سی بے کلی اور اضطراب کا سامنا رہا ہے اور انسانیت کی اس پامالی پر ہر فورم پر مناسب آواز بلند کی جاتی رہی ہے…
    جوں جوں یومِ آزادی قریب آتا ہے تو اس دل کی دھڑکنیں مذید تیز ہونے لگتی ہیں اور بانیانِ پاکستان کی دور اندیشی اور تدبر کو سلامِ عقیدت کھل کر پیش کرنے کو جی چاہتا ہے کہ جنہوں نے یہ ناؤ دوہری دشمنی کے گرداب سے نکال کر ساحل تک پہنچائی اور آج ہم ایک آزاد وطن کے باسی اور آزاد فضاؤں میں سانسیں لے رہے ہیں…
    حبس کی اس رُت میں یومِ آزادی سے قبل ایک ٹھنڈا جھونکا یہ ہے کہ وطنِ عزیز پاکستان نے مقصدِ قیام پاکستان کے عین مطابق ایک نقشہ جاری کیا ہے جس میں مقبوضہ کشمیر کو پاکستان کا حصہ دکھایا گیا ہے،جو جہدوجہد آزادئ کشمیر کو ایک نیا رنگ اور نیا موڑ فراہم کرنا ہے…
    اگرچہ مہذب دنیا نے اس سنجیدہ مسئلہ سے مکمل آنکھیں موڑ رکھی ہیں لیکن پاکستان نے کشمیریوں کو تنہائی کا احساس کبھی نہیں ہونے دیا…
    یہ جدید دور کی جدید پالیسیاں ہیں جنہیں دشمن کے عزائم کے جواب کے لیئے بطورِ ہتھیار استعمال کیا جاتا ہے۔
    پاکستانی قوم کے ساتھ اب حکومتی سطح پر یہ اقدامات بلاشبہ لائقِ تحسین ہیں اور مظلوموں کے رِستے زخموں پر مرہم کی ایک کوشش بھی…
    تحریکِ آزادئ کشمیر کے بزرگ رہنما سید علی گیلانی کے لیئے نشانِ پاکستان کا اعلان بھی ان کی پاکستان سے اٹوٹ انگ محبت کا اعتراف ہے جسے سراہا جانا چاہیئے…
    یہ تو سچ ہے کہ آزادی اور قید برابر نہیں ہیں،پنجرہ اگر سونے کا بھی ہو تو وہ آزادی کا نعم البدل نہیں ہو سکتا…
    اسی کے لیئے ایک سفر کا آغاز ہوا تھا جو پاکستان کی شکل میں تعبیر سے ہمکنار ہوا،
    اور تشکیلِ پاکستان سے تکمیلِ پاکستان کا یہ سفر کشمیر کے گلی کوچوں میں جیوے جیوے پاکستان اور پاکستان زندہ باد کی شکل میں آج بھی جاری ہے…
    اس راہ کے مسافروں نے سفر کی ہر صعوبت کو برداشت کر کے بھی اس سفر کی روانی کو زندہ رکھا ہے…!!!
    اپنے کیریئر،کاوبار اور نسلیں قربان کر کے اس سفر کو لہو کے چراغوں سے روشنی بخشی ہے، تو یومِ آزادی کے اس پر مسرت موقع پر ان کی آزادی کی خواہش کی تکمیل کے لیئے دل سے نکلتی دعائیں ہیں اور عالمی انسانیت کی رکھوالی کے دعویداروں کے کردار پر افسوس بھی…
    حب الوطنی ایک ایسا جذبہ ہے جو زبردستی پیدا نہیں ہوتا بلکہ یہ ایک انسان کے دل اور سوچ کی عکاسی کرتا ہے اور وہ وطن کی مٹی سے محبت اپنی سانسوں کا حصہ بنا لیتا ہے اور پھر اگر اسے جُرم بھی کہا جائے تو اسے اپنے حسابوں میں رکھنا فخر بن جاتا ہے…
    بلاشبہ ایسے لوگ قوم کے عسر و یسر کے لمحات میں ایک سرمایہ کی حیثیت رکھتے ہیں،ان کی قدر دانی اور ان کا پیغام دنیا تک پہنچانا کشمیر کی تحریکِ آزادی کی مضبوطی ثابت ہو سکتی ہے۔
    ہمیں محب وطن لوگوں کی قدر کرتے ہوئے پاکستان کے وقار،اس کے سبز ہلالی پرچم کی سر بلندی اور تعمیر و ترقی کے لیئے مل کر کردار ادا کرنا اور آگے بڑھنا ہو گا کہ کسی بھی قوم کی مضبوطی اور کامیابی کے یہی معیار ہیں…!!!
    سفرِ خونچکاں کی یہ داستان آزاد پاکستان ہم سب کا مان،شان اور آن ہے…!!!
    یہ پاک وطن ہے آن ہماری…
    اس کے دم سے ہے شان ہماری…
    اس کے دم سے قائم ہیں…
    یہ دل اور جان ہماری…
    لاکھوں جانیں لٹا کر پائی…
    یہ دھرتی مثلِ گلستان ہماری…
    اس کا درد ہے اپنا درد…
    اس کی خوشی پہچان ہماری…
    ہر مشکل سے ٹکرائیں گے ہم…
    اس کی پکار ہے زبان ہماری…
    ہر اک میلی نگاہ پھُوٹے گی…
    ہرائے گی ہمیں نہ تھکان ہماری…
    اس کے محافظوں کے دم قدم سے…
    سوتی ہے قوم با امان ہماری…
    نہ در آسکےگا کوئی روزنِ دیوار سے…
    ہے حصار کی عمارت عالیشان ہماری…
    عدو نے قوت پہ بھروسہ کیا تھا…
    خاصیت تھی لیکن جذبۂ ایمان ہماری…
    یہ پاک وطن ہے آن ہماری…
    اس کے دم سے ہے شان ہماری…
    بلاشبہ آزادی بہت بڑی نعمت ہے اور یہ بے مول تو نہیں ملا کرتی…تاریخِ قیام پاکستان اس کی سب سے بڑی گواہ ہے۔
    دعا ہے مرا وطن سلامت تا قیامت رہے…آمین
    قوم کو یومِ آزادی مبارک…!!!

  • آزادی کی گونج   تحریر:منہال زاہد سخی

    آزادی کی گونج تحریر:منہال زاہد سخی

    آزادی کی گونج
    منہال زاہد سخی

    وہ قلم اٹھانا چاہتا تھا لیکن اس کے ہاتھ کپکپا رہے تھے یا قلم میں روشنائی نہیں تھی یا اس کے ہاتھ سطریں لکھنے سے قاصر تھا ۔ اس کا دل اسے پکار رہا تھا لکھ دے لیکن اس کا دماغ اس کا ساتھ نہیں دے رہا تھا ۔ اسے یوں محسوس ہورہا تھا کہ پچھلے دور کی شہنائیاں پھر کبھی نہیں بجیں گی ۔ لیکن وہ اک بات سے بے خبر تھا کہ شہنائیاں بجیں گی ضرور لیکن کسی اور کے ہاتھوں سے ۔ ہاں وہ لکھنا چاہتا تھا ایک ایسی شخصیت کو جسے دنیا نے خود لکھ دیا تھا ۔ اس کی آنکھیں بھیگی ہوئی تھیں ۔ وہ اٹھا اور کمرے میں روشنی کرتی ڈیجیٹل شمع کو بجھا دیا ۔ اور خوب رونے لگا ۔ اس کی ہچکی بند گئی اس کی چھوٹی سی داڑھی بھیگ چکی تھی ۔ آنسو اس کی قمیض کو تر کر رہے تھے ۔ وہ اس شخصیت کا ادنیٰ سا غلام تھا اور ساری عمر غلامی میں جینا چاہتا تھا ۔

    اس کی آنکھوں کے بہتے آنسوؤں میں اس اک شخصیت کے ماضی کا عکس تھا ۔ اس کی یاد گیلی پلکوں میں نقش تھی ۔ کمرے کے ویران سے ماحول سے اسے اس کی آواز اپنی سماعتوں سے ٹکراتی محسوس ہوئی ۔ اس کا ذہن یہ تسلیم نہیں کر رہا تھا کیوں اک بے گناہ کو سزا دی گئی ہے کیوں اس پر مقدمات کی بھرمار ہے ۔ وہ خود سے کہنے لگا سب کچھ حقیقت ہو سکتا ہے لیکن اس ایک کے ساتھ زیادتی ہے ۔ اس کے سوچوں میں پھر کچھ الفاظ اور جملے گونجنے لگے ۔ سال 2017 کشمیر کے نام ۔ سال 2018 بھی کشمیر کے نام ۔ وہ تو محض اک اعلان تھا لیکن اس کی ساری زندگی قائد اعظم کی بتلائی گئی پاکستان کی شہہ رگ کی خاطر وقف تھی ۔ اس کی مکمل زندگی اس مادر ملت کے دفاع کیلئے گزری ۔ اس کی شخصیت ایسی کہ ہر شخص اس کی عزت کرنے پر مجبور ہو جاتا تھا ۔ اس کا رعب ایسا کہ دشمن نام سن کر کانپنے لگتے ۔ اس کا نام اتنا عزت دار کہ کشمیر کی وادیوں میں ہتھیار بم اور دھماکوں کی گونج میں گونجتا تھا ۔ اس کا کردار ایسا کہ ہر شہید کے جنازے پر اس کے نعرے گونجتے ۔ شہداء کی خواہش آخر ہوتی کہ اس سے مل کر اس کی آواز سن کر جام شہادت نوش کروں ۔ اس کے ذہن میں خاکہ بنتا چلا گیا ۔ اس کی پکار اس کی سماعتوں سے ٹکرا کر اسے جھنجھوڑ رہی تھی ۔ اس نے قلم پھینکا ڈائری بند کی اور پورے گھر کو روشن کرتا ہوا باہر نکل چکا ۔ وہ چل رہا تھا بوجھل قدموں سے اس کا بدن اسے آگے بڑھنے کا کہہ رہا تھا لیکن اس کے بوجھل قدموں میں جان نہیں تھی ۔ وہ بار بار اپنے بازو کو اوپر کر کے آنکھیں اور ناک صاف کرتا ۔ لیکن پھر کچھ دیر بعد آنسوؤں کی جھڑی لگ جاتی ۔ اور وہ بار بار یہ عمل دہرانے پر مجبور ہو جاتا ۔

    اس نے وطن عزیز کے 72 برس سامراج کی قید پر نظر دوڑائی تو اسے وجود بے قابو ہوتا دکھائی دیا ۔ پھر سے اس کے خیالات اس کے ذہن میں نہیں اس کے پورے بدن میں گردش کر رہے تھے ۔ آج 5 اگست 2020 تھا اور بنیے کے کرفیو کو کشمیر میں اک سال ہوگیا تھا ۔ اس کے ذہن میں بار بار اک خیال چمک رہا تھا اگر وہ آج آزاد ہوتا تو کوئی کراچی سے اسلام آباد کشمیر مارچ ہوتا ۔ اس کے ذہن میں لاہور سے اسلام آباد کا مارچ گردش کر رہا تھا ۔ اس کے آنسو کم ہوگئے تھے پر رکے نہیں تھے وہ چلتا جا رہا تھا اچانک اس کی نظر ڈیجیٹل بینرز پر پڑتی ہے جو کشمیری رہنماؤں کا عکس پیش کرتے ہوئے اسلام آباد کی دیواروں پر آویزاں تھے ۔ وہ اک دفعہ تو سوچنے پر مجبور ہوگیا کیا یہ وہ ہی پاکستان ہے ۔ کیا پاکستان کی قیادت کے تخت پر مخلص لوگ براجمان ہوگئے ہیں ۔ اسے پورے اسلام آباد میں یہ ہی نظر آیا ۔ وہ سب کچھ بھول چکا تھا ۔ دھیرے دھیرے اسے ساری بات سمجھ آنا شروع ہوگئی تھی ۔ وہ گھر کی جانب تیز تیز قدم چل پڑا ۔ اسے سوشل میڈیا استعمال کئے کافی وقت بیت چکا تھا ۔ وہ گھر پہنچا وائی فائی کا بٹن دبایا ۔ موبائل جیب سے نکالا اس کے موبائل پر کوئی پاسورڈ نہیں تھا ۔ اس نے موبائل کھولا فیسبک لاگن کی تو پہلی پوسٹ دیکھ کر حیران ہوگیا ۔ کہ حکومت نے پاکستان کے نقشے کو مقبوضہ کشمیر کے ساتھ مکمل کرلیا ہے ۔ اور وہ نقشہ اقوام متحدہ میں پیش ہوگا اسے یقین نہیں آیا ۔ وہ فیسبک کی نیوز فیڈ دیکھتا گیا ۔ اور آگے کیا دیکھتا ہے برطانوی پارلیمنٹ کی دیوار پر آویزاں ڈیجیٹل بینر کشمیر کیلئے حق کی آواز بلند کر رہا ہے ۔ وہ پوسٹ پڑھتا گیا اور کیا دیکھتا ہے کراچی بین الاقوامی ہوائی اڈہ کشمیری رہنماؤں اور کشمیر کے حق میں لگے بینرز سے سجا ہوا ہے ۔ اس نے پڑھا کی سید علی گیلانی کو نشان پاکستان سے نوازا جائے گا ۔ وہ پوسٹ پڑھتا گیا ایک پوسٹ پر آکر وہ رک گیا ۔ وزیر اعظم کے آفیشل فیسبک پیج مجاہد گیلانی خطاب کرتے نظر آئے ۔ بہت کچھ ایسا اس کی بصارتوں سے ٹکرایا ۔ اس پر سکتہ طاری ہوچکا تھا ۔ وہ بہت کچھ اپنے قلم کی نوک کے نذر کرنے کیلئے جمع کر چکا تھا اس کے خیالات اس کے قلم پر مضبوط گرفت کر رہے تھے ۔ قلم میں جان آگئی تھی لیکن اس کے بدن پر سکتہ طاری تھا ۔

    وہ سمجھ گیا تھا کہ کس شخصیت کی آج آواز گونج رہی ہے ۔ وہ پر سکون تھا اس کی مکمل تھکاوٹ کسی اجنبی راستے کی مسافر بن چکی تھی ۔ وہ اپنے خیالات کی دنیا میں گم ہو چکا تھا ۔ کوئی اسے اس خیالات سے نکالنے کیلئے موجود نہ تھا ۔ اچانک ڈیجیٹل شمع بجھ گئی اسے پنکھے کی ہوا آنا ختم ہوگئی ۔ اور اسی لمحے وہ وہ اپنے خیالات کے محور سے نکل چکا تھا ۔ وہ اٹھا اس کے قدموں میں جان آگئی تھی ۔ وہ وضو کرنے کیلئے چل پڑا ۔ وضو مکمل کرکے اس نے دو رکعت نماز ادا کی اور دونوں ہاتھ بلند کر کے اس ایک شخصیت کیلئے دعا مانگنا شروع کردی اس کی آنکھیں پھر بھیگ چکی تھیں ۔ اور اس کے لبوں سے دعا نکل رہی تھی اے اللہ اس شخصیت کو سلامت رکھنا اس کی حفاظت فرمانا اس کی عمر میں اضافہ فرما ۔ اور نجانے کس لمحے دعا مانگتے مانگتے اس کی آنکھ لگ گئی ۔ اس کو معلوم ہوچکا تھا ماضی کی شہنائیاں بج رہی ہیں لیکن کسی اور کے ہاتھوں سے ۔ اسے معلوم ہوچکا تھا اس ایک شخص کی آواز ہزاروں سال گونجے گی ۔ (آمین)

  • یوم پاکستان اور تحریک آزادئ کشمیر  تحریر:صالح عبداللہ جتوئی

    یوم پاکستان اور تحریک آزادئ کشمیر تحریر:صالح عبداللہ جتوئی

    یوم پاکستان اور تحریک آزادئ کشمیر

    صالح عبداللہ جتوئی

    پاکستان ایسی ریاست ہے جس کا قیام اسلامی اصولوں کی بنیاد پہ وجود میں آیا جس کا مقصد اسلامی روایات کی پاسداری کرنا اور تمام مسلمانوں اور غیر مسلموں کو حقوق کا تحفظ کرنا تھا تاکہ تمام مذاہب کے لوگ آزادانہ طور پر اپنی عبادت گاہوں میں عبادت کر سکیں اور اس کے لیے ہمارے آباؤ اجداد نے بہت زیادہ قربانیاں پیش کیں اور اس گلشن کو اپنے خون سے سینچ دیا لیکن تحریک آزادی میں ذرا بھی خلل نہیں آیا اور ہمارے بزرگوں کی قربانیوں اور محنتوں کی بدولت 14 اگست 1947 کو پاکستان وجود میں آ گیا لیکن بدقسمتی سے شہ رگ پاکستان کشمیر پہ بھارتی ظالم افواج نے زبردستی قبضہ جما لیا اور ان پہ طرح طرح کے مظالم ڈھانا شروع کر دئیے اور طاقت کے استعمال سے کشمیر کو اپنے ساتھ ملانے طرح طرح کے اوچھے ہتھکنڈے اپنانا شروع لر دیے لیکن کشمیری ان مظالم پہ بالکل بھی نہ جھکے بلکہ ان کے آگے آہنی دیوار بن گئے اور ظلم کے خلاف ہتھیار اٹھا لئے جس کے نتیجے میں وہ آزاد کشمیر حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئے اور اس سرگرم تحریک کو دیکھ کے بھارت گھبرا گیا اور مجاہدین کو روکنے کے لیے اقوام متحدہ کے آگے گڑگڑانے لگ گیا اور یقین دہانی کروائی کہ ہم اس مسئلے کو ریفرنڈم کے ذریعے حل کریں گے اس لیے آپ ہتھیاروں کا استعمال نہ کریں اور اس بات پہ کشمیریوں نے سمجھوتہ کر لیا تاکہ مسئلہ خوش اسلوبی سے حل ہو سکے لیکن انہیں یہ ڈر تھا کہ اگر یہاں پہ ریفرنڈم ہوا تو کشمیر ہاتھ سے نکل جاۓ گا اس لیے انہوں نے کشمیریوں کے ساتھ دھوکہ کیا اور اس خطے کے مسئلہ کو سلجھانے کی بجاۓ متنازعہ بنا دیا اور تب سے لے کر آج تک اقوام متحدہ کی گونگی زبان کو کوئی ہلا نہیں سکا اور اس نتیجے میں کئی کشمیری عورتیں بزرگ جوان اور بچے اپنی جانیں اور عصمتیں گنوا چکے ہیں کبھی ان پہ پیلٹ گنوں کا استعمال کر کے ان کو نابینا کیا جاتا ہے تو کبھی ان کی نسل کشی کرنے کے لیے نوجوانوں کا قتل عام کیا جاتا ہے تو کبھی معصوم عورتوں کی عصمت دری کی جاتی ہے اور بوڑھوں تک کو مارا پیٹا جاتا ہے لیکن سلام ہے ان کشمیریوں کو جنہوں نے لاکھوں جانوں کے نذرانوں کے باوجود پاکستان کا پرچم ہی لہرایا ہے اور اسی میں دفن ہوۓ ہیں۔
    اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جو کشمیر پاکستان پاکستان کا نعرہ لگاتے نہیں تھکتا اس کے لیے ہم نے کیا رویہ رکھا اور ان کے لیے کیا کیا؟

    تقریباً پون صدی سے شہ رگ پاکستان پنجہ استبداد میں ہونے کی وجہ سے ظلم و ستم کا شکار ہے اور اس حوالے سے کئی حکومتوں کا ایجنڈا آزادئ کشمیر تھا اور کئی حکومتوں کا کام اس مسئلہ کو صرف اور صرف الجھانا ہی تھا جس کی وجہ سے کشمیریوں کو بہت زیادہ نقصانات کا سامنا بھی ہوا لیکن وہ پھر بھی ثابت قدم رہے یہاں تک کے جواں سالہ حریت رہنما جیلوں میں پڑے بوڑھے ہو گئے اور ان کا جرم تک ثابت نہیں ہو پایا لیکن ان کا ایک ہی نعرہ تھا ہے اور رہے گا کشمیر بنے گا پاکستان۔

    نظریہ پاکستان اور کشمیر پہ ہونے والے ظلم و ستم پہ پاکستان اور کشمیر کے دلوں کی دھڑکن حافظ محمد سعید اور اس کی فلاحی تنظیم کو بیرونی طاقتوں کو خوش کرنے کے لیے بین کر دیا جاتا ہے اور حافظ محمد سعید کو بلا وجہ پابند سلاسل کر دیا جاتا ہے جو کہ کشمیریوں کے ساتھ غداری کرنے کے مترادف ہے لیکن دوسری طرف عمران خان صاحب کی حکومت نے جب سے اقتدار سنبھالا ہے کشمیر کے حوالے سے ان کا دوٹوک مؤقف ہے کہ کشمیر پہ ہونے والے مظالم کو اقوام متحدہ میں پیش کیا جاۓ اور ان کا مقدمہ بھرپور طریقے سے لڑا جاۓ اور انہیں یادہانی کروائی جاۓ کہ پون صدی سے جس مسئلہ کو پس پشت ڈالا گیا ہے اب اس کو حل کرنے کا وقت آن پہنچا ہے اب مزید کشمیری نوجوان ان کے ظلم کی بھینٹ نہیں چڑھنے دیا جاۓ گا لیکن بوکھلاہٹ کے شکار بھارت نے 5 اگست 2019 کو آرٹیکل 370 کا خاتمہ کر کے مقبوضہ کشمیر میں کرفیو نافذ کر دیا اور ظلم و تشدد کا بازار گرم کر دیا اور اگلے ہی ماہ عمران خان صاحب نے جنرل اسمبلی سے خطاب کرتے ہوۓ بھرپور طریقے سے مظلوم کشمیریوں کی وکالت کی اور بھارت کے ناپاک عزائم سے باخبر کیا اور اینٹ کا جواب پتھر سے دینے کا اعلان کر دیا اور یہ پاکستانی تاریخ میں شاید پہلی بار ہوا تھا کہ کوئی وزیراعظم اس طرح کھل کے کشمیر کے حق میں اور بھارتی مظالم کے خلاف بول رہا تھا اور اس طرح کشمیر کے حوالے سے سفارتی محاذ کو بھی شاہ جی (شاہ محمود قریشی) نے زبردست طریقے سے سنبھالا اور ہر فورم پہ بھارت کو بے نقاب کیا اور کشمیریوں پہ ہونے والے ظلم کو عیاں کیا۔

    اب بھارتی کرفیو کو سال بیت چکا ہے تو پاکستان نے اس دن کو یوم استحصال کے طور پہ منایا اور کشمیر کو اپنے نقشے میں شامل کر کے سیاسی و سرکاری نقشہ جاری کر دیا جس میں یہ دکھایا گیا کہ یہ بھارت کی طرف سے غیرقانونی قبضہ ہے اور کشمیر ہائی وے کو سرینگر ہائی وے کا نام بھی دے دیا اور پوری دنیا خصوصاً بھارت میں کھلبلی مچ گئی کیونکہ یہ نقشہ ان شاء اللہ کشمیر کی آزادی کی طرف ایک بہت بڑا قدم ہے اور اس موقع پہ اعلان کیا کہ 14 اگست کو بزرگ حریت رہنما سید علی گیلانی کو بھی نشان پاکستان کا اعزاز بھی دیا جاۓ گا جو کہ اس بات کا قوی ثبوت ہے کہ پاکستان کشمیر کے ساتھ تھا ہے اور رہے گا اور اسی طرح بھارت کا مکروہ چہرہ پوری دنیا کو دکھاتا رہے گا اور یہ اس بات کی طرف بھی واضح اشارہ ہے کہ پاکستان کسی بھی مسئلہ کے حل کے لیے جنگ کو کارآمد نہیں سمجھتا بلکہ اقوام متحدہ کے چارٹر کے تحت خوش اسلوبی سے حل کرنا چاہتا ہے اور یہ دکھانا چاہتا ہے کہ کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے اور شہ رگ کے بغیر ہمارا کوئی وجود نہیں ہے۔

    ہمارا کشمیر کے حوالے سے دو ٹوک مؤقف ہے اور اس سے کبھی بھی پیچھے نہیں ہٹیں گے جس طرح ہمارے اسلاف نے پاکستان حاصل کرنے کے لیے ڈھیروں شہادتیں پیش کیں اور طرح طرح کے مصائب سے گزرے اسی طرح ہم کشمیریوں کی قربانیوں کو بھی رائیگاں نہیں جانے دیں گے اور جلد ہی کشمیر کو آزاد کروائیں گے ان شاء اللہ

    اللہ حکومت پاکستان کو اسی طرح کشمیریوں کا ساتھ دینے اور بھارتی بربریت کا پردہ چاک کرنے کی توفیق عطا فرمائیں اور اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کی تنظیموں کو بھی جاگنے کی توفیق عطا فرمائیں آمین یا رب
    پاکستان زندہ باد
    کشمیر پائندہ باد
    کشمیر بنے گا پاکستان ان شاء اللہ

  • یوم آزادی پاکستان اور ہم  تحریر:شعیب بھٹی

    یوم آزادی پاکستان اور ہم تحریر:شعیب بھٹی

    یوم آزادی پاکستان اور ہم
    شعیب بھٹی

    14 اگست پاکستانیوں کو آزادی کی یاد تو دلواتی ہی ہے لیکن نظریہ پاکستان کی خاطر شہید ہونے والے ڈیڑھ لاکھ مسلمانوں کی یاد بھی تازہ ہوجاتی ہے۔ جنہوں نے کلمہ کی بنا پر یہ ملک حاصل کرنے کے لیے جدوجہد کی، اس خطے کو پیارا سا نام دیا اور اس کا نام لبوں پر سجاۓ پیاری سی نٸی وجود میں آنی والی مملکت کو دیکھنے کے خواب آنکھوں میں سجاۓ اللہ کی جنتوں کے مہمان بن گٸے۔ دو قومی نظریہ اسلامی نظریہ حیات پر مبنی نظریہ ہے اس نظریہ پر ایک ملک کا وجود میں آنا مسلمانوں کے دور غلامی سے نکلنے کی نوید تھا۔ برصغیر کے مسلمان ایسا خطہ حاصل کرنے کے لیے ہر قیمت ادا کرنے کو تیار تھے۔ پھر وقت آیا سر سید و اقبالؒ کے خواب کو قاٸد اور ساتھیوں کی محنت سے تعبیر ملی تو وقت نے قربانیوں کا تقاضا کردیا۔ وقت کا دامن خون سے بھرنے کے لیے برزگوں نے اپنا خون پیش کیا۔ ماٶں کی عزتیں نچاور ہوٸی معصوموں کو نیزوں میں پرویا گیا۔ کنوٶں میں چھلانگیں لگاٸی گٸیں لیکن خون سے وقت کا دامن بھرنے تک ڈیڑھ لاکھ لوگ قربان ہوچکے تھے۔ یہ قربانیاں نٸی نویلی دلہن کی طرح سندر اسلامی مملکت میں زندگی گزارنے کی ٹرپ میں پیش کی گٸی تھی۔ لیکن ابھی کچھ اور بھی تھے جنہوں نے نجانے شاید صدیوں اس مملکت میں شامل ہونے کے لیے قربانیاں دینی تھی۔ جو گڑھ، حیدر آباد دکن، پنجاب اور راجھستان کے مسلم اکثریتی علاقوں کو مکار ہندوٶں اور انگریزوں نے مل کر پاکستان سے نکال دیا اور ان علاقوں کے مسلمانوں کا مقدر ہندٶوں کی غلامی ٹھہری وہ اس پر آمادہ نہ ہوۓ ہجرت کی کوشش میں کچھ کٹ گٸے اور کچھ نے غلامی کو قبول کرلیا۔ بلکل اسی طرح ایک اور جنت نظیر خطہ جس نے پاکستان کے ساتھ الحاق کیا اور اس خطے پر پلید ہندٶوں نے مکر و فریب سے قبضہ کرلیا۔ قاٸد اعظم نے اس کی آزادی کی خاطر جہاد کا حکم دیا تو انگریز آرمی چیف نے فوج داخل کرنے سے انکار کردیا جس پر قباٸلی مجاہدین نے اس خطہ پر موجود دہشت گردوں پر حملہ کیا اور چھوٹا سا علاقہ آزاد کروالیا فتوحات کو دیکھتے ہوۓ مکار ہندٶ چالبازی سے اسکو اقوام متحدہ میں لے گیا اور خطے کے لوگوں کی آواز دبانے کی کوشش کرنے لگا لیکن یہ آواز پون صدی سے نہ دب سکی ہے نہ کم ہوٸی ہے بلکہ روز بڑھتی ہی جارہی ہے شاید اس اسلامی مملکت کے لیے ابھی اور قربانیاں درکار ہیں تبھی تو ظالم آزاد ہیں اس خطے کا نام کشمیر ہے ہاں کشمیری اس بات کے لیے خون دیتے جارہے ہیں کہ ہم نے اسلامی مملکت میں شامل ہونا ہے
    پچھلے 72 سالوں سے کشمیری ظلم و بربریت کا شکار ہیں۔ لیکن 5 اگست 2019 کے اقدام کے بعد کشمیر کو مکمل جیل بنادیا گیا۔ گجرات کے مسلمانوں کا قاتل انڈین وزیراعظم مودی جبر و طاقت سے کشمیر کو ہندوستان کا حصہ بنانا چاہتا ہے لیکن یہ ہرگز مکمن نہیں ہوگا۔ پچھلے کچھ عرصے سے کشمیر کی تحریک آزادی میں بہت زیادہ شدت آٸی جس سے فاٸدہ حاصل کیا جاسکتا تھا اور عالمی دنیا کو متوجہ کرنے کا سنہری موقع نا اہل حکمرانوں کی وجہ سے گنوا دیا گیا۔ کشمیری پوسٹر بواۓ برہان وانیؒ کی شہادت کے بعد سگنباز تحریک میں کشمیر کے طلبا و طالبات کی شرکت نے انڈیا کو پریشان کردیا تھا لیکن ایسے وقت میں پاکستانی حکمرانوں نے کشمیر کے لیے آواز بلند کرنے کی بجاۓ ہندوستان سے دوستی بڑھانی شروع کردی۔ اس وقت کے وزیراعظم نواز شریف کا کشمیری حریت رہنما سے ملاقات پر پابندی کی شرط پر مودی کی تقریب حلف برداری میں شرکت کرنا کمشیریوں سے غداری کے مترادف تھا لیکن کشمیریوں نے پھر پاکستان کے علم کو تھاما سینے سے لگایا اور اسی میں دفن ہونا اعزاز سمجھا۔ وزیراعظم عمران خان نے اقتدار سنبھالتے ہی کشمیر کی بات عالمی فورم پر اٹھانا شروع کی۔ 5 اگست کے اقدام کے بعد 14 اگست کو پاکستانی پرچموں کے ساتھ کشمیری پرچم بھی پورے پاکستان میں لہراۓ گے اور کشمیریوں کو پیغام دیا کہ پوری قوم آپ کے ساتھ کھڑی ہے ستمبر 2019 میں وزیراعظم عمران خان نے مظفرآباد میں خود کو کشمیر کا سفیر کہا اور قوم سے وعدہ کیا کہ ہر فورم پر کشمیر کے لیے آواز بلند کروں گا۔ عمران خان نے حکومت کی خارجہ پالیسی میں کشمیر کو پہلی ترجیح بنایا جو کہ پچھلی 20 سالہ حکمرانوں کی بے اعتناٸی کا شکار تھی پچھلے 20 سالہ اقتدار میں گزشتہ حکومتوں کی کشمیر کو نظر انداز کرنے کی پالیسی کا ازالہ شروع کیا گیا اور اقوام متحدہ میں وزیراعظم عمران خان نے اپنے خطاب میں کشمیر کے حقیقی سفیر ہونے کا حق ادا کیا۔ اس خطاب میں ہندوستانی وزیراعظم کی دہشت گرد سوچ اور دہشت گرد ہندو تنظیم آر ایس ایس کے ساتھ تعلق کو بے نقاب کیا۔ مودی کو ہٹلر اور نازی ازم سے متاثرہ بتایا اور آر ایس ایس کے دہشت گرد نظریات کو دنیا کے سامنے عیاں کیا جو ایشیا کے لیے ہی نہیں بلکہ پوری دنیا کے امن کے لیے خطرناک ہیں۔ اس خطاب کے بعد اقوام متحدہ نے کشمیر کے لیے پچھلے 50 سال میں پہلی مرتبہ بند کمرہ اجلاس بلایا۔ وزیراعظم عمران خان کشمیر کے سفیر کے ساتھ وکیل بھی بن گٸے اور خارجہ پالیسی کو پچھلی حکومت سے بہتر کرتے ہوۓ پاکستان کو عالمی تنہاٸی سے نکال لاۓ۔ ستمبر 2019 میں بھارت نے اپنا نیا نقشہ جاری کیا جس میں آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کو بھارت کا حصہ قرار دیا گیا تھا۔ وکیل کشمیر وزیراعظم عمران خان نے جوابی وار کرتے ہوۓ کابینہ سے پاکستان کا نیا نقشہ پاس کروایا جس میں کشمیر کو پاکستان کا حصہ قرار دیا گیا ہے اس نقشہ کو قومی اسمبلی سے پاس کروایا گیا اور ساتھ ہی اسے تعلیمی نصاب میں شامل کرنے کا حکم دیا جو کہ موجودہ حکومت کا احسن اقدام ہے۔ اسلام آباد میں موجود کشمیر ہاٸی وے کا نام تبدیل کرکے سرینگر ہاٸی وے رکھ کر اس بات کا عزم کیا گیا کہ اب اس قافلے کی منزل سرینگر ہے کشمیریوں کے دل سدا سے پاکستان کے ساتھ ڈھرکتے ہیں اور کشمیریوں کے ہاں اسلامی مہینوں کا آغاز پاکستان کی سرکاری اعلان کے ساتھ کیا جاتا ہے۔ جو کہ محبت اور تعلق کی اعلٰی مثال ہے۔ کشمیری بزرگ حریت رہنما سید علی گیلانی جو بھارتی جبر و استبداد کے سامنے آہنی دیوار ہیں جن کا حوصلہ و استقاقت کے ٹو اور ہمالیہ سے بلند ہے پاکستان سے بے لوث محبت کے اعزاز میں انہیں پاکستان کا اعلی ترین سول ایوارڈ "نشان پاکستان” دینے کا اعلان کیا گیا اور سینٹ میں اس کی قرار داد متفقہ طور پر منظور کرلی گٸی۔
    اس حکومت نے پچھلی حکمومتوں کی کشمیر کو نظر انداز کرنے کی پالیسی کو بدل کر کشمیر کو ترجیحی پالیسی بنادیا ہے لیکن کشمیر کے لیے آواز بلند کرنے والے، محب وطن طبقہ گزشتہ کی طرح اس حکومت میں بھی پابند سلاسل ہے جن کا جرم پاکستان کو عالمی معیار کی فلاحی تنظیم دینے کے ساتھ کشمیر کے لیے آواز بلند کرنا ہے۔ سفیر کشمیر سے وکیل کشمیر کے سفر کو مکمل کرنے لیے وزیراعظم عمران خان کو ناکردہ جرموں کی سزا کاٹنے والے محب وطن طبقے کے دکھوں کا ازالہ کرنا چاہیے تاکہ کشمیریوں کو مثبت پیغام دیا جاسکے کہ آپ کی خاطر آواز بلند کرنے والے پاکستانیوں کی آنکھ کے تارے ہیں۔ محسنوں اور محب وطن طبقے کا دفاع ہر حکومت کی خارجہ پالیسی میں شامل ہونا چاہیے اور اس پر بلاوجہ کے عالمی دباٶ کو مسترد کردینا چاہیے۔
    عمران خان کا 5 اگست کو یوم استحصال منانا، اسلامی ممالک کی رکن تنظیم کے سربراہ کو کشمیر پر خاموش رہنے پر سخت ردعمل دینا قابل صد تحسین ہے لیکن ملک و ملت کے دفاع کے لیے جانیں نچاور کرنے والوں کو نظر انداز کرنا نہایت حوصلہ شکن کام ہے جس سے محب وطن طبقے کے ساتھ ساتھ کشمیریوں کی دل آزاری بھی ہوتی ہے کشمیر کا سفیر اور وکیل بننے کے لیے کشمیر کی پاکستان میں موثر آواز کو دبنے سے روکنا ہوگا۔ کشمیر شہ رگ پاکستان ہے اس کو عملی جامہ پہنانا ہوگا اور شہ رگ کو دہشت گردوں سے آزادی دلوانے لیے مزید اقدامات اٹھانا ہوں گے۔ آرایس ایس کا ہندوتوا نظریہ پوری دنیا کے لیے خطرہ ہے اس نظریے کو کچلنے کے لیے عالمی دنیا کو عمران خان کی بات پر یقین کرنا ہوگا۔ دنیا کا امن اب کشمیر سے جڑ چکا ہے اور اس امن کو برقرار رکھنے کے لیے پاکستان کے وزیراعظم عمران خان اور ادارے اپنا کردار ادا کررہے ہیں لیکن اگر حالات بگڑے تو اس کی ذمہ دار گونگی،بہری اور اندھی دنیا ہوگی۔ جو مظالم اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر خاموش تماشاٸی بنے ہوۓ ہیں۔ ہم کشمیری ہیں کمشیر ہمارا ہے

  • آزادی کی شفق  تحریر:عاصم مجید لاہور

    آزادی کی شفق تحریر:عاصم مجید لاہور

    آزادی کی شفق
    عاصم مجید لاہور

    دنیا میں حالات بہت تیزی سے تبدیل ہو رہے ہیں۔
    نئے اتحاد سامنے آ رہے ہیں۔ ایسے میں پاکستان بھی اپنی منزلیں متعین کر چکا ہے۔
    چین کا دنیا بھر میں تجارتی منصوبہ ترقی پذیر ممالک میں مقبول ہو چکا ہے۔ چین کی معاشی ترقی کا دارو مدار بہت حد تک اسی تجارتی منصوبہ پر ہے۔ پاکستان میں بننے والا سی پیک چین کے تجارتی منصوبہ کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حثیت رکھتا ہے۔ سی پیک چین کو گلگت بلتستان کے ذریعے جوڑتا ہے۔ انڈیا نے گلگت بلتستان، آزاد کشمیر پر قبضہ کرنے کا خواب دیکھا اور مقبوضہ کشمیر کی قانونی حثیت تبدیل کر دی۔
    جس سے واضح طور پر چین و پاکستان کو چیلینج کیا گیا۔ جوابا چین نے لداخ میں انڈیا کی درگت بنائی اور پاکستان نے کچھ دن پہلے مقبوضہ کشمیر کو اپنے نقشے میں شامل کر لیا ہے۔ چین کو اربوں ڈالر کے منصوبہ کو محفوظ کرنے کے لیے انڈیا کی مداخلت قطعی طور پر قبول نہیں۔ لہذا چین کشمیر کے معاملے میں پاکستان کے ساتھ کھڑا ہے۔ لداخ پر چین کا قبضہ کا نتیجہ چند ماہ بعد سامنے آ سکتا ہے، ممکن ہے کہ چین انڈیا کی فوج کی سپلائی لائن کاٹ ڈالے۔
    موسم سرما میں سرینگر کے جوزیلا پاس سے ہوتے ہوئے منالی کے راستے روہتانگ پاس کے ذریعے لداخ پہنچنے کے راستے پر برف کی دبیز چادر جمی رہتی ہے۔ جو کہ انڈیا کی فوج کے لیے بہٹ مشکلات لا سکتی ہے۔
    گزشتہ ایک سال سے حکومت پاکستان نے کافی موثر انداز میں مسئلہ کشمیر کو دنیا بھر میں اجاگر کیا ہے۔ حکومت پاکستان کے کئی وزرا سوشل میڈیا پر انڈیا کا بھیانک چہرہ دنیا کو دکھا رہے ہیں۔ دنیا بھر کے اخبارات میں کئی آرٹیکل لکھے گئے ہیں۔ امریکہ و برطانیہ کی پارلیمنٹ میں کشمیر کے لیے آوازیں بلند کی گئی ہیں۔ اور کچھ ممالک کے سربراہوں نے بھی مقبوضہ کشمیر میں ہونے والے مظالم پر بات کی ہے۔ اقوام متحدہ میں کشمیر کے لیے وزرا خارجہ کا اجلاس طلب کیا جا رہا ہے۔ اس میں بھی کوئی شک نہیں پچھلے کچھ عرصہ سے پاکستان کو دنیا بھر میں سراہا گیا ہے۔ جنگلات کے تحفظ اور کورونا وائرس کی روک تھام میں دنیا بھر میں پاکستان کی تعریف ہوئی ہے جبکہ انڈیا کا منفی چہرہ دنیا بھر کے سامنے آیا ہے۔ انڈیا پورے خطہ میں تنہا ہوتا جا رہا ہے۔ بلکہ دنیا بھر میں واحد ہندو ریاست نیپال بھی انڈیا سے نظریں پھیر چکا ہے۔
    حکومت پاکستان کلبھوشن کے معاملہ پر انڈیا کو دنیا بھر میں دہشت گرد ثابت کرنا چاہتی ہے۔کلبھوشن اور انڈیا مزید بدنامی سے بچنے کے لیے اپیل بھی نہیں کرنا چاہتے۔ مگر حکومت پاکستان بین الاقوامی عدالت کی رو سے کلبھوشن کا کیس اسلام آباد ہائیکورٹ میں چلا رہی ہے۔ جس کی ہر پیشی پر نہ صرف انڈیا اور پاکستان کا میڈیا کوریج دے گا بلکہ دنیا بھر کا میڈیا اس کیس پر بولے گا۔ جب کلبھوشن کو ساری دنیا کے سامنے دہشتگردی کے اعتراف میں سزا ہو گی تو پوری دنیا انڈیا کا سفاک دہشت گردی والا چہرہ دیکھے گی۔
    ان تمام حالات میں نظر یہی آ رہا ہے کہ کشمیر کی آزادی کے لیے حکومت پاکستان اپنے راستے متعین کر چکی ہے۔
    پاکستان کا مقبوضہ کشمیر کو نقشہ میں شامل کرنا بہت سارے رستے کھول سکتا ہے۔ یہاں تک کہ پاکستان مقبوضہ کشمیر کو اپنا علاقہ قرار دے کر قانونی حثیت سے فوج کو داخل کروا سکتا ہے۔ اور جس دن یہ کام ہو گیا تو اللہ کی مدد سے کشمیر ضرور آزاد ہو گا۔ اسی طرح حکومت پاکستان سید علی گیلانی کو یوم آزادی پر نشان پاکستان دینے جا رہی ہے۔ جس کا مطلب آزادی کشمیر کے لیے کوشش کرنے والوں کو حکومت پاکستان حوصلہ افزائی کرنا چاہتی ہے۔
    مگر حکومت پاکستان کو کشمیر کے محسنوں کے بارے میں بھی سوچنے کی ضرورت ہے۔ جن کو بیرونی دباو پر پابند سلاسل کیا گیا ہے۔ جو ہر موقعہ پر کشمیر کی آزادی کے لیے گلی کوچوں میں عوام کو یک زبان کر دیا کرتے تھے۔ اگر ان کا کیس اقوام متحدہ میں احسن انداز میں لڑا جائے تو کوئی بعید نہیں کہ ان پر پابندیاں ختم ہو سکتی ہیں۔
    ہم پاکستانی پر امید ہیں کہ کشمیر کی آزادی کا سورج طلوع ہونے کو ہے۔ دعا گو ہیں کہ حکومت پاکستان کی مظلوم کشمیریوں کے لیے جو بھی مخلص کاوشیں ہیں وہ جلد رنگ لائیں۔ ان شا اللہ پاکستان مکمل ہونے کو ہے۔ جلد اس پار کے لوگ اس پار جائیں گے۔ ہمارے دریا آزاد ہوں گے۔ شہ رگ چھڑائی جائے گی۔ کشمیر جلد پاکستان بنے گا۔
    اِس پار ملی تھی آزادی
    اُس پار بھی لیں گے آزادی
    ان شا الل

  • تکمیل پاکستان اور آزادیِ کشمیر میں پاکستان کا کردار  ازقلم:ام ابیہا صالح جتوئی

    تکمیل پاکستان اور آزادیِ کشمیر میں پاکستان کا کردار ازقلم:ام ابیہا صالح جتوئی

    تکمیل پاکستان اور آزادیِ کشمیر میں پاکستان کا کردار
    ازقلم:ام ابیہا صالح جتوئی

    پاکستان دو قومی نظریے کی بنیاد پر معرض وجود میں آیا اسکو حاصل کرنے کے لئے ہمارے آباؤاجداد نے بہت سی جانیں قربان کیں بہت سے مصائب اور دشوار گزار راستوں کو عبور کیا اپنے لخت جگر آنکھوں کے سامنے قربان ہوتے دیکھے ہر طرف خون میں ڈوبی لاشیں اور ان لاشوں میں اپنوں کو ڈھونڈنا اور پھر انہیں وہیں چھوڑ کر پاکستان کی طرف ہجرت کرنا بلاشبہ بہت کھٹن وقت تھا۔
    شہداء کی قربانیوں نے ہمیں پاکستان جیسی پیاری دھرتی کا تحفہ دیا۔
    پاکستان ایک ایسا اسلامی ملک ہے جو کہ دنیا کے تمام مظلوموں بالخصوص مظلوم مسلمانوں کے زخموں کا مرہم ہے کسی بھی مشکل یا پریشانی کے وقت تمام ممالک کی نظریں افواج پاکستان پر ہوتیں ہیں۔
    دشمنان اسلام اور دشمنان پاکستان بھی اپنی نظریں گاڑھے ہوئے ہیں لیکن ہمارے ادارے انکے مذموم مقاصد کو پورا ہونے سے پہلے ہی فنا کر دیتے ہیں۔
    پاکستان اور بھارت کے درمیان ایک ایسا متنازع خطہ جسے پاکستان کی شہ رگ کہا جاتا ہے اس پر بھارت نے جابرانہ قبضہ جمایا ہوا ہے کشمیری عوام بھارت کے ترنگے اور قوانین کو جوتوں کی نوک پر رکھتے ہیں وہ پاکستان سے الحاق اور بھارت سے آزادی حاصل کرنے کے لئے کوشاں ہیں۔
    کشمیریوں کی آزادی کی آواز کو دبانے کے لئے بھارت نے نہتے کشمیریوں پر ظلم و بربریت کی ایسی شرمناک مثالیں قائم کی ہیں کہ جن سے تاریخ بھی نالاں ہے۔
    گزشتہ سال 5اگست2019 میں بھارت نے کشمیر پر مکمل لاک ڈاون کردیا اور جگہ جگہ فوج تعینات کردی جو کہ بہت ہی سنگین جرم ہے اور اقوام متحدہ کے قوانین کی دھجیاں اڑا دی گئیں۔
    برسوں سے قربانیاں دینے والی مظلوم کشمیری عوام کے حوصلے بلند بالا ہیں وہ اپنے مقصد سے انحراف نہیں کرتے اور نہ کسی قسم کا سمجھوتہ…..!!!!
    بھارت یہ واضح طور پر جانتا ہے کہ اسکی کوششیں ناکام جائیں گیں اس لئے بوکھلاہٹ کا شکار ہوکر کشمیریوں کو ڈرانے اور انکی آواز دبانے کے لئے نت نئے حربے استعمال کررہا ہے۔
    بھارت کشمیر کی نسل کرکے ان کو تباہ و برباد کرنا چاہتا ہے بھارت کی موجودہ حکومت فرعونِ ثانی کا کام سر انجام دے رہی ہے اسی زمن میں معصوم کشمیری بچوں کو شہید کر رہی ہے جبکہ حالیہ فیک ان کاؤنٹر اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے اور انسانی حقوق کی تنظیموں کے لئے ایک شرمناک طمانچہ ہے۔
    5اگست 2020 کو جب کشمیر میں قابض فورسز کی جانب سے لاک ڈاؤن کا ایک سال مکمل ہونے کو تھا اس سےایک روز قبل پاکستان نے اپنا نیا سیاسی نقشہ پیش کیاجس میں کشمیر کو پاکستان کا حصہ دکھایا گیا ہے۔
    پاکستان کشمیریوں کی آزادی کے لئے روزِاول سے ہی کوشاں ہے اور ہر طرح سے کشمیریوں کا ساتھ دیتا ہے اقوام متحدہ سے اس مسئلے کے حل کے لئے پاکستان نے ایڑی چوٹی کا زور لگایا ہے اور پوری دنیا کو بھارت کا وحشی پن دکھانے میں کامیاب ہوا ہے۔
    نئے نقشے میں کشمیر کو شامل کرنے سے کشمیری جدوجہد ایک نئے موڑ پر آگئی ہے کشمیری حریت رہنما اور کشمیری و
    عوام کے جذبات اور مقاصد کو تقویت ملی ہے جبکہ بھارت کو اپنی شکست نظر آتی دکھائی دے رہی ہے۔
    پاکستان اقوام متحدہ کی سفارشات کے ذریعے کشمیر کا مسئلہ حل کرنے کی کوشش کررہا ہے کیونکہ جنگ اس مسئلے کا حل نہیں ہے۔
    اسکے ساتھ ساتھ پاکستان حریت رہنما سید علی گیلانی کو پاکستان کے اعلی ترین اعزاز "نشان پاکستان” سے نوازے گا اور اسلام آباد میں گیلانی نام سے ایک یونیورسٹی بنانے کا اعلان کیا ہے جس کے تمام سلیبس میں سید علی گیلانی کی سوانح حیات کو بطور لازمی مضمون شامل کیا جاۓ گا ۔
    حکومت پاکستان کے علاوہ کوئی بھی جماعت یا گروپ عالمی سطح پر کشمیر کا ساتھ دینے یا کشمیر کی آواز کو دبانے والے درندوں کو بے نقاب کرنے کی کوشش کرے تو بیرونی دباؤ میں آکر اسکو بین کردیا جاتا ہے ایسے ہی ایک جماعت جو کہ پاکستان میں فلاح انسانیت فاؤنڈیشن کے نام سے مشہور ہے جس کا کام فلاح کے کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینا پاکستان میں جہاں کہیں بھی قدرتی آفات آتیں یہ جماعت سب سے پہلے لوگوں کی مدد کو پہنچ جاتی تھی اور پاکستان کے محب وطن لوگ بے لوث ہو کر پاکستان کی خدمت میں مصروف تھے یہ جماعت کسی ایک شخص یا ادارے کی جماعت نہیں ہے بلکہ پورے پاکستان کی جماعت ہے ہر پاکستانی کے دل پر راج کرنے والی جماعت ہے پاکستان کے ساتھ ساتھ کشمیریوں کے لئے جدوجہد کرنے والی جماعت ہے بیرونی دباؤ میں آکر پاکستان نے اس پر پابندی عائد کردی ہے۔
    تمام محب وطن پاکستانیوں کی خواہش ہے کہ اس جماعت سے تمام تر پابندیوں کو ہٹایا جاۓ اور انکو کام کرنے کی اجازت دی جاۓ تاکہ پاکستان اور کشمیر کے لئے یہ لوگ اپنی خدمات سر انجام دے سکیں اور دشمن کو پاکستان کی طاقت دکھا سکیں۔

    اللہ سبحانہ و تعالیٰ سے التجاء ہے کہ ہمارے پاک وطن کو دشمنوں کی گندی نظروں سے محفوظ فرمائے اور کشمیر کو جلد سے جلد آزادی نصیب فرمائے آمین یا رب العالمین 🤲🏻
    اللہ ہمارا حامی و ناصر ہو۔

  • چناروں میں ہندتوا کا رقص اور تحریک آزادی کشمیر تحریر :سفیر اقبال

    چناروں میں ہندتوا کا رقص اور تحریک آزادی کشمیر تحریر :سفیر اقبال

    چناروں میں ہندتوا کا رقص اور تحریک آزادی کشمیر
    تحریر :سفیر اقبال

    ایک سال گزر گیا ….
    پورے ایک سال میں بھارت نے کاشمیر کو اٹوٹ انگ بنانے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگا لیا…. ایل او سی کو فریز کروا لیا… امریکہ کی خاموش حمایت سے ہر قسم کے عالمی قانون کو پاؤں کی ٹھوکر پر رکھ کر لاک ڈاون لگایا…. نیٹ سروس بند کی اور چناروں کی وادی کو ساری دنیا سے کاٹ دیا….! جہاں دل کیا، جب دل کیا معصوم کشمیری ماؤں بچوں کو خون میں تڑپا دیا … گھر جلا دئیے…. اور لاشوں کو بھون دیا ….!

    اس دوران سید علی گیلانی اور ان کے رفقاء ہوا پہ لکھ لکھ کر پاکستان کو مدد کے لیے پکارتے رہے… دریائے نیلم کی تند و تیز لہریں کشتیاں جلانے والے کسی طارق بن زیاد کا انتظار کرتی رہیں…. درد کے آنگن میں سسکتی کشمیری بہنیں محمد بن قاسم کو پکارتی رہیں…. بابری مسجد…. فاتح القدس صلاح الدین ایوبی کا انتظار کرتے کرتے مندر میں تبدیل ہو گئی لیکن عرب سے کوئی محمد بن قاسم…. مصر سے کوئی صلاح الدین ایوبی…. مراکش سے کوئی طارق بن زیاد…. افریقہ سے کوئی یوسف بن تاشفین اور پاکستان سے کوئی رجل عظیم کوئی محسن اس بستی کی مدد کے لیے نہ پہنچا. (کاشمیر کے محسن کاشمیر سے محبت کرنے کے جرم میں پاکستان میں قید رہے جس طرح کاشمیری حریت رہنما پاکستان سے محبت کرنے کے جرم میں بھارتی جیلوں میں قید تھے ) کاشمیر کی خاک شہیدوں کے لہو سے سیراب ہوتی رہی… اور ہندوتوا کا رقص چناروں کی وادی میں مسلسل جاری رہا….!

    جب دینی غیرت زنگ آلود ہو جائے اور ملکوں کے ذاتی مفادات پہلی ترجیح بن جائیں تب غیرت خداوندی جوش میں آتی ہے. جن لوگوں نے ایک بستی کے لاک ڈاون سے چشم پوشی کی تھی اب ساری دنیا میں لاک ڈاون دیکھ رہے تھے. رب کا عذاب اتنا شدید برسا کہ ساری دنیا نے کاشمیر کے لاک ڈاون کا درد محسوس کر لیا. ایک بستی سے نظریں چرانے والوں نے اپنے ہی ہاتھوں سے شہر کے شہر اجاڑ دئیے.

    لیکن وقت ہر زخم کا مرہم ہوتا ہے. سورج ہمیشہ سر پر نہیں رہتا. کاشمیر کی طرف عالمی برادری کی توجہ بڑھی…. دنیا میں لاک ڈاون میں کمی آنا شروع ہوئی. پاکستان جو پہلے ہر ایسے موقع پر کاشمیر کے حوالے سے "ہم ساتھ کھڑے ہیں” والا بیان دے کر دل و دماغ میں تشکیک کے یہ بیج بو رہا تھا کہ شاید اب پاکستان کے لیے کاشمیر کا مطلب آزاد کاشمیر ہے …. اچانک اس نے سرینگر تک جانے کے عزم کا ارادہ کیا. کپواڑہ سے لیکر لولاب تک راجوری سے لیکر بانڈی پورہ تک …. سارے کاشمیر کو اپنے نقشے میں شامل کر لیا…. شاہراہ کاشمیر کو شاہراہ سرینگر میں بدل دیا…. جارحانہ سفارتکاری دکھاتے ہوئے دوستی دشمنی بدلنے کے ارادوں کا اظہار کیا….!

    اور یہ سب کچھ پورے ایک سال بعد 5 اگست کے بعد کیا….. تا کہ دنیا تک یہ پیغام جا سکے کہ بھارت اگر ایک سال میں اٹوٹ انگ کو اپنا نہیں کر سکا تو اب کشمیریوں کو اپنی مرضی سے جینے کا حق ملنا چاہیے.

    اب ساری دنیا ایک طرف ہے اور ہندوتوا دوسری طرف….! کشمیر کی وادی میں ایک سال تک فاتحانہ اور بلا روک ٹوک جبر و تشدد برپا کرنے کا انجام عالمی سطح پر بھارت کی تنہائی کی صورت میں نکلا…. ورنہ اس سے قبل عالمی سطح پر مسئلہ کاشمیر پر ایک غلطی بھارت کی سامنے آتی تو دس زیادتیاں پاکستانی فریڈم فائیٹرز کی بھارت بیان کر کے دنیا کو رام کر لیا کرتا تھا.

    لیکن اب پاکستان کاشمیر کے معاملے میں ایک ایک قدم محتاط ہو کر اٹھا رہا ہے. مقبوضہ کشمیر کو اپنے نقشے میں شامل کرنے کے بعد… شاہراہ کشمیر کو شاہراہ سرینگر میں تبدیل کرنے کے بعد… اب پاکستان اپنے نام آخری خط لکھنے والے قائدِ حریت سید علی گیلانی صاحب کو نشانِ پاکستان کے اعزاز سے بھی نوازنے والا ہے. اب ایسے موقع پر پاکستان کو چاہیے کہ مزید جرات اور ہمت کا مظاہرہ کرے اور عالمی دباؤ کو نظر انداز کر کے پاکستان کی فلاحی تنظیموں اور کشمیر کے محسنوں کو بھی آزاد کرے… انہیں کھل کر کام کرنے کا موقع دے تا کہ سفارتی محاذوں پر جیتی جانے والی جنگ عملی میدانوں میں ناکامی کا شکار نہ ہو.

    آزادیاں کیسے ملتی ہیں اور کتنی قربانیوں کے بعد ملتی ہیں…. یہ دیکھنے کے لیے دور کیوں جائیں. پاکستان کو ہی دیکھ لیں. 1857 کی جنگ آزادی کی جدوجہد کو منفی کر کے بھی دیکھیں تو 90 سال بنتے ہیں. 1857 میں ناکامی کے بعد کافی عرصہ تک مسلمانوں میں جدوجہد آزادی کی تحریک ٹھنڈی پڑ گئی اور اس کی وجہ یہی تھی کہ کوئی واضح نظریہ، دو ٹوک موقوف برصغیر کے مسلمان نہیں اپنا سکے. انہیں معلوم ہی نہیں تھا کہ ہم نے کرنا کیا ہے اور علیحدہ وطن کا بھی کوئی نقشہ کسی کے ذہن میں نہیں تھا.

    1930 میں علامہ اقبال نے اس عزم کو بطور تصور پیش کیا. تمام مسلم اکثریتی علاقوں کو ملا کر علیحدہ مسلم ریاست کے قیام کی تجویز دی اور 1940 میں محمد علی جناح نے اس کو نظریہ پاکستان کا نام دے کر مسلمانان برصغیر کے دلوں میں راسخ کر دیا.

    وہ نظریہ جب ہر مسلمان کے دل میں موجزن ہوا تو سات سال کے اندر ہی مسلمان ایک علیحدہ وطن حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئے.

    کشمیر کے مسلمان بھی جب نظریہ پاکستان اور دو قومی نظریہ پر سختی سے عمل پیرا ہوں گے تو ان شا اللہ صبح آزادی کو حاصل کر لیں گے اور اگر ذاتی مشاہدے کی بات کی جائے تو برہان وانی کی شہادت کے بعد جو کچھ زمین و آسمان نے دیکھا…. جتنی محبت اسلام اور جدو جہد آزادی کے ساتھ کاشمیریوں کی دیکھی آج تک پوری اسلامی تاریخ ہی نہیں انسانی تاریخ بھی اس کی مثال دینے سے قاصر ہے. اگر تحریک کا کل وقت بر ہا ن وانی کی شہادت کے بعد کا لیا جائے اور حکومتی سطح پر پاکستان کی طرف سے پر زور حمایت کا وقت موجودہ حکومت کے حساب سے دو سال لیا جائے تو خود اندازہ کر لیں کہ ان چار سالوں میں تحریک عالمی سطح پر کہاں سے کہاں تک پہنچ چکی ہے اور صبح آزادی کے لیے مزید کتنا وقت درکار ہے.

    اس آگ میں جلنے والوں کے کہتے ہیں براہیمی تیور
    کشمیر کے جنت بننے میں ممکن ہی نہیں تاخیر بہت

  • ارطغرل غازی کی تلوار اب آپ کی ہوسکتی ہے

    ارطغرل غازی کی تلوار اب آپ کی ہوسکتی ہے

    اسلامی فتوحات پر مبنی شہرہ آفاق تُرک سیریز ’ارطغرل غازی‘ اپنی کہانی، تیاری اور اداکاری کے لحاظ سے ایک شاہکار ڈرامہ ہے اس کی پروڈکشن اس کا پلاٹ اداکاری ہر چیز بہت ہی شاندار ہے یہ ڈرامہ ایک ایسے خانہ بدوش قبیلے کی کہانی بیان کرتا ہے جو موسموں کی شدت کے ساتھ ساتھ منگولوں اور صلیبیوں کے نشانے پر ہوتا ہے۔

    باغی ٹی وی : دنیا کے متعدد ممالک میں نشر ہونے کے بعد اب یہ پاکستان ٹیلی ویژن (پی ٹی وی ) یکم رمضان سے پاکستانی وزیراعظم عمران خان کی ہدایت پر نشر کیا جارہا ہے اور اس کا سیزن 1 چل رہا ہے جبکہ اس کے مجموعی طور پر 5 سیزن ہیں۔

    پہلے سیزن کی کہانی میں تیرھویں صدی کا زمانہ دکھایا گیا ہے اور قائی قبیلہ منگولوں کے حملوں سے بچنے کے لیے نئی منزل تلاش کرتا ہے جس کے لیے قبیلے کے سردار کا بیٹا ارطغرل آگے بڑھ کر کردار ادا کرتا ہے-

    تُرک ڈراموں اور فلموں کو دنیا بھر میں پسند کیا جاتا ہےمگر جو مقبولیت ترک مسلمانوں کی تیرہویں صدی میں اسلامی فتوحات پر مبنی ترکش ڈرامہ سیریل ’’ارطغرل غازی‘‘ جسے ترکی کا گیم آف تھرونز بھی کہا جاتا ہے کو ملی اس کی مثال نہیں ملتی۔ اسے دنیا کے کم و بیش ساٹھ ( 60 ) ممالک میں ڈب کر کے دکھایا گیا ہے-

    ارطغرل کی دنیا بھر میں کامیابی کا ندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ اسے دنیا کے ایک سو چھالیس ( 146 ) ممالک سے نہ صرف ناظرین کی توجہ حاصل کی بلکہ وہاں ڈراموں کی دنیا کا بے تاج بادشاہ بھی قرار پایا۔

    یورپ، مڈل ایسٹ، افریقہ اور یورپ سے 700 ملین ناظرین کو اپنے سحر میں گرفتار کرنے والا ڈراما غازی ارطغرل آذربائیجان، ترکمانستان، قازقستان، ازبکستان، البانیہ، پولینڈ، سربیا، بوسنیا، ہزروگوینا، ہنگری اور یونان میں ریکارڈ توڑنے کے بعد اب پاکستان میں بھی یکم رمضان سے پی ٹی وی پر نشر کیا جا رہا ہے جسے لوگ بہت شوق سے دیکھ رہے ہیں اور دوسروں کو بھی دیکھنے کا مشورہ دے رہے ہیں-

    پاکستان میں نہ صرف اس ڈرامے کولوگ بے تحاشہ پسند کررہے ہیں بلکہ ڈرامے کے اداکاروں کو بھی بے حد شہرت ملی ہے ڈرامے کے مرکزی کرداروں ارطغرل غازی اور حلیمہ سلطان کو تو بے حد پسند کیا جارہا ہے

    اس ڈرامے نے پاکستان میں مقبولیت کے نئے ریکارڈ قائم کرتے ہوئے یک کے بعد ایک اعزاز اپنے نام کیا ہے یہاں تک کہ پی ٹی وی ارطغرل یوٹیوب چینل پر ویڈیو ویوز کی تعداد ایک ارب سے تجاوز کر گئی ہے ایسا اعزاز شاید ہی کبھی کسی اور ڈرامے کے حصے میں آیا ہو-

    جبکہ ارطغرل ڈرامے کی کہانی اور کرداروں نے پاکستانی عوام کو اپنے سحر میں جکڑ رکھا ہے اور عوام اس کے کرداروں میں خود کو ڈھال کر ویڈیو بنا کر اور سییز کے ٹائٹل گانے اور میوزک کوسوشل میڈیا پر شئیر کر کے ارطغرل سیریز اور اس کے کرداروں سے اپنی محبت کا اظہار کر تے نظر آرہے ہیں-

    شائقین کی ارطغرل ڈرامے کے ساتھ اس محبت کو دیکھتے ہوئے پاکستانی شائقین نے ایک کائی سٹور کے نام سے ایک سٹور بنایا یے جس میں ارطغرل کے متعلق گفٹ آئٹمز موجود ہیں جس میں ارطغرل کی تلوار تُرگت کا کلہاڑا جیولری باکس اور بھی ارطغرل ڈرامے سے متعلق آئٹمز موجود ہیں جبکہ ارطغرل کی تلوار کو خصوصی طور پر بڑی محنت سے تیار کیا گیا ہے نہ صرف تلوار بلکہ میان بھی ہو بہو ویسی بنائی گئی ہے جیسی ارطغرل کے پاس ڈرامے میں ہے-


    یہ تمام چیزیں کوئی اصلی نہیں ہیں بس سجاوٹ اور تحائف کے لئے جو لوگ ایک اکثر ایک دوسرے کو تحئاف کے طور پر دیتے ہیں کے طور پر معیاری اور خوبصورت بنائی گئی ہیں-علاوہ ازیں آنے والے دونن میں اور بھی کئی آئٹمز جن میں بچوں کے لئے لکڑی کی تلواریں کلہاڑاوغیرہ بھی کائی سٹور پر دستیاب ہوں گے تاکہ گھروً میں بچے ارطغرل کی تلواروں اور دوسری چیزوں کو کھیل کے طور پر استعمال کرسکیں-

    کائی سٹور کے مطابق یہ تمام دیریلس ایرٹگرول اور کرولس عثمان شائقین کے لئے ایک اسٹاپ شاپ ہے۔ جدید اور فیشن پسند کیی مصنوعات کے علمبردار ہونے کے ناطے ، ہماری کیٹلاگ میں مرد ، خواتین اور بچوں کی مصنوعات شامل ہیں۔ لباس ، زیور سے لے کر لباس تک ! ہماری مصنوعات ترکی کی تاریخ اور اسلامی ثقافت کی علامت ہیں۔

    مزید برآں ، ہمارے انوکھے بیچنے والے عہدوں پر دنیا میں کہیں بھی ، پریمیم معیار کی مصنوعات شامل ہیں جو براہ راست آپ کے گھر پر آن لائن بھیجی جائیں گی۔ مزید یہ کہ ، ہمارے عالمی معیار کا پیداواری معیار اور کسٹمر سپورٹ صارفین کی اطمینان کو یقینی بناتے ہیں۔ ہمارے ارطغرل تلوار اور ترگت کلہاڑے کی بنیادی مصنوعات کا تعارف آرڈر کرنے کے لئے اب دستیاب ہے!

    واضح رہے کہ دیریلیش ارطغرل‘ ڈرامے کی کہانی 13 ویں صدی میں ’سلطنت عثمانیہ‘ کے قیام سے قبل کی کہانی ہے اور اس ڈرامے کی مرکزی کہانی ’ارطغرل‘ نامی بہادر مسلمان سپہ سالار کے گرد گھومتی ہے جنہیں ’ارطغرل غازی‘ بھی کہا جاتا ہے ڈرامے میں دکھایا گیا ہے کہ کس طرح 13 ویں صدی میں ترک سپہ سالار ارطغرل نے منگولوں، صلیبیوں اور ظالموں کا بہادری سے مقابلہ کیا اور کس طرح اپنی فتوحات کا سلسلہ برقرار رکھا۔ڈرامے میں سلطنت عثمانیہ سے قبل کی ارطغرل کی حکمرانی، بہادری اور محبت کو دکھایا گیا ہے

    ارطغرل ڈرامے کی کی مقبولیت میں مزید اضافہ، ایک اور سنگ میل عبور ہو گیا

    وزیر اعظم کے چہیتے افراد ارطغرل ڈرامے کے نام پر پی ٹی وی کولوٹ رہے ، یوٹیوب چینل…

    ارطغرل اردو کی بڑی کامیابی، دنیا میں سب سے زیادہ دیکھے جانے والے چینلز میں تینتیسویں نمبر پر آگیا

    ’’ارطغرل غازی‘‘ میں مرکزی کردار ادا کرنے والے ’’ارطغرل‘‘ کون ہیں ؟

    مداحوں کا امریکی گلوکارہ کارڈی بی کو دیریلیس ارطغرل دیکھنے کا مشورہ

    پاکستان میں ڈرامہ سیریل ارطغرل غازی کی مقبولیت توقع سے زیادہ ہے ترگت الپ

    اسرا اب ہماری بھابھی ہیں سارہ خان اور مہوش حیات کا اسرا بلجیک کی ٹویٹ پر ردعمل

    اسرا بلجیک کا پاکستانیوں کے لئے انوکھا پیغام

    شکریہ پاکستان:’پاکستانی ڈراموں میں کام کرکے عوام سے محبت کا قرض اتارنے کی کوشش کروں گا’ارظغرل غازی کا پی ٹی وی کوانٹریو