Baaghi TV

Author: عائشہ ذوالفقار

  • سوشل میڈیا انسانوں کو ذہنی ٹارچر کرتا ہے  نازش جہانگیر

    سوشل میڈیا انسانوں کو ذہنی ٹارچر کرتا ہے نازش جہانگیر

    پاکستانی اداکارہ و ماڈل نازش جہانگیر کا کہنا ہے کہ ہر معاملے کی تحقیقات بہت ضروری ہیں، اگر کسی بارے میں علم نہ ہو تو خاموشی اختیار کر لینی چاہیے-

    باغی ٹی وی : حال ہی میں نازش جہانگیر نے نجی ٹی وی چینل پر ندا یاسر کے پروگرام ، شان سحور، میں شرکت کی میزبان نے ان سے ان تلخ ترین دنوں کے بارے میں پوچھا جب ان پر گلوکار و اداکار محسن عباس کی اہلیہ فاطمہ سہیل نے الزامات لگائے تھے۔

    جس پر نازش جہانگیر نے کہا کہ میں نے ان سب حالات کا مقابلہ صرف خاموشی سے کیا، مجھے اللہ کی ذات پر بھرپور توکل اور ایمان تھا۔

    اداکارہ نے خود پر تنقید کرنے والوں کو پیغام دیتے ہوئے کہا کہ ہر معاملے کی تحقیقات بہت ضروری ہیں، اگر کسی بارے میں علم نہ ہو تو خاموشی اختیار کر لینی چاہیے، کوئی بھی شخص صحیح یا غلط نہیں ہوتا بس کہانی کے دو پہلو ہوتے ہیں جنہیں دیکھنا ضروری ہوتا ہے۔

    نازش جہانگیر کے ساتھ شریک مہمان ایشل فیاض نے جھوٹی افواہیں پھیلنے کا ذمہ دار سوشل میڈیا کو قرار دیتے ہوئے کہا پہلے زندگی بہت آسان تھی لیکن سوشل میڈیا کے فعال ہونے کے بعد لوگ منفی ہوگئے ہیں اور دوسروں کو پریشان کرتے ہیں۔

    جس پر اداکارہ نازش جہانگیر نے کہا کہ سوشل میڈیا انسانوں کو ذہنی ٹارچر کرتا ہے۔

    حالات کا مقابلہ کرکے دوبارہ زندگی کی طرف لوٹنے کے حوالے سے نازش جہانگیر کا کہنا تھا کہ مجھے خود ہی سب کی اصلیت پتہ چل گئی، آپ کو آپ کے اللہ نے دوبارہ اٹھا کر کھڑا کر دیا اس سے بڑا طمانچہ کسی کے منہ پر کیا ہوگا؟

    اداکارہ نے کہا کہ میرے والد کو مجھ پر بھروسہ تھا اور انہوں نے مجھ پر گھر کے دروازے کبھی بند نہیں ہونے دیے۔

    یاد رہے نازش جہانگیر اور محسن عباس کو 21 اگست 2020 کو کراچی سے گرفتار کیا گیا تھا، دونوں کو محسن عباس کی سابقہ اہلیہ فاطمہ سہیل کی جانب سے درج کروائی گئی ایف آئی آر کے تحت گرفتار کیا گیا تھا۔ فاطمہ سہیل نے ان پر ہراسانی، بلیک میلنگ اور جعلی ویڈیوز اور تصاویر بنانے کا الزام عائد کیا تھا-

  • خلیل الرحمٰن قمر کے ساتھ شادی کی خبروں پر بہت ڈر گئی تھی     ایشل فیاض

    خلیل الرحمٰن قمر کے ساتھ شادی کی خبروں پر بہت ڈر گئی تھی ایشل فیاض

    پاکستانی فلم ’کاف کنگنا‘ کی اداکارہ ایشل فیاض نے معروف رائٹر اور ہدایت کار خلیل الرحمٰن قمر کے ساتھ شادی کی خبروں پر وضاحت دیتے ہوئے کہا کہ اللہ جانتا ہے کہ میری اور خلیل الرحمٰن کی شادی کی افواہیں کس نے پھیلائیں مجھے اس بارے میں کوئی علم نہیں۔

    باغی ٹی وی : اداکارہ ایشل فیاض نے حال ہی میں ندا یاسر کے شو ’شان سحور‘ میں بطور مہمان شریک ہوئیں جہاں میزبان نے ان سے ان کی اور خلیل الرحمٰن قمر کی شادی سے متعلق پھیلی قیاس آرائیوں کے بارے میں پوچھا –

    اداکارہ ایشل نے جواب دیا اللہ جانتا ہے کہ میری اور خلیل الرحمٰن کی شادی کی افواہیں کس نے پھیلائیں مجھے اس بارے میں کوئی علم نہیں۔

    ایشل نے کہا جب میری اور خلیل الرحمٰن کی شادی کی افواہیں پھیلیں تو میں ڈر گئی تھی اور میں اپنے کمرے میں اکیلے بیٹھ کر رو رہی تھی لیکن مجھے میری والدہ نے سمجھایا ڈر کے بیٹھنے سے کچھ نہیں ہوگا لوگوں کے سامنے جاؤ اور وضاحت دو جس کے بعد میں نے انٹرویو میں ان تمام افواہوں کو جھوٹا قرار دیا۔

    اداکارہ ایشل نے کہا خلیل الرحمٰن قمر میری فیملی کی طرح ہیں اور ان کی اہلیہ بہت غصے والی ہیں جب میری اور خلیل صاحب کی شادی کی افواہیں پھیلیں تو ان کی بیوی نے بہت سارے بلاگرز کو یہ جھوٹی افواہیں پھیلانے کے لیے ڈانٹا تھا۔

    ایشل فیاض نے جھوٹی افواہیں پھیلنے کا ذمہ دار سوشل میڈیا کو قرار دیتے ہوئے کہا پہلے زندگی بہت آسان تھی لیکن سوشل میڈیا کے فعال ہونے کے بعد لوگ منفی ہوگئے ہیں اور دوسروں کو پریشان کرتے ہیں۔

    جبکہ ایشل کے ساتھ شریک مہمان اداکارہ نازش جہانگیر نے کہا کہ سوشل میڈیا انسانوں کو ذہنی ٹارچر کرتا ہے۔

    ایشل فیاض نے شو کے دوران اپنے اگلے پراجیکٹ کے بارے میں بتاتے ہوئے کہا میں اپنی اگلی فلم ’’میں ہوں تیری گلناز‘‘ میں کام کررہی ہوں اور یہ فلم بھی خلیل الرحمٰن قمر کی ہی ہے۔

    واضح رہے کہ تقریباً ایک سال قبل اداکارہ ایشل فیاض اور خلیل الرحمٰن قمر کی شادی کی افواہیں سوشل میڈیا پر پھیلی تھیں بعد میں دونوں کی جانب سے ان افواہوں کی تردید کردی گئی تھی۔

  • دنیا بھر میں ‘اسپوتنک فائیو’ کی مانگ میں اضافہ، روس نے چین کی تین بڑی کمپنیوں کے ساتھ معاہدہ کر لیا

    دنیا بھر میں ‘اسپوتنک فائیو’ کی مانگ میں اضافہ، روس نے چین کی تین بڑی کمپنیوں کے ساتھ معاہدہ کر لیا

    اگرچہ دنیا کے سب سے امیر ترین ممالک کوویڈ ۔19 ویکسین کی قلت سے دوچار ہیں ، لیکن کچھ غریب ترین ممالک بھی ویکسین کے لئے فکر مند ہیں ۔ اس کے باوجود دونوں مسائل کا حل ایک ہی ہے اور وہ ہے چین اور روس کی ویکسینز ، جو شاہد جلد ہی بھارت کو مہیا کی جائے گی-

    چینی اور روسی ویکسینز کو ابتدائی طور پر مغربی اور دیگر عالمی میڈیا میں خارج کردیا گیا ، جزوی طور پر اس خیال کی وجہ سے کہ وہ موڈرننا ، فائزر بائنینک یا آسٹرا زینیکا کی تیار کردہ ویکسین سے کمتر ہیں۔ اور یہ خیال جزوی طور پر اس حقیقت سے نکلتا ہے کہ چین اور روس آمرانہ ریاستیں ہیں۔

    لیکن کچھ عرصے سے شواہد اکٹھے ہو رہے ہیں کہ ان ممالک کی ویکسینز بھی اچھی طرح کام کرتی ہیں برطانوی طبی جریدے ‘دی لین سیٹ’ پر یہ ڈیٹا شائع ہونے کے بعد کہ وسیع پیمانے پر کیے گئے تجربات سے ظاہر ہوتا ہے کہ ‘اسپوتنک فائیو’ ویکسین محفوظ ہے اور اس کے مؤثر ہونے کی شرح 91 فی صد ہے، روس کی تیار کردہ ویکسین پر کی جانے والی تنقید، اب خاصی حد تک معدوم ہوتی جا رہی ہے۔

    متحدہ عرب امارات ، بحرین ، مصر ، اردن ، عراق ، سربیا ، مراکش ، ہنگری اور پاکستان نے چین سے سینوفرم ویکسین کی منظوری دے دی ہے۔ جنوری کے وسط تک ، امریکہ میں 1.8 ملین افراد کو یہ ویکسین لگائی گئی تھی یورپ ، مشرق وسطی ، افریقہ اور لاطینی امریکہ کے ایک درجن سے زیادہ ممالک میں ‘اسپوتنک فائیو’ تقسیم کی جائے گی۔

    ویکسین کی بڑی قلت اور ترسیل میں تاخیر کے باوجود ، فرانس ، اسپین اور جرمنی اب چینی اور روسی ویکسینز خریدنے کے بارے میں سوچنے لگے ہیں ایسا لگتا ہے کہ کورونا کی موجودہ صورتحال نے نے آخر کار انھیں غیر مغربی ویکسین کے خلاف "تعصب” کا مطالبہ کرنے پر مجبور کیا۔

    ایران میں روسی ویکسین ، پاکستان میں چینی ویکسین اور کینیا اور جنوبی افریقہ دونوں میں ابھی ویکسین کے حوالے سے کوئی ٹھوس فیصلہ نہیں کیا گیا۔ حالیہ یو جی سروے میں 17 ممالک کے 19،000 افراد سے پوچھا گیا کہ اگر وہ ان ممالک میں سے کون سے ممالک میں تیار کردہ ویکسینوں کے بارے میں "زیادہ مثبت یا منفی” سوچتے ہیں تو: روس ، چین اور بھارت میں (ایران کے علاوہ) یہ ویکسین سب سے کم درجہ رکھتے ہیں۔

    تاہم اسپوتنک فائیو کی دنیا بھر میں بڑھتی ہوئی ڈیمانڈ کے باعث روس نے چین کی تین بڑی کمپنیوں کے ساتھ کرونا وائرس کے خلاف بنائی گئی روسی ویکسین ‘اسپوتنک فائیو’ بنانے کے لیے معاہدہ کیا ہے-

    روس نے حالیہ ہفتوں میں چین کی ویکسین بنانے والی کمپنیوں کے ساتھ تین معاہدوں کا اعلان کیا ہے، جن کے تحت یہ کمپنیاں کُل 260 ملین خوراکیں تیار کریں گی۔

    اس فیصلے کے معنی یہ ہیں کہ لاطینی امریکہ، مشرق وسطٰیٰ اور افریقہ کے وہ ممالک جنہوں نے روس سے ویکسین درآمد کرنے کے معاہدے کئے ہیں، انہیں روسی ویکسین تک جلد رسائی حاصل ہو جائے گی۔ امریکہ اور یورپی یونین کی زیادہ تر توجہ پہلے اپنے شہریوں کو ویکسین فراہم کرنے پر ہے۔

    تاہم، ماہرین اب بھی یہ سوال اٹھا رہے ہیں کہ کیا روس دنیا بھر میں ویکسین فراہم کرنے سے متعلق کئے گئے اپنے وعدوں کو پورا کر سکے گا؟ روس نے سینکڑوں لاکھوں خوراکیں فراہم کرنے کا وعدہ کیا ہے اور ابھی تک اس نے اس کا بہت ہی کم حصہ برآمد کیا ہے۔

    روس کے ترجمان، دمتری پیسکوف کا کہنا ہے کہ ‘اسپوتنک فائیو’ کی مانگ اتنی بڑھ چکی ہے کہ وہ روس میں مقامی سطح پر تیار کی جانے والی ویکسین کی پیداوار سے کہیں زیادہ ہے۔

    روس کے ڈائریکٹ انویسٹمنٹ فنڈ نے ‘اسپوتنک فائیو’ کی تیاری کیلئے سرمایہ فراہم کیا تھا۔ اب اس فنڈ نے اپنی پیداوار میں اضافہ کیلئے، دیگر ملکوں کی متعدد دوا ساز کمپنیوں کے ساتھ سمجھوتے طے کئے ہیں، جن میں بھارت، جنوبی کوریا، برازیل، سربیا، ترکی اور اٹلی کے علاوہ دیگر ممالک کی دوا ساز کمپنیاں شامل ہیں۔

    تاہم، ایسے چند اشارے ملے ہیں کہ بیلاروس اور قازقستان کے علاوہ غیر ممالک کی دوا ساز کمپنیوں نے ابھی تک ویکسین کی بڑی مقدار تیار نہیں کی۔

    روس کا ڈائریکٹ انویسٹمنٹ فنڈ، ‘اسپوتنک فائیو’ کے لیے بین الاقوامی تعاون کا ذمہ دار ہے، اور اپریل میں اس کا کہنا تھا کہ وہ ہُوآلن بائیلوجیکل بیکٹیرِن ان کارپوریشن کے تعاون سے 100 ملین خوراکیں تیار کرے گا، جبکہ اس سے پہلے مارچ میں اس نے اعلان کیا تھا کہ وہ شین زین یوانکسن جین ٹیک کمپنی کے ساتھ ملکر 60 ملین خوراکیں تیار کرے گا۔

    ان دو معاہدوں سے پہلے، گزشتہ سال نومبر میں روس نے تبت روہڈی اولا فارماسیوٹیکل ہولڈنگ کی ایک ذیلی کمپنی کے ساتھ بھی ایک سو ملین خوراکیں تیار کرنے کا معاہدہ کیا تھا۔

    ایئر فنیٹی کے سی ای او، رسمس بیخ ہینسن کا کہنا ہے کہ روس ہے تو بڑا پر جوش مگر شاید وہ اپنے مکمل اہداف حاصل نہ کر سکے۔ تاہم، ان کا کہنا تھا کہ اب چین کے ساتھ مل کر ‘اسپوتنک فائیو’ کو بنانے کے لیے کام کرنے سے، روس اور چین دونوں کی جیت ہو گی۔

    چین کی ویکسین بنانے والی کمپنیاں، مقامی سطح پر استعمال کیلئے ویکسین بنانے سے ہٹ کر اب عالمی منڈی میں بھی ویکسین سپلائی کیا کریں گی۔ ان کمپنیوں کو ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کی جانب سے مخصوص ویکسین بنانے کی منظوری مل جانے سے، ان کے معیار پر مہر ثبت ہو گئی ہے۔ عالمی وبا کے دوران، چین کی ان کمپنیوں نے کروڑوں کی تعداد میں یہ ویکسین غیر ممالک کو بھجوائی ہیں۔

    تاہم، اب تک چین کی تینوں کمپنیوں نے ‘اسپوتنک فائیو’ کو تیار کرنا شروع نہیں کیا۔

    لندن میں قائم سائنسی تجزیئے کی کمپنی، ایئر فِنیٹی کے اندازوں کے مطابق، روس نے تقریباً 100 ممالک کے ساتھ 630 ملین خوراکیں فراہم کرنے پر اتفاق کیا ہے، لیکن اس میں سے ابھی تک صرف 11.5 ملین خوراکیں ہی برآمد کی ہیں۔

    روسی فنڈ نے یہ بتانے سے انکار کیا کہ ویکسین کی کتنی خوراکیں غیر ممالک کو بھجوائی جا رہی ہیں۔ روس میں اس سال 17 اپریل تک ویکسین کی دو ٹیکوں پر مشتمل صرف 27 ملین خوراکیں ہی مبینہ طور پر تیار کی جا سکی ہیں۔

  • پلے اسٹیشن پر مفت گیمز کی فہرست جاری

    پلے اسٹیشن پر مفت گیمز کی فہرست جاری

    سونی نے پلے اسٹیشن 4 اور 5 کے لیے مئی میں مفت گیمز کی فہرست جاری کردی ہے۔

    باغی ٹی وی : سونی انٹرٹینمنٹ کے مطابق رواں ماہ یہ گیمز بنا کسی اضافی چارجز کے بالکل فری کھیلے جاسکتے ہیں سونی پلے اسٹیشن کے مفت گیمز کی فہرست میں ریک فیسٹ: ڈرائیو ہارڈ ، ڈائی لاسٹ، بیٹل فیلڈ 5 اور اسٹرینڈڈ ڈیپ شامل ہیں۔ ریک فیسٹ: ڈرائیو ہارڈ، ڈائی لاسٹ خصوصی طور پر ہی ایس 5 کے استعمال کنندگان کے لیے ہیں۔

    ریک فیسٹ: ڈرائیو ہارڈ، ڈائی لاسٹ:

    ریک فیسٹ: ڈرائیوہارڈ، ڈائی لاسٹ کار ریسنگ گیم ہے، جسے تھرل اور ایکشن سے بھرپور کار ریسنگ گیم فلیٹ آؤٹ کے ڈیویلپر کی جانب سے بنایا گیا ہے۔ فلیٹ آؤٹ کی طرح اس گیم میں بھی غضب ناک ڈرائیونگ اورگاڑیوں کا آپس میں تصادم ہے کاروں کے بے تحاشا ماڈلز کے ساتھ یہ ملٹی پلیئر گیمزہے،جسے بیک وقت 24 کھلاڑی ایک ساتھ کھیل سکتے ہیں۔

    بیٹل فیلڈ 5:

    بیٹل فیلڈ5 گیم سے پی ایس 4 اور پی ایس 5 دونوں کے استعمال کنددہ لطف اندوز ہوسکتے ہیں۔ یہ2018 میں لانچ ہونے والے بیٹل فیلڈ گیم سیریز کا 14واں گیم ہے۔ یہ ایف پی ایس ( فرسٹ پرسن شوٹر) ایکشن شوٹنگ گیم ہےجسے ایک یا مختلف کھلاڑی ایک ساتھ کھیل سکتے ہیں۔

    دوسری جنگ عظیم کے پس منظر پر بننے والے اس گیم میں بہت سارے فیچرز دیئے گئے ہیں جن میں ہتھیاروں کی موڈیفیکیشن اور گاڑیوں کی کسٹومائزیشن وغیرہ سر فہرست ہیں۔

    اسٹرینڈڈ ڈیپ

    اسٹرینڈڈ ڈیپ بھی پی ایس 4 اور پی ایس 5 دونوں صارفین کے لیے دستیاب ہے۔ یہ ایک اوپن ورلڈ ایڈوینچر گیم ہے جس میں کھلاڑی کو زندہ رہنے کے لیے اپنی مہارت کا تجربہ کرنا ہوتا ہے۔

    اس کھیل میں کھلاڑی کا جہازبحرالکاہل میں پھنس جاتا ہے اور کھلاڑی بے یارومددگار اور تنہا رہ جاتا ہے۔ زندہ رہنے کے کھلاڑی کو زیر آب یا زمین پر شکار کرنا پڑتا ہے، جبکہ اوزار اور ہتھیار بنانے کے ساتھ ساتھ زندہ رہنے کے لیے جائے پناہ بھی بنانی ہے۔

  • میگھن مارکل کی کتاب ،دی بینچ، 8 جون کو شائع ہو گی

    میگھن مارکل کی کتاب ،دی بینچ، 8 جون کو شائع ہو گی

    برطانوی شہزادہ ہیری کی اہلیہ میگھن مارکل کی کتاب 8 جون کو شائع ہوگی۔

    باغی ٹی وی :The Bench نامی کتاب میں ڈچس آف سسیکس نے ماں کی حیثیت سے دیکھے گئے باپ اور بیٹے کے تعلقات کو بیان کیا ہے۔

    میگھن مارکل نے ایک بیان میں کہا ہے کہ The Bench نامی کتاب کا آغاز ایک نظم سے ہوا جو میں نے والد کے عالمی دن پر ہیری کے لئے لکھی تھی جس کے ایک ماہ بعد آرچی کی پیدائش ہوئی اور اب یہ نظم کہانی بن گئی۔

    میگھن مارکل کا مزید کہنا ہے کہ مجھے امید ہے کہ یہ کتاب ہر گھر میں پڑھی جائے گی رپورٹس کے مطابق میگھن مارکل کتاب کو اپنی آواز میں بھی ریلیز کریں گی۔

    اس کی کہانی کے ساتھ ایوارڈ یافتہ مصور کرسچن رابنسن کی تصاویر بھی ہوں گی۔

    پینگوئن رینڈم ہاؤس کے پبلشرز نے کہا کہ اس کتاب کا مقصد "گرم جوشی ، ربط اور ہمدردی کا گہرا احساس” پیدا کرنا ہے-

    واضح رہے کہ اس وقت میگھن مارکل اور ہیری امریکا میں رہائش پذیر ہیں اور یہ کتاب 2020 میں امریکہ جانے اور آزادانہ زندگی گزارنے کے لئے شاہی فرائض سے دستبردار ہونے کے فیصلے کے بعد سے سسیکس کے متعدد منصوبوں میں تازہ ترین کتاب ہے۔

  • اداکاری کے آغاز میں ہی فیصلہ کر لیا تھا ڈراموں میں کسطرح کی والدہ اور ساس کا کردار ادا کرنا ہے

    اداکاری کے آغاز میں ہی فیصلہ کر لیا تھا ڈراموں میں کسطرح کی والدہ اور ساس کا کردار ادا کرنا ہے

    پاکستان ڈرامہ انڈسٹری کی نامور اور سینئر اداکارہ صبا فیصل کا کہنا ہے کہ انہوں نے ڈراموں کے آغاز میں ہی فیصلہ کر لیاتھا کہ کس طرح کی والدہ اور ساس کا کردار ادا کرنا ہے-

    باغی ٹی وی :صبا فیصل نے 5 درجن سے زائد ڈراموں اور چند فلموں میں بھی کام کیا ہے، انہیں اداکاری کرتے ہوئے ڈیڑھ دہائی کا عرصہ ہوچکا ہے صبا فیصل ڈراموں میں منفی اور مثبت دونوں طرح کے کرداروں میں نظر آتی ہیں انہیں سخت گیر ساس اور بچوں کے ناز اٹھانے والی والدہ کے کرداروں کے طور پر پہچانا جاتا ہے۔

    تاہم اپنے اس کردار کے حوالے سے صبا فیصل نے حال ہی میں برطانوی خبر رساں ادارے بی بی سی اردو کو دیئے گئے انٹرویو میں کہا کہ عام طور پر لوگ انہیں کرداروں کی طرح سخت گیر سمجھتے ہیں۔

    صبا فیصل کا کہنا تھا کہ اگرچہ اداکاروں کا کرداروں سے کوئی تعلق نہیں ہوتا مگر لوگ انہیں کرداروں جیسا ہی سمجھنے لگتے ہیں اور انہیں انڈسٹری کے لوگ بھی ڈراموں کی سخت گیر ساس اور خاتون کی طرح سمجھتے ہیں۔

    انہوں نے بتایا کہ لوگ مجھے سخت اور کھڑوس سمجھنے لگے ہیں جس کی وجہ سے لوگ مجھ سے بات کرتے ہوئے جھجھکتے ہیں۔ جب میں کسی نئے سیٹ پر جاتی ہوں تو عملے کے لوگ اور ساتھی فنکار مجھ سے بے تکلف ہونے میں کچھ دن لگاتے ہیں اور پھر کہتے ہیں کہ ہمیں لگا کہ آپ بہت سخت قسم کی خاتون ہوں گی، ہم تو بہت گھبرائے ہوئے تھے لیکن آپ تو بہت نرم مزاج ہیں۔

    تاہم صبا فیصل اس امیج کے بارے میں ہنستے ہوئے کہا کہ میں کبھی کبھی اس تاثر کا فائدہ بھی اٹھا لیتی ہوں۔

    ایک سوال کے جواب میں انہوں نے اعتراف کیا کہ اگرچہ وہ زیادہ اداکاری نہیں کرتیں اور کم ہی ڈراموں میں دکھائی دیتی ہیں تاہم یہ ان کے ڈراموں کی خوبصورتی اور ان کا معیار ہے جو انہیں ہر جگہ نمایاں کر دیتا ہے ان جاندار کرداروں کی وجہ سے ان کی باتیں ہوتی رہتی ہیں اور لوگوں کو لگتا ہے کہ وہ زیادہ کام کرتی ہیں۔

    صبا فیصل کے مطابق انہیں اداکاری کے آغاز میں ہی ہمایوں سعید کی والدہ کا کردار ملا جس پر وہ قدرے جھجھک رہی تھیں اور انہوں نے اس وقت ہی فیصلہ کرلیا تھا کہ انہیں ڈراموں میں کس طرح کی والدہ اور ساس کا کردار ادا کرنا ہے۔

    صبا فیصل کا کہنا تھا کہ انھوں نے اپنے لیے کرداروں کے انتخاب میں بہت سوچ سمجھ کر فیصلہ کیا جس کا یہ نتیجہ نکلا کہ آگے چل کر انہیں وہی کردار ملے جو شاید ان کے لیے ہی بنائے گئے تھے۔

    ان کا کہنا تھا کہ تب سے اب تک مجھے کوئی ثانوی قسم کا کردار نہیں ملا، میرا کردار متوازی ہوتا ہے اگر ایک طرف ہیرو ہیروئن ہوتے ہیں تو دوسری طرف اس کی ماں ہوتی ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ اس وقت آن ایئر ڈرامے ’قیامت‘ میں انہیں اپنا ’سخت مزاج ساس ‘ کا کردار کرنے میں بہت مزا آیا جو آج تک کسی دوسرے کردار میں نہیں آیا تھا۔

    اداکارہ نے ایک سوال کے جواب میں بتایا کہ انہیں منفی کردار اچھے لگتے ہیں، کیوں کہ ایسے کرداروں کے ڈائیلاگ بھی جاندار اور زیادہ ہوتے ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ حقیقی زندگی میں والدہ اور ساس ہونے کا انہیں فائدہ ہوا ہے اور انہوں نے حقیقی زندگی کے تجربات کو کرداروں میں ڈھالا۔

    صبا فیصل کے مطابق جس انسان کی حقیقی زندگی میں اولاد اور اس نے مشکلات دیکھی ہوں تو انہیں ڈراموں میں اولاد کے کرداروں کے لیے روتے وقت جھوٹے آنسوں کے لیے گلیسرین کی ضرورت نہیں پڑتی بلکہ وہ حقیقی زندگی کی تلخیاں یاد کرکے کردار ادا کرتے ہیں۔

    واضح رہے کہ ان کے مقبول ڈراموں میں قیامت، میرا سائیں، اک تمنا لاحاصل سی، در شہوار، ہمسفر، مرات العروس، شہر اجنبی، کتنی گرہنیں باقی ہیں، میرے خدا، دل جانم، بندھے اک ڈور سے، شاہ رخ کی سالیاں، بن بادل برسات اور پہلی سی محبت شامل ہیں۔

  • ادیتیا چوپڑا کا فلم انڈسٹری کے 30 ہزار ورکرز کو کورونا ویکسین لگوانے کا اعلان

    ادیتیا چوپڑا کا فلم انڈسٹری کے 30 ہزار ورکرز کو کورونا ویکسین لگوانے کا اعلان

    بھارتی فلم انڈسٹری کے نامور فلمساز یش راج فلمز پروڈکشن کے سربراہ اور معروف اداکارہ رانی مکھر جی کے شوہر ادیتیا چوپڑا بھی مدد کے لئے سامنے آ گئے-

    باغی ٹی وی : بھارت میں کورونا کی تباہ کاریاں شدت کے ساتھ جاری ہیں اس صورتحال میں بھارت کی فلم نگری بھی پیچھے نہیں ہے
    بالی وڈ کے کچھ سپراسٹار دوسرے ممالک میں سیر سپاٹے کر رہے ہیں توبالی وڈ کے کچھ ستارے ایسے بھی ہیں جو کوویڈ کے خلاف جنگ میں اپنے ہم وطنوں کے شانہ بہ شانہ کھڑے ہوئے ہیں ان میں اب فلمساز ادیتیا چوپڑا بھی شامل ہو گئے ہیں-

    میڈیا رپورٹس کے مطابق ادیتیا چوپڑا اس مشکل وقت میں انڈسٹری کے لوگوں کی مدد کرنے کے خواہشمند دکھائی دیتے ہیں۔ انہوں نے فلم انڈسٹری کے 30 ہزار ورکرز کو کورونا ویکسین لگوانے کا اعلان کیا ہے-

    فلمساز کا کہنا ہے کہ وہ انڈسٹری کے تمام لوگوں کی ویکسینیشن پروگرام کے تمام اخراجات خود برداشت کریں گے۔

    انہوں نے اس ضمن میں ریاست مہاراشٹر کے وزیراعلیٰ ادھو ٹھاکرے پر زور دیا کہ وہ ان کی کمپنی کو کورونا وائرس کے 60 ہزار ڈوز خریدنے کی اجازت دیں۔

    اپنے ایک بیان میں ادیتیا چوپڑا کا کہنا تھا کہ اس وقت فلم انڈسٹری ایک مشکل وقت سے گزر رہی ہے، تاہم ایسے میں ہزاروں ورکرز کو جتنا جلدی ہوسکے اپنی کمائی کو دوبارہ شروع کرنے کی ضرورت ہے تاکہ وہ خود کو اور اپنے اہلِ خانہ کو محفوظ بناسکیں۔

    ادیتیا چوپڑا نے کہا کہ ہم اس حوالے سے اپنی خدمات پیش کرنا چاہتے ہیں اور وزیراعلیٰ مہاراشٹر سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ انڈسٹری کے 30 ہزار رجسٹرڈ ورکرز کو ویکسین لگوانے کے لیے ویکسین کی خریداری کی اجازت دیں۔

  • کورونا وبا میں مبتلا ہونا بہت ہی بھیانک اور بُرا تھا      امریکی گلوکارہ

    کورونا وبا میں مبتلا ہونا بہت ہی بھیانک اور بُرا تھا امریکی گلوکارہ

    امریکی گلوکارہ پنک نے کہا ہے کہ کورونا وائرس میں مبتلا ہونا بہت ہی بھیانک تھا نہیں لگتا تھا کہ میں بچ پاؤں گی۔

    باغی ٹی وی : غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق ایک انٹرویو میں 41 سالہ گلوکارہ پنک نے بتایا کہ وہ وقت بہت ہی برا تھا جب میں کورونا وبا میں مبتلا تھی یہاں تک کہ میں نے اپنی وصیت بھی دوبارہ لکھ لی تھی۔

    گلوکارہ نے بتایا کہ بیماری کے دوران ایک وقت ایسا بھی آیا جب مجھے اپنے اور بیٹے کے لئے لگا کہ اب ہمارے لئے وقت ختم۔

    انہوں نے مزید بتایا کہ بیماری کے دوران میں نے اپنی قریبی دوست کو فون کر کے بتایا کہ میں اپنی بیٹے سے بےحد پیار کرتی ہوں۔

    واضح رہے کہ گزشتہ سال اپریل میں گلوکارہ پنک اور ان کے 4سالہ بیٹے میں کورونا وائرس کی تشخیص ہوئی تھی۔جبکہ ان کے شوہر اور بیٹی بیماری میں مبتلا نہیں ہوئے تھے۔

  • کورونا کے باعث اداکارہ نکی تمبولی کا بھائی ہلاک

    کورونا کے باعث اداکارہ نکی تمبولی کا بھائی ہلاک

    بھارتی کے معروف رئیلٹی شو بگ باس سے شہرت حاصل کرنے والی نکی تمبولی کا بھائی آج کورونا وائرس کی وجہ سے چل بسا۔

    باغی ٹی وی : نکی تمبولی کا بھائی 29 سالہ جتین تمبولی گزشتہ بیس دنوں سے اسپتال میں داخل تھا جہاں اس کا کورونا وائرس اور دیگر مہلک بیماریوں کا علاج جاری تھا۔

    نکی تمبولی نے اپنے ایک سوشل میڈیا پوسٹ میں اپنے بھائی کے انتقال کے حوالے سے ایک پوسٹ میں سب کو آگاہ کیا۔

    بگ باس 14 سے مشہور ہونے والے فنکاروں اور دیگر شوبز شخصیات نے ان کی اور ان کے اہل خانہ سے ان کے بھائی کی موت پر افسوس و تعزیت کا اظہار کیا اور ان سے صبر و ہمت کا مظاہرہ کرنے کو کہا۔

    واضح رہے کہ ھارت میں اس وقت کورونا وائرس کی تیسری لہر نے تباہی مچائی ہوئی ہے اور روزانہ کی بنیاد پر 3 لاکھ سے زائد کیسز رپورٹ ہورہے ہیں اس کے علاوہ ہلاکتوں کی تعداد بھی ہزاروں میں ہے-

  • ٹوئٹر اکاؤنٹ معطل ہونے پر کنگنا رناوت کا ردعمل سامنے آ گیا

    ٹوئٹر اکاؤنٹ معطل ہونے پر کنگنا رناوت کا ردعمل سامنے آ گیا

    بھارتی اداکارہ کنگنا رناوت نے ٹوئٹر اکاؤنٹ معطل ہونے پر رد عمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ میرے ٹوئٹر اکاؤنٹ کی بندش سے یہ ثابت ہوگیا کہ یہ سفید فام لوگ سانولی رنگت والوں کو غلام بنانا اپنا حق سمجھتے ہیں۔

    باغی ٹی وی :خبر رساں ایجنسی اے این آئی رپورٹ کی رپورٹ کے مطابق کنگنا رناوت نے اپناٹوئٹر اکاؤنٹ معطل ہونے پر رد عمل دیتے ہوئے کہا کہ میرے ٹوئٹر اکاؤنٹ کی بندش سے یہ ثابت ہوگیا کہ یہ سفید فام لوگ سانولی رنگت والوں کو غلام بنانا اپنا حق سمجھتے ہیں۔

    کنگنا نے ٹوئٹر کو ہدف تنقید بناتے ہوئے کہا کہ یہ لوگ آپ کو بتانا چاہتے ہیں کہ آپ کو کیا کرنا ہے، کیا بولنا ہے اور کیا سوچنا ہے۔

    اداکارہ کا کہنا تھا کہ خوش قسمتی سے میرے پاس اپنی آواز بلند کرنے کے اور بھی پلیٹ فارمز موجود ہیں جن میں سنیما کی صورت میں میرا اپنا فن بھی شامل ہے۔

    بالی ووڈ کوئن کا کہنا تھا کہ ان کا دل ان کی قوم کے ساتھ ہے جو ہزاروں سالوں سے ظلم سہتی آئی ہے، غلامی سہتی آئی ہے اور اب بھی یہ معاملہ ختم ہوتا دکھائی نہیں دیتا-

    بھارتی اداکارہ کنگنا رناوت کا ٹوئٹر اکاؤنٹ معطل