Baaghi TV

Author: عائشہ ذوالفقار

  • دپیکا پڈوکون کو گالیاں دینے والا شخص کون ہے؟

    دپیکا پڈوکون کو گالیاں دینے والا شخص کون ہے؟

    بالی ووڈ اداکارہ دپیکا پڈوکون نے انسٹاگرام ڈی ایم پر گالیاں دینے والے شخص کو جواب دیا ہے-

    باغی ٹی وی :بھارتی میڈیا کے مطابق دپیکا پڈوکون کو ساحل شاہ نامی شخص نےانسٹاگرام ڈی ایم (میسجز)پر گالی لکھ کر بھیجی۔ دپیکا پڈوکون نے اس پیغام کا اسکرین شاٹ لے کر اسے اپنی انسٹاگرام اسٹوری پر شیئر کیا اسکرین شاٹ میں اس شخص کی جانب سے دی گئی گالیاں اور اس کا نام واضح تھا۔

    اس کے ساتھ ہی انہوں نے گالی دینے والے شخص کو طنزیہ جواب دیتے ہوئے کہا ’واہ آپ کے گھروالوں اور دوستوں کو آپ پر بے حد ناز ہوگا۔‘

    بعدازاں اداکارہ نے انسٹاگرام اسٹوری سے اسکرین شاٹ کو ڈیلیٹ کردیا تاہم اس دوران دیگر صارفین نے اس کا اسکرین شاٹ لے لیا اور اب لوگ اس شخص کی حرکت پر افسوس کا اظہار کر رہے ہیں۔

  • یوم یکجہتیِ فلسطین      بقلم: حیات عبداللہ

    یوم یکجہتیِ فلسطین بقلم: حیات عبداللہ

    یوم یکجہتیِ فلسطین
    بقلم: حیات عبداللہ

    صدیاں بِیت چلیں اس کرّہ ء ارض پر یہودی حشر سامانیاں اور فتنہ سازیاں نہ صرف امن و آشتی کو غارت کیے ہوئے ہیں بلکہ مسلمانوں کے عین جگر میں خنجر گھونپ کر ایک ناجائز یہودی ریاست کو بھی قائم کر دیا گیا۔

    وہ بھی ایک یہودن تھی جس نے بکری کے گوشت میں زہر ملا کر نبیؐ کو بہ طور ہدیہ دیا تھا۔نبیؐ نے گوشت کا ٹکڑا منہ میں ڈالا اور فوراً ہی نکال کر پھینک دیا اور فرمایا کہ مجھے یہ ہڈّی بتا رہی ہے کہ اس میں زہر کی ملاوٹ ہے۔اس کے بعد اس یہودن کو بلایا گیا تو اس نے اعترافِ جرم کر لیا۔

    آج اگر ساری دنیا کے یہودیوں کو ایک جگہ جمع کیا جائے تو کراچی شہر سے بھی کم جگہ میں سما سکتے ہیں مگر اس کے باوجود ان کی چالبازیوں نے وائٹ ہاؤس اور پینٹاگون سے لے کر اقوامِ متحدہ تک پنجے اتنی مضبوطی سے گاڑ رکھے ہیں کہ خفیف سی صعوبتیں بھی یہودی مفادات میں اپنے دانت گاڑنے لگیں تو عیسائیت کا دَم نکلنے کو ہو جاتا ہے۔امریکا کا کوئی بھی صدر ہو، یہودیوں کے تحفّظ کے لیے زمزمہ سنج ہونا اس کے فرائض میں شامل ہوتا ہے۔

    سابق امریکی صدر باراک اوباما بھی اپنی پہلی صدارتی تقریر میں یوں نواسنج ہُوا تھا کہ ”اسرائیل، امریکا کی ذمہ داری ہے اور امریکا اپنی ذمہ داری خوب نبھائے گا۔“ ایک امریکی ایلچی جوزف بائیڈن بھی مقبوضہ بیت المقدس میں یوں ڈھنڈورچی بن کر ڈھنڈورا پِیٹ چکا ہے کہ ”امریکا مشرقِ وسطیٰ میں اسرائیل کو سب سے بڑی فوجی طاقت دیکھنا چاہتا ہے۔“ اس نقارچی نے ایک اسرائیلی اخبار کو انٹرویو دیتے ہوئے اسرائیل کو یقین دلایا تھا کہ ایران سے کسی بھی تصادم کی صورت میں امریکا بھرپور طور پر اسرائیل کی مدد کرے گا۔

    1880ء میں یہودی خاندان فلسطین جا کر آباد ہونے لگے اور پھر بہت جلد 1897ء میں صہیونی تحریک کی بنیاد رکھ دی گئی جس کا سب سے پہلا مقصد فلسطین پر قبضہ تھا۔1917ء فلسطین میں یہودیوں کی تعداد صرف 25 ہزار تھی مگر اگلے پانچ سال میں ان کی تعداد 38 ہزار تک پہنچا دی گئی۔ 1922ء تا 1939ء یہودیوں کی تعداد ساڑھے چار لاکھ سے تجاوز کر چکی تھی اور پھر 14 مئی 1948ء کی تلخ وترش ساعتیں آ گئیں جب اسرائیلی ریاست کے قیام کا اعلان کر دیا گیا۔فرطِ جذبات میں اسرائیل کے سامنے سب سے پہلے زانوئے تلمّذ تہ کرنے والے امریکا اور روس تھے۔ پھر یہودی سفاکیت اور فلسطینی مظلومیت بڑھتی ہی جانے لگیں۔اسرائیلی حکومت نے 1967ء میں غزہ کی پٹّی پر قبضے کے بعد اس علاقے میں یہودی بستیوں کی تعمیر کے سیکڑوں منصوبے بنا کر ان پر عمل کیا مگر اقوامِ متحدہ آج تک گونگے کا گُڑ کھا کر چُپ سادھے بیٹھی اس سارے سفاکانہ کھیل سے لطف اندوز ہو رہی ہے۔

    1956ء میں اسرائیل نے برطانیہ اور فرانس کے ساتھ مل کر مصر پر حملہ کیا جس سے 3 ہزار لوگ ہلاک ہو گئے۔1967ء میں اسرائیلی حیوانیت پھر پھنکار اٹھی، جب اسرائیل نے حملہ کیا تو چھے روزہ جنگ میں 20 ہزار عرب مسلمان شہید ہو گئے۔اسرائیل کے منہ کو مسلمانوں کا خون ایسا لگا کہ پھر 1973ء میں اس نے شام اور مصر کے 18 ہزار مسلمانوں کو ہلاک کر ڈالا۔ آج تک 60 ہزار سے زائد فلسطینی مسلمان اسرائیل کے سفاک منہ کا نوالا بن چکے ہیں۔

    آج فلسطین کے بچّے، بوڑھے اور جوانوں کو سکون کا سانس لینے کا حق تک حاصل نہیں، ان کی زندگیوں میں ایسے درد جھونک دیے گئے ہیں جو موت سے بھی بدتر ہیں۔آج ان کا انگ انگ فریاد کناں ہے۔انسانی حقوق کا خوبصورت اور جاذبِ نظر غلاف پہن کر یہودونصاریٰ کے حقوق کی ترجمانی اور حفاظت پر مامور اقوامِ متحدہ میں اسرائیلی ظلم وستم کے خلاف سیکڑوں قراردادیں پاس ہو چکیں مگر اقوامِ متحدہ نے کبھی مسلمانوں پر ظلم و ستم کو درخورِ اعتنا نہیں سمجھا۔آج تک اقوامِ متحدہ نے اپنی سیاہ زلفوں میں سے مکھڑا نکال کر پلکیں اٹھا کر بھی یہ تک دیکھنے کی جسارت نہ کی کہ یہودوہنود امّتِ مسلمہ پر کیسے کیسے بھیانک انداز میں ظلم کے پہاڑ توڑ رہے ہیں، البتہ اگر کسی بھی یہودی یا عیسائی جذبات واحساسات میں کوئی کانٹا بھی چبھ جائے تو اسے فوراً ہی انسان بھی یاد آ جاتے ہیں اور انسانوں کے حقوق بھی تڑپانے لگتے ہیں۔

    عالمی امن کے لیے سوہانِ روح بن جانے والی داعش کو یہودی پادری بڑے دھڑلے سے ہدیہ ء الٰہی سے تعبیر کرتے رہے ہیں اس لیے کہ داعش کا ہدف صرف اور صرف مسلمان ہیں۔فلسطین میں کچھ عرصہ قبل جب 34 مسلمان شہید کر دیے گئے تھے تو مجھے تو کچھ اخبارات پر بڑی حیرت ہوئی کہ انھوں نے خبر لگائی کہ ”یہودیوں کا مقدس مقام نذرِ آتش، غرب اردن میں کشیدگی“ یہ یہودیوں کا مقدّس مقام کیسے ہو گیا؟ یہ تو مسلمانوں کے مقامات ہیں یہودی تو قابض ہیں۔

    دنیا جانتی ہے کہ اسرائیلی حکام نے 40 سال سے کم عمر فلسطینیوں کی مسجد اقصیٰ میں نماز جمعہ کے لیے قدغنیں تک عائد کی ہیں۔خون آشام ظلم دیکھیے کہ ایک طرف پتھروں سے مقابلہ کرنے والے فلسطینی ہیں جب کہ دوسری جانب ہر طرح کے اسلحہ و بارود سے مسلح یہودی۔دنیا کا وہ کون سا ظلم ہے جو اہل فلسطین کے جسم و جاں میں نہیں گاڑا جا رہا مگر درد والم سے لدے کئی عشرے بیت جانے کے باوجود ان کے جذبوں کا بانکپن آج بھی دیدنی ہے۔ اہلِ عرب اور اہلِ اسلام کی جانب سے مایوسیوں کے زرد موسموں کے باوجود ان کے حوصلے چٹخے نہیں۔

    معلوم نہیں کب من حیث المجموع امّتِ مسلمہ کی رگوں میں وہ حمیّت دوڑے گی جو اہلِ فلسطین کے لیے آزادیوں سے مزیّن نوید اور مسرّت لے آئے گی؟ میری گزارش فقط اتنی ہے کہ 14 فروری کے دن دلوں میں عشق ومحبت کا جو خبط امڈ آتا ہے اس کا رخ کسی کی بہن بیٹی کی طرف موڑنے کی بجائے یہ مثبت رنگ دیجیے کہ محبتوں کے اس جنون کو اپنے فلسطینی بھائیوں کی طرف موڑ دیجیے اور جب تک فلسطین کے مقہور و مظلوم مسلمان یہودی فتنہ سازوں اور صہیونی ظالموں سے آزاد نہیں ہوتے تب تک 14 فروری کو درد سے کُرلاتے اہلِ فلسطین سے منسوب کر دیجیے!

    یہ نوید افزا شعر اختر شیرانی کا ہے۔

    انھی غم کی گھٹاؤں سے خوشی کا چاند نکلے گا
    اندھیری رات کے پردے میں دن کی روشنی ہو گی

  • ویلنٹائن حرام محبت کا موجب    از قلم :عظمی ناصر ہاشمی

    ویلنٹائن حرام محبت کا موجب از قلم :عظمی ناصر ہاشمی

    ویلنٹائن ۔۔۔۔۔۔۔حرام محبت کا موجب
    از قلم :عظمی ناصر ہاشمی

    . . پوری قوم. ۔۔۔۔۔۔۔ بالخصوص نوجوان لڑکے اور لڑکیاں loveکے جذبے سے سرشار…… بازاروں …..سڑکوں…… چوراہوں پر نکلے ہوئے ہیں……..”ایک ہلچل مچی ہے سارے بازار”
    ہر چیز سرخ رنگ میں نہائی ہوئی ہے. سرخ بار……. سرخ پھول۔۔۔۔۔ سرخ لباس
    میں محبتوں کے د عوے ہو رہے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔ ساتھ جینے مرنے کی قسمیں کھائی جارہی ہیں۔ آج کے دن سب وعدے وفا کرنے ہیں

    جی ہاں !
    یہ اہتمام یلنٹائن ڈے کے موقع پر ہورہا ہے۔
    گویا کہ یہ کوئی مذہبی اور دینی فریضہ ہے۔
    حالانکہ ایسا کچھ بھی نہیں ہمارے مذ ہب میں ایک دن کی محبت اور وہ بھی نا جائز ذرائع سے حاصل کی گئ محبت کی کوئی گنجائش نہیں ۔
    غیروں کے پیچھے لگ کر اوچھی حرکتیں کرنا ایک مسلمان کو زیب نہیں دیتیں غیر مسلموں کو وہ محبتیں کرنی ہیں جنہیں ان کا مذہب اجازت دیتا ہے اور ہم نے وہ محبتیں بانٹنی ہیں جن کا حکم ہمارا مذہب ہمیں دیتا ہے

    ویلنٹائن ڈے۔۔۔۔۔۔۔۔۔ُ

    کرسمس کے بعد دنیا میں سب سے زیادہ یہ تہوار منایا جاتا ہے اسے محبت کرنے والوں کا عالمی دن بھی کہا جاتا ہے۔
    میڈیا کی بہت زیادہ تشہیر کے سبب پاکستان میں بھی اس کا رجحان بڑھتا جارہا ہے۔
    یہ دن ایک عیسائی پادری کی ناکام محبت کی یاد میں منایا جاتا ہے
    جس کا نام سینٹ ویلنٹائن تھا ا سے کسی جرم کی بنا پر قید کردیا گیا اور قید کے دوران اس کی ملاقات حاکم وقت ‘کلوڈیس’ کی بیٹی” جولیا "سے ہوئی وہ اس کی محبت میں گرفتار ہو گیا۔
    ‘ جولیا ‘روز ایک گلاب کا سرخ پھول لے کر اس کے پاس آتی جب اس کی خبر کلوڈیا کو ہوئی تو اس نے ویلنٹائن کو 14 فروری کو سرعام پھانسی دے دی ۔
    اس نے پھانسی دیے جانے سے قبل جولیا کے نام خط لکھا جس کے الفاظ پہ تھے
    From your valentine
    اس وجہ سے یہ دن ۔۔۔۔۔۔۔۔ویلنٹائن ڈے کے نام سے مشہور ہو گیا ۔
    جسے بارہویں صدی میں فروغ ملا۔
    کافروں عیسائیوں اور یہودیوں کے لیے یہ کوئی اچنبھے کی بات نہیں کیونکہ ان کے نزدیک بدکاری و بے حیائی کا تصور کچھ خاص حیثیت نہیں رکھتا انہوں نے نعوذ باللہ حضرت مریم جن کو یہ اپنا خدا مانتے ہیں یوسف نامی آدمی کے ساتھ بدکاری میں ملوث کردیا تھا ۔
    ( نعوذباللہ)
    بات تو مسلمانوں کے غور و فکر کی ہے کہ یہ کس مقصد کے تحت اس کو مناتے ہیں ؟؟؟ جبکہ ہمارا قرأن غیر مرد اور عورت کا أپس میں ناجائز تعلق رکھنے والے کو ۔۔۔۔۔۔ 100کوڑوں۔۔۔۔۔ ملک بدری اور رجم ( پتھر مار مار کر ہلاک کر دینا) کی سزا سناتا ہے
    دیکھنے والے چاہے اس امر کو ظلم ۔۔۔۔۔زیادتی ۔۔۔۔۔یا دہشت گردی کا نام دیں لیکن اسلام کی نظر میں یہ پر حکمت ہے۔ بدکاری کرنے والے مرد اور عورت کو اگر سرعام سنگسار کر دیا جائے تو دعوے سے کہا جاسکتا ہے کہ ہزاروں لوگ ڈر کے مارے ہی اس فعل قبیح سے باز آ جائیں اور معاشرہ زناکاری و بدکاری حرام محبت سے پاک ہو جائے
    اور بنت حوا کی عزت لٹنے کی بجاۓ محفوظ ہو جائیں۔ کیونکہ اسلام ہمیں ایک پاکباز ماحول اور پاکیزہ معاشرہ دینا چاہتا ہے اور شرم و حیا اور عفت و عصمت کی پاسداری ہمارے معاشرے کو دوسرے مذاہب میں ممتاز کرتی ہے ۔ کیونکہ جتنا زور ہمارے مذہب نے اس پر دیا کسی اور مذہب نے نہیں دیا
    ویلنٹائن ڈے حرام محبت کو فروغ دیتی ہے۔
    محبت کرنے کے دو طریقے ہیں حلال یا حرام
    ہمارے پاس حلال محبت کے وسیع ذرائع ہیں جیسا کہ
    اللہ سے محبت
    حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت
    والدین سے محبت
    بہن بھائیوں سے
    دوست احباب سے
    رشتے داروں سے
    اچھے تعلقات استوار کرنا
    اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرنا
    والدین کی اطاعت و فرمانبرداری
    ان محبتوں میں سے کس کس کی پاسداری کی جاتی ہے؟ ؟؟کس کی اطاعت کی جاتی ہے؟ ؟؟
    سارا دن گھر میں لڑائی جھگڑا کرنے ۔۔۔۔۔۔ بدتمیزی سے پیش آنے والا ۔۔۔۔۔۔۔ اور بے حس انسان ۔۔۔۔۔۔ پھولوں کا گلدستہ لے کر گلی کے چوراہے پر کھڑا ہو جاتا ہے اور کسی انجان حسینہ کے سامنے دنیا کا نمبر ون شریف النفس بن کر کھڑا ہو جاتا ہے ۔
    ہزاروں جائز محبتوں کو ایک حرام محبت کی خاطر میں پشت ڈال دیتا ہے ۔
    ایک حرام محبت کی خاطر ساری دنیا سے لڑائی مول لے لیتا ہے ۔
    انسان کی فطرت ہے کہ وہ ممنوع اشیاء کی طرف دوڑ کر جاتا ہے بابا آدم اور اماں حوا کو اللہ تعالی نے جنت کی رنگینی عطا کی تھی ۔
    ہم جنت کا تصور کریں تو دل خوش ہو جاتا ہے جب کہ آدم علیہ السلام نے قریب سے جنت کو دیکھا اور انہیں کھلی اجازت دی گئی کہ” کلو واشربو ھنیا مریا”
    اور ایک چیز کے قریب جانے پر پابندی لگا دی
    لیکن ہمارے مائی باپ سے رہا نہ گیا اور وہ ہزاروں حلال نعمتوں کو ایک طرف کرکے شجر ممنوعہ کا پھل کھا بیٹھے نتیجتا جنت سے خارج کر دیے گئے اس واقعے سے بنی نوع انسان کو یہ پیغام دینا مقصود تھا اللہ تعالی کی حرام کردہ اشیاء رب کائنات کی طرف سے آزمائش ہوتی ہے اور جو ان سے اپنا آپ بچا لیتا ہے وہ اللہ کے ہا ں سرخرو ہو جاتا ہے اور اللہ پاک اس کو مزید رحمتوں اور برکتوں سے نوازتا ہے ۔
    انسان خطا کا پتلا ہے ۔
    اسی لئے آدم اور حوا علیہماالسلام انجانے میں غلطی کر بیٹھے حقیقتاً تو وہ معصوم عن الخطاء تھے ۔
    لیکن ہم میں سے اکثر جان بوجھ کر گناہ کرتے ہیں اور اس پر فخر بھی کرتے ہیں بالکل اسی طرح سب جانتے ہیں کہ شادی سے پہلے کا love یا عشق گناہ ہے اصل محبت تو شادی کے بعد شروع ہوتی ہے جسے نبھانا ہمارے معاشرے میں "جوئے شیر لانے ” کے مترادف بن چکا ہے ۔
    خدارا !
    اپنے آپ کو جہنم کی آگ سے بچا لیجئے ۔۔۔۔۔ اپنے رب سے محبت کیجئے۔۔۔۔۔۔ جس نے آپ کو اشرف المخلوقات بنایا۔۔۔۔۔۔۔ حقیقی رشتوں کو پہچانیئے ۔۔۔۔۔۔۔ان کا خیال کیجئے۔۔۔۔ُ ان سے محبت کیجئے۔۔۔۔۔۔ اپنے جیون ساتھی سے مودت کا رشتہ قائم کر یں۔۔۔۔۔۔۔ ادھر ادھر منہ مارنے کی بجائے غیر قوموں کی تقلید میں اپنے حقیقی اور خونی رشتوں کو اگنور مت کر یں ۔۔۔۔۔
    أپ انہیں محبت دیں گے تو وہ بھی آپ کا خیال رکھیں گے اس طرح خاندان تو کیا پورا معاشرہ امن و سلامتی اور پیار و محبت کا گہوارہ بن جائے گا یاد رکھیے یوم محبت ایک دن پر محیط نہیں بلکہ پوری زندگی پر محیط ہے جس سے ہمیں ہر روز منانا ہے-

  • "محبّت” اور صرف ایک دن؟    بقلم:مریم چوہدری

    "محبّت” اور صرف ایک دن؟ بقلم:مریم چوہدری

    "محبّت”……اور صرف ایک دن….؟؟؟
    (بقلم:مریم چوہدری)
    اسلام پاکیزہ و جاذب نظر تعلیمات سے سجا خوبصورت مذہب ہے….جہاں قدم قدم پر محبّتوں کا درس اور نفرتوں کی حوصلہ شکنی ہے…..جہاں رشتوں کا تقدس شرطِ اولین ہے اور اس سے آگے بڑھنا ممنوعات میں داخل ہے جہاں ماں باپ کی قدر و منزلت کا درس ہے….جہاں بہن،بھائی جیسے بے مثال رشتے کا اپنا مقام ہے….جہاں میاں،بیوی کے درمیان پیار و محبّت کا درس قدم قدم پر ملتا ہے….جہاں محرم و غیر محرم کی حد بتا کر ہر رشتے کو معزز و محترم ٹھہرایا گیا….مگر آج کے اس پرفتن دور میں جہاں مسلمان بہت سی غلط روایات کو اپنی زندگی کا حصہ ٹھہرا چکے ہیں وہیں اغیار کی اندھی تقلید بھی ان کا اوڑھنا بچھونا بن چکی ہے….بات اسلام پر عمل کی آئے تو مسلمان گھرانوں میں پیدا ہونے اور پلنے والے ہی اپنی انگلیاں دانتوں تلے داب لیتے ہیں لیکن اگر کسی بھی بات پر اغیار کی رسوم و روایات کا لیبل لگا ہو تو نہ صرف اس کو کھلے دلوں قبول کر لیا جاتا ہے بلکہ اس پر عمل کرتے ہوئے بھی خود کو ہواؤں میں اڑتا ہوا محسوس کیا جاتا ہے حالانکہ یہ ذہنی غلامی و پستی کی انتہا ہے….آج انہی لوگوں کی روایات کو بصد خوشی اپنایا اور منایا جاتا ہے جنہوں نے ماں جیسے عظیم رشتے کی اہمیت کو ایک دن میں قید کر دیا…..باپ جیسی مشفق ہستی کے لئے جنہوں نے ایک دن مقرر کر دیا…..تو وہیں محبّت جیسے وسیع مفہوم رکھنے والے جذبے کو بھی نام نہاد محبّت کا خول دے کر اور جھوٹی و ناجائز محبّت کا ڈھونگ رچا کر ایک دن میں مقید کر دیا گیا….اور ہم ہیں کہ اس ریلے میں بہتے چلے جا رہے ہیں آج فروری کا مہینہ آئے تو ذہن میں ویلنٹائن ڈے کا آنا کچھ زیادہ عجیب نہیں لگتا کہ جب حدود و قیود کو کچل کر نوجوان لڑکے و لڑکیاں ایک دوسرے کو پھول،چاکلیٹس اور نہ جانے کیا کچھ پیش کرتے نظر آتے ہیں اور اسی سہ پہر کو کئی منچلے لڑکیوں کے باپ،بھائیوں سے پٹتے دکھائی دیتے ہیں اور تو اور بہت سے عقل کے کورے سال بھر شادی کی تاریخ مختص کرنے کے لئے 14فروری کا انتظار کرتے ہیں گویا ان کے نزدیک 14 فروری کی تاریخ نہ جانے کس خیرو برکت کا ذریعہ سمجھی جاتی ہے…؟؟؟
    اقوام کو غلام بنانے کا یہ سب سے بہترین طریقہ ہے کہ ان پر اپنی روایات کا خول چڑھا دیا جائے اور یہی کچھ مغربی میڈیا اور ان کے کارپرداز بڑی شد و مد سے کرتے رہے اور کر رہے ہیں…..لارڈ میکالے نے کہا تھا:”سیاسی غلامی سے جب چاہے آزادی مل سکتی ہے اس لئے اگر اقوام کو ذہنی غلامی میں مبتلا کر دیا جائے اور انہیں احساسِ کمتری کا شکار کر دیا جائے تو وہ سیاسی آزادی کے باوجود ہمیشہ نسل در نسل غلام بننا قبول کر سکتے ہیں”.
    آج اگر دیکھا جائے تو مسلمان ظاہری طور پر آزاد ہیں مگر ذہنی غلامی کا مظاہرہ جس طرح آج کے مسلمانوں کر رہے ہیں وہ ایک المیہ ہے….آج اسلام کی روایات کو اپنانا اور بچانا ایک خواب نظر آتا ہے مگر دوسری طرف نام نہاد تہذیب کے رنگ و روپ ہر گھر کی چوکھٹ پر دستک دیتے دکھائی دیتے ہیں….اللّٰہم الرحم علی احوالنا….آج آگے بڑھنے کے لئے ان روایات پر عمل کا سہارا لیا جاتا ہے جن کا اسلام سے کوئی تعلق ہی نہیں حالانکہ یہ بات تاریخی طور پر طے ہے کہ اسلام کی روایات کو اپنا کر تو ہر دور میں آگے بڑھا گیا چاہے وہ اپنانے والے غیر مسلم ہی کیوں نہ ہوں مگر اسلام کی تعلیمات کو پس پشت ڈال کر کوئی بھی آگے نہیں بڑھ سکا چاہے وہ مسلمان ہی کیوں نہ ہوں…..اپنی روایات کو کھو کر اور دوسروں کی روایات کو اپنا کر آگے بڑھنے کا خواب وہ خواب ہے جو کبھی شرمندۂ تعبیر نہیں ہو سکتا بلکہ قدم قدم پر اخلاقی المیے ضرور جنم لے سکتے ہیں کیونکہ آزاد قومیں اپنی روایات بیچ کر دوسروں کی روایات خریدا نہیں کرتیں بلکہ اپنی الگ پہچان اور تشخص کو لیکر آگے بڑھتی ہیں جو قدموں کی بہت بڑی طاقت ہے اور جس سے اقوام کی دنیا میں ایک الگ پہچان منوانا بھی ممکن ہے اور یہی اسلام کا خاصہ ہے:
    اپنی ملت پر قیام اقوامِ مغرب سے نہ کر….
    خاص ہے ترکیب میں قوم رسول ہاشمیﷺ!!!
    ہمیں اسلام کی خوبصورت اور باوقار تعلیمیات کو اپنا کر آگے بڑھنے کا کام کرنا ہے نہ کہ ظاہری چکا چوند سے سجی مگر اندر سے کھوکھلی و غیر اخلاقی اقدار کو اپنا کر اپنے قدموں میں ضعف پیدا کرنا ہے کہ ان غیر مہذب روایات کے زہر کا تریاق اسلام کی تعلیمات کو سینے سے لگا کر ہی کیا جا سکتا ہے اور ان غیر مہذب روایات کے بارے میں تو کسی نے کیا خوب کہا:
    حسین سانپ کے نقش و نگار خوب سہی….
    نگاہ زہر پہ رکھ خوش نما بدن پر نہ جا….!!!
    جو قومیں طاقتور ہوں وہ اپنی روایات بانٹتی ہیں کسی کی روایات مستعار نہیں لیتی بلکہ اپنی روایات بیچ کر دوسروں کی روایات اپناناتو کمزوری اور بزدلی کی علامت سمجھی جاتی ہے…..ہٹلر نے کہا تھا:”اپنے آپ کو کمزور اور محتاج سمجھنے والی اقوام اپنی سیرت کا خاتمہ کر کے غیر اقوام کے غلبہ کو دعوت دیتی ہیں”.
    اور ایک مسلمان کو تو اپنے ایمان و عمل کی پونجی بچانے کے لئے صرف ایک حدیثِ مبارکہ ہی کافی ہے کہ اگر اسے دل و جاں سے مان لیا جائے تو سبھی غیر اخلاقی اور غیر مناسب روایات خود بخود دم توڑ جائیں……”جس نے کسی قوم سے مشابہت کی وہ اسی قوم میں شمار کیا جائے گا”.(ابوداؤد)
    اسلام میں فقط ایک دن نہیں بلکہ زندگی کا ہر لمحہ ہی محبّت اور سراسر محبّت ہے مگر اس محبّت میں ناجائز اور جھوٹی محبّت کی سرانڈ کا شائبہ تک نہیں کیونکہ اس کے گردا گرد حدود و قیود کا خوبصورت حصار ہے…..!!!
    اللّٰــــہ تعالٰی ہمیں اسلام کا عامل اور داعی بنائے….وباللّٰــــہ تعالٰی علی التوفیق.

  • دیا مرزا ایک بار پھرشادی کرنے کے لئے تیار

    دیا مرزا ایک بار پھرشادی کرنے کے لئے تیار

    بالی ووڈ کی معرو ف اداکارہ دیا مرزا ایک بار پھر شادی کے بندھن میں بندھنے کے لیے تیار ہیں۔

    باغی ٹی وی :بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق معروف اداکارہ دیا مرزا دوسری بار شادی کے بندھن میں بندھنے کے لیے تیار ہیںدیا مرزا ممبئی میں مقیم بزنس مین ویبھوو ریکھی سے شادی کرنے والی ہے جب کہ شادی کی تقریب 15 فروری کو ہوگی جس میں صرف دیا مرزا کے اہل خانہ اور دوست شرکت کریں گے۔

    ویبھوو ریکھی نے اس سے قبل یوگا انسٹرکٹر سنینا ریکھی سے شادی کی تھی اور ان کی ایک بیٹی بھی ہے دوسری جانب ابھی تک دیا مرزا نے اپنی شادی کی افواہوں کی تصدیق یا تردید نہیں کی ہے۔

    واضح رہے کہ دیا مرزا نے 2014 میں بزنس پارٹنر ساحل سانگھا سے شادی کی تھی تاہم گزشتہ سال اداکارہ دیا مرزا نے سوشل میڈیا پر اپنی شادی ختم کرنے کا اعلان کرتے ہوئے لکھا کہ 11 سال تک ساتھ رہنے کے بعد ہم دونوں نے باہمی رضامندی سے الگ ہونے کا فیصلہ کرلیا لیکن ہمارے درمیان دوستی کا رشتہ قائم رہے گا۔

  • اگر کسی کو مذاق پسند نہیں تو یہ اس کا مسئلہ ہے  نعمان اعجاز

    اگر کسی کو مذاق پسند نہیں تو یہ اس کا مسئلہ ہے نعمان اعجاز

    پاکستان شوبز انڈسٹری کے ناموراداکار نعمان اعجاز کا کہنا ہے کہ ہمارے معاشرے میں ایسا کئی بار ہوا ہے کہ کسی تحریک کا غلط مقاصد کے لیے استعمال کیا گیا ہو اس لیے حکومت کو فیصلہ کرنا چاہیے کہ جھوٹا الزام لگانے کی بھی سزا ہونی چاہیے۔

    باغی ٹی وی : حال ہی میں نعمان اعجاز نے انڈیپینڈنٹ اردو سے بات کرتے ہوئے جنسی ہراسانی کے موضوع پر مبنی اپنے ڈرامے ’’ڈنک‘‘ اور ڈراما سیریل ’’رقیب سے‘‘ کے بارے میں بات کی۔ اس ڈرامے میں نعمان اعجاز کو ایک شادہ شدہ مرد دکھایا گیا ہے اور ان کی محبوبہ (حدیقہ کیانی) اپنی بیٹی کے ساتھ ان کے گھر میں رہنے آجاتی ہے۔

    نعمان اعجاز کے ڈرامے ’’ڈنک‘‘ کی کہانی کالج کے ایک پروفیسر کے گرد گھومتی ہے جس پر اس کی طالبہ جنسی ہراساں کرنے کا جھوٹا الزام لگاتی ہے۔ پروفیسر یہ الزام برداشت نہیں کرپاتا اور خودکشی کرلیتا ہے۔ نعمان اعجاز نے ڈرامے میں پروفیسر کردار نبھایا ہے۔ تاہم ان پر اس کردار کو کرنے کے لیے تنقید بھی کی گئی۔

    اس بارے میں نعمان اعجاز کا کہنا تھا کہ نکتہ چینی ان پر نہیں بلکہ اس کردار یا موضوع پر کرنی چاہیے تھی۔ تاہم یہ ایک سچا واقعہ ہے، جہاں سے اس کا مرکزی خیال مستعار لیا گیا۔ یہ واقعہ پنجاب میں ہوا تھا اور پروفیسر پر جھوٹا الزام لگا تھا۔ الزام لگانے والے یہ نہیں دیکھتے کہ الزام کا اثر اس شخص اور اس کے خاندان پر کیسے پڑے گا، پروفیسر کا کردار الزام نہیں سہہ سکا اور اس نے خود کُشی کرلی۔

    انہوں نے کہا کہ اس ڈرامے کے ذریعے ’می ٹو‘ تحریک کو سبوتاژ کرنے کی کوئی کوشش نہیں کی گئی بلکہ وہ خود اس کے حق میں ہیں کیونکہ کسی مرد یا عورت کو حق نہیں کہ وہ کسی کو بھی ہراساں کرے، اس کی سزا ہونی چاہیے۔

    نعمان اعجاز نے واضح کیا کہ اس کا بنیادی نکتہ یہ ہے کہ کوئی اس موومنٹ کو غلط استعمال تو نہیں کررہا؟ اسی لیے کسی کو سزا دینے سے پہلے تحقیق اور تصدیق کرلی جائے تو بہتر ہے۔ ہمارے معاشرے میں ایسا کئی بار ہوا ہے کہ کسی تحریک کا غلط مقاصد کے لیے استعمال کیا گیا ہو اس لیے حکومت کو فیصلہ کرنا چاہیے کہ جھوٹا الزام لگانے کی بھی سزا ہونی چاہیے۔

    اپنے کردار پروفیسر ہمایوں کے خودکشی کرنے پر ان کا کہنا تھا کہ یہ تو پھر بھی سات ہفتے بعد ہوا، لوگوں نے تو سات دنوں میں خودکشی کرلی، البتہ اب ان کا کردار اس ڈرامے سے ختم ہوگیا ہے، اس پر وہ اپنے مداحوں کا شکریہ ادا کرتے ہیں کہ ان کا کام پسند کیا گیا۔

    عفت عمر کے انٹرویو سے اٹھنے والے تنازعے پر ان کا کہنا تھا کہ وہ اس معاملے میں صرف اللہ اور اپنی اہلیہ کو جواب دہ ہیں اور وہ اس بارے میں کوئی وضاحت دینے کی ضرورت محسوس نہیں کرتے۔

    انہوں نے کہا کہ یہ پروگرام 18 ماہ پہلے ریکارڈ ہوا تھا اور ان کی مزاح سے پُر اور کچھ طنزیہ گفتگو کی عادت ہے، اگر کسی کو ان کا مذاق پسند نہیں تو یہ اس کا مسئلہ ہے۔

    اپنے بیٹے زاویار کے اداکاری شروع کرنے کے سوال پر ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے اپنے بچوں کو کبھی اس کام میں نہیں آنے دیا کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ پہلے انہیں اپنی تعلیم مکمل کرنی چاہیے

    جب زاویار نے مجھ سے اس کا اظہار کیا تو میں نے انہیں وزن کم کرنے کا مشورہ دیا، جس کے بعد انہوں نے چھ ماہ کے دوران 22 کلو وزن کم کیا۔

    انہوں نے تھیٹر کی تربیت کینیڈا سے حاصل کی ہے، تو میں نے کہہ رکھا ہے کہ آڈیشن لیا جائے اور اگر وہ ٹھیک ہو تو پھر دیکھا جائے۔

    پاکستان میں سوشل میڈیا پر بڑھتی ہوئی نکتہ چینی پر نعمان اعجاز کا کہنا تھا کہ پاکستان میں حقیقی معنوں میں بلاگرز نہ ہونے کے برابر ہیں، باقی تو فصلی ہیں جو مختلف وجوہات کی بنا پر اس کام میں گھسے ہوئے ہیں۔

    نعمان اعجاز کے بڑے بیٹے اداکاری کے میدان میں قدم رکھنے کو تیار

  • دلیپ کماراپنا آبائی گھر پشاور کے لوگوں کو تحفہ دینا چاہتے تھے ،بھتیجے فواد اسحاق کا دعویٰ

    دلیپ کماراپنا آبائی گھر پشاور کے لوگوں کو تحفہ دینا چاہتے تھے ،بھتیجے فواد اسحاق کا دعویٰ

    بالی وڈ کے لیجنڈ اداکار دلیپ کمار کے پاکستان میں موجود بھتیجے فواد اسحاق کا کہنا ہے کہ دلیپ کمار کی پشاور اور وہاں کے لوگوں کے لیے محبت دہائیاں گزرنے کے بعد بھی ختم نہیں ہوئی ہے۔

    باغی ٹی وی : انڈسٹریلسٹ اور سرحد چیمبر آف کامرس کے سابق سربراہ فواد اسحاق نے پریس ٹرسٹ آف انڈیا سے بات کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ ان کے نام پر دلیپ کمار کے پشاور میں موجود آبائی گھر کا مناسب اور قانونی اختیار نامہ (پاور آف اٹارنی) ہے۔

    انہوں نے مزید کہا کہ دلیپ کمار نے 2012 میں اپنی جائیداد کی پاور آف اٹارنی کا مناسب مسودہ تیار کروایا تھا انہوں نے یہ بھی بتایا کہ ان کے چچا دلیپ کمار کے دل میں پشاور کے لوگوں کے لیے بہت احترام ہے اور وہ اپنا آبائی گھر پشاور کے لوگوں کو تحفہ دینا چاہتے تھے۔ دلیپ کمار کی پشاور اور وہاں کے لوگوں کے لیے محبت دہائیاں گزرنے کے بعد بھی ختم نہیں ہوئی ہے۔

    دلیپ کمار کے بھتیجے کا یہ بیان اس وقت سامنے آیا ہے جب خیبرپختونخوا حکومت اور پشاور میں دلیپ کمار کے گھر کے موجودہ مالک کو مکان کی قیمت کے معاملے پر کسی تصفیہ تک پہنچنے کے لیے کہا گیا ہے تاکہ مکان کو میوزیم میں تبدیل کرنے کا اگلا قدم اٹھایا جاسکے۔

    واضح رہے کہ اس سے قبل دلیپ کمار کے ترجمان فیصل فاروقی نے کہا تھا کہ پشاور میں جنوبی ایشیا کے بڑے فنکاروں دلیپ کمار، کپور فیملی، شاہ رخ خان اور دیگر کے آبائی گھروں کی اہمیت کو پوری دنیا میں تسلیم کیا جاتا ہے۔

    ان فنکاروں کے آبائی گھروں کو محفوظ بنانے سے پشاور کی اہمیت میں اضافہ ہو گا اور ملک میں سیاحت کی صنعت کو بھی استحکام ملے گا۔

    پشاور میں دلیپ کمار اور کپور خاندان کے گھروں کے موجودہ مالکان اور حکومت پاکستان کو چاہیے کہ وہ مل کر باہمی اتفاق سے قیمتوں کا تعین کریں تاکہ میوزیم قائم کرنے کا منصوبہ جلد از جلد پایہ تکمیل تک پہنچ سکے۔

    پشاور دلیپ کمار کے دل میں بستا ہے ترجمان فیصل فاروقی

    دلیپ کمار کے آبائی مکان کی خرید وفروخت کا معاملہ کھٹائی میں پڑ گیا

  • اداکارہ اقرا عزیز ٹوئٹر پر ٹاپ ٹرینڈ کیوں؟

    اداکارہ اقرا عزیز ٹوئٹر پر ٹاپ ٹرینڈ کیوں؟

    پاکستان ڈرامہ انڈسٹری کی معروف اداکارہ اقرا عزیز کا نام سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر کے ٹرینڈنگ پینل پر ٹاپ پر ٹرینڈ کر رہا ہے۔

    باغی ٹی وی : گزشتہ روز نجی ٹی وی چینل جیو انٹرٹینمنٹ کے ڈرامہ سیریل ‘خدا اور محبت 3’ کی پہلی قسط نشر کی گئی تھی ‘خدا اور محبت 3’ کی پہلی قسط نے نشر ہونے کے بعد ریکارڈ کامیابی حاصل کر لی ہے جسے صرف چند ہی گھنٹوں میں 31 لاکھ سے زائد بار دیکھا جا چکا ہے۔

    ڈرامے کی پہلی قسط ریلیز ہونے کے بعد ٹوئٹر پر ڈرامے کا نام اور اداکارہ اقراء عزیز کا نام ٹرینڈ کرنے لگا اور صارفین کی جانب سے ڈرامے میں ان کی اداکاری کو خوب سراہا جا رہا ہے۔
    https://twitter.com/Fatemamazhar2/status/1360272348482596864?s=20
    اس ٹرینڈ میں حصہ لیتے ہوئے فاطمہ مظہر نامی صارف کا کہنا ہے کہ ‘مجھے اداکارہ اقراء عزیز اور فیروز خان کی اداکاری کے ساتھ ساتھ خدا اور محبت 3 کی پوری ٹیم بہت پسند ہے-


    https://twitter.com/JawedAmal/status/1360266562993856518?s=20


    https://twitter.com/theobsessedbear/status/1360520619088052226?s=20

    خیال رہے کہ ‘خدا اور محبت’ کے سیزن 3 کو سیونتھ اسکائی کے نامور پروڈیوسرز عبداللہ کادوانی اور اسد قریشی نے پروڈیوس کیا ہے جبکہ ڈرامے کی کہانی مصنف ہاشم ندیم نے لکھی ہے اور ہدایات سید وجاہت حسین نے دی ہے۔

  • گزشتہ 4 سالوں سے انڈسٹری میں معاوضے سے متعلق مسائل ناقابل برداشت ہو گئے ہیں    نوین وقار

    گزشتہ 4 سالوں سے انڈسٹری میں معاوضے سے متعلق مسائل ناقابل برداشت ہو گئے ہیں نوین وقار

    پاکستان ٹی وی انڈسٹری کی معروف اداکارہ نوین وقار کا کہنا ہے کہ گزشتہ 4 سالوں سے انڈسٹری میں معاوضے سے متعلق مسائل ناقابل برداشت ہو گئے ہیں-

    باغی ٹی وی :اداکارہ نوین وقار نے گزشتہ دنوں ایک ویب شوکو انٹر ویو دیا جس میں انہوں نے بتایا کہ جب سے میں اس انڈسٹری میں کام کر رہی ہوں پہلے معاوضے سے متعلق مسائل اتنے نہیں تھے لیکن گزشتہ 4 سالوں سے یہ ناقابل برداشت ہو گیا ہے 2 سال پہلے مجھے کہا گیا کہ تمام اداکاراؤں کے معاوضے میں سے 35 فیصد کٹوتی ہوگی۔

    انہوں نے کہا کہ آپ کو اس کا اندازہ بھی نہیں ہے کہ ہم کن حالات میں کام کرتے ہیں اور اس پر بھی ہم اتنی محنت کرتے ہیں، آپ ہمیں ہمارے محنت کے پیسے ہی وقت پر دے دیں۔

    نوین وقار کا کہنا تھا کہ میں خود ایسی پوزیشن پر ہوں جہاں مجھے لوگوں سے اپنے ہی پیسے مانگنے کے لیے ان کے پیچھے پڑنا پڑتا ہے، ابھی حال ہی میں مجھے ایک کال آئی کہ آپ اپنے پیسے لے جائیں جو مجھے ڈیڑھ سال پہلے ملنے تھے، میں تو اس کے بارے میں بھول چکی تھی۔

    اداکارہ نے کہا کہ جب آپ کام کررہے ہوتے ہیں اور آپ محنت کرتے ہیں تو وہ آپ کی محنت کی کمائی ہوتی ہے اور آپ اپنی محنت کی کمائی کے لیے بھیگ مانگنا پسند نہیں کریں گے۔

  • کوئی میرا انسٹاگرام اکاؤنٹ ہیک کرنے کی کوشش کررہا ہے     عدنان صدیقی

    کوئی میرا انسٹاگرام اکاؤنٹ ہیک کرنے کی کوشش کررہا ہے عدنان صدیقی

    پاکستان شوبزانڈسٹری کے معروف اداکار عدنان صدیقی کا کہنا ہے کہ کوئی اُن کا انسٹاگرام اکاؤنٹ ہیک کرنے کی کوشش کررہا ہے۔

    باغی ٹی وی:اس حوالے سے عدنان صدیقی نے اپنے تصدیق شدہ انسٹاگرام اکاؤنٹ پر ایک خصوصی پوسٹ شیئر کی جس میں اُنہوں نے اپنے نام سے منسوب ایک جعلی انسٹا اکاؤنٹ کا اسکرین شاٹ شیئر کیا۔

    عدنان صدیقی نے اسکرین شاٹ شیئر کرتے ہوئے کہا کہ کوئی میرا انسٹاگرام اکاؤنٹ ہیک کرنے کی کوشش کررہا ہے اور میرے تمام دوستوں کو اس جعلی اکاؤنٹ سے فرینڈ ریکوئسٹ بھی بھیج رہا ہے۔

    اداکار نے کہا کہ میں یہاں یہ بات واضح کرنا چاہتا ہوں کہ میرا صرف ایک ہی اصل اکاؤنٹ ہے، باقی میرے نام سے منسوب تمام انسٹاگرام اکاؤنٹس جعلی ہیں۔

    آخر میں اُنہوں نے اپنے تمام دوستوں اور مداحوں سے اُن کے نام سے منسوب اُس جعلی انسٹاگرام اکاؤنٹ کو جلد از جلد رپورٹ کرنے کی اپیل بھی کی۔

    خیال رہے کہ اس سے قبل بھی کئی پاکستانی فنکاروں کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس ہیک ہوچکے ہیں جن میں نعمان اعجاز اور ماڈل فریحہ الطاف شامل ہیں۔