Baaghi TV

Author: Ayesha Rehmani

  • کرم کشیدگی پر جرگہ: امن وامان کے لیے ہر ایک کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا،گورنر خیبرپختونخوا

    کرم کشیدگی پر جرگہ: امن وامان کے لیے ہر ایک کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا،گورنر خیبرپختونخوا

    گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے کہا ہے کہ امن وامان کے لیے ہر ایک کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا، سیاسی اختلافات اپنی جگہ، لیکن قیام امن کی کوششوں میں ہم سب ایک ہیں۔

    باغی ٹی وی: گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی صوبے کی سیاسی قیادت کے ہمراہ کوہاٹ جرگہ کے لیے پہنچے انہوں نے جرگے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جرگے میں آنے پر سیاسی قائدین اور مشران کا مشکور ہوں،امن وامان کے لیے ہر ایک کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا، سیاسی اختلافات اپنی جگہ، لیکن قیام امن کی کوششوں میں ہم سب ایک ہیں، 5 دسمبر کو آل پارٹیز کانفرنس بلا رکھی ہے، اس اے پی سی میں کرم کی صورتحال پر غور ہوگا کسی بھی مسئلے کا پہلا حل مذاکرات ہیں۔

    کرم میں قبائلی جھڑپوں کا 11 واں روز،ہلاکتوں کی تعداد 130 اور 186 زخمی ہو چکے

    وفاقی وزیر انجینئر امیر مقام نے جرگے سے خطاب میں کہا کہ صوبے میں امن کیلئے ہم سب کو ایک پیج پر آنا ہوگا، خیبرپختونخوا حکومت کو کرم کی صورتحال پر توجہ دینی چاہیے،ہم امن وامان کے قیام کیلئے صوبائی حکومت کے ساتھ بیٹھنے کو تیار ہیں، لوگ ملک میں امن وامان چاہتے ہیں، لوگ ملک میں بدامنی کا خاتمہ چاہتے ہیں۔

    گورنر خیبرپختونخوا کے ہمراہ سیاسی قائدین کا قافلہ بھی گورنر ہاؤس پشاور سے کوہاٹ پہنچا، جرگہ وفد میں مسلم لیگ کے صوبائی صدر وفاقی وزیر امیر مقام ، اے این پی کے میاں افتخار حسین شامل ہیں،جرگے میں قومی وطن پارٹی کے سکندر شیرپاؤ ، جے یو آئی (س) کے حافظ عبدالرافع بھی شامل ہیں، وفد میں جے ہو آئی (س)، جماعت اسلامی، شیعہ علمائے کونسل، مسلم لیگ ق اور نیشنل ڈیموکریٹک موومنٹ کے رہنما موجود ہیں۔

    لکی مروت میں تھانے پر دہشتگردوں کا حملہ،ایک پولیس اہلکار شہید

  • اسموگ سے پھیلنے والی بیماریوں کی رپورٹ جاری

    اسموگ سے پھیلنے والی بیماریوں کی رپورٹ جاری

    لاہور: محکمہ صحت پنجاب نے اسموگ سے پھیلنے والی بیماریوں کی رپورٹ جاری کر دی۔

    باغی ٹی وی : محکمہ صحت پنجاب کے مطابق گزشتہ برس کی نسبت اس سال اسموگ کی بیماریوں میں کمی آئی ہے، پنجاب میں نومبر میں پھیپھڑوں کے 19 لاکھ 14 ہزار 480 کیس رپورٹ ہوئے جبکہ دمہ سے 1 لاکھ 29 ہزار 544 افراد متاثر ہوئےصوبے میں دل کے 61 ہزار سے زائد اور فالج کے 6 ہزار 266 مریض سامنے آئے ہیں،2023 میں پنجاب میں اسموگ کے باعث دوگنی بیماریاں پھیلی تھیں، گزشتہ سال نومبر میں پھیپھڑوں کے 23 لاکھ 82 ہزار 122، دمہ کے 1 لاکھ 45 ہزار 823 کیس رپورٹ ہوئے تھے۔

    محکمہ صحت پنجاب نے مزید بتایا کہ گزشتہ سال دل کے 65 ہزار 650 اور فالج کے 7 ہزار 546 کیس آئے تھے، صرف نومبر میں 58 ہزار 274 پھیپھڑے، دمہ کے 13 ہزار 958 بچے متاثر ہوئے جبکہ نومبر میں 330 بچے دل اور 60 بچے فالج سے متاثر ہو کر اسپتال میں داخل رہے۔

    اسموگ تدارک کیلئے پنجاب حکومت کے اقدامات تسلی بخش قرار

    دوسری جانب لاہور کے عوام نے اسموگ کے تدارک کے لیے پنجاب حکومت کے اقدامات کو تسلی بخش قرار دے دیا پنجاب میں اسموگ کے حوالے سے نجی ادارے نے سروے رپورٹ شائع کردی، سروے انوائرنمنٹل ریسرچ کے نجی ادارے ارتھ پیپل گلوبل کی جانب سے لاہور میں بڑھتی ہوئی اسموگ پر عوامی رائے جاننے کیلئے کیا گیا، جس میں لاہور میں رہائش پذیر 1500 نوجوان لڑکے لڑکیوں کی رائے ریکارڈ کی گئی۔

    سروے کے مطابق اسموگ کا پھیلاؤ 3 چیزوں حکومتی اقدامات، عوامی اقدامات اور ہوا کا رخ پر منحصر ہے،63 فیصد لاہوریوں کی رائے ہے کہ بطور وزیر اعلٰی مریم نواز نے گزشتہ حکومتوں کے مقابلے میں بہتر انداز میں ماحول دوست اور مؤثر اقدامات کئے ہیں، حکومتی اقدا ما ت سے لاہور کے نوجوان بخوبی آگاہ ہیں-

    اشتہاری مراد سعید بھی شرپسندوں کے ہمراہ اسلام آباد آئے، انکشاف

  • ٹرمپ نے بھارتی نژاد شہری کو  ایف بی آئی کا سربراہ نامزد کر دیا

    ٹرمپ نے بھارتی نژاد شہری کو ایف بی آئی کا سربراہ نامزد کر دیا

    واشنگٹن: امریکا کے نومنتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھارتی نژاد شہری کشیپ کاش پٹیل کو وفاقی تفتیشی ادارے ایف بی آئی کا سربراہ منتخب کردیا۔

    باغی ٹی وی: عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق فیڈرل بیورو آف انویسٹی گیشن کے سربراہ جیسی اہم اور حساس ذمہ داری کے لیے ڈونلڈ ٹرمپ کی نگاہِ انتخاب اپنے وفادار اور اسٹیبلشمنٹ کے ناقد پر ٹھہری ہے،کاش پٹیل بھارتی نژاد شہری ہیں جو پیشے کے اعتبار سے وکیل اور تفتیش کار ہیں، ٹرمپ نے ان کے نام کا اعلان کرتے ہوئے کاش پٹیل کو ’’ امریکا فرسٹ فائٹر‘‘ قرار دیا، کاش پٹیل ایک شاندار وکیل، اور تفتیش کار ہیں جنھوں نے اپنا کیریئر کرپشن کو بے نقاب اور امریکیوں کی حفاظت میں صرف کیا ہے۔

    44 سالہ کشیپ کاش پٹیل متعدد بار اپنےآبائی وطن بھارت کےساتھ گہرے تعلق کا اظہار کرتے آئے ہیں،کشیپ کاش پٹیل نیویا ر ک میں گجراتی والدین کے ہاں پیدا ہوئے تھے جن کے بارے میں کہنا تھا کہ وہ مشرقی افریقہ میں پلے بڑھے ہیں۔

    کشیپ کاش پٹیل نے یونیورسٹی آف رچمنڈ سے گریجویشن اور لندن کی یونیورسٹی کالج سے انٹرنیشنل لا میں قانون کی ڈگری حاصل کی،وہ قائم مقام سیکرٹری دفاع کرسٹوفر ملر کے سابق چیف آف اسٹاف کے طور پر خدمات انجام دیں، علاوہ ازیں ٹرمپ کے پہلے دور میں صدر کے نائب معاون اور قومی سلامتی کونسل (NSC) میں انسداد دہشت گردی (CT) کے سینئر ڈائریکٹر کے طور پر کام کرچکے ہیں۔

    کشیپ پٹیل نے اس وقت کے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی کئی اولین ترجیحات پر عملدرآمد کی نگرانی کی، جس میں داعش اور القاعدہ کی قیادت کا خاتمہ سمیت متعدد امریکی یرغمالیوں کی محفوظ وطن واپسی شامل تھی،انھوں نے ٹرمپ کی 2016 کی انتخابی مہم اور روس کے درمیان رابطوں کے بارے میں ہاؤس ریپبلکنز کی تحقیقات میں ہاؤس انٹیلیجنس کمیٹی کے سابق سربراہ ڈیوین نونس کے معاون طور پر بھی اہم کردار ادا کیا تھاکشیپ پٹیل کی ٹرمپ کے ساتھ قربت اور اعتماد کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے دور حکومت ختم ہونے کے بعد مصائب میں گھیرے ٹرمپ نے انہیں اپنے صدارتی ریکارڈ تک رسائی کے لیے نمائندہ نامزد کیا تھا۔

  • معذوروں کو حکومتی کوٹہ کے تحت نوکریاں دی جائیں،حافظ نعیم الرحمان

    معذوروں کو حکومتی کوٹہ کے تحت نوکریاں دی جائیں،حافظ نعیم الرحمان

    لاہور: امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمان نے حکومت سے اپیل کرتے ہوئے کہاکہ معذوروں کو حکومتی کوٹہ کے تحت نوکریاں دی جائیں-

    باغی ٹی وی : الخدمت فاؤنڈیشن کے زیراہتمام منصورہ لاہور میں خصوصی باہمت افرادکے عالمی دن کی مناسبت سے تقریب منعقد کی گئی، تقریب میں نائب صدرالخدمت فاؤنڈیشن پاکستان ذکراللہ مجاہد،ضیاء الدین انصاری سمیت دیگر رہنماؤں نے بھی شرکت کی-

    تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ہوئے حافظ نعیم الرحمان کاکہناتھاکہ اگر پاکستان میں کسی کو بھی وہیل چیئر چاہیے تو الخدمت فاؤنڈیشن اسے مفت فراہم کرے گی،پوری دنیا میں آبادی کا دس فیصد کسی نہ کسی معذوری کاشکار ہیں اور پاکستان میں معذور افراد کی تعداد نوے لاکھ ہے۔

    انہوں نے حکومت سے اپیل کرتے ہوئے کہاکہ معذور افراد ہمارے معاشرے اورخاندان کا اہم ترین حصہ ہیں، معذوروں کو حکومتی کوٹہ کے تحت نوکریاں دی جائیں، پاکستان میں ٹرانسپورٹ یا فٹ پاتھ پر معذور افراد کےلیے کوئی جگہ نہیں، ہماری مائیں بہنیں چنگ چی میں دھکے کھا رہی ہیں،کورونا میں آکسیجن سلنڈر کمائی کےلیے غائب کردیئے گئے تھے لیکن جماعت اسلامی نے لوگوں کو مفت سلنڈر فراہم کئے، ہمارے معاشرے کو بھی ہاتھ پکڑ کر لوگوں کی سرپرستی کرنی چاہیے، ہم نے معذور افراد کانام باہمت افراد رکھا ہے اسی نام سے پکاریں گے۔

    اس موقع پر باہمت افراد میں وہیل چیئرز اور سفید چھڑیاں بھی تقسیم کی گئیں باہمت افراد اور ان کی فیملیز کے لئے ناشتے کا بھی اہتمام کیا گیا۔

  • پی ٹی آئی کارکنوں کے مجرم علی امین اور بشریٰ بی بی ہیں،عظمیٰ بخاری

    پی ٹی آئی کارکنوں کے مجرم علی امین اور بشریٰ بی بی ہیں،عظمیٰ بخاری

    لاہور: وزیرِ اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی کی موجودہ لیڈر شپ بزدلی کے آخری درجے پر فائز ہے-

    باغی ٹی وی : عظمیٰ بخاری نے پریس کانفرنس میں کہا کہ حالیہ مظاہرہ تحریک انصاف کی آخری ناکام بغاوت تھی، جتھوں سے وفاق پر چڑھائی کرنے سے این آر او نہیں ملتے،پی ٹی آئی کی موجودہ لیڈر شپ بزدلی کے آخری درجے پر فائز ہے، کارکنوں کو چھوڑ کر بھاگنے والے کس منہ سے کارکنوں کا دم بھر رہے۔

    انہوں نے کہا کہ اپنی ذلت، بدنامی کو فیک نیوز، افواہوں کے پیچھے چھپا رہے ہیں، عالمی میڈیا نےدیکھا کارکنوں نےڈنڈے مارے، پتھراؤ کیا،جنھیں شرم سےڈوب مرنا چاہیے وہ پھر بھڑکیں مار رہے، بانی پی ٹی آئی کی جماعت ختم کرنے کے لیے بشریٰ بی بی کافی ہے، شدت پسند، انتشاری ٹولہ دوبارہ اسلام آباد کا رخ کرنے کی غلطی نہیں دہرائے گا۔

    اشتہاری مراد سعید بھی شرپسندوں کے ہمراہ اسلام آباد آئے، انکشاف

    دوسری جانب خیبر پخونخوا حکومت کے مشیر اطلاعات بیرسٹر ڈاکٹر سیف کا کہنا ہے کہ وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور کی کی قیادت پر سب کا پورا اعتماد ہے اور انکی سربراہی میں عمران خان رہائی کی تحریک مزید زور پکڑے گی، سانحہ ڈی چوک کے بعد عمران خان رہائی کی تحریک مزید مضبوط ہوگئی ہے-

    ملک بھر میں انٹرنیٹ سروس شدید متاثر

  • اڈیالہ جیل  ذرائع کی عمران خان کی منتقلی کی  افواہوں کی تردید

    اڈیالہ جیل ذرائع کی عمران خان کی منتقلی کی افواہوں کی تردید

    راولپنڈی:اڈیالہ جیل ذرائع نے بانی پی ٹی آئی عمران خان کی منتقلی سے متعلق سوشل میڈیا پر زیر گردش افواہوں کی تردید کی ہے-

    باغی ٹی وی : جیل ذرائع کا کہنا ہے کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان اڈیالہ جیل میں ہیں اور ان کی صحت بھی بالکل ٹھیک ہے، بانی پی ٹی آئی کی اڈیالہ جیل سے منتقلی کی خبروں میں کوئی صداقت نہیں ہے عمران خان معمول کے مطابق اپنے سیل میں موجود ہیں، بانی پی ٹی آئی کے سیل کو تھانہ نیو ٹاؤن کا حصہ قرار دیا گیا ہے، وہ 2 دسمبر تک تھانہ نیو ٹاؤن پولیس تحویل میں جسمانی ریمانڈ پر ہیں۔

    ذرائع کا بتانا ہے کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان کی 28 ستمبر کے احتجاج کے مقدمے میں پولیس نے گرفتاری ڈالی ہے جیل اسپتال کے ڈاکٹر بانی پی ٹی آئی کا روزانہ طبی معائنہ کرتے ہیں، عمران خان کا بلڈ پریشر اور شوگر لیول نارمل ہے، وہ روزانہ دو بار ورزش کرتے ہیں، جیل مینول کے مطابق بانی پی ٹی آئی کو تمام سہولیات دستیاب ہیں، ان کی صحت اور کھانے کا خاص خیال رکھا جاتا ہے، عمران خان کی سکیورٹی کیلئے عملہ ہر وقت تعینات رہتا ہے۔

    عمران ‏خان کی زندگی کو بشریٰ بی بی، گنڈا پور اور ان کے حواریوں سے خطرہ ہے،فیصل واوڈا

    دوسری جانب سیاسی کمیٹی نے بانی پی ٹی آئی تک رسائی کا مطالبہ کردیا –

    پی ٹی آئی کی سیاسی کمیٹی کا اجلاس ہوا، جس میں بانی چیئرمین تحریک انصاف عمران کان کی اڈیالا جیل سے منتقلی سے متعلق مشاورت کی گئی تاہم سیاسی کمیٹی کے اجلاس کا اعلامیہ جاری کردیا گیا شیخ وقاص اکرم نے بتایا کہ عمران خان کی مبینہ اڈیالہ جیل سے کسی اور مقام پر منتقلی کا جائزہ لیا گیا، سابق وزیراعظم کی صحت وسلامتی نہایت حساس معاملہ ہے، قوم کے خدشات سنگین تر ہورہے ہیں۔

    تحریک انصاف کی سیاسی کمیٹی کے اعلامیے میں کہا گیا کہ بانی پی ٹی آئی تک تک اہلِ خانہ، وکلا اور جماعت کے ذمہ داران کی رسائی بحال کی جائے، عوام میں پائے جانے والے خدشات کے ازالے کا اہتمام کیا جائے، کارکنان سے مصدّقہ اطلاعات پر ہی انحصار کریں عدالت عمران خان کی جیل میں سیکیورٹی کو ہر لحاظ سے فول پروف بنائے، کارکنان اور شہریوں کے خلاف درج سینکڑوں جھوٹے مقدمات کی بھی شدید مذمت کی گئی۔

    یقین دلاتا ہوں عمران خان کی پوری حفاظت ہوگی، رانا ثنا اللہ

  • جے شاہ نے  چیئرمین آئی سی سی کا چارج سنبھال لیا

    جے شاہ نے چیئرمین آئی سی سی کا چارج سنبھال لیا

    دبئی: بی جے پی رہنما اور وزیر داخلہ امیت شاہ کے بیٹے اور بھارتی کرکٹ بورڈ کے سیکرٹری جے شاہ نے آئی سی سی چیئرمین شپ کا چارج سنبھال لیا۔

    باغی ٹی وی : آئی سی سی نے بھی تصدیق کر دی ہے کہ جے شاہ نے بطور آئی سی سی چیئرمین عہدے پر کام کا آغاز کر دیا ہے، چیئرمین آئی سی سی کی حیثیت سے جے شاہ کے عہدے کی مدت شروع ہو گئی ہے۔

    جے شاہ نے اپنے بیان میں کہا کہ آئی سی سی چیئرمین کا عہدہ سنبھالنے پر فخر محسوس کر رہا ہوں، آئی سی سی ڈائریکٹرز اور رکن بورڈز کی حمایت اور اعتماد کا شکر گزار ہوں،یہ کھیل کے لیے پُرجوش لمحہ ہے، ہم اولمپکس 2028 کی تیاری کر رہے ہیں، ہم کرکٹ کو شائقین کے لیے مزید دلچسپ بنانے کی کوشش کر رہے ہیں، ہم ایک اہم موڑ پر ہیں جہاں مختلف فارمیٹس ایک ساتھ موجود ہیں۔

    آئی سی سی چئیرمین کو ایک ماہ کی توسیع دینے کا فیصلہ

    انہوں نے کہا کہ خواتین کے کھیل کی ترقی کو تیز کرنے کی ضرورت ہے، کرکٹ میں عالمی سطح پر بے پناہ صلاحیت موجود ہے، کھیل کو نئی بلندیوں تک لے جانے کے لیے آئی سی سی ٹیم اور رکن ممالک کے ساتھ قریبی کام کرنے کا منتظر ہوں۔

    پاکستان ہائبرڈ ماڈل پر راضی، بھارتی میڈیا کا دعویٰ

  • اشتہاری مراد سعید بھی شرپسندوں کے ہمراہ اسلام آباد آئے، انکشاف

    اشتہاری مراد سعید بھی شرپسندوں کے ہمراہ اسلام آباد آئے، انکشاف

    اسلام آباد: وزارت داخلہ نے اسلام آباد میں پی ٹی آئی احتجاج کے حوالے سے رپورٹ جاری کی ہے-

    باغی ٹی وی : 21 نومبر کو اسلام آباد ہائی کورٹ نے وفاقی حکومت کو امن و امان ہر قیمت پر قائم رکھنے کی ہدایت کی،ہائی کورٹ نے وزیر داخلہ کو ہدایت کی کہ وہ امن و امان کے حوالے سے پی ٹی ائی قیادت سے رابطہ کریں بیلاروس کے صدر اور اعلی سطحی چینی وفد کے دورے کے پیش نظر پی ٹی آئی کومتعدد بار احتجاج موخر کرنے کا کہا گیا،پی ٹی آئی کے احتجاج جاری رکھنے کی ضد پر انہیں سنگجانی مقام کی تجویز دی گئی۔

    مظاہرین نے سنگجانی کے بجائے اسلام آباد کے ریڈ زون میں داخل ہو کر قانون کی خلاف ورزی کی، پر تشدد مظاہرین نے پشاور تا ریڈ زون تک مارچ کے دوران ڈیوٹی پر مامور اہلکاروں کو نشانہ بنایا،مظاہرین نے اسلحہ بشمول سٹیل سلنگ شاٹس، سٹین گرنیڈ، آنسو گیس شیل اور کیل جڑی لاٹھیوں وغیرہ کا استعمال کیا۔پر تشدد احتجاج میں خیبر پختونخواہ حکومت کے وسائل کا بھرپور استعمال کیا گیا۔

    پی ٹی آئی کے پرتشدد احتجاج میں تربیت یافتہ شر پسند اور غیر قانونی افغان شہری بھی شامل تھےیہ سخت گیر 1500 شرپسند براہ راست مفرور اشتہاری مراد سعید کے ماتحت سرگرم تھےجو خود بھی ہمراہ تھااس گروہ نے عسکریت پسندانہ حکمت عملی کا استعمال کرتے ہوئے قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں پر حملہ کیا قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں نے پر تشدد مظاہرین کے ساتھ انتہائی تحمل کا مظاہرہ کیا۔

    اسلام آباد میں چیک پوسٹ پر ڈیوٹی پر متعین تین رینجرز اہلکاروں کو گاڑی چڑھا کر شہید کیا گیا پر تشدد مظاہرین نے ایک پولیس اہلکار کو بھی شہید کیا شر پسندوں کے ہاتھوں قانون نافذ کرنے والے اداروں کے 232 اہلکار بھی زخمی ہوئے۔پرتشدد مظاہرین نے سکیورٹی فورسز پر حملہ کیا اور پولیس کی متعدد گاڑیوں کو بھی آگ لگائی، آئین کے آرٹیکل 245 کے تحت اسلام آباد میں پاک فوج کو تعینات کیا گیا

    پاک فوج کی تعییناتی کا مقصد اہم تنصیبات کو محفوظ اور غیر ملکی سفارت کاروں کی حفاظت اور دورے پر آئے اہم وفود کے لیے محفوظ ماحول کو یقینی بنانا تھا پولیس اور رینجرز نے اس پرتشدد ہجوم کو منتشر کرنے کے لیے Live Ammunition کا استعمال نہیں کیا –

    واضح رہے کہ پاک فوج کا اس تشدد ہجوم سے براہ راست کوئی ٹکراؤ نہیں ہوا اور نہ ہی وہ Riot control پر تعینات تھی منتشر کرنے کے عمل کے دوران قیادت کے ہمراہ مسلح گارڈز اور مظاہرین کے مسلح شر پسندوں نے اندھا دھند فائرنگ کی، ان خود ساختہ پر تشدد حالات میں پی ٹی آئی قیادت نے صورتحال سنبھالنے کے بجائے راہ فرار اختیار کیا۔

    مظاہرین کے علاقے سے فرار کے فوری بعد وفاقی وزرائے داخلہ اور اطلاعات نے متاثرہ علاقے کا دورہ بھی کیا اور پریس ٹاک کی، پی ٹی آئی نے سوشل میڈیا پر ایک منظم پراپیگینڈہ شروع کر دیا ہے،پراپیگنڈہ میں مبینہ ہلاکتوں کی ذمہ داری قانون نافذ کرنے والے اداروں پر ڈالنےکی مذموم کوشش کی جا رہی ہے۔

    وفاقی دارالحکومت کے بڑے ہسپتالوں کی انتظامیہ نے ہلاکتوں کی رپورٹ کی تردید بھی کی، من گھڑت سوشل میڈیا مہم کے دوران پرانے اور AI سے تیار کردہ جھوٹے کلپس کا استعمال بھی کیا جا رہا ہے بد قسمتی سے غیر ملکی میڈیا کے بعض عناصر بھی اس پروپیگنڈہ کا شکار ہو گئے ہیں۔

    وزراء، حکومتی اہلکار، پولیس آفیشلز اور کمشنر اسلام آباد نے بار بار مصدقہ ثبوت کے ساتھ اصل صورتحال کی وضاحت کی، قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں نے اپنی جانیں خطرے میں ڈال کر پاکستانی شہریوں کی حفاظت کی، پی ٹی آئی کی سوشل میڈیا مہم پاکستان میں انتشار بدامنی اور تفرقہ بازی کو فروغ دے رہی ہے، اندرون اور بیرون ملک ایسے عناصر کا متعلقہ قوانین کے تحت احتساب کیا جائے گا۔

    وزیراعلی خیبر پختونخواہ نے صوبائی اسمبلی کو اداروں کے خلاف بے بنیاد اور اشتعال انگیز بیانات کے لیے استعمال کیا، پرتشدد مظاہرین سے 18 خودکار ہتھیاروں سمیت 39 مہلک ہتھیار برآمد ہوئے ہیں، پکڑے گئے شر پسندوں میں تین درجن سے زائد غیر ملکی اجرتی شامل ہیں،جیل وینز کو آگ لگانے کے ساتھ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی 11 گاڑیوں کو بھی نقصان پہنچا،پرتشدد مظاہروں کے دوران ابتدائی اندازوں کے مطابق سینکڑوں ملین کا نقصان ہوا ہے۔

    ان پر تشدد مظاہروں کی وجہ سے معیشت کو بالواسطہ نقصانات کا تخمینہ 192 ارب روپے یومیہ ہے، پاکستان بشمول خیبر پختونخواہ کے قابل فخر عوام اس قسم کی پرتشدد سیاست کو مسترد کرتے ہیں، عوام بے بنیاد الزامات اور بد نیتی پر مبنی پروپیگنڈہ کو بھی مسترد کرتے ہیں۔۔۔پوری پاکستانی قوم ملک میں امن و استحکام کی خواہش کے لئے اپنے اداروں کیساتھ یکجا کھڑی ہے۔

  • ملک بھر میں انٹرنیٹ سروس شدید متاثر

    ملک بھر میں انٹرنیٹ سروس شدید متاثر

    کراچی: ملک بھر میں انٹرنیٹ سروس شدید متاثر ہونے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں،انٹرنیٹ کی سست روی کے باعث آن لائن کام کرنے والے صارفین کو شدید پریشانی کا سامنا ہے۔

    باغی ٹی وی: صارفین کے مطابق کراچی کے علاقے نارتھ ناظم آباد، گلشن اور کارساز کے کئی مقامات پر انٹرنیٹ اسپیڈ متاثر ہے کوئٹہ سمیت بلوچستان بھر میں بھی انٹرنیٹ سست روی کا شکار ہےکوئٹہ میں انٹرنیٹ صارفین نے حکام سے سروس کی مکمل بحالی کا مطالبہ کیا ہے۔

    ذرائع کے مطابق پشاور کے بھی مختلف علاقوں میں انٹرنیٹ سروس شدید متاثر ہے، پشاور میں صارفین کا کہنا ہے کہ وائس نوٹ، تصاویر، ویڈیو اپلوڈنگ اور ڈاؤن لوڈنگ میں مشکلات ہیں،کئی علاقوں میں وائی فائی سروس میں بھی خلل آرہا ہے۔

  • اسلام آباد سے گرفتار پی ٹی آئی شرپسندوں کے تہلکہ خیز انکشافات

    اسلام آباد سے گرفتار پی ٹی آئی شرپسندوں کے تہلکہ خیز انکشافات

    اسلام آباد سے گرفتار پی ٹی آئی شرپسندوں نے تہلکہ خیز انکشافات کئے ہیں-

    باغی ٹی وی : پی ٹی آئی کے حالیہ احتجاج میں شریک جل حبیب کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی والوں نے ہمیں پیسے دے کر ڈی چوک میں توڑ پھوڑ کرنے کیلئے چھوڑا،عابد نواز کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی والے ہمیں یہاں لے کر آئے اور پھر ہمیں چھوڑ کر خود بھاگ گئے، ایک اور شر پسند صدیق نے کہا کہ میں پی ٹی آئی کے احتجاج میں شامل ہونے اسلام آباد آیا تھا اور یہاں ہمیں پولیس نے گرفتار کیا لیکن پی ٹی آئی کا کوئی بندہ ہمیں چھڑانے نہیں آیا۔

    ایک شرپسند عباس خان نے کہا کہ میں پی ٹی آئی والوں کے کہنے پر یہاں آیا لیکن وہ ہمیں یہاں چھوڑ کر بھاگ گئے اور پولیس والے ہمیں یہاں لے آئے لیکن کوئی تشدد نہیں کیا، ایک شرپسند طاہر خان نے کہا کہ ہمارا لیڈر میدان چھوڑ کر بھاگ گیا اور لوگوں نےبہت توڑ پھوڑ بھی کی لہذا اب سے میرا پی ٹی آئی سے کوئی تعلق نہیں ہے،ہم سب یہاں پی ٹی آئی کی کال پر آئے تھے لیکن ہمیں بہت ذلالت کا سامنا ہوا اور اب ہم انہیں اپنا لیڈر نہیں مانتے۔