Baaghi TV

Author: عائشہ ذوالفقار

  • انسانیت کہاں ہے؟؟؟  تحریر:عشاء نعیم

    انسانیت کہاں ہے؟؟؟ تحریر:عشاء نعیم

    انسانیت کہاں ہے؟؟؟
    عشاء نعیم

    انساں کہاں ہیں ؟انسانیت کہاں ہے ؟
    ہمیں نوچتے ہیں درندے ۔
    کیا یہ انسانوں کا جہاں ہے ؟
    مہینوں سے قید کر کے جو ظلم ہم روا ہے ۔
    بیوی بھی رو رہی ہے بہنا بھی رو رہی۔
    کہاں ہےجگر کا ٹکڑا پوچھتی ہر ماں ہے۔
    بیماروں کا علاج ہے نہ بھوکوں کے لئے کھانا
    بس رات دن ادھر چلتی گولیاں ہیں
    پکاریں امت مسلمہ کو یا اہل کفر کو ہم
    بندھے ہاتھ امت کے،بند کفار کی زباں ہے
    سینکڑوں ملک اور اک دہشت گرد ریاست
    سب ہاتھ باندھے کھڑے بن کر ناتواں ہیں۔
    ہمارا حق تو تسلیم کرتے ہو اے دنیا والو!
    دینے کو تیار نہیں ،کہ ہم مسلماں ہیں ۔
    اے دنیا والو ! اے دنیا کے سوداگرو !
    ڈرو اس رب سے جو مالک دو جہاں ہے۔
    ٹکرا گئیں آسماں سےجب ہماری آہیں
    مل جائے گا خاک میں جو تم کو گماں ہے
    ہماری جانیں، ہماری عزت، ہمارے آنسو ۔
    بیکار سمجھتے ہو تو تم جیسے ناداں ہیں
    ذرا یاد کرو فرعون و نمرود کو بھی
    کیسے پلٹائی میرے رب نے بازیاں ہیں
    تم بھی ،ہاں تم بھی ہو جاؤ گے برباد ۔
    جو رقم کر رہے ہو داستان خونچکاں ہے
    ہمیں بھی انتظار ہے اب قاسم و ایوبی کا
    ہوگی ختم جو یہ ظلم کی داستاں ہے

  • داستانِ الم، بھارتی ڈرامہ اور حقوق انسانی   تحریر: سفیر اقبال

    داستانِ الم، بھارتی ڈرامہ اور حقوق انسانی تحریر: سفیر اقبال

    داستانِ الم، بھارتی ڈرامہ اور حقوق انسانی
    تحریر سفیر اقبال

    یہ ہے نصف صدی پر محیط ظلم و جبر کی وہ ساری داستاں جو صرف چار تصاویر تصاویر میں نظر آ رہی ہے.

    حملہ کیسے شروع ہوا کہاں سے شروع ہوا نہیں معلوم. بے بنیاد الزام آتنک وادیوں پر لگ گیا بہرحال تصاویر کے مطابق ایک بیگناہ کشمیری شہید ہو گیا جس کا تین چار سال کا پوتا چلتی گولیوں کے درمیان اس کے سینے پر بیٹھا رہا کہ دادا جان ابھی شاید نیند سے بیدار ہو جائے اور مجھے واپس گھر لے جائے.

    اگلی تصویر میں بے یار و مددگار دادا کی لاش پڑی ہے اور اس کے ساتھ فوجی اس انداز میں کھڑے ہیں جیسے یہ انسان کی نہیں کسی جانور کی لاش ہو…. (کچھ انسانی رمق باقی ہو تو جانور کی لاش کے پاس بھی اس انداز میں بے فکری سے کھڑے ہونا مشکل ترین کام ہوتا ہے )

    اس سے اگلی تصویر میں بچے کو اٹھا کر پیار کیا جا رہا ہے اور اس سے اگلی تصویر میں اس کو ٹافیاں عنایت کر دی گئیں.


    یہ ہے کہانی ہر اس کاشمیری نوجوان کی جو بچپن میں اپنے باپ دادا، چاچو، ماموں کو بے قصور مرتا دیکھتا ہے اور اپنے دل میں انتقام پالنا شروع کر لیتا ہے. یہ مناظر بھولنے والے نہیں. یہ زخم کسی مرہم سے ٹھیک ہونے والے نہیں.

    برہمن آبادی کا تناسب تبدیل کرنے کے لیے نہ تو سارے مسلمانوں کو قتل کر سکتا ہے اور نہ ہی انہیں ان کی زمین سے نکال سکتا ہے. صرف ایک ہی طریقہ پے اس کے پاس کہ کسی طرح ان کا دل جیتا جائے لیکن دل جیتنے کا طریقہ بے قصور باپ کو قتل کرنے کے بعد بیٹے کو ٹافیاں دینا کبھی نہیں ہو سکتا. جس زمین پر آگ بوئی جائے وہ پھول پیدا نہیں کر سکتی.

    نوجوان وقتی طور پر خاموش ہو بھی جائیں لیکن باپ یا دادا کے قاتل کبھی نہیں بھلائے جا سکتے…..! ظالم بنیا اپنی تدبیریں کرتا ہے مگر کچھ تدبیریں اللہ رب العزت کرتا ہے اور اسی کی تدبیر سب سے کارگر ہے.

    آرمی کے غنڈے لاکھ دنیا کو دکھاتے رہیں کہ ہم کشمیری بچوں سے محبت کرتے ہیں مگر کشمیری شہداء کے چھینٹوں سے تر اپنے سرخ دامن نہیں چھپا سکتے. انتقام کی آگ بہت اذیت ناک ہوتی ہے جو دلوں میں اگر ایک بار بھڑک اٹھے تو چند ٹافیاں اس آگ کو کبھی نہیں بجھا سکتیں.

  • اہل کشمیر پر ظلم و ستم اور عالمی خاموشی  ازقلم :- محمد عبداللہ گِل

    اہل کشمیر پر ظلم و ستم اور عالمی خاموشی ازقلم :- محمد عبداللہ گِل

    اہل کشمیر پر ظلم و ستم اور عالمی خاموشی
    ازقلم :- محمد عبداللہ گِل

    مقبوضہ کشمیر میں انڈین آرمی نے اپنا غاصبانہ جما رکھا ھے۔دن بدن ان درندوں کا ظلم بڑھتا جا رہا ھے۔1947ء سے لے کر اب تک ہزاروں بے قصور عام شہریوں کو انڈین آرمی نے اپنے ظلم و ستم کا نشانہ بنایا ھے۔لیکن آج کے دن جس شہری کو نشانہ بنایا گیا اس کی حالت مختلف تھی۔وہ اپنے بیٹے کے ساتھ شہر سے دودھ لینے گیا اور اس کو بلاوجہ قتل کر دیا گیا۔وہ بے سپہ و اسلحہ تھا۔اس میں اس عام شہری کے بنیادی حقوق جو کہ اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کی بنیاد پر دئیے گئے ہیں اسے وہ پامال کیے گئے.اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے کمیشن کے مطابق جو بنیادی حقوق ہے وہ یہ "بنیادی حقوق مشترکہ اقدار جیسے وقار ، انصاف پسندی ، مساوات ، احترام اور آزادی پر مبنی ہیں۔ یہ اقدار اقوام متحدہ کے قانون کے ذریعہ بیان اور محفوظ ہیں”
    پہلی بات تو یہ ہے کہ انڈین آرمی کا کشمیر پر قبضہ اقوام متحدہ کی 1947ء کی قرار دادوں کے بلکل خلاف ہے۔لیکن 73 برس بیت گئے کشمیریوں کو انصاف نہیں ملا۔لیکن امریکہ میں ایک سیاہ فام شخص کا قتل ہوا تو سارے عالمی قوانین بیدار ہو گئے۔ان کشمیریوں کا قصور صرف اتنا ہی ہے کہ وہ مسلمان ہیں اور یہ نعرہ لگاتے ہیں
    "پاکستان سے رشتہ کیا لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ”
    بھارتی حکومت نے کشمیر میں انڈین آرمی کی تعداد میں مزید اضافہ کر دیا ہے اور انڈین حکومتی اداروں نے کشمیر میں کرفیو نافذ کر کے نہتے ،مجبور و مظلوم کشمیریوں پہ ظلم و ستم کی انتہاء کر دی ہے۔یہ کرفیو دوسو روز سے جاری ہے۔ انڈین آرمی بلا اجازت گھروں میں داخل ہو کر جسے چاہتی ہے اٹھا لیتی ہے۔خاص طور پر جوان بچوں کو حریت پسند کہہ کر اپنے ساتھ لے جاتی ہے اور پھر چند دن کے بعد ان کی تشدد شدہ لاشیں کسی اور علاقے سے ملتی ہیں ،اسی طرح مسلم عورتوں کو بھی گھروں سے اٹھا لیا جاتا ہے اور عصمت دری کے بعد یا تو مار دیا جاتا ہے یا پھر انتہائی بری حالت میں یہ مجبور خواتین کسی علاقے میں پھینک دی جاتی ہیں۔ یہی نہیں کسی بھی گھر کو آگ لگانا گھر سے سامان لے جانا اور توڑ پھوڑ کرنا تو روز کا معمول بن گیا ہے ۔۔۔ستم بالائے ستم کہ بین الاقوامی میڈیا کو کشمیر سے اول تودور رکھا جا رہا ہے یا اگر اجازت دی بھی جا رہی ہے تو چند مخصوص علاقوں تک ہی میڈیا کی رسائی ہے ، ان علاقوں تک جانے ہی نہیں دیا جا رہا جہاں یہ سفاک گورنمنٹ اپنی فوج کے ساتھ آگ و خون کا کھیل کھیل رہی ہے ۔ اس وقت ان مظلوم کشمیریوں کی داد رسی کرنے والا یا مددگار کوئی نہیں سوائے خدا کی ذات کے۔ ہزاروں گھرانے بے یارو مدد گار ایک اللہ اور پاکستانیوں کی مدد کی آس لگائے بیٹھے ہیں۔لیکن ہمارے ہاں کیا ھے اگر کوئی 2 سے 3 ماہ بعد بیان بھی دیا جاتا ہے تو یہ کہ دیا جاتا ہے
    "ہم کشمیریوں کی اخلاقی،سیاسی مدد کے لیے تیار ہیں۔”
    اگر یہ سب ظلم و جبر کشمیریوں پر اس لئے کیا جاتا ہے کہ وہ حقِ خود ارادیت مانگتے ہیں تو اقوامِ متحدہ ان مظالم پر کیوں خاموش ہے؟ انسانی حقوق کے دعویدار کہاں ہیں؟

    سوال یہ پیدا ہوجاتا ہے کہ کیا کشمیر سے باہر کے مسلمانوں کو کشمیری مسلمانوں پر ڈھائے جانے والے مظالم پر خاموش رہنا چاہئے؟ یا ان کا بھی کوئی وظیفہ بنتا ہے؟ جواب یہ ہے کہ کشمیری مسلمان دوسری مسلم قوموں سے ہرگز جدا نہیں۔ سارے مسلمان بھائی بھائی ہیں۔ آج شام، فلسطین اور کشمیر میں دشمن انسانیت کے ظلم وستم کی بھڑکائی ہوئی آگ میں گویا سارے جہاں کے مسلمان جل رہے ہیں۔ ایک مسلمان پر دوسرے مسلمانوں کے بہت سارے فرائض اور حقوق ہیں۔ ایک دوسرے کی حفاظت کرنا، ایک دوسرے کے دکه سکه میں شریک ہونا اہم فرائض میں سے ہیں۔ پیغمبرؑ گرامی اسلام کا یہ صریح ارشاد ہے کہ جو کوئی مسلمانوں کے امور کے بارے میں اہتمام کئے بغیر صبح کرے وہ مسلمان نہیں۔ نیز آپؑ نے فرمایا کہ اگر کوئی مظلوم کسی مسلمان کو مدد کے لئے پکارے اور وہ اس کی مدد نہ کرے تو وہ بھی دائرہ اسلام سے خارج ہے۔ نیز فرمایا مسلمان مسلمان کا بھائی ہے نہ وہ اس پر ظلم کرتا ہے اور نہ اس کا ساتهہ چھوڑتا ہے اور نہ اسے حوادث کے حوالے کرتا ہے۔

    اس کے بعد کچھ قصور اپنوں کا بھی ھے۔کشمیر میں مسلمان ہی بستے ہیں نہ لیکن ہمارا یہ حال ہے کہ ہم اس طرح ان کے حق میں آواز بلند نہیں کر رہے۔موجودہ حکومت نے جب ریاست مدینہ کی بات کی تو بہت خوشی ہے کہ اب مظلوم کو انصاف ملے گا۔لیکن سب امیدیں بے سود۔پاکستان سے ہی کشمیریوں کی امیدیں وابستہ ہیں اور ہم ان کی امیدوں پر پورا نہیں اتر ریے۔
    اسلامی تعاون تنظیم (OIC) جو کہ مسلمانوں کی نمائندہ تنظیم ہے۔اس کا تو یہ حال ہے کہ ظلم و بربریت کے خلاف اجلاس منعقد ہونے میں ہی تین سے چار ماہ لگ جاتے ہیں۔اس ظلم و ستم کے خلاف فوری طور پر اجلاس منعقد ہونا چاہیے اور تمام
    مسلم ممالک کو بھارت کے ظلم کا جواب دینا چاہیے۔

  • تیرے (حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم) وجود پہ ہے فہرستِ انبیاء تمام   تحریر:عاشق علی بخاری

    تیرے (حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم) وجود پہ ہے فہرستِ انبیاء تمام تحریر:عاشق علی بخاری

    ترے وجود پہ ہے فہرستِ انبیاء تمام
    (حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صفت خاتم الانبیاء پر بلاگ )
    عاشق علی بخاری

    نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میری مثال نبیوں میں ایسی ہے جیسے کسی شخص نے ایک بہت اچھا گھر بنایا لیکن اس نے ایک اینٹ کی جگہ چھوڑ دی جہاں کچھ نہ رکھا لوگ اسے چارو طرف سے دیکھتے ہیں اور اس کی بناوٹ سے خوش ہوتے ہیں لیکن کہتے ہیں کاش اس ایک اینٹ کی جگہ بھی پُر کردی جاتی تو کیا ہی اچھا ہوتا پس وہ اینٹ میں ہوں. الحدیث
    عقیدہ ختم نبوت قرآن مجید میں 100 بار اور احادیث میں 200 بار بیان کیا گیا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ اب اس نبوت کی عمارت میں کسی طرح کی بھی کوئی گنجائش باقی نہیں کہ اسے کسی اور نبی کے ذریعے پورا کیا جاسکے. عقیدہ ختم نبوت اس قدر اہم ہے کہ اللہ رب العالمین نے وہ تمام دروازے بند کردیئے جو کسی طرح بھی نبوت کے لئے کھلے رہ سکتے تھے. جب اللہ تعالیٰ نے اپنی صفت رب العالمین بیان کی تو ساتھ اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی صفت رحمۃ اللعاملين رکھی. صحابہ کرام نے بھی نبوت کی اس عمارت کو مکمل سمجھنے کے ساتھ ساتھ اپنا خون بھی پیش کیا، عہدِ صدیقی میں جنگِ یمامہ جو نبوت کے جھوٹے دعویدار مسیلمہ کذاب کے خلاف لڑی گئی اس میں تقریبا بارہ سو صحابہ و تابعین نے جام شہادت نوش کیا. حضرت خبیب رضی اللہ تعالی عنہ نے اپنے جسم کے ٹکڑے کروانا برداشت کیا اور یہ برداشت نہ کیا کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے مقابلے میں جھوٹے مسیلمہ کو نبی تسلیم کروں.عقیدہ ختم نبوت کو اللہ تعالی نے خاص اور عام دونوں طریقے سے مکمل اور کامل کر دیا ہے. اور ہر دور میں صرف علماء ہی نہیں بلکہ ان لوگوں نے بھی ختم نبوت کے دفاع کے لیے کام کیا جو صرف عام لوگ ہی تھے بلکہ نبوت کے دفاع میں اپنی جان بھی پیش کردی.
    امیر شریعت سید عطاءاللہ شاہ بخاری رحمہ اللہ جھوٹے مرزا قادیانی کے متعلق فرماتے ہیں. اگر مرزے میں کوئی کمزوری نہ ہوتی وہ مجسمہ حسن و جمال ہوتا، بہادر، مرد میداں ہوتا، کریکٹر کا آفتاب اور خاندان کا ماہتاب ہوتا، شاعر ہوتا، فردوسی وقت ہوتا، ابوالفضل اس کا پانی بھرتا، خیام اس کی چاکری کرتا، غالب اس کا وظیفہ خوار ہوتا، انگریزی کا شیکسپیئر اور اردو کا ابوالکلام ہوتا کیا ہم اسے نبی مان لیتے؟ اگر ابوبکر و عمر عثمان و علی رضوان اللہ علیہم اجمعین جنہیں نبی نے خود جنت کی بشارتیں شہادت کے پروانے سنائے وہ بھی نبوت کا دعوی کرتے تو ہم کبھی بھی قبول نہ کرتے.ختم نبوت کی اہمیت اس لیے بھی ضروری ہے کہ اس سے اور آپ کا دین و ایمان محفوظ رہتا ہے، اس عقیدے کے بغیر اس دنیا سے جانے کا مطلب یہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ وسلم کی سفارش سے ہاتھ دھونا پڑیں.

    شاعر نے کیا خوب کہا
    ترے وجود پہ فہرستِ انبیاء ہے تمام
    تجھی پہ ختم ہے روح الامیں کی نامہ بری
    پاکستان کے آئین و قانون کے لحاظ سے بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو خاتم النبیین ماننا اور اس کی مخالفت کی صورت میں شریعت اور قانون دونو اعتبار سے ایسا شخص دائرہ اسلام سے خارج ہوگا، جیسا کہ 1974 میں قادیانیوں کو غیر مسلم ڈکلییئر کیا گیا. اسی طرح حالیہ دنوں میں ختم نبوت کے حوالے سے قرارداد پاس ہونا بھی انتہائی خوشی کی بات ہے. جس کی رو سے تحریری و تقریری دونوں حالتوں میں لفظِ خاتم النبیین لکھا اور بولا جائے نیز نصابی کتب میں بھی اس کا اضافہ کیا جائے گا.
    یقیناً یہ ان عالمی استعماری طاقتوں کے منہ پہ زور دار تھپڑ سے کم نہیں جو بلاوجہ انسانی حقوق کے نام پر ہمارے دینی و ملکی قوانین میں چھیڑ چھاڑ اور ترمیم کا مطالبہ کرتے رہتے ہیں. ان عالمی گماشتوں کو مظلوم مسلمان بچے، عورتیں، بوڑھے کیوں نظر نہیں آتے؟ انڈیا و اسرائیل اور یورپی ممالک کی اسلامی شعائر پر پابندیاں کیوں اس اندھے، بہرے، گونگے اقوام متحدہ اور اس کے ذیلی اداروں کو نظر نہیں آتی؟
    ہم ایسی کسی بھی سازش کی ہرگز قبول نہیں کریں گے جو اسلام اور ملک پاکستان کے خلاف ہوگی اور ہم حکومت وقت سے بھی یہی مطالبہ کریں گے تمام مقدس شخصیات کی ذات میں توہین آمیز رویہ اپنانے والوں کو سخت سے سخت سزاؤں کے قانون پاس کیے جائیں.

  • چھوٹی چھوٹی نیکیوں کو حقیر مت سمجھیئے…!!! تحریر:جویریہ بتول

    چھوٹی چھوٹی نیکیوں کو حقیر مت سمجھیئے…!!! تحریر:جویریہ بتول

    چھوٹی چھوٹی نیکیوں کو حقیر مت سمجھیئے…!!!
    (تحریر:جویریہ بتول)۔
    بارش کے چھوٹے چھوٹے قطرے جب مل کر برستے ہیں تو تُند و تیز لہروں میں بدل جاتے ہیں…
    ریت اور مٹی کے چھوٹے چھوٹے ذرات سے مل کر ہی ہموار اور زرخیز زمین تشکیل پاتی ہے…
    زینہ زینہ چڑھ کر ہی بلندیوں پر پہنچا جاتا ہے ناں؟
    قدم قدم اُٹھا کر ہی منزل سے ہمکنار ہوا جاتا ہے…
    سو ہمیشہ اپنی قدر کیجیئے،یہ نہ سمجھیئے کہ میں کر بھی کیا سکتی ہوں/سکتا ہوں؟
    مجھ میں بھلا کیا صلاحیتیں ہیں،جنہیں استعمال میں لاؤں؟
    میرے پاس بڑے بڑے منصوبے اور مال ہو گا شاید تب ہی دنیا کو مجھ سے کوئی فائدہ ہو سکے گا؟
    تب تک مجھے مایوسی میں ہی رہنا ہے…
    سوچتے ہی چلے جانا ہے…
    اپنے آپ کو کوستے ہوئے افسوس ہی کرتے رہنا ہے…!!!
    نہیں بلکہ آپ نے اپنی ذات سے دوسروں کو فائدہ پہنچانے کا تہیہ کر لینا ہے…
    سب سے اوّلین مستحق ہمارے گھر کے افراد ہوتے ہیں… الاوّل فالاوّل…
    ہمارے والدین،اولاد،رشتہ دار،پھر وہ جگہیں جہاں ہم کام کرتے ہیں،ہمارا معاشرہ،قوم،اور اُمت یہ سبھی کیٹیگریز ہمارے کردار کی مستحق ہیں…
    ہم اس دین کے ماننے والے ہیں ناں جہاں اپنے بھائی کو مسکرا کر دیکھنا بھی صدقہ ہے…
    جہاں مریض کی عیادت کرنے والا جنت کے باغوں میں گھومتا ہے…
    جہاں للہ کسی کی زیارت کرنے والے کو فرشتہ ندا دیتا ہے تُجھے مبارک ہو،تیرا چلنا خوشگوار ہو اور جنت میں تُجھے ٹھکانہ نصیب ہو…
    جہاں رستے سے تکلیف دہ چیز ہٹا دینا،کسی بھولے اور اندھے کو رستہ دکھا دینا صدقہ ہے…
    کسی کو نیکی کی طرف رہ نمائی کر دینا نیکی کرنے کی مثل ہے…
    بس اپنی سوچ مثبت رکھیئے،
    منفی سوچ،بدگمانیوں اور نفرت و حسد کے جذبات دل کے دریچوں سے نکال باہر پھینکیں…
    کسی کے راز کی حفاظت…
    کسی کے عیوب کی پردہ پوشی…
    کسی کی مصیبت کی گھڑی میں ہمدردی کے چند بول…
    خیر خواہی پر مبنی مشورہ دے دینا…
    کسی کو معاف کر دینا…
    زیادتی پر درگزر کر جانا…
    یقین جانیئے یہ بڑے عزم اور درجہ والے کام ہیں…
    ہم اکثر بڑی بڑی نیکیاں کر کے ان چھوٹی چھوٹی باتوں کی پرواہ نہ کر کے بڑی نیکیوں کو بھی ضائع کر دیتے ہیں…
    اپنے والدین کا ہاتھ پکڑ کر چلنا…
    ماؤں کے کاموں میں ہاتھ بٹا دیجیئے…یہ نہیں کہ ہم سوشل بنے پھرتے ہوں اور ماں دھوپ میں تڑپتی اور کام سنبھالتی رہے…
    ماں کا دور تھکاوٹ سے چُور گزر چکا ہے اب ہماری جوانی کے عمل کا دور ہے…
    اسے موبائل کی غیر ضروری مصروفیات کی نذر ہر گز نہ ہونے دیجیئے…
    مانا کہ ہمارے للہ ہی سہی،محبتوں کے حصار بہت وسیع ہوں،لیکن ماں باپ جیسے رشتے سے بڑھ کر ہر گز نہیں ہو سکتے…
    ہماری عبادات،رب کے ذکر اور تعلیم و تعلم سے بڑھ کر نہیں ہو سکتے…
    اپنا حق بھی پہچانیں…!!!
    اپنی لائف کو مینیج کیجیئے اور اس کے مطابق تمام معاملات ڈیل کرنے کی کوشش کیجیئے…
    اہم چاہے چھوٹا کام ہی کیوں نہ ہو،اسے اولیت دیجیئے…
    غیر اہم بڑا ہی سہی،ثانویت کے درجہ پر رکھیں…
    فراغت کے لمحات میسر ہوں تو انہیں بھی ضائع نہ جانے دیں،اپنے دوست احباب سے، رشتہ داروں سے حال احوال بانٹ لیجیئے…
    کُچھ وقت اُن کے ساتھ بِتایئے…
    انہیں اپنا ہونے کا احساس دلایئے…!!!
    اپنے چھوٹے چھوٹے اعمال سے زندگی کی تصویر میں رنگ بھرنے کی مشق جاری رکھیئے…
    روزانہ قرآن کی ایک آیت ہی خود یا کسی سے سمجھنے کی کوشش کریں…
    ایک حدیث کا مطالعہ کر لیں،زندگی گزارنے کے بہت سے اصولوں سے شناسائی ملے گی…
    تاریخ کا ایک ورق ہی پلٹ کر دیکھ لیں…
    پانچ،سات منٹ نکال کر حالاتِ امت سے آگہی حاصل کریں…
    استغفراللہ،الحمدللہ،سبحان اللّٰہ و بحمدہ سبحان اللّٰہِ العظیم یہ وہ کلمات ہیں جن کے بارے میں پیارے نبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا:
    کہ یہ زبان پر بہت ہلکے لیکن میزان میں بہت بھاری ہیں…کی حاضر دل سے تسبیح پڑھ لیں…
    غرض چراغِ رہ بنیں…
    اُمیدِ سحر بنیں…
    خیر کی قربت…
    شر سے دوری بنیں…!!!
    مسافر ہیں تو زادِ سفر سمیٹیں…
    سب تو تو،میں میں کا کھیل ختم ہو جانے والا ہے اور کام آنے والی چیز فقط بھلائیاں ہیں…!!!
    چھوٹے کاموں کو حقیر نہ سمجھیں…:
    سب سارا دن پانی بہا بہا کر ضائع کر دیتے تھے…
    ایک دن میں نے سوچا کہ جتنا پانی بہہ جاتا ہے اگر کسی پودے کی کیاری میں ہاتھ دھو لیئے جائیں تو ایک تو پودے کی زمین نرم رہے گی،دوسرا کیچڑ سے بھی بچت…
    اب بات مانتے مانتے تو دیر لگتی…
    میں نے یہ ذمہ داری خود اُٹھا لی ،اور صرف ایک دن میں مجھے چودہ مرتبہ صرف ہاتھ دھونے کے لیئے لوٹا بھر بھر کر کیاری کے پاس رکھنا پڑا…
    لیکن فائدہ یہ ہوا کہ سب کی ایک عادت سی بن گئی کہ اب ہاتھ باری باری کیاریوں میں ہی دھونے ہیں…!!!
    زندگی کی خوشیوں سے ان چھوٹی چھوٹی باتوں کو کبھی دیس نکالا نہ دیں،ورنہ یہ زندگی بے رنگ،بے ذائقہ اور پھیکی پھیکی رہ جاتی ہے…
    یاد ہے ناں پیارے نبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی اپنے پیارے صحابی کو نصیحت:
    لَا تَحقِرَنَّ مِنَ المَعرُوفِ شَیئًا…
    ہاں بس اسے یاد رکھیئے،زندگی کا اصول بنا لیجیئے…!!!!!
    ===============================
    [جویریات ادبیات]۔
    ¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤

  • مظلوم مسجد   تحریر: عبدالسلام فیصل

    مظلوم مسجد تحریر: عبدالسلام فیصل

    ” مظلوم مسجد ”
    مسجد توحید اہلحدیث ماڈل ٹاؤن 1988 میں تعمیر ہوئی۔۔ابھی مکمل ہی نہ ہوئی تھی کہ لوگوں نے صرف ایک دن میں شیعہ کی عبادت گاہ کہہ کر شہید کر دیا۔
    اسکے بعد 1997 میں اس مسجد کی تعمیر کی گئی ۔ مسجد تقریبا 20 سال سے قائم و دائم تھی ۔ اسکے بعد اسکی تعمیر رکوا دی گئی ۔۔
    جگہ چونکہ شام لاٹ تھی ۔ اس لئے موجودہ گورنر پنجاب چوہدری سرور صاحب کے ذریعے بار بار کوشش کی گئی کہ مسجد کو اتھارٹی لیٹر جاری ہو جائے ۔۔لیکن انہوں نے بھی بعد میں ہاتھ اٹھا دیئے ۔۔
    اس مسجد پر تعمیراتی لاگت تقریباً 3 کروڑ سے زائد ہے ۔
    دوسری بات یہ مسجد ” محکمہ اوقاف ” میں رجسٹرڈ ہے۔
    تیسری بات ماڈل ٹاؤن اسلام آباد کی تمام کی تمام مساجد کے پاس سی ڈی اے سے متعلقہ کوئی بھی ڈاکومینٹیشن مکمل نہیں ۔۔۔
    بغیر کسی نوٹس دیئے ۔۔۔ ایک ہی روز میں اچانک آ کر اس مسجد کو شہید کرنا ۔ ظلم عظیم ہے ۔۔۔
    سوال یہ ہے ! اس حکومت سے سرکاری سطح پر 80 ایکڑر کی جگہ خرید کر 40 ارب کی خطیر رقم خرچ کر کے گردوارہ بنایا ۔۔ اسی حکومت نے 4 کنال جگہ ہندوؤں کو دیکر اس پر مندر کے لئے سرکاری بجٹ منظور کیا ۔۔۔
    کیا وجہ ہے کہ پانی کے نالے کے قریب کی فضول جگہ جس پر اللہ کا گھر بنا کر اسکو قیمتی بنایا گیا چند مرلوں کے حصول کے لئے اس مسجد کو شہید کیا جا رہا ہے ؟؟؟
    کیا حکومت وقت اتنی غریب ہو چکی ہے کہ ریاست مدینہ میں اللہ کے گھر کے لئے چند مرلے برداشت نہیں کر سکتی ؟؟؟
    خان صاحب !!! مدینے والے کے رب کا سامنا کیسے کرو گے ؟
    علمائے کرام سے مشاورت کئے بغیر شرک کے اڈے تعمیر کئے جا رہے ہیں اور توحید کے باغات کو اجاڑا جا رہا ہے۔۔
    اللہ سے ڈر جاؤ ۔۔۔
    اللہ کی لاٹھی بے آواز ہوتی ہے ۔۔۔
    ازقلم : عبدالسلام فیصل

  • مجھے یقین ہے کہ کینسر میری زندگی کا اختتام نہیں ہے   نادیہ جمیل

    مجھے یقین ہے کہ کینسر میری زندگی کا اختتام نہیں ہے نادیہ جمیل

    بریسٹ کینسر کا شکار پاکستان کی نامور اداکارہ و سماجی کارکن نادیہ جمیل کا کہنا ہے کہ ہم سب کی ہی زندگیاں اختتام پذیر ہوں گی لیکن مجھے یقین ہے کہ کینسر میری زندگی کا اختتام نہیں۔

    باغی ٹی وی : سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر نادیہ جمیل نے اپنی تصاویر کا کولاج شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ کہ کینسر میری زندگی کا اختتام نہیں ایہک دن ہم سب کی زندگیاں ختم ہو جانی ہیں-


    نادیہ نے کہا کہ یہ ایک طے شدہ حقیقت ہے کہ ہم ایک ترتیب سے اپنی زندگی گزارتے ہوئے اپنے اختتامی سفر کی طرف رواں دواں ہیں۔

    نادیہ جمیل نے لکھا کہ ہماری زندگیوں کا سب سے دلچسپ پہلو یہ ہے کہ ہم اپنی ندگی میں آئی ہوئی رکاوٹوں سے کیسے نپٹتے ہیں اور یہ ہی رکاوٹیں ہمیں یاد دہانی کرواتی رہتی ہیں کہ زندگی ابھی ختم نہیں ہوئی۔

    انہوں نے کہا کہ وہ صبر سیکھنے اور اپنی زندگی کے ممکنہ خدشات سے نبردآزما ہونے کیلئے مسلسل کوشش میں ہیں جن میں فتح یاب ہونا ضروری ہے۔

    واضح رہے کہ نادیہ جمیل میں رواں سال اپریل میں بریسٹ کینسر جیسے موذی مرض کی تشخیص ہوئی تھی اور اب آن کا علاج چل رہا ہے ںا دیہ حسین اپنے علاج اور صحت کے بارے میں سوشل میڈیا پر اپنے مداحوں کو آگاہ کرتی رہتی ہیں-

    کینسر مجھ سے میری مسکراہٹ نہیں چھین سکتا ، نادیہ جمیل کی خوبصورت مسکراہٹ

    نادیہ جمیل کا بریسٹ کینسر کی کیمو تھراپی کا دوسرا مرحلہ بھی مکمل

    نادیہ کی دوست نے پچیس سالہ دوستی کی لاج رکھ کر اپنے سر کے بال منڈوا دئیے

  • آن لائن کلاسز کے دوران بچے پڑھائی سے جان چھڑانے کے لئے کیسے بہانے گھڑتے ہیں سنیل گروور نے پردہ فاش کر دیا

    آن لائن کلاسز کے دوران بچے پڑھائی سے جان چھڑانے کے لئے کیسے بہانے گھڑتے ہیں سنیل گروور نے پردہ فاش کر دیا

    بھارتی معروف کامیڈین اداکار سنیل گروور کی آن لائن کلاسز سے متعلق بنائی گئی مزاحیہ ویڈیو سوسل میڈیا پر وائرل ہو گئی۔

    باغی ٹی وی : بھارتی کامیڈی شو ’ دی کپل شرما شو‘ میں گُتھی کا دلچسپ اور مزاحیہ کردار ادا کرنے والے سنیل گروور نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ انسٹاگرام پر ایک ویڈیو شیئر کی جس کے کیپشن میں انہوں نے لکھا ہے کہ ورچوئل کلاسز میں بدمعاش بچے کیا کرتے ہیں

    سنیل گروور کی جانب سے شئیرکی گئی ویڈیو میں کامیڈین اداکار طالب علم اور استانی بن کر دُہرا کردار نبھا رہے ہیں ۔
    https://www.instagram.com/p/CCFoWgYHiCX/?igshid=1go18me6b5igh
    سنیل گوروور نے ویڈیو میں آن لائن کلاسز کے دوران طالب علموں کی جانب سے نیٹ خرابی کا نہ بنا کر نہ پڑھنے والوں طُلبہ کی شرارتوں سے پردہ اٹھا دیا ہے

    ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ بچہ کیسے ٹیچر کے مشکل سوالوں سے بچنے کے لیے نیٹ کنکشن کمزور ہونے کا بہانہ بناتے ہوئے ویڈیو کے پھنس جانے کی اداکاری کر رہا ہوتا ہے مگر پیچھے کے منظر میں کام والی ماسی کمرے میں آتی ہے اور جھاڑ پونچھ کر کے چلی جاتی ہے۔ٹیچر کے پوچھنے پر بچہ بتاتا ہےے کہ پیچھے زیادہ اچھے سگنل آرہے ہیں یہاں کے سگنل کم ہیں اسی لئے سٹک ہو گیا-

    سنیل گرور کی اس ویڈیو سے صارفین خوب لطف اندوز ہو رہے ہیں اور دلچسپ تبصرے کر رہے ہیں-

  • حدیقہ کیانی ارطغرل کو خراج تحسین پیش کرنے کے لئے اپنے گانے کو سراہنے پر مداحوں کی مشکور

    حدیقہ کیانی ارطغرل کو خراج تحسین پیش کرنے کے لئے اپنے گانے کو سراہنے پر مداحوں کی مشکور

    پاکستانی گلوکارہ حدیقہ کیانی نے ترکی کے تاریخی ڈرامہ سیریز دیریلیس ارطغرل کو دل چسپ خراج تحسین پیش کرنے کے لئے اپنے گانے کو سراہنے پر مداحوں کا شکریہ ادا کیا ہے۔

    باغی ٹی وی : انسٹاگرام پر گلوکارہ حدیقہ کیانی نے ایک پوسٹ شیئر کی ہے جس میں انہوں نے ارطغرل غاری کے پوسٹر کے ساتھ اپنی بھی تصویر شیئر کی ہے، تصویر پر لکھا ہے کہ ’ایک ملین ویوز‘یعنی حدیقہ کیانی کی آواز میں ارطغرل غازی کے گانے کواب تک دس لاکھ مداح دیکھ اور پسند کرچکے ہیں۔
    https://www.instagram.com/p/CCBvGZDHw3U/
    حدیقہ کیانی نے کیپشن میں لکھا کہ ہم نے اکیلے صرف فیس بک پر دس لاکھ (ایک ملین) ویوز حاصل کرلیے ہیں، انہوں نے اپنے مداحوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں سپورٹ کرنے کا شکریہ، میں واقعی سب کی بہت مشکور ہوں۔

    واضح رہے کہ کچھ روز قبل گلوکارہ نے انسٹاگرام پر اپنی پوسٹ کے ذریعے مداحوں کو بتایا تھا کہ انہوں نے ترک زبان میں ’ارطغرل غازی‘ کا ٹائٹل سانگ گایا ہے، جو کہ 2 منٹ 58 سیکنڈز پر مشتمل ہے۔

    حدیقہ کیانی نے لکھا تھا کہ پاکستان اور ترکی کے لیے میری محبت کسی دوسرے ملک کی محبت سے بالکل برعکس ہے کیونکہ میرے آباؤ اجداد کا تعلق ترکی کے شہر ازمیر سے ہے اور یہی وجہ ہے کہ میں بچپن سے ہی ترکی سے وابستہ رہی ہوں اور میں نے بچپن میں ہمیشہ ترکی میں منعقدہ بچوں کے بین الاقوامی میلے میں پاکستان کی نمائندگی کی ہے۔

    گلوکارہ نے لکھا کہ 2005 میں جب میں واپس ترکی گئی تھی تو میں نے ’اتاترک کلچرل سینٹر اینڈ اوپیرا ہاؤس‘ میں ایک بار پھر سے پاکستان کی نمائندگی کی تھی اور اس دوران سب سے خاص بات یہ تھی کہ میں نے ترکی کا مشہور گانا ’Sen Aglama‘ گایا تھا اور میں نے اپنی گلوکاری کے ذریعے اُس ملک کے لوگوں سے پاکستانی عوام کی محبت کا اظہار کیا تھا جو ہر اچھے برے وقت میں پاکستان کے شانہ بشانہ کھڑا ہوتا ہے۔

    حدیقہ کیانی نے لکھا تھا کہ میں نے اپنی گلوکار ی کے ذریعے ترکی کے لوگوں کو خراج تحسین پیش کیا ہے تاکہ اسی طرح پاکستان اور ترکی کے مابین ثقافت، فن اور محبت کے ذریعے دوستی پروان چڑھتی رہے۔

    حدیقہ کیانی نے تُرک عوام کے دل جیت لئے

  • آریان کارتیک ٹویٹر ٹرینڈ بننے پر آریان اور والدہ پریشان

    آریان کارتیک ٹویٹر ٹرینڈ بننے پر آریان اور والدہ پریشان

    بھارتی اداکار کارتیک آریان کا نام اس وقت ٹویٹر پر ٹرینڈ بن گیا جب انہوں نے پنجاب کی کترینہ کیف (شہناز گل) کی پوسٹ پر مضحکہ خیز تبصرہ کیا تھا اداکار کا نام ٹویٹر پر ٹرینڈ بننے کی وجہ سےوہ اور اُن کی والدہ پریشان ہو گئے۔

    باغی ٹی وی : بھارتی شو بگ باس سیزن 13 سے شہرت پانے والی گلوکارہ اور ماڈل شہناز کور گِل نے سمجایہ رابطے کی وی سائٹ ٹویٹر پر اپنی ایک تصویر شئیر کی اور مداحوں کو پیغام دیتے ہوئے لکھا کہ سب کی عزت کریں۔
    https://www.instagram.com/p/CCDjuDxhtHt/?utm_source=ig_embed
    اداکارہ کی اس پوسٹ پر کارتیک آریان نے ردعمل دیتے ہوئے دلچسپ تبصرہ کیا تھا انہوں نے لکھا کہ کیا اُس کی بھی عزت کریں جس نے سب سے پہلے چمگادڑ کھائی تھی۔

    کارتیک کے اس پر مزاح سوال کو شہناز گل سمیت ہزاروں مداحوں کی جانب سے خوب سراہا گیا اور سوشل میڈیا صارفین اس سوال سے خوب محظوظ ہوئے ۔


    یہاں تک کہ کارتیک آریان کا نام گزشتہ رات ٹویٹر پر ٹرینڈ بنا رہا جس پر انہوں نے پریشان ہوتے ہوئے ایک اور ٹویٹ کیا اور اپنے مداحوں سے سوال کیا کہ پلیز مجھے کوئی بتا دو کہ شام سے کیوں KartikAaryan # ٹرینڈ ہو رہا ہے اب تو میری امی بھی پریشان ہو رہی ہیں۔

    جس پر ٹویٹر صارفین کی جانب سے کارتیک کو بتایا گیا کہ کیوں کہ وہ شہناز گل کو فالو کرتے ہیں اور اُن کی پوسٹ پر کمنٹ بھی کیا ہے اس لیے ٹوئٹر پر اُن کے نام کا ٹرینڈ چل رہا ہے۔
    https://twitter.com/ShehnaazNewsHub/status/1278039874222710784?s=20


    https://twitter.com/LetsBeJoheart/status/1278053880740237312?s=20


    https://twitter.com/IProud_Indian47/status/1278066115885756417?s=20
    https://twitter.com/Ohudeadppl/status/1278040517490720769?s=20