Baaghi TV

Author: عائشہ ذوالفقار

  • علی ظفر کا جنید جمشید کو خراج تحسین

    علی ظفر کا جنید جمشید کو خراج تحسین

    پاکستان شوبز انڈسٹری کے معروف اور عالمی شہرت یافتہ اداکار اور گلوکار علی ظفر نے جنید جمشید کا گانا گا کر انہیں خراج عقیدت پیش کیا۔

    باغی ٹی وی : سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر گلوکار و اداکار علی ظفر نے ایک ویڈیو شیئر کی جس میں وہ جنید جمشید کا گانا گا رہے ہیں- ویڈیو شئیر کرتے ہوئے علی ظفر نے لکھا کہ اگر آپ پریشان ہیں تو آپ کو خوش کرنے کے لیے یہاں ایک چھوٹی سی چیز ہے۔


    انہوں نے جنید جمشید کو ٹیگ کرتے ہوئے لکھا کہ آج اس عظیم مرحوم کی یاد میں انہیں خراج عقیدت پیش کرتے ہیں۔

    ویڈیو کے آغاز میں علی ظفر نے گنگنائے جانے والے گیت ’چلو تو سہی‘ کے بارے میں بتاتے ہوئے کہا کہ یہ گیت میرے پسندیدہ فنکار اور بینڈ ‘وائٹل سائنز‘ کا ہے جسے شعیب منصور نے لکھا ہے۔

    ماضی کے معروف میوزیکل بینڈ وائٹل سائنز کے 1993 میں ریلیز ہونے والے البم ’اعتبار‘ کا مشہور و معروف گیت ’چلو تو سہی‘ علی ظفر کی سُریلی آواز میں سُن کے مداح خوش ہوگئے اور اپنے پسندیدہ گلوکار جنید جمشید کو یاد کرنے لگے-

  • لوک گلوکار الن فقیر کو مداحوں سے بچھڑے 20 برس بیت گئے

    لوک گلوکار الن فقیر کو مداحوں سے بچھڑے 20 برس بیت گئے

    صوفیانہ کلام میں منفرد انداز کی بدولت شہرت رکھنے والے صدارتی تمغہ یافتہ لوک گلوکار الن فقیرکو مداحوں سے بچھڑے 20 برس بیت گئے۔

    باغی ٹی وی : سندھ کا روایتی لباس پہن کر منفرد انداز میں صوفیانہ کلام پیش کرنے والے الن فقیر اندرون سندھ کے گاؤں آمری میں پید اہوئے علن فقیر کا تعلق منگراچی قبیلے سے تھا، ان کی گائیکی کے چرچے اندورن سندھ میں تو پہلے ہی تھے مگر گلوکار محمد علی شہکی کے ساتھ گیت نے ان کی شہرت کوعروج پر پہنچا دیا۔

    برزگان دین سے خاص محبت کے سبب علن فقیر نے مشہور صوفی بزرگ شاہ عبدالطیف بھٹائی کے مزار پر رہائش اختیار کرلی، ان کے شوق کو دیکھتے ہوئے دوستوں نے باقاعدہ گانے کا مشورہ دیا۔

    علن فقیر کو صوفیانہ اور لوک موسیقی کے حوالے سے ان کی خدمات پر حکومت پاکستان نے انہیں 1980 میں صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی سے نوازا۔ انہوں نے شاہ عبدالطیف ایوارڈ شہباز اور کندھ کوٹ ایوارڈز بھی حاصل کیے۔ علن فقیر 4 جولائی 2000 کو کراچی کے مقامی اسپتال میں انتقال کرگئے۔

  • صبر کا فلسفہ کیا ہے ؟  تحریر : عمر یوسف

    صبر کا فلسفہ کیا ہے ؟ تحریر : عمر یوسف

    صبر، استعانت خداوندی کا ذریعہ
    تحریر : عمر یوسف

    صبر کا فلسفہ کیا ہے ؟
    صبر کا فلسفہ یہ ہے کہ انسان نے یہ مان لیا ہے کہ میں بے بس ہوں لاچار ہوں معاملات میرے کنٹرول میں نہیں حالات کو میں نہیں سنبھال سکتا ۔۔۔۔۔ اب مجھے آہ و فغاں کی بجائے چیخ و پکار کی بجائے خود کو سنبھالنا ہے ۔۔۔ کیونکہ چیخ وپکار اور جزاں فزاں کا کوئی فائدہ ۔۔۔۔ ایک ذات ہے جو سب کچھ سنبھالتی ہے سارے اختیارات اس کے ہاتھ میں ہیں میرے معاملات بھی اسی کے ہاتھ میں ہیں اور میرے ساتھ جو بھی معاملہ پیش آیا ہے نقصان کی صورت میں یا مصیبت کی صورت میں یا کسی ناپسندیدہ حالت کی صورت میں وہ سب کچھ اللہ کی مرضی سے آیا ہے کیونکہ اللہ کی مرضی کے بغیر تو پتہ بھی نہیں ہل سکتا ۔۔۔۔

    انسان جب اللہ کی رضا میں راضی ہوجاتا ہے اور خود کو محکوم اللہ کو حاکم سمجھتا ہے خود کو کمزور اور اللہ کو طاقتور سمجھتا ہے خود کو بے اختیار اور اللہ کو مختار کل سمجھتا ہے ۔۔۔۔۔

    تو اللہ کو اپنے بندے کی بے بسی بے کسی لاچارگی و بے چارگی دیکھ کر فورا غیرت آجاتی ہے اور وہ خود اپنے بندے کی ڈھارس بندھانے حوصلہ بڑھانے آجاتا ہے اور بندے کو سب سے بڑا اعزاز معیت خداوندی کا حاصل ہوتا ۔۔۔ یعنی اللہ صبر کی تمام حالت اپنے بندے کے ساتھ ہوتا ہے ۔۔۔۔

    یہ اعزاز اتنا بڑا ہے کہ اسے حاصل کرنے کے لیے لوگ سخاوتیں کرتے ہیں جہاد کرتے ہیں نمازیں پڑھتے ہیں نوافل ادا کرتے ہیں اور بہت سے دیگر نیک امور انجام دیتے ہیں پھر جا کر ان کے اخلاص کو دیکھ کر اللہ ان کی طرف متوجہ ہوتا ہے اور ان کو اپنی معیت کا اعزاز بخشتا ہے ۔۔۔

    لیکن صبر کرنے والا صرف اپنے نفس کو کنٹرول کرتا ہے اللہ پر راضی ہوتا ہے اور اس عمل کی بدولت اللہ ان کو اپنے ساتھ ہونے کی گارنٹی دیتا ہے ۔۔۔۔

    جب حکم خداوندی آجائے کوئی مسئلہ پیش ہوجائے تو فورا اللہ کو کہہ دیا کرو کہ اللہ میں بے بس اور بے کس ہوں میرے ہاتھ میں کچھ نہیں رہا اب تو ہی مجھے سنبھال اور میرے معاملات آسان فرما ۔۔۔۔ اللہ تمہارے اعتراف کا فورا رسپانس دے گا اور تمہارے ساتھ ہوجائے گا ۔۔۔۔ کیونکہ وہ وعدہ کرتا ہے کہ وہ صبر کرنے والوں کو کبھی اکیلا نہیں چھوڑتا ۔۔۔۔۔

  • کورونا وائرس میں ذہنی دباو کم کریں امیدیں جگائیں مایوسیوں کا خاتمہ کریں

    کورونا وائرس میں ذہنی دباو کم کریں امیدیں جگائیں مایوسیوں کا خاتمہ کریں

    چین کے شہر ووہان پھیلے جان لیوا کورونا وائرس نے پاکستان سمیت دنیا بھر میں تباہی مچا رکھی ہے اجہاں لوگ اس جان لیوا وائرس کا شکار ہو رہے ہیں وہیں کچھ لوگ اس بیماری کو مذاق اور حکومت کا پروپیگنڈا سمجھ رہے ہیں کچھ لوگ اس کی علامات ظاہر ہونے پر نیم حکیموں کے پاس جا کر نہ صرف پیسے کا ضیاع کرتے ہیں بلکہ اُلٹی سیدھی دوائیاں استعمال کر کے خود کو دھوکہ دیتے ہیں-

    ان نیم حکیموں پر پیسہ لُٹانے کی بجائے اگر علامات ظاہر ہوں تو اس کا پی سی آر ٹیسٹ کروائیں اس ٹیسٹ سے ہی صحیح ادراک ہو گا کہ کورونا ہے یا نہیں اگر آپ کا ٹیسٹ پو زیٹیو آئے گا تو اس سے آپ کے اندر ایک دم خوف اور سٹریس پیدا ہو گا اس سٹریس کی بھی بہت سی وجوہات ہیں جیسے کہ ہمارا میڈیا روزانہ اموات کو رپورٹ کر رہا ہے سوشل میڈیا پر اور آس پاس بھی ایسی خبریں وائرل ہو رہی ہوتی ہیں-

    اگر آپ کورونا کو مانتے ہیں یا نہیں پھر بھی آپ اس سے پھیلی ہوئی تباہی کے بارے میں آپ کو خبریں آ رہی ہو تی ہیں کورونا سے ہوئی اموات کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ ان کی اموات گردوں کے مسائل یا ہارٹ اٹیک کی وجہ سے ہوئی ہے یا وہ استھما کا مریض تھا اسی وجہ سے اس کی موت ہوئی ہے-

    کورونا آپ کے جسم میں موجود پہلے سے بیماری کے اثرات کو تیز کر دیتا ہے جس سے موت واقع ہو جاتی ہے اس کے لئے سب سے پہلے ٹیسٹ کروا کر خود کو آئسولیٹ کریں- اور اس دوران امید باندھے رکھنی ہے اور سٹریس کو کم کرنا ہے-اگر کسی کو کورونا ہوا ہے تو اسے پتہ ہونا چاہیئے کہ 80 فیصد ایسے لوگ ہیں جن کو اس کی ہلکی سی علامات ہوتی ہیں بس ہلکا سا بخار ہوتا ہے کھانسی ہوتی ہے اور وہ 14 دن کے آئسولیٹ اور احتیاط کے بعد وہ ٹھیک ہو جاتے ہیں اور ان میں اینٹی بیکٹیریل خصوصیات پیدا ہو جاتی ہیں-

    دوسری جانب بہت سے ایسے کم لوگ ہیں جن کی عمر زیادہ ہو تی ہے ان میں سے بھی کم کے پھیپھڑوں میں انفیکشن پیدا ہوتا ہے اس کے لئے آکسی میٹر لے کر آکسیجن لیول چیک کرتے رہیں اگر آپ کا آکسیجن لیول 90 یا 94 سے کم ہے تو ڈاکٹر سے رجوع کریں ہاسپٹل جائیں کیونکہ اگر آکسیجن لیول کم ہے یا اس ے اگلا لیول وینٹی لیٹر کی ضرورت ہے تو وہ آپ کو مہیا ہو-

    اور اس دوران سب سے زیادہ ضروری سٹریس کو کم کر نا ہے اس کے لئے سب سے پہلے میڈیا کو دیکھنا چھوڑ دیں نیوز چینلز جو بار بار ایک ہی خبر دکھا رہے ہوتے ہیں پاکستان کی بائیس کروڑ آبادی میں سے 2 لاکھ اگر کوروناکا شکار تھے تو پہلے آپ ان 2 لاکھ افراد سے باہر تھے اب اگر آپ کا کورونا مثبت آیا یے تو آپ ان میں سے ایک ہیں جن میں 3 کی موت ہو چکی ہے تو آپ اس خوف کا شکار ہوں گے کہ آپ ان 3 فیصد میں ہیں

    اس خوف کو ختم کرنے کے لئے آپ میڈیا اور سوشل میڈیا ترک کر دیں انٹر ٹینمنٹ کے چینل دیکھیں یہاں تک کہ واٹس ایپ کا ستعمال بھی چھوڑ دیں کیونکہ آپ کے ارد گرد لوگ آپ کو ڈرائیں گے جو اس کا شکار ہو چکیں ہو ں گے وہ آپ کو امید دلائیں گے باقی زیادہ تر آپ کو ڈرائیں گے آپ اپنے اردگرد پوزیٹیویٹی پیدا کریں کیونکہ اگر اس سے ایک دو کی موت ہوئی ہے تو پندرہ لوگ ٹھیک بھی ہوئے ہوں گے آپ ہر طرح کے میڈیا سے دور رہیں بس اپنے گھر والوں سے تعلق رکھیں اور اپنے کمرے میں آئسولیٹ رہیں-

    آپ اپنے کمرے میں آئسولیٹ رہ کر بھی بہت سے کام کر سکتے ہیں آپ تھوڑی دیر باہر جا سکتے ہیں آپ گھر والوں کے ساتھ کھانا کھانا چاہتے ہیں تو ا20 فٹ کا فاصلہ رکھ کر اپنے گھر والوں جے ساتھ بیٹھ کر کھانا کھا سکتے آپ اپنے کمرے کا دروازہ کھول کر سامنے بیٹھ بات کر سکتے ہیں اپنے گھر والوں کے ساتھ واٹس ایپ پر ویڈیو کال پر ات کر سکتے ہیں اور سماجی دوری اور کورونا سے بچاؤ کی حفاظتی تدابیر کا خیال رکھتے ہوئے اپ اپنے گھر والوں سے مل سکتے ہیں-

    آئسولیٹ کا مطلب یہ بالکل نہیں کہ مریض کو اکیلے اس کی حالت پر چھوڑ دیں اس طرح اس کے زہن میں التی سیدھی سوچیں پیدا ہوں گی بلکہ سوشل ڈیسٹینس کا خیال رکھتے ہوئے اس سے بات چیت کریں ہوئے اس کے گرد نیگٹیویٹی بالکل نہ آنے دیں-

    وی لاگ :انجینئر خالد اقبال

    پنجاب میں کرونا کا پھیلاؤ جاری،اموات 1800 سے بڑھ گئیں

    اسلام آبادیوں کیلئے خوشخبری ، یومیہ کرونا کیسز کی تعداد بدستور کم ہوتے ہوتے دو سو تک آگئی

  • ارطغرل ڈرامے کے اہم کردار پاکستانی ترگت کا باغی ٹی وی پر خصوصی انٹرویو

    ارطغرل ڈرامے کے اہم کردار پاکستانی ترگت کا باغی ٹی وی پر خصوصی انٹرویو

    لوگوں کے درمیان یہ بات معروف ہے کہ اس دنیا میں ہر انسان کے کم از کم 7 ہم شکل افراد موجود ہوتے ہیں اور ان میں سے کم از کم 2 افراد ایسے ہوتے ہیں جو ہوبہو ایک دوسرے جیسے ہوتے ہیں۔ایسے ہی پاکستان میں موجود ارطغرل کے دوسرے بڑے کردار ترگت کی ہو بہو مشابہت رکھنے والے پاکساتی نوجوان کے بھی چرچے ہو رہے ہیں-

    باغی ٹی وی : پاکستان میں موجود مسلمانوں کی اسلامی فتوحات پر مبنی سیریز ارطغرل کے دوسرے بڑے کردار ترگت کی ہو بہو مشابہت رکھنے والے پاکساتی نوجوان کے بھی سوشل میڈیا پر چرچے ہو رہے ہیں –

    حال ہی میں باغی ٹی وی کو دیئے گئے انٹرویو میں پاکستانی ترگت (حافظ محمد علی خان) کا کہنا تھا کہ وہ انٹر نشنل لیول کے کھلاڑی ہیں وہ اپنا باکسنگ کلب چلا رہے ہیں-

    حافظ محمد علی خان پاکستانی تُرگتنے بتایا کہ انہیں لگتا تھا ان کا فیس لُک ارطغرل سے ملا ہے لیکن میرے دستوں کے مطابق میرا فیس تُرگت سے ملتا ہے-

    انہوں نے بتایا جب میرے بال بڑے یو گئے تو سوسائٹی کے لوگوں اور فیس بُک پر میری تصویریں دیکھ کر لوگ مجھے ترگت کہنے لگے-

    ڈراموں اور فلموں میں آفر ہونے کے بارے میں سوال پوچھنے پر پاکستانی ترگت نے بتایا کہ ابھی تک انہیں کوئی فلم یا ڈرامے کی آفر تو نہیں تاہم ان کے انٹر ویز کافی ہو چکے ہیں اور ابھی بھی انٹر ویوز کے لئے کالز آئی ہیں ابھی فی الحال آفرزنہیں ہوئی صرف انٹر ویوز ہو رہے ہیں-

    باغی ٹی وی کے میزبان کی طرف سے پوچھے گئے سوال کہ ترگت نے ایک سو پچیس سال عمر پائی تھی لیکن شادی نہیں کی تھی آپکا اس بارے میں کیا ذہن ہے

    اس پر پاکستانی ترگت نے کہا کہ میں نے کتاب تو نہیں پڑھی لیکن ڈرامے میں انہوں نے د وشادیاں کی تھیں اور انہوں نے عمر ایک سو پچیس سال پائی تھی اور وہ ساری عمر جہاد کرتے رہے ہیں اور وہ خلافت عثمانیہ کے پہلے چیف کمانڈر بھی تھے انہون نے کہا ابھی تک تو پتہ نہیں یہ قسمت کا کھیل ہے ایک بھی شادی ہوتی ہے یا نہیں اگر اللہ نے موقع اور مال دیا تو دو نہیں چار شادیاں بھی کر لیں گے-

    میزبان نے سوال پوچھا کہ کیا کسی نے ان سے رابطہ کیا کہ وہ انہیں ارطغرل کی ٹیم سے ملوائیں گے یا ارطغرل کی ٹیم میں سے کسی نے ان سے رابطی کیا-

    اس پر حافظ محمد علی خان نے کہا کہ ٹی وی چینل والے بتا رہے پہین نیٹ پر بھی وائرل ہے کہ ارطغرل کی ٹیم پاکستان آ ئے گی تو اگر وہ آئیں ے تو وہ ان سے ملنے کے ضرور خواہشمند ہوں گے-

    ارطغرل کے کردار کا مین چیز ان کا کلہاڑا ہے جس سے انہوں نے بہت گردنیں اڑائی ہیں آپ نے اپنے کلہاڑے سے ایسا کوئی کارنامہ سرانجام دیا ہے

    اس پر انہوں نے کہا کہ اگر اللہ تعالی انہیں جہاد کا موقع دیں گے تو سب کی گردنیں اڑائیں گے جو مخالف ہیں لیکن ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ وہ اپنے اس کلہاڑے سے اس وقت جن کی گردن اڑانا چاہیں گے وہ ایک ہی نفرت آمیز شخصیت بھارتی وزیراعظم مودی ہیں-

    پاکستانی نے کہا کہ پمارے پاکستان میں بھی ایسے اسلامی ڈارمے بننے چاہیئں جیسے محمد بن قاسم وغیرہ تو ایسا کوئی ڈرامہ بنا ار آفر ہوئی تو وہ ضرور کام کریں گے-

    میزبان نے پوچھا کہ آپ شکل سے ہی ترگت ہیں یا کچھ ایسا آتا بھی ہے؟ آپ کو اس پر پاکستانی ترگت نے کہا کہ انہیں کلہاڑے کے کچھ موومنٹ آتی ہیں اور ابھی پریکٹس کرنی بھی ہے یہ کلہاڑا مجھے گفٹ آیا تھا اور تھوڑا اچھے طریقے سے بنا نہیں ہوا اس سے پریکٹس صحیح سے یو تی نہیں تو اس وجہ سے میری پریکٹس رہ گئی کلہاڑے کی-

    انہوں نے کہا مجھے کچھ موومنٹ آتی بھی ہے کلہاڑے کی جیسے کلہاڑے کو ترگت گھماتا ہے پاکستانی ترگت نے کلہاڑے کی موومنٹ بھی کر کے دکھائیں-

    حافظ محمد علی خآن نے کہا کہ میں ہمیشہ ترگت کے گیٹ میں نہیں رہتا بلکہ کسی بھی گیٹ اپ میں ہوں ارطغرل دیکھنے والے لوگ دیکھ کر پھر بھی پہچان لیتے ہیں

    انہوں نے کہا کہ وہ اپنا کلب چلاتے ہیں جس میں چائینیز مارشل آرٹ کی کلاسز دیتے ہین انہوں نے کہا ہماری حکومت بالکل بھی تعوان نہی‌کرتی وہ بس کرکٹ ٹیم کو سپورٹ کرتی ہے –

    پاکستانی ترگت نے کہا کہ وہ باغی ٹی وی کے توسط سے حکومت کو کہنا چاہتے ہیں کہ وہ کرکٹ کی طرح باقی کھیلوں پر بھی توجہ دیں-

    انہوں نے آخر میں والدین کو پیغام دیتے ہوئے کہا کہ والدین کو اپنے بچوں کو کسی نہ کسی گیم کے ساتھ ضرور منسلک کرنا چاہیئے ایسے بچے بہت سی براےیں سے دور رہتے ہیں اور کئی بیماریوں سے نجات ملتی ہے اور وقت مدافعت میں اضافہ ہوتا ہے-

    واضح رہے کہ اس سے قبل سوشل میڈیا پر مداحوں نے پاکستان ٹیلی وژن (پی ٹی وی) پر چلنے والے ترک ڈرامے ارطغرل غازی کی اداکارہ برسین عبداللہ سے متعلق دعویٰ کیا تھا کہ وہ پاکستانی اداکارہ حمیمہ ملک کی ہم شکل ہیں۔

    مشہور زمانہ ترکی ڈرامہ "دریلیس ارطغرل” کے دوسرے بڑے کردار "ترگت” کی خوبہو مشابہت رکھنے والے پاکستانی نوجوان کا انٹرویو جلد آرہا ہے باغی ٹی وی پر.

  • کشمیر لہو لہو     تحریر:ام ابیہا صالح جتوئی

    کشمیر لہو لہو تحریر:ام ابیہا صالح جتوئی

    کشمیر لہو لہو
    تحریر:ام ابیہا صالح جتوئی

    میں اپنے غم کی داستاں کہوں تو کس طرح کہوں
    مجھے بتا اے آسماں میں کیا کروں میں کیا کروں

    پاکستان کی شہہ رگ جو کہ ہندو بنیے کے قبضے میں پچھلی کئی دہائیوں سے ظلم وبربریت کا نشانہ بن رہی ہے لاکھوں بے گناہ کشمیری ان گنت مظالم کا شکار ہورہے ہیں کشمیریوں پر ڈھاۓ جانے والے مظالم کسی سے ڈھکے چھپے نہیں ہیں لیکن انسانی عالمی حقوق کی تنظیمیں خواب خرگوش میں محو ہیں یورپین ممالک بالخصوص غیر مسلم ممالک میں ایک جانور بھی مر جاۓ تو یہ نام نہاد تنظیمیں ہاتھ میں موم بتیاں پکڑ کر سوگ منانے میں مصروف ہوجاتی ہیں لیکن ایک ایسی وادی جو کہ کئی دہائیوں سے ظلم و ستم کا شکار ہورہی ہے وہ کسی کو نظر نہیں آتا یہ تنظیمیں تمام انسانوں کے لئے بنی ہیں یا صرف غیر مسلموں اور جانوروں کے لئے؟؟؟؟؟

    معصوم کشمیریوں پر ڈھاۓ جانے والے مظالم بھارت کے جارحانہ حربوں کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔
    کشمیر جنت نظیر وادی جہاں پاک نفوذ عورتوں کی عصمت دری کی جاتی ہے تو کبھی معصوم بچے موت کی گھاٹ اتار دئیے جاتے ہیں….!!!!
    کہیں ماؤں کے لعل خون میں نہاتے ہیں تو کبھی قابل احترام بزرگ اپنی جان کی بازی ہار دیتے ہیں….

    "ہم روز بیان کرتے ہیں مصرعوں کے جال میں”
    "لفظوں کے ہیر پھیر میں امت کی سسکیاں”

    حال ہی میں ایک معصوم بچے کے ساتھ دودھ لینے کی غرض سے گھر سے نکلے ایک بزرگ کق بے دردی سے گولیاں مار کر شہید کردیا گیا ننھے بچے کے سامنے اس کے دادا جان پر خون کی ہولی کھیلی گئی….!!!
    کیا گزری ہوگی اس ننھے سے دل پر جب وہ اپنے دادا جان کو ان ظالموں سے بچا نہ پایا ہوگا…!!!!

    کیا اگر یہی بچہ جب بڑا ہوکر ظالموں کے ظلم کو روکنے کے لئے بندوق کا سہارا لے گا تو اس کو دہشت گرد قرار دیا جاۓ گا؟؟؟؟؟؟

    واہ رے دھوکے باز دنیا کیا یہ ہے تیرا انصاف؟؟؟؟؟

    "ہم آہ بھی کرتے ہیں تو ہو جاتے ہیں بدنام
    وہ قتل بھی کریں تو چرچا نہیں ہوتا”

    کشمیری آج بھی راہیں تک رہے ہیں کسی مسیحا کی…!!!
    جو آکر ان ظالموں کے ہاتھ کو روکے گا…!!!
    کسی ارطغرل غازی کی….!!!
    جو اپنی تلوار سے ظالموں کے ٹکڑے ٹکڑے کردے گا….!!!

    ان مظالم کو روکنے کے لئے بہت سے نوجوانوں نے اپنی زندگیاں قربان کیں اور کتابیں قلم چھوڑ کر معسکر کا رخ کیا تاکہ بھارتی وحشیوں کے مظالم کو روک سکیں بہت سے پی ایچ ڈی اسکالرز بھی اس مقدس جدوجہد میں شہادت کے رتبے کو پاگئے اور بہت سے ایسے ہیں جو اسکو پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لئے دن رات تگ و دو میں ہیں۔

    بطور پاکستان کی شہہ رگ کے پاکستان کی زمہ داری ہے مظلوموں کی آواز کو سن کر خاموش نہ بن جاۓ بلکہ ان کے مظالم کم کرنے کے لئے انٹرنیشنل لیول تک کاوشوں کو تیز تر کرے تاکہ معصوم کشمیریوں کا بہتا لہو رک سکے اور ظالم درندوں سے کشمیریوں کو چھٹکارا مل سکے۔

    کشمیر کی آزادی کے لئے بہایا گیا خون کا ایک ایک قطرہ رنگ لاۓ گا اور شہداء کی قربانیوں کا ثمر کشمیر کی آزادی کی صورت میں ملے گا۔
    ان شاءاللہ عزوجل

    اللہ سبحانہ و تعالیٰ ہمارا حامی و ناصر ہو آمین ثم آمین یا رب العالمین

  • کشمیر کی وادی خون رنگ  از قلم: ۔مشی حیات

    کشمیر کی وادی خون رنگ از قلم: ۔مشی حیات

    کشمیر کی وادی خون رنگ

    از قلم۔۔۔مشی حیات

    ‏میرے الہی رحم کرنا میرے کشمیر کی حالت پر۔۔!!
    کفار کے گھیرے میں کشمیر کی وادی پر۔۔!!
    ماؤں کی ممتا پر،باپ کی شفقت پر۔۔۔۔!!
    کر فرشتے نازل جو بھیجے تھے مقام بدر پر۔۔!!
    جو تقدیر بدل دیں فتح کے اجالوں سے۔۔!!
    کچھ ایسی رحمت کر کشمیر کی وادی پر۔۔۔!!

    بہت عام الفاظ بن چکے ہیں کہ جنت نظیر وادی 72 سالوں سے دشمنوں کی ظلم و سربریت کا شکار ہے۔۔۔۔
    چھوٹے سے بچے سے بھی پوچھ لیا جائے وہ بھی بتا سکتا ہے کشمیر کیا ہے۔۔۔؟وہاں ہو کیا رہا ہے۔۔۔۔!!میں اس مظلوم وادی کے لیے اپنے جذبات لکھ رہی ہوں کہ جہاں الفاظ تو کم پڑھ سکتے ہیں مگر اس وادی کا حال بیان نہیں ہو سکتا۔۔۔۔!!
    ناظرین۔۔!!
    کب تک۔۔!!آخر کب تک کشمیری قربانیاں دیتے رہے مائیں بیٹوں کو پیش کرتی رہیں اور بچے یتیم ہوتے رہیں۔۔۔۔!!
    سوشل میڈیا کا جدید دور ہے کیا چیز آنکھوں کے سامنے سے نہیں گزرتی ہمارا ایمان ختم ہو چکا ہے۔۔۔ہم ایک کافر دشمن جو رہا ہی ازل سے جہنم کا پتلا کچھ دن پہلے حرام موت کے گھاٹ اترا تو مسلمانوں کے جذبات دیکھنے کے قابل تھے۔۔۔کوئی کہہ رہا تھا خدا اسے سکون دے تو کوئی کہہ رہا تھا اسے جنت میں جگہ ملے۔۔۔۔!!
    ارے ہم کہاں کے مسلم۔۔۔کہاں کے مومن ہیں۔۔۔!!
    کچھ دن پہلے شوپیاں کشمیر کے علاقے میں جاری ظلم اور اس میں شہید ہونے والے امت مسلم کے جگر گوشے ان کے لیے تو کسی مسلم کا دل نہیں پگھلا سوائے چند احباب کے۔۔۔!!
    کیا ہم بھول گئے اپنی تاریخ کو۔۔۔!!
    ارے ہمارے آباواجداد نے جانیں پیش کی تھی۔۔۔اپنی گردنیں کٹائی تھی اس ملک کی کے لیے۔۔!!
    ہمیں تو ان کے نقش پہ چلنا تھا مگر ہم نے اگر راہ اپنائی تو صرف کفار کی۔۔۔غیر مسلم کی۔۔۔کوئی عملی اقدام نہیں۔۔۔!!
    اگر کچھ تنظیمیں کشمیر کے لیے اپنی ذمہ داریاں سر انجام دے رہی تھی انہیں پابند سلاسل کردیا گیا۔۔۔!!
    کوئی دن ایسا نہیں جب مظلوم کشمیریوں نے جنازے نہ اٹھائے ہوں۔۔۔حد سے زیادہ ظلم کیا جارہا۔۔۔۔
    کون سے ہیرے جو ہم نے نہیں کھوئے۔۔۔!!
    ہم نے برہان جیسا ہیرو کھویاجو دشمنوں کی آنکھوں میں آج بھی کھٹکتا ہے۔۔۔!!

    ہم نے اشفاق جیسا سائنس دان کھویا جو اس ملک کا مستقبل تھا۔۔۔!!

    ہم نے ماجد زرگرجیسا 66 گھنٹے تک لڑنے والا بہادر کھویا

    ہم نے بشیر جیسا اٹیکر اور صدام جیسا عظیم جنگجو کھویا

    ہم نے منان کی شکل میں قلم کھویا

    ڈاکٹر ذیشان کی صورت میں PhD سکالر اور ڈاکٹر عثمان کی شکل میں باپ کھویا

    ہم نے سمیر ٹائیگر کی شکل میں شیر کھویا

    ہم نے نوید جٹ کی صورت میں اعلی فلائنگ جٹ کھویا

    ہم نے مدثر کی صورت میں 14 سال کا ننھا مجاھد کھویا

    ہم نے 8 سال محاذ پر لڑھنے والا ابو القاسم پاکستان کا لال کھویا

    اقوام کو سمجھنا ہوگا ہم نے کیاکھویا کیا پایا۔۔۔!!
    ظلم کی اور کیاحد ہو سکتی ہے کہ ایک ننھےاور معصوم پھول کے سامنے اس کے دادا جان کو گولیوں سے چھلنی کر دیا جائے۔۔۔!!
    تصورکریں۔۔۔خدانخواستہ آپ کے سامنے آپ کے ساتھ یہ مناظر ہوں آپ کی کیا حالت ہوگی۔۔!!
    تھوڑا نہیں پورا سوچنا ہوگا۔۔!!
    ناظرین۔۔۔!!
    ہم نے بہت مہنگے ہیرے کھو دیے وہ تو جنت کے بالاخانوں میں ہیں ان شآءاللہ لیکن کیا ہم نے اپنا فرض نبھایا۔۔۔!!
    اس وقت سب سے پہلے قوم کے حاکم کو چاہیے کہ عملی نوٹس بنائے صرف باتوں سے آزادیاں نہیں ملتی۔۔۔!!
    تقریر سے ہو گا نہ تحریر سے ہوگا
    کشمیر تیرا فیصلہ شمشیرسے ہوگا
    خدارا۔۔۔!!
    محترم عمران خان صاحب ہم آپ کی تہہ دل سے عزت کرتے ہیں لیکن آپ کو کشمیر پر مکمل سوچنا ہو گا۔۔۔۔اب تاخیر نہیں کرنی ہوگی۔۔!!
    کشمیر 72 سال سے آزادی کی جنگ لڑ رہا ہے۔۔۔اس کے خواب کو تعبیر صرف اللہ رب العزت کی ذات کے بعد قوم کا حکمران دے سکتا۔۔۔!!
    اللہ کے لیے مدینہ کی ریاست میں عمر فاروق جیسا کارنامہ سرانجام دے دیا جائے۔۔۔
    ظالموں کے ہاتھوں سے شہہ رگ پاکستان کو چھڑا لیا جائے۔۔۔!!
    میرے پاس الفاظ تو بہت ہیں۔۔۔ جذبات بھی بہت ہیں مگر کشمیریوں کی اس بے انتہاء محبت اور قربانیوں کے آگے قلم سے صرف آنسو اور لہو ہی نکلتا ہے۔۔۔۔!!
    آخر کب تک اور کتنا ظلم میرے کشمیر کے مقدر میں ہوگا۔۔۔۔!!

    ‏اک وقت مقرر ہے فرعون کے ظلموں کا۔۔۔۔!!
    دجال کے آنے کا آفتوں کے بڑھانے کا۔۔۔۔!!
    ازل سے ہی کافر دشمن رہا دیں کا۔۔۔!!
    نہ گھبرانا کشمیر میرے اک وقت ابھی آنا ہے۔!!
    ظلمت کے اندھیروں کو جب جھڑ سے مٹانا ہے۔!!
    جہاد کے شعلوں سے وادی کو چھڑانا ہے۔۔!!
    ان شآءاللہ۔۔
    ================

  • کشمیری بیٹی کی فریاد   تحریر :غلام زادہ نعمان صابری

    کشمیری بیٹی کی فریاد تحریر :غلام زادہ نعمان صابری

    کشمیری بیٹی کی فریاد
    غلام زادہ نعمان صابری

    وہ تنہا رہ گئی تھی،عذاب مسلسل نے اسے زندہ لاش بنا دیاتھا۔اسے یقین تھا کہ مصیبت میں کوئی اس کی مدد کو پہنچے گا شاید اسے معلوم نہیں تھا کہ جن پہ وہ تکیہ کر رہی ہے وہ پتے تو کب کے سوکھ چکے ہیں وہ اب کسی کو ہوا دینے کے قابل نہیں رہے ۔
    وادی میں موت کا راج تھا۔ دن کا چین اور رات کا سکون موت کا فرشتہ یہاں سے کہیں بہت دور لے جا چکا تھا۔
    وہ زندگی کو موت کی امانت سمجھ کر سانس لے رہی تھی۔
    اسے ان مہربانوں پر بہت غصہ تھا جو گلے پھاڑ پھاڑ کر کھوکھلے نعروں سے کام چلا رہے تھے لیکن عملی طور پر کچھ نہیں کر رہے تھے،وہ انہیں وقت کا منافق سمجھتی تھی۔
    اسے معلوم تھا کہ کوئی لمحہ اس کی موت کا انتظار کر رہا ہے اور وہ کسی بھی وقت اس لمحے کے سپرد ہوسکتی ہے ۔اس نے وقت کے منافقوں اور بے حسوں کے نام ایک تحریر لکھنے کا فیصلہ کیا۔اس نے کاغذ قلم پکڑا اور کچھ لکھنے لگی لیکن وہ رک گئی اور کچھ سوچنے لگی۔سوچتے سوچتے وہ اس نتیجے پر پہنچی کہ اسے تحریر لکھنے کا کیا فائدہ ہوگا، جن کے نام وہ تحریر لکھے گی ان تک کون پہنچائے گا، بالفرض اگر پہنچ بھی جاتی ہے تو وہ اس پر کیا ررعمل ظاہر کریں گے۔
    بالآخر اس نے ہوا کو ضامن بنایا اور ایک تحریر لکھ کر اس کے سپرد کر دی۔
    "کشمیر کی موجودہ صورت حال اس قدر درد ناک ہے کہ اسے وہی لوگ محسوس کر سکتے ہیں جن کے دل میں درد ہو اور مسلمان کو مسلمان کا بھائی سمجھتے ہوں اور اس حدیث مبارکہ پر عمل پیرا ہوں کہ اگر کسی مسلمان بھائی کو کاٹنا چبھے تو دوسرا بھائی اس کا درد محسوس کرے۔
    میں تنہا بیٹھی گھر کے درودیوار کو گھور رہی ہوں۔میرے سامنے میرے پیاروں کے لاشے پڑے ہیں جن میں میرے بوڑھے ماں باپ اور بہن بھائی شامل ہیں۔ہمیں گھروں میں قید کر دیا گیا ہے۔ہر طرح کی سہولتیں اور آسانیاں چھین لی گئی ہیں،نہ کھانے کو اناج ہے اور نہ پینے کے لئے پانی اور نہ بیماروں کے لئے دوائیاں۔
    میرا معصوم بھائی جو ایک پل بھوک برداشت نہیں کر سکتا تھا کئی دنوں کی بھوک پیاس سے سسک سسک کر شہید ہوگیا۔
    چھوٹے بھائی کی دردناک شہادت کا منظر میری چھوٹی بہن کے دل ودماغ پر نقش ہو کر گیا اور وہ اسی غم میں اللہ کو پیاری ہو گئی۔
    میرا جواں سال بھائی اپنے بیمار ماں باپ کے لئے دوائیاں اورکھانے پینے کا سامان لینے کےلئے بھوکا پیاسا باہر نکلا،کچھ ہی لمحے بعد گولیوں کی تڑتڑاہٹ کی آوازیں آئیں میں نے دروازے کے سوراخ سے دیکھا تو میرا بھائی خون میں لت پت پڑا تھا۔میں بے بسی کے عالم میں بے جان وجود کے ساتھ اسے دیکھتی رہی۔ آنکھیں آنسوؤں سے خشک تھیں وجود میں پانی کا ایک قطرہ بھی نہیں تھا آخر روتی تو کیسے روتی۔
    رات کے اندھیرے میں چپکے سے بھائی کی لاش کو پاؤں سے گھسیٹ کر گھر میں لائی،اٹھانے کی سکت نہیں تھی ورنہ بھائی کی لاش کی یوں بے حرمتی نہ کرتی۔
    میں روازنہ رات کو گھر میں تھوڑی تھوڑی زمین کھودتی رہی تاکہ ان کو دفنانے کے لئے قبر تیار ہوجائے۔
    اب میں تھی اور میرے بوڑھے ماں باپ۔۔۔۔۔!
    میرے سامنے میرے دو بھائیوں اور ایک بہن کی لاشیں پڑی تھیں۔میرے بیمار اور بوڑھے ماں باپ بھی سب کچھ دیکھ رہے تھے لیکن ان میں اتنی سکت نہیں تھی کہ وہ اٹھ کر ان کے پاس آتے اور ان کی شہادت کو نذرانے کے طور چند آنسو پیش کرتے۔
    چند لمحوں بعد دو لاشوں کا اور اضافہ ہو گیا.
    میں نے پانچ لاشوں کو ایک ہی قبر میں دفن کر دیا۔
    اب میں ہوں اور میرا سایہ ہے۔
    میرا سایہ سرگوشی میں مجھ سے پوچھتا ہے کہ تمہارے غیرت مند بھائی آ رہے ہیں نا؟؟
    تمہارے دو بھائی تو شہید ہو گئے ہیں تو کیا ہوا ،تمہارے کروڑوں بھائی تو زندہ ہیں نا؟؟؟
    تمہارا ایک بھائی تم سب کی بھوک،پیاس اور بیماری کو برداشت نہیں کر سکا تھا اور تمہارے لیے اپنی جان خطرے میں ڈال کر نکل پڑا تھا. وہ نہیں لا سکا تو کیا ہوا باقی بھائی دیکھنا ضرور لائیں گے کچھ نہ کچھ۔
    اپنے سائے کی باتیں اور طفل تسلیاں سن کر میں سکتے میں آ گئی ۔
    کئی گھنٹے بعد اچانک مجھے سرگوشی سنائی دی کہ تمہاری مدد کے لئے بہت سارے بھائی آ رہے ہیں. مگر میں اسے جواب نہیں دے سکتی تھی. میں بھی تو بھوکی پیاسی تھی نا. میں اسے کیسے بتاتی کہ اسے سراب نظر آ رہا ہے؟
    اسے کیسے بتاؤں کہ کوئی نہیں آ رہا ہے !
    سائے کی باتوں نے مجھے پاگل کر دیا تھا ۔میں اچانک چیخ مار کر اٹھی. اور کہا کہ دیکھو میرے بھائی دروازے پر دستک دے رہے ہیں. میرے لیے میرے بھائی آ گئے ہیں. اتنا کہہ کر دروازے کی طرف دوڑی. دروازہ کھولا. دہلیز پر گری. اپنے نہ آنے والے بھائیوں کی راہ تکتے ہوئے نظریں سڑک پر تھیں اور جسم بے جان ہو گیا. مجھے یوں لگا جیسےچراغوں میں روشنی نہ رہی

    میرے بہت سے نو جوان کشمیری بھائی کئی دنوں سے پولیس کی حراست میں ہیں جن میں میرا ایک سگا بڑا بھائی بھی شامل ہے، وہ زندہ بھی ہے یا نہیں کچھ خبر نہیں. سنا ہے یہاں کہ ہر گھر سے ایک ایک فرد کو گرفتار کیا گیا ہے اور کچھ مہینوں بعد چھوڑ دیا جائے گا. مگر جب بھائی قید کی سزا اور تشدد برداشت کر کے نڈھال وجود کے ساتھ سکون حاصل کرنے گھر واپس آئیں گے تو پتہ نہیں ویران گھر دیکھ کر کیا سوچیں گے.
    اب میں گھر میں اکیلی بچی ہوں.میں زندگی میں کبھی ایک دن بھی تنہا نہیں رہی تھی مگر اب اس پوری دنیا میں ہمیشہ کے لیے تنہا ہو گئی ہوں. سوچ رہی ہوں کہ میرے بھائی جو کروڑوں میں ہیں ان کو آنے میں کتنے مہینے لگیں گے؟
    کیا کشمیر اتنا زیادہ دور ہے کہ کئی مہینے گزرنے کے بعد بھی کوئی نہیں پہنچ پایا.

    میری قوم میں تو بہت غیرت مند لوگ تھے جو اتنے بہادر اور سورما تھے کہ اسٹیج پر کھڑے ہو کرحکومت وقت کو للکارا کرتے تھے. اتنے دلیر تھے کہ اگر کسی مذہبی و سیاسی جلوس پر پابندی لگ جاتی تو پوری دنیا کو ہلا دینے کی بات کرتے تھے. اب تو معاملہ جلسے جلوس کا نہیں بلکہ زندگیوں کا ہے. یقیناً ان کی غیرت میں بھونچال آ گیا ہو گا. اور وہ ہماری مدد کو آ ہی رہے ہوں گے.
    کیا کشمیر اتنا دور ہے کہ آنے میں کئی مہینے لگ جائیں ؟
    نہیں.۔۔۔۔ کشمیر اتنا دور تو نہیں ہے کہ یہاں پہنچنے کے لئے مہینے درکار ہوں۔

    میں نے تو پیارے آقا کریم، خاتم النبیین، محمد الرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک حدیث پاک پڑھی ہوئی ہے جس کا مفہوم کچھ یوں ہے کہ میری امت ایک جسم کی مانند ہے. جس کے ایک عضو میں تکلیف ہوتی ہے تو درد پورے جسم کو ہوتا ہے.
    مسلم امت کے جسم کا ایک حصہ کشمیر لہو لہو ہے. یقیناً حدیث پاک کے مطابق درد تو پورے جسم کو ہو گا نا؟
    لیکن محسوس ہو رہا ہے بلکہ دکھائی دے رہا ہے کہ امت میں وہ دردنہیں رہا اگر درد ہوتا تو بے چینی بھی ہوتی. ہماری بھوک، پیاس، بیماری، لاچاری سب جذبات کو پورا جسم محسوس کرتا۔
    میں یہ کہنے میں حق بجانب ہوں کہ میرے کروڑوں مسلمان بھائی بہن گہری نیند میں ہیں اور خواب خرگوش کے مزے لے رہے ہیں،کیوں کہ ان کے اپنے گھر محفوظ ہیں شاید اس لیے. مجھے اس طرح شور نہیں مچانا چاہیے ورنہ ان کی نیند ٹوٹ جائے گی تو وہ غصہ کریں گے ۔
    اگر کسی کو گہری نیند سے جگا دیا جائے تو اسے غصہ تو آتا ہے اور ساتھ ہی دل کرتا ہے کہ جگانے والے کی آواز دبا کر اس کا گلہ گھونٹ دیا جائے۔

    یا رب العالمین…!!! آج تک کربلا کو کتابوں میں پڑھا اور سنا تھا. آج تونے دکھا دیا ہے۔اے پروردگار میں تیری شکر گزار ہوں کہ آج کے کربلا میں تونے ہمیں بھوک پیاس برداشت کرنے والوں اور شہید ہونے والوں میں سے رکھا ہے.
    تیرا لاکھ لاکھ شکر ہے میرے مولا کہ تونے مجھے یزیدی لشکر میں ظالم بنا کر نہیں رکھا اور باقی کی قوم میں کوفیوں کی طرح بے حس اور خاموش بننے والوں میں شامل نہیں کیا.تیرا بے حد شکر ہے کے تونے اہل بیت کی سنت ادا کرنے والوں میں شامل کیا ۔
    کئی مہینے تک امت مسلمہ کی اور بالخصوص اکابرین کی خاموشی بتاتی ہے کہ میں نے بالکل صحیح سوچا ہے.
    بس ایک کام کرنا جو میں آپ لوگوں سے التجا کی صورت میں کہہ رہی ہوں۔
    اگر تمہارے آنےسے پہلےمیں شہید ہو گئی تو انا للہ و انا الیہ راجعون پڑھ لینا اور مجھے اسی حالت میں دفن کردینا. کل روز محشر میں اسی حالت میں میزان پر جانا چاہتی ہوں، کیوں کہ بہت حساب کتاب باقی ہے۔
    ہوا اس تحریر کو امانتاً اپنے ساتھ ساتھ لئے پھررہی ہے۔ابھی تک اسے کوئی ایسا مسلمان ملک نہیں ملاجہاں وہ یہ تحریر پھینک کر امانت سے سبکدوش ہو جائے۔

  • جن سے اللہ راضی ہوا     تحریر: غلام زادہ نعمان صابری

    جن سے اللہ راضی ہوا تحریر: غلام زادہ نعمان صابری

    جن سے اللہ راضی ہوا
    غلام زادہ نعمان صابری

    خلیفہ اوّل امیر المومنین حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ مکہ مکرمہ میں امارت کے لحاظ سے ایک منفرد مقام رکھتے تھے۔یہی وجہ تھی کہ آپ رضی اللہ عنہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین میں سب سے امیر صحابی رسول صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وبارک وسلم تھے۔ آپ رضی اللہ عنہ نہایت سخی اور نرم دل شخصیت کے مالک تھے کسی کو محتاجی اور پریشانی میں نہیں دیکھ سکتے تھے۔ آپ رضی اللہ عنہ جب کسی صحابی رضی اللہ عنہ کو مشکل حالات میں دیکھتے تو فوراً اس کی مالی مدد فرماتے اور یوں اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خوشنودی حاصل کرتے اور ایمان کو تازگی بخشتے۔
    حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وبارک وسلم آپ رضی اللہ عنہ سے بہت پیار اور محبت فرماتے یہ پیار اور محبت دنیا میں بھی قائم و دائم رہا اور دنیا سے تشریف لے جانے کے بعد بھی قائم و دائم ہے۔اس بات کا واضح ثبوت یہ ہے کہ آپ رضی اللہ عنہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے یار غار ہونے کے ساتھ ساتھ یار مزار بھی ہیں۔
    مجاہدین اسلام کو جب بھی مالی مشکلات کا سامنا ہوا آپ رضی اللہ عنہ نے سب کچھ لا کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وبارک وسلم کے مبارک قدموں میں ڈھیر کر دیا یہاں تک کہ مال و اسباب سے اپناگھر خالی کردیا۔
    آپ صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وبارک وسلم نے ایک موقع آپ رضی اللہ عنہ سے دریافت فرمایا کہ آپ گھر میں بھی کچھ چھوڑ کر آئے ہیں یا کہ نہیں۔
    آپ رضی اللہ عنہ نے بارگاہ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں دست بستہ عرض کی کہ اللہ اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا اسم مبارک چھوڑ کر آیا ہوں۔
    شاعر مشرق ڈاکٹر علامہ محمد اقبال رحمۃ اللہ علیہ نے اس موقع پر آپ رضی اللہ عنہ کو شاندار خراج تحسین پیش کرتے ہوئے فرمایا۔
    پروانے کو چراغ ہے بلبل کو پھول بس
    صدیق کے لئے ہے خدا اور خدا کا رسول بس
    ابودجانہ رضى اللہ عنہ كى ہر روز كوشش ہوتى كہ وہ نماز فجر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم كے پيچھے ادا كريں، ليكن نماز كے فورى بعد يا نماز كے ختم ہونے سے پہلے ہى مسجد سے نكل جاتے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم كى نظريں ابودجانہ رضی اللہ عنہ كا پيچھا كرتيں ، جب ابودجانہ رضی اللہ عنہ كا يہى معمول رہا تو ايک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ابودجانہ رضی اللہ عنہ كو روک كر پوچھا :

    ’’ابودجانہ! كيا تمہيں اللہ سے كوئى حاجت نہيں ہے؟
    ابودجانہ رضی اللہ عنہ گويا ہوئے: كيوں نہيں اے اللہ كے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم، ميں تو لمحہ بھر بھى اللہ سے مستغنى نہيں ہوسكتا۔۔۔
    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرمانے لگے، تب پھر آپ ہمارے ساتھ نماز ختم ہونے كا انتظار كيوں نہيں كرتے، اور اللہ سے اپنى حاجات كے لئے دعا كيوں نہيں كرتے۔۔۔

    ابودجانہ كہنے لگے اے اللہ كے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وبارک وسلم! در اصل اس كا سبب يہ ہے كہ ميرے پڑوس میں ايک يہودى رہتا ہے، جس كے كھجور كے درخت كى شاخيں ميرے گھر كے صحن ميں لٹكتى ہيں، اور جب رات كو ہوا چلتى ہے تو اس كى كھجوريں ہمارے گھر ميں گرتى ہيں، ميں مسجد سے اس لئے جلدى نكلتا ہوں تا كہ ان گرى ہوئى كھجوروں كو اپنے خالى پيٹ بچوں كے جاگنے سے پہلے پہلے چُن كر اس يہودى كو لوٹا دوں، مبادا وہ بچے بھوک كى شدت كى وجہ سے ان كھجوروں كو كھا نہ ليں۔۔۔

    پھر ابودجانہ رضی اللہ عنہ قسم اٹھا كر كہنے لگے اے اللہ كے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وبارک وسلم! ايک دن ميں نے اپنے بيٹے كو ديكھا جو اس گرى ہوئى كجھور كو چبا رہا تھا، اس سے پہلے كہ وہ اسے نگل پاتا ميں نے اپنى انگلى اس كے حلق ميں ڈال كر كھجور باہر نكال دى۔ ۔۔
    اللہ كے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وبارک وسلم! جب ميرا بيٹا رونے لگا تو ميں نے كہا اے ميرے بچے مجھے حياء آتى ہے كہ كل قيامت كے دن ميں اللہ كے سامنے بطور چور كھڑا ہوں۔۔۔

    سيدنا ابوبكر صدیق رضى اللہ عنہ پاس كھڑے يہ سارا ماجرا سن رہے تھے، جذبہ ايمانى اور اخوت اسلامى نے جوش مارا تو سيدھے اس يہودى كے پاس گئے اور اس سے كھجور كا پورا درخت خريد كر ابو دجانہ رضی اللہ عنہ اور ان كے بچوں كو ہديہ كر ديا۔۔۔
    پھر كيوں نہ اللہ سبحانہ وتعالىٰ ان مقدس ہستيوں كے بارے يہ سند جارى كرے:
    ﴿رَّضِىَ اللّـٰهُ عَنْـهُـمْ وَرَضُوْا عَنْهُ﴾
    "اللہ ان سے راضی ہوا اور وہ اللہ سے راضی ہوئے-”

    چند دنوں بعد جب يہودى كو اس سارے ماجرے كا پتہ چلا تو اس نے اپنے تمام اہل خانہ كو جمع كيا، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم كے پاس جا كر مسلمان ہونے كا اعلان كر ديا۔

  • شان شاہد اور سلمان احمد نے وزیراعظم کی بھر پور حمایت کا اعلان کر دیا

    شان شاہد اور سلمان احمد نے وزیراعظم کی بھر پور حمایت کا اعلان کر دیا

    پاکستان شوبز انڈسٹری کے نامور اداکار شان شاہد نے ’مائنس آل‘ کا فارمولا پیش کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان کی بھر پور حمایت کاا علان کر دیا-

    باغی ٹی وی : اداکار شان شاہد نے مائنس ان کے فارمولا کو مسترد کرتے ہوئے مائنس آل کا فارمولا پیش کرتے ہوئے عمران خان کی حمایت کا اعلان کر دیا-سماجی رابطے کی ویب سایٹ ٹویٹر پر اداکار نے عمران خان کی تصویر شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ وزیراعظم اس وقت ملک میں حق کی راہ پر اکیلے ہی چل رہے ہیں۔

    انہوں نے لکھا کہ عمران خان جس راہ پر گامزن ہیں اُس پر بدعنوانی کرنے والے گر پڑیں گے جبکہ کمزور اٹھ کھڑا ہوگا۔
    https://twitter.com/mshaanshahid/status/1278251578194112512?s=20
    شان نے وزیر اعظم کی بھرپور حمایت کرتے ہوئے لکھا کہ عمران خان آپ ثابت قدم رہیں کیونکہ کوئی بھی طوفان ن کسی جہاز کو نہیں ڈوب سکتا جس کی منزل ساحل تک پہنچنا ہے-

    شان شاہد نے لکھا کہ ہم وزیر اعظم کے ساتھ ہیں، اللہ عمران خان کا حامی و ناصر ہو۔

    اپنے ٹویٹ میں انہوں نے ہیش ٹیگ ’پاکستان زندہ آباد‘ ’پلس ون ‘ اور ’مائنس آل‘ استعمال کیا۔
    https://twitter.com/sufisal/status/1278412643108294660?s=20
    دوسری جانب گلوکار سلمان احمد نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر عمران خان کو نمبر ون قراردیتے ہوئے ان کی بھر پور حمایت کی لکھا ہے کہ وزیر اعظم عمران خان دنیا کے واحد لیڈر ہیں جو بار بار مظلوم کشمیریوں کے حق میں کھڑے ہوئے، ہم عمران خان کا مرتے دم تک ساتھ دیں گے، عمران خان ہمیشہ نمبر 1 رہیں گے-