Baaghi TV

Author: عائشہ ذوالفقار

  • ’پاوری ہورہی ہے‘  ٹوئٹر پر ٹاپ ٹرینڈ

    ’پاوری ہورہی ہے‘ ٹوئٹر پر ٹاپ ٹرینڈ

    سوشل میڈیا پر ’پاوری ہورہی ہے‘ اس قدر مقبول ہو رہا ہے کہ اس پر شوبز اور کرکٹ کی معروف شخصیات سمیت عوام بھی ویڈٰوز اور میمز بنا کر شئیر کر رہے ہیں یہاں تک کہ ’پاوری ہورہی ہے‘ ٹوئٹر پر ٹاپ ٹرینڈ کر رہا ہے-

    باغی ٹی وی :چند روز قبل سوشل میڈیا پر ’’دینانیر‘‘ نامی انسٹاگرام پر ایک ویڈیو اپ لوڈ ہوئی جو چند گھنٹوں میں ہی وائرل ہوگئی اور بعد ازاں پاکستان سمیت دنیابھر سے اس پر میمز بننے کا سلسلہ شروع ہوا جو اب تک جاری ہے-

    ویڈیو کو نہ صرف پاکستان بلکہ سرحد پار سمیت شہرت حاصل ہوئی اور نہ صرف عام لوگ بلکہ معروف شخصیات بھی میمز اور ویڈیوز بنا کر لطف اندوز ہو رہے ہیں تاہم ویڈیو کی مقبولیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ نہ صرف پاکستان میں بھی ٹاپ ٹرینڈ پر ہے بلکہ بھارت میں بھی ’پاووری ہورہی ہے‘ ٹوئٹر پر ٹاپ ٹرینڈ کر رہا ہے-
    https://twitter.com/rj_vijdan/status/1361003396241629185?s=19
    اس ٹرینڈ میں حصہ لیتے ہوئے پاکستان کے کرکٹر ز نے بھی ایک ویڈیو شئیر کی جس میں پاکستان کرکٹر ٹیم حسن کہہ رہے ہیں کہ یہ میری ٹیم ہے اور ہم سیریز کا پاوری کر رہے ہیں-


    ایک صارف نے پاکستان آرپمی کی قید میں بھارتی پائلٹ ابھینندن کی ویڈیو پر میمکری کر کے شئیر کر دی اور کہا کہ یہ اصل کونٹینٹ ہے-


    https://twitter.com/BehtareenInsan/status/1361030948213694464?s=19


    https://twitter.com/syedumair29/status/1361202889998303232?s=19

  • فیصل قریشی اور فریال محمود کی فلم کا پہلا ٹیزر جاری

    فیصل قریشی اور فریال محمود کی فلم کا پہلا ٹیزر جاری

    پاکستان شوبز انڈسٹری کے نامور اداکار و میزبان فیصل قریشی کی اداکارہ و ماڈل فریال محمود کے ساتھ فلم ’سوری‘ کا پہلا ٹیزر ریلیز کردیا گیا ہے۔

    باغی ٹی وی : اداکار و میزبان فیصل قریشی فلم ’سوری‘ سے بڑے پردے پر واپسی کررہے ہیں جس میں ان کے ساتھ اداکارہ فریال محمود مرکزی کردار میں دکھائی دیں گی۔

    اس سے قبل اداکار فیصل قریشی کے ساتھ مرکزی کردار میں سونیا حسین کو کاسٹ کیا گیا تھا تاہم مصروفیات کے سبب انہیں فلم چھوڑنا پڑی اور ان کی جگہ فریال محمود کو فلم کا حصہ بنایا گیا جب کہ سہیل جاوید کی ہدایت کاری میں بننے والی فلم کی دیگر کاسٹ میں آمنہ شیخ اور زاہد احمد شامل ہیں-

    فلم ’سوری کے پہلے ٹیزر میں زیادہ کچھ نہیں دکھایا گیا تاہم کہانی محبت میں اتار چڑھاؤ کے گرد گھومتی ہے کہ کس طرح ایک انسان کو پہلے محبت ملتی ہے لیکن چند وجوہات کی وجہ سے وہ اسے کھو دیتا ہے فلم کی ریلیز کے حوالے سے اب تک کوئی حتمی تاریخ سامنے نہیں آئی۔

  • مجسمہ اقبال اور افکار اقبال  تحریر: طلحہ عبدالرحمٰن

    مجسمہ اقبال اور افکار اقبال تحریر: طلحہ عبدالرحمٰن

    مجسمہ اقبال اور افکار اقبال
    طلحہ عبدالرحمٰن

    مَحکوم کے حَق مِیں ہے یہی تربِیَت اچھی
     مَوسِیقی و صُورت گری و عِلمِ نَباتات!
    اقبالؒ

    دِل نشین سُریلی آوازوں اور دِل کش باوقار تصاویر کے عاشقوں کے لئے دَسْت بَسْتَہ ایک
    "تَوَجُّہ”

    خدارا۔۔۔سوچئے۔۔سمجھۓ۔۔۔
    اگر نبی پاکﷺ نے کسی شے کو ممنوع کر دیا تو آپ کے لئے اس حد بندی میں حکمت ہی حکمت ہے!
    احادیث کی بلند درجہ کتب میں تصویر کی حرمت پہ روایات ہی نہیں بلکہ پورے پورے ابواب ہیں

    دورِ غلامی میں ان احادیثِ مقدسہ کے ساتھ "تأویلات” و "توضیحات” کے نام پہ بہت کھلواڑ کیا گیا ہے۔۔۔

    بہر حال مجھ خاکسار کی ناقص رائے میں یہ تمام توضیحات اصلاً تماشہ اور کل تأویلات جھانسے بازی ہی ہیں۔۔۔اور ان کا وجود محض حیلۂِ شرعی سے بڑھ کر اور کچھ نہیں۔۔۔

    اگر رسولِ خاتمﷺ نے ایک حکم دے دیا ہے تو کسی کی یہ حیثیت نہیں کہ وہ ایک حرف بھی بکے۔
    القرآن – الحشر۔۔۔آیت 7

    ۔۔۔ وَمَاۤ اٰتٰٮكُمُ الرَّسُوۡلُ فَخُذُوْهُ وَمَا نَهٰٮكُمۡ عَنۡهُ فَانْتَهُوۡا‌ ۚ وَاتَّقُوا اللّٰهَ ‌ؕ اِنَّ اللّٰهَ شَدِيۡدُ الۡعِقَابِ‌ۘ ۞

    ترجمہ:
    ۔۔۔اور جو کچھ رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تم لوگوں کو دے دیں وہ لے لو اور جس چیز سے روک دیں اس سے رک جائو۔ اور اللہ کا تقویٰ اختیار کرو۔ بیشک اللہ تعالیٰ سزا دینے میں بہت سخت ہے۔
    ۔۔۔

    پُر لطف بات تو یہ ہے کہ شرعیتِ اسلامیہ کے ساتھ کھلواڑ کرنے والے ناہنجاروں کے احوال یہ ہیں کہ جس مغرب سے مرعوب ہو کر یہ شریعتِ اسلامیہ میں نقب زنی کرتے پھر رہے ہیں

    اس ہی مغرب سے پیدا ہوتا جدید علمِ نفسیات اور اسکی رو سے صورت گری و مصوری کے مغلظات پہ آنکھیں بند کئے بیٹھے ہیں۔تصویر سازی کا تمام فضلہ اب تو اظہر من الشمس ہے۔۔۔لاکن یہاں خامشی ہی خامشی ہے۔

    ایک طُرفہ تماشہ ہے جو غلام لگاتے ہیں اور دنیا کو اپنی بےمائگی پہ قہقہہ لگانے اور طعنہ زن ہونے کے مواقع فراہم کرتے ہیں

    البتہ سب سے بڑا اشکال جو آج پرخلوص اسلامیان کو لاحِق ہے اور تذبذب میں لے جاتا ہے وہ یہ ہے کہ ہم نے بہر حال شہادتِ حق تو ادا کرنا ہی ہے۔۔۔
    اور "کٹر مولویت” کی رو سے جدید ذرائع ابلاغ پہ "الحرام الحرام” کا تمغا سجا ہوا ہے۔

    جو سچ کہیں۔۔۔تو ناچیز بھی ان اشکالات کا ایک زمانہ تلک شکار رہا ہے۔۔۔کیونکہ بہر حال جدید ذرائع ابلاغ سے اسلام تو ہم نے بھی سیکھا ہے۔۔۔خصوصا الاستاذ داکتر اسرا احمد علیہ رحمہ۔۔۔شیخ عمر ابراھیم والیدو حفظہ اللہ ، پیس ٹی وی، نوا سٹوڈیوز وغیرہ سے اسلام کے اسرار اور رموزِ ایمان سمجھے ہیں۔۔۔

    ۔۔۔
    سو بظاہر ایک تناقض و تضاد نظرآتا ہے۔۔۔
    اس اشکال سے کافی عرصہ ہم بھی پریشان رہے ہیں، تنگ آ کر جدید علومِ ابلاغ کا مطالعہ شروع کیا اور تصویر سازی پہ بھی شرعی مؤقف کی تحقیق کا آغاز کیا۔

    حیران کن طور پہ جدید علومِ ابلاغ سے یہ گھتی کھلی کہ ویدیو دروس اور لیکچرز سے کہیں زیادہ حوالاجات و ترواشوں اور انیمیشن پہ مبنی داکومنتریز دل دوز اور پر تأثیر ہیں
    ۔۔۔

    اور شرعیتِ اسلامیہ کی رو سے ذی نفس ،جان دار حضرات کی تصویر سازی تو حرام و ہے
    (صحیح بخاری ، باب :سود کا بیان، ٢٠٨٦ اور ٢٢٣٨)

    البتہ بےجان اشیاء کی مصوری حلال ہے(صحیح بخاری ، باب :بےجان اشیاء کی تصاویر، ٢٢٢٥)

    سو جیسا کہ حکمِ باری ہے
    اُدۡعُ اِلٰى سَبِيۡلِ رَبِّكَ بِالۡحِكۡمَةِ وَالۡمَوۡعِظَةِ الۡحَسَنَةِ‌ وَجَادِلۡهُمۡ بِالَّتِىۡ هِىَ اَحۡسَنُ‌ؕ۔۔۔ انحل ١٢٥
    ترجمہ:
    آپ دعوت دیجیے اپنے رب کے راستے کی طرف دانائی اور اچھی نصیحت کے ساتھ اور ان سے بحث کیجیے بہت اچھے طریقے سے

    الغرض حضورﷺ کی دعوت پہنچانے، شہادت علی الناس ادا کرنے کا بہترین، ذیرک ترین، با شعور، بابصر، حاذق اور کامل الفن طریق بہر حال وہ ہی ہے جو حضورﷺ کی قائم کردہ پر حکمت حد بدیوں کے اندر رہتے ہوئے داعیانِ ایمان اپنائں۔۔۔ بس ضرورت ہے تو دل جمعی کے ساتھ از حد محنت کی۔

    ڈاکومنتریز بنانا۔۔۔اینیمیشن تیار کرنا اور پرزنٹیشنز پیش کرنا بہر کیف ایک نہایت دقت آمیز کام ہے۔۔۔

    لاکن فرض کی احسن طریق سے ادائگی بہر حال ہم پہ لازم ہے۔۔۔

    اللہ تعالیٰ ہمیں اس دورِ غلامی میں ، حریتِ اسلام کا پاسبان بنائے۔۔۔ آمین

  • سلمان خان بگ باس کے اگلے سیزن کی میزبانی کا کتنا معا وضہ لیں گے؟

    سلمان خان بگ باس کے اگلے سیزن کی میزبانی کا کتنا معا وضہ لیں گے؟

    شہرہ آفاق بھارتی متنازع شو ’بگ باس‘ کا 14 واں سیزن چل رہا ہے اور اس کی میزبانی کے فرائض سلمان خان سرانجام دے رہے ہیں۔

    باغی ٹی وی :بگ باس کے رواں سیزن کا ’فینالے ویک ‘ یعنی آخری ہفتہ شروع ہوگیا ہے اور اس پر سلمان خان نے دکھ کا اظہارکیا ہے۔

    شو میں سلمان خان نے کہا کہ یہ شو ختم ہوگا تو فلموں میں مصروف ہوں گا اور اس دوران بگ باس کا 15 واں سیزن بھی آجائے گا۔

    سلمان نے کہا کہ اگلے سیزن میں سب ہی آئیں گے اور میں بھی آؤں گا لیکن پروڈیوسرز نے معاوضے میں 15 فیصد اضافہ کیا تو واپس آؤں گا۔

    رپورٹس کے مطابق سلمان خان بگ باس میں ایک قسط کی میزبانی کیلئے 3 کروڑ بھارتی روپے معاوضہ وصول کرتے ہیں جبکہ مجموعی طور پر اس کی 117 اقساط ہیں۔

  • علی ظفر کی پی ایس ایل کی افتتاحی تقریب میں پرفارم کرنے کی تردید

    علی ظفر کی پی ایس ایل کی افتتاحی تقریب میں پرفارم کرنے کی تردید

    اس بار پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) 6 کی افتتاحی تقریب استنبول میں ریکارڈ کی جائے گی جسے 20 فروری کو نشر کیا جائے گا۔

    باغی ٹی وی : پی ایس ایل 6 کی افتتاحی تقریب میں گلوکار عاطف اسلم، ریپر عمران خان، اداکارہ و ماڈل حمائمہ ملک، نصیبو لعل، آئمہ بیگ، طلحہ انجم اور طلحہٰ یونس پرفارم کریں گے سوشل میڈیا پر خبریں زیر گردش تھیں کہ پی ایس ایل کی افتتاحی تقریب میں گلوکار علی ظفر بھی پرفارم کریں گے-


    تاہم اب گلوکار علی ظفر نے پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) 6 کی افتتاحی تقریب میں پرفارم کرنے کی تردید کی ہے۔

    علی ظفر نے پی ایس ایل 6 کی افتتاحی تقریب میں پرفارم کرنے کے حوالے سے مائیکرو بلاگنگ ویب سائٹ ٹوئٹر پر ٹوئٹ کی۔

    انہوں نے اپنی ٹوئٹ میں لکھا کہ وہ پی ایس ایل کی افتتاحی تقریب میں پرفارم نہیں کریں گے۔

    واضح رہے کہ پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کے چھٹے سیزن کی افتتاحی تقریب ترکی کے تاریخی شہر استنبول میں ہوگی ذرائع کا بتانا ہے کہ پی ایس ایل 6 کا آفیشل سونگ گانے والے فنکار ترکی پہنچ گئے ہیں-

  • پریانکا چوپڑا نے بھی بالی ووڈ میں نیپوٹزم پر آواز اٹھا دی

    پریانکا چوپڑا نے بھی بالی ووڈ میں نیپوٹزم پر آواز اٹھا دی

    بالی وڈ کوئین کنگنا رناوت کے بعد بالی وڈ میں دیسی گرل کے نام سے جانی جانے والی اداکارہ پریانکا چوپڑا نے بھی بالی وڈ میں اقربا پروری کے معاملے پر آواز اٹھا دی-

    باغی ٹی وی : بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق بالی وڈ اداکار ہ پریانکا چوپڑاسے ایک انٹر ویو میں جب پوچھا گیا کہ کیا انہیں کبھی اقربا پروری کے باعث فلمی کیرئیر میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ہے؟ تو انہوں اقرار کرتے ہوئےکہا کہ اس بارے میں انہوں نے اپنی کتاب میں بھی لکھا ہے۔

    اداکارہ کامزید کہنا تھا کہ یہ بات ٹھیک ہے کہ ہر ایک اپنے خاندان کا خیال کرنا چاہتا ہے ،ہم سب اپنے دوستوں اور رشتے داروں کی دیکھ بھال کرنا چاہتے ہیں اور ان کے لیے مواقع پیدا کرنا چاہتے ہیں، میں بھی یہ کرنا چاہتی ہوں۔

    پریانکا کا کہنا تھا کہ اپنے دوستوں اور خاندان والوں کو سپورٹ کرنے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ آپ دوسروں کو مکمل طور پر نظرانداز کردیں-

    اداکارہ نے کہا کہ میرا خیال ہے کہ جن لوگوں کے پاس میز موجود ہے تو کیا یہ بہتر نہیں ہوگا کہ اگر ہم اس میز کو صرف اپنے لوگوں کی اجارہ داری کی جگہ بنانے کے بجائے میز ہی میں توسیع کی کوشش کریں تاکہ دوسرے بھی وہاں بیٹھ سکیں۔

    واضح رہے کہ بالی وڈ میں اقربا پروری کے حوالے سے بحث جاری رہتی ہے تاہم اس میں اس وقت اضافہ ہوا تھا جب اداکار سوشانت سنگھ نے مبینہ طور پر بالی وڈ میں نظر انداز کیے جانے اور کام نہ ملنے پر خودکشی کرلی تھی جس پر اداکارہ کنگنا رناوت نے اس کا ذمہ دار بالی وڈ میں اقربا پروری کو قرار دیا تھا۔

  • منال خان کی احسن محسن سے مبہم انداز میں محبت کی تصدیق

    منال خان کی احسن محسن سے مبہم انداز میں محبت کی تصدیق

    پاکستان کی معروف اداکارہ و ماڈل منال خان نے اس باراحسن محسن سے مبہم انداز میں محبت کی تصدیق کرہی دی ہے-

    باغی ٹی وی : اداکارہ منال خان اوردوست اداکاراحسن محسن کی گہری دوستی کے بارے میں سب کو ہی معلوم ہے تاہم دونوں کی جانب سے کبھی اس پر کبھی بیان سامنے نہیں آیا-

    تاہم اس بار اداکارہ نے انسٹاگرام پر احسن محسن کے ساتھ 14 فروری ویلنٹائن ڈے پر ایک تصویر شیئر کی۔ اور پوسٹ پرمبہم انداز میں محبت کی تصدیق بھی کردی۔

    مداحوں کی جانب سے تصویرکی خوب تعریف کی گئی جب کہ کچھ مداحوں نے انہیں باقاعدہ مبارک باد بھی دی نہ صرف مداحوں نے ساتھی اداکاراؤں نے بھی مبارکباد دی-

    اس سے قبل بھی منال خان اوراداکاراحسن محسن کی مختلف تصاویرپرمداحوں کی جانب سے دلچسپ تبصرے کیے جاتے رہے ہیں۔

  • اردو فارسی کے ممتاز و عظیم شاعر” مرزا اسد اللہ خاں غالبؔ صاحب“ کا 152واں یوم وفات

    اردو فارسی کے ممتاز و عظیم شاعر” مرزا اسد اللہ خاں غالبؔ صاحب“ کا 152واں یوم وفات

    اردو کے سب سے مشہور شاعر، زبان اور لہجے کے چابک دست فنکار، استدلالی اندازِ بیاں، تشکک پسندی، رمز و ایمائیت، جدت ادا اور اردو فارسی کے ممتاز و عظیم شاعر” مرزا اسد اللہ خاں غالبؔ صاحب“ کا 152واں یومِ وفات منایا جا رہا ہے-

    باغی ٹی وی :نام مرزا اسد اللہ خاں، تخلّص غالبؔ ، 27؍دسمبر 1797ء کو پیدا ہوئے ۔ غالبؔ کی اولین خصوصیت طرفگئی ادا اور جدت اسلوب بیان ہے لیکن طرفگی سے اپنے خیالتا ، جذبات یا مواد کو وہی خوش نمائی اور طرح طرح کی موزوں صورت میں پیش کرسکتا ہے جو اپنے مواد کی ماہیت سے تمام تر آگاہی اور واقفیت رکھتا ہو۔

    میرؔ کے دور میں شاعری عبارت تھی محض روحانی اور قلبی احساسات و جذبات کو بعینہ ادا کردینے سے گویا شاعر خود مجبور تھا کہ اپنی تسکین روح کی خاطر روح اور قلب کا یہ بوجھ ہلکا کردے ۔ ایک طرح کی سپردگی تھی جس میں شاعر کا کمال محض یہ رہ جاتا ہے کہ جذبے کی گہرائی اور روحانی تڑپ کو اپنے تمام عمن اور اثر کے ساتھ ادا کرسکے ۔

    اس لیے بے حد حساس دل کا مالک ہونا اول شرط ہے اور شدت احساس کے وہ سپردگی اور بے چارگی نہیں ہے یہ شدت اور کرب کو محض بیان کردینے سے روح کو ہلکا کرنا نہیں چاہتے بلکہ ان کا دماغ اس پر قابو پاجاتا ہے اور اپنے جذبات اور احساسات سے بلند ہوکر ان میں ایک لذت حاصل کرنا چاہتے ہیں یا یوں کہئے کہ تڑپ اٹھنے کے بعد پھر اپنے جذبات سے کھیل کر اپنی روح کے سکون کے لیے ایک فلسفیانہ بے حسی یا بے پروائی پیدا کرلیتے ہیں ۔

    اگر میرؔ نے چر کے سہتے سہتے اپنی حالت یہ بنائی تھی کہ مزا جو ں میں یاس آگئی ہے ہمارے نہ مرنے کا غم ہے نہ جینے کی شادی تو غالب ؔ اپنے دل و دماغ کو یوں تسکین دیتے ہیں کہ غالب کی شاعری میں غالبؔ کے مزاج اور ان کے عقائد فکری کو بھی بہت دخل ہے طبیعتاً وہ آزاد مشرب مزاج پسند ہر حال میں خوش رہنے والے رند منش تھے لیکن نگاہ صوفیوں کی رکھتے تھے باوجود اس کے کہ زمانے نے جتنی چاہئے ان کی قدر نہ کی اور جس کا انہیں افسوس بھی تھا پھر بھی ان کے صوفیانہ اور فلسفیانہ طریق تفکر نے انہیں ہر قسم کے ترددات سے بچالیا۔(الخ) اور اسی لیے اس شب و روز کے تماشے کو محض بازیچۂ اطفال سمجھتے تھے۔

    دین و دنیا، جنت و دوزخ ، دیر و حرم سب کو وہ داماندگئ شوق کی پناہیں سمجھتے ہیں۔(الخ) جذبات اور احساسات کے ساتھ ایسے فلسفیانہ بے ہمہ دبا ہمہ تعلقات رکھنے کے باعث ہی غالبؔ اپنی شدت احساس پر قابو پاسکے اور اسی واسطے طرفگئی ادا کے فن میں کامیاب ہوسکے اور میرؔ کی یک رنگی کے مقابلے میں گلہائے رنگ رنگ کھلا سکے۔

    ’’لوح سے تمت تک سو صفحے ہیں لیکن کیا ہے جو یہاں حاضر نہیں کون سا نغمہ ہے جو اس زندگی کے تاروں میں بیدار یاخوابیدہ موجود نہیں۔‘‘ لیکن غالبؔ کو اپنا فن پختہ کرنے اور اپنی راہ نکالنے میں کئی تجربات کرنے پڑے۔ اول اول تو بیدلؔ کا رنگ اختیار کیا لیکن اس میں انہیں کیامیابی نہ ہوئی سخیوں کہ اردو زبان فارسی کی طرح دریا کو کوزے میں بند نہیں کرسکتی تھی مجبوراً انہیں اپنے جوش تخیئل کو دیگر متاخرین شعرائے اردو اور فارسی کے ڈھنگ پر لانا پڑا۔

    صائبؔ کی تمثیل نگاری ان کے مذاق کے مطابق نہ ٹھہری میرؔ کی سادگی انہیں راس نہ آئی آخر کار عرفیؔ و نظیری کا ڈھنگ انہیں پسند آیا اس میں نہ بیدلؔ کا سا اغلاق تھا نہ میرؔ کی سی سادگی ۔ اسی لیے اسی متوازن انداز میں ان کا اپنا رنگ نکھر سکا اور اب غیب سے خیال میں آتے ہوئے مضامین کو مناسب اور ہم آہنگ نشست میں غالب نے ایک ماہر فن کار کی طرح طرفہ دل کش اور مترنم انداز میں پیش کرنا شروع کردیا ۔

    عاشقانہ مضامین کے اظہار میں بھی غالبؔ نے اپنا راستہ نیا نکالا شدت احساس نے ان کے تخیئل کی باریک تر مضامین کی طرف رہ نمائی کی گہرے واردات قلبیہ کا یہ پر لطف نفسیاتی تجزیہ اردو شاعری میں اس وقت تک (سوائے مومنؔ کے ) کس نے نہیں برتا تھا ۔ اس لیے لطیف احساسات رکھنے والے دل اور دماغوں کو اس میں ایک طرفہ لذت نظر آئی ۔

    ولیؔ ، میرؔ و سوداؔ سے لے کر اب تک دل کی وارداتیں سیدھی سادی طرح بیان ہوتی تھیں۔ غالبؔ نے متاخرین شعرائے فارسی کی رہ نمائی میں اس پر لطف طریقے سے کام لے کر انہیں معاملات کو اس باریک بینی سے برتا کہ لذت کام و دہن کے ناز تر پہلو نکل آئے ۔

    غرض کہ ایسا بلند فکر گیرائی گہرائی رکھنے والا وسیع مشرب، جامع اور بلیغ رومانی شاعر ہندوستان کی شاید ہی کسی زبان کو نصیب ہوا ہو موضوع اور مطالب کے لحاظ سے الفاظ کا انتخاب (مثلاً جوش کے موقع پر فارسی کا استعمال اور درد و غم کے موقع پر میرؔ کی سی سادگی کا ) بندش اور طرز ادا کا لحاظ رکھنا غالب ؔ کا اپنا ایسا فن ہے جس پر وہ جتنا ناز کریں کم ہے اسی لیے تو لکھا ہے ۔
    15؍فروری 1869 کو غالبؔ انتقال کر گئے۔

    ممتاز عظیم شاعر غالبؔ صاحب کے یومِ وفات پر موصوف کے اشعار جس کی تعداد کافی زیادہ ہے ان میں سے چند اشعار بطورِ خراجِ عقیدت…

    آئینہ کیوں نہ دوں کہ تماشا کہیں جسے
    ایسا کہاں سے لاؤں کہ تجھ سا کہیں جسے

    آہ کو چاہیئے اک عمر اثر ہوتے تک
    کون جیتا ہے تری زلف کے سر ہوتے تک

    اس انجمنِ ناز کی کیا بات ہے غالبؔ
    ہم بھی گئے واں اور تری تقدیر کو رو آئے

    بازیچۂ اطفال ہے دنیا مرے آگے
    ہوتا ہے شب و روز تماشا مرے آگے

    بسکہ دشوار ہے ہر کام کا آساں ہونا
    آدمی کو بھی میسر نہیں انساں ہونا

    بے خودی بے سبب نہیں غالبؔ
    کچھ تو ہے، جس کی پردہ داری ہے

    پلا دے اوک سے ساقی جو ہم سے نفرت ہے
    پیالہ گر نہیں دیتا نہ دے شراب تو دے

    ثابت ہوا ہے گردنِ مینا پہ خونِ خلق
    لرزے ہے موجِ مے تری رفتار دیکھ کر

    جان دی دی ہوئی اسی کی تھی
    حق تو یوں ہے کہ حق ادا نہ ہوا

    دائم پڑا ہوا ترے در پر نہیں ہوں میں
    خاک ایسی زندگی پہ کہ پتھر نہیں ہوں میں

    دردِ منّتِ کش دوا نہ ہوا
    میں نہ اچھا ہوا برا نہ ہوا

    ہم کو معلوم ہے جنت کی حقیقت لیکن
    دل کے خوش رکھنے کو غالبؔ یہ خیال اچھا ہے

    ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پہ دم نکلے
    بہت نکلے مرے ارمان لیکن پھر بھی کم نکلے

    عشرت قطرہ ہے دریا میں فنا ہو جانا
    درد کا حد سے گزرنا ہے دوا ہو جانا

    کعبہ کس منہ سے جاوگے غالبؔ
    شرم تم کو مگر نہیں آتی

    کوئی میرے دل سے پوچھے ترے تیر نیم کش کو
    یہ خلش کہاں سے ہوتی جو جگر کے پار ہوتا

    نہ تھا کچھ تو خدا تھا کچھ نہ ہوتا تو خدا ہوتا
    ڈبویا مجھ کو ہونے نے نہ ہوتا میں تو کیا ہوتا

    رگوں میں دوڑتے پھرنے کے ہم نہیں قائل
    جب آنکھ ہی سے نہ ٹپکا تو پھر لہو کیا ہے

    ان کے دیکھے سے جو آ جاتی ہے منہ پر رونق
    وہ سمجھتے ہیں کہ بیمار کا حال اچھا ہے

    دلِ ناداں تجھے ہوا کیا ہے
    آخر اس درد کی دوا کیا ہے

    ریختے کے تمہیں استاد نہیں ہو غالبؔ
    کہتے ہیں اگلے زمانے میں کوئی میرؔ بھی تھا

    قاصد کے آتے آتے خط اک اور لکھ رکھوں
    میں جانتا ہوں جو وہ لکھیں گے جواب میں

    ایک ہنگامے پہ موقوف ہے گھر کی رونق
    نوحہ غم ہی سہی نغمئہ شادی نہ سہی

    بس ہجوم ناامیدی خاک میں مل جائے گی
    یہ جو اک لذت ہماری سعی لاحاصل میں ہے

    موت کا ایک دن معیّن ہے
    نیند کیوں رات بھر نہیں آتی

    جوئے خون آنکھوں سے بہنے دو کہ ہے شامِ فراق
    مین يہ سمجھوں گا کہ شمعين دو فروزاں ہو گئیں

    یہ نہ تھی ہماری قسمت کہ وصالِ یار ہوتا
    اگر اور جیتے رہتے یہی انتظار ہوتا

    ہیں اور بھی دنیا میں سخن ور بہت اچھے
    کہتے ہیں کہ غالبؔ کا ہے اندازِ بیاں اور

    (مرزا غالبؔ)

  • ماہرہ خان کی پروڈکشن میں بننے والی فلم باراہوں کھلاڑی کے مرکزی کردار کی جھلک جاری

    ماہرہ خان کی پروڈکشن میں بننے والی فلم باراہوں کھلاڑی کے مرکزی کردار کی جھلک جاری

    پاکستان شوبز انڈسٹری کی معروف اور صف اول کی عالمی شہرت یافتہ اداکارہ ماہرہ خان نے اپنی پرڈکشن میں بننے والی فلم ’بارہواں کھلاڑی‘ میں مرکزی کرداروں کا اعلان کردیا۔

    باغی ٹی وی : حال ہی میں ماہرہ خان نے اپنی پروڈکشن میں بننے والی فلم ’بارہواں کھلاڑی‘ کا اعلان کیا تھا جس کے بعد سے فلم کے مرکزی کرداروں کے حوالے سے چہ مگوئیاں شروع ہوگئیں تھیں اور قیاس آرائیاں کی جا رہی تھیں کہ گلوکارعلی ظفر کے بھائی دانیال ظفر اس فلم میں دکھائی دیں گے-

    تاہم اب خود ہی ماہرہ خان نے ٹوئٹ کرکے فلم میں کام کرنے والے اداکاروں کا اعلان کیا ہے۔ ماہرہ خان نے اپنے تصدیق شدہ انسٹاگرام اکاؤنٹ پر فلم کا پوسٹر جاری کیا ہے جس میں اداکار دانیال ظفر اور شاہ ویر جعفری بیٹھے نظر آرہے ہیں۔

    خیال رہے کہ فلم ’بارہواں کھلاڑی‘ کی ہدایت کاری کے فرائض عدنان سرور سرانجام دیں گے جبکہ فلم کی کہانی دوستی، رشتہ، اتحاد، ناکامی، کامیابی، ناکامی، محبت اور حوصلہ افزائی پر مبنی ہے۔

    اداکارہ کا کہنا تھا کہ ہم نے یہ مرحلہ محبت بھری مشقت اور سخت محنت سے طے کیا ہے، ہماری یہ کوشش آپ کے لیے ہے۔

    اس سے قبل ماہرہ خن نے اپنے پروڈکشن ہاؤس کی تصویر شئیر کرتے ہوئے لکھا تھا کہ ہر چیز کے پیچھے ایک کہانی ہوتی ہےاور میں کہانیوں کے لیے زندہ رہتی ہوں، انہیں سنتی ہوں اور سناتی ہوںپروڈکشن میں اپنی پہلی بار قسمت آزمائی کو مداحوں سے شیئر کرنے پر گھبرائی ہوئی ہوں اور پرجوش بھی ہوں اس سفر میں نینا کاشف سے بہتر میرے پاس کوئی نہیں ہے سول فرائی فلم میں آپ کو خوش آمدید ،آپ کا اور آپ کی کہانیوں کا ہمیشہ استقبال کیا جائے گا۔

    ماہرہ خان کی پروڈکشن تلے بننے والی پہلی فلم میں کون سے اداکار جلوہ گر ہوں گے

    ماہرہ خان نے اپنے پروڈکشن ہاؤس کا پہلا پروجیکٹ مداحوں کے ساتھ شئیر کر دیا

    اداکارہ ماہرہ خان نے اپنا پروڈکشن ہاؤس کھول لیا

  • پاکستان کی معروف ٹک ٹاک اسٹار خدیجہ خان نے نکاح کرلیا

    پاکستان کی معروف ٹک ٹاک اسٹار خدیجہ خان نے نکاح کرلیا

    پاکستان کی معروف ٹک ٹاک اسٹار خدیجہ خان نے نکاح کرلیا۔

    باغی ٹی وی : ٹک ٹاک پر 17 لاکھ فالوورز رکھنے والی ٹک ٹاکرخدیجہ خان نے اپنے نکاح کی تصویریں اپنے آفیشل انسٹاگرام اکاؤنٹ پر شیئر کیں۔

    خدیجہ خان نے انسٹاگرام پر اپنے شوہر کو انگوٹھی پہناتے ہوئے تصویر شیئر کی جس کے کیپشن میں اُنہوں نے اپنے شوہر سے مخاطب ہوکر لکھا کہ جب آپ میرا ہاتھ تھامتے ہیں تو لگتا ہے آپ نے میرا دل بھی تھام لیا۔

    اس کے علاوہ خدیجہ خان نے اپنے شوہر کے ہمراہ اپنے نکاح کی تقریب کی کچھ دلکش تصویریں بھی شیئر کیں۔

    مذکورہ تصویروں میں دیکھا جاسکتا ہے کہ خدیجہ خان نے اپنی زندگی کے سب سے خاص موقع پر گولڈن رنگ کے عروسی لباس کا انتخاب کیا جس میں وہ بےحد خوبصورت لگ رہی ہیں۔

    خدیجہ خان کے نکاح کی تصویروں کو سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے بہت پسند کیا جارہا ہے اور صارفین اُن کی نئی زندگی کے لیے نیک خواہشات کا اظہار بھی کررہے ہیں۔

    ٹک ٹاکر نے اپنے ٹک ٹاک اکاؤنٹ پر بھی نکاح کی ویڈیو شئیر کی جسے صارفین کی جانب سے خوب پسند کیا جارہا ہے اور نیک تمناؤں کا اظہار کیا جا رہا ہے-

    واضح رہے کہ خدیجہ خان کے ٹک ٹاک پر 17 لاکھ فالوورز ہیں جبکہ انسٹاگرام پر اُنہیں دو لاکھ سے زائد صارفین نے فالو کیا ہوا ہے۔