Baaghi TV

Author: Ayesha Rehmani

  • 3 دسمبر تک موصول ہونے والی تمام حج درخواستیں قبول،قرعہ اندازی نہیں ہوگی

    3 دسمبر تک موصول ہونے والی تمام حج درخواستیں قبول،قرعہ اندازی نہیں ہوگی

    اسلام آباد: وفاقی حکومت نے سرکاری حج اسکیم کے لیے درخواست جمع کروانے والے تمام امیدواروں کو کامیاب قرار دے دیا۔

    باغی ٹی وی: تفصیلات کے مطابق سپانسر شپ سکیم میں3 دسمبر تک موصول ہونے والی تمام حج درخواستیں کامیاب قرار دے دی گئی، سرکاری حج کے لیے اب قرعہ اندازی نہیں ہوگی سرکاری اسکیم کے لیے حج درخواستین جمع کرانے کی آج آخری تاریخ ہے تاحال سرکاری اسکیم کے لیے 63400 سے زائد افراد نے درخواستیں جمع کرائی ہیں، سرکاری حج کے لیے 89ہزار 605 کا کوٹہ رکھا گیا تھا جس میں سے تقریباً 26 ہزار افراد نے درخواستیں جمع نہیں کروائیں۔

    درخواستوں کا مرحملہ مکمل ہونے کے فوراً بعد حج پروازوں کے شیڈول کو حتمی شکل دی جائے گی اور پروازوں کے شیڈول کے مطابق مدینہ منورہ میں رہائش حاصل کی جائیں گی، سعودی عرب میں رہائش، خوراک اور ٹرانسپورٹ اور مکاتب کی پروکیورمنٹ مکمل کی جائے گی۔

    اس کے علاوہ عازمینِ حج کی درخواست پر حج داخلہ میں مشکلات کے باعث 7 دن کی توسیع بھی کردی گئی ہے، جس کے بعد حج درخواستوں کی وصولی 10 دسمبر تک ہو سکے گی۔

    چوہدری سالک کا کہنا ہے کہ کوٹہ سے زائد درخواستیں موصول ہونے کی صورت میں قرعہ اندازی کی جائے گی، سمندر پار پاکستانی 10 دسمبر تک سپانسر شپ کی رقم لازمی جمع کروا دیں، سپانسر شپ سکیم میں موصول درخواست گزاروں کو بلا قرعہ اندازی کامیاب قرار دیا جائے گا،عازمینِ حج نئی ہدایات کے لیے پاک حج موبائل ایپ ضرور ڈاون لوڈ کر لیں۔

    واضح رہے کہ سرکاری حج اسکیم کے لیے قرعہ اندازی 6دسمبر کو ہونا تھی۔

  • لاپتہ افراد کا معاملہ بیان بازی سے حل نہیں ہوگا،جسٹس جمال مندوخیل

    لاپتہ افراد کا معاملہ بیان بازی سے حل نہیں ہوگا،جسٹس جمال مندوخیل

    اسلام آباد: سپریم کورٹ کے آئینی بینچ نے لاپتہ افراد کیس میں اٹارنی جنرل، وزارت داخلہ و دیگر فریقین کو نوٹس جاری کردیئے-

    باغی ٹی وی : جسٹس امین الدین کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 6 رکنی آئینی بینچ نے لاپتہ افراد سے متعلق کیس کی سماعت کی، آئینی بینچ نے لاپتہ افراد کیس میں اٹارنی جنرل، وزارت داخلہ و دیگر فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے تمام متعلقہ اداروں سے رپورٹس طلب کر لیں۔

    دوران سماعت جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ میری نظر میں لاپتہ افراد کا کیس انتہائی اہم ہے، لاپتہ افراد کے کیسز ہائیکورٹس اور سپر یم کورٹ میں چل رہے ہیں،لوگوں کی زندگیاں ہیں ہزاروں لوگ لاپتہ ہے، یہاں اعتزاز احسن لطیف کھوسہ جیسے سیاستدان کھڑے ہیں، اس مسئلہ کا حل پارلیمنٹ نے نکالنا ہے۔

    ڈپٹی اٹارنی جنرل جاوید اقبال وینس نے دلائل میں کہا کہ کابینہ میں لاپتہ افراد کا معاملہ گزشتہ روز ڈسکس ہوا ہے، کابینہ نے سب ذیلی کمیٹی بنا دی ہے جو اپنی سفارشات کابینہ کو پیش کرے گی، حکومت لاپتا افراد کا معاملہ حتمی طور پر حل کرنا چاہتی ہے۔

    جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ لاپتہ افراد کا معاملہ بیان بازی سے حل نہیں ہوگا جسٹس محمد علی مظہر نے سوال کیا کہ لاپتہ افراد کمیشن نے اب تک کتنی ریکوریاں کی ہیں؟ جسٹس حسن اظہر رضوری نے کہا کہ کیا کوئی لاپتا افراد کمیشن کے پاس ڈیٹا ہے کس نے افراد کو لاپتہ کیا، جو لاپتہ لوگ واپس آئے کیا انہوں نے بتایا کون اٹھا کر لے کر گیا؟-

    جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ لاپتہ افراد واپس آنے پر کچھ نہیں بتاتے، لاپتہ افراد واپس آنے پر کہتے ہیں شمالی علاقہ جات میں آرام کے لیے گئے تھے،ایڈووکیٹ لطیف کھوسہ نے کہا کہ ملک ڈیپ اسٹیٹ بن گیا ہے جس پر جسٹس جمال مندوخیل نے ایڈووکیٹ لطیف کھوسہ کو بات کرنے سے روک دیا۔

    جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ کھوسہ صاحب عدالت میں سیاسی بات نہ کریں، پارلیمنٹ کا عام یا مشترکہ اجلاس بلا کر مسئلے کو حل کریں،ایڈووکیٹ لطیف کھوسہ نے کہا کہ کیا لاپتہ افراد کے معاملے کو 26ویں ترمیم کی طرح حل کیا جائے، جس پر جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ 26 ویں آئینی ترمیم بھی اپنے وقت پر دیکھی جائے گی، لطیف کھوسہ نے کہا کہ لاپتہ افراد سے بلوچستان سب سے زیادہ متاثرہ ہے۔

    جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ قوم اور عدالت آپ پارلیمنٹرین کی طرف دیکھ رہی ہے وکیل اعتزاز احسن نے کہا کہ پارلیمنٹ کے پاس عدالتی اختیارات نہیں ہیں، جسٹس مسرت ہلالی نےکہا کہ کھوسہ صاحب آپ کےتحریک انصاف کے لوگ بھی اٹھائے گئےلطیف کھوسہ نے کہا کہ جی بالکل تحریک انصاف کے لوگوں کو بھی اٹھایا گیاجسٹس مسرت ہلالی نے سوال کیا کہ کیا انہوں نے آکر بتایا کہ انہیں کون اٹھا کر لے کر گیا؟ لطیف کھوسہ نے بتایا کہ جو اٹھائے گئے ان کے بچوں کو بھی اٹھا لیا جائے گا۔

    وکیل فیصل صدیقی نے دلائل میں کہا کہ لوگوں کے دس، بیس سال سے پیارے لاپتا ہیں، عدالت نے گزشتہ سماعت لاپتا کے حوالے سے حکم دیا تھا اور آج وہ گزشتہ سماعت کا آرڈر بینچ کو نہیں مل رہا جسٹس حسن اظہر رضوی نے کہا کہ لاپتا افراد کے کیس میں عدا لت کا آرڈر بھی مسنگ ہوگیا۔

    جسٹس نعیم افغان نے کہا کہ بلوچستان میں لاپتا افراد کے ایک کلاسک مقدمہ میں 25 وکیل پیش ہوئے، بلوچستان ہائیکورٹ کے حکم پر لاپتا افراد گھر آگئے عدالت نے واپس آنے والے افراد کو پیش ہونے کا حکم دیا لیکن بازیابی کے بعد وہ افراد کسی عدالتی فورم پر بیان کے لیے پیش نہیں ہوئے۔

    جسٹس نعیم افغان نے ریمارکس دیئے کہ بازیاب افراد کے بیان ریکارڈ کرنے کا ایک مقصد تھا اور مقصد یہ تھا اگر آرمی سے کوئی ملوث ہے تو کورٹ مارشل کے لیے جی ایچ کیو کو لکھا جائے، اگر دیگر ادارے ملوث ہیں تو ان کے ذمہ داران کے خلاف کارروائی کا حکم دیا جائے، لاپتا افراد کے کسی مقدمے کو مثال بنانا ہے تو اپنے اندر جرات پیدا کریں، لاپتا افراد سے واپس آنے والوں میں کوئی تو کھڑا ہو۔

    آئینی بینچ کے جسٹس نعیم افغان نے کہا کہ لاپتا افراد کے کچھ کیسز میں افراد ریاست کو برباد اور بدنام بھی کرتے ہیں، لاپتا افراد کے نام پر آزادی کی جنگ بھی چل رہی ہے، سسٹم میں کوئی کھڑا ہونے کو تیار نہیں۔

    فیصل صدیقی نے کہا کہ اٹارنی جنرل کی یقین دہانی کے بعد 350 افراد لاپتا ہوگئے، اسٹیٹ آفیشل گزشتہ عدالتی احکامات کی نافرمانی کر رہے ہیں، اعتزاز احسن نے کہا کہ اٹارنی جنرل نے یقین دہانی کرائی کہ کوئی شہری لاپتا نہیں ہوگا، جسٹس امین الدین خان نے ریمارکس دیے کہ ہم لاپتا افراد کیس میں حل کی طرف جانا چاہتے ہیں۔

    جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ لاپتا افراد کا حل یہ ہے اسٹیک ہولڈرز سر جوڑ کے بیٹھیں، غور کریں کہ لاپتا افراد کا مسئلہ کیوں پیدا ہوتا ہے، پارلیمنٹ کو عدالت نے سپریم تسلیم کیا ہے لہٰذا پارلیمنٹ خود کو سپریم ثابت کرے،اعتزاز احسن نے کہا کہ جو لاپتا افراد اینکر کے گھروں سے برآمد ہوئے ان کو بلایا جائے جسٹس امین الدین نے کہا کہ ہم انہیں بھی بلائیں گے، جسٹس مسرت ہلالی نے کہا کہ آپ اپنے آپ کو مضبوط کریں تو کون اٹھائے گا۔

    لطیف کھوسہ نے کہا کہ جو لاپتا ہوا اس سے پوچھیں کتنا تشدد ہوا، جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ کھوسہ صاحب آپ سے ریکارڈ کے مطابق پوچھیں گے، آپ سے پوچھیں گے آپ نے لاپتا افراد کی بازیابی کے لیے پارلیمنٹ میں کتنی تقرریں کیں، سپریم کورٹ کے آئینی بینچ نے لاپتہ افراد کیس کی سماعت آئندہ ہفتہ تک ملتوی کردی۔

  • عمران خان نے کہا میرے پاس اب بھی ایک آخری پتّہ ہے، ابھی استعمال نہیں ہوگا،علیمہ خان

    عمران خان نے کہا میرے پاس اب بھی ایک آخری پتّہ ہے، ابھی استعمال نہیں ہوگا،علیمہ خان

    راولپنڈی:پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی چیئرمین عمران خان نے کہا ہے کہ ان کے پاس اب بھی ایک آخری پتہ موجود ہے لیکن وہ اس کے بارے میں کسی کو نہیں بتائیں گے۔

    باغی ٹی وی : عمران خان کی بہنوں علیمہ خان، عظمی خان اور نورین خان نے بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کی،ملاقات کے بعد علیمہ خان نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ عمران خان 24 نومبر کے بعد واقعات سے اس وقت تک بے خبر تھے جب تک پیر کے روز وکلا اور صحافیوں سے ان کی اڈیالہ جیل میں ملاقات نہیں ہوئی۔

    علیمہ خان کے مطابق عمران خان کو چالیس پچاس گھنٹے کے لیے بند کردیا گیا جبکہ اخبارات اور پی ٹی وی کی رسائی بھی روک دی گئی تھی، انہوں نے جب عمران خان کو جب واقعات کے بارے میں بتایا توہ وہ کافی شاک میں تھے اور بار بار پوچھ رہے تھے یہ کیا کہہ رہے ہو۔

    علیمہ خان کے مطابق عمران خان نے ہدایت کی کہ اسپتالوں میں جا کر زخمیوں اور شہید ہونے والوں کو پتہ کیا جائے لیکن ہم نے بتایا کہ جب کوئی اسپتال جاتا ہے تو اسے اٹھا لیا جاتا ہے عمران خان نے کہاکہ سب سے پہلے ایف آئی آر محسن نقوی اور شہباز شریف کے خلاف درج کرائی جائے آپ نے اکبر بگٹی کے ساتھ جو کیا آپ کا خیال ہے کہ بندے کو ختم کر دیں اس کے بعد چین آجائے گا، آج تک بلوچستان میں اس چیز کو بھولا نہیں کیا گیا،ایک لاسٹ کارڈ ہے جو میرے پاس ہے جو کسی کو نہ بتاؤں گا نہ پتہ چلے گا، لیکن وہ میرے پاس ہے لیکن ابھی استعمال نہیں ہوگا۔ لیکن اس وقت جیسے سسٹم کہتا ہے ہم عدالتوں میں جائیں گے۔‘

    علیمہ خان نے بشریٰ بی بی سے متعلق سوالات کے جواب دیئے۔ انہوں نے بالخصوص اپنی اس ٹوئیٹ کے حوالے سے بات کی جس میں علیمہ خان نے بشریٰ بی بی کے کنٹینر کی روشنی بند کرنے پر سوال اٹھایا تھا،میں نے کہا کہ کنٹینر کا جنریٹر خراب ہے اس لیے لوگوں کو کال دیں کہ آپ پیچھے چلے جائیں تاکہ لوگوں پر جو ظلم ہورہا تھا ان کی جانیں بچائی جا سکے۔

    علیمہ خان نے کہا کہ اسلام آباد میں ڈی چوک پر بشریٰ بی بی نے احتجاجی شرکا کو لیڈ کیا اور سب کو ساتھ لے کر گئی ہیں، لیکن باقی قیادت کو بھی کنٹینر پر موجود ہونا چاہیے تھا، جب گولیاں چل رہی تھیں تو کنٹینرپر کھڑا کر کے انہیں بھی مارنا تھا کیا؟ کنٹینر پر کھڑا کرکے سب کو مروانا تھا-

  • احتجاج کا جو ماسٹر مائنڈ جیل میں بیٹھا ہے اس سے قید نہیں کاٹی جارہی،مریم نواز

    احتجاج کا جو ماسٹر مائنڈ جیل میں بیٹھا ہے اس سے قید نہیں کاٹی جارہی،مریم نواز

    لاہور:وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے کہا ہے کہ احتجاج کا حق ضرور ہے مگر کوئی احتجاج کے لیے ہتھیاروں سے لیس ہوکر نہیں آتا بیٹھ کر بات کرتا ہے۔

    باغی ٹی وی : لاہور میں ’’ستھرا پنجاب‘‘ کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ شہباز شریف کے جانے کے چار سال بعد مجھے جو پنجاب ملا اس میں تمام وہ سڑکیں ٹوٹی ہوئی تھیں جو شہباز شریف بناکر گئے تھے، صفائی کا نظام بھی نہیں تھا، مفت دوا ئیں بند ہوچکی تھیں اسپتالوں کا برا حال تھا، میٹرو بس کا ٹریک بھی ٹوٹ پھوٹ کا شکار تھا اگر شہباز شریف کی حکومت چلتی رہتی تو پنجاب آج نجانے کہاں ہوتا۔

    انہوں ںے کہا کہ ہم کچرا اٹھانے کا نظام متعارف کرارہے ہیں کچرا آپ کے گھر سے اٹھایا جائے گا اور گاربیج تک پہنچایا جائے گا، یہ نظام شہروں اور دیہات میں متعارف کرایا جارہا ہے یہ صرف حکومت کا کام نہیں ہر شخص کی ذمہ داری ہے،اس پروگرام کے تحت پنجاب میں ایک ہفتے کے اندر ایک لاکھ نئی نوکریاں سامنے آئیں گی، سڑکیں دھوئی جائیں گی، کچرا لینڈ فل سائٹ پہنچایا جائے گا، صفا ئی کے نئی آلات خرید لیے۔

    انہوں ںے کہا کہ کوڑا صاف کرنے سے زیادہ ضروری ہے کہ سیاسی گند صاف کیا جائے، بار بار کال دی گئی کہ باہر نکلو، ماردو، جلادو، توڑ دو لیکن انہیں ہر بار منہ کی کھانی پڑی اور پنجاب میں ان کی کال پر ایک بندہ نہیں نکلا، میں نے کسی بھی شہر میں دو درجن سے زیادہ لوگ نکلتے نہیں دیکھے، سلمان اکرم راجا نے کہا کہ میں لاہور کی سڑکوں پر پھر رہا ہوں یہاں لوگوں کو جمع ہونے نہیں دیا جارہا، لوگ جب اکٹھے ہوکر آتے ہیں تو انہیں روکنا کسی کے بس میں نہیں ہوتا مگر جب کوئی نکلا ہی نہیں تو نظر کیسے آئے گا؟-

    انہوں نے کہا کہ آج یہ بات سننے کو ملتی ہے کہ ہم نے انہیں جلسے جلوسوں کی اجازت دی مگر ن لیگ ہمیں نہیں دے رہی، ہم نے برسوں تک جلسے جلوس کیے مگر کوئی بتادے ہم نے کبھی کوئی گملا بھی توڑا ہو، مریم نواز نے کوئی شیشہ توڑا، کہیں آگ لگائی کوئی بتادے، احتجاج منع نہیں ہے وائلنس منع ہے سی ایم ایچ گئی تو درجنوں پولیس اور رینجرز کے جوانوں کو زخمی دیکھا، ان کی ہڈیاں ٹوٹی ہوئی تھیں انہیں آپ عوامی احتجاج کہتے ہیں؟ احتجاج کا جو ماسٹر مائنڈ جیل میں بیٹھا ہے اس سے قید نہیں کاٹی جارہی، ہم نے جیلیں کاٹیں مگر کبھی کسی نے سنا کہ احتجاج کی کال دی ہو کہ جلادو مارو شہر بند کردو نہ نواز شریف نے ایسی بات کی۔

    مریم نواز نے کہا کہ کوئی مجھے ان کا ایک دھرنا دکھادے جو 2014 سے اب تک عوامی احتجاج ہو، انہوں ںے غیر ملکیوں کو ہائر کرکے انہیں ٹاسک دیا ہے اور ہتھیار دے کر کہا ہے کہ ملک میں آگ لگانی ہے، فی دہشت گرد انہوں ںے پچاس پچاس ہزار روپے دیے ہیں، کے پی کے عوام کا پیسہ دہشت گردی میں چلاگیاانہوں ںے دعویٰ کیا کہ ان کا ہزار بندہ مارا گیا اتنے بندے مریں اور کسی کو پتا نہ چلے؟ پھر یہ پانچ سو پر آگئے، بشریٰ بی بی کی فرار ہوتی ہوئی ویڈیو سامنے آگئی ان لاشوں کی کہاں ہے؟-

  • بنگلادیش کو  شکست ،پاکستان نے پہلی بار بلائنڈ ٹی 20 ورلڈ کپ  کا ٹائٹل اپنے نام کر لیا

    بنگلادیش کو شکست ،پاکستان نے پہلی بار بلائنڈ ٹی 20 ورلڈ کپ کا ٹائٹل اپنے نام کر لیا

    ملتان: بلائنڈ ٹی 20 ورلڈ کپ کے فائنل میچ میں قومی ٹیم نے بنگلادیش کو 10 وکٹوں سے شکست دے کر پہلی بار ٹائٹل اپنے نام کر لیا-

    باغی ٹی وی : ملتان میں چوتھے بلائنڈ ٹی20 ورلڈکپ کا فائنل کھیلا گیا جس میں بنگلہ دیش کی ٹیم نے پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے مقررہ 20 اووز میں 7 وکٹ کے نقصان پر 139 رنز بنائے اور قومی ٹیم کو جیت کے لیے 140 رنز کا ہدف دیاپاکستان بلائنڈ کرکٹ ٹیم نے 140 رنز کا ہدف بغیر کسی نقصان کے 10.2 اوورز میں ہی پورا کرکے چوتھا بلائنڈ ٹی20 ورلڈ کپ اپنے نام کرلیا۔

    بنگلہ دیش بلائنڈ کرکٹ ٹیم کی جانب سے عارف حسین 54 رنز بناکر نمایاں رہے، ایم ڈی سلمان 31، عاشق الرحمان 22 رنز بنانے میں کامیاب رہے جب کہ دیگر کوئی بھی کھلاڑی ڈبل فیگر میں داخل نہ ہوسکا،پاکستان بلائنڈ کرکٹ ٹیم کی جانب سے بابر علی نے 2، محمد سلمان، مطیع اللہ نے ایک ایک وکٹ حاصل کی۔

    140 رنز کے ہدف کے تعاقب میں قومی ٹیم کی جانب سے محمد صفدر اور نثار علی نے اننگز کا آغاز کیا اور بغیر کوئی وکٹ گنوائے 10.2 اوورز میں مطلوبہ ہدف حاصل کرکے قومی ٹیم کو چیمپئن بنوادیا۔

    چوتھے بلائنڈ ٹی20 ورلڈکپ کے پہلے سیمی فائنل میں پاکستان نے نیپال کو 10 وکٹوں سے شکست دی تھی جب کہ دوسرے سیمی فائنل میں بنگلہ دیش نے سری لنکا کے خلاف 6 رنز سے فتح حاصل کی تھی۔

    واضح رہے کہ پاکستان نے پہلی بار بلائنڈ ٹی20 ورلڈ کپ کا ٹائٹل اپنے نام کیا ہے اور قومی ٹیم پورے ورلڈکپ میں ناقابل شکست رہی، اس سے قبل کھیلے گئے تینوں ٹی20 ورلڈکپ بھارت نے جیتے تھے۔

  • توشہ خانہ 2 کیس: بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی  پر آج بھی فرد جرم عائد نہیں ہوسکی

    توشہ خانہ 2 کیس: بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی پر آج بھی فرد جرم عائد نہیں ہوسکی

    راولپنڈی: توشہ خانہ 2 کیس میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی چیئرمین عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی پر آج بھی فرد جرم عائد نہیں ہوسکی۔

    باغی ٹی وی : اڈیالہ جیل راولپنڈی میں اسپیشل جج سینٹرل شاہ رخ ارجمند نے عمران خان اور بشریٰ بی بی کے خلاف توشہ خانہ ٹو کیس کی سماعت کی، پی ٹی آئی کے وکیل سلمان صفدر جبکہ اسپیشل پبلک پراسیکیوٹر ذوالفقار عباس نقوی عدالت پیش ہوئے جبکہ بشریٰ بی بی آج بھی عدالت پیش نہ ہوئیں۔

    وکیل سلمان صفدر نے مؤقف اپنایا کہ ملزمہ نئے درج ہونے والے مقدمات کی ضمانت حاصل کرنے کے لیے پشاور ہائیکورٹ گئی ہیں، ملزمہ نے پشاور میں عدالت کے سامنے سرنڈر کر دیا ہے، عدالت مقدمہ کی سماعت پیر تک ملتوی کر دے یقین دہانی کراتے ہیں ملزمہ عدالت پیش ہو جائے گی۔

    اسپیشل پبلک پراسیکیوٹر ذولفقار عباس نقوی نے وکیل صفائی کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ ملزمہ جان بوجھ کر عدالت پیش نہیں ہو رہی، ملزمہ کے بلا ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کیے جائیں،بعدازاں عدالت نے عدالت نے بانی پی ٹی آئی عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کے خلاف توشہ خانہ ٹو کیس کی سماعت 5 دسمبر جمعرات تک ملتوی کر دی۔

  • برطانیہ : منشیات کی  سب سے بڑی کارروائی، 7 بلین پاؤنڈ تک منشیات اسمگل کرنے والا گروہ گرفتار

    برطانیہ : منشیات کی سب سے بڑی کارروائی، 7 بلین پاؤنڈ تک منشیات اسمگل کرنے والا گروہ گرفتار

    لندن: برطانیہ میں دو سالوں کے دوران 7 بلین پاؤنڈ تک کی غیر قانونی منشیات اسمگل کرنے والے اسمگلرز کو جیل بھیج دیا گیا ہے، خیال کیا جا رہا ہے کہ یہ برطانیہ میں منشیات کی اب تک کی سب سے بڑی کارروائی ہے۔

    باغی ٹی وی : غیرملکی میڈیا کے مطابق بدنام زمانہ گینگ کے اٹھارہ ارکان نے ڈھائی سالوں کے دوران برطانیہ بھر میں 50 ٹن سے زیادہ منشیات – پورے برطانیہ میں جنوب مشرقی انگلینڈ سے سکاٹ لینڈ تک پہنچائی-
    drugs uk
    مانچسٹر کراؤن کورٹ میں ایک مقدمے کی سماعت کے دوران،59 سالہ سرغنہ پال گرین، جسے ‘دی بگ فیلا’ کے نام سے جانا جاتا ہے، اس کے ساتھیوں کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ منشیات کے کاروبار میں اپنے ملوث ہونے پر شناخت کو چھپانے میں کامیاب رہے اس میں برطانیہ اور روٹرڈیم میں فرنٹ بزنسز کا ایک سلسلہ قائم کرنا اور چوری شدہ آئی ڈیز اور جھوٹی شناخت کا استعمال شامل ہے۔
    drugs uk
    59 سالہ سرغنہ پال گرین، جسے دی بگ فیلا کے نام سے جانا جاتا ہے، گروہوں کے لیے رابطے کا مقام تھا، جو ہیروئن، کوکین، ایمفیٹامائنز اور بھنگ بھیجنے کے لیے فیس ادا کرتے تھے اس نے اور اس کے ساتھیوں نے جھوٹی اور چوری شدہ شناختوں کا استعمال کرتے ہوئے شمالی انگلینڈ اور ہالینڈ میں فرنٹ کمپنیاں قائم کیں،انہوں نے منشیات کو پیاز، لہسن اور ادرک کی کھیپ میں چھپا رکھا تھا۔

    رچرڈ ہیریسن، NCA کے علاقائی سربراہ تحقیقات نے کہا: "یہ ایک انتہائی نقصان دہ OCG تھا جس نے پتہ لگانے سے بچنے اور انصاف کو دھوکہ دینے کے لیے ہر ممکن حربہ استعمال کیا مجرموں نے بھاری مقدار میں منشیات برطانیہ میں سمگل کیں۔

    پراسیکیوٹر اینڈریو تھامس کے سی نے کہا کہ یہ گروہ اکثر لوگوں کی گرفتاری اور منشیات پکڑے جانے کے بعد بھی اپنی غیر قانونی سرگرمیاں جاری رکھے گا،جیسے ہی ایک کمپنی سامنے آئی، وہ دوسری کمپنی میں تبدیل ہو جائیں گے۔

    سزا سناتے ہوئے، جج پال لاٹن نے گینگ کے ارکان سے کہا: ‘آپ کا بنیادی مقصد بین الاقوامی سطح پر کنٹرول شدہ منشیات کی درآمد تھا، اور اب تک اس کی مثال نہیں ملتی، جس کی مالیت کم از کم 2 بلین ڈالر اور ممکنہ طور پر 7 بلین ڈالر تک ہے۔
    uk drugs
    مدعا علیہان کو آزمانے کے لیے دو ٹرائلز کی ضرورت تھی، پہلے ایک میں 23 مہینے لگے انگلینڈ اور ویلز کی تاریخ میں سب سے طویل ،اور دوسرا نو ماہ کا،چیشائر کے وِڈنیس سے تعلق رکھنے والے گرین کو 32 سال کے لیے جیل بھیج دیا گیا جب اُسے منشیات درآمد کرنے کی سازش اور جھوٹی نمائندگی کے ذریعے دھوکہ دہی کا مجرم قرار دیا گیا۔

    اس کے ‘دائیں ہاتھ کا آدمی’، 53 سالہ اسٹیون مارٹن، جو چورلی اولڈ روڈ، بولٹن، گریٹر مانچسٹر، جس نے مالیات کا انتظام کیا، کو 28 سال قید کیا گیا، جب کہ ایک اور اہم رکن، 46 سالہ محمد اویس، بورنیلیا ایونیو، برنیج، مانچسٹر، جو او سی جی کے صارفین کو منشیات تقسیم کرنے کے الزام میں تھا، کو 27 سال قید کی سزا سنائی گئی۔
    UK drugs
    منشیات کی درآمد کی سازش کے الزامات کے تحت سزا پانے والے دیگر افراد میں 48 سالہ رسل لیونارڈ، گروسمونٹ روڈ، کرکبی، لیورپول تھے، جنہیں 24 سال کے لیے جیل بھیج دیا گیا تھا اور ڈچ او سی جی کے باس جوہانس ویسٹرس، 54، اور باربرا رجنباؤٹ، 53، انہیں 20 سال اور 18 سال قید کی سزا سنائی گئی۔

  • سابق سفیر حسین حقانی کا احتجاج میں ہلاکتوں پر  پی ٹی آئی کے جھوٹ پر مبنی دعووں پر ردعمل

    سابق سفیر حسین حقانی کا احتجاج میں ہلاکتوں پر پی ٹی آئی کے جھوٹ پر مبنی دعووں پر ردعمل

    کراچی:امریکا میں پاکستان کے سابق سفیر حسین حقانی نے احتجاج میں ہلاکتوں پر پی ٹی آئی کے جھوٹ پر مبنی دعووں پر ردعمل دیا ہے-

    باغی ٹی وی : سوشل میڈیا صارف نے لکھا کہ میم بازی، فوٹو سازی، ٹک ٹاک گری – دوسرا دن ہے، دو ٹوک نام، پتہ، شانختی کارڈ نمبر اور تصویر کے ساتھ یہ اپنے مرنے والوں کی کوئی جامع فہرست جاری نہیں کر سکے تو باقی پچیس کروڑ زندوں کو کیسے سنبھالیں گے؟

    جس پر حسین حقانی نے سوشل میڈیا ویب سائٹ ایکس پر اپنے بیان میں کہا کہ سانحہ کارساز 2007 میں پیپلزپارٹی کے 180 افراد خالق حقیقی سے جا ملے تھے،پارٹی لیڈر نے سب کے جنازوں میں شرکت کی اور دو دن میں نام ،شناختی کارڈ اور تصویریں جمع کر لیں،پیپلز پارٹی کے پاس اس وقت کوئی صوبائی حکومت بھی نا تھی-
    ppp
    واضح رہے کہ آج سے 16 سال قبل 18 اکتوبر 2007 کو پاکستان پیپلز پارٹی کی چیئرپرسن اور ملک کی پہلی خاتون وزیراعظم سندھ کی بیٹی بےنظیر بھٹو آٹھ سال کی طویل خودساختہ جلا وطنی کی زندگی گزارنے کے بعد جب 18 اکتوبر کو دوپہر ایک بج کر 45 منٹ پر کراچی پہنچیں تو ان کے استقبال کے لیے ملک بھر سے آنے والے لوگوں کا اتنا بڑا جلوس تھا کہ انہیں کراچی ایئرپورٹ سے کارساز تک پہنچنے میں 10 سے زائد گھنٹے لگے۔

    جب ان کا جلوس شاہراہ فیصل پر کارساز پل کے قریب پہنچا تو یکے بعد دیگرے دو دھماکے ہوئے، جن میں 180 سے زائد لوگ مارے گئے جبکہ 500 سے زائد زخمی ہوئے لاشوں اور زخمیوں کو کراچی کے مختلف اسپتالوں میں منتقل کیا گیا،شام کے وقت کارساز کے قریب محترمہ بے نظیر بھٹو کے ٹرک کے انتہائی نزدیک یکے بعد دیگرے دو زور دار دھماکے ہوئےہر طرف لاشیں اور انسانی اعضا بکھر گئے،اٹھارہ اکتوبر2007 کا سانحہ کار ساز اس وقت تک کی سب سے بڑی دہشت گردی تھی جس میں 170 افراد ہلاک ہوئے جن کی اکثریت سندھ سے تعلق رکھنے والوں کی تھی۔

    حسین حقانی 2008ء سے 2011ء تک امریکا میں پاکستان کے سفیر رہے،یوسف رضا گیلانی نے انہیں سفیر مقرر کیاسیاسی کردار کا آغاز اسلامی جماعت طلبہ، جامع کراچی، کے صدر کے طور پر کیا بعد میں صحافت سے وابستہ رہے امریکی جامعہ میں استاد بھی رہے 2011 میں ان پر پاکستان کے فوجی سربراہان کے خلاف صدر آصف علی زرداری کی طرف سے امریکی ایڈمرل ملن سے مدد مانگنے کا پیغام بھیجنے کا الزام لگا جس پر ان سے استعفی لے لیا گیا۔

  • فیک نیوز پھیلانے والوں کے لیے سخت سزائیں تجویز

    فیک نیوز پھیلانے والوں کے لیے سخت سزائیں تجویز

    اسلام آباد: حکومت نے فیک نیوز پھیلانے والوں کے لیے سخت سزائیں تجویز کردیں۔

    باغی ٹی وی: میڈیا رپورٹس کے مطابق سائبر کرائم ترمیمی بل کے ابتدائی مسودہ میں فیک نیوز دینے والے کو 5 سال قید یا 10 لاکھ روپے جرمانہ کی سزا ہو سکتی ہے،بل کے ابتدائی مسودہ کے مطابق ڈیجیٹل رائٹس پروٹیکشن اتھارٹی کو سوشل میڈیا پر مواد بلاک یا ہٹانے کا اختیار دیا جائے گا اور یہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے خلاف مواد ہٹانے کے احکامات جاری کر سکتی ہے۔

    علاوہ ازیں مذکورہ اتھارٹی ریاست اور ریاستی اداروں کے خلاف نفرت پھیلانے والے مواد کو بھی ہٹانے کا اختیار ہوگا اتھارٹی میں ایک چیئرمین اور 6 اراکین شامل ہوں گےاتھارٹی کے فیصلوں کے خلاف ٹربیونل میں اپیل کی جا سکے گی، یہ بل حکومت کی جا نب سے ڈیجیٹل حقوق اور معلومات کی حفاظت کے لیے ایک اہم قدم سمجھا جا رہا ہے۔

  • سندھ پولیس کو کچے میں آپریشن تیز کرنے کیلئے33 کروڑ روپے کا فنڈ جاری

    کراچی: سندھ میں کچے کے ڈاکوؤں کے خلاف آپریشن مزید تیز کرنے کیلئے 33 کروڑ روپے کا فنڈ جاری کردیا گیا،جبکہ پنجاب پولیس رحیم یار خان نے کچے کے ڈاکوؤں کے خلاف بڑی کامیابی حاصل کرتے ہوئے پولیس پر حملوں، قتل، ڈکیتی اور اغوا برائے تاوان جیسی متعدد سنگین وارداتوں میں ملوث خطرناک ڈاکو کو ہلاک کردیا۔

    باغی ٹی وی : ذرائع سینٹرل پولیس آفس کے مطابق کچے میں ڈاکوؤں کے خلاف جاری آپریشن میں پولیس اہلکاروں کو جدید سہولیات اور مخبروں کو انعامی رقم دینے کیلئے شکارپور، گھوٹکی اور کشمور کے اضلاع کے ایس ایس پیز کو 33 کروڑ روپے جاری کیے گئے ہیں،سکھر اور لاڑکانہ رینج کے ڈی آئی جیز بھی 33 کروڑ کے فنڈز کا استعمال کرسکیں گے۔

    اس حوالے سے آئی جی سندھ غلام نبی میمن کا کہنا ہے کہ کچے میں ڈاکوؤں کے خلاف پولیس کا بھرپور ایکشن جاری ہےکشمور، گھوٹکی اور شکارپور میں اغواء برائے تاوان کی وارداتوں میں کمی آئی ہے، سندھ پولیس نے گزشتہ تین ماہ میں 15 سے زائد مغویوں کو بازیاب کرایا ہے اس کے علاوہ 10 سے زائد ڈاکوؤں کو مقابلے میں ہلاک کیا ہے۔

    آئی جی سندھ غلام نبی میمن نے بتایا کہ پولیس نے کچے میں حکمت عملی تبدیل کی ہے، کچے کے داخلی اور خارجی راستوں پر رکاوٹیں لگائی گئی ہیں، 100 سے زائد پولیس چوکیاں قائم کی گئی ہیں اور ریپڈ ریسپانس فورس کے افسران و اہلکاروں کو سندھ اور پنجاب کے بارڈر ایریاز میں تعینات کیا گیا ہے تاکہ ڈاکو ایک کمین گاہ سے دوسری کمین گاہ فرار نہ ہوسکیں۔

    انہوں نے بتایا کہ سندھ کے دو رینج (لاڑکانہ ، سکھر) کے ڈی آئی جیز کو ٹاسک دیا گیا ہے کہ اضلاع میں امن و امان کی صورتحال مزید بہتر کریں اور چار اضلاع (سکھر ، گھوٹکی ، کشمور اور شکارپور) کے ایس ایس پیز کو کچے میں بھرپور کریک ڈاؤن کا ٹاسک دیا گیا ہے۔

    سندھ میں کچے کے علاقے میں ڈاکوؤں کے خلاف پولیس نے جدید ہتھیاروں کے ساتھ ساتھ ڈرون کا بھی استعمال کیا ہے جس سے پولیس نے بڑی کامیابی حاصل کی ہے، سندھ پولیس اب تک ڈرون کی مدد سے 10 ڈاکو ہلاک کرچکی ہے اس کے علاوہ ڈرون کا استعمال کرنے والے ماہر افسران نے ڈاکوؤں کے کئی ٹھکانوں کی نشاندہی بھی کی ہے جس کے بعد پولیس نے ڈاکوؤں کے ٹھکانوں کو ختم کیا ہے۔

    دوسری جانب پنجاب پولیس رحیم یار خان نے کچے کے ڈاکوؤں کے خلاف بڑی کامیابی حاصل کرتے ہوئے پولیس پر حملوں، قتل، ڈکیتی اور اغوا برائے تاوان جیسی متعدد سنگین وارداتوں میں ملوث خطرناک ڈاکو کو ہلاک کردیا۔

    ترجمان پنجاب پولیس کے مطابق رحیم یارخان پولیس نے کچے کے ڈاکوؤں کے شہری کو لوٹنے کےعزائم کو خاک میں ملا دیا، مسلح ڈاکوؤں نے کچے کے علاقے مقبول موڑ کے قریب شہری عبد الرشید عباسی کے گھر پر واردات کی نیت سے حملہ کیا، اطلاع ملنے پر پولیس کی بھاری نفری نے بکتر بند گاڑیوں کے ہمراہ فوری ریسپانس کیا، پولیس کو دیکھ کر ڈاکوؤں نے اندھا دھند فائرنگ شروع کردی-
    https://x.com/OfficialDPRPP/status/1863708409037721938
    ترجمان پنجاب پولیس کے مطابق دو طرفہ فائرنگ کے تبادلے میں ڈاکو فاروق چانڈیہ ہلاک مارا گیا جبکہ ہلاک ڈاکو کے دیگر ساتھی اندھیر ے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے فصلوں میں فرار ہو گئے، ہلاک ڈاکو کے قبضے سے کلاشنکوف اور سینکڑوں کی تعداد میں گولیاں برآمد ہوئیں جبکہ پولیس کی جانب سے تمام علاقے کا سرچ آپریشن جاری ہے۔

    دوسری جانب پنجاب پولیس کے 02 اور بہادر سپوت فرض کی راہ میں قربان، ایک سب انسپکٹر شدید زخمی ہو گئے-

    ترجمان پنجاب پولیس کے مطابق پولیس پارٹی شراب کی ترسیل کی اطلاع پر شراب فروشوں کے تعاقب میں جا رہی تھی کہ انڈس ہائی وے روڈ پر کھیتران پمپ کے قریب پولیس وین اور ٹرک کے درمیان تصادم ہو گیا، تصادم کے نتیجے میں کانسٹیبل عطاء اللہ اور کانسٹیبل محمد کاشف جام شہادت نوش کر گئے جبکہ سب انسپکٹر ذیشان شدید زخمی ہیں، زخمی سب انسپکٹر کو طبی امداد کیلئے ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔
    https://x.com/OfficialDPRPP/status/1863826955100909640
    آئی جی پنجاب ڈاکٹر عثمان انور فرض کی راہ میں جان قربان کرنے والے شہداء ہمارے ماتھے کا جھومر ہیں، ان کے اہل خانہ کی فلاح و بہبود کا ہر ممکن خیال رکھا جائے گا، زخمی پولیس اہلکار کو بہترین علاج معالجہ فراہم کیا جا رہا ہے۔