Baaghi TV

Author: عائشہ ذوالفقار

  • یہ کام ٹھیک کرلو ورنہ تباہی تمہارا مقدر ہے شہروز سبز واری کاعمران خان کیلئے خصوصی پیغام

    یہ کام ٹھیک کرلو ورنہ تباہی تمہارا مقدر ہے شہروز سبز واری کاعمران خان کیلئے خصوصی پیغام

    پاکستان شوبز انڈسٹری کے معروف اداکار شہروز سبزواری نے وزیر اعظم عمران خان کو ایک اہم پیغام دیا ہے۔

    باغی ٹی وی : اداکار شہروز سبزواری نے اپنے تصدیق شدہ انسٹاگرام اکاؤنٹ پر اردو اور انگلش میں ایک اسٹوری شیئر کی جسے انہوں نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) اور وزیر اعظم عمران خان کے آفیشل اکاؤنٹس کو بھی ٹیگ کیا۔

    شہروز سبزواری نے اپنی اسٹوری میں عمران خان کو اہم پیغام دیتے ہوئے کہا کہ عمران خان ہم آپ کے سپورٹر ضرور ہیں مگر حضور پاک ﷺ کے سامنے یہ کائنات بھی کچھ نہیں ہے۔

    اداکار شہروز سبزواری نے کہا کہ پنجاب ٹیکسٹ بُکس کو ٹھیک کرو ورنہ تباہی تیرا مقدر ہے۔

    واضح رہے کہ گزشتہ سال پنجاب میں قومی ہیروز اور ملکی سالمیت کے خلاف مواد پر مبنی 31 پبلشرز کی کتابوں پر پابندی عائد کی گئی تھی۔

    اس حوالے سے لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے مینیجنگ ڈائریکٹر پنجاب ٹیکسٹ بوڑد رائے ناصر نے کہا تھا کہ 31 پبلشرز کی کتابوں پر پابندی عائدکر رہے ہیں، ان کتابوں میں قومی ہیروز اور ملکی سالمیت کے خلاف مواد موجود ہے۔

    انہوں نے کہا تھا کہ اسلام، ملکی سلامتی، امن عامہ اور اخلاقیات کے خلاف کچھ بھی شائع نہیں ہوسکتا لہٰذا قانون کے مطابق یہ پانچ چیزیں غلط ہونے پر کتاب پرپابندی ہوگی۔

    رائے ناصر کا کہنا تھا کہ پہلے بھی نجی اسکولوں میں پڑھائی جانے والی 100 کتب پر پابندی لگا چکے ہیں جس میں بھارت کے خلاف ہمارا جھگڑا کشمیر کا ہے اور کشمیر کو بھارت کا حصہ دکھایا ہے یہاں تک کہ غزوہ احد کے بارے بے شمار ناقابل برداشت باتیں شائع ہیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ آکسفورڈ کی بیشتر کتابوں میں پاکستان کو خراب ملک بتایا گیا ہے اور بھارت کو ہم سے بہت بہتر دکھایا گیا ہے جب کہ کیمبرج کی کتابوں میں بچوں کو انتہا پسندی کی ترغیب دی جارہی ہے اس لیے نجی اسکولوں میں پڑھائی جانے والی 10 ہزار سے زائد کتابوں کو چیک کرنے جارہے ہیں کیوںکہ بڑے اسکولوں میں بچوں کی ان کتابوں کے ذریعے تربیت کی جارہی ہے۔

  • اداکار منیب بٹ کا اداکاری کے علاوہ پارٹ ٹائم  بزنس کرنے کا انکشاف

    اداکار منیب بٹ کا اداکاری کے علاوہ پارٹ ٹائم بزنس کرنے کا انکشاف

    یہ بات تو سب جانتے ہیں کہ پاکستان شوبز انڈسٹری کی مقبول جڑواں بہنیں ایمن اور منال اداکاری کے ساتھ ساتھ اپنی کپڑوں کی برانڈ بھی متعارف کرواچکی ہیں تاہم بہت ہی کم لوگ یہ جانتے ہوں گے کہ ایمن خان کے شوہر اور نامور اداکار و ماڈل منیب بٹ بھی اداکاری کے علاوہ پارٹ بزنس کرتے ہیں-

    باغی ٹی وی :حال ہی میں اداکار منیب بٹ اپنی اہلیہ ایمن خان کے ہمراہ ایک شو میں شریک ہوئے اور اداکار جوڑی نے جہاں اپنے کیرئیر اورزندگی کے حوالے سے گفتگو کی وہیں اپنے پارٹ ٹائم بزنس سے متعلق بھی انکشافات کئے۔

    اپنی برانڈ ایمن منال کلازٹ کے آغاز سے متعلق ایمن خان کا کہنا تھا کہ میرے والد کہا کرتے تھے کہ ہمیں کچھ کرنے کی ضرورت ہے لہٰذا دیر سے ہی سہی ہم نے اسے آزمانے کا فیصلہ کیا-

    ایمن نے بتایا کہ برانڈ کا آغاز بے حد مشکل تھا کیونکہ میرے اور منال کے پاس وقت نہیں تھا لہٰذا ہم نے یہ تمام تر ذمہ داری بھائی معاذ کو دینے کا فیصلہ کیا۔

    ایمن کے مطابق میں اور منال اب صرف ڈیزائننگ اور کونٹینٹ کا حصہ ہیں، بقیہ صبح 8 سے رات 8 تک ذمہ داری معاذ اٹھارہا ہے۔

    دوسری جانب منیب بٹ نے بھی دوران شو انکشاف کیا کہ ان کا بھی اپنا بزنس ہے اور وہ دو تین سال سے آؤٹ ڈور ایڈورٹائزنگ کا بزنس چلارہے ہیں جبکہ وقت کی کمی کے باعث وہ اس بزنس میں سرمایہ کاری کررہے ہیں۔

    ترکی: غیرملکی سیاحوں کو اپنی انسٹا فالوونگ بتانے پرایمن خان اور منیب بٹ کو تنقید کا سامنا

  • خواتین کے عالمی کے دن پرعلی گُل پیر کا نیا گانا ’تیرا جسم میری مرضی‘ ریلیز

    خواتین کے عالمی کے دن پرعلی گُل پیر کا نیا گانا ’تیرا جسم میری مرضی‘ ریلیز

    پاکستان کے گلوکار و کامیڈین علی گُل پیر نے خواتین کے عالمی کے دن کے موقع پر اپنا نیا گانا ’تیرا جسم میری مرضی‘ ریلیز کردیا۔

    باغی ٹی وی :گزشتہ روز سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر علی گل پیر نے اپنے نئے گانے کی ویڈیو شیئر کی جس میں علی گل پیر کے ہمراہ نقاب پوش خاتون کو بھی گلوکاری کرتے دیکھا جاسکتا ہے۔


    گانے کے مخصوص الفاظ’تیرا جسم میری مرضی، چپ عورت اچھی بولنے والی گندی‘ہر ایک کو اپنی جانب متوجہ کررہے ہیں جب کہ ویڈیو میں ایک شخص کو اپنی بیوی پر چھوٹی چھوٹی باتوں پر تشدد کرتے بھی دیکھا جاسکتا ہے ۔

    گلوکار نے اپنے گانے کے شروع میں گزشتہ برس متنازع بیان دینے پر پاکستان کے معروف ڈرامہ رائٹر خلیل الرحمان قمر پر بھی طنز کرتے ہوئے کہا تھینک یو خلیل الرحمن ہمیں راستہ دکھانے کے لئے-

    علی گل پیر نے ٹوئٹ کی کہ تیرا جسم میری مرضی کیونکہ تمہاری ہمت کیسے ہوئی یہ کہنے کی تمہارا جسم تمہاری ملکیت ہے ۔

    گلوکار نے ٹوئٹ میں عورت مارچ ، ویمن ڈے، میرا جسم میری مرضی نہیں تیرا جسم میری مرضی کا ہیش ٹیگ بھی استعمال کیا۔

  • میرا وزن ایک قومی مسئلہ بن گیا تھا میں اچھا دکھنے کے لیے دباؤ کا شکار تھی   ودیا بالن

    میرا وزن ایک قومی مسئلہ بن گیا تھا میں اچھا دکھنے کے لیے دباؤ کا شکار تھی ودیا بالن

    بالی وڈ کی معروف اداکارہ ودیا بالن کا کہنا ہے کہ ایک ایسا وقت بھی تھا جب وہ اپنے جسم سے نفرت کرتی تھیں کیونکہ ان کا وزن ایک ’قومی مسئلہ‘ بن گیا تھا لہذا میرا وزن اب میرے لیے پریشانی کا باعث نہیں بنتا لیکن میں اب ایک طویل سفر طے کرچکی ہوں۔

    باغی ٹی وی :بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق ایک انٹرویو میں ودیا بالن نے کہا کہ میں اب اس بات پر حیران نہیں ہوتی کہ لوگ آپ کے بالوں کی لمبائی، بازو کی موٹائی یا قد کے بارے میں کیا کہتے ہیں کیونکہ اب مجھے اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔

    ودیا بالن کا کہنا تھا کہ مجھے اپنی پوری زندگی ہارمونز کے مسائل کا سامنا رہا ہے، کئی عرصے میں نے اپنے جسم سے نفرت کی، سوچتی تھی کہ میرا جسم مجھے دھوکہ دے رہا ہے، میں اچھا دکھنے کے لیے دباؤ کا شکار تھی لیکن میں موٹی تھی لہٰذا غصے اور مایوسی میں مبتلا تھی۔

    انہوں نے کہا کہ میں نے ساری زندگی خود کو مسترد کیا، مجھے خود کو قبول کرنے کے لیے بے حد محنت کرنا پڑی اور اب تک میں مکمل طور پر خود کو قبول نہیں کرپائی ہوں۔

    بھارتی اداکارہ نے کہا کہ یہاں تک کہ میرا وزن ایک قومی مسئلہ بن گیا تھا، میں ہمیشہ سے ایک موٹی لڑکی رہی ہوں اور میں یہ نہیں کہوں گی کہ اب میں اس اسٹیج پر ہوں کہ میرا وزن اب میرے لیے پریشانی کا باعث نہیں بنتا لیکن میں اب ایک طویل سفر طے کرچکی ہوں۔

    اداکارہ کا کہنا تھا کہ میں نے جو کیا اس سے گزرنا میرے لیے اہم تھا، چونکہ میرا فلمی بیک گراؤنڈ نہیں اس لیے مجھے بتانے والا کوئی نہیں تھا کہ یہ مشکلات آخری نہیں ہیں۔

  • عورت مارچ کے حوالے سے بنائی گئی ویب سیریز’عورت گردی‘ کا ٹریلر ریلیز

    عورت مارچ کے حوالے سے بنائی گئی ویب سیریز’عورت گردی‘ کا ٹریلر ریلیز

    خواتین کے عالمی دن عورت مارچ کے حوالے سے بنائی گئی ویب سیریز ’عورت گردی‘ کا ٹریلر ریلیز کردیا گیا۔

    باغی ٹی وی : ای میکس میڈیا گروپ نے دو روز قبل پاکستان کے پہلے اردو او ٹی ٹی پلیٹ فارم ’اردو فلکس‘ کا باقاعدہ لانچ کردیا تھا جس کا مقصد ڈیجیٹل دور میں آن ڈیمانڈ اسٹیمنگ کلچر کو پورا کرنا اور دنیا بھر میں پاکستانی ڈرامے اور فلمیں دکھانا ہے۔ تاہم جس کے تحت اب صارفین اردو فلمیں، سیریز، دستاویزی فلمیں، کارٹون اور اردو ڈبنگ والے ترکش ڈرامے دیکھ سکیں گے جس کے لئے صارفین پاکستان کے پہلے او ٹی ٹی پلیٹ فارم اردو فلکس کو گوگل پلے اسٹور اور ایپل پلے اسٹور سے ڈاؤن لوڈ کرسکتے ہیں۔

    اردو فلکس پر صارفین اداکارہ مشل خان کی سیریز ’لفافہ دیان‘ اور ٹک ٹاک اسٹار حریم شاہ کی ویب سیریز ’راز‘ بھی دیکھ سکیں گے۔

    دوسری جانب اردو فلکس کے لانچ ہونے کے ساتھ ہی پلیٹ فارم پر اداکارہ علیزے شاہ کی ویب سیریز ’دلہن اور ایک رات‘ بھی ریلیز کی گئی ہے علاوہ ازیں اردو فلکس اپنے صارفین کو پہلے سے مشہور ڈرامے اور فلموں کی اسٹریمنگ کی بھی پیشکش کرے گا اور اب خواتین کے عالمی دن کے حوالے سے بنائی گئی ویب سیریز ’عورت گردی‘ کا ٹریلز بھی ریلیز کردیا گیا ہے۔

    ویب سیریز ’عورت گردی‘ کے ٹیزر میں دیکھا جاسکتا ہے کہ اداکارہ جویریہ سعود اور اداکار علی خان ’عورت مارچ‘ کو لے کر کسی بحث میں مبتلا ہیں اور دیگر خواتین عورت مارچ کے حوالے سے پلے کارڈ اٹھائی کھڑی ہیں۔

    عورت کے عالمی دن کے حوالے سے بنائی گئی یہ ویب سیریز ’عورت گردی‘ 2 اپریل کو ’اردو فلکس‘ پر ہی ریلیز کی جائے گی۔

    پاکستان کا پہلا او ٹی ٹی پلیٹ فارم اردو فلکس لانچ کر دیا گیا

  • دوسرے بیٹے کی تصویر شئیر کرتے ہوئے کرینہ کپور کا خواتین کے عالمی دن پر خصوصی پیغام

    دوسرے بیٹے کی تصویر شئیر کرتے ہوئے کرینہ کپور کا خواتین کے عالمی دن پر خصوصی پیغام

    بھارتی اداکار سیف علی خان کی اہلیہ اور اداکارہ کرینہ کپور خان نے خواتین کے عالمی دن پر دوسرے بیٹے کی تصویر کرتے ہوئے خصوصی پیغام جاری کیا ہے-

    باغی ٹی وی: بالی وڈ کے چھوٹے نواب سیف علی خان اور ادکارہ کرینہ کپور کے ہاں گزشتہ ہفتے دوسرے بیٹے کی پیدائش ہوئی تھی جس پر بالی وڈ شخصیات سمیت مداحوں کی جانب سے انہیں مبارکباد کے ساتھ ساتھ نیک خواہشات کا اظہار کیا گیا تھا۔

    مداحوں کی جانب سے سیف اور کرینہ کے دوسرے بیٹے کو دیکھنے کے حوالے سے کافی بے چینی پائی جاتی تھی جس کے لیے سوشل میڈیا پر کافی ٹرولنگ بھی کی گئی اور صارفین نے تیمور علی خان کے چھوٹے بھائی کے کے نام کو لے کر کافی دلچسپ مشورے دیئے گئے اور سوشل میڈیا پر مسلمان جنگجوؤں کے نام ٹرینڈز کرتے نظر آئے-

    دو ہفتے گزرنے کے باوجود اب تک بھارتی میڈیا سیف اور کرینہ کے دوسرے بیٹے کی تصویر لینے میں کامیاب نہیں ہوسکے تھے تاہم آج کرینہ کپور نے خود ہی مداحوں کا انتظار ختم کرتے ہوئے تصویر جاری کردی۔

    اداکارہ کی جانب سے خواتین کے عالمی دن پر یہ تصویرسماجی رابطے کی ویب سائٹ انسٹاگرام پر شئیر کی گئی جس کے کیپشن میں میں انہوں نے لکھا ’ایسا کچھ بھی نہیں ہے جو خواتین نہ کرسکیں‘۔

    واضح رہے کہ کرینہ اور سیف کے ہاں 2016 میں پہلے بیٹے کی پیدائش ہوئی تھی جس کا نام تیمور علی خان پٹودی رکھا تھا جس پر تمام بھارتی خاص طور پر انتہاپسند ہندووں آگ بگولہ ہوگئے تھے اور انہوں نے اس بات پر اعتراض کیا کہ تیمور ہندووں کا قاتل ہے لہذا یہ نام تبدیل کیا جائے تاہم کچھ لوگوں کی جانب سے حمایت بھی کی گئی تھی کہ بچے کا نام رکھنا ماں باپ کا حق ہوتا ہے بہرحال تمام تر دباؤ کے باوجود سیف اور کرینہ نے تیمور کا نام تبدیل نہیں کیا۔

    سیف اور کرینہ کے دوسرے بیٹے کے نام کے لئے بھارتی صارفین کے طنزیہ تبصرے

    کرینہ کپور اور سیف علی خان کے گھر دوسرے بچے کی پیدائش

  • اجنبی زبان کو مسلط کرنا حکومتی سطح پروہ ظلم ہے جوآج تک کسی حکومت نے اپنی عوام کیساتھ نہیں کیا ہوگا

    اجنبی زبان کو مسلط کرنا حکومتی سطح پروہ ظلم ہے جوآج تک کسی حکومت نے اپنی عوام کیساتھ نہیں کیا ہوگا

    جب حکومت نے تعلیمی اداروں کو انگریزی میڈیم کرنا تھاتو راتوں رات ہی حکم جاری کردیا۔ایک رات سو کر اٹھے تو پتا چلا کہ آج سے پاکستان کے تمام تعلیمی ادارے اج سے انگریزی میڈیم ہوچکے ہیں۔ یعنی وہ بچے جنہوں نے پرائمری سطح تک انگریزی کے حروف تہجی بھی نہیں پڑھے تھے ان پر کی تمام کتابیں سائنس’ معاشرتی علوم’ ریاضی انگریزی میں کردیا۔

    لائق تحسین ہیں وہ اساتذہ جنہوں نے ان بچوں کو کس طرح سے تعلیم سے مزین کیا ہوگا۔ یہی وجہ تھی کہ 2009 کے سرکاری انگریزی میڈیم اداروں کا نتیجہ پانچویں اور آٹھویں کا جو آیا۔ وہ انتہائی ہولناک ‘ تھا دنیا کی تاریخ میں اپنے نونہالوں کےزہنی قتل کی پہلی مثال بھی جس میں 20 لاکھ میں سے اٹھارہ لاکھ بچے فیل ہوگئے ۔۔ان میں سے ادھے بچے تعلیم کو خیر باد کہہ گئے ۔

    حکومتی سطح پر یہ وہ ظلم ہے جو اج تک کسی حکومت نے اپنی عوام کے ساتھ نہیں کیا ہوگا۔ ہم سمجھتے ہیں کہ پاکستان کے تعلیمی اداروں کو راتوں رات ایک سات سمندر پار اجنبی زبان میں تعلیم کا حکم دینے والوں کی کم سے کم سزا پھانسی ہے۔ اس لئے انہوں نے نونہالوں کی فطری صلاحیتوں کا قتل کرکے ان کو تعلیم سے باغی کیا اور وہ تعلیم کو خیر باد کہہ گئے۔

    ہم جب اس سابق حکومت کے اڈ ظلم کے خلاف آواز بلند کرتے تو موجودہ حکومت کے وزیر ہمارے احتجاج میں شریک ہوکر سابق حکمرانوں کو جیل بھیجنے کا مطالبہ کرتے تھے۔اب جب حکومت اپ کے ہاتھ میں تو اپ وزیراعظم سے مطالبہ کہیں کے وہ تحریک انصاف کے یکساں نصاب تعلیم بذریعہ اردو زبان میں ایسے ہی راتوں رات عمل کرے جیسے سابق حکمرانوں نے ایک اجنبی ‘ سات سمندر پار زبان کو یہاں مسلط کر کے کیاتھا۔

    جب اس قوم نے سسک سسک کر ایک اجنبی زبان میں تعلیم حاصل کرلی ۔۔تو اردو جو پاکستان کے میڈیا کی سو فیصد زبان ہے’ جو پاکستان کے سڑکوں’ بازاروں’ گھروں کی زبان ہے’ جس میں ابھی بھی نام نہاد انگریزی میڈیم اداروں میں تعلیم دی جارہی ہے تو اس میں تعلیم حاصل کرنا بچوں کے لئے کیوں مشکل ہوگا؟ اب جب تمام تعلیم اردو میں کرنےکی بات ہورہی ہے تو اس کو "بتدریج” نافذ کرنے کا ڈھونگ رچا کر لیت ولعل سے کام لیا جارہاہے۔لیکن اب 99 فی صد عوام انگریزی تسلط کے خلاف سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن جائیں گے! ان شاءاللہ!
    فا طمہ قمر پاکستان قومی زبان تحریک

  • میری مرضی ؟   تحریر :سفیر اقبال

    میری مرضی ؟ تحریر :سفیر اقبال

    میری_مرضی ؟

    جب دوائی پینے سے جسم پر نکلا ہوا پیپ دار پھوڑا ختم نہ ہو تو ڈاکٹر انجیکشن تجویز کرتے ہیں جو مریض کے لیے وقتی طور پر تکلیف دہ ہوتا ہے…لیکن ڈاکٹر مریض کے ری ایکشن سے ڈرے بغیر انجیکشن لگا ہی دیتا ہے. انجیکشن سے بھی پیپ ختم نہ ہو تو ڈاکٹر سرجری کر کے پھوڑا جسم سے نکال دیتا ہے…. ورنہ ہسپتال سے ڈسچارج کر کے اسے بڑے شہر کے بڑے ہسپتال میں لے جانے کا آرڈر جاری کرتا ہے…! یہ سارا کچھ ڈاکٹر کی قابلیت اور اس کے اختیارات پر انحصار کرتا ہے

    بس اتنی سی کہانی ہے جس کی بنیاد پر تین دن سے سوشل میڈیا پر کہرام مچا ہوا ہے…! خلیل الرحمٰن کے الفاظ…. لہجہ….. انداز… کوئی درست کہہ رہا ہے اور کوئی غلط. ان سب لوگوں کی اپنی اپنی سوچ اور فکر ہے جو جہاں بیٹھا ہے اسی انداز میں سوچ رہا ہے کہ نہیں ڈاکٹر کو انجیکشن نہیں لگانا چاہیے تھا پہلے میٹھی دوائی پلا کر دیکھ لیتا… ڈبل ڈوز دے دیتا غیرہ وغیرہ. اسے بڑے ہسپتال منتقل کر کے اسے کوریج نہ دیتا وغیرہ وغیرہ.

    سب جانتے ہیں کہ اسلام نے دعوت کے سارے طریقے بتائے ہیں… اخلاق کی حقیقت بھی سمجھائی ہے اور صحابہ کرام نے گالی کا جواب گالی میں بھی دیا ہے.(جس پر اللہ کے نبی نے خاموشی اختیار کی یا اس پر کسی قسم کے گناہ کا ذکر نہیں کیا . اور وہ واقعات تاریخ میں محفوظ ہیں )… لیکن اس کے باوجود کچھ احباب کا خیال ہے کہ یہ طریقہ مناسب نہیں تھا تو اس پر یہی کہا جا سکتا ہے کہ جس کا جتنا ایمان ہے وہ اپنے اسی لیول سے ری ایکشن دے گا. اور صحابہ کرام نے بھی مختلف مواقع پر مختلف صورتوں میں مختلف ری ایکشن دئیے-

    لیکن یہ سوچنا کہ نہیں بھائی اس طرح کرنے سے ان کی جارحیت یا مظلومیت میں اضافہ ہوتا ہے… ان کی کوریج بڑھتی ہے….. تو کتنا اچھا ہوتا اللہ کے نبی یا صحابہ کرام بھی ایسا کچھ سوچ لیتے. لیکن نہیں….! انہوں نے تو مسلم ریاستوں میں رہنے والوں سے جزیہ لے کر اور ذلیل انداز میں رہنے پر آمادہ کرنے کا حکم دیا… اللہ کے نبی نے بیت اللہ میں کھڑے ہو کر قنوت میں بددعائیں بھی کی… کچھ بدبختوں کو صحابہ کرام نے منہ پر… گالیوں کے جواب میں گالیاں بھی دیں اور کبھی نہیں سوچا کہ یہ مکہ مدینہ چھوڑ کر مظلوم بن کر ہمارے درد سر میں اضافہ کریں گے…. یا ہمارے ان اقدامات سے اس واقعہ کو کوریج ملے گی. اس لیے چپ رہنا یا ہر لمحہ پیار سے سمجھانا ہی بہتر ہے.

    یہ تو وہ باتیں تھی جب مسلم ریاست نہیں تھی.. جب مسلم ریاست بنی تو معاملہ اور شدت اختیار کر گیا. شرعی سزائیں قائم کر کے چوروں کے ہاتھ کاٹے گئے…. زانیوں کو سنگسار کیا گیا اور ایسے فتنوں کو کچلنے کے لیے وہ سب کیا گیا جو کرنا ضروری تھا… ان کی جارحیت مظلومیت کی کوریج کے بارے میں سوچے بغیر…. اور یہی طریقہ ہی عین اسلامی تھا الحمدللہ.

    اگر ذاتی حد تک بات کریں تو پاکستان میں رہنے والے ہر شہری کا اپنا اپنا ایمانی لیول ہے.. فرشتہ کوئی بھی نہیں….! ہم میں سے کچھ افراد اپنی بیٹیوں یا بہنوں کے ہاتھوں میں فور جی نیٹ ورک سے لیس موبائل پکڑا کر یہ سوچتے ہیں کہ ہم نے اپنی بیٹی یا بہن کو شریعت کے مطابق گھر کی چاردیواری میں رکھا ہوا ہے الحمد للہ… کچھ نوجوان اپنی بہنوں کو خود موٹر سائیکل پر بیٹھا کر کالج چھوڑنے جاتے ہیں اور اس کے بعد گھنٹوں گھنٹوں اپنی گرل فرینڈز کے ساتھ گپ شپ لگاتے ہوئے یہ سوچتے ہیں کہ میری بہن چونکہ میرے ساتھ آتی جاتی ہے اس لیے محفوط ہے.

    میں خود بچپن میں اپنی بہنوں کے ساتھ بیٹھ کر اس وقت کے "میرے پاس تم ہو” جیسے ڈرامے دیکھتا رہا اور خوش ہوتا رہا کہ الحمدللہ ہمارے گھر میں ڈش یا انڈین فلمیں نہیں چلتیں. (صرف بچپن نہیں ابھی بھی میں اتنا پارسا یا دودھ کا دھلا نہیں.) خلیل الرحمٰن صاحب انہی اسلام پسندوں کے ہاتھوں جو آج ان کی تعریفوں کے پل باندھ رہے ہیں "میرے پاس تم ہو ” جیسا ڈرامہ بنانے کی وجہ سے تنقید کا شکار ہوتے رہے .

    ساری صورتحال آپ کے سامنے ہے… اگر ہمت ہو تو اپنے گریبان میں جھانک کر خود بھی دیکھ لیں کہ آپ کون کون سی برائی کو وقت کی ضرورت یعنی اسلامی سمجھتے ہیں اور کون کون سے گناہ کو آپ غیر اسلامی یا غیر اخلاقی گردانتے ہیں . اندازہ ہوتا جائے گا کہ جس کو اللہ رب العزت نے جتنا ایمان، جتنا علم اور جتنا اختیار دے رکھا ہے وہ اس بے حیائی اور غیر اخلاقی اقدار پر اتنا ہی ری ایکٹ کر رہا ہے…. فرشتہ کوئی بھی نہیں…!

    اگر آج ہم خلیل صاحب کے بارے میں یہ سوچتے ہیں کہ وہ اس واقعے کو کوریج دے کر یا ان کے الفاظ سے ہونے والی "متاثرہ” کو مظلوم بنا کر ناچاہتے ہوئے بھی اس ایجنڈے کا شکار ہو رہے ہیں تو ہم اپنے بارے میں بھی سوچ لیں کہ ہم کہاں کہاں غیر اسلامی اقدار کا شکار ہیں اور اس کو کوریج دے رہے ہیں . خلیل صاحب کی ہمت ہے کہ وہ جس یقین پر جس مقام پر کھڑے ہیں اپنے طور پر برائی کو ختم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں بیشک ان کا مقام یا آن کا نظریہ مکمل طور پر اسلامی نہ ہو لیکن کوشش تو وہ اسلام کے لیے…. غیر اسلامی تہذیب کو مٹانے کی ہی کر رہے ہیں….!

    اگر آپ پاکستانی عدالتوں سے مایوس ہیں. اسلام کے لیے ریاستی اقدامات ناکافی لگتے ہیں تو کم از کم یہ تو سوچیں کہ کون کیا کر رہا ہے اور کس لیے کر رہا ہے تا کہ اپنے اردگرد رہنے والے لوگوں میں… سوشل میڈیا پر…. ہم اسلام کے لیے کام کرنے والے کے دست و بازو بن سکیں…! نا کہ اتنے بڑے طوفان بدتمیزی میں اٹھتی ہوئی ایک احتجاجی آواز کو بھی چپ کروانے میں لگ جائیں کہ کوریج بڑھنے کا خدشہ ہے…!

    تحریر :سفیر اقبال

    رنگِ سفیر

  • یقین اک صدا ہے  بقلم:جویریہ بتول

    یقین اک صدا ہے بقلم:جویریہ بتول

    یقین…!!!
    (بقلم:جویریہ بتول)۔

    یقین اک صدا ہے…
    یقین تو وفا ہے…

    دل کی سر زمیں پر…
    جڑ جو پھیلائے…
    شجرِ طیبہ بن کر…
    عمل سے کھلکھلائے…
    یقین تقاضۂ محبّت…
    یقین تو دوا ہے…
    وہ بھی سخت لمحے…
    جو لگتے ہوں محال…
    خیال میں بھی اپنے…
    گزر جاتے ہیں خود پر…
    تو یقین پکار ہے اُٹھتا…
    یہی تو راہِ رضا ہے…!!!
    یاں حوصلے چٹانوں جیسے…
    نہیں ریت کے مکانوں جیسے…
    نشیب کہیں فراز ہیں…
    سوز ہیں کہیں ساز ہیں…
    راہوں کا شکوہ ہے نہ…
    موسموں پہ کوئی خفا ہے…
    درد کی چوٹ سے جب…
    اُٹھتی ہیں کئی ٹیسیں…
    شدت کی دوڑتی ہوئی…
    محسوس ہوتی ہیں لہریں…
    ہر ایسی بے چینی میں…
    بنتا یقین ہی شفا ہے…
    رضا کی تلاش میں پھر…
    یہ اور وہ نہیں ہے…
    جو جو بھی ہے ملتا…
    جسم و روح اُسی کے…
    تابع ہیں ہو کے چلتے…
    پھولوں کی ہو خوشبو…
    یا راستہ کانٹوں بھرا ہے…
    یقین کی راہوں پر کبھی…
    ہوتی نہیں کثرتِ سوال…
    نہ اگر مگر کا کچھ وبال…
    شکوہ فضا کی ناسازی…
    نہ نفس کی کوئی در اندازی…
    اطمینان کا بنتا ہے سَمندر…
    کہ یہ سکون کی برکھا ہے…
    جو دل کی دھرتی پر…
    برستے ہوئے رم جھم…
    دیتی ہے اِک قوت جنم…
    مایوسیوں کو بہا کر…
    اُداسیوں سے بچا کر…
    جو چہرے کو مسکرائے…
    پھر حوصلے کی جِلا ہے…
    اَجر کی اُمید کا دائرہ…
    بڑھتا ہے یہاں مسلسل…
    آنکھوں سے چھلکتی چمک…
    ہے راستوں کی رونق…
    مگر سفر کا اِک تسلسل…
    اس شاہراہ کا تقاضا ہے…
    یقین کا سفر منزل کے…
    ستونوں سے جڑا ہے…
    کہیں راحتوں کے سائے…
    کبھی امتحاں بھی کڑا ہے…
    وسوسہ ہے نہ بہکاوا مگر…
    کہ یہاں شان ہی جُدا ہے…!!!
    ===============================

  • سلام محافظِ نسواں   بقلم:جویریہ بتول

    سلام محافظِ نسواں بقلم:جویریہ بتول

    سلام محافظِ نسواں…!!!
    (بقلم:جویریہ بتول).
    نہ کر تہذیبِ غیر پر نظر تیرے اپنے دامن میں نور ہے…
    کر نگاہ اپنے نصیب پر،جو شعور تھا وہ شعور ہے…
    ہر اِک تہذیب کے درمیاں،ہے تیرا مقام کِھلا ہوا…
    ہر دَور ہے تازہ دَم تیرا،نہ تھکن سے کہیں یہ چُور ہے…
    تو حصارِ عظمت پہ ناز کر جو چہار جانب سے ہے کھڑا…
    تیرے حُسن پر کوئی مَیل ہے،نہ کوئی عبرتوں کا ظہور ہے…
    اُنہیں مان عزت کو بیچ کر،تجھے ناز حفظ و اماں پر ہے…
    اِسی منفرد سی پہچان سے تو عالمِ دیّار میں مشہور ہے…
    تیرے دشتِ جاں کو سنوار کر تیرے چمنِ دل کو نکھار دیں…
    جنہیں جاں سے بھی تو عزیز ہے وہ مقام تیرا غرور ہے…
    یہ جھوٹے نگوں کی ریزہ کاری اندر سے ہے جو شکستہ تَر…
    کُچھ کر سکے گی نہ رہبری،جو خود راہ سے مفرور ہے…
    تیرے حقوق کی انمٹ تحریر قرآن و حدیث کی صورت…
    یہی نامہ ہے ابدی بہار کا،ہر خزاں یہاں رنجور ہے…
    نقشِ عائشہ و فاطمہ تیری زندگی کے ہیں راہ نما…
    جنت میں اُن کی سرداری میں گر رہنےکو دل یہ مسرور ہے…؟
    ==========================