Baaghi TV

Author: عائشہ ذوالفقار

  • معاملہ اب عمران خان اور اپوزیشن نہیں بلکہ عالمی سازش ہے،علی محمد خان

    معاملہ اب عمران خان اور اپوزیشن نہیں بلکہ عالمی سازش ہے،علی محمد خان

    وزیرمملکت پارلیمانی امور علی محمد خان کا کہنا ہے کہ یہ کہنا کہ خط کو سب کو دکھا دیں یہ کتنی بچگانہ بات ہے۔

    باغی ٹی وی : پی ٹی آئی سے تعلق رکھنے والے وزیرعلی محمد خان کا کہنا ہے کہ ایم کیو ایم حکومت کے ساتھ اور اپوزیشن سے دور رہے گی ایم کیو ایم کا پیپلز پارٹی کے ساتھ ماضی اچھا نہیں رہا پر امید ہیں کہ اپوزیشن کو تحریک عدم اعتماد کے وقت ناکامی ہوگی۔

    ایم کیو ایم محب وطن جماعت ہے،جو بھی فیصلہ کرے گی ملکی مفاد میں کرے گی ،نسیم فروغ

    علی محمد خان نے کہا کہ اپوزیشن نے ایک بار پھر عمران خان کو جگایا ہے انہوں نے سوئے ہوئے شیر کو جگایا ہے۔مہنگائی تک اگر معاملہ رکھتے تو عمران خان آرام سے 25اوورز کا کھیل کھیلتے گیم اوور نہیں ابھی تو گیم آن ہے،آخری وننگ شاٹ کپتان ہی کھیلتا ہے اس بار پھر ایک بال پر 3 وکٹیں گریں گی بلاول بھٹو کی وکٹ ایسے ہی گر جائے گی کوئی آصف زرداری کے واپسی کا ٹکٹ کرادیں چند دنوں میں آصف زرداری سندھ واپس جائیں گے۔

    وزیرمملکت پارلیمانی امورنے کہا کہ عمران خان بیسٹ آل راونڈر ہیں ٹیسٹ میچ آرام سے کھیل رہے ہیں۔عمران خان نے جو مراسلہ دکھایا اس سے معاملہ کہیں اور بڑھ گیا ہےیہ معاملہ اب عمران خان اور اپوزیشن نہیں بلکہ عالمی سازش ہےعمران خان آزاد خارجہ پالیسی بنارہے تھے عمران خان اسلاموفوبیا کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے تھے۔ملک کے مفادات کی حفاظت پر عمران خان کے خلاف سازش ہورہی ہے،یہ کہنا کہ خط کو سب کو دکھا دیں یہ کتنی بچگانہ بات ہے۔

    بچوں کی طرح ڈی چوک پر ٹھمکے لگانا ہماری شناخت بن کر رہ گیا ہے،خط کے معاملے پر عامر لیاقت برس پڑے

    انہوں نے بتایا کہ عمران خان نے ہمیں کہا تھا کہ میں چاہوں تو مراسلہ سب کو دکھا دوں اور تحریک کو زمین بوس کردوں لیکن ایسا نہیں کرنا عمران خان نے وقت سے پہلے حالات کا بتادیا تھا۔مراسلہ آنے کے بعد واضح ہوگیا کہ سازش کے تانے بانے باہر ملتے ہیں ۔

    ادھر معاون خصوصی برائےنوجوانان عثمان ڈار کا کہنا ہے کہ وزیراعظم کے خلاف تحریک عدم اعتماد بری طرح ناکام ہوگی 5 یا 6 ووٹوں سے تحریک کو ناکام بنائیں گے پرویز الہٰی آسانی سے وزیر اعلیٰ پنجاب بنیں گے۔جہانگیر ترین بھی پرویز الہٰی پر اعتماد کریں گے۔

    ان کا کہنا ہے کہ آئندہ 48گھنٹے اہم ہیں ،دودھ کا دودھ پانی کا پانی ہوجائےگا۔ایم کیو ایم کا ووٹ پاکستان کے لیے فیصلہ کن ہوگا امید ہے ایم کیوایم حکومت کےساتھ کھڑے ہونے کا اعلان کرے گی۔

    ایم کیو ایم رابطہ کمیٹی کا اجلاس آج دوپہر 2 بجے ہو گا،حکومت کی ایم کیو ایم کو بڑی آفر

  • چین: وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کی اپنے چینی ہم منصب سے ملاقات

    چین: وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کی اپنے چینی ہم منصب سے ملاقات

    چین میں منعقدہ افغانستان کے ہمسایہ ممالک کے تیسرے اجلاس کے موقع پر، وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے ہوانگ شان میں چینی سٹیٹ کونسلر اور وزیر خارجہ وانگ یی سے ملاقات کی-

    باغی ٹی وی : وزیر خارجہ نے چین کے ریاستی کونسلر اور وزیر خارجہ وانگ یی سے آج چین کے شہر ہوانگ شان کے تونسی ڈسٹرکٹ میں دو طرفہ ملاقات کی ملاقات میں سیکرٹری خارجہ سہیل محمود اور چین میں تعینات پاکستانی سفیر معین الحق بھی ان کے ہمراہ موجود تھے-

    چینی وزیر خارجہ وانگ یی نے افغانستان کے پڑوسی ممالک کے تیسرے اجلاس میں شرکت اور چین تشریف آوری پر وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی کا شکریہ ادا کیا-

    دونوں وزرائے خارجہ نے اس سے قبل 21 مارچ 2022 کو اسلام آباد میں او آئی سی وزرائے خارجہ کونسل کے اڑتالیسویں اجلاس کے موقع پر ملاقات کی تھی۔

    دونوں وزرائے خارجہ نے دوطرفہ اسٹریٹجک، اقتصادی اور سیکورٹی تعاون پر بھی تبادلہ خیال کیا اور دونوں وزرائے خارجہ کے مابین ،عالمی وباء، افغانستان میں امن و استحکام اور باہمی دلچسپی کے علاقائی اور بین الاقوامی امور پر بھی گفتگو ہوئی –

    وزیر خارجہ نے پاکستان کی خارجہ پالیسی میں چین کی مرکزی حیثیت کا حوالہ دیتے ہوئے، "پاک چین آل ویدر اسٹریٹجک کوآپریٹو پارٹنرشپ” کو مزید گہرا اور مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا۔

    چین میں پھرکورونا نے سراٹھالیا:شنگھائی میں پاکستان طرز کامخصوص لاک ڈاون لگادیاگیا

    وزیر خارجہ نے پاکستان کی جانب سے، چین کی "ون چائنہ” پالیسی اور چین کے بنیادی مفادات کی حمایت کا اعادہ کیا اور پاکستان کی خودمختاری، علاقائی سالمیت، سیاسی استحکام اور سماجی و اقتصادی ترقی کے لیے مسلسل حمایت پر چین کا شکریہ ادا کیا۔

    گزشتہ ماہ وزیر اعظم کے دورہ چین اور سٹیٹ کونسلر وانگ یی کے دورہ اسلام آباد کا تذکرہ کرتے ہوئے، وزیر خارجہ نے پاک چین تعلقات کی بڑھوتری کی رفتار کو خوش آئند قرار دیا ۔

    دونوں وزرائے خارجہ نے اتفاق کیا کہ سی پیک فیز II کے اعلیٰ معیار، صنعتی ترقی، زرعی شعبہ میں جدت اور انفارمیشن ٹیکنالوجی جیسے شعبوں میں دو طرفہ تعاون، کثیرالجہتی شراکت داری کا مظہر ہےوزیر خارجہ نے افغانستان سے متعلق اجلاس کی میزبانی پر چین کا شکریہ ادا کیا۔

    وزیر خارجہ نے ملک میں امن، استحکام اور ترقی کو فروغ دینے اور سی پیک کی افغانستان تک توسیع کے ذریعے علاقائی روابط کو آسان بنانے کے لیے پاکستان، چین کے ساتھ ساتھ افغانستان کے دیگر پڑوسیوں کے درمیان گہرے روابط کے تسلسل پر زور دیا۔

  • پاکستان کے ساتھ سرمایہ کاری میں جرمنی کی دلچسپی

    پاکستان کے ساتھ سرمایہ کاری میں جرمنی کی دلچسپی

    جرمنی نے ملک میں اپنی موجودگی کو بڑھانے کے لیے پاکستان کے تمام شعبوں میں سرمایہ کاری میں دلچسپی ظاہر کی ہے۔

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق جرمن سرمایہ کاروں نے مختلف شعبوں میں سرمایہ کاری لانے میں دلچسپی ظاہر کی ہے اور پاکستان اور جرمنی کے درمیان کاروباری اور سرمایہ کاری کے تعلقات کو بڑھانے کے لیے آمادگی کا اظہار کیا ہے-

    رمضان بازار میں اشیائے خورونوش کی قیمتیں کیا ہوں گی:پنجاب حکومت نے اعلان کردیا

    ممتاز صنعت کار اور ملتان اور ڈیرہ غازی خان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے سابق صدر خواجہ جلال الدین رومی سے تبادلہ خیال کرتے ہوئے اتاشی جان ٹمپا نے پاکستانی مصنوعات کے معیار کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہ دنیا کے کونے کونے میں پسند کی جاتی ہیں۔

    جرمنی نے ملتان میں میٹرو کیش اینڈ کیری پراجیکٹ شروع کرکے جنوبی پنجاب کے خطے کی اہمیت کو تسلیم کیا ہے۔ 2.659 بلین ڈالر مالیت کے کل تجارتی حجم پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے خواجہ جلال الدین رومی نے کہا کہ وہ دونوں کے درمیان تجارتی حجم میں مزید بہتری کے لیے پر امید ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ جرمن حکومت نے ہمیشہ پاکستان کی معیشت کی بحالی کی حمایت کی ہے۔ 40 سے زائد جرمن کمپنیاں پاکستانی مارکیٹ میں موجود ہیں۔ پاکستان میں مقیم کچھ معروف جرمن کمپنیوں میں BASF (کیمیکلز)، BMW (آٹو موبائل)، ڈیملر AG (آٹو موٹیو)، DHL (کوریئر)، لفتھانسا کارگو (کارگو ایئر لائن) (فی الحال پاکستان کے لیے پرواز نہیں کر رہی ہے)، مرک گروپ شامل ہیں۔ فارماسیوٹیکل)، میٹرو کیش اینڈ کیری (تھوک)، اور سیمنز (کونگلومریٹ)۔ اس کے علاوہ جرمن ترقیاتی ادارے GIZ نے پاکستان کے مختلف شعبوں میں متعدد ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل کے لیے اپنا تعاون بڑھایا ہے۔

    ایم کیو ایم محب وطن جماعت ہے،جو بھی فیصلہ کرے گی ملکی مفاد میں کرے گی ،نسیم فروغ

    خواجہ جلال الدین رومی نے کہا کہ ہمیں امید ہے کہ دیگر یورپی ممالک بھی پاکستان پر اعتماد کریں گے۔خواجہ جلال الدین رومی نے مزید کہا کہ پاکستان میں بنی ویلیو ایڈڈ مصنوعات پوری دنیا میں مقبول ہیں۔ اور ہم مستقبل میں جرمنی کے ساتھ مضبوط دوطرفہ تعلقات کے منتظر ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ جرمنی پاکستان کے لیے بہت اہم ہے کیونکہ وہ واقعی ایک اچھا دوست ہے۔ ہر پاکستانی حکومت نے جرمن عوام، سرمایہ کاروں، تاجروں کو ترجیح دی ہے اور انہیں بغیر کسی ہچکچاہٹ کے ویزے جاری کیے ہیں۔ وہ پاکستانی ہوائی اڈوں پر پہنچ کر بھی ویزا حاصل کر سکتے ہیں۔ چونکہ پاکستان سی پیک کی وجہ سے ترقی کرتی ہوئی معیشت کے طور پر ابھر رہا تھا، اس لیے جرمن سرمایہ کاروں کو جدید صنعت کے قیام میں دلچسپی لینا چاہیے۔ خصوصی اقتصادی زونز میں جہاں ان کے لیے زبردست مراعات کا انتظار ہے۔

    خواجہ جلال الدین رومی نے کہا کہ جرمنی کو جی ایس پی پلس اسٹیٹس کو برقرار رکھنے کے لیے پاکستان کی حمایت کرنی چاہیے، صرف پاکستان سے یورپ کو برآمد کی جانے والی اشیا پر ٹیرف کم کرنا ہے۔ تاہم، یوروجرمنی سے درآمدات پر زیادہ ٹیرف ادا کیے جاتے ہیں، پاکستان کا ایک بڑا تجارتی پارٹنر ہے، تجارتی حجم بڑھ کر 3.34 بلین USD تک پہنچ گیا ہے۔ کوویڈ 19 وبائی امراض کے باوجود اس می پچھلے سال سے 2 فیصد تک معمولی اضافہ ہوا تھا۔

    ایم کیو ایم رابطہ کمیٹی کا اجلاس آج دوپہر 2 بجے ہو گا،حکومت کی ایم کیو ایم کو بڑی آفر

    انہوں نے کہا کہ یہ بات دلچسپ ہے کہ پاکستان ان چند ممالک میں سے ایک ہے جن کے ساتھ جرمنی کا تجارتی سرپلس ہے۔ پاکستان نے 2020 میں جرمنی کو 2.12 بلین امریکی ڈالر مالیت کی اشیاء برآمد کیں اور 1.21 بلین امریکی ڈالر کی درآمدی اشیا جرمنی کو برآمد کیں۔ پاکستان کو جرمن برآمدات کا ایک بڑا حصہ مشینری، کیمیکلز اور فارماسیوٹیکل مصنوعات پر مشتمل ہے۔ جرمن معیشت یورپی یونین میں سب سے بڑی ہے اور زیادہ تر تجارتی شراکت داروں کے ساتھ تجارتی سرپلس چلاتی ہے۔

    جرمن ڈیفنس اتاشی جان ٹمپا نے خواجہ جلال الدین رومی کی خدمات کو بے حد سراہا اور کہا کہ وہ سماجی، طبی، تعلیمی خدمات اور پسماندہ طبقے کی محرومیوں کے خاتمے کے لیے پرعزم ہیں۔ وہ دوسروں کے لیے رول ماڈل بن گئے ہیں وہ جنوبی پنجاب اور سندھ کے مختلف اسپتالوں میں گردے کے مریضوں کی مدد کے لیے جانے جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ ملتان کے مختلف علاقوں میں ضرورت مندوں کو روزانہ خوراک کی فراہمی نے سماجی تبدیلی کے عمل کو تیز کر دیا ہے۔ جس انداز میں وہ جنوبی پنجاب میں کاروباری سرگرمیوں کے فروغ میں مصروف ہیں۔ وہ پیروی کرنے کے لیے ایک مثال ہے۔

    بچوں کی طرح ڈی چوک پر ٹھمکے لگانا ہماری شناخت بن کر رہ گیا ہے،خط کے معاملے پر عامر لیاقت برس پڑے

    انہوں نے کہا کہ ہم جی ایس ٹی پلس کے معاملے میں پاکستانی حکومت کی حمایت کرتے ہیں۔ کیونکہ جرمنی پاکستان کے ساتھ تجارتی تعلقات میں دلچسپی رکھتا ہے۔ اور پاکستان مصنوعات کی برآمدات کی حوصلہ افزائی کرتا ہے اور پاکستان مصنوعات کی برآمدات کی حوصلہ افزائی کرتا ہےاس کے علاوہ جرمنی پاکستان میں بھاری سرمایہ کاری کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ جرمنی اور پاکستان کے تعلقات دوستانہ ہیں اور کئی دہائیوں پر محیط ہیں۔ جو انشاء اللہ بتدریج مضبوط ہوتا جائے گا۔

    خواجہ جلال الدین رومی نے مزید کہا کہ پاکستان میں بننے والی ویلیو ایڈڈ مصنوعات دنیا بھر میں مقبول ہیں۔ اور ہم مستقبل میں جرمنی کے ساتھ دوطرفہ تعلقات کے خواہاں ہیں۔

    امریکی سفارتی ذرائع کی پاکستان کو دھمکی آمیز خط کی سختی سے تردید:سید کوثرکاظمی

  • نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ سے اسرائیل میں 5 افراد ہلاک

    نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ سے اسرائیل میں 5 افراد ہلاک

    تل ابیب: اسرائیل کے شہر بنائی براک میں نامعلوم شخص کی راہ گیروں پر فائرنگ ، جس کے نتیجے میں 5 افراد ہلاک ہوگئے۔

    باغی ٹی وی : اسرائیلی میڈیا کے مطابق پولیس حکام نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ حملہ آور مغربی کنارے سے اسرائیل کی حدود میں داخل ہوا ہے حملہ آور مغربی کنارے اور اسرائیلی حدود پر ناقص سیکورٹی کی وجہ سے داخل ہونے میں کامیاب ہوا-

    پولیس نے کہا ہے کہ غالب گمان یہی ہے کہ حملہ آور اب بھی بنائی براک میں ہی موجود ہو پولیس ترجمان ایلی لیوی کا کہنا ہے کہ اس بات کا بھی قوی امکان ہے کہ حملہ آور کے ساتھ اس کا کوئی ساتھی بھی موجود ہو تاہم افسران جائے وقوعہ پر موجود گاڑیوں اور گھروں کی تلاشی لے رہے ہیں۔

    اسرائیلی وزیر اعظم نفتالی بینیٹ نے کہا کہ ملک "قدہشت گردی کی لہر” کی لپیٹ میں ہے اور انہوں نے اعلیٰ سیکورٹی حکام کا ہنگامی اجلاس بلایا ہے۔

    واضح رہے کہ مذکورہ 5 افراد کی ہلاکت سے قبل اتوار کو بھی ہدیرہ میں فائرنگ سے دو افراد اور گزشتہ منگل کو بیر شیبہ میں فائرنگ میں چار افراد ہلاک ہوئے تھے ایک ہفتے میں نامعلوم افراد کی فائرنگ سے ہلاک شدہ اسرائیلیوں کی تعداد 2006 کے بعد سب سے بڑی تعداد ہے جب تل ابیب میں ایک خودکش بس بم دھماکے میں 11 اسرائیلی ہلاک ہوئے تھے۔

    داعش نے گزشتہ ہفتے دونوں حملوں کی ذمہ داری قبول کی تھی، جن میں حملہ آور مارے گئے تھے۔

    مودی دیکھتے رہ گئے،اسرائیلی وزیراعظم کا دورہ بھارت ملتوی

    امریکا نے کہا کہ اس نے "سختی سے مذمت” کی ہے "یہ تشدد ناقابل قبول ہے،” سیکرٹری آف اسٹیٹ انٹونی بلنکن نے ایک بیان میں کہا۔ "اسرائیلیوں کو دنیا بھر کے تمام لوگوں کی طرح امن اور خوف کے بغیر رہنے کے قابل ہونا چاہئے۔ ہمارے دل حملوں میں ہلاک ہونے والوں کے خاندانوں کے لیے دکھتے ہیں۔

    حکام نے منگل کے روز کہا کہ اسرائیلی سکیورٹی فورسز نے اسرائیل کے کم از کم 12 فلسطینی شہریوں کے گھروں پر چھاپے مارے اور حالیہ حملوں سے شروع ہونے والے سکیورٹی کریک ڈاؤن کے ایک حصے کے طور پر داعش سے تعلق کے شبہ میں دو کو گرفتار کر لیا۔

    چھاپے سے چند گھنٹے قبل، بینیٹ نے کہا تھا کہ اسرائیل کے اندر حالیہ حملوں نے ایک "نئی صورت حال” کی نشاندہی کی ہے جس کے لیے حفاظتی اقدامات میں اضافہ کی ضرورت ہے۔

    فلسطینی علاقے نقب میں یہودیوں کی 10 نئی بستیوں کی تعمیر کا اسرائیلی منصوبہ

    یہ حملہ رمضان کے مقدس مہینے سے پہلے کیا گیا ہے، جس کے دوران حالیہ برسوں میں اسرائیلی پولیس اور فلسطینی مظاہرین کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے، اور اسرائیلی سیکیورٹی فورسز نے مسجد اقصیٰ کے احاطے پر متعدد چھاپے مارے۔

    پچھلے سال، جھڑپیں اسرائیل اور حماس کے درمیان غزہ میں 11 روزہ جنگ میں پھیل گئیں، جو 2007 سے محصور پٹی کو چلا رہی ہے۔

    جرمن حکومت نے منگل کے حملے کے بعد "یہودیوں، مسلمانوں اور عیسائیوں کے لیے آنے والی تعطیلات کے دوران تشدد کی لہر” کے خلاف خبردار کیا تھا۔

    جرمن وزارت خارجہ کے ترجمان نے ایک بیان میں کہا، "تمام ذمہ داریاں اور اثر و رسوخ رکھنے والوں کو تشدد کی ان کارروائیوں کی واضح طور پر مذمت کرنی چاہیے تاکہ تشدد کے نئے اضافے سے بچا جا سکے۔”

    مغربی پابندیاں:روسی فضائی حدود سے باہر طویل دورانیے کی پرواز،دنیا مشکلات کا شکارہوگئی

  • ایم کیو ایم محب وطن جماعت ہے،جو بھی فیصلہ کرے گی ملکی مفاد میں کرے گی ،نسیم فروغ

    ایم کیو ایم محب وطن جماعت ہے،جو بھی فیصلہ کرے گی ملکی مفاد میں کرے گی ،نسیم فروغ

    اسلام آباد: وفاقی وزیر قانون بیرسٹر فروغ نسیم نے کہا ہے کہ ہم نے ہمیشہ ملکی مفاد کو مقدم رکھا ہے اور فیصلے بھی اسی کے مطابق کریں گے۔

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق رات گئے تحریک عدم اعتماد پراپوزیشن اور ایم کیو ایم کے درمیان معاہدہ طے پانے کےبعد حکومتی وفد وزیر دفاع پرویز خٹک اور گورنرسندھ عمران اسماعیل بھی پارلیمنٹ لاجز میں ایم کیو ایم سےملاقات کےلیے جا پہنچا تھا اور بدلے میں کچھ یقین دہانیاں کرائیں وفاقی وزرا کو ایم کیو ایم کی جانب سے حمایت کے معاملے پر تاحال کوئی جواب نہیں دیا گیا اور متحدہ قائدین نے ایک بار پھر مشاورت کر کے جواب دینے کا کہا۔

    ایم کیو ایم رابطہ کمیٹی کا اجلاس آج دوپہر 2 بجے ہو گا،حکومت کی ایم کیو ایم کو بڑی آفر

    ملاقات کے بعد وفاقی وزیر برائے قانون فروغ نسیم نے کہا کہ متحدہ قومی موومنٹ محب وطن جماعت ہے، جو بھی فیصلہ کرے گی ملکی مفاد میں کرے گی ، ایم کیو ایم کل بھی متحد تھی اور آج بھی مکمل طور پر متفق ہے متحدہ قومی موومنٹ سے مسلسل حکومت و اپوزیشن رابطے میں ہیں، ہم تحریک عدم اعتماد کے حوالے سے جو بھی فیصلہ کریں گے وہ ایم کیو ایم کا فیصلہ ہوگا۔

    فروغ نسیم نے بتایا کہ ایم کیو ایم کا آج رات اہم مشاورتی اجلاس ہوگا، جس میں تمام امور زیر بحث آئیں گے اور پھر کل تک حتمی فیصلہ سنا دیا جائے گا انہوں نے کہا کہ ہم نے ہمیشہ ملکی مفاد کو مقدم رکھا ہے اور فیصلے بھی اسی کے مطابق کریں گے۔

    قبل ازیں ملاقات میں حکومتی وفد نے ایم کیو ایم کےحوالے سے آج ہونےوالی سیاسی کمیٹی کے اجلاس کی رائے سے آگاہ کیا اور وزیراعظم کا خصوصی پیغام بھی پہنچایا اس کے ساتھ ہی حکومتی وفد کل دوبارہ ایم کیو ایم قیادت سے ملاقات کرے گا۔

    آخری 5 اوور31مارچ کے بعد شروع ہونگے:بابر اعوان

  • بچوں کی طرح ڈی چوک پر ٹھمکے لگانا ہماری شناخت بن کر رہ گیا ہے،خط کے معاملے پر عامر لیاقت برس پڑے

    بچوں کی طرح ڈی چوک پر ٹھمکے لگانا ہماری شناخت بن کر رہ گیا ہے،خط کے معاملے پر عامر لیاقت برس پڑے

    پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رکنِ قومی اسمبلی عامر لیاقت حسین اسد عمر پر برس پڑے-

    باغی ٹی وی : سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر عامر لیاقت حسین نے اپنے پیغام میں کہا کہ جنرل غلام محمد عمر کے صاحبزادے اسد عمر سے پوچھنا چاہتا ہوں، خط پہلے اپنے اراکین اسمبلی کو کیوں نہیں دکھاتے؟ ہم کیا رنڈی کے بچے ہیں؟

    عمران خان کو سکیورٹی تھریٹ والا خط کس نے لکھا؟ پی ٹی آئی کے ناراض رکن کا بڑا…


    ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں عامر لیاقت نے کہا "عمران خان کے پاس اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب کے (کیبل) مراسلے کے سوا کچھ نہیں وزیراعظم کو پارٹی رکن کے حیثیت سے چیلنج کرتا ہوں وہ مجھے مراسلہ دکھادیں اگر اس کے سوا کچھ اور نکلا تو استعفی دے کر گھر چلا جاؤں گا۔


    انہوں نے مزید کہا حکومت میں ہوں یا اپوزیشن میں کیا رنڈی کے بچوں کی طرح ڈی چوک پر ٹھمکے لگانا ہماری شناخت بن کر رہ گیا ہے-

    واضح رہے کہ 28 مارچ کو وزیراعظم عمران خان نے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے پریڈ گراؤنڈ کے جلسہ عام سے خطاب میں کہا تھا کہ ملک میں باہر سے پیسے کی مدد سے حکومت تبدیل کرنے کی کوشش کی جارہی ہے، ہمیں لکھ کر دھمکی دی گئی اور میرے پاس خط موجود ہے جو اس کا ثبوت ہے۔

    انہوں نے مزید کہا تھا کہ ہمیں پتہ ہے باہر سے کن کن جگہوں سے دباؤ ڈالنے کی کوشش کی جارہی ہے، لکھ کر ہمیں دھمکی دی گئی ہے، ہم ملکی مفاد پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے، قوم کے سامنے پاکستان کی آزادی کا مقدمہ رکھ رہا ہوں، الزامات نہیں لگا رہا، میرے پاس جو خط ہے وہ ثبوت ہے۔

    جمعیت نےاسلام مخالف اور”ہم جنس پرستی” کو فروغ دینےکےخلاف مرکزی دروازے کوبلاک کردیا

    اس کے بعد وزیراعظم نے خط لہرا کر عوام کو دکھایا پھر جیب میں ڈال لیا۔ انہوں نے کہا تھا کہ جو بھی شک کر رہا ہے، اسے آف دی ریکارڈ خط دکھا سکتا ہوں، بیرونی سازش کی بہت سی باتیں مناسب وقت پر جلد سامنے لائی جائیں گی۔

    بعدازاں پاکستان تحریک انصاف کے رکن قومی اسمبلی لال چند مالہی نے کہا تھا کہ وزیراعظم عمران خان کو دھمکی آمیز خط 7 مارچ کو موصول ہوا تھا مالہی نے دعویٰ کیا تھا کہ وزیراعظم کو ملنے والے دھمکی آمیز خط میں تحریک عدم اعتماد کا بھی ذکر ہے وزیراعظم عمران خان کو ملنے والے دھمکی آمیز خط کا ملک کی عسکری قیادت اور وزارت خارجہ کو علم ہے مختلف ممالک سے نازک قسم کے معاملات ہیں اس لیے نام نہیں لے سکتے ہیں۔

    امریکی سفارتی ذرائع کی پاکستان کو دھمکی آمیز خط کی سختی سے تردید:سید کوثرکاظمی

  • ایم کیو ایم رابطہ کمیٹی کا اجلاس آج دوپہر 2 بجے ہو گا،حکومت کی ایم کیو ایم کو بڑی آفر

    ایم کیو ایم رابطہ کمیٹی کا اجلاس آج دوپہر 2 بجے ہو گا،حکومت کی ایم کیو ایم کو بڑی آفر

    کراچی: ایم کیو ایم رابطہ کمیٹی کا اجلاس آج دوپہر 2 بجے ہوگا۔

    باغی ٹی وی : ذرائع کے مطابق کنوینئر خالد مقبول صدیقی اجلاس کی صدارت کریں گے، کراچی میں موجود رابطہ کمیٹی کے اراکین کو بہادرآباد پہنچنے کی ہدایت دی گئی ہیں اجلاس میں متحدہ اپوزیشن کے ساتھ معاہدے کو توثیق کیلئے پیش کیا جائے گا۔

    اپوزیشن کا بڑا سرپرائز ۔ متحدہ اپوزیشن اور ایم کیو ایم کی پریس کانفرنس طے

    گزشتہ رات ہی متحدہ اپوزیشن کی ایم کیو ایم پاکستان کی اعلیٰ سطحی قیادت سے ملاقات پارلیمنٹ لاجز میں ہوئی تھی۔

    پارلیمنٹ لاجز آنے والے رہنماؤں میں خواجہ آصف، مولانا عبدالغفور حیدری، وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ ، بیرسٹر مرتضیٰ وہاب، صوبائی وزیر سعید غنی، سید نوید قمرالزماں شاہ، شیریں رحمان، خواجہ سعد رفیق، سردار اختر مینگل، سردارایاز صادق، اور دیگر شامل تھے۔

    متحدہ اپوزیشن سے ایم کیو ایم پاکستان کی جانب سے ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی، عامر خان، وفاقی وزیر سید امین الحق، کنور نوید جمیل، وسیم اختر، خواجہ اظہار الحسن، سینیٹر فیصل سبزواری، اور کشور زہرہ مذاکرات میں شامل تھے-

    روس اوریوکرین کےدرمیان صرف عمران خان ہی صلح کرواسکتا ہے:یوکرینی صدرکاعمران خان کوفون


    بعد ازاں رات گئے چئیرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے ٹوئٹ میں اپنے ساتھ ایم کیو ایم کے شامل ہونے کا اعلان کر دیا، بلاول نے ٹوئٹ کی کہ متحدہ اپوزیشن اور ایم کیو ایم پاکستان کے درمیان معاہدہ طے پا گیا، پیپلز پارٹی کی سی ای سی، ایم کیو ایم پاکستان کی رابطہ کمیٹی مجوزہ معاہدے کی توثیق کرے گی انہوں نے ٹوئٹ میں پاکستان کو مبارکباد بھی پیش کی، کہا کہ تفصیلات سے آج باضابطہ میڈیا کو آگاہ کیا جائے گا۔

    مولانا فضل الرحمان نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ ایم کیو ایم سے معاملات طے پا گئے ہیں۔ صحافی نے سوال کیا کہ جب معاہدہ ہوگیا تو پھر اعلان کیوں نہیں کیا جارہا ؟مولانا فضل الرحمان نے جواب دیا کہ کچھ تنظیمی ضرورتیں ہوتی ہیں ان فورمز سے تائید لینا ہوتی ہے۔معاہدے کی تفصیلات کا اعلان آج چار بجے پریس کانفرنس میں کردیا جائے گا۔

    عدم اعتماد پرووٹنگ کےدن کوئی رُکن اسمبلی نہ آئے: وزیراعظم نےخط لکھ کرہدایات جاری کردیں

    صحافی نے مولانا فضل الرحمن سے سوال کیا کہ مسلم لیگ ق بھی معاہدہ کرکے گئی تھی واپس نہ آئی؟ مولانا فضل الرحمان نے جواب دیا کہ یہاں معاہدہ ہوچکا ہے یہاں ایسا نہیں ہوگا۔


    ترجمان ایم کیو ایم فیصل سبزواری کا کہنا تھا کہ متحدہ اپوزیشن کے ساتھ معاہدے نے حتمی شکل اختیار کر لی ہے۔مجوزہ معاہدے کی توثیق کے بعد میڈیا کو شام 4 بجے آگاہ کیا جائے گا۔

    واضح رہے کہ چیئرمین پی پی بلاول بھٹو زرداری کی ہدایت پر وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ اور مشیر قانون بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے ایم کیو ایم پاکستان سے ہونے والے متوقع معاہدے کے لیے ٹی او آرز بھی تیار کیے تھے۔

    عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد ناکام ہوجائے گی:ان شااللہ تعالیٰ:: چودھری پرویز الٰہی

    بلاول بھٹو زرداری نے گزشتہ روز منعقدہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ ایم کیو ایم پاکستان کے کسی بھی مطالبے سے انکار نہیں کیا ہے ان کا کہنا تھا کہ فیصلہ کیا ہے کہ ایم کیو ایم پاکستان کے ساتھ ورکنگ ریلیشن شپ قائم کریں گے۔

    دوسری جانب رات گئے تحریک عدم اعتماد پراپوزیشن اور ایم کیو ایم کے درمیان معاہدہ طے پانے کےبعد حکومتی وفد بھی پارلیمنٹ لاجز میں ایم کیو ایم سے ملاقات کے لیے جا پہنچا تھا حکومتی وفد میں وزیر دفاع پرویز خٹک اور گورنر سندھ عمران اسماعیل شامل تھے۔

    حکومتی وفد نے وزیر اعظم عمران خان کا اہم پیغام ایم کیو ایم کو پہنچایا گورنر سندھ عمران اسماعیل کا کہنا تھا کہ حکومتی وفد وزیراعظم عمران خان کا پیغام لے کر پہنچا ہے ایم کیو ایم کو ایک وزارت کی آفر کی تھی وزیر اعظم کا اہم پیغام خالد مقبول صدیقی کو پہنچایا ہے۔ایم کیو ایم کے تحفظات دور کرنے کی کوشش کی ہے۔ہمارے دروازے اور دل کھلے ہیں،جیسے چاہیں گے کر لیں گے۔

    ان کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم کے لیے کچھ بھی حاضر ہے۔امید ہے ایم کیو ایم سوچ سمجھ کر انصاف پر مبنی فیصلہ کرے گی۔صبح ایم کیو ایم کی کال کا انتظار کروں گا۔ایم کیو ایم کے ساتھ ہر قسم کے معاہدہ کیلئے موجود ہیں۔

    امریکی سفارتی ذرائع کی پاکستان کو دھمکی آمیز خط کی سختی سے تردید:سید کوثرکاظمی

  • میں بھی تو بلوچی ہوں میرا کیا قصور تھا ؟ ،ازقلم :غنی محمود قصوری

    میں بھی تو بلوچی ہوں میرا کیا قصور تھا ؟ ،ازقلم :غنی محمود قصوری

    میں بھی تو بلوچی ہوں میرا کیا قصور تھا ؟

    ازقلم غنی محمود قصوری

    20 جنوری 2022 کو لاہور انار کلی بازار میں الحبیب بینک لمیٹڈ کے سامنے ایک زور دار بم دھماکہ ہوا جس میں 3 افراد شہید اور 3 درجن کے قریب زخمی ہوئے یہ دھماکہ پلانٹنڈ تھا اور دوپہر کے وقت ہوا جس جگہ دھماکہ ہوا وہاں عین سامنے بینک ہے اور اس کے سامنے ریڑھی والے غریب لوگ اپنی ریڑھیاں لگاتے ہیں اور اپنے بچوں کیلئے رزق کماتے ہیں-

    راقم کا انار کلی بازار میں کافی آنا جانا ہے اور اکثر و بیشتر جس جگہ دھماکہ ہوا وہاں سے دھی بھلے،فروٹ چاٹ،کھیر اور بھٹورے وغیرہ بھی کھائے ہیں راقم نے دھماکہ سے دو دن بعد دوبارہ اسی جگہ کا چکر لگایا تو دیکھا جو جگہ غریب ریڑھی بانوں سے بھری ہوئی ہوتی تھی وہ بلکل خالی پڑی ہے کافی عمارتوں کے شیشے ٹوٹے ہوئے تھے ،چہروں پر اداسیاں تھیں مگر رونق اسی طرح تھی مگر جس دھی بھلے والے سے راقم دھی بھلے کھاتا تھا وہ نظر نا آیا-

    خیر کافی دنوں بعد وہ مطلوبہ بندہ نظر آیا تو جو گفتگو اس سے ہوئی وہ آپ کے سامنے ہے اس کی عمر 35 سال ہے مگر اس کی ڈارھی کی سفیدی اسے 50 سے اوپر کا ظاہر کرتی ہےمیں نے جاتے ہی اس سے سلام لیا اور پوچھا حکم داد ( فرضی نام) یار کہاں تھے اتنے دنوں سے میں تو بہت پریشان تھا تمہارے دھی بھلے بڑے اچھے اور مزیدار ہوتے ہیں یار کئی بار میں آیا مگر تم موجود نا تھے ،کہیں گئے ہوئے تھے؟-

    وہ میرے نام سے تو ناواقف تھا مگر اتنا جانتا تھا کہ کئی سالوں سے میں اس کا گاہگ ہوں اس نے بڑی تکلیف دہ نظروں سے میری طرف دیکھا اور بولا کمال ہے صاحب آپ کو نہیں پتہ اس جگہ دھماکہ ہوا تھا ؟میں نے کہا ہاں بھئی پتہ ہے اسی لئے تو تمہارا ساتھ والے ریڑھی والوں سے پوچھا تو انہوں نے کہا کہ وہ آ نہیں رہا ویسے بس دھماکہ میں اس کی ریڑھی تباہ ہوئی تھی مگر وہ بچ گیا تھا-

    اس نے ایک لمبی سانس بھری اور مجھے دھی بھلے بنا کر دیئے اور نظریں جھکا لیں میں نے دھی بھلے کھانا شروع کئے تو اس کی طرف دیکھا غالباً اس کی آنکھوں میں أنسو تھے خیر میں نے دھی بھلے ختم کئے تب تک وہ بھی خود کو سنبھال چکا تھا میں نے کہا یار دھماکہ کس جگہ ہوا تھا ؟-

    اس نے میری طرف دیکھا اور کہنے لگا میری ریڑھی کے عین سامنے میں نے اسے دیکھا تو وہ گویا ہوا صاحب پریشان ہو گئے کہ میں بچ کیسے گیا ؟ میں نے کہا نہیں بھئی یہ تو اللہ کی ذات ہے جسے چاہے زندہ رکھے جسے چاہے موت دے میں نے پوچھا جب دھماکہ ہوا تم اس وقت کہا تھے ؟وہ کہنے لگا صاحب اسی جگہ موجود تھا مگر جب دھماکہ ہوا میں ساتھ والی بلڈنگ میں دھی بھلے دینے گیا تھا
    میں نے کہا یار یہ کیوں اور کیسے ہوا؟-

    وہ کہنے لگا صاحب کیوں ہوا کا تو مجھے پتہ نہیں مگر ہوا ایسے کہ انار کلی بازار کے وسط سے تھوڑا پہلے جہاں گارمنٹس و جوتوں کی دکانیں ہیں وہاں ایک شحض پہلے سے کھڑی ایک موٹر سائیکل پر بیگ رکھ کر جانے لگا تو دکانداروں نے دیکھ لیا اور اسے کہا کہ کون ہے تو اور بیگ کیوں رکھا یہاں کہتا وہ شحض جلدی سے بیگ پکڑ کر یہ کہتا ہوا آگے بڑھا کہ میں تو تھک گیا تھا بیگ اٹھا کر اسی لئے بائیک پر رکھا تھا –

    مزید اس نے بتایا کہ میری ریڑھی کے بلکل سامنے اس شحض نے سامنے سڑک کے وسط میں کھڑی موٹر سائیکل پر بیگ رکھا اتنے میں مجھے ساتھ والی بلڈنگ سے آرڈر آیا دھی بھلے لانے کا تو میں ادھر چلا گیا ابھی گیا ہی تھا تو دیکھا کہ میری ریڑھی وہاں بکھری پڑی ہے اور ایک اور بچے کی ٹانگیں کٹی ہوئی ہیں اور وہ چیخ رہا ہے جبکہ ہر طرف دھواں ہی دھواں ہے اور آگ ہی آگ یوں لگتا تھا جیسے قیامت برپا ہو گئی ہے-

    وہ کہتا ہے میں چیخنے لگا اور چلانے لگا اتنے میں پولیس و ریسکیو بھی آن پہنچی اور میں بھی گھر سے فون آنے پر گھر پہنچ گیا مگر میری ساری جمع پونجی لٹ گئی تھی اس نے آنکھوں میں أنسو لاتے قسم اٹھا کر کہا صاحب میں پورے پندرہ دن تک گھر سے باہر نہیں نکلا
    مجھے وہ منظر یاد آتا تھا تو میں رونے لگتا تھا میں نے کھانا پینا چھوڑ دیا تھا کیونکہ صاحب میری ریڑھی ساری تباہ ہو چکی تھی اور مجھے پتہ بھی نہیں تھا کہ کس نے یہ کیا اور میری ان سے دشمنی بھی کیا ہے –

    وہ کہتا ہے میری ماں نے مجھے ہمت اور غیرت دلائی کہ تو غیور بلوچ ہے کیوں بچوں کی طرح ڈر کر گھر میں بیٹھ گیا ہے اگر یونہی بیٹھا رہا تھا ہم بھوکے مر جائیں گے جا جا کر ریڑھی لگا اللہ رزق دے گا اور ہمت بھی وہ کہتا میں نے کچھ محلے داروں کو حالات بتلائے تو کسی نے مجھے رقم دی تو کسی نے نئی ریڑھی خرید کر دی-

    اس نے مجھ سے سوال کیا کہ صاحب یہ دھماکہ کس نے کروایا تھا تو میں نے اسے بتایا کہ ایک بلوچ علیحدگی پسند جماعت نے کروایا ہے
    اس نے پوچھا کیوں کروایا انہوں نے میں نے کہا کہ وہ کہتے ہیں بلوچستان کو پاکستان سے الگ کرکے ایک الگ ملک بناؤ اسی لئے وہ پاکستان کے ہر علاقے میں بم دھماکے کرتے ہیں پاکستانی عوام و فوج پر حملے کرتے ہیں اس کی آنکھوں میں پھر آنسو آ گئے-

    کہنے لگا صاحب میں بھی تو بلوچ ہوں اور جب 5 سال کا تھا تب میرے بابا ہماری پوری فیملی لے کر بلوچستاں سے لاہور آ گئے تھے کیونکہ کراچی کے حالات سخت خراب تھے اور ہمارے آبائی علاقے بلوچستان کے ایک دیہات میں کاروبار نا ہونے کے برابر تھا اسی لئے بابا نے کراچی کام شروع کیا تو وہاں بھی حالات خراب ہو گئے اسی لئے پیٹ کی خاطر لاہور آئے تھے بابا نے شربت بیچا،چنے بیچے کئی کام کئے اور ایک چھوٹا سا مکان خرید لیا ہے-

    اب ہمارا تو یہی شہر بھی ہے اور وطن بھی یہیں جئے گے یہیں مرینں ے کیونکہ میرے بابا کی قبر بھی تو میانی صاحب قبرستان میں ہے
    کہنے لگا صاحب یہ دھماکہ کرنے والے بلوچی نہیں ہیں بلوچی ہم ہیں صاحب ہمارے رشتہ دار آج بھی بلوچستان میں رہتے ہیں وہ دور دراز علاقوں سے پینے کا پانی بھر کر لاتے ہیں مگر کسی کے آگے ہاتھ نہیں پھیلاتے وہ اور ہم بلوچ تو بہت خودار ہیں ہم اپنی دشمنیوں کی خاطر جانیں دے بھی دیتے ہیں اور لے بھی لیتے ہیں میں اللہ گواہ ہے صاحب ہم کسی کو ناجائز قتل نہیں کرتے جس کے ساتھ دشمنی ہے اسے ہی قتل کرتے ہیں کیونکہ کسی کو ناجائز قتل کرنا بڑا گناہ ہے اور بلوچی ایسا گناہ نہیں کرتے صاحب قسم لے لو صاحب بلوچی ایسا ظلم نہیں کرتے-

    وہ بتلانے لگا کہ ہمارے بڑھوں نے انگریز کے خلاف جہاد کیا اور اپنی جانیں دے دیں مگر انگریز کی غلامی نہیں کی اس نے مجھے پوچھا صاحب ان ناراض بلوچوں کی دشمنی کس سے ہے ؟ میں نے کہا ان کی دشمنی ہر محب وطن پاکستانی سے ہے ان کی دشمن پاک فوج و عوام سے ہے ان کی دشمنی ہر آنے والی گورنمنٹ سے ہے-

    وہ کہنے لگا صاحب یہ لوگ اتنا پیسہ بم دھماکوں پر لگاتے ہیں اور لوگوں کو ناجائز قتل کرتے ہیں تو پھر یہی پیسہ بلوچستان میں غریب بلوچوں پر کیوں نہیں لگاتے ؟میں نے کہا بات تو تمہاری قابل غور ہے مگر ان کا مقصد بلوچیوں کے علاوہ سندھیوں،پنجابیوں،پشتونوں کو حقوق کے نام پر قتل کرنا ہے-

    وہ چونک گیا کہنے لگا صاحب کون بلوچی ؟ کون سندھی ؟ کون پنجابی اور کون پشتون؟ ہم سبھی تو ایک محلے میں اکھٹے رہتے ہیں نہیں یقین تو ساتھ چل کر دیکھو ہمارے گھر میں پکا ہوا سالن کبھی پنجابی گھر سے آتا ہے تو کبھی پشتون گھرانے سے تو کبھی سندھی گھرانے سے صاحب ہم تو ایک ہیں ہم تو مسلمان ہیں ہم تو اردو بولتے ہیں کبھی ایک دوسرے کو سندھی،بلوچی،پنجابی پشتون نہیں کہا صاحب میری تین ہی بیٹیاں ہیں اور ایک بوڑھی ماں ہے-

    صاحب قسم لے لو وہ جو ملک صاحب ہیں نا پیٹرول پمپ والے وہ ہر عید کے دن میری ماں کو گلے لگا کر جاتے ہیں جاتے ہوئے 5 ہزار دے کر جاتے ہیں اور میری بیٹیوں کا اپنی بیٹیوں کی طرح ماتھا چوم کر جاتے ہیں اور وہ غریب پنجابیوں کے گھروں میں بھی ایسے ہی جاتے ہیں اور دوسرے صوبوں کے رہائش پذیز لوگوں کے گھروں میں بھی ایسے ہی تو صاحب پھر یہ نفرت کیوں؟-

    ہمارا قصور کیوں میں بھی تو بلوچ ہوں مگر مجھے کیوں مارا انہوں نے ؟میری رہڑھی کیوں تباہ کی انہوں نے ؟ صاحب جی یہ نئی والی ریڑھی مجھے لکڑی کے ٹال کے مالک حشمت خان نے مفت میں خرید کر دی ہے اور 10 ہزار سودے کیلئے رحم بخش سندھی نے دیا ہے
    صاحب یہ نفرت کیوں ہے ؟-

    یہ تو بلوچی نہیں صاحب بلوچی تو بڑے غیور ہوتے ہیں صاحب کسی کو ناجائز قتل نہیں کرتے کیونکہ میرے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ کرام رضہ اللہ عنہ سب سے پہلے بلوچستان میں ہی آئے تھے اور ان کی قبریں بھی ادھر آج بھی ہیں یہ کیسے بلوچی ہیں جو ہمیں بلوچستان میں بھی مارتے ہیں اور پنجاب میں بھی پہلے انہوں نے کراچی کا کاروبار تباہ کیا اور اب لاہور کا تباہ کرنے لگے ہیں صاحب اگر لاہور کراچی بن گیا کاروبار نا رہا تو میں اپنی تین چھوٹی چھوٹی بچیوں کو لے کر کہاں جاؤں گا ؟-

    اس کے اس سوال کا جواب میرے پاس نا تھا میں نے اسے کہا حوصلہ کر کچھ نہیں ہوتا ان شاءاللہ یہ ملک یہ صوبے یہ شہر یہ گلی محلے ان شاءاللہ قیامت تک آباد رہیں گے کیونکہ ان کی بنیادوں میں شہداء کا لہو شامل ہے-

  • رمضان میں دیگرمہینوں کےمقابلے میں فالج کےامکانات کم ہو جاتے ہیں،ماہرین

    رمضان میں دیگرمہینوں کےمقابلے میں فالج کےامکانات کم ہو جاتے ہیں،ماہرین

    ماہر ین کا کہنا ہے کہ رمضان میں دیگرمہینوں کےمقابلے میں فالج کےامکانات کم ہو جاتے ہیں-

    باغی ٹی وی: تفصیلات کے مطابق نیورولوجسٹ پروفیسر ڈاکٹر محمد واسع نےحال ہی میں کراچی میں آٹھویں بین الاقوامی ڈائبیٹیز اینڈ رمضان کانفرنس 2022 کے دوسرے روز سائنٹیفک سیشن سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ رمضان میں دیگر مہینوں کے مقابلے میں فالج کے کیس کم ہو جاتے ہیں جس کی بنیادی وجہ اکثر لوگوں کا تمباکو نوشی سے گریز، بہتر بلڈ پریشر اور شوگر کنٹرول اور روزہ رکھنے کے نتیجے میں کولیسٹرول کا کم ہونا ہے۔

    رمضان کےروزے رکھنا ذیا بیطس میں مبتلا افراد کی صحت کیلئے مفید ،مفتی تقی عثمانی

    پروفیسر محمد واسع کا کہنا تھا کہ رمضان کے روزے رکھنے کے ذہنی اور اعصابی صحت کے لیے بے شمار فوائد ہیں اور تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ روزے رکھنے سے گھبراہٹ، ڈپریشن اور دیگر نفسیاتی بیماریوں میں کمی واقع ہوتی ہے، ادویات کے ساتھ ساتھ روزے رکھنے سے شیزوفرینیا کے مرض میں بھی افاقہ ہوتا ہے-

    دوسری جانب روزہ مختلف اعصابی بیماریوں بشمول پارکنسنز اور الزئمرز کی بیماریوں سے بچاؤ میں بھی کافی حد تک معاونت فراہم کرتا ہے، روزہ رکھنے سے نیند بہتر ہوتی ہے جبکہ حال ہی میں کی گئی تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ کورونا کی وبا کے نتیجے میں جن لوگوں کی چکھنے کی حس متاثر ہوئی تھی انہیں روزے رکھنے سے فائدہ ہوا ہے۔

    گردوں کے امراض کے ماہر ڈاکٹر بلال جمیل کا کہنا تھا کہ گردوں کی بیماری کا شکار ایسے مریض جنہیں دل کی بیماری بھی لاحق ہو، انہیں روزے رکھنے سے گریز کرنا چاہیے، لیکن صرف گردوں کی بیماری میں مبتلا افراد اپنے ڈاکٹر کے مشورے سے روزے رکھ سکتے ہیں۔

    ذیا بیطس کے مریضوں کیلئے بہترین ناشتہ جو خون میں شکر کی مقدار کم رکھتا ہے

    ماہر امراض ذیابطیس ڈاکٹر مسرت ریاض کا کہنا تھا کہ شریعت کے مطابق ایسی حاملہ خواتین جنہیں روزہ رکھنے کے نتیجے میں اپنی صحت یا اپنے ہونے والے بچے کو کسی طرح کا ضرر پہنچنے کا اندیشہ ہو، انہیں روزہ نہ رکھنے کی اجازت ہے لیکن چونکہ اکثر حاملہ خواتین روزہ رکھنے پر اصرار کرتی ہیں، اس لیے انہیں اپنی گائناکالوجسٹ اور ماہر امراض ذیابطیس سے مشورہ ضرور کرنا چاہیے۔

    ماہر امراض ذیابطیس پروفیسر زمان شیخ کا کہنا تھا دل کی بیماریوں میں مبتلا ایسے مریض جو کہ باقاعدگی سے علاج کروا رہے ہو اور ان کی صحت بہتر ہو وہ روزہ رکھ سکتے ہیں، لیکن ایسے مریض جن کے معالجین یہ سمجھیں کہ ان کی صحت اس قابل نہیں ہے کہ وہ روزے رکھ سکیں انہیں روزے رکھنے سے اجتناب برتنا چاہیے-

    ہر نمازکے بعد اللہ تعالیٰ کے 3 ناموں کا ورد، داغ دھبے اور دانے ہمیشہ کے لئے ختم

    دارالعلوم کراچی سے وابستہ مفتی نجیب خان کا کہنا تھا کہ روزے کی حالت میں انگلی میں سوئی چبھو کر خون نکال کر چیک کرنے سے روزہ نہیں ٹوٹتا، اسی طریقے سے آنکھ اور کان میں دوائی کے قطرے ڈالنے اور انجکشن لگوانے سے بھی روزہ نہیں ٹوٹتا اگر کسی مریض کی جان پر بن آئے تو اسے روزہ توڑ دینا چاہیے اور ایسی حالت میں اسے صرف قضا روزہ رکھنا پڑے گا تاہم مختلف بیماریوں میں مبتلا افراد کو روزے رکھنے کے حوالے سے ڈاکٹروں سے مشورہ کرنا چاہیے کیونکہ علماء کرام کے مقابلے میں ڈاکٹر انہیں بہتر مشورہ دے سکتے ہیں-

    فزیشن پروفیسر ڈاکٹر طاہر حسین کا کہنا تھا کہ کانفرنس کے دوران مختلف سائنٹیفک سیشنز میں پیش کیے گئے مقالوں سے ثابت ہوا ہے کہ دل، گردوں، ذیابطیس، بلڈ پریشر کی بیماریوں میں مبتلا افراد اور کسی حد تک حاملہ خواتین بھی روزے رکھ سکتی ہیں، لیکن ایسےمریضوں کو رمضان کا مہینہ شروع ہونے سے پہلے اپنے معالجین سے مشورہ ضرور کرنا چاہیے۔

    وظائف کے ضروری آداب اور شرائط

  • دہی خواتین  کی صحت کیلئے بے حد مفید قرار

    دہی خواتین کی صحت کیلئے بے حد مفید قرار

    غذائی ماہرین کے مطابق دہی وٹامن سے بھر پور غذا ہے، دہی میں صحت برقرار رکھنے کے لیے انتہائی ضروری وٹامنز اور منرلز کثیر مقدار میں پائے جاتے ہیں، طبی لحاظ سے بھی دہی نا صرف خاصا مفید اثرات کا حامل ہے بلکہ اس کا استعمال بہت سی بیماریوں سے بھی بچاتا ہے اس کا ایک کپ روزانہ کھانے سے جسم میں پوٹاشیم، فاسفورس، وٹامن بی 5، آیوڈین اور زنک کی کمی دور ہوتی ہے۔

    طبی ماہرین کے مطابق دہی کے استعمال سے مردوں کے مقابلے میں خواتین میں زیادہ پائی جانے والی بیماری ’اوسٹیو پروسس‘ سے بچاؤ ممکن ہوتا ہے اور طویل عمری میں گھٹنوں کے درد سے نجات ملتی ہے۔

    ایک تحقیق کے مطابق دہی کا استعمال وزن کم کرنے میں بھی مدد گار ثابت ہوتا ہے، کیونکہ اس میں موجود کیلشیم جسم میں موجود چربی کو پگھلاتا اور وزن کو بڑھنے سے روکتا ہے دہی میں چکنائی اور کیلوریز انتہائی کم مقدار میں پائی جاتی ہیں، ایک کپ دہی میں صرف 120 کیلوریز ہوتی ہیں-

    دہی میں دیگر ضروری غذائی اجزاء جیسے کہ پروٹین بھی پایا جاتا ہے جسے انسانی پٹھوں کی نشونما کے لیے انتہائی مفید قرار دیا جاتا ہے۔دہی کے 100 گرام مقدار میں ہزاروں گُڈ بیکٹیریاز کے ساتھ 59 کیلوریز، 0.4 فیصد گرام فیٹ، 5 ملی گرام کولیسٹرول، 36 ملی گرام سو ڈیم ، 141 ملی گرام پوٹاشیم ، 3.2 گرام شوگر، 11 فیصد کیلشیم ، 13 فیصد کوبالمین، 5 فیصد وٹامن بی 6 او 2 فیصد میگنیشیم پایا جاتا ہے، اسلئے غذائیت سے بھرپور دہی خواتین خصوصاً حاملہ خواتین کے لیے بے حد مفید قرار دیا جاتا ہے ۔

    گُڑکے نیم گرم پانی کے حیرت انگیز طبی فوائد

    ماہرین کے مطابق دہی میں شامل کیلشیم اور وٹامن ڈی ہڈیوں کے لیے انتہائی اہم ہیں اور خصوصاً خواتین کو اِن ہی دو وٹامن اور منرل کی اشد ضرورت ہوتی ہے، اس کا روز مرہ استعمال ہڈیوں کی مضبوطی میں انتہائی اہم کردار ادا کرتا ہے جبکہ ہڈیوں کو بہت سی بیماریوں سے بھی بچاتا ہے۔

    دہی میں موجود خصوصی اینٹی آکسائیڈز جلد کو بہتر نشوونما فراہم کرتے ہیں اس کے علاوہ جلد میں موجود ڈیڈ سیلز کا بھی خاتمہ کرتے ہیں دہی میں موجود قدرتی صحت بخش اجزاء کی خصوصات جلد کو صحت مند اور بالوں کو مضبوطی فراہم کرنے میں مددگار ثابت ہوتے ہیں اس میں بڑی مقدار میں (لیکٹک ایسڈ) کی خوبی موجود ہوتی ہے جو جلد اور بالوں کی نگہداشت وحفاظت کے لیے بہت کارآمد ہے۔

    ذیا بیطس کے مریضوں کیلئے بہترین ناشتہ جو خون میں شکر کی مقدار کم رکھتا ہے

    دہی میں حیرت انگیزطورپر فری ریڈیکلز کوکنٹرول کرنے کی صلاحیت ہوتی ہے اور یہ عمر رسیدگی کے اثرات سے بچاؤ کی خصوصیات بھی رکھتا ہے جو جلد پر باریک لکیروں اور جھریوں کو نمودار ہونے سے روکتا ہے دہی میں موجود لیکٹک ایسڈ قبل ازوقت جلد کو بڑھتی عمر کے اثرات سے محفوظ رکھنے میں معاونت فراہم کرتا ہے۔

    جلد کو جھریوں سے دور، جوان، چمکدار کرنے کے لیے ایک چمچہ زیتون کا تیل اور تین چمچے دہی کو مکس کرکے 30منٹ تک چہرے پر لگا کر چھوڑ دیں اس فیس پیک کو ہفتے میں تین بار ضرور استعمال کرنے سے جلد ملائم، نکھری نکھری تروتازہ ہو جائے گی۔

    ڈبل روٹی کے انسانی صحت پر منفی اثرات طبی ماہرین