Baaghi TV

Author: Ayesha Rehmani

  • وینس میں سیاحوں کی بس پل سے نیچے جاگری، 21 افراد ہلاک، 20 سے زائد زخمی

    وینس میں سیاحوں کی بس پل سے نیچے جاگری، 21 افراد ہلاک، 20 سے زائد زخمی

    اٹلی کے شہروینس میں سیاحوں کی بس پل سے نیچے جاگری، حادثے میں 21 افراد ہلاک جبکہ 20 سے زائد زخمی ہوگئے۔

    باغی ٹی وی : غیر ملکی خبررساں ایجنسی کے مطابق اٹلی کے شہر وینس میں بس پل فلائی اوور سے نیچے بجلی کی تاروں پر گری، جس کے بعد رکاٹوں سے ٹکرا کر 30 میٹر مفاصلے پر ریلوے ٹریک پر جا گری جس کے باعث بس میں آگ لگ گئی تھی شہری بھی تھے بس حادثے میں ہلاک ہونے والوں میں 2 بچے، 5 یوکرینی، ایک جرمنی اور بس ڈرائیور بھی شامل ہیں، حادثے کے فوری بعد ریسکیو کی ٹیمیں موقع پر پہنچ گئیں اور زخمیوں کو قریبی اسپتال منتقل کیا گیا،اٹلی کے وزیر برائے ٹرانسپورٹ نے واقعے میں ہلاکتوں کی تعداد میں اضافے کا خدشہ ظاہر کر دیا ہے۔

    طوارقی اسٹیل ملز کا نام تبدیل کرنے اور فرٹیلائزر پلانٹس کو گیس کی فراہمی جاری …

    پولیس کے مطابق فوری طور پر بس حادثے کی وجہ سامنے نہیں آسکی تاہم تحقیقات کی جا رہی ہیں ڈرائیور کی ہلاکت کی وجہ سے بھی تحقیقات میں مشکلات ہیں خیال کیا جا رہا ہے کہ بس سیاحوں کو واپس کیمپ کی طرف لے کر جا رہی تھی کہ حادثہ پیش آیا ، اٹلی کی وزیراعظم جارجیا میلونی نے حادثے پر اظہار افسوس کرتے ہوئے کہا کہ حادثے کا سبب اچانک سے ڈرائیور کی طبیعت خراب ہو جانا ہو سکتی ہے۔

    حکام کے مطابق زخمیوں میں سے بیشتر کی حالت خطرے میں ہے اور اموات کی تعداد میں اضافہ بھی ہو سکتا ہے۔

    میثاق جمہوریت اور میثاق معیشت کی بات کی تو ہمیں چور ڈاکو کہا . پیپلزپارٹی …

  • فزکس کا نوبل انعام حاصل کرنے والے سائنسدانوں کے ناموں کا اعلان کر دیا گیا

    فزکس کا نوبل انعام حاصل کرنے والے سائنسدانوں کے ناموں کا اعلان کر دیا گیا

    رائل سوئیڈش اکیڈمی آف سائنسز نے سال 2023 کے لیے فزکس کا نوبل انعام حاصل کرنے والے سائنسدانوں کے ناموں کا اعلان کر دیا۔

    باغی ٹی وی: اس سال فزکس کا نوبل انعام ایٹو سیکنڈ پلسز آف لائٹ پر تحقیق کرنے والے پیئری ایگوسٹنی (اوہائیو یونیورسٹی، امریکہ)، فیرینگ کروز (میکس پلینک انسٹیٹیوٹ، جرمنی) اور این ایلہوئیلر (لُند یونیورسٹی سوئیڈن) کے نام رہا۔

    ایٹو سیکنڈ فزکس کا ایک ایسا شعبہ ہے جس میں سائنس دان وقت کے انتہائی چھوٹے پیمانے پر انتہائی چھوٹے ذرات کو دیکھتے ہیں ایٹو سیکنڈ ایک نینو سیکنڈ کا ایک ارب واں حصہ ہوتا ہے،سائنس دانوں نے ایسے تجربات وضع کیے جو انتہائی تیز لیزر ارتعاش پیدا کر سکتے ہیں اور دنیا کو انتہائی چھوٹے پیمانے پر پرکھنے میں مدد کے لیے استعمال کیے جاسکتے ہیں جبکہ طبعیات سمیت دیگر سائنسی شعبوں میں بھی اس کا استعمال کیا جاسکتا ہے نوبل انعام حاصل کرنے والے سائنس دانوں کو 10 لاکھ امریکی ڈالر کی رقم بھی دی جائے گی۔

    میثاق جمہوریت اور میثاق معیشت کی بات کی تو ہمیں چور ڈاکو کہا . پیپلزپارٹی …

    https://x.com/NobelPrize/status/1709143709470572915?s=20
    ٹیم میں شامل این ایلہوئیلر تاریخ کی پانچویں خاتون ہیں جن کو فزکس میں نوبل انعام سے نوازا گیا اس سے قبل 221 ایوارڈ یافتہ خواتین میں 1903 میں میری کیوری، 1963 میں ماریہ جیوپرٹ مایر، 2018 میں ڈونا اسٹرک لینڈ اور 2020 میں اینڈریا گھیز نے فزکس میں نوبل انعام حاصل کیا تھا۔

    طوارقی اسٹیل ملز کا نام تبدیل کرنے اور فرٹیلائزر پلانٹس کو گیس کی فراہمی جاری …

  • وقت کرتا ہے پرورش برسوں  حادثہ  ایک  دم  نہیں   ہوتا

    وقت کرتا ہے پرورش برسوں حادثہ ایک دم نہیں ہوتا

    وقت کرتا ہے پرورش برسوں
    حادثہ ایک دم نہیں ہوتا

    قابل اجمیری

    اردو کے ممتاز شاعر قابل اجمیری 27 اگست، 1931ء کو چرولی، اجمیر شریف میں پیدا ہوئے اور صرف 31 برس کی عمر میں 3 اکتوبر 1962 کو حیدر آباد میں ان کی وفات ہوئی قابل اجمیری کا اصل نام عبد الرحیم تھا۔ وہ سات سال کے تھے کہ ان کے والد تپ دق (ٹی بی) میں مبتلا ہو کر انتقال کرگئے۔ کچھ وقت یتیم خانے میں بسر ہوا۔ کچھ ہی دنوں بعد ان کی والدہ کا انتقال ہو گیا. پھر ان کی چھوٹی بہن فاطمہ بھی دنیا سے چلی گئی۔ 1948 میں اپنے بھائی شریف کے ساتھ پاکستان آ گئے اور حیدر آباد، سندھ میں رہائش پزیر ہوئے۔

    قابل نے چودہ سال کی عمر میں شاعری کی ابتدا کی۔ ان کی شاعری کو نکھارنے اور سنوارنے میں مولانا مانی اجمیری کا بڑا ہاتھ ہے۔ ان کو حیدرآباد میں دوستوں کا ایک بڑا حلقہ ملا۔ وہ ادبی جریدے "نئی قدریں” کے مدیر اختر انصاری اکبر آبادی کے خاصے قریب رہے۔ قابل حیدرآباد کے روزنامے "جاوید” اور ہفت روزے ” آفتاب” میں قطعات بھی لکھتے رہے۔

    والدین کی طرح تپ دق سے وہ بھی نہ بچ سکے. 1960ء میں کوئٹہ (بلوچستان) کے سینیٹوریم میں داخل ہوئے۔ وہاں ان کی ملاقات ایک مسیحی نرس نرگس سوزن سے ہوئی. کچھ ہی دنوں بعد نرگس سوزن نے اسلام قبول کرکے قابل سے شادی کرلی، جن سے ان کے صاحبزادے ظفر اجمیری نے جنم لیا۔ نرگس سوزن 2 اگست 2001 تک زندہ رہیں.

    ’’کلیات قابل اجمیری‘‘ میں شہزاد احمد نے لکھا "قابل اجمیری کی ذاتی زندگی ایک طویل المیہ تھی لوگ تو یہاں تک کہتے ہیں کہ جب ڈاکٹر نے انہیں سیب کھانے کے لیے مشورہ دیا تھا تو ان کے پاس سیب خریدنے کے لیے پیسے نہیں تھے۔ مگر اس کے باوجود اس ظالم دنیا میں ایک خاتون ایسی ضرور موجود تھی جس نے کوئٹہ کے سینی ٹوریم میں قابل کی شریک حیات بننے کا فیصلہ اس وقت کیا جب اسے معلوم تھا کہ ان کے پاس زیادہ وقت نہیں ہے۔ پھر اس خاتون نے قابل اجمیری کے لیے ترک مذہب کر کے اسلام بھی قبول کیا تھا۔”

    اس خاتون کے سبب ہی قابل اجمیری کے دو شعری مجموعے ’’رگ جاں‘‘ اور’’ دیدہ بیدار‘‘ شائع ہو سکے۔ ورنہ شاید قابل کا نام کہیں اوراق میں گم ہو چکا ہو تا۔ کیونکہ وہ اپنے مجموعہ کلام شائع کرانے کی صلاحیت ہی نہیں رکھتے تھے۔ بعد میں سلیم جعفری نے 1992 میں”کلیات قابل‘‘شائع کی۔

    ایک صحافی توصیف چغتائی نے بیگم قابل اجمیری کا انٹرویو لیا تھا۔ جس میں انہوں نے لکھا: ’میں نے جگہ جگہ انہیں تلاش کیا اور آخر کار میں نے انہیں ملٹری ہسپتال میں پا ہی لیا۔ اس لمحہ میرا جی چاہا کہ میں ان سے کہوں، مادام آپ بہت عظیم ہیں آپ نے سب کچھ جانتے ہوئے بھی اپنے ہاتھ لہو میں بھر لیے ایک شاعر اور وہ بھی اردو ادب کا پھر ٹی بی کا مریض اور اس کے لیے اتنی عظیم قربانی! سب کچھ جانتے ہوئے بھی آپ نے اسے کیوں اپنا لیا ؟ لیکن میں ان سے کچھ نہ کہہ سکا دراصل وہ قابل کے ذکر میں ایسی کھوئی ہوئی تھیں کہ میں سنتا رہا اور وہ کہتی رہیں۔‘

    قابل صاحب سے ان کی ملاقات ریلوے کے سینی ٹوریم میں سنہ 1960 میں ہوئی تھی جب انہوں نے محسوس کیا کہ شاعر یاس و آس کا شکار ہے اور اس کے حالات نازک ترین ہیں تب انہوں نے شاعر کو موت کے منہ سے بچانے کا پورا عزم کیا اور دن رات اس کی صحت یابی کی کوشش کرتی رہیں یہاں تک کہ شاعر نے کروٹ لی اور محسوس کیا کہ اس کا کھویا ہوا اعتماد پھر واپس آگیا ہے اور یہ کہ زندگی بہت حسین ہے اور اسے جینا چاہیئے۔

    ’میں نے محسوس کیا کہ قابل بے حد دکھی انسان ہیں۔ ایسے دکھی جن کے پاس غم اور فکر دوراں کے علاوہ اور کچھ نہیں۔ اسی لیے میں نے سوچا کہ شاید میرا سہارا ان کی معذور زندگی میں نیا خواب بکھیر دے چنانچہ میں نے ان سے شادی کر لی. ہم لوگ کوئٹہ سے حیدرآباد چلے آئے قابل صاحب کو میں نے گھر ہی پر رکھا اور علاج برابر جاری رہا۔‘

    ایک ایسا شاعر جس کی پوری زندگی المیہ رہی ہو اس سے درد و کرب کے علاوہ اور کسی چیز کی کیا توقع کی جا سکتی ہے لیکن ان سب کے باوجود قابل زمانہ میں رونما ہونے والے تغیرات سے بے خبر نہیں تھے۔ جن کی باز گشت ان کے اشعار میں سنائی دیتی ہے۔ قابل نے درد و کرب کی کہانیاں تو بیان کی ہی ہیں، اس کے ساتھ ساتھ دنیا کے تغیرات کو بھی اپنی گرفت میں لیا ہے۔ اسی لیے قابل کی شاعری آج بھی زندہ ہے اور شاید وقت گزرنے کے ساتھ اس کی معنویت میں اضافہ ہوتا جائے گا۔

    قابل اجمیری کی وفات کے 58 برس بعد حیدر آباد کی بلدیہ اعلیٰ نے شہر کا ایک اہم چوک ان سے منسوب کردیا.

    قابل کے چند اشعار

    جی رہا ہوں اس اعتماد کے ساتھ
    زندگی کو مری ضرورت ہے

    تم نہ مانو مگر حقیقت ہے
    عشق انسان کی ضرورت ہے

    رنگِ محفل چاہتا ہے اک مکمل انقلاب
    چند شمعوں کے بھڑکنے سے سحر ہوتی نہیں

    راستہ ہے کہ کٹتا جاتا ہے
    فاصلہ ہے کہ کم نہیں ہوتا

    ہم بدلتے ہیں رخ ہواؤں کا
    آئے دنیا ہمارے ساتھ چلے

    اب یہ عالم ہے کہ غم کی بھی خبر نہیں ہوتی
    اشک بہہ جاتے ہیں لیکن آنکھ تر نہیں ہوتی

    زمانہ دوست ہے کس کس کو یاد رکھو گے
    خدا کرے تمہیں مجھ سے دشمنی ہوجائے

    رکا رکا سا تبسم، جھکی جھکی سی نظر
    تمہیں سلیقہ بے گانگی کہاں ہے ابھی

    سکونِ دل کی تمنا سے فائدہ قابل
    نفس نفس غمِ جاناں کی داستاں ہے

    تضادِ جذبات میں یہ نازک مقام آیا تو کیا کرو گے
    میں رو رہا ہوں تو ہنس رہے ہو میں مسکرایا تو کیا کرو گے

    مجھے تو اس درجہ وقتِ رخصت سکوں کی تلقین کر رہے ہو

    مگر کچھ اپنے لیے بھی سوچا، میں یاد آیا تو کیا کرو گے

    کچھ اپنے دل پر بھی زخم کھاؤ مرے لہو کی بہار کب تک
    مجھے سہارا بنانے والو، میں لڑکھڑایا تو کیا کرو گے

    ابھی تو تنقید ہو رہی ہے مرے مذاقِ جنوں پہ لیکن
    تمہاری زلفوں کی برہمی کا سوال آیا تو کیا کرو گے

    ابھی تو دامن چھڑا رہے ہو، بگڑ کے قابل سے جا رہے ہو
    مگر کبھی دل کی دھڑکنوں میں شریک پایا تو کیا کرو گے

    تم نے مسرتوں کے خزانے لٹا دیے
    لیکن علاجِ تنگیِ داماں نہ کر سکے

    حیرتوں کے سلسلے سوزِ نہاں تک آ گئے
    ہم نظر تک چاہتے تھے تم تو جاں تک آ گئے

    نامرادی اپنی قسمت، گمرہی اپنا نصیب
    کارواں کی خیر ہو، ہم کارواں تک آ گئے

    انکی پلکوں پر ستارے اپنے ہونٹوں پر ہنسی
    قصہٴ غم کہتے کہتے ہم کہاں تک آ گئے

    اپنی اپنی جستجو ہے اپنا اپنا شوق ہے
    تم ہنسی تک بھی نہ پہنچے ہم فغاں تک آگئے

    زلف میں خوشبو نہ تھی یا رنگ عارض میں نہ تھا
    آپ کس کی آرزو میں گلستاں تک آ گئے

    خود تمھیں چاکِ گریباں کا شعور آ جائے گا
    تم وہاں تک آ تو جاؤ، ہم جہاں تک آ گئے

    آج قابل میکدے میں انقلاب آنے کو ہے
    اہلِ دل اندیشہٴ سود و زیاں تک آ گئے

    کچھ غم زیست کا شکار ہوئے
    کچھ مسیحا نے مار ڈالے ہیں

    رہ گزار حیات میں ہم نے
    خود نئے راستے نکالے ہیں

    مجھی پہ ختم ہیں سارے ترانے
    شکست ساز کی آواز ہوں میں

    کوئے قاتل میں ہمی بڑھ کے صدا دیتے ہیں
    زندگی، آج ترا قرض چکا دیتے ہیں

  • توہین چیف الیکشن کمشنر اور الیکشن کمیشن کیسز کی سماعت مقرر

    توہین چیف الیکشن کمشنر اور الیکشن کمیشن کیسز کی سماعت مقرر

    اسلام آباد: چئیرمین پی ٹی آئی کے خلاف توہین چیف الیکشن کمشنر اور الیکشن کمیشن کیسز کی سماعت11 اکتوبر کیلئے مقرر کرلی گئی ہے۔

    باغی ٹی وی : توہین الیکشن کمشنر اور الیکشن کمیشن کیس میں چئیرمین پی ٹی آئی، اسدعمر اور فواد چوہدری کے خلاف 11 اکتوبر کر فرد جرم عائد کی جائے گی چئیرمین پی ٹی آئی کے خلاف توہین چیف الیکشن کمشنر اور الیکشن کمیشن کیسز کی سماعت11 اکتوبر کیلئے مقرر کرلی گئی ہے الیکشن کمیشن کے مطابق جواب دہ کو ذاتی حیثیت میں پیش ہونے کا حکم دے دیا گیا ہے۔

    دوسری جانب سابق پی ٹی آئی رہنما فواد چوہدری نے اسلام آباد کی مقامی عدالت میں زیرسماعت بغاوت پراکسانے کے کیس میں بریت کی درخواست دائرکردی ایڈیشنل سیشن جج اسلام آباد طاہرعباس سپرا نے بغاوت پر اکسانے کے کیس کی سماعت کی۔

    افغانستان کا آج ایک کروڑ 40 لاکھ ڈالر نیلام کرنے کا اعلان

    فواد چوہدری اپنے وکیل فیصل چوہدری کے ہمراہ عدالت میں پیش ہوئے اوربریت کی درخواست دائر کرتے ہوئے موقف اپنایا کہ میرے خلاف مقدمہ سیاسی بنیادوں پر بنایا گیا، کوئی ثبوت نہیں نہ ہی ایف آئی آرمیں لگائی دفعات کا اطلاق ہوتا ہے چالان میں بنیادی نوعیت کے ثبوت بھی نہیں حاصل کیے جا سکے، مدعی الیکشن کمیشن کا ملازم ہے، بیان کو سپورٹ کرنے کے لئے ملازم کا بیان شامل نہیں کیا گیافواد چوہدری نے کیس میں بریت کی درخواست منظور کرنے کی استدعا کی عدالت نے فواد چوہدری کی بریت کی درخواست پر فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے سماعت 23 اکتوبر تک ملتوی کردی۔

    عثمان ڈار کی گمشدگی کا مقدمہ درج کرنے کا حکم

  • نئے چیئرمین نادرا نے تاحال اپنے عہدے کا چارج نہیں سنبھالا ،تمام دفاتر میں کام رک گیا

    نئے چیئرمین نادرا نے تاحال اپنے عہدے کا چارج نہیں سنبھالا ،تمام دفاتر میں کام رک گیا

    اسلام آباد: نئے چیئرمین نادرا نے تاحال اپنے عہدے کا چارج نہیں سنبھالا جس کے باعث نادرا کے تمام دفاتر میں کام رک گیا ہے۔

    باغی ٹی وی: لیفٹیننٹ جنرل منیر افسر کی بطور نئے چیئرمین نادرا تقرری کی گئی تھی، تاہم نئے چیئرمین نادرا نے تاحال اپنے عہدے کا چارج نہیں سنبھالا نئے چیئرمین کا چارج سنبھالنے تک نادرا کے تمام دفاتر میں کام رک گیا ہے۔

    ترجمان نادرا کا کہنا ہے کہ چیئرمین کا چارج سنبھالنے کے بعد دستخط کیے جائیں گے، اور وہی دستخط تمام نادرا صارفین کے شناختی کارڈز پر پرنٹ ہوتے ہیں۔

    بھارت کا کینیڈا کے سفارتکاروں کی تعداد میں ایک تہائی کمی کا حکم

    واضح رہے کہ چیئرمین نادرا طارق ملک جون میں اپنے عہدے سے مستعفیٰ ہوگئے تھے اور انہوں نے وزیر اعظم شہبازشریف سے ان کے آفس میں ملاقات کرکے اپنا استعفیٰ پیش کیا تھاطارق ملک نے 2013 میں سابق حکومت سے تناؤ بڑھ جانے پر بھی چیئرمین نادرا کے عہدے سے استعفیٰ دیا تھا، جس کے بعد وہ امریکا چلے گئے تھے تاہم انہیں دوبارہ اس عہدے پر تعینات کیا گیا۔

    طارق ملک نے استعفے میں اپنی کارکردگی اورپراجیکٹس کی تفصیلات بتائیں تھیں انہوں نے حاضر سروس یا ریٹائرڈ بیوروکریٹ کو چیئرمین نادرا کی پوسٹ نہ دینے کی سفارش بھی کی تھی-

    پاکستان میں افغان مہاجرین کے خطرے کا از سر نو جائزہ

    طارق ملک نے کہا تھا کہ اپنے دو سالہ قیام کے دوران 45 سے زائد جدت آمیز خدمات اور سہولیات متعارف کرائیں، جن کا مقصد بچوں، نوجوانوں اور پارلیمان کو مضبوط بنانا، شہریوں کی بھرپور سہولت یقینی بنانا اور ٹیکنالوجی کو ملکی ترقی اور خوشحالی کے لیے استعمال میں لانا ہے۔

    دوسری جانب سابق چیئرمین نادرا کے خلاف نادرا ٹھیکے میں مبینہ کرپشن کے حوالے سے وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) تحقیقات بھی کررہی ہے۔

    افغانستان کا آج ایک کروڑ 40 لاکھ ڈالر نیلام کرنے کا اعلان

  • زمین کی پرت کے نیچے ایک بہت بڑے سمندر کی موجودگی کا انکشاف

    زمین کی پرت کے نیچے ایک بہت بڑے سمندر کی موجودگی کا انکشاف

    محققین نے زمین کی پرت کے نیچے ایک بہت بڑے سمندر کی موجودگی کا انکشاف کیا ہے، محققین کئی دہائیوں سے اس گمشدہ گہرے پانی کی تلاش کر رہے ہیں۔

    باغی ٹی وی: محققین کا کہنا ہے کہ زمین کے 400 میل اندر ”رنگ ووڈائٹ“ کے نام سے مشہور چٹان میں پانی کا ایک بہت بڑا ذخیرہ موجود ہے زمین کی سطح ”مینٹل“ کے اندر پانی سپنج جیسی حالت میں ذخیرہ ہوتا ہے، جو کہ مائع، ٹھوس یا گیس نہیں بلکہ چوتھی حالت ہے۔

    جیو فزیسسٹ سٹیو جیکبسن نے کہا کہ رنگ ووڈائٹ ایک سپنج کی طرح ہے، جو پانی سے بھیگا ہوا ہے، رنگ ووڈائٹ کے کرسٹل ڈھانچے کچھ خاص ہے جو اسے ہائیڈروجن کو اپنی طرف متوجہ کرنے اور پانی کو پھنسنے کی اجازت دیتا ہے مینٹل کے گہرے حالات میں اس معدنیات میں بہت زیادہ پانی ہو سکتا ہے‘مجھے لگتا ہے ہم آخر کار زمین کے مکمل واٹر سائیکل کا ثبوت دیکھ رہے ہیں، جو ہمارے قابل رہائش سیارے کی سطح پر مائع پانی کی وسیع مقدار کی وضاحت کرنے میں مدد کر سکتے ہیں-

    19 لاکھ اسکوائر میل رقبے پر پھیلے دنیا کے 8ویں گمشدہ براعظم کا نقشہ تیار

    محققین نے یہ نتائج اس وقت زلزلوں کا مطالعہ کرنے کے دوران اخذ کیے جب انہوں نے پایا کہ سیسمومیٹر زمین کی سطح کے نیچے جھٹکوں کی لہریں ریکارڈ کر رہے ہیں اس سے، وہ یہ ثابت کرنے میں کامیاب ہو گئے کہ پانی اس چٹان میں موجود ہے جسے رنگ ووڈائٹ کہا جاتا ہے اگر چٹان میں صرف ایک فیصد پانی ہے تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ سطحِ زمین کے نیچے سمندر سے تین گنا زیادہ پانی ہے-

    بھارت کا کینیڈا کے سفارتکاروں کی تعداد میں ایک تہائی کمی کا حکم

  • 19 لاکھ اسکوائر میل رقبے پر پھیلے دنیا کے 8ویں گمشدہ براعظم کا نقشہ تیار

    19 لاکھ اسکوائر میل رقبے پر پھیلے دنیا کے 8ویں گمشدہ براعظم کا نقشہ تیار

    سائنسدانوں کی ایک ٹیم نے زی لینڈیا کا نقشہ تیار کرلیا ہے،زی لینڈیا کو دنیا کا ‘8 واں’ براعظم بھی کہا جاتا ہے جو 19 لاکھ اسکوائر میل رقبے پر پھیلا ہوا ہے-

    باغی ٹی وی :واضح رہے کہ فروری 2017 میں سائنسدانوں نے دعویٰ کیا تھا کہ زمین کے 7 نہیں بلکہ 8 براعظم ہیں جن میں سے ایک ہماری آنکھوں کے سامنے ہونے کے باوجود عرصے سے اوجھل تھا انہوں نے اسے زی لینڈیا کا نام دیا جس کا کچھ فیصد حصہ ہی سمندر سے اوپر ہے جس میں نیوزی لینڈ بھی شامل ہے،جرنل Tectonics میں شائع سائنسدانوں نے ایک نئی تحقیق میں بتایا کہ اس براعظم کے آخری حصے کا نقشہ بھی مکمل کرلیا گیا ہے-

    زی لینڈیا کو دنیا کا ‘8 واں’ براعظم بھی کہا جاتا ہے جو 19 لاکھ اسکوائر میل رقبے پر پھیلا ہوا ہے ،مگر اس کا 95 فیصد حصہ زیرآب ہے اور سائنسدانوں کے مطابق لاکھوں سال قبل یہ سمندر میں غرق ہوا ہوگا اس کا نقشہ تیار کرنا بہت مشکل تھا کیونکہ نیوزی لینڈ کے قریب سمندر کی تہہ میں اس کے تمام حصوں کو کھنگالنا آسان نہیں ان سب مشکلات کے باوجود سائنسدان نک مورٹیمر اور ان کی ٹیم نے اس گمشدہ براعظم کا نقشہ 20 سال سے زائد عرصے کی کوششوں کے بعد تیار کرلیا ہے اس ٹیم نے 2019 میں جنوبی زی لینڈیا کے نقشے کو تیار کیا تھا اور اب شمالی حصوں پر بھی کام مکمل کرلیا گیا ہے،جس سے انہیں توقع ہے کہ اس گمشدہ براعظم کے پراسرار ماضی کے راز جاننے میں مدد مل سکے گی۔

    نک مورٹیمر کے مطابق برسوں کی تحقیق اور شواہد کو مدنظر رکھتے ہوئے ہمیں لگتا ہے کہ زی لینڈیا کو ایک براعظم قرار دیا جا سکتا ہے محققین نے وہاں سے چٹانوں کے نمونے بھی اکٹھے کیے جو کہ 3 کروڑ سے لگ بھگ 13 کروڑ سال پرانے تھے اس ڈیٹا سے ماہر ارضیات کو یہ سمجھنے میں مدد ملے گی کہ زی لینڈیا کب زمین کے ایک بڑے ٹکڑے سے الگ ہوا تھا نک مورٹیمر نے زی لینڈیا کو ایک بہت بڑے براعظم Gondwana کے معمے کا ایک ٹکڑا قرار دیا۔
    Gondwana
    ماہرین ارضیات کا ماننا ہے کہ Gondwana ایک ایسا براعظم تھا جو اب انٹار کٹیکا، آسٹریلیا، جنوبی امریکا، افریقا اور بھارت میں تقسیم ہو چکا ہے،یہ براعظم 16 کروڑ سال قبل مختلف حصوں میں تقسیم ہوا تھا سائنسدانوں کا اندازہ ہے کہ یہ براعظم لاکھوں یا کروڑوں سال پہلے آسٹریلیا اور انٹار کٹیکا سے الگ ہونے کے بعد مکمل طور پر زیرآب چلا گیا تھا مگر اب بھی انہیںیہ معلوم کرنا ہے کہ یہ سب براعظم الگ کیوں ہوئے۔

  • بھارت کا کینیڈا کے سفارتکاروں کی تعداد میں ایک تہائی کمی کا حکم

    بھارت کا کینیڈا کے سفارتکاروں کی تعداد میں ایک تہائی کمی کا حکم

    نئی دہلی: بھارت نے کینیڈا کو فوری طور پر اپنے سفارتکاروں کی تعداد میں ایک تہائی کمی کا حکم دیتے ہوئے دھمکی بھی آمیز پیغام جاری کیا ہے-

    باغی ٹی وی :خالصتان تحریک کے رہنما ہردیپ سنگھ کے کینیڈا میں قتل کے بعدکینیڈا نے بھارتی سفار تکار کو ملک بدر کیا تو بھارت نے بھی کینیڈا کے سفارتکار کو ملک چھوڑنے کے احکامات جاری کیے تھے تاہم دونوں ممالک کے درمیان سفارتی سطح پر کشیدگی میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے اور بھارت نے اب کینیڈا کو اپنے سفارتخانے میں تقریباً ایک تہائی عملہ کم کرنے کا حکم دیا ہے۔

    میڈیا رپورٹس کے مطابق بھارتی حکومت نے کینیڈا کو بھارت میں موجود سفارتخانے سے 40 سفارتکاروں کو واپس بلانے کا حکم دیا ہے اور اس کے لیے 10 اکتوبر تک کی تاریخ دی گئی ہےبھارتی حکومت نےکینیڈا کو ساتھ دھمکی بھی دی ہے کہ اگر اس کی بتائی گئی تاریخ تک سفارتکاروں نے ملک نہیں چھوڑا تو ان کو حاصل سفارتی استثنیٰ ختم کردیا جائے گا بھارت میں کینیڈا کے 62 سفارتکار موجود ہیں جن کی تعداد 41 تک کم کرنے کا کہا گیا ہے۔

    چمن فالٹ لائن میں زلزلے کے فوری طورپر آنے کے کوئی سائنسی شواہد نہیں …

    واضح رہے کہ خالصتان کے حامی سکھ رہنما ہردیپ سنگھ نجر کو کینیڈا میں 18 جون کو گولیاں مار کر ہلاک کیا گیا تھا 18 ستمبر کو پہلی بار کینیڈا کی حکومت نے اس قتل میں بھارت کے ملوث ہونے کا الزام عائد کیا تھااس موقع پر جسٹن ٹروڈو نے کہا تھا کہ کینیڈین انٹیلی جنس نے ہردیپ کی موت اور بھارتی حکومت کے درمیان تعلق کی نشاندہی کی ہے۔

    ڈونلڈ ٹرمپ ملک، جمہوریت اور سیاست کو تباہ کرنے پر تلے ہوئے ہیں،جوبائیڈن

  • افغانستان کا آج ایک کروڑ 40 لاکھ ڈالر نیلام کرنے کا اعلان

    افغانستان کا آج ایک کروڑ 40 لاکھ ڈالر نیلام کرنے کا اعلان

    بینک آف افغانستان نے آج ایک کروڑ 40 لاکھ ڈالر کی امریکی کرنسی نیلام کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔

    باغی ٹی وی : افغان نیوز ایجنسی "بختار” نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری ایک بیان میں کہا ہے کہ افغان مرکزی بینک ’دی افغانستان بینک‘ نےآج 3 اکتوبر 2023 کو ایک کروڑ 40 لاکھ امریکی ڈالر نیلام کرنے کا فیصلہ کیا ہے،یہ فیصلہ افغان کرنسی کی مارکیٹ میں قدر کو مستحکم رکھنے کیلئے کیا گیا ہے۔

    واضح رہے کہ گزشتہ ماہ ڈالرز کی افغانستان اسمگلنگ کی وجہ سے پاکستانی روپے کی قدر میں غیر معمولی کمی ہو گئی تھی،ڈالر کی قیمت میں مسلسل تین ہفتوں تک کمی کے بعد روپے کی قدر بحال ہو گئی ہےمنگل کو کاروبار کے آغاز پر انٹر بینک میں ڈالر ایک روپے ایک پیسے سستا ہو گیا، جس کے بعد ڈالر کی قیمت 285 روپے 75 پیسے ہو گئی گزشتہ روز کاروبار کے اختتام پر انٹر بینک میں ڈالر 286 روپے 76 پیسے پر بند ہوا تھا۔

    چیئرمین پی ٹی آئی کی سکیورٹی سے متعلق بشری بی بی کی درخواست …

    اسٹاک مارکیٹ میں کاروبار کا مثبت آغاز ہوا ، پاکستان اسٹاک ایکسچینج کا 100 انڈیکس 162 پوائنٹس کے اضافے کے ساتھ 46 ہزار 789 پوائنٹس کی سطح پر آ گیا۔

    چمن فالٹ لائن میں زلزلے کے فوری طورپر آنے کے کوئی سائنسی شواہد نہیں …

  • چیئرمین پی ٹی آئی کی سکیورٹی سے متعلق بشری بی بی کی   درخواست سماعت کیلئے مقرر

    چیئرمین پی ٹی آئی کی سکیورٹی سے متعلق بشری بی بی کی درخواست سماعت کیلئے مقرر

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے بشریٰ بی بی کی چیئرمین پی ٹی آئی کی سکیورٹی سے متعلق درخواست اعتراضات دور کرتے ہوئےسماعت کے لئے مقررکردی۔

    باغی ٹی وی: اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامرفاروق نے بشریٰ بی بی کی اپنے شوہرکی جیل میں سیکورٹی اورتحفظ کے لئے دائر درخواست پر اعتراضات کے ساتھ سماعت کی، بشریٰ بی بی کے وکیل لطیف کھوسہ عدالت کے روبرو پیش ہوئے۔

    چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ جسٹس عامر فاروق نے استفسار کیا کہ درخواست پر اعتراض لگایا گیا ہے، آپ کی درخواست میں استدعا کیا ہے؟لطیف کھوسہ نے بتایا کہ چیئرمین پی ٹی آئی کی جان کو خطرہ ہے،ان پر وزیر آباد میں بھی حملہ ہوچکا ہے ،جیل میں سکیورٹی اور حقوق کے تحفظ کیلئے درخواست دائرکی ہے،جس پر عدالت نے رجسٹرارآفس کے اعتراضات دورکرتے ہوئے درخواست 5 اکتوبر کو سماعت کیلئے مقرر کرنے کا حکم دے دیا۔

    سندھ ہائیکورٹ: جسٹس عرفان سعادت نے قائمقام چیف جسٹس کےعہدے کاحلف اٹھا لیا

    واضح رہے کہ گزشتہ روز سابق خاتون اول بشریٰ بی بی نے خدشہ ظاہر کیا تھا کہ جیل میں عمران خان کو زہر دیا جاسکتا ہے، ان کے ساتھ جیل میں غیرانسانی سلوک آئین کے آرٹیکل 9 اور14 کی خلاف ورزی ہے،جس کے لئے بشری بی بی نے عدالت کا رخ کیا ،انہوں نے اپنے وکیل کے ذریعےعدالت میں درخواست جمع کرائی ، جس میں کہا گیا ہے کہ جیل میں میرے شوہر کو زہر دیئے جانے کاخدشہ ہے،چیئرمین پی ٹی آئی کو گھر کے کھانے کی اجازت نہیں دی گئی، جب کہ ماضی میں قیدیوں کو سہولت دی جاتی رہی ہے۔

    ملک میں مہنگائی میں مزید اضافہ، شرح 31.44 فیصد تک جا پہنچی

    درخواست میں استدعا کی گئی کہ ذمہ دار میڈیکل افسر کے ذریعے عمران خان کو خالص خوراک کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے، ملاوٹ زدہ خوراک ان کی زندگی کے لیے نقصان دہ ہو سکتی ہے عمران خان کو جیل میں واک اور ایکرسائز کی سہولت فراہم کی جائے، اور جیل میں سہولیات کی فراہمی سے متعلق عدالتی حکم پر عمل درآمد کرایا جائے۔

    ڈونلڈ ٹرمپ ملک، جمہوریت اور سیاست کو تباہ کرنے پر تلے ہوئے ہیں،جوبائیڈن