Baaghi TV

Author: Ayesha Rehmani

  • خلا میں ٹریفک جام کا خطرہ اٹھ کھڑا ہوا،ماہرین پریشان

    خلا میں ٹریفک جام کا خطرہ اٹھ کھڑا ہوا،ماہرین پریشان

    زمین کے نچلے مدار میں ہزاروں مصنوعی سیارے گردش کر رہے ہیں مصنوعی سیاروں کی غیر معمولی تعداد کے باعث وہاں ٹریفک جام ہونے کا خطرہ اٹھ کھڑاہوا ہے اس حوالے سے ماہرین بہت پریشان ہیں۔

    باغی ٹی وی: اکتوبر میں اقوام متحدہ کے ایک پینل نے اس بات پر زور دیا تھا کہ زمین کے نچلے مدار میں گردش کرنے والی تمام اشیا کی مشترکہ ڈیٹا بیس تیار کی جانی چاہیے تاکہ ٹریفک جام کی کیفیت پر قابو پانے کے لیے ٹھوس اقدامات کیے جاسکیں۔

    زمین کے نچلے مدار میں اس وقت 14 ہزار سے زیادہ مصنوعی سیارے گردش کر رہے ہیں ان میں سے 3500 غیر فعال ہیں۔ ماضی کی لانچنگز اور تصادم کے نتیجے میں زمین کے مدار میں ملبے کے 12 کروڑ ٹکڑے گھوم رہے ہیں اس حوالے سے صورتِ حال تیزی سے بگڑتی جارہی ہے۔

    اقوام متحدہ کے جس پینل نے مشترکہ ڈیٹا بیس کی ضرورت پر زور دیا ہے اس میں شریک سربراہ آرتی ہولا مائنی ہیں جو بیرونی خلا سے متعلق اقوامِ متحدہ کے دفتر کی ڈائریکٹر ہیں اُن کا کہنا ہے کہ خلائی ٹریفک کےمعاملات کو درست کرنے کے معاملے میں مزید تساہل کی گنجائش نہیں تمام آپریٹرز کے درمیان معلومات کا تبادلہ کیا جانا چاہیے تاکہ تصادم سے بچا جاسکے۔

    عالمگیر سطح پر رابطوں، نیویگیشن سسٹمز کی عمدہ کارکردگی اور خلائی تحقیق کے لیے زمین کے نچلی مدار کی سلامتی لازم ہے اس مدار میں گھومنے والی چیزوں کی ٹریکنگ اور مینیجنگ کے لیے سینٹرلائزڈ سسٹم تیار کرنا ایک بڑا چیلنج ہے۔

    مسئلہ یہ ہے کہ چند ہی ممالک اپنے مصنوعی سیاروں کے بارے میں ڈیٹا مکمل طور پر شیئر کرنے کے لیے تیار ہیں بہت سے ممالک اپنے مصنوعی سیاروں کے بارے میں ڈیٹا شیئر کرنے سے اس لیے گریزاں ہیں کہ ان کے مصنوعی سیارے انٹیلی جنس کی سرگر میو ں کے لیے بھی استعمال ہوتے ہیں۔

    تجارتی ادارے بھی اپنی بنیادی معلومات کو محفوظ رکھنے کو ترجیح دیتے ہیں اس حوالے سے ہچکچاہٹ کے باعث مصنوعی سیاروں کا ڈیٹا مکمل طور پر شیئر نہیں کیا جارہا خلا میں مصنوعی سیاروں کے درمیان تصادم ٹالنے کے لیے غیر رسمی طریقے اختیار کیے جارہے ہیں۔

    چند حالیہ واقعات نے لازم کردیا ہے کہ زمین کے نچلے مدار میں تصادم کو ٹالنے کے لیے مشترکہ اور مربوط کوششیں کی جائیں اگست میں چین کا ایک راکٹ زمین کے نچلے مدار میں پھٹ گیا تھا اور اُس ملبے پورے مدار میں بکھر گیا تھاجون میں روس کا ایک ناکارہ مصنوعی سیارہ پھٹ گیا تھاجس کےباعث انٹرنیشنل اسپیس اسٹیشن پر موجود خلا بازوں کو ایک گھنٹے تک غیر معمولی احتیاط کےساتھ الگ تھلگ بیٹھنا پڑا تھا۔

    اسپیس ایکس نامی ادارہ ہزاروں اسٹار لنک سیٹلائٹ بھیجنے کی منصوبہ سازی کر رہا ہے جس کے نتیجے میں تصادم کا خطرہ بڑھ جائے گا۔ اگلے چند برسوں میں مزید ہزاروں مصنوعی سیارے زمین کے مدار میں بھیجے جانے کا امکان ہے اس کے نتیجے میں وہاں مزید ٹریفک جام پیدا ہوگا۔

  • سرکاری اسکیم کے تحت حج درخواستوں کی وصولی کا  آج آخری دن

    سرکاری اسکیم کے تحت حج درخواستوں کی وصولی کا آج آخری دن

    اسلام آباد: وزارت مذہبی امور کے ترجمان نے کہا ہے کہ ملک بھر سے 54 ہزار سے زائد حج درخواستیں موصول ہوگئیں –

    باغی ٹی وی: ترجمان مذہبی امور کا کہنا ہے کہ رات تک حج درخواستیں مزید بڑھنے کا امکان ہے جبکہ 3 دسمبر تک سرکاری حج اسکیم کا کوٹہ مکمل ہونے کا بھی امکان ہے،جبکہ سرکاری اسکیم کے تحت حج درخواستوں کی وصولی کا آج آخری دن ہوگا۔

    ترجمان کے مطابق ریگولر حج اسکیم کے تحت قسطوں میں اخراجات کی وصولی کے سبب ماضی سے زائد درخواستیں موصول ہوئی ہیں درخواستیں مکمل ہونے کے فورا بعد حج پروازوں کے شیڈول کو حتمی شکل دی جائے گی۔

    ترجمان مذہبی امور کا کہنا ہے کہ پروازوں کے شیڈول کے مطابق مدینہ منورہ میں رہائشیں حاصل کی جائیں گی جبکہ سعودی عرب میں رہائش، خوراک، ٹرانسپورٹ اور مکاتب کی پروکیورمنٹ مکمل کی جائے گی، سمندر پار پاکستانی 3 دسمبر تک سپانسرشپ بھجوا کر اسکیم میں شمولیت یقینی بنائیں۔

  • پی ٹی آئی احتجاج اور  رہنماؤں کیخلاف درج 8 مقدمات کیلئے جے آئی ٹی تشکیل

    پی ٹی آئی احتجاج اور رہنماؤں کیخلاف درج 8 مقدمات کیلئے جے آئی ٹی تشکیل

    اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف کے احتجاج اور رہنماؤں کے خلاف اسلام آباد میں درج 8 مقدمات کے لئے جے آئی ٹی تشکیل دے دی گئی-

    باغی ٹی وی: جے آئی ٹی میں قانون نافذ کرنے والے ادارے ایف آئی اے اور پولیس کے نمائندے شامل ہیں،ذرائع کے مطابق تھانہ کھنہ، ترنول، سنگجانی، گولڑہ اور کوہسار کے مقدمات میں جے آئی ٹی تشکیل دی گئی ، سیکرٹریٹ اور کراچی کمپنی میں درج مقدمے میں بھی جے آئی ٹی بنا دی گئی ہے۔

    ذرائع کے مطابق جے آئی ٹی تمام مقدمات میں گواہان کے بیانات قلم بند کرے گی، ٹیم نامزد ملزمان کے بیانات بھی لے گی، جے آئی ٹی کی سربراہی اسلام آباد پولیس کا نمائندہ کرے گا، کیسز کے تفتیشی افسران کی بھی جے آئی ٹی سربراہی کرے گی۔

    دوسری جانب اسلام آباد کی انسداد دہشتگردی عدالت نے ڈی چوک میں احتجاج پر بانی پی ٹی آئی سمیت پارٹی کے 96 رہنماؤں اور کارکنان کے وارنٹ گرفتاری جاری کردئیے،بشریٰ بی بی، بیرسٹر گوہر، شعیب شاہین، علی بخاری، عامر مغل کے بھی وارنٹ گرفتاری جاری کردیئے گئے۔

    انسداد دہشتگردی عدالت کے جج طاہر عباس سپرا نے وارنٹ گرفتاری جاری کیے، کوہسار پولیس نے مقدمے میں 96 ملزمان کے وارنٹ گرفتاری حاصل کیے ہیں، عمر ایوب، شیر افضل مروت، خالد خورشید، فیصل جاوید کے بھی وارنٹ گرفتاری جاری کردیئے گئے، ایم این اے عبدالطیف، فاتح الملک، علی ناصر، صوبائی وزیر ریاض خان کے بھی وارنٹ جاری کردیئے گئے۔

  • ججز کی تقرری پر غور کیلئے  جوڈیشل کمیشن کا اجلاس طلب

    ججز کی تقرری پر غور کیلئے جوڈیشل کمیشن کا اجلاس طلب

    اسلام آباد: چیف جسٹس پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی نے ججز کی تقرری پر غور کیلئے 14 دسمبر کو جوڈیشل کمیشن کا اجلاس طلب کرلیا۔

    باغی ٹی وی: لاہور ہائیکورٹ کے ججز کیلئے نامزد 7 امیدواروں کے نام سامنے آگئے ہیں، امیدواروں میں ایڈووکیٹ صدیق اعوان، ایڈووکیٹ علی مسعود حیات، ایڈووکیٹ حسن نواز مخدوم، ایڈووکیٹ عامر عجم ملک، ایڈووکیٹ ضیاء الرحمان، ایڈووکیٹ جواد ظفر اور ایڈووکیٹ ملک محمد اویس خالد شامل ہیں۔

    جوڈیشل کمیشن کا اجلاس 14 دسمبر دوپہر 12 بجے سپریم کورٹ کے کانفرنس روم میں منعقد ہوگا علاوہ ازیں، 6 دسمبر کو پشاور اور سندھ ہائی کورٹس میں ججز کی تقرری کے بارے بھی جوڈیشل کمیشن کا اجلاس شیڈول ہے، 6 دسمبر کے اجلاس میں جسٹس شاہد بلال کی آئینی بینچ میں شمولیت پر بھی غور کیا جائے گا۔

    پشاور ہائیکورٹ میں ججز کے امیدواروں کے نام بھی سامنے آگئے ہیں، چیف جسٹس پشاور ہائیکورٹ کی جانب سے تجویز کردہ 9 امیدواروں ڈسٹرکٹ اینڈ سیشنز جج کلیم ارشد، سیشن جج فرح جمشید، ڈسٹرکٹ اینڈ سیشنز جج انعام اللہ خان، ایڈووکیٹ جنید انور، ایڈووکیٹ سید مدثر امیر، ایڈووکیٹ اورنگزیب، ایڈووکیٹ قاضی جواد احسان اللہ، ایڈووکیٹ صلاح الدین اور ایڈووکیٹ صادق علی شامل ہیں۔

  • پولیو وائرس کے مزید 3 کیسز کی تصدیق

    پولیو وائرس کے مزید 3 کیسز کی تصدیق

    کراچی: پاکستان میں پولیو وائرس کے مزید 3 کیسز کی تصدیق ہوگئی۔

    باغی ٹی وی: نیشنل ای او سی کے مطابق پولیو کے نئے کیسز ڈیرہ اسماعیل خان، کراچی کے ضلع کیماڑی اور کشمور سے رپورٹ ہوئے، ڈیرہ اسماعیل خان سے اب تک 8 پولیو کیسز رپورٹ ہوچکے ہیں، کراچی کے ضلع کیماڑی سے رواں سال اب تک 3 پولیو کیسز رپورٹ ہوئے ہیں جبکہ کشمور میں رواں سال پولیو کا یہ پہلا کیس سامنے آیا ہے۔

    نیشنل ای او سی کے مطابق رواں سال ملک میں پولیوکیسز کی تعداد 59ہوگئی ہےرواں سال بلوچستان سے 26 اورخیبرپختونخوا سے 16 پولیو کیسز رپورٹ ہوئے ہیں جبکہ رواں سال سندھ سے 15 اور پنجاب اور اسلام آباد سےایک ایک کیس رپورٹ ہوا ہے۔

  • سابق جج شوکت عزیز صدیقی چئیرمین  این آئی آر سی تعینات

    سابق جج شوکت عزیز صدیقی چئیرمین این آئی آر سی تعینات

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے سابق جج شوکت عزیز صدیقی کو چیئرمین قومی کمیشن برائے صنعتی تعلقات (این آئی آر سی) تعینات کردیا گیا۔

    باغی ٹی وی : وفاقی کابینہ کی منظوری کے بعد شوکت عزیزصدیقی کی تعیناتی کا نوٹیفکیشن جاری کردیا گیا،شوکت عزیز صدیقی کی 3 سال کے لیے بطور چیئرمین نیشنل انڈسٹریل ریلیشنز کمیشن تعیناتی کی گئی ہے، شوکت عزیزصدیقی کو 2018 میں اسلام آباد ہائیکورٹ کے جج کےعہدے سے برطرف کیا گیا تھا تاہم سپریم کورٹ نے مارچ 2024 میں شوکت عزیز صدیقی کی برطرفی کو کالعدم قرار دیا تھا، سپریم کورٹ نے شوکت عزیز صدیقی کو بطور ہائیکورٹ جج ریٹائرمنٹ کے تمام واجبات کا اہل قرار دیا تھا۔

  • وفاقی کابینہ اجلاس میں ماہرین نے مونو  سوڈیم گلوٹا میٹ کو  انسانی صحت کے لیے محفوظ قرار دیا

    وفاقی کابینہ اجلاس میں ماہرین نے مونو سوڈیم گلوٹا میٹ کو انسانی صحت کے لیے محفوظ قرار دیا

    اسلام آباد: وفاقی کابینہ نے پُرتشدد انتہا پسندی کی روک تھام کی قومی پالیسی 2024، خصوصی عدالتوں کی حدود/دائرہ کار میں تبدیلی اور مونو سوڈیم گلوٹامیٹ (اجینو موتو) کی درآمد پر پابندی اٹھانے کے سپریم کورٹ کے فیصلے پر نظرثانی درخواست دائر کرنے کی منظوری دے دی۔

    باغی ٹی وی: وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس وزیراعظم ہاؤس میں منعقد ہوا،وفاقی کابینہ نے وزارت تجار ت کی سفارش پر مونو سوڈیم گلوٹامیٹ (اجینو موتو) کی درآمد پر پابندی اٹھانے کے سپریم کورٹ آف پاکستان کے فیصلے پر نظر ثانی در خو است دائر کرنے کی منظوری دے دی۔

    یہ فیصلہ ماہرین کی اس خصوصی کمیٹی کی رپورٹ کی روشنی میں کیا گیا ہے جو وزیراعظم آفس کی ہدایت پر مونو سوڈیم گلوٹامیٹ کی انسانی صحت پر اثرات کو جانچنے کے حوالے سے بنائی گئی تھی، اس کمیٹی نے اپنی رپورٹ میں مونو سوڈیم گلوٹا میٹ کو انسانی صحت کے لیے محفوظ قرار دیا ہے۔

    اس کمیٹی میں پاکستان سائنٹیفک اینڈ انڈسٹریل ریسرچ، نیشنل ایگریکلچر ریسرچ سینٹر، نیشنل یونیورسٹی آف سائنسز اینڈ ٹیکنالو جی ، انسٹی ٹیوٹ آف فوڈ اینڈ نیوٹریشنل سائنسز، وفاقی وزارت قومی غذائی تحفظ و تحقیق، پاکستان اسٹینڈرڈز اینڈ کوالٹی کنٹرول اتھارٹی اور سرمایہ کاری بورڈ کے نمائندگان شامل تھے۔

    وفاقی کابینہ نے وزارت وفاقی تعلیم و فنی تربیت کی سفارش پر یونیورسٹی آف کیمبرج، سینٹ انٹونیز کالج یونیورسٹی آف آکسفورڈ، یونیورسٹی آف جارڈن، پیکنگ یونیورسٹی چین، یونیورسٹی آف ہائیڈل برگ جرمنی میں پاکستان چیئرز کے حوالے سے مفاہمتی یادداشتوں کی تجدید کی منظوری دے دی۔

    وفاقی کابینہ نے وزارت وفاقی تعلیم و فنی تربیت کی سفارش پر سینٹر آف ایکسیلنس یونیورسٹی آف انجینیئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی لاہور کے بورڈ آف گورنرز میں ڈاکٹر حبیب الرحمان اور ڈاکٹر کامران انصاری کی بطور سبجیکٹ ایکسپرٹس نامزدگی کی منظوری دے دی۔

    وفاقی کابینہ نے وزارت وفاقی تعلیم و فنی تربیت کی سفارش پر سینٹر آف ایکسیلنس ان منرالوجی، یونیورسٹی آف بلوچستان کوئٹہ کے بورڈ آف گورنرز میں ڈاکٹر ممتاز محمد شاہ اور ڈاکٹر محمد احمد فاروقی کی بطور سبجیکٹ ایکسپرٹس نامزدگی کی منظوری دے دی۔

    وفاقی کابینہ نے وزارت داخلہ کی سفارش پر اسلام آباد سینٹرل بزنس ڈسٹرکٹ ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے قیام کے حوالے سے تجویز کی اصولی منظوری دے دی۔

    وفاقی کابینہ نے وزارت داخلہ کی سفارش پر پُر تشدد انتہا پسندی کی روک تھام کی قومی پالیسی 2024 کی منظوری دے دی، کابینہ نے وزارت قانون و انصاف کی سفارش پر اور سندھ ہائیکورٹ کراچی کے احکامات کی روشنی میں خصوصی عدالتوں کی حدود / دائرہ کار میں تبدیلی کی منظوری دے دی۔

    وفاقی کابینہ نے وزارت قانون و انصاف کی سفارش پر اور بلوچستان ہائیکورٹ کوئٹہ کے احکامات کی روشنی میں اسپیشل کورٹس (کسٹمز، ٹیکسیشن اینڈ اینٹی اسمگلنگ) کوئٹہ اور خضدار کے دائرہ کار میں تبدیلی کی بھی منظوری دے دی۔

    وفاقی کابینہ نے وزارت قانون و انصاف کی سفارش اور پشاور ہائیکورٹ، لاہور ہائیکورٹ، اسلام آباد ہائیکورٹ، سندھ ہائیکورٹ کراچی، بلوچستان ہائیکورٹ کوئٹہ کے احکامات کی روشنی میں ایڈیشنل سیشن ججز اور دوسری متعلقہ عدالتوں کو لائرز ویلفیئر اینڈ پروٹیکشن ایکٹ 2023 کے تحت مقدمات سننے کا اختیار دینے کی بھی منظوری دے دی۔

  • فوکس واگن شدید بحران سے دوچار،متعدد پلانٹس کو بند کرنے کا اعلان،ورکرز کی ہڑتال

    فوکس واگن شدید بحران سے دوچار،متعدد پلانٹس کو بند کرنے کا اعلان،ورکرز کی ہڑتال

    جرمنی کی میٹل ورکرز کی صنعت کی یونین ’’ای جی میٹال‘‘ نے جرمن کارساز کمپنی فوکس واگن کی جرمن فیکٹریوں کے ہزاروں ملازمین، ملازمتوں میں کمی کے منصوبے کے خلاف پیر دو دسمبر کو ہڑتال کی-

    باغی ٹی وی: ووکس ویگن کے ہزار وں کارکنوں نے بڑھتے ہوئے صنعتی تنازعہ میں پیر کو ہڑتال کر دی، یونینوں نے خبردار کیا کہ بحران سے متاثرہ جرمن آٹو کمپنی بڑے پیمانے پر چھانٹی اور فیکٹریاں بند کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔

    یونین ذرائع نے بتایا کہ صبح کی شفٹوں میں کام کرنے والے مزدوروں نے دو گھنٹے تک ہڑتال کی، جب کہ شام کی شفٹ میں کام کرنے والوں نے کار ساز کے مطالبات، جس میں اجرت میں 10 فیصد کٹوتی بھی شامل ہے، پر احتجاج کرتے ہوئے جلد کام چھوڑنے کا ارادہ کیا، وولفسبرگ میں ووکس ویگن کے مرکزی پلانٹ میں، جس میں 70,000 افراد کام کرتے ہیں، دو گھنٹے کی ہڑتال کا مطلب ہے کہ کئی سو کاریں نہیں بن سکتیں-

    جرمنی کا دیو پیکر کارساز ادارہ فوکس واگن شدید بحران سے دوچار ہے رواں سال ستمبر میں ہونے والے اس اعلان کے بعد کہ جرمنی میں اس کے متعدد پلانٹس کو بند کر دیا جائے گا، ٹریڈ یونینوں اور فوکس واگن کمپنی کے سرمایہ کاروں کے مابین سخت مذاکرات کا سلسلہ شروع ہو گیا تھا۔ جرمنی کے اندر فوکس واگن کے پلانٹس کو بند کرنے کے منصوبے سے براہ راست ایک لاکھ بیس ہزار ملازمین متاثر ہو سکتی ہیں۔

    یہ پہلی بار ہے کہ کمپنی نے اپنی 87 سالہ تاریخ میں جرمنی میں فیکٹریاں بند کرنے کی دھمکی دی ہے کیونکہ یورپی مینوفیکچررز غیر ملکی مسابقت، اعلی پیداواری لاگت اور براعظم میں الیکٹرک گاڑیوں کی سست رفتاری سے لڑ رہے ہیں۔

    یورپ میں وی ڈبلیو کاروں کی فروخت میں کمی آئی ہے کیونکہ ڈیمانڈ اسٹالز اور صارفین پیٹرول موٹرز میں دلچسپی لے رہے ہیں،عالمی سطح پر، سال کے پہلے تین مہینوں میں فروخت میں تین فیصد کی کمی واقع ہوئی کیونکہ پٹرول موٹروں کی فروخت میں چار فیصد اضافہ ہوا۔

    Stellantis – جو Vauxhall کا مالک ہے نے اس ہفتے کے شروع میں مینڈیٹ کو مورد الزام ٹھہرایا جب اس نے لوٹن میں اپنی وین فیکٹری کو بند کرنے کے منصوبوں کا اعلان کیا، جس سے 1,100 ملازمتیں خطرے میں پڑ گئیں۔ چیف ایگزیکٹیو کارلوس ٹاویرس نے اتوار کے روز اچانک استعفیٰ دے دیا جب گروپ اس سال اپنی قیمت کا تقریباً 40 فیصد کھو دیا-

    فورڈ کے یوکے بازو کے باس نے گزشتہ ماہ کے آخر میں خبردار کیا تھا کہ برقی کاروں کی مانگ میں زبردست کمی کی وجہ سے برطانیہ کی کار انڈسٹری بحران کا شکار ہےفورڈ یو کے کی چیئرمین اور مینیجنگ ڈائریکٹر لیزا برینکن نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ دلچسپی کو بڑھانے کے لیے فوری طور پر ‘مراعات’ متعارف کروائیں۔

    یورپ کی سب سے بڑی کار ساز کمپنی کے بحران نے جرمنی کو اقتصادی غیر یقینی صورتحال اور ملکی سیاسی ہلچل کے ساتھ ساتھ خطے کے کار ساز اداروں کے درمیان وسیع تر انتشار کے وقت متاثر کیا ہے۔

    جرمن زبان میں ”فوکس واگن‘‘ سے مراد عوامی گاڑی ہے، اس موٹر کار کا معیار اور اس کی پائیداری کی ضمانت یہ تھی کہ جرمنی کے علاوہ دیگر ممالک میں بھی یہ بہت زیادہ استعمال ہونے والی گاڑی سمجھی جاتی رہی ہے، اب اس کار ساز ادارے کو سب سے بڑی زک جو پہنچی ہے اُس کا تعلق جرمنی کے اندر اس پر آنے والی بلند پیداواری لاگت ہے، دوسری جانب الیکٹرک گاڑیوں کے استعمال میں تیز رفتار اضافہ اور کلیدی مارکیٹ چین کے ساتھ سخت مقابلہ فوکس واگن کو پہنچنے والے سخت نقصانات کی اہم ترین وجوہات ہیں۔

    جرمنی کی آٹو موٹیو انڈسٹری واحد صنعت نہیں ہے جو توانائی کی قیمتوں میں مسلسل اضافے اور زیادہ اجرتوں جیسے بنیادی مسائل کا شکار ہے، فوکس واگن کو گھر میں اعلیٰ پیداواری لاگت، الیکٹرک گاڑیوں میں ہنگامہ خیز تبدیلی اور کلیدی مارکیٹ چین میں سخت مقابلے کی وجہ سے سخت نقصان پہنچا ہے چین کا عالمی معیشت میں بدلتا ہوا کردار اور ایک حریف، ایک سخت مدمقابل ہونا جرمن معیشت کے لیے بڑے چیلنجز کا سبب بنا ہے۔

    جرمنی کے معروف کار مینوفیکچررز کی گاڑیوں کی فروخت کے اعداد و شمار سے یہ صورتحال واضح ہو جاتی ہے۔ محض سال رواں کی پہلی ششماہی کے اعداد و شمار پر ایک نظر ڈالیں تو پتا چلتا ہے کہ فوکس واگن کی فروخت میں 14 فیصد، بی ایم ڈبلیو کی فروخت میں 15 فیصد اور مرسیڈیز بینز کی فروخت میں 16 فیصد کی کمی آئی ہے۔

    گزشتہ ماہ یونین اور فوکس واگن کی ورکس کونسل نے کئی تجاویز پیش کیں تھیں جن میں کہا گیا تھا کہ موٹر سازی کی فیکٹریوں یا سائٹس کی بندش کے بغیر لیبر کاسٹ یا مزدوری کے اخراجات میں 1.5 بلین یورو (1.6 بلین ڈالر) کی بچت ممکن ہے، ان میں انتظامیہ اور عملے کے لیے بونس ختم کرنے کی تجاویز شامل تھیں۔

    یونین نے یہ بھی کہا تھا کہ وہ کچھ فیکٹریوں میں کام کے گھنٹے کم کرنے کے بدلے تنخواہ میں اضافے کا مطالبہ بھی ختم کر سکتی ہےتاہم فوکس واگن نے کہا کہ ان تجاویز سے قلیل المدتی بنیادوں پرمدد مل سکتی ہے،مگر یہ معاشی مسائل کا طویل المدتی حل نہیں ہو سکتا ہے اور نہ ہی کمپنی کو اس سے ریلیف ملے گا۔

    فوکس واگن کے اس رویے کو جرمنی کی میٹل ورکرز کی صنعت کی یونین ”ای جی میٹال‘‘ نے ”افسوسناک‘‘ قرار دیتے ہوئے اس پر ”ملازمین کے نمائندوں کی تعمیری تجاویز کو نظر انداز کرنے‘‘ کا الزام لگایا۔

    واضح رہے کہ جرمنی میں آٹوموٹیو سیکٹر ہی یورپ کی اقتصادی شہ رگ سمجھے جانے والے اس ملک کی معیشت کا ایک اہم ستون سمجھا جاتا ہے پچھلے سال جرمنی نے 273 بلین یورو مالیت کی کاریں برآمد کیں جرمنی کی برآمدات میں موٹر گاڑیوں کا حصہ 17 فیصد سے زیادہ ہے، اس کے بعد مشینری، کیمیکل، الیکٹرانکس، دوا سازی، دھاتیں اور دیگر مصنوعات ہیں، اس کے علاوہ جرمن گاڑیوں کی فیکٹریا ں اندرون ملک کئی شہروں اور دیہات میں واقع ہیں اور ان علاقوں میں رہنے والوں کے لیے روزگار کا بڑا ذریعہ ہیں۔

  • بلوچستان سے ریاست مخالف پروپیگنڈے کرنیوالے 924 اکاؤنٹس کی نشاندہی

    بلوچستان سے ریاست مخالف پروپیگنڈے کرنیوالے 924 اکاؤنٹس کی نشاندہی

    کراچی:وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) کے سائبرکرائم ونگ بلوچستان سے ریاست مخالف پروپیگنڈے کرنے والے 924 اکاؤنٹس کی نشاندہی کرلی، نشاندہی کے بعد اب تک 312 اکاؤنٹس کو پی ٹی اے کی جانب سے بلاک کیا گیا ہے-

    باغی ٹی وی: ایف آئی اے کے کراچی آفس سے جاری بیان میں ترجمان نے بتایا کہ سائبرکرائم ونگ بلوچستان زون کے ڈائریکٹرعمران محمود کی زیر سربراہی سوشل میڈیا پرریاست مخالف پروپیگنڈے میں ملوث عناصر کےخلاف بھرپور کارروائیاں جاری ہیں، ڈائریکٹر سائبر کرائم ونگ ویسٹ عمران محمود کو 3 ماہ قبل تعینات کیا گیا تھا، جنہوں نے اپنی تقرری کے بعد سوشل میڈیا اکاؤنٹس کی مانیٹرنگ اور تجز یے کے لیےخصوصی ٹیم تشکیل دی جس پر مذکورہ ٹیم نے جدید ٹیکنالوجی کی بنیاد پر فیس بک، انسٹاگرام،ٹویٹر،ٹک ٹاک اوردیگر پلیٹ فارمزپرمشکوک سرگرمیوں کی نگرانی شروع کی۔

    ترجمان ایف بی آر کے مطابق گزشتہ 3 ماہ کے دوران، ایف آئی اے سائبر کرائم ونگ بلوچستان نے ریاست مخالف مواد شئیرکرنے میں ملوث 924 سوشل میڈیا اکاؤنٹس کی نشاندہی کی،مذکورہ اکاؤنٹس کے حوالے سے پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی کوتفصیلات فراہم کردی گئی ہیں،رپورٹ کردہ اکاؤنٹس میں 487 فیس بک ،190ٹک ٹاک، 147 ایکس (ٹوئٹر)، 88 انسٹاگرام اور 12 دیگر ایپلیکیشن کےاکاؤنٹس شامل ہیں۔

    اعلامیے کے مطابق نشاندہی کے بعد اب تک 312 اکاؤنٹس کو پی ٹی اے کی جانب سے بلاک کیا گیا ہے جبکہ ریاست مخالف پروپیگنڈا کرنے والے عناصر کے خلاف 14 انکوائریاں درج کرکے تحقیقات کا آغازکردیا گیا علاوہ ازیں ایف آئی اے سائبر کرائم بلوچستان نے 28 مختلف سوشل میڈیا ایپلیکیشنز کی نشاندہی کی ہے،جنہیں ریاست مخالف عناصر کے ذریعے گمنام رابطوں اورپروپیگنڈے کے لیےاستعمال کیا جاسکتا ہے۔

    ترجمان ایف آئی اے کا کہنا ہے کہ ریاست مخالف عناصر کسی قسم کی رعایت کے مستحق نہیں ہیں،ملزمان کی گرفتاری کے لئےتمام تروسائل بروئے کارلائےجائیں گے،ملزمان کی نشاندہی کےلئےجدید ٹیکنالوجی کا استعمال کیا جارہا ہے۔

  • ہمیں ایسا ماحول پیدا کرنا ہوگا جہاں ہر فرد ترقی کر سکے، بلاول بھٹو زرداری

    ہمیں ایسا ماحول پیدا کرنا ہوگا جہاں ہر فرد ترقی کر سکے، بلاول بھٹو زرداری

    اسلام آباد: پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے معذور افراد کے عالمی دن کے موقع پر کہا کہ ان کی جماعت ہمیشہ پسماندہ طبقات، بشمول معذور افراد کے حقوق کے تحفظ میں پیش پیش رہی ہے۔

    باغی ٹی وی : بلاول بھٹو نے کہا کہ روزگار کے لیے کوٹہ کو یقینی بنانے سے لے کر شمولیتی تعلیمی پالیسیوں کے نفاذ تک، ہم نے ہمیشہ معذور افراد کو بااختیار بنانے اور انہیں معاشرے میں مساوی شراکت دار کے طور پر شامل کرنے کے لیے کام کیا ہے، معذور افراد کو مساوی مواقع فراہم کرنا اور عوامی بنیادی ڈھانچے، صحت اور تعلیم تک رسائی دینا صرف قانونی ذمہ داری نہیں بلکہ ایک ترقی پسند معاشرے کا اخلاقی فرض بھی ہے ہمیں ان سماجی تعصبات اور دقیانوسی تصورات کو ختم کرنے کی ضرورت ہے جو عدم مساوات کو بڑھاتے ہیں اور ایک ایسا ماحول پیدا کرنا ہوگا جہاں ہر فرد ترقی کر سکے۔

    انہوں نے 2024 کے موضوع کی توثیق کرتے ہوئے کہا کہ معذور افراد کو نہ صرف فیصلہ سازی کے عمل میں شامل کیا جائے بلکہ پائیدار مستقبل کے لیے قیادت کے لیے بھی بااختیار بنایا جائےمعذور افراد کا قائدانہ کرادر ایک حقیقی جامع پاکستان کے حصول کے لیے کلیدی حیثیت رکھتی ہے۔

    انہوں نے وفاقی اور دیگر صوبائی حکومتوں سے اپیل کی کہ وہ معذور افراد کے حقوق سے متعلق قوانین کے نفاذ کو مضبوط بنائیں اور سندھ کی مثال سے سیکھیں، چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے اس بات کا اعادہ کیا کہ پاکستان پیپلز پارٹی تمام شہریوں کے لیے شمولیت، مساوا ت اور وقار کے فروغ کے اپنے مشن پر قائم ہے تاکہ کوئی شہری پائیدار ترقی کے حصول سے محروم نہ رہ جائے۔