اسرائیلی فوج نے مقبوضہ بیت المقدس میں واقع مسجدالاقصیٰ کے صحن سے مسجد کے امام شیخ محمد العباسی کو گرفتار کر لیا ہے۔
حماس نے امام شیخ محمد العباسی کی گرفتاری پر شدید ردعمل دیتے ہوئے واقعے مذمت کی ہےتنظیم کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ اسرائیل مسجدالاقصیٰ پر قبضہ جمانا چاہتا ہے اور اس مقصد کے لیے مذہبی شخصیات کو نشانہ بنایا جا رہا ہے ایسے اقدامات فلسطینی عوام کے جذبات کو مزید بھڑکانے کا باعث بن رہے ہیں۔
دوسری جانب اسرائیلی فوج نے مقبوضہ مغربی کنارے کے مختلف علاقوں میں بھی چھاپے مارے، جن کے دوران کئی فلسطینی نوجوانوں کو گرفتار کر لیا گیا۔
مقامی ذرائع ابلاغ کے مطابق ان کارروائیوں کے دوران صورتحال کشیدہ رہی، چھاپوں کی کوریج کرنے والے فلسطینی صحافیوں کو بھی مبینہ طور پر ہراساں کیا گیا، جبکہ بعض رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ ایک بکتر بند گاڑی کے ذریعے صحافیوں کو کچلنے کی کوشش بھی کی گئی،انسانی حقوق کے حلقوں کی جانب سے اسرا ئیلی کارروائیوں پر تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
وفاقی حکومت نے رمضان المبارک 2026 کے دوران سرکاری دفاتر کے اوقات کار کا باقاعدہ اعلان کر دیا ہے۔
اعلامیے کے مطابق 5 روزہ ورک ویک والے سرکاری دفاتر سوموار سے جمعرات صبح 9 بجے سے سہ پہر 3 بجے تک کھلے رہیں گے، جبکہ جمعہ کے روز دفاتر 9 بجے سے دوپہر 12:30 بجے تک کام کریں گے 6 روزہ ورک ویک کے تحت کام کرنے والے ملازمین کے لیے سوموار تا جمعرات اور ہفتہ کے روز اوقات صبح 9 بجے سے دوپہر 2 بجے تک مقرر کیے گئے ہیں، جبکہ جمعہ کو دفتری اوقات صبح 9 بجے سے 12:30 بجے تک ہوں گے۔
وفاقی حکومت کا کہنا ہے کہ یہ اقدام رمضان المبارک کے دوران سرکاری امور کو مؤثر اور منظم انداز میں چلانے کے لیے کیا گیا ہے۔
اس سے قبل حکومت سندھ نے بھی رمضان 2026 کے لیے سرکاری دفاتر کے اوقات کار کا نوٹیفکیشن جاری کیا تھاصوبائی اعلامیے کے مطابق سوموار سے جمعرات دفاتر صبح 10 بجے سے شام 4 بجے تک کھلے رہیں گے، جبکہ جمعہ کو اوقات صبح 10 بجے سے دوپہر 1 بجے تک ہوں گے،وٹیفکیشن چیف سیکریٹری سندھ کی منظوری سے جاری کیا گیا اور اس کا اطلاق صوبے کے تمام سرکاری محکموں، خودمختار اداروں، نجی اداروں اور بلدیاتی کونسلز پر ہوگا۔
پاکستان میں تعینات سعودی سفیر نواف بن سعید المالکی نے کہا ہے کہ سعودی عرب پاکستان کے ساتھ ایک اسٹریٹجک اقتصادی معاہدے کی تیاری کر رہا ہے-
سفیر نواف بن سعید المالکی نے اسلام آباد میں کنگ سلمان ہیومینیٹیرین ایڈ اینڈ ریلیف سینٹر (کے ایس ریلیف) کے تحت رمضان فوڈ اسسٹنس پروگرام کی افتتاحی تقریب کے موقع پر عرب نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سعودی عرب پاکستان کے ساتھ ایک اسٹریٹجک اقتصادی معاہدے کی تیاری کر رہا ہے، جس پر جلد دستخط متوقع ہیں۔
سعودی سفیر کا بیان اس اہم پیشرفت کے چند ماہ بعد سامنے آیا ہے جب ستمبر میں پاکستان اور سعودی عرب کے درمیانStrategic Mutual Defense Agreement پر دستخط کیے گئے تھے اس معاہدے کے تحت دونوں ممالک نے اس عزم کا اظہار کیا تھا کہ کسی ایک پر جارحیت کو دونوں پر حملہ تصور کیا جائے گا۔
سفیر نواف المالکی نے کہا کہ 3 ماہ قبل ہم نے اسٹریٹجک میوچل ڈیفنس ایگریمنٹ پر دستخط کیے تھے۔ اب ان شااللہ ہم پاکستان اور سعودی عرب کی معیشت سے متعلق ایک اور اسٹریٹجک منصوبے کی تیاری کر رہے ہیں، جس پر جلد دستخط ہوں گے۔
گزشتہ سال اکتوبر میں وزیر اعظم شہباز شریف کے دورۂ ریاض کے دوران دونوں ممالک نے اقتصادی تعاون کے فریم ورک پر اتفاق کیا تھا اس موقع پر سعودی ولی عہد محمد بن سلمان سے ملاقات کے بعد جاری مشترکہ اعلامیے میں توانائی، صنعت، کان کنی، آئی ٹی، سیاحت، زراعت اور فوڈ سیکیورٹی سمیت متعدد شعبوں میں بڑے منصوبوں کو ترجیح دینے کا اعلان کیا گیا تھا۔
2024 میں دونوں ممالک مختلف شعبوں میں 2.8 ارب ڈالر مالیت کی 34 مفاہمتی یادداشتوں (ایم او یوز) پر بھی دستخط کر چکے ہیں، جبکہ بجلی کے باہمی رابطے کے منصوبے کے لیے بھی مفاہمتی یادداشت طے پا چکی ہے۔
کے ایس ریلیف کے تحت شروع کیے گئے رمضان فوڈ اسسٹنس پروگرام کے ذریعے پاکستان کے 30 اضلاع میں 1 لاکھ 92 ہزار 500 مستحق افراد کے لیے 27 ہزار فوڈ باسکٹس تقسیم کی جائیں گی ہر پیکج میں 80 کلو آٹا، 5 لیٹر کوکنگ آئل، 5 کلو چینی، 2 کلو کھجور اور 5 کلو چنا شامل ہے، جو ایک اوسط گھرانے کی رمضان بھر کی ضروریات پوری کرنے کے لیے کافی ہےیہ منصوبہ غذائی تحفظ کے چیلنجز سے نمٹنے اور کمزور طبقات کی معاونت کے عزم کا حصہ ہے، اور پاکستان میں انسانی ہمدردی کی بنیاد پر تعاون جاری رکھا جائے گا۔
سری لنکا میں جاری آئی سی سی ٹی20 ورلڈکپ میں پاکستان نے ٹاس جیت کر نمیبیا کیخلاف بیٹنگ کا فیصلہ کیا، پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے پاکستان نے نمیبیا کو جیت کے لیے 200 رنز کا ہدف دیا ہے نمیبیا کی ٹیم ہدف پورا کرنے میں ناکام رہی-
پاکستان نے نمیبیا کو 102 رنز سے شکست دے کر سپرایٹ مرحلے میں رسائی حاصل کرلیکولمبو کے سنہالیز اسپورٹس کلب میں کھیلے جارہے میچ نمیبیا کی ٹیم کو 200 رنز کے ہدف کے تعاقب میں مشکلات کا سامنا رہا،16 وویں اوور تک نمیبیا کے آٹھ کھلاڑی آؤٹ ہوگئے اور ٹیم کا مجموعی اسکور96 ہےفرائیلنک 9، لافٹی ایٹون 5، اسٹینکیمپ 23 اور کپتان جرہارڈ ایراسمس 7 رنز بناکر پویلین لوٹ گئے۔
پاکستان کی جانب سے عثمان طارق نے اننگز کے 14 ویں اوور میں جے جے اسمٹ اور روبین ٹرمپلمین کو آؤٹ کیا جبکہ سلمان مرزا، محمد نواز اور شاداب خان نے ایک ایک وکٹ حاصل کی ہے۔
ٹی20 ورلڈ کپ کے گروپ اے کے 35ویں میچ میں پاکستان نے پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے مقررہ 20 اوورز میں 3 وکٹوں کے نقصان پر 199 رنز بنائے اور نمیبیا کو جیت کے لیے 200 رنز کا ہدف دیا،پاکستان کی جانب سے صاحبزادہ فرحان نے شاندار بیٹنگ کا مظاہرہ کرتے ہوئے ناقابلِ شکست سنچری اسکور کی اور 58 گیندوں پر 100 رنز بنائے، شاداب خان 36 رنز کے ساتھ ناٹ آؤٹ رہے، جبکہ سلمان آغا نے 23 گیندوں پر 38 رنز کی جارحانہ اننگز کھیلی۔
نمیبیا کی جانب سے جیک براسال نے 2 وکٹیں حاصل کیں، جبکہ گیرہارڈ ایرسمس 1 وکٹ حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے۔
قومی ٹیم کے کپتان سلمان علی آغا نے ٹاس جیت کر گفتگو میں بتایا کہ پاکستان نے میچ کے لیے 2 اہم تبدیلیاں کی ہیں؛ بیٹنگ کے لیے سلمان مرزا اور خواجہ نافع کو ٹیم میں شامل کیا گیا ہے، جبکہ شاہین شاہ آفریدی اور ابرار احمد اس میچ میں باہر رہیں گے،نمیبیا کو اچھا ہدف دینے کی کوشش کریں گے، ورلڈکپ کا ہر میچ اہم ہے ہم پر کوئی دباؤ نہیں۔
آج کا میچ پاکستان اور نمیبیا کے درمیان گروپ مرحلے کا انتہائی اہم مقابلہ ہے جس میں سپر8 مرحلے تک رسائی کا فیصلہ ہوگا۔
بنگلہ دیش ایئر لائن کے چیئرمین شیخ بشیر الدین کو حکومتِ بنگلہ دیش نے ان کے عہدے سے فارغ کر دیا ہے۔
سرکاری اعلامیے کے مطابق شیخ بشیر الدین بیک وقت قومی فضائی کمپنی کے چیئرمین اور وزارتِ شہری ہوا بازی و سیاحت کے مشیر کے طور پر خدمات انجام دے رہے تھے،بدھ کے روز وزارت ہوابازی اور سیاحت کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن میں کہا گیا کہ یہ فیصلہ بنگلہ دیش بیمان منسوخ شدہ بنگلہ دیش بیمان آرڈر 1972 کی بحالی و ترمیم ایکٹ 2023 کی متعلقہ شقوں کے تحت کیا گیا،شیخ بشیر الدین کو ان کی خواہش کے مطابق چیئرمین کے عہدے سے سبکدوش کیا گیا ہے۔
اس سے قبل پیر 16 فروری کو انہوں نے اپنا استعفیٰ پیش کیا تھا، جسے منظوری کے لیے چیف ایڈوائزر کے دفتر ارسال کر دیا گیا تھاشیخ بشیر الدین کو گزشتہ برس 26 اگست کو معید چوہدری کی جگہ بیمان بنگلہ دیش ایئرلائنز کا چیئرمین مقرر کیا گیا تھا۔
چین کا مبینہ خفیہ ایٹمی دھماکا، امریکا نے مزید تفصیلات جاری کردیں-
عالمی خبر رساں ایجنسی ’رائٹرز‘ کے مطابق امریکی محکمہ خارجہ کے اعلیٰ عہدیدار کرسٹوفر یو نے انکشاف کیا ہے کہ چین نے جون 2020 میں اپنی ایٹمی تجربہ گاہ لوپ نور میں ایک خفیہ زیر زمین ایٹمی دھماکا کیا تھا ان کا دعویٰ ہے کہ قازقستان میں نصب زلزلے کی پیمائش کرنے والے آلات نے اس دھماکے کو ریکارڈ کیا تھا جس کی شدت 2.75 تھی۔
ایٹمی انجینئرنگ میں مہارت رکھنے والے کرسٹوفر یو نے واشنگٹن میں ہونے والی ایک حالیہ تقریب کے دوران بتایا کہ ڈیٹا کو دیکھنے کے بعد اس بات کا بہت کم امکان ہے کہ یہ کوئی معمولی دھماکا یا زلزلہ ہو، بلکہ یہ زلزلہ بالکل ویسا ہی تھا جیسا کہ ایک ایٹمی تجربے کے نتیجے میں ہوتا ہے چین نے اس دھماکے کو چھپانے کے لیے اسے ایک بڑے زیر زمین کمرے میں سرانجام دیا تاکہ زمین میں پیدا ہونے والی لہروں کی شدت کو کم کیا جا سکے اور دنیا کو پتہ نہ چل سکے۔
دوسری جانب دنیا بھر میں ایٹمی دھماکوں کی نگرانی کرنے والے بین الاقوامی ادارے ’سی ٹی بی ٹی او‘ نے اس معاملے پر محتاط موقف اختیار کیا ہے ادار ے کے سربراہ رابرٹ فلائیڈ کا کہنا ہے کہ ان کے سسٹم نے اس دن دو چھوٹے جھٹکے محسوس کیے تھے لیکن وہ اتنے معمولی تھے کہ صرف ان کی بنیا د پر یہ نہیں کہا جا سکتا کہ یہ ایٹمی دھماکا ہی تھا ان کی مشینیں ایک خاص حد سے بڑے دھماکے کی ہی تصدیق کر سکتی ہیں اور یہ واقعہ اس حد سے بہت نیچے تھا اس لیے فی الحال سائنسی بنیادوں پر امریکی دعوے کی مکمل تصدیق کرنا مشکل نظر آتا ہے۔
چین نے ان تمام الزامات کو سختی سے مسترد کر دیا ہے اور اسے امریکا کی سیاسی چال قرار دیا ہے۔
واشنگٹن میں چینی سفارت خانے کے ترجمان لیو پینگیو کا کہنا ہے کہ یہ الزامات بالکل بے بنیاد ہیں اور امریکا محض اپنے ایٹمی تجربات دوبارہ شروع کرنے کے لیے بہانے تراش رہا ہے وہ ایٹمی ہتھیاروں کی دوڑ کے خلاف ہے اور امریکا خود اپنی ذمہ داریوں سے بھاگنے کے لیے دوسروں پر انگلیاں اٹھا رہا ہے۔
چین نے آخری بار باضابطہ طور پر 1996 میں ایٹمی تجربہ کیا تھا اور وہ تب سے ایٹمی تجربات پر پابندی کے عالمی معاہدے پر عمل پیرا ہونے کا دعویٰ کرتا ہے اس ساری صورتحال کے پیچھے ایک بڑی وجہ عالمی طاقتوں کے درمیان ایٹمی ہتھیاروں کو محدود کرنے والا وہ معاہدہ ہے جو حال ہی میں ختم ہوا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ چاہتے ہیں کہ چین بھی امریکا اور روس کے ساتھ مل کر ایک نئے ایٹمی معاہدے کا حصہ بنے، لیکن چین اس سے انکار کر رہا ہے چین کا کہنا ہے کہ اس کے پاس امریکا اور روس کے مقابلے میں بہت کم ایٹمی ہتھیار ہیں، اس لیے اسے اس معاہدے میں شامل کرنا درست نہیں۔
دوسری طرف امریکی دفاعی ادارے پینٹاگون کا دعویٰ ہے کہ چین تیزی سے اپنے ایٹمی ہتھیار بڑھا رہا ہے اور 2030 تک اس کے پاس ایک ہزار سے زیادہ ایٹمی وار ہیڈز ہو سکتے ہیں۔
اسرائیلی اخبار ’ٹائمز آف اسرائیل‘ نے اپنی رپورٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ امریکا نے مشرق وسطیٰ میں مزید درجنوں لڑاکا طیارے تعینات کر دیے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق ان طیاروں میں ایف 35، ایف 16 اور ایف 22 شامل ہیں، جبکہ فضا میں ایندھن فراہم کرنے والے ٹینکر طیاروں کی نقل و حرکت بھی دیکھی گئی ہے اس پیش رفت کو خطے کی مجموعی صورتحال کے تناظر میں اہم قرار دیا جا رہا ہے۔
دریں اثنا ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کو تباہ کرنے میں کبھی کامیاب نہیں ہوں گے ایران دباؤ میں آنے والا نہیں اور اپنی پالیسیوں پر قائم رہے گا۔
دوسری جانب ایران اور امریکا کے درمیان جوہری مذاکرات کا دوسرا دور سوئٹزرلینڈ کے شہر جنیوا میں ختم ہوگیا ہے یہ مذاکرات عمان کی ثالثی میں جاری ہیں اور دونوں ممالک کے نمائندوں نے کئی اہم امور پر بات چیت کی۔
مذاکرات کے بعد ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا کہ رہنما اصولوں پر مفاہمت ہوئی ہے، تاہم ابھی بہت کچھ کرنا باقی ہے بات چیت مثبت انداز میں آگے بڑھی ہے لیکن حتمی معاہدے تک پہنچنے کے لیے مزید تفصیلی مذاکرات ضروری ہیں۔
امریکی حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران آئندہ دو ہفتوں میں اپنے جوہری پروگرام سے متعلق تفصیلی تجاویز پیش کرے گا تاکہ دونوں ممالک کے درمیان موجود اختلافات کو کم کیا جا سکے امریکی حکام نے مذاکرات میں مثبت پیش رفت کا ذکر کیا، تاہم یہ بھی کہا کہ کئی اہم نکات پر ابھی مزید بات چیت ہونا باقی ہے۔
امریکا اور ایران کے درمیان جاری جوہری مذاکرات کے دوسرے راؤنڈ سے متعلق امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا ہے کہ بات چیت بعض صورتوں میں تعمیری رہی، تاہم ابھی اہم اختلافات موجود ہیں فاکس نیوز کو دیے گئے انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ تہران تاحال صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی مقرر کردہ بعض ریڈ لائنز پر بات چیت کے لیے تیار نہیں ہے۔
جے ڈی وینس نے ریڈ لائنز کی تفصیل بیان کرنے سے گریز کیا، تاہم انہوں نے واضح کیا کہ صدر ٹرمپ کسی حل کی تلاش میں سنجیدگی سے کوشاں ہیں۔ ان کے مطابق امریکا کی بنیادی خواہش یہ ہے کہ ایران کسی بھی ذریعے سے جوہری ہتھیار حاصل نہ کر سکے۔ نائب صدر نے یہ بھی بتایا کہ دونوں ممالک آئندہ ملاقات پر متفق ہو چکے ہیں اور مذاکرات کا سلسلہ جاری رہے گا۔
دوسری جانب ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ ایران کا جوہری ہتھیار بنانے کا کوئی ارادہ نہیں انہوں نے واضح کیا کہ ایران ایٹمی ہتھیار حاصل کرنے کا بالکل خواہاں نہیں اور اس کا جوہری پروگرام مکمل طور پر پرامن مقاصد کے لیے ہے ایران اپنا پرامن جوہری پروگرام کبھی ختم نہیں کرے گا، تاہم اگر کوئی ملک یا عالمی ادارہ تصدیق کرنا چاہے تو ایران اس کے لیے مکمل طور پر تیار ہے،جاری مذاکرات کا مقصد عالمی برادری کو یہ باور کرانا ہے کہ ایران کا ایٹمی پروگرام پرامن نوعیت کا ہے ایران بات چیت کے ذریعے اپنے مؤقف کو واضح کرنا چاہتا ہے تاکہ شکوک و شبہات کو دور کیا جا سکے۔
چیرامن جمعہ مسجد 629ء میں ملک ابن دینار نے تعمیر کروائی تھی ہندوستان کی پہلی اور دنیا کی دوسری مسجد سمجھی جاتی ہے جہاں نماز جمعہ شروع کی گئی تھی، خیال کیا جاتا ہے کہ یہ مسجد حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کے دوران تعمیر کی گئی تھی۔
اسلام کی عالمگیر تاریخ کا ایک نہایت اہم اور ایمان افروز باب ہندوستان میں پہلی مسجد کی تعمیر ہے، جسے آج ”چیرامن جُمعہ مسجد“ کے نام سے جانا جاتا ہے یہ مسجد ریاست کیرالہ کے تاریخی شہر کوڈُنگَلور میں واقع ہے اور اسے برصغیر میں اسلام کی آمد کی اولین اور اہم ترین نشانیوں میں شمار کیا جاتا ہے مسجد کئی صدیوں کے دوران متعدد بحالی اور تزئین و آرائش سے گزر چکی ہے۔مسجد کا فن تعمیر اس کے مختلف ڈیزائن اور ساخت کے لیے مشہور ہے –
یہ خیال کیا جاتا ہے کہ 11ویں اور 18ویں صدی کے دوران مسجد کی تزئین و آرائش کے بعد اصل شکل 1974 تک برقرار رہی جب مزید تزئین و آرائش کی گئی اس دوران اس کے پرانے اسٹرکچر کی جگہ ایک نئی عمارت بنائی گئی یہاں تک کہ جب اتنا وسیع کام کیا گیا تو مسجد کے اندرونی حصے بشمول اس کے حرم، لکڑی کی سیڑھیاں اور چھت کو برقرار رکھا گیا یہ علاقے اب بھی ماضی کی تعمیراتی عظمت کو برقرار رکھتے ہیں۔ مسجد کی ایک دلچسپ خصوصیت جس نے صدیوں سے عقیدت مندوں کو اپنی طرف متوجہ کیا ہے وہ یہاں موجود قدیم تیل کا چراغ ہے خیال کیا جاتا ہے کہ یہ چراغ مسجد کے آغاز سے ہی مسلسل جل رہا ہے۔
کیرالہ کا پہلا اسلامی ثقافتی ورثہ میوزیم بھی مسجد کمپلیکس میں مزیرس ہیریٹیج کمپلیکس کے ایک حصے کے طور پر قائم کیا گیا ہے۔ میوزیم ریاست میں اسلام کی تاریخ کو بصری میڈیا اور معلوماتی پینلز کے ذریعے دکھاتا ہے چیرامن پیرومل کی کہانی کو دیواروں اور پینٹنگز کے ذریعے بھی تفصیل سے بیان کیا گیا ہے سمعی و بصری پیشکشیں زائرین کو مسلم حکمرانوں کی تاریخ اور ہندوستان کی آزادی کی لڑائی میں کوڈنگلور کے کردار سے آگاہ کرتی ہیں،کوڈنگلور ٹاؤن سے بمشکل 2 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع چیرامن جمعہ مسجد قوم کی اسلامی روایات کی ایک شاندار نمائندگی کرتی ہے۔
یہ مسجد اپنی تعمیر کے بعد سے مسلسل موجود ہے اور مختلف ادوار میں اس کی مرمت اور توسیع ہوتی رہی جس میں 1980 اور 1990 کی دہائیوں میں گنبد اور مینار بھی شامل ہوئے، تاہم 2022 کی مرمت میں انہیں ہٹا کر قدیم ساخت کو زیادہ سے زیادہ بحال کرنے کی کوشش کی گئی تاکہ اس کی اصل تاریخی حیثیت برقرار رہے حالیہ برسوں میں کیرالہ حکومت کے موزِرِس ہیریٹیج پروجیکٹ کے تحت اس مسجد کی باقاعدہ بحالی اور تحفظ کا کام کیا گیا، جس کا مقصد اس عظیم اسلامی ورثے کو آئندہ نسلوں کے لیے محفوظ بنانا تھا۔
تاریخی روایات کے مطابق اس مسجد کی تعمیر 629 عیسوی میں ہوئی، جو نبی کریم حضرت محمد ﷺ کے مبارک دور کا زمانہ ہے، اور یہی وجہ ہے کہ اس مسجد کو عالم اسلام میں ایک منفرد اور غیر معمولی مقام حاصل ہے کیرالہ کی اسلامی روایات اور بعض تاریخی ماخذ کے مطابق اس مسجد کی تعمیر کا پس منظر اس و قت کے مقامی حکمران چِرامَن پِرومَل کے قبولِ اسلام سے جڑا ہوا ہے۔
روایت کے مطابق انہوں نے چاند کے دو ٹکڑے ہونے کا حیرت انگیز واقعہ (شق الاقمر) دیکھا، جس کے بارے میں عرب تاجروں سے پوچھنے پر معلوم ہوا کہ یہ معجزہ آخری نبی ﷺ کا ہے اس کے بعد وہ عرب کی طرف روانہ ہوئے اور اسلام قبول کیا واپسی سے قبل انہوں نے اپنے علاقے میں مسجد تعمیر کرنے کی ہدایت جاری کی۔
اس مسجد کی تعمیر اور اسلام کی دعوت کے فروغ میں مشہور تابعی اور بزرگ عالم مالک بن دینار کا نام خاص طور پر نمایاں ہے تاریخی روایات کے مطابق وہ عرب سے ہندوستان آئے اور انہوں نے کیرالہ کے ساحلی علاقوں میں اسلام کی تبلیغ کی اور کئی مساجد کے قیام میں کردار ادا کیا۔
بعض تاریخی روایت کے مطابق، چرمن پرومل مکہ میں قیام کے دوران وفات پا گئے تھے اپنی موت سے قبل انہوں نے خطوط لکھے اور اپنے دوستوں کے ذریعے مقامی حکمرانوں کو بھیجے خطوط میں چرمن پرومل نے کہا کہ مالِک بن دینار اور ان کے ساتھیوں کا احترام کیا جائے اور انہیں مساجد بنانے کی اجا زت دی جائے بعد میں یہ خطوط مالِک بن دینار کے ہاتھ لگے اور اسی کے نتیجے میں ہندوستان کی پہلی مسجد، چرمن جمعہ مسجد، کوڈُنگَلور میں قائم ہوئی مالِک بن دینار نے بعد میں کیرالہ کے مختلف علاقوں میں بھی مساجد قائم کیں روایت میں چرمن پرومل کے انتقال کی جگہ عمان کے علاقے ظُفار کا ذکر بھی موجود ہے۔
ان روایات کا ذکر متعدد تاریخی کتابوں میں ملتا ہے جن میں امام ابن حجر عسقلانی کی ”الاصابہ فی تمییز الصحابہ“، شیخ زین الدین مخدوم کی ”تحفۃ المجاہدین“ اور برطانوی مؤرخ ولیم لوگن کی ”مالابرمینوئل“ شامل ہی۔ اگرچہ جدید مؤرخین اس روایت کو تاریخی روایت اور مقامی روایت کے طور پر بیان کرتے ہیں۔
کوڈُنگَلور کا علاقہ قدیم زمانے میں ’موزِرِس‘ نامی عظیم بندرگاہ کے قریب واقع تھا، جو اس دور میں عالمی تجارت کا ایک بڑا مرکز تھا۔ عرب تاجر صدیوں سے یہاں آتے تھے اور مقامی آبادی کے ساتھ تجارت کے ساتھ ساتھ اپنے اعلیٰ اخلاق اور کردار کے ذریعے اسلام کا پیغام بھی پہنچاتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ کیرالہ ہندوستان کا وہ خطہ بنا جہاں سب سے پہلے اسلام متعارف ہوا اور مقامی سطح پر قبول کیا گیا۔
کیرالہ کے مسلمان، جنہیں تاریخی طور پر ’مپیلا‘ کہا جاتا ہے، صدیوں سے اس خطے کی تجارت، ثقافت اور سماجی ترقی میں اہم کردار ادا کرتے رہے ہیں۔ ان کی تاریخ براہ راست ان ابتدائی عرب تاجروں اور مبلغین سے جڑی ہوئی ہے جو نبی کریم ﷺ کے زمانے میں یا اس کے فوراً بعد یہاں پہنچے۔ یہی وجہ ہے کہ کیرالہ کی اسلامی روایت کو برصغیر میں سب سے قدیم اسلامی روایات میں شمار کیا جاتا ہے۔
چیرامن جمعہ مسجد نہ صرف ایک تاریخی عبادت گاہ ہے بلکہ یہ مذہبی رواداری اور ہم آہنگی کی بھی ایک خوبصورت مثال ہے۔ مقامی روایات کے مطابق رمضان المبارک کے دوران اس مسجد میں افطار کے انتظام میں دیگر مذاہب سے تعلق رکھنے والے لوگ بھی حصہ لیتے ہیں، جو اس بات کی علامت ہے کہ اسلام نے اس خطے میں امن، احترام اور باہمی بھائی چارے کو فروغ دیا۔
یہ مسجد آج بھی اس حقیقت کی زندہ علامت ہے کہ اسلام اپنی ابتدا ہی سے ایک عالمگیر مذہب تھا اور نبی کریم ﷺ کی زندگی مبارک میں ہی اس کا پیغام عرب سے نکل کر دنیا کے دور دراز علاقوں تک پہنچ چکا تھا۔
چیرامن جمعہ مسجد نہ صرف ہندوستان بلکہ پوری اسلامی دنیا کے لیے ایک تاریخی اور روحانی ورثہ ہے، آج بھی یہاں باقاعدہ نمازیں ادا ہوتی ہیں اور مختلف مذاہب کے لوگ یہاں تاریخ، ثقافت اور مذہبی ہم آہنگی کے پیغام کو سمجھنے کے لیے آتے ہیں۔
تاریخی حوالہ جات میں خاص طور پر ”تحفة المجاہدین، ”الاصابہ فی تمییز الصحابہ“، ”مالابر مینوئل“، ”ہسٹری آف کیرالہ“ اور آثار قدیمہ کے سرکاری ریکارڈ شامل ہیں، جن میں اس مسجد اور کیرالہ میں اسلام کی ابتدائی تاریخ کا ذکر موجود ہے۔ یہ تمام شواہد اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ برصغیر میں اسلام کی جڑیں انتہائی قدیم اور نبی کریم ﷺ کے مبارک دور سے قریب تر زمانے تک پہنچتی ہیں، اگرچہ بعض جدید محققین اس کی تعمیر کے زمانے پر تحقیقی تنقید بھی کرتے ہیں۔
کوئٹہ اور شہر بارکھان میں انسداد دہشتگردی کے ادارے (سی ٹی ڈی) نے مختلف کارروائیاں کی ہیں جن میں 14 دہشت گرد مارے گئے۔
ترجمان سی ٹی ڈی کے مطابق یہ کارروائیاں خفیہ اطلاع پر کی گئیں پہلی کارروائی کوئٹہ میں کی گئی، اس دوران دہشت گردوں نے سیکیورٹی اہلکاروں پر فائرنگ شروع کر دی جوابی کارروائی میں8دہشت گرد مارے گئے جبکہ تین اہلکار زخمی بھی ہوئے، جنہیں فوری طور پر طبی امداد کے لیے اسپتال منتقل کر دیا گیا، ہلاک دہشت گردوں کے قبضے سے بھاری مقدار میں اسلحہ اور گولہ بارود بھی برآمد کیا گیا ہےمارے گئے دہشت گردوں کا تعلق کالعدم تنظیم سے بتایا جا رہا ہے۔
دوسری کارروائی ضلع بارکھان میں ہوئی کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ نے خفیہ اطلاع پر کارروائی کرتے ہوئے فائرنگ کے تبادلے میں چھ دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا ترجمان سی ٹی ڈی کے مطابق کارروائی کے دوران دہشت گردوں نے قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں پر فائرنگ کی، جس کے جواب میں تمام 6 دہشت گرد مارے گئے کارروائی کے بعد سیکیورٹی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے کر سرچ آپریشن بھی کیا تاکہ کسی ممکنہ سہولت کار یا فرار ہونے والے دہشت گرد کو گرفتار کیا جا سکے۔
جنوری کی فیول ایڈجسٹمنٹ کی مد میں بجلی کی قیمت میں فی یونٹ ایک روپے 78 پیسے اضافے کا امکان ہے۔
اس سلسلے میں سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی نے درخواست دائر کر دی ہے، جس پر نیپرا اتھارٹی 26 فروری کو سماعت کرے گی درخواست کے مطابق جنوری کے مہینے میں مجموعی طور پر 9 ارب 14 کروڑ یونٹس بجلی پیدا کی گئی، جبکہ بجلی تقسیم کار کمپنیوں کو 8 ارب 76 کروڑ 20 لاکھ یونٹس فراہم کیے گئے۔
حکام کا کہنا ہے کہ اس عرصے میں بجلی کی اوسط فی یونٹ لاگت 12 روپے 17 پیسے رہی، جبکہ ریفرنس لاگت 10 روپے 39 پیسے فی یونٹ مقرر تھی۔ اسی فرق کی بنیاد پر اضافی رقم صارفین سے وصول کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
سی پی پی اے کی جانب سے فراہم کردہ اعداد و شمار کے مطابق جنوری میں بجلی کی پیداوار مختلف ذرائع سے کی گئی۔ پانی سے 7.80 فیصد، مقامی کوئلے سے 15.36 فیصد اور درآمدی کوئلے سے 17.28 فیصد بجلی پیدا ہوئی اسی طرح فرنس آئل سے 3 فیصد، مقامی گیس سے 12.23 فیصد اور ایل این جی سے 21.90 فیصد بجلی حاصل کی گئی، جبکہ جوہری ایندھن سے 17.49 فیصد بجلی پیدا کی گئی۔
اگر نیپرا نے یہ درخواست منظور کر لی تو اس کا براہ راست اثر گھریلو اور تجارتی صارفین کے ماہانہ بلوں پر پڑے گا، جس سے پہلے ہی مہنگائی کا سامنا کرنے والے عوام کے لیے بجلی مزید مہنگی ہو جائے گی، حتمی فیصلہ نیپرا کی سماعت کے بعد سامنے آئے گا، جس کے بعد یہ واضح ہو سکے گا کہ صارفین پر کتنا اضافی بوجھ ڈالا جائے گا۔
دوسری جانب وفاقی حکومت نے رمضان المبارک کے دوران سحر اور افطار میں بجلی کی بلا تعطل فراہمی یقینی بنانے کی ہدایت کی ہے۔
منگل کو وفاقی وزیر توانائی اویس لغاری نے رمضان المبارک میں سحر و افطار میں بجلی کی بلاتعطل فراہمی یقینی بنانے کے احکامات جاری کئے اور پاور ڈویژن نے رمضان المبارک میں کے الیکٹرک سمیت تمام بجلی کمپنیوں کے لیے ایس او پیز جاری کیے ہیں اسی طرح وفاقی وزیر توانائی نے تمام ڈسکوز کو بجلی صارفین کی شکایات کے فوری ازالے اور تمام ڈسکوز کے سی ای اوز کو کنٹرول روم قائم کرنے کی ہدایت کردی ہے۔
پاورڈویژن کی جانب سے ہائی لاسز والے علاقوں میں انسداد بجلی چوری مہم کے مطابق ڈیل کرنے کے احکامات دیتے ہوئے کہا گیا کہ اس فیصلے کا مقصد بقایاجات اور نقصانات میں اضافے کو روکنا ہے وفاقی وزیر کی جانب سے زیادہ نقصانات والے علاقوں میں بھی سحر وافطار میں لوڈشیڈنگ نہ کرنے اور ر مضان میں زیادہ نقصانات والے علاقوں میں لوڈمنیجمنٹ سحر و افطار کے علاوہ اوقات میں ایڈجسٹ کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے اویس لغاری نے ڈسکوز کو غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ سے اجتناب کرنے کی ہدایت کردی ہے۔