Baaghi TV

Author: عائشہ ذوالفقار

  • ہانیہ عامر اور عاصم اظہر کو عید کے موقع پر ایک ساتھ دیکھ کر مداح خوش ہو گئے

    ہانیہ عامر اور عاصم اظہر کو عید کے موقع پر ایک ساتھ دیکھ کر مداح خوش ہو گئے

    پاکستان شوبز انڈسٹری کی خوبصورت اور چلبلی اداکارہ ہانیہ عامر اور میوزک اندسٹری کے نامور گلوکار عاصم اظہر کے مداح عید کے موقع پر دونوں کو ایک ساتھ دیکھ کر خوش ہو گئے۔

    باغی‌ٹی وی : اداکارہ ہانیہ عامر نے گلوکارہ آئمہ بیگ کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے گلوکار عاصم اظہر اور اپنے تعلق کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ اور گلوکار عاصم اظہر بہترین دوست ہیں تاہم ساتھ ہی انہوں نے وضاحت کی کہ ان کے درمیان ‘وہ’ والے تعلقات نہیں۔

    ہانیہ عامر کا کہنا تھا کہ ان کے اور عاصم اظہر کے درمیان جوڑے بننے والے تعلقات نہیں اور نہ ہی انہوں نے کبھی ایک دوسرے سے اس طرح کی ملاقاتیں کی ہیں اور نہ ہی وہ ایک د وسرے کو اس طرح دیکھتے ہیں وہ دونوں بہترین دوست ہیں اور وہ ایک دوسرے کی مدد کرتے رہتے ہیں۔

    اداکارہ کی جانب سے عاصم اظہر کے ساتھ دوستی کے اعتراف اور تعلقات کے انکار کے حوالے سے کچھ مداح پریشان بھی دکھائی دیئے اور ناراض بھی دکھائی دیئے-

    تاہم اب عید کے موقع پر دونوں کو ایک ساتھ دیکھ کر مداح خوشی کا اظہار کر رہے ہیں-
    https://www.instagram.com/p/CDY0g5sjzF2/?igshid=1qbz1ughma5qv
    عید الضحیٰ کے موقع پر ہانیہ عامر نے اپنے انسٹاگرام اکاؤنٹ پر عاصم اظہر کے ساتھ تصاویر شیئر کی ہیں تصاویر میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ہانیہ اور عاصم ایک ساتھ اپنے چند دوستوں کے ساتھ بیٹھے خوش دکھائی دے رہے ہیں اور بہترین سیلفی لینے کی جدو جہد کر رہے ہیں-

    تصاویر میں ہانیہ عامر نے لال رنگ کا گوٹا لگا ہوا لباس پہنا ہے جبکہ عاصم اظہر سفید رنگ کے لباس میں ملبوس ہیں ۔

    ہانیہ عامر کی جانب سے شیئر کی گئی ان تصاویر کو دیکھ کر مداحوں کی جانب سے خوشی کا اظہار کیا گیا ہے۔


    ہانیہ عامر انسٹاگرام اسکرین شاٹس

    ہانیہ عامر کے بعد عاصم اظہر نے بھی اپنے تعلق پر خاموشی توڑ دی

    عاصم اظہرصرف میرا اچھا دوست ہے ہمارے درمیان کوئی نجی تعلقات نہیں ہانیہ عامر

    عاصم اور ہانیہ تو بس دوست تھے، گزشتہ کچھ مہینوں میں انکی آپس میں ملاقاتوں کی چند جھلکیاں

    ہانیہ عامر کا عاصم اظہر کو صرف دوست کہنے پر اریکا حق تنقید کی زد میں

  • اداکارہ و ماڈل مہرین سید 38 برس کی ہو گئیں

    اداکارہ و ماڈل مہرین سید 38 برس کی ہو گئیں

    پاکستان شوبز انڈسٹری کی پُرکشش اداکارہ و ماڈل مہرین سید 38 نے زندگی کی 38 بہاریں دیکھ لیں-

    باغی ٹی وی : ماڈل اداکارہ مہرین سید نے اپنی سالگرہ کا کیک کاٹتے ہوئے سوشل میڈیا ویب سائٹ انسٹا گرام پر ایک خوبصورت ویڈیو اپنے مداحوں کے ساتھ شیئر کی ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ انہوں نے خوبصورت بلیو اور وائٹ کلر کا پونچو لباس زیب تن کر رکھا ہے جس میں وہ خوبصورت لگ رہی ہیں اور اپنی سالگرہ کا کیک کاٹ رہی ہیں-
    https://www.instagram.com/p/CDZOxcljKzn/?igshid=104f7rr435cgw
    مہرین سید نے اپنی سالگرہ کی ویڈو شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ وہ امید کرتی ہیں کہ زندگی میں پہلی اور آخری بار قرنطینہ میں سالگرہ منارہی ہیں۔

    ماڈل و اداکارہ نے ویڈیو کے ذریعےسالگرہ میں آن لائن شرکت کرنے والوں کا شکریہ ادا کیا اور سالگرہ کا دن خوبصورت بنانے کے لیے اپنی فیملی اور دوستوں سے محبت کا ظہار بھی کیا ۔

    ادکارہ کی اس پوسٹ پر جہاں مداحوں کی طرف سے نیک تمناؤں کا اظہار کرتے ہوئے سالگرہ کی مبرکباد دی جا رہی ہے وہیں خوبصورت اداکارہ کبری خان اور منیبہ مزاری نے بھی انہیں سالگرہ کی مبارکباد دی-


    مہرین سید انسٹاگرام سکرین شاٹس
    جن کے جواب میں مہرین سید نے اپنے مداحوں اور ساتھی اداکاراوں کا شکریہ ادا کیا-

    دوسری جانب ماڈل و اداکارہ صدف کنول نے بھی اپنے انسٹاگرام پر مہرین کی ایک تصویری شیئر کرتے ہوئے انہیں سالگرہ کی مبارکباد دی-
    https://www.instagram.com/p/CDYWBbfAoTJ/?igshid=hbzrx5iwz4te
    تصویر شئیر کرتے ہوئے صدف کنول کا اپنی پوسٹ میں مہرین کے لیے کہنا تھا کہ وہ مہرین کو بطور بہن پا کر خود کو بہت خوش قسمت محسوس کرتی ہیں ،وہ مہرین کی سالگرہ پر بہت سارہ پیار بھیج رہی ہیں سالگرہ مبارک مہرین –

  • ہارون شاہد اور زیب بنگش کا جنید جمشید کو خراج تحسین

    ہارون شاہد اور زیب بنگش کا جنید جمشید کو خراج تحسین

    پاکستان میوزک انڈسٹری کےنامور گلوکار ہارون شاہد اور زیب بنگش نے عید الاضحیٰ کے موقع پر ہارون شاہد اور زیب بنگش نے 1995 کو ریلیز ہونے والے ماضی کے معروف میوزیکل بینڈ وائٹل سائنز کے گانے ’ہم تم‘ اور 1995 میں ہی ریلیز ہونے والے البم ’نام‘ میں شامل گانا ’پہلی دھڑکن‘ گا کر جنید جمشید کو خراج عقیدت پیش کیا ہے۔

    باغی ٹی وی : سماجی رابطے کی ویب سائٹ انسٹا گرام پر ہارون شاہد نے ایک ویڈیو شئیر کی جس میں وہ خوبصورت انداز میں ہم تُم اور دھڑکن گانا گا کر جنید جمشید کو خراج تحسین پیش کررہے ہیں-
    https://www.instagram.com/tv/CDYsCUPlWMg/?igshid=gkbbbviryzc0
    ہارون شاہد نے ویڈیو شئیر کرتے ہوئے مداحوں سے مخاطب کرتے ہوئے لکھا کہ پاکستان کے معروف پاپ بینڈ کو خراج عقیدت پیش کرنے کیلئے ہماری جانب سے چھوٹی سی کاوش ہے یقیناً آپ کو پسند آئے گی۔

    اس سے چند دن قبل انسٹاگرام پر ہارون نے مداحوں کو کچھ دن پہلے ہی اپنے اس خراج عقیدت سے متعلق بتا تے ہوئے لکھا تھا کہ وہ عید الاضحیٰ کے موقع پر جنید جمشید کو خراج عقیدت پیش کریں گے۔
    https://www.instagram.com/p/CDRMLGAljkC/?igshid=19q1ei0b8qyrt
    ہارون شاہد اور زیب بنگش کی اس کاوش کو مداحوں کی جانب سے بھی کافی سراہا جا رہا ہے-

    ماڈل ایان علی نے اپنے نئے البم کے ریلیز ہونے کی تاریخ کا اعلان کر دیا

    راحت فتح علی خان کا گانا ’غم عاشقی‘ ریلیز

  • مہوش حیات کو قربان کئے گئے بکرے کی یاد ستانے لگی

    مہوش حیات کو قربان کئے گئے بکرے کی یاد ستانے لگی

    پاکستان شوبز انڈسٹری کی معروف اور تمغہ امتیاز اداکارہ مہوش حیات کو عید الاضحیٰ کے موقع پر قربان کئے گئے اپنے بکرے کی یاد ستانے لگی –

    باغی ٹی وی :مہوش حیات نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ انسٹاگرام پر اپنے بکروں کے ساتھ لی گئی تصویر شیئر کی جس میں اداکارہ ہاتھ میں گھاس پکڑے بکروں کے پاس کھڑی ہنستی مسکراتی دکھائی دے رہی ہیں-
    https://www.instagram.com/p/CDa8xJJFg5l/?igshid=1dmdpziiegt04
    اپنی تصویر شئیر کرتے ہوئے اداکارہ نے کیپشن میں لکھا کہ میں اپنے اس چھوٹے سے فارم کو بہت مِس کررہی ہوں۔

    ساتھ ہی انہوں نے مختلف ہیش ٹیگز ’عید 2020‘، ’عید مبارک‘ اور ’پوزر کلب‘ استعمال کئے-

    واضح رہے کہ اس سے قبل یاسر حسین نے بھی اپنے بکرے کو مس کرتے ہوئے بکرے کے نام جذباتی پیغام شئیر کیا تھا اپنے پیغام میں اداکار نے بتایا تھا کہ یہ بہت پیارا اور خوش مزاج بکرا تھا میرے پاس ایک دن رہا، ایک دن میں اس نے ہمارے گھر کے سامنے والے چوکیدار سے بہت دوستی کرلی تھی بغیر رسی کے اس کے ساتھ گھوم رہا تھا، اس کے سر پر ہاتھ پھیرنا بند کرو تو گردن کے اشارے سے دوبارہ سر پر ہاتھ رکھنے کو کہتا تھا۔ کاش میں اُسے پورے سال پالتا اگلی دفعہ کم از کم کچھ مہینہ پہلے جانور لاؤں گا-

    یاسر حسین کا سوشل میڈیا پر اپنے ’جانو بکروٹا‘ کے لئے محبت بھرا جذباتی پیغام

    عثمان خالد بٹ کی دلچسپ تصاویر سوشل میڈیا پر وائرل

    ایک دوسرے سے حسن سلوک سے پیش آئیں اور غیرمشروط محبت کریں

  • بدلتے رخ ہواؤں کے ،تحریک آزادی کشمیر کس مقام پر ہے  تحریر:محمد نعیم شہزاد

    بدلتے رخ ہواؤں کے ،تحریک آزادی کشمیر کس مقام پر ہے تحریر:محمد نعیم شہزاد

    بدلتے رخ ہواؤں کے
    (تحریک آزادی کشمیر کس مقام پر ہے)

    محمد نعیم شہزاد

    اقتدار اور حاکمیت ہر کسی کی مرغوب اور من پسند شے ہے۔ زمانہ بدلتا رہتا ہے اور اس کی روش ہمیشہ ایک طرح پر نہیں رہتی۔ ایک وقت تھا کہ جب طاقتور قومیں کمزور قوموں پر تلوار کے زور پر قابض ہو جایا کرتی تھیں اور اپنی ریاست اور سلطنت کو طویل و عریض کرتی چلی جاتی تھیں۔ طاقت کے اس زور اور نشے نے دھرتی کو خون سے رنگین کر دیا اور انسانی استخوان ٹھوکروں کی نظر ہوئے۔ انسان انسانیت کو بھول بیٹھا اور ہوس اقتدار اس کو اپنے سحر میں لے کر جنونی بنا چکی تھی۔ تہذیبوں کی تبدیلی اور گردشِ زمانہ نے اس روش کو تھوڑا تبدیل کیا اور مہذب دنیا اپنی اپنی جغرافیائی حدود میں سمٹ گئی مگر اب طاقت کے ساتھ مکر و فریب اور دجالیت عام ہوئی۔ دوسروں کو حقوق دینے کے نام پر ان کی حق تلفی کی گئی اور باسہولت زندگی کے نام پر زندگی سے محروم کر دیا جانے لگا۔ امن عامہ کی خاطر بد امنی کو اختیار کیا گیا اور اپنی مرضی کے فیصلے نافذ کیے گئے۔ اپنے اوپر ہونے والے مظالم پر واویلا کرنے کو جارحیت اور اپنے حق کے لیے آواز بلند کرنے کو دہشت گردی سے تعبیر کیا جانے لگا۔ امن و امان کے عالمی ادارے قیام میں آ گئے مگر امن ناپید رہا۔ حتی کہ مظلوم کی حمایت میں بلند ہونے والی آوازوں کو بھی بند کر دیا گیا۔ مظلوم کی امداد کا مطالبہ کرنے والی ریاست کو پابندیوں اور عالمی دباؤ کا سامنا کرنا پڑا۔ یوں زمانہ ایک بار پھر کسی نئے لائحہ عمل کا متقاضی تھا۔

    اس موقع پر سابقہ روش پر قائم رہنا کیونکر کارگر ہوتا جبکہ مشاہدہ ہے کہ گزشتہ پون صدی سے اس طرز عمل نے مظلوم کو ظلم سے نجات نہ دلائی۔ مگر ہر نئی چیز ذہن فوراً قبول نہیں کرتا۔ چنانچہ قیام پاکستان کی جدوجہد میں بھی بڑے بڑے مفکر اور قومیت کے حامی تحریک پاکستان کے مخالف بن گئے اور بعض تو آج بھی پاکستان کے قیام سے مطمئن نظر نہیں آتے۔ اس موقع پر عالمگیر اصول "آپ ہر کسی کو خوش نہیں کر سکتے” اطمینان قلب کا باعث بنتا ہے۔ اور روح کو تسکین ملتی ہے اور اپنے عمل پر حقیقی خوشی نصیب ہوتی ہے۔

    بھارت کی طرف سے نئی قانونی ترامیم کے بعد مقبوضہ کشمیر میں لاک ڈاؤن کو ایک برس مکمل ہونے کو ہے۔ اس لاک ڈاؤن اور ترمیم کے جہاں اور بہت سے اثرات سامنے آئے وہیں حکومت پاکستان نے پر امن احتجاج کی روش اپنائی جس پر بہت سے لوگ معترض ہوئے۔ ان لوگوں سے فقط اتنا عرض ہے کہ پاکستان ایک ایٹمی قوت ہے مگر ایک ذمہ دار ریاست بھی ہے۔ اس قدر جارحیت پسندانہ اقدامات عالمی امن کے لیے خطرہ خیال کیے جاتے ہیں َاور اپنے پاؤں پر کلہاڑی مارنے کے مترادف ہوں گے۔ ہر فیصلہ وقت کی نزاکت کو دیکھ کر کرنا چاہیے اور اپنے اداروں پر بھرپور اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے ان کی پالیسیوں کے ساتھ کھڑے ہو کر ان کے قدم مضبوط کرنے کی ضرورت ہے نا کہ بلا وجہ اختلاف کر کے جگ ہنسائی اور رسوائی کا باعث بننا چاہیے۔ ان سب گزارشات کا محرک آئی ایس پی آر کی طرف سے جاری کردہ نیا نغمہ "جا چھوڑ دے میری وادی” اور اس پر آنے والے اعتراضات ہیں۔ پاک فوج ایک با اعتماد، ذمہ دار اور باوقار پروفیشنل ادارہ ہے۔ یقیناً ادارے کی پالیسیاں اور عمل ہماری کج فہم سوچ سے کئی گنا اچھا اور متوازن ہے۔ آج کے دور میں میڈیا ایک بڑے ہتھیار کی شکل اختیار کر چکا ہے اور دشمن کو زچ کرنے اور اپنی برتری ظاہر کرنے کا ایک اہم ذریعہ بن چکا ہے۔ ہمسایہ ملک کی "بالا کوٹ سٹرائک” کی بات ہو یا "گھس کر مارنے” کا دعویٰ ہر طرف میڈیا کارفرما نظر آتا ہے۔ تو ایسے ایک وقت پر جب بھارت کا مکروہ چہرہ ساری دنیا پر عیاں ہو چکا اور اقوام متحدہ سے بھی آوازیں اٹھنے لگیں کہ بھارت پاکستان میں دہشت گردی میں ملوث ہے ہمارے ادارے کی طرف سے بھارتی جارحیت پر ایک نغمہ جاری کرنا کس طرح قابل اعتراض ہے ۔ اقوام متحدہ کی جانب سے بھارتی سرگرمیوں پر اعتراض اگر ہماری پالیسیوں کے درست ہونے کا ثبوت نہیں تو اور کیا ہے۔ لہٰذا پروپیگنڈہ کا شکار ہونے سے بچیں، حالات کی نزاکت کا ادراک کریں اور اپنے اداروں کے کندھے سے کندھا ملا کر کھڑے ہوں اور جارحیت پسند دشمن کو یک زبان جواب دیں "جا چھوڑ دے میری وادی”

  • حمزہ علی عباسی نے سوشل میڈیا پر مداحوں کے ساتھ  بیٹے کی تصویر شئیر کر دی

    حمزہ علی عباسی نے سوشل میڈیا پر مداحوں کے ساتھ بیٹے کی تصویر شئیر کر دی

    پاکستان شوبز انڈسٹری کے نامور اداکار حمزہ علی عباسی نے اپنے نومولود بیٹے محمد مصطفیٰ عباسی کی سوشل میڈیا پر تصویر مداحوں کے ساتھ شیئر کردی ہے-

    باغی ٹی وی : سماجی رابطے کی ویب سائٹ انسٹاگرام پر حمزہ علی عباسی نے بیٹے کی تصویر شیئر کرتے ہوئے کیپشن میں بیٹے کا نام نام ’ محمد مصطفی عباسی‘ لکھا اور ساتھ محبت کا اظہار کرتے ہوئے دل والا ایموجی بھی استعمال کیا۔
    https://www.instagram.com/p/CDbAdR3AWAT/?igshid=gv7uft6j4hux
    حمزہ علی عباسی کی اہلیہ نیمل عباسی نے اپنے انسٹاگرام اکاؤنٹ پر بچے کے ہاتھ کے ساتھ اپنے ہاتھ کی تصویر شیئر کرتے ہوئے بتایا تھا کہ ان کے ہاں بیٹے کی پیدائش گذ شتہ ماہ 30 جولائی کو ہوئی تھی-
    https://www.instagram.com/p/CDZvotsjDlk/?utm_source=ig_embed
    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر حمزہ عباسی کا اپنے پیغام میں کہنا تھا کہ اللہ نے مجھے اور نیمل کو بیٹا عطا کیا ہے حمزہ عباسی نے پیغام میں کہا تھا کہ انہوں نے اپنے بیٹے کا نام مصطفیٰ علی عباسی رکھا ہے


    حمزہ عباسی نے ٹویٹر پر پیغام میں مزید کہنا تھا کہ اللہ تعالیٰ ان کے بیٹے کو نیک،صالح اور انسانیت کی خدمت کرنے والا بنائے-

    واضح رہے کہ حمزہ اور نیمل گزشتہ سال 25 اگست کو اسلام آباد میں منعقد کی گئی ایک سادہ سی تقریب میں رشتہ ازدواج میں منسلک ہوئے تھے۔

    حمزہ عباسی کو عید پر ملی دوہری خوشیاں، اللہ نے دیا بیٹا،نام کیا رکھا ، بتا دیا

    نیمل خاور کے بعد حمزہ علی عباسی نے بھی شوبز انڈسٹری کو خیر باد کہہ دیا

  • اور بے شک ہماری تمام تکلیفوں اور پریشانیوں کے لیے اللہ رب العزت ہی کافی ہیں  تحریر: اخت طلحہ

    اور بے شک ہماری تمام تکلیفوں اور پریشانیوں کے لیے اللہ رب العزت ہی کافی ہیں تحریر: اخت طلحہ

    اخت طلحہ……

    میں کبھی کسی کو برا نہیں سمجھتی۔۔۔۔۔
    نہ میں کسی سے نفرت کرتی ہوں۔۔۔۔۔

    نہ کسی کے لئے دل میں بغض و کینہ رکھتی ہوں۔۔۔۔۔

    بس کبھی کبھی وقتی طور پہ غصہ ہوجاتی ہوں۔۔۔۔۔

    لیکن کبھی کبھی تو بلکل ہی ہمت ہار جاتی ہوں کہ میں ہی کیوں تھی اس آزمائش کے لیئے…..پھر آنسوؤں میں بے بسی بہا دیتی ہوں ۔۔۔۔اور پھر قرآن کی یہ آیت مجھے پرسکون کر دیتی ہے ،،،،وما کان ربک نسیا،،،،،، سورہ19 :آیت 64

    پھر یہ سوچ کے چپ کرجاتی ہوں کہ اس انسان کا اتنا ہی ظرف تھا۔۔۔۔

    میں اکثر ہی سچے جھوٹے وعدوں پہ یقین کرلیتی ہوں۔۔۔۔میں دوسروں کی جھوٹی ہمدردیوں پر یقین کر لیتی ہوں۔۔۔۔
    کیونکہ میں انسان کے اندر جھانک نہیں سکتی اس کا من نہیں پڑھ سکتی۔۔۔۔

    مجھے بہت لوگ ایسے ملے ہیں جنھوں نے ظاہری طور پر میری خیرخواہی کی لیکن حقیقت میں مجھ سے حسد کرتے تھے۔۔۔۔۔

    بہت لوگ ایسے بھی ملے جنھوں نے ظاہری طور پر میرا ساتھ دیا لیکن حقیقت میں مجھ سے بہت دور تھے۔۔۔۔۔۔

    کچھ ایسے بھی ملے جنھیں میری خوشی اور کامیابی سے مسکراہٹ ملتی تھی لیکن حقیقت میں وہ میری تکلیفوں میں مسکرایا کرتے تھے۔۔۔۔۔۔۔

    کچھ ایسے بھی تھے جنھیں میرے آنسو سے تکلیفوں ہوتی تھی لیکن حقیقت میں تو وہ میری مسکراہٹ پر رویا کرتے تھے۔۔۔۔۔

    میں کچھ لوگوں کی بے وفاٸی کا بدلہ ہر کسی سے نہیں لے سکتی۔۔۔۔
    ۔
    میرا بھی دل چاہتا ہے کہ ان سے بدلہ لیا جائے ان کو بتا دیا جائے کہ کسی انسان کے جذبات اس کے مخلص ہونے کا فائدہ اٹھانے والوں کے ساتھ کیا کچھ ہوسکتا ہے لیکن تھوڑی دیر کے سارا کا سارا غصہ جھاگ بن کر بیٹھ جاتا ہے۔۔۔۔۔

    پھر یہی سوچ کر چپ کر جاتی ہوں کہ یہ دنیا تو مکافات عمل ہے اگر میں کچھ نا بھی کروں تو یہ دنیا انھیں اسی جگہ پھر لا کر کھڑا کردے گی۔۔۔۔۔۔۔

    اور اگر اس دنیا میں نہیں تو آخرت میں میرے اللہ سبحان و تعالی ہیں نا۔۔۔۔۔

    وَ لِرَبِّکَ فَاصۡبِرۡ ؕ﴿۷﴾

    اور اپنے پروردگار کی خاطر صبر سے کام لو ۔ ( ٤ )

    کیونکہ ہم جیسے لوگ بس اپنی ذات کو ختم تو کرسکتے ہیں لیکن کسی اور کی ذات کو نہیں ۔۔۔۔۔

    یہ نہیں کہ ہم اچھے ہوتے ہیں بلکہ ہماری براٸی اپنی ذات تک محدود ہوتی ہے کسی اور کو تکلیف دینا عادت نہیں ہوتی۔۔۔۔۔۔

    اور بے شک ہماری تمام تکلیفوں اور پریشانیوں کے لیے اللہ رب العزت ہی کافی ہیں۔۔۔۔۔

    اللہ تعالی ہمیں ایسے لوگوں کی شر سے محفوظ فرمائیں آمین یا رب العالمین۔۔۔۔!!!

  • عید اور کچھ یادیں  تحریر:جویریہ بتول

    عید اور کچھ یادیں تحریر:جویریہ بتول

    عید اور کچھ یادیں…!!!
    (تحریر:جویریہ بتول)۔
    عید رشتہ داروں کے ملنے کا بھی ایک موقع فراہم کرتی ہے…
    آپس میں مل بیٹھنے اور پیاری پیاری یادیں شیئر کرنے کا بھی نام ہے…
    میرے بڑے ماموں عید ملنے آئے تو ان کے ساتھ دوستانہ گپ شپ ہونے کی وجہ سے میں زیادہ دیر اُن کے پاس بیٹھتی ہوں…
    ویسے بھی مجھے اپنی عمر کی نسبت بڑے بزرگوں کی مجلس کرنا بہت پسند ہے،اور عمومًا ایسا ہی ہوتا ہے،اس سے آپ کے اندر حسِ مشاہدہ،خود اعتمادی اور اُن کے تجربات سے بہت کُچھ سیکھنے کو ملتا ہے…
    گھر میں بھی والدین کے پاس بیٹھ کر ماضی کے تجربات کو کریدنا بہت اچھا لگتا ہے،یہی وجہ ہے کہ بھائی اور بہن کی نسبت خاندانی معلومات میرے پاس زیادہ ہوتی ہیں…
    آج بھی بات یونہی نکلی کہ پہلے وقت کے لوگ پر سکون،سادہ مزاج اور مخلصی پر مبنی تعلق رکھتے تھے…
    اُن میں ریا،بناوٹ اور دھوکہ دہی کم تھی جو کہ آج اس قدر سرایت کر گئی ہے کہ ایک گھر کے افراد بھی ایک دوسرے کو دھوکہ دینے سے نہیں چوکتے…
    میرے نانا میرے بچپن میں ہی وفات پا گئے تھے لیکن اُن کو یاد کرنا،دعائے مغفرت اور اُن کے انداز و کردار کی کہانیاں سننا مجھے آج بھی بہت پسند ہیں…
    بچپن میں نانا نانی کے ہاں جانا اور اُن کی آنکھوں میں پیار کی چمک کبھی نہیں بھولتی…
    نانا مرحوم کی دوستی اور اخلاص کے تعلق کے واقعات اکثر امی بھی سناتی ہیں اور آج بھی دل کھول کر شیئر کیئے گئے…
    واقعی انسان کی اصل قیمت اس کا کردار ہوتا ہے نہ کہ مال و دولت کے انبار…اور ظاہری ٹیپ ٹاپ۔
    ماموں بتا رہے تھے کہ نانا جی ایک دفعہ کسی کام سے فیصل آباد گئے تو واپسی پر ضلع کے تحصیلدار نے کہا کہ بزرگو میری بیوی اور بچے بھی اسی گاڑی میں آپ کے شہر جا رہے ہیں جہاں وہ رہتے تھے تو ان کا بھی سفر میں خیال رکھیئے گا.
    تو نانا جی نے نہ صرف پورے رستہ میں بچوں کو اُس وقت کے مطابق ٹافی،بسکٹ خرید کر دیا بلکہ ان سب کا کرایہ بھی ادا کیا…
    انہیں منزل پر پہنچا کر گھر کا رُخ کر لیا…
    تحصیلدار کی بیوی نے کہا کہ بابا جی آپ رات ہمارے یہاں گزاریں اور خدمت کا موقع دیں ہماری بیٹھک خالی ہے…
    مگر وہ نہ مانے،وقت گزر گیا کافی وقت بعد تحصیلدار نے کسی مجلس میں نانا جی کا تذکرہ کیا کہ اس نام کے شخص کو کوئی جانتا ہے تو ایک شخص نے ہاں کہی…
    اس سے کہا گیا کہ جاؤ انہیں بلا کے لاؤ میں تو اُن سے ملنا چاہتا ہوں پھر مجھے وہ نظر نہیں آئے…!!!
    جب نانا جی گئے تو خوب خاطر مدارت کے بعد علاقہ کے دو جھگڑوں کا فیصلہ بھی اُن کی رائے کے مطابق کر کے عزت افزائی کی…!!!
    اُن کے تعلقات دور دور تک تھے اور ارد گرد کے دیہات میں ہر جگہ ان کے دوست تھے جو اپنی اولادوں کو بھی اچھے رویے اور حسن سلوک کی تلقین کرکے گئے جن کے فوائد ماموں کے بقول وہ آج بھی اُٹھاتے ہیں…!!!
    بات کو بہت خوب صورتی سے ناقابلِ تردید انداز میں کرنے کا ملکہ حاصل تھا…
    ایک دفعہ کی بات ہے کہ اپنے ننھیال گئے تو وہاں ایک رشتہ دار سے راستے میں ملاقات ہوئی،ان کے گھر جانے کا وقت میسر نہیں تھا،
    سب گھر والوں کی خیریت وہیں دریافت کر لی رشتہ دار نے کہا والد صاحب کی طبیعت ناساز رہتی ہے…
    نانا جی چونکہ ان پڑھ تھے لیکن بہت زیرک انسان،سمجھ گئے کہ بہانے کا یہ بہترین موقع ہے کیونکہ وہ پڑھے لکھے کزن تو شاید اسے معصومیت ہی سمجھیں گے اور شکوہ بھی باقی نہیں رہے گا…
    جھٹ بولے "اچھا ناساز ہیں وہ الحمدللہ…”
    رشتہ دار سٹپٹایا…
    کہ جی ناساز کا مطلب خراب طبیعت ہوتی ہے…!!!
    نانا جی مسکراتے ہوئے بولے:
    اچھا اچھا میں سمجھا ناساز بہتر طبیعت کو کہتے ہیں…
    اتنی گہری لغت کو پڑھا جو نہیں ہے،
    میرا پوچھنا کیجیئے گا پھر کبھی چکر لگاؤں گا…!!!
    ان کے ایک دوست ایک دفعہ اُن سے ملنے آئے تو ایک بزرگ نے اعتراض کیا کہ آپ اُن کے گھر آتے ہیں ہمارے گھر نہیں،حالانکہ واقفیت تو ہماری بھی ہے آپس میں…!!!
    نانا جی کا وہ دوست بولا یہ سچ ہے کہ ہماری واقفیت ضرور ہے مگر اتنی ہی کہ ہم اکھٹے نوکری کرتے رہے دس سال تک بس منافع بانٹنے تک بات ہوتی تھی باقی کبھی کچھ نہیں پوچھا دُکھ سکھ…
    جبکہ اُس شخص نے مجھے کرایہ پر مکان نہ ملنے تک زمینوں پر بنے ڈیرے میں رہائش دینے کے ساتھ ساتھ تین وقت کی روٹی بھی فراہم کی،دوستی مفاد پر نہیں بنتی،دوستی اخلاص اور مشکل وقت میں ساتھ دینے پر بنتی ہے۔
    وہ بزرگ خاموش رہ گئے…
    اسی طرح ایک دفعہ ایک کمرے کی چھت کا سامان خریدنے گئے دوسرے شہر میں،
    پرانے وقتوں میں لوگ مختلف چیزوں کی چھتیں ڈالتے تھے،
    وہ اس سامان کو سر پر اٹھائے ہوئے گزر رہے تھے کہ ایک دوست کے بچوں اور بیوی نے دیکھ لیا وہ قریب پہنچ کر سلام دعا کرنے لگے…
    نانا جی نے وہ سامان سر سے اُتارا اور پگڑی سے منہ صاف کر کے انہیں ملے اور پھر گاڑی پر بٹھا کر کرایہ بھی دیا اور بچوں کو کچھ نقدی بھی…
    یعنی بناوٹ اور تکلف سے کوسوں دور حقیقت کے رنگ میں ڈھلی ہوئی زندگیاں کتنی خوب صورت ہوتی تھیں…
    اُن کے تعلقات ہر شعبہ کے لوگوں سے رہتے تھے تیس سال پہلے ایک دفعہ ان کے خاندان سے کوئی شخص علاقے کی ایک سیاسی شخصیت کے پاس گئے تو اس وقت تقریبًا دو ہزار روپے میں جو آج کی بہت بڑی قیمت کے برابر تھے فورًا کھانے کا آرڈر دیا اور پھر بعد میں بتایا کہ یہ صرف نانا جی کے تعلق کی بنیاد پر تھا…!!!
    اُن کے دوستی دیرپا اور گھاٹے کھانے اور قربانی والی ہوتی تھی یہ نہیں کہ صبح ادھر،شام ادھر…
    اور اسی بات کی سب کو قدر بھی تھی…
    گھمبیر مسائل کو اپنی قوتِ فیصلہ اور بہترین حکمتِ عملی سے طے کر لیتے تھے…
    کسی کا ذہن بنانا اور آمادہ کرنا پرانے وقتوں کے جھگڑوں اور مسائل میں مشکل بات تھی جس سے وہ مالا مال تھے…واقعات تو بہت زیادہ ہیں لیکن
    یہ چند مخلصانہ یادیں اچھی لگیں تو ضبطِ تحریر میں لے آئی…
    واقعی وہ لوگ دور اندیش،زیرک اور مخلص لوگ تھے،ایک دوسرے کے غم اور خوشیاں شیئر کرنے والے لوگ تھے۔
    آج کے تعلقات سرخی پاؤڈر تعلقات ہیں…جب پسینہ انہیں بہا لے جاتا ہے تو نیچے سے اصلی اور کھرے چہرے نکل کر اپنی اصلیت اور حقیقت دکھا دیتے ہیں…
    حسد،برائی،چغل خوری عام ہو چکی ہے اور لوگ اچھے وقت تک ساتھی بنتے ہیں اور مشکل وقت میں پھنسا دیکھ کر منہ موڑ جاتے ہیں جبکہ ماضی میں لوگ مشکل اوقات میں بھی کندھوں سے کندھے ملا کر کھڑے رہتے تھے…
    یہی اصل دوستی اور دوستی کا مقام ہے جس میں بناوٹ،ریا اور جھوٹ نہیں ہوتے…!!!
    آج نانا جی کے گھر کی جگہ بہترین گھر اور دنیا کی ہر آسائش موجود ہے مگر اُن کی یادیں، باتیں اور تربیت آج بھی مشعلِ راہ اور بہترین زادِ سفر ہیں جنہوں نے اُس وقت میں کم وسائل کے ساتھ خوب صورت اور سادہ زندگی گزاری اور آج یقینًا یہ سب انہی کی دعاؤں کا ثمر ہے…!!!
    اللّٰہ میرے آباء کو بخش دے،
    اور انہیں جنتوں کا مستحق بنا دینا…!!!آمین ثم آمین…!!!
    یہ سچ ہے کہ آنے والے آتے رہتے ہیں مگر جانے والوں کی کمی کبھی پورا نہیں ہوا کرتی…!!!
    ہر رشتے کا ایک مقام اور وقار ہے،اللہ ہمیں رشتوں کی قدر کرنے کی توفیق عطا فرمائے کہ یہ زندگی کا حُسن ہیں…!!!
    ===============================

  • جھیل کے اس پار  تحریر: عمر یوسف

    جھیل کے اس پار تحریر: عمر یوسف

    جھیل کے اس پار

    عمر یوسف

    رمضان المبارک کا مہینہ ابھی دو عشرے ہی مکمل ہوتا ہے کہ سب لوگ عید کی آمد کے منتظر ہوجاتے ہیں۔۔۔
    ایک عجیب سی مسرت کی کیفیت چھائی رہتی ہے ۔۔۔

    جونہی ذوالحجہ کا چاند نظر آتا ہے بڑی عید کے آنے کا انتظار میں طبیعت شاداں و فرحاں ہوجاتی ہے ۔۔۔۔

    کسی عزیز کی شادی ہو تو لوگ پہلے ہی منصوبہ بندی کرتے ہیں اور شادی آنے کی خوشی میں نہال ہوہو جاتے ہیں۔۔۔

    لیکن تلخ حقیقت یہ ہے کہ جونہی عیدالفطر آتی ہے یا عیدالضحی آتی ہے ۔۔ یا عزیز کی شادی کا دن آتا ہے تو لوگ اکتاہٹ کا شکار نظر آتے ہیں ۔۔۔ یا تو سو جاتے ہیں یا ٹائم گزاری کے لیے پلاننگ بناتے رہتے ہیں ۔۔۔۔ سارا دن گزرانے کے بعد دوست احباب کے پوچھنے پر یہی جواب دیتے ہیں کہ ہم نے سارا دن سو کر گزار دیا ۔۔۔۔

    یہ انسانی فطرت ہے کہ انتظار میں ہی خوشی ہے ۔۔۔کسی کے آنے کی امید ہی راز مسرت ہے ۔۔۔ کسی چیز کو حاصل کرنے کی جستجو میں ہی مزا ہے ۔۔۔ جونہی مطلوبہ چیز ہمیں حاصل ہوتی ہے تو زندگی میں کوئی خاص تبدیلی محسوس نہیں ہوتی بلکہ پہلے جیسے ہی لگتی ہے ۔۔۔۔

    انسان سوچتا ہے کہ ڈگری حاصل کرلوں گا تو زندگی کا مطلب ہی بدل جائے گا ۔۔۔۔ ڈگری تو آگئی لیکن زندگی تو وہی سراب محسوس ہورہی ہے ۔۔۔

    انسان سوچتا ہے شادی ہوجائے گی یا جاب لگ جائے گی تو زندگی جنت کی مانند ہوجائے گی ۔۔۔۔ لیکن ان چیزوں کو حاصل کرنے بعد انسان کے گمان کے مطابق حالات نہیں ہوئے بلکہ وہی پہلے جیسی زندگی مزید ذمہ داریاں لیے سر پر کھڑی ہوتی ہے ۔۔۔۔

    کرنل شفیق الرحمن یاد آئے ۔۔۔ کہتے تھے ہم جھیل کے ایک کنارے پر کھڑے سوچتے ہیں دوسرا کنارا جنت نظیر ہوگا ۔۔۔ لیکن پہنچنے پر معلوم ہوتا ہے کہ وہ تو خاردار جھاڑیوں پر مشتمل ہے ۔۔۔۔

    اچھے خواب دیکھو کیونکہ ان خوابوں کو حاصل کرنے کا سفر انتہائی خوشگوار ہے ۔۔۔ لیکن جہاں یہ خواب مل جاتے ہیں وقتی خوشی کے بعد وہی بیزاری اکتاہٹ اور بورڈم محسوس ہوتی ہے ۔۔۔۔ لیکن کیا ہوا جو یہ منزل بوریت کن ہے ۔۔۔ تم نیا خواب دیکھو اور اس کو حاصل کرنے کا مزیدار سفر شروع کردو ۔۔۔ یو خوابوں کے حصول کے سفر میں زندگی کا سفر بھی خوشگوار ہوجائے گا۔۔۔

  • یاسر حسین  کا سوشل میڈیا پر اپنے ’جانو بکروٹا‘ کے لئے محبت بھرا جذباتی پیغام

    یاسر حسین کا سوشل میڈیا پر اپنے ’جانو بکروٹا‘ کے لئے محبت بھرا جذباتی پیغام

    پاکستان شوبز انڈسٹری کے معروف اداکار و میزبان یاسر حسین نے سوشل میڈیا پر اپنے قربانی کے بکرے کے لئے محبت بھرا جذباتی پیغام شئیر کردیا-

    باغی ٹی وی : اداکار و میزبان یاسر حسین نے اس عید پر بکرے کی قربانی کی تھی عید کےدو سرے ہی روز انہیں اپنے بکرے کی یاد ستانے لگی کہ اُس کے لیے یاسر حسین نے سوشل میڈیا پر محبت بھرا پیغام جاری کردیا۔
    https://www.instagram.com/p/CDYHS0gjTeG/?igshid=4c0p75eahdpw
    انسٹاگرام پر اداکار یاسر حسین نے اپنی بکرے کے ساتھ ایک تصویر شیئر کی ہے، جس میں انہوں نے مہرون رنگ کا شلوار قمیض پہنا ہوا ہے اور وہ مسکرا رہے ہیں۔

    تصویر شئیر کرتے ہوئے کیپشن میں اداکار نے لکھا کہ یہ بہت پیارا اور خوش مزاج بکرا تھا، میرے پاس ایک دن رہا ایک دن میں ہمارے گھر کے سامنے والے چوکیدار سے اس نے بہت دوستی کرلی تھی۔

    یاسر حسین نے لکھا کہ بغیر رسی کے اس کے ساتھ گھوم رہا تھا، اس کے سر پر ہاتھ پھیرنا بند کرو تو گردن کے اشارے سے دوبارہ سر پر ہاتھ رکھنے کو کہتا تھا۔

    انہوں نے لکھا کہ کاش میں اُسے پورے سال پالتا اگلی دفعہ کم از کم کچھ مہینہ پہلے جانور لاؤں گا-

    اداکار نے اپنے بکرے کا نام بتاتے ہوئے کہا اور ہاں اس کا نام ’جانو بکروٹا‘ تھا۔

    اپنی پوسٹ کے آخر میں انہوں نے لکھا کہ یہ یعنی بکرے کا گوشت بہت مزے کا تھا۔

    عثمان خالد بٹ کی دلچسپ تصاویر سوشل میڈیا پر وائرل

    ایک دوسرے سے حسن سلوک سے پیش آئیں اور غیرمشروط محبت کریں