Baaghi TV

Author: Ayesha Rehmani

  • سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر کیس کی سماعت آج بھی مکمل نہ ہو سکی

    سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر کیس کی سماعت آج بھی مکمل نہ ہو سکی

    سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر کیس کی سماعت آج بھی مکمل نہ ہو سکی،چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ
    باقی وکلا کو کل دن ساڑھے گیارہ بجے سنا جائے گا، ن لیگ کے وکیل صلاح الدین کے دلائل جاری ہیں،

    اسلام آباد: سپریم کورٹ میں پریکٹس اینڈ پروسیجر کیس کی سماعت شروع ہوگئی ہے، چیف جسٹس قاضی فائزعیسی کی سربراہی میں فل کورٹ نے سماعت کی، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے پریکٹس اینڈ پروسیجر کیس کی سماعت کے دوران صدر سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن عابد زبیری نے دلائل کا آغاز کیا تو جسٹس اعجازالاحسن نے ریمارکس دیئے کہ پارلیمنٹ رولز نہیں بنا سکتی ںہ ہی رولز بنانے کیلئے قانون سازی کرسکتی ہے، رولز میں ردوبدل کرنے کا اختیار صرف سپریم کورٹ کے پاس ہے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیئے کہ آئین کہتا ہے کہ سپریم کورٹ اپنے پریکٹس اینڈ پروسیجر کے رولزبنانے کیلئے با اختیار ہے، اگر سپریم کورٹ آئین سے بالا رولز بناتا ہے تو کوئی تو یاد دلائے گا کہ آئین کے دائرے میں رہیں۔

    جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیئے کہ آئین و قانون کے مطابق رولز بنانے کیلئے پابند کرنے کا مطلب موجودہ قانون کے مطابق رولز بنیں گے، چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ آج ہم یہ کیس سن رہے ہیں اور ہمارے ادارے میں کیسز کا بوجھ بڑھ رہا ہے، آج کیس کو ختم کرنا ہے، ہم میں سے جس کو جو رائے دینی ہے فیصلے میں لکھ دیں گے چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ آپ نے تحریری دلائل جمع کرائے تھے؟ جس پر وکیل عابد زبیری نے بتایا کہ ابھی اپنا تحریری جواب جمع کرایا ہے۔

    چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ عدالت نے پہلے سے تحریری دلائل جمع کرانے کا حکم دیا تھا، اتنے سارے کاغذ ابھی پکڑا دیئے، کون سے ملک میں ایسے ہوتا ہے کہ کیس کی سماعت میں تحریری جواب جمع کراؤ، ہر بات میں امریکی اور دوسری عدالتوں کا حوالہ دیتے ہیں یہاں بھی بتائیں۔

    وکیل عابد زبیری نے کہا کہ نیوجرسی کی عدالت کے فیصلے کا حوالہ دینا چاہتا ہوں، جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ کم از کم امریکی سپریم کورٹ کے فیصلے کا توحوالہ دیں، ہمارا لیول اتنا نہ گرائیں کہ نیو جرسی کی عدالت کے فیصلے کو یہاں نظیر کے طور پر پیش کر رہے ہیں، یہ تو فیصلہ بھی نہیں ہے۔

    جسٹس اعجازالاحسن نے ریمارکس دیئے کہ سوال ہے کہ سپریم کورٹ رولز بنانے کا اختیار کہاں اور کس کو دیا گیا ہے، آئین کے مطابق رولز بنانے کا اختیارسپریم کورٹ کے پاس ہے، سپریم کورٹ کے رولز بنانے کا اختیار آئین کے مطابق ہےجسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیئے کہ ہر چیز آئین کے ہی مطابق ہوسکتی ہے سب کو معلوم ہے،وکیل عابد زبیری نے عدالت میں مؤقف اپنایا کہ رولز بنانے کے اختیار سے متعلق آئینی شق کو تنہا نہیں پڑھا جاسکتا۔

    چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ فل کورٹ مقدمہ سن رہی ہے تاکہ وکلا سے کچھ سمجھ اور سیکھ سکیں، آئینی شقوں پر دلائل دیں،جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیئے کہ آئینی شقوں کو ملا کر پڑھنا ہوتا ہے، کچھ آرٹیکل اختیارات اور کچھ حدود واضح کرتے ہیں جس پر وکیل عابد زبیری نے کہا کہ یہ تو معزز سپریم کورٹ کا فیصلہ بھی ہے چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ معزز سپریم کورٹ نہیں ہوتی، معزز ججز ہوتے ہیں، اصطلاحات ٹھیک استعمال کریں۔

    جسٹس جمال مندوخیل نے ریمارکس دیئے کہ ہم یہاں آئین اور قانون سازوں کی نیت دیکھ رہے ہیں، اگر آئین سازوں کی نیت دیکھنی ہے تو آرٹیکل 175 دیکھیں، آئین سازوں نے اختیار سپریم کورٹ کو دینا ہوتا تو واضح لکھ دیتے، اگر کوئی بھی ضابطہ قانون یا آئین سے متصادم ہوگا تووہ خود ہی کالعدم ہو جائے گا۔

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسٰی نے ریمارکس دیئے کہ میں سوال واضح کر دیتا ہوں، جوڈیشل کمیشن اورسپریم جوڈیشل کونسل کے رولز سے متعلق آئین میں لکھا ہے کہ آئینی باڈیز خود قانون بنائیں گی، جب سپریم کورٹ کے ضابطوں سے متعلق آرٹیکل 191میں لکھا ہے کہ قانون سے بھی بن سکتے ہیں، سوال ہے کہ آئین سازوں نے خود آئین کے ساتھ قانون کا آپشن دیا۔

    چیف جسٹس نے عابد زبیری سے مکالمہ کرتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ ایک چیف جسٹس نے غلطی کی تو پارلیمنٹ کو نہیں کرنی چاہئے، کوئی غلطی ہوئی تو ازالے کی سب سے بڑی ذمہ داری عدالت کی ہے، پاکستان میں 184 تین کا اطلاق کیسے ہوتا ہے؟ ہم آپ کی رائے سننا چاہتے ہیں۔

    جسٹس مظاہر نقوی نے ریمارکس دیئے کہ سپریم کورٹ کے رولز پر پارلیمنٹ نے پابندی لگائی، ہائیکورٹ اور شرعی عدالت کے ضابطوں پر پابندی کیوں نہیں جسٹس اعجازالاحسن نے ریمارکس دیئے کہ ہائیکورٹس اپنے پریکٹس اینڈ پروسیجر بنانے کیلئے بااختیار ہے۔ جس پر وکیل عابد زبیری نے جواب دیا کہ اگر سپریم کورٹ اپنے رولز خود بنالے تو کوئی اعتراض نہیں اٹھا سکتا، آئین کہتا ہے کہ سپریم جوڈیشل کونسل اپنے قوانین خود بنائے گی۔

    چیف جسٹس پاکستان نے استفسار کیا کہ پاکستان میں184تھری کا استعمال کیسے ہوا، کیا ہیومن رائٹس سیل کا تذکرہ آئین یا سپریم کورٹ رولز میں تذکرہ ہے، آرٹیکل 184 تھری سے متعلق ماضی کیا رہا ؟یا تو کہہ دیتے کہ 184تھری میں ہیومن رائٹس سیل بن سکتا تھا،اس بات پر تو آپ آنکھیں بند کر کے بیٹھ گئے ہیں، اس سے پہلےکہ دنیا انگلی اٹھائے میں خود اپنے اوپر انگلی اٹھا رہا ہوں، ایک چیف جسٹس نےغلطی کی تو پارلیمنٹ درست کر سکتی ہے یا نہیں؟ نیو جرسی نہ جائیں، پاکستان کی ہی مثال دے دیں، سپریم کورٹ غلطی کرے تو کیا پارلیمنٹ درست کر سکتی ہے آپ پی ٹی آئی کی نمائندگی نہیں کر رہے؟ جس پر وکیل عابد زبیری نے جواب دیا کہ نہیں میں سپریم کورٹ بار کی نمائندگی کر رہا ہوں، آپ کی رائے سن چکا ہوں، ابھی آرٹیکل 184تھری پر آ رہا تھا، میں آپ سے متفق ہوں کہ آرٹیکل 184 تھری کاغلط استعمال ہوتا رہا۔

    جسٹس جمال مندوخیل نے استفسار کیا کہ ایکٹ سے کون سے بنیادی حقوق متاثر ہوئے یہ بتا دیں، جس پر وکیل عابد زبیری نے جواب دیا کہ سپریم کورٹ میں اپیل کا حق صرف آرٹیکل 185 کے تحت ہے۔

    چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ اس مقدمے کو بھی ہم آرٹیکل 184 تھری کے تحت سن رہے ہیں، آپ کے مطابق دائرہ اختیار نہ پارلیمنٹ بڑھا سکتا ہے نہ سپریم کورٹ، پھر ہم یہ کیس کیوں سن رہے ہیں، سپریم کورٹ آرٹیکل 184 تھری کا دائرہ بڑھائے تو ٹھیک، پارلیمنٹ بڑھائے توغلط ہے۔

    وکیل عابد زبیری نے موقف پیش کیا کہ سپریم کورٹ میں اپیل کا حق صرف آرٹیکل 185 کے تحت ہے، آئین کے اصل دائرہ اختیار 184 تھری میں اپیل کا حق نہیں دیا گیا، چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ جوابی دلیل میں یہ دے سکتا ہوں کہ آرٹیکل 184 تھری کااستعمال کیسے ہوا،کسی سیاسی جماعت پر پابندی عائد ہو جائے تو کیا اپیل نہیں ہونی چاہیے، پارلیمنٹ نے اچھی نیت سے قانون سازی کی۔

    غلط استعمال ہوا یا صحیح دیکھنا ہے یہ اختیار کس کو ہے، عابد زبیری جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیئے کہ پارلیمان کے پاس اختیار ہے کہ وہ سپریم کورٹ کے اختیار بڑھا سکتی ہے، جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ سوال اچھے یا برے کا نہیں سوال قانون بنانے کی اہلیت کا ہے،آپ بتائیے کس اکا اختیار ہے سپریم کورٹ بارے قانون بنانے کا؟ وکیل عابد زبیر نے کہا کہ عدالت نے فیصلہ کرنا ہے یہ اختیار پارلیمان کا ہے یا نہیں ،جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ انصاف کی فراہمی متاثر ہو رہی بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہونے پر کیا قانون سازی ہو سکتی ہے یا نہیں، چیف جسٹس اس مقدمہ کو سماعت کیلئے مقرر کرسکتے تو دوسرے جبری گمشدگی جیسے مقدمات کیوں نہیں، آپ نے ابھی درخواست کے قابل سماعت ہونے کی رکاوٹ کو بھی عبور نہیں کیا، بتائیں کہ اس قانون سازی سے کونسا بنیادی حق متاثر ہوا ہے،

    چیف جسٹس نے کہا کہ 184(3) میں ہم یہ مقدمہ کیسے سن سکتے ہیں ؟ آپ کہہ رہے ہیں نہ ہم اپنے دائرہ اختیار بڑھا سکتے ہیں نہ پارلیمان،ہمیں آپ کہہ رہے ہیں کہ 184(3) میں عدالت اپنا دائرہ اختیار بڑھا دے،جسٹس جمال خان مندو خیل نے کہا کہ اس ایکٹ کو دیکھنے کیلئے پہلے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی کو دیکھنا ہے-

    عابد زبیری نے کہا کہ دیکھنا ہے کہ کیا پارلیمان کا اس قانون کو بنانے کا اختیار ہے، چیف جسٹس نے کہا کہ اس مقدمے کو بھی ہم آئین کے آرٹیکل 184/3 کے تحت سن رہے ہیں، آپ کے مطابق آرٹیکل 184/3 کا دائرہ اختیار نا پارلیمنٹ بڑھا سکتا ہے نا سپریم کورٹ،پھر یہ بتائیں ہم یہ کیس کیوں سن رہے ہیں؟ سپریم کورٹ خود مقدمات میں آرٹیکل 184 تھری کا دائرہ بڑھائے تو ٹھیک، پارلیمنٹ بڑھائے تو غلط ہے، اگر انکم ٹیکس آرڈیننس یا فیملی رائٹس میں ترمیم ہو تو کیا براہ راست سپریم کورٹ میں درخواست آ سکتی ہے؟ جس پر وکیل عابد زبیری نے کہا کہ بلکل آ سکتی ہے-

    چیف جسٹس نے کہا کہ آپ کا جواب نوٹ کر رہا ہوں کہ بنیادی حقوق کے علاوہ بھی قانون سازی براہ راست سپریم کورٹ میں چیلنج ہو سکتی ہے،وکیل عابد زبیری نے کہا کہ آئین کے اصل دائرہ اختیار 184/3 میں اپیل کا حق نہیں دیا گیا، چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ اس کی جوابی دلیل میں یہ دے سکتا ہوں کہ آرٹیکل 184/3 کا استعمال کیسے ہوا ،کسی سیاسی جماعت پر پابندی عائد کرنے کا فیصلہ ہو جائے تو کیا اس کے خلاف اپیل نہیں ہونی چاہیے، اگر کوئی مریض کہیں مر رہا ہو اور کوئی میڈیکل کی ذرا سی سمجھ رکھتا ہو تو وہ اس لیے مرنے دے کہ وہ ڈاکٹر نہیں ہے؟ پارلیمنٹ نے اچھی نیت سے قانون سازی کی-

    جسٹس اعجازالاحسن نے کہا کہ اگر پارلیمنٹ کے لیے دروازہ کھول دیتے ہیں کہ وہ سپریم کورٹ کے ہر معاملے میں مداخلت کرے گی،ایک بار دروازہ کھل گیا تو اس کا کوئی سرا نہیں ہو گا، قانون سازی اچھی یا بری بھی ہو سکتی ہے،یہ نہیں ہو سکتا کہ قانون سازی درست ہے تو ٹھیک ہے یا ورنہ اس کو کالعدم قرار دے دیں، آئین اس طرح سے نہیں چل سکتا-

    چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ ماضی کو دیکھیں، ایک شخص آتا ہے اور پارلیمنٹ کو ربر اسٹیمپ کر دیتا ہے،امریکہ میں یہ سب نہیں ہوتا، ہمارا ماضی بہت بوسیدہ ہے، سپریم کورٹ بار خود تو درخواست لے کر نہیں آئی، وکیل عابد زبیری نے کہا کہ سپریم کورٹ بار نے جو درخواستیں کیں وہ تو مقرر نہیں ہو رہیں، چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ اگر آپ اس کیس کو ختم کریں تو باقی مقرر ہوں، پارلیمان قانون سازی کرے تو آپکو اعتراض ہے، کوئی فرد واحد آکر آئین میں اپنی مرضی سے ترمیم کردے؟

    جسٹس مسرت ہلالی نے کہا کہ اس ایکٹ میں آئین کے کونسے آرٹیکل کا حوالہ دیا گیا ہے؟ ایسے تو سادہ اکثریت سے قانون سازی کر کے آئین میں ترمیم کا دروازہ کھولا جا رہا ہے، جسٹس منیب اختر نے کہا کہ آئین میں سادہ اکثریت کے زریعے ترمیم کر کے نیا راستہ کھولا جارہا ہے،

    چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ کل کی باتیں نا کریں آج کی صورتحال بتائیں، جسٹس جمال مندوخیل نے ریمارکس دیئے کہ آرٹیکل 184/3 کے اختیار کو آئین میں رہ کر استعمال کیا گیا ہوتا تو ایسی قانون سازی نا ہوتی،آپ نا مدعی ہیں نا مدعا علیہ توپھر اس ایکٹ کی مخالفت کیوں کر رہے ہیں؟ جسٹس مظاہر نقوی نے ریمارکس میں کہا کہ آئین کے آرٹیکل 184/3 میں اپیل کا دیا گیا ہے، اپیل کے اختیار سے کیس کی دوبارہ سماعت کا حق کیسے دے دیا گیا؟

    چیف جسٹس نےعابد زبیری سے مکالمے میں کہا کہ آپکے دلائل مکمل ہوچکے ہیں، وقفے کے بعد اگلے درخواست گزار کو 20 منٹ دیں گے، پارلیمنٹ کچھ اچھا کرنا چاہتی ہے تواس کو کچلنا کیوں چاہتے ہیں؟جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس میں کہا کہ سپریم کورٹ کا دائرہ اختیار بڑھانے سے متعلق دلائل دیں، چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ ہم بھی مانتے ہیں کہ صوبائی اسمبلیوں کو ایسی قانون سازی کا اختیار نہیں ہے، بس اب دلائل ختم کریں، یہ تاثر مت دیں کہ آپ یہ کیس ختم کرنا نہیں چاہتے-

    جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیئے کہ اگر کسی نے 188 کے تحت نظر ثانی ایک بار دائر کر دی تو وہ اپیل نہیں کر سکتا، ایکٹ کے تحت نظر ثانی کے خلاف تو اپیل کا حق نہیں دیا گیا، چیف جسٹس نے عابد زبیری سے مکالمہ کیا کہ بوجھ سپریم کورٹ پر پڑے گا تو گھبراہٹ آپ کو کیوں ہو رہی ہے؟

    عدالت نے پریکٹس اینڈ پروسیجر کیس کی سماعت میں وقفہ کردیا،وقفے کے بعد سماعت شروع ہوئی تو درخواستگزار عمر صادق کے وکیل عدنان خان نے دلائل کا آغاز کیا۔

    وکیل عدنان خان نے مؤقف پیش کیا کہ پارلیمنٹ کو سپریم کورٹ کے رولز بنانے کا اختیار حاصل نہیں، آئین سازوں نے پارلیمنٹ کو سپریم کورٹ کے رولز میں ردوبدل کا اختیار نہیں دیا، چیف جسٹس کے آفس کو پارلیمنٹ نے بے کار کر دیا، سپریم کورٹ2 بنیادوں پرکھڑی ہے، ایک چیف جسٹس اور دوسرا باقی ججز،سپریم کورٹ کی انتظامی معاملات میں چیف جسٹس ڈرائیونگ سیٹ پر ہوتے ہیں-

    چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ چیف جسٹس کو جہاں اختیارات دیئے گئے وہ آئین میں درج ہیں، چیف جسٹس کو سپریم کورٹ کے سوا کہاں تنہا اختیارات دئیے گئے وکیل عدنان خان نے مؤقف اختیار کیا کہ آئین کہتا ہے چیف جسٹس خود بغیر مشاورت بنچز بنا سکتا ہےپارلیمنٹ کو ایکٹ کے ذریعے سپریم کورٹ کے رولز بنانے کا اختیار حاصل نہیں-

    وکیل عدنان خان نے کہا کہ آئین سازوں نے دانستہ طور پر پارلیمنٹ کو سپریم کورٹ کے ضابطوں میں رد و بدل کا اختیار نہیں دیا، جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ ایسے تو فل کورٹ بلانے کی کیا ضرورت ہے صرف چیف جسٹس کیس سن لیتا، چیف جسٹس نے ریمارکس دیئےکہ چیف جسٹس کو جہاں اختیارات دیے گئے وہ آئین میں درج ہیں، چیف جسٹس کو سپریم کورٹ کےسوا کہاں تنہا اختیارا ت دیے گئے-

    وکیل عدنان خان نے کہ کہ آئین کہتا ہے چیف جسٹس خود بغیر کسی مشاورت کے بنچز بنا سکتا ہے، چیف جسٹس اور دیگر ججز میں فرق انتظامی اختیارات ہیں، مجھے اس قانون سے مسئلہ نہیں مگر طریقہ کار سے مسئلہ ہے، جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ آپ یہ بتائیں کہ اس قانون سے آپکا کونسا بنیادی حق متاثر ہوا ہے، وکیل عدنان خان نے کہا کہ اس ایکٹ سے انصاف کا حق متاثر ہوگا ایکٹ سے انصاف تک رسائی کے آرٹیکل 4 کی خلاف ورزی ہوئی، ایکٹ میں طریقہ کار دے کرسپریم کورٹ کی تضحیک کی گئی۔

    چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ ہم پہلے بھی کیس مقرر کرنے کیلئے اپنا دماغ استعمال کرتے تھے، میں نے کیس منیجمنٹ کمیٹی کو کیسز کے تقرر کا اختیار دیا، کیا میں نے کیس منیجمنٹ کمیٹی بنا کر آئینی خلاف ورزی کی وکیل عدنان خان نے کہ مشاورت اچھی چیز ہے، چیف جسٹس اپنے ساتھیوں میں سے کسی سے بھی مشاورت کر سکتے ہیں، اس قانون میں کہیں مشاورت کا درج نہیں ہے۔

    چیف جسٹس نے استفسار کرتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ کیا کوئی ایسا قانون یا شرعی قانون ہے کہ اپیل کا کوئی حق نہیں ہے، قانون کی رو میں کہاں درج ہے کہ قاضی کا فیصلہ آخری ہوگا، کوئی حوالہ دے دیجیے ،وکیل عدنان خان نے جواب دیا کہ میں ریفرنس جمع کرا دوں گا جس کے بعد وکیل عدنان خان کے دلائل مکمل ہوگئے۔

    درخواست گزار محمد شاہد رانا ایڈووکیٹ کے دلائل شروع

    وکیل شاہد رانا نے دلائل شروع کرتے ہی سوال اٹھایا کہ اگر 15ججز فیصلہ کریں گے تو اپیل کس کے پاس جائے گی چیف جسٹس نے جواب دیا کہ 15 ججزفیصلہ کریں گے تو نہیں ہوگی اپیل، وکیل شاہد رانا نے مؤقف پیش کیا کہ سپریم کورٹ میں اپیلیں آرٹیکل 185 کے تحت ہوتی ہیں۔ جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ ہم آپ کو اس بات کا جواب فیصلے میں دے دیں گے، یہ معاملہ پہلے کبھی کیوں نہیں اٹھایا گیا، کیا پتا سپریم کورٹ نے اپنے اختیارات سے تجاوز کیا ہو۔

    چیف جسٹس نے اٹارنی جنرل کو روسٹرم پر بلا لیا

    چیف جسٹس نے اٹارنی جنرل کو روسٹرم پر بلایا تو وکیل امتیاز صدیقی نے دلائل کے لیے وقت نہ دینے پر اعتراض اٹھا دیا، اور مؤقف پیش کیا کہ آپ نے کہا تھا کہ پہلے ہمیں سنیں گے پھر اٹارنی جنرل کو سنیں گے، ہمیں نہ سننا نا انصافی ہے چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ کہاں لکھا ہے حکمنامے میں کہ آپ کو ابھی سننا ہے جس پر امتیاز صدیقی نے کہا کہ آپ ہمارے ساتھ اپنا سلوک دیکھیں۔

    چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ کوئی بات کرنے کی تمیز بھی ہوتی ہے، پچھلی سماعت کاتمام ججزکےدستخط کےساتھ حکمنامہ جاری ہوا،حکمنامہ میں درج ہےکہ امتیاز صدیقی کے دلائل مکمل ہو چکےوکیل امتیاز صدیقی نے جواب دیا کہ میرے ساتھی آپ کے رویے کی وجہ سے آج عدالت نہیں آئے، خواجہ طارق رحیم نے آپ کو پیغام پہنچانے کا کہا ہے۔

    چیف جسٹس نے وکیل امتیاز صدیقی پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آپ اپنی نشست پر بیٹھ جائیے ورنہ میں کچھ ایشو کروں جس پر وکیل امتیاز صدیقی واپس نشست پر براجمان ہو گئے-

    مسلم لیگ ق کے وکیل زاہد فخرالدین ابراہیم کے دلائل

    اٹارنی جنرل نے عدالت سے کہا کہ مجھ سے پہلے مسلم لیگ ق کے وکیل دلائل دینا چاہتے ہیں مسلم لیگ ق کے وکیل زاہد فخرالدین ابراہیم نے دلائل شروع کردیئے، چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ میرا قلم ہوا میں رہ جاتا ہے آپ اپنا پوائنٹ پورا کر دیں۔

    جسٹس یحیی آفریدی نے وکیل سے کہا کہ آپ فل کورٹ کو اپنی رائے بتا دیں،جس پر وکیل زاہد ابراہیم نے کہا کہ یہ کیس خود تسلیم کر رہا ہے کہ پارلیمنٹ قانون سازی کرسکتی ہےجسٹس عائشہ ملک نے استفسار کیا کہ کیسے ممکن ہے کہ ”سبجیکٹ ٹو لاء“ لکھ کر پارلیمنٹ کو اختیار دے دیا گیا ہو، آرٹیکل 188 اور آرٹیکل 191 میں فرق ہے۔

    آدھے گھنٹےکے وقفے کے بعد سماعت دوبارہ شروع ہوئی تو جسٹس یحیی آفریدی نے وکیل زاہد ابرہیم سے کہا کہ آپ آرٹیکل191سے اینٹری 55 کا تعلق سمجھا دیں، جسٹس منیب اختر نےریمارکس دیئےکہ ایکٹ کےذریعے آئین میں بلاواسطہ ترمیم کی گئی،کیا آئین پار لیمنٹ کو ایسی قانون سازی کی اجازت دیتا ہے، آرٹیکل191 کے تحت قانون سازی کا اختیار بہت وسیع ہونا چاہئے، آپ 1956 کا آئین پڑھیں۔

    چیف جسٹس نے وکیل زاہد ابراہیم سے مکالمہ کرتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ ضروری نہیں کہ آپ دلائل سے متفق ہوں جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیئے کہ بینچ میں بیٹھے جج کو حق حاصل ہے کہ وہ سوال کرے جسٹس اعجازالاحسن نے سوال اٹھایا کہ پارلیمنٹ کو موجودہ قانون کا دائرہ بڑھانے کا اختیار ہے، اپیل کا حق دے کر قانون کا دائرہ بڑھایا کیسے گیا۔

    وکیل زاہد ابراہیم نے جواب دیا کہ درخواست گزاروں سے سوال کیا گیا کون سا بنیادی حق متاثر ہوا، جس پر جسٹس اعجازالاحسن نے ریمارکس دیئے کہ کوشش کی سپریم کورٹ کےکام کے طریقہ کار کو ریگولیٹ کیا جائے، عدلیہ کی مائیکرو مینجمنٹ مداخلت نہیں تو پھر کیا مداخلت ہوگی۔

    جسٹس منیب اختر نے وکیل سے استفسار کیا کہ اس قانون کے بعد ماسٹر اف روسٹر کون ہےِ؟ جس پر زاہد ابراہیم نے جواب دیا کہ کمیٹی فیصلہ کرے گی، جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیئے کہ کمیٹی پارلیمان ماسٹر آف روسٹر ہو گی۔

    چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ کیا ماسٹر آف روسٹر کا لفظ ہے، رولز میں چیف جسٹس کے بینچ مقرر کرنے کا ہے، مقدمات کا مقرر کرنے چیف جسٹس نے رجسڑار کا اختیار ہے، ماسٹر آف روسٹر کا لفظ کس قانون میں ہے۔

    جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیئے کہ دنیا میں اب کہیں بھی ماسٹرز نہیں، چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ جو قانون ہے آئین ہے وہ چیف جسٹس کی خواہشات پر نہیں، یہ عدلیہ کیا آزادی اور قانون کے منافی ہے، میں ماسٹر نہیں آئین کے ماتحت ہوں۔

    وکیل صلاح الدین نے مؤقف پیش کیا کہ سپریم کورٹ کے ججز کے حوالے سے بہت آرا آئی ہیں، جس پر جسٹس مظاہر علی اکبر نے ریمارکس دیئے کہ اپ اپنے دلائل شخصیت کو مدنظر رکھ کر دے رہے ہیں، جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیئے کہ جو آرا دی گئی وہ ان کی آرا ہو ں گی، کسی کا ایک مؤقف ہوتا ہے دوسرے کا دوسرا مؤقف، بہتر ہو گا کہ پارلیمان کے اختیار پر دلائل دیں۔

    چیف جسٹس نے وکیل صلاح الدین سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ میں آپ کو سننا چاہتا ہوں اپنے دلائل دیں۔

    کیس کی کارروائی آج بھی سپریم کورٹ سے سرکاری ٹی وی پر براہ راست دکھائی جا رہی ہے،سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کی گزشتہ دو سماعتوں میں 5 درخواست گزاروں کے وکلا دلائل مکمل کرچکے ہیں آج ہونے والی سماعت میں دیگردرخواست گزاروں کے وکلاء، اٹارنی جنرل، مسلم لیگ ن اوق کے وکلاء دلائل دیں گے اس سے قبل تمام فریقین سپریم کورٹ مین اپنے تحریری جوابات اور دلائل جمع کرواچکے ہیں وکلاء کے دلائل مکمل ہونے کی صورت میں ممکنہ طور پر آج اس کیس کی سماعت مکمل ہوجائے گی، چیف جسٹس نے گزشتہ سماعت میں عندیہ دیا تھا کہ 9 اکتوبر کو تیسری سماعت میں یہ کیس مکمل کرلیا جائے گا۔

    کیس کی سماعت کرنے والے فل کورٹ میں چیف جسٹس قاضی فائر عیسیٰ کے علاوہ جسٹس سردارطارق مسعود، جسٹس اعجازالاحسن، جسٹس سید منصور علی شاہ،جسٹس منیب اختر، جسٹس یحییٰ آفریدی، جسٹس امین الدین خان،جسٹس سید مظاہرعلی نقوی،جسٹس جمال خان مندوخیل، جسٹس محمد علی مظہر، جسٹس عائشہ اے ملک، جسٹس اطہر من اللّٰہ، جسٹس سید حسن اظہر رضوی، جسٹس شاہد وحید اور جسٹس مسرت ہلالی شامل ہیں۔

  • آسٹریلیا میں سکھوں کا بھارت کے خلاف  احتجاج

    آسٹریلیا میں سکھوں کا بھارت کے خلاف احتجاج

    میلبورن: بھارت کی جانب سے سکھوں کو نشانہ بنانے کے خلاف آسٹریلیا کے شہر میلبورن میں جانب سے ہزاروں سکھوں نے فیڈریشن اسکوائر سے پارلیمنٹ تک واک کرتے ہوئےاحتجاج کیا گیا۔

    باغی ٹی وی: احتجاجی مظاہرے کے موقع پر سکھ رہنماؤں کا کہنا تھا کہ احتجاج کا مقصد کینیڈا میں بھارتی ایجنٹوں کے ہاتھوں ہردیپ سنگھ کے قتل سے آگاہ کرنا ہے بھارت بیرون ملک آباد سکھ رہنماؤں کو خالصتان تحریک سے روکنے کیلئے راستے سے ہٹا رہا ہے،مظاہرین نے آسٹریلوی حکومت سے بھارت کی کارروائیوں کو لگام ڈالنے کا بھی مطالبہ کیا۔

    واضح رہے کہ کینیڈا میں خالصتان رہنما ہردیپ سنگھ نجر کے قتل کے بعد کینیڈین حکومت کی جانب سےقتل کا الزام بھارتی خفیہ ایجنسیوں پر لگایا گیا تھا جس کے بعد دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہو گیا تھا امریکا کی جانب سے بھارت پر زور دیا گیا کہ وہ کینیڈا میں قتل ہونے والے سکھ رہنما کے قتل کیس کی تحقیقات میں کینیڈا سے تعاون کرے جس کے جواب میں بھارت کی جانب سے شروع میں ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کیا گیا تاہم بعد میں عالمی دباؤ کے باعث بھارت نے تعاون پر رضامندی کا اظہار کیا تھا۔

    بھارت ، آسٹریلیا میچ؛ مداح گراؤنڈ گھس گیا

    تاریخ میں پہلی مرتبہ پنجاب کابینہ کا 30 واں اجلاس سرگودھا میں ہوگا،تیاریاں جاری

    کراچی سے بھی چھوٹا دنیا کا مہنگا ترین ملک،جہاں دو کمروں کے فلیٹ …

  • کراچی سے بھی چھوٹا دنیا کا مہنگا ترین ملک،جہاں  دو کمروں کے فلیٹ  کا ماہانہ کرایہ 6 لاکھ روپے

    کراچی سے بھی چھوٹا دنیا کا مہنگا ترین ملک،جہاں دو کمروں کے فلیٹ کا ماہانہ کرایہ 6 لاکھ روپے

    لکسمبرگ پاکستان کے شہر کراچی سے بھی چھوٹا اور دنیا کا مہنگا ترین ملک ہے،جہاں پر رہنے سے بھی سستا دوسرے ملک سے ہو کر آنا ہے-

    باغی ٹی وی:ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) کی رپورٹ کے مطابق لکسمبرگ کی آبادی صرف 6 لاکھ 60 ہزار ہے، یہاں تقریباً ہر شخص ہی کروڑ پتی ہےلیکن پچھلے کچھ سالوں میں یہاں کا معیار زندگی اتنا مہنگا ہو گیا ہےکہ لوگوں کے لیے اس ملک میں زندہ رہنا بہت مشکل ہوگیا ہے پیسہ بچانے کے لیے لوگ یہاں دن بھر کام کرتے ہیں اور رات کو دوسرے ممالک میں جا کر رہتے ہیں لکسمبرگ میں گھر خریدنے یا کرائے پر لینے کے لیے لوگوں کو بہت زیادہ رقم خرچ کرنی پڑتی ہے۔

    ررپورٹ کے مطابق پاسکل جاورو نامی ایک ٹیچر کو گھر کرائے پر لینے کے لیے پانچ سال تک انتظار کرنا پڑا یہاں دو کمروں کا فلیٹ حاصل کرنے کے لیے ہر ماہ 2000 یورو یعنی پاکستانی تقریباً 6 لاکھ روپے ادا کرنے پڑتے ہیں یہاں سستا گھر ملنا نایاب ہے خاص طور پر نوجوانوں اور سنگل پیرنٹس کے لیے یہاں کے اخراجات برداشت کرنا ناممکن ہےاگر آپ صرف ایک کام کر رہے ہیں اور آپ کے پاس آمدنی کا کوئی اضافی ذریعہ نہیں ہے تو دنیا کے امیر ترین ممالک میں سے ایک لکسمبرگ میں رہنا آسان نہیں ہے۔

    اسرائیلی میجر جنرل حماس کے ہاتھوں یرغمال؛ کیا اب فلسطینی قیدی چھڑوائے ..

    یورپی یونین کے تمام ممالک میں فی کس کاروں کی تعداد لکسمبرگ میں سب سے زیادہ ہے یہاں 60 فیصد سے زیادہ لوگ دفتر جانے کے لیے اپنی گاڑیوں کا استعمال کرتے ہیں صرف 19 فیصد لوگ ٹرانسپورٹ کے سرکاری ذرائع استعمال کرتے ہیں ایسے میں سڑکوں کی بھیڑ کو کم کرنے کے لیے پبلک ٹرانسپورٹ کو مفت کر دیا گیا سال 2019 میں، لکسمبرگ دنیا کا پہلا ملک بن گیا تھا جس نے ملک میں کہیں بھی آنا جانا مفت کر دیا تھایعنی اگر آپ سرکاری ٹرینوں، ٹراموں اور بسوں میں سفر کرتے ہیں تو آپ کو کوئی کرایہ ادا کرنے کی ضرورت نہیں ہےاس کی وجہ یہ تھی کہ پڑوسی ملک میں آباد لوگوں کو کسی قسم کی تکلیف کا سامنا نہ کرنا پڑے اور وہ آسانی سے اپنے ملک میں آکر کام کرسکیں۔

    بھارت ، آسٹریلیا میچ؛ مداح گراؤنڈ گھس گیا

    مہنگائی کی وجہ سے لکسمبرگ کے لوگ اتنے بے بس ہیں کہ وہ وہاں رہنے کے متحمل نہیں ہو سکتےزندہ رہنے کے لیے انہیں بیلجیم یا فرانس جیسے ممالک جانا پڑتا ہے یہ لوگ روزانہ اپنے ملک میں کام کرنے آتے ہیں اور شام کو رہنے کے لیے دوسرے ملک چلے جاتے ہیں کیونکہ وہاں کا کرایہ بہت کم ہے اور معیار زندگی بھی زیادہ مہنگا نہیں ہے-

  • سولرپینلز کی مزید 6 فرضی کمپنیاں بے نقاب،13 ارب  روپے کی منی لانڈرنگ کا انکشاف

    سولرپینلز کی مزید 6 فرضی کمپنیاں بے نقاب،13 ارب روپے کی منی لانڈرنگ کا انکشاف

    کراچی: ایف بی آر نے سولر پینلز کی درآمدات کی آڑ میں 13 ارب روپے کی منی لانڈرنگ کا انکشاف کیاہے۔

    باغی ٹی وی: فیڈرل بورڈ آف ریونیو ( ایف بی آر ) کے مطابق منی لانڈرنگ مافیا اور اوور انوائسنگ کے خلاف کارروائیاں جاری ہیں، کارروائیوں کے نتیجے میں ڈائریکٹوریٹ پوسٹ کلیئرنس آڈٹ نے سولرپینلز کی مزید 6 فرضی کمپنیاں بے نقاب کر دی ہیں فرضی کمپنیوں نے سولرپینلز کی آڑ میں 13ارب روپے کا کالادھن بیرون ملک منتقل کیا-

    ایف بی آر کے مطابق ان 6 فرضی کمپنیوں میں سے 3 کا تعلق کراچی اور دیگر 3کا تعلق کوئٹہ سے ہے،6 فرضی کمپنیوں نے درآمدہ سولر پینلز کی کلئیرنس کیلئے 687گڈز ڈیکلیئریشن جمع کرائیں، 443 گڈز ڈیکلیئریشن کے ذریعے اوور انوائسنگ کرکے 3 ارب کی منی لانڈرنگ کی گئی، کمپنیوں نے گڈز ڈیکلیئریشن میں 9 ارب روپےکی اصل ویلیو کے سولرپینلزکی مالیت 13ارب ظاہر کی۔

    ہر بار گری ہوئی معیشت اور قومی وقار کو نوازشریف نے ہی سنبھالا ہے،حمزہ شہباز

    کراچی:گزشتہ ماہ ستمبر میں قتل و غارت گری کے دوران 62 افراد کو ..

    قصور: زمین کا تنازعہ،فائرنگ سے سب انسپکٹر سمیت 4 افراد جاں بحق

    ایف بی آر حکا م کا کہنا ہے کہ کسٹمز پوسٹ کلیئرنس آڈٹ کی ٹیم نے 6 نئے مقدمات درج کرکے گرفتاریوں کیلیے ٹیمیں بنا دی ہیں، ایک فرضی کمپنی کے مالک کو گرفتار کرکے عدالت سے 6 دن کا ریمانڈ بھی لے لیا ہے-

  • ہر بار گری ہوئی معیشت اور قومی وقار کو نوازشریف نے ہی سنبھالا ہے،حمزہ شہباز

    ہر بار گری ہوئی معیشت اور قومی وقار کو نوازشریف نے ہی سنبھالا ہے،حمزہ شہباز

    لاہور: پاکستان مسلم لیگ (ن) کے نائب صدر حمزہ شہبازشریف نے کہا ہے کہچوتھی بار نوازشریف کا وزیراعظم بننا مہنگائی سے چوتھی بار عوام کی جان چھڑانا ہوگا۔

    باغی ٹی وی : رہنما مسلم لیگ ن حمزہ شہبازشریف نے ایک بیان میں کہا کہ قوم کا اتحاد، معاشی بحالی اور مہنگائی سے عوام کی نجات نوازشریف کا مشن ہے ، چوتھی بار نوازشریف کا وزیراعظم بننا مہنگائی سے چوتھی بار عوام کی جان چھڑانا ہوگا ہر بار گری ہوئی معیشت اور قومی وقار کو نوازشریف نے ہی سنبھالا ، ہر بار نوازشریف کو زخم لگے، ہر بار نوازشریف نے پاکستان کو لگے زخم بھرے، تاریخ گواہ ہے کہ نوازشریف نے کبھی انتقام نہیں لیانوازشریف کی قیادت میں مسلم لیگ (ن) نے ہمیشہ ڈلیور کیا، ہر وعدہ پورا کیا، پاکستان کی ترقی اور مہنگائی سے عوام کی نجات کی لکیر صرف نوازشریف کے ہاتھ میں ہے۔

    اوورسیز پاکستانی ملکی صنعت کوچلانےمیں اہم کرداراداکریں،نواز شریف

    دوسری جانب لندن میں اوورسیز رہنماؤں سے بات کرتے ہوئے نواز شریف کا کہنا تھا کہ میری پہلی اور آخری ترجیح معشیت کی بحالی ہے، پاکستان کو معاشی میدان میں مستحکم کرنے میں سب کو اپنا کردار ادا کرنا ہو گا عوام ملکی ترقی و خوشحالی میں رکاوٹ بننے والوں کو کبھی معاف نہیں کریں گے، اور ووٹ کی طاقت سے احتساب کریں گے ترقی کا سفر وہیں سے شروع ہوگا جہاں سے ختم کیا گیا تھا، پاکستان کو معاشی بدحالی اور مہنگائی سے نکالیں گے، اوورسیز پاکستانی ملکی صنعت کوچلانےمیں اہم کرداراداکریں۔

    نوازشریف کے استقبال کی تیاریاں،ن لیگ نے ٹھوکر نیاز بیگ کے قریب پنڈال سجا …

  • اوورسیز پاکستانی ملکی صنعت کوچلانےمیں اہم کرداراداکریں،نواز شریف

    اوورسیز پاکستانی ملکی صنعت کوچلانےمیں اہم کرداراداکریں،نواز شریف

    لندن: مسلم لیگ ن کے قائد نواز شریف کا کہنا ہے کہ عوام ملکی ترقی و خوشحالی میں رکاوٹ بننے والوں کو کبھی معاف نہیں کریں گے-

    باغی ٹی وی : لندن میں اوورسیز رہنماؤں سے بات کرتے ہوئے نواز شریف کا کہنا تھا کہ میری پہلی اور آخری ترجیح معشیت کی بحالی ہے، پاکستان کو معاشی میدان میں مستحکم کرنے میں سب کو اپنا کردار ادا کرنا ہو گا عوام ملکی ترقی و خوشحالی میں رکاوٹ بننے والوں کو کبھی معاف نہیں کریں گے، اور ووٹ کی طاقت سے احتساب کریں گے ترقی کا سفر وہیں سے شروع ہوگا جہاں سے ختم کیا گیا تھا، پاکستان کو معاشی بدحالی اور مہنگائی سے نکالیں گے، اوورسیز پاکستانی ملکی صنعت کوچلانےمیں اہم کرداراداکریں۔

    دوسری جانب نوازشریف کے استقبال کی تیاریاں جاری ہیں نواز شریف کے استقبال کی تیاریاں کے سلسلے میں آج لاہور کے حلقہ 135میں جلسہ ہوگا، مسلم لیگ ن نے ٹھوکر نیاز بیگ کے قریب پنڈال سجا لیا ہےجلسے سے مسلم لیگ ن کی چیف آرگنائزر مریم نواز خطاب کریں گی،مریم نواز شریف 21 اکتوبر کو نواز شریف کی واپسی اور ان کے ایجنڈے کے بارے میں اظہار خیال کریں گی اور پارٹی کی جانب سے دعویٰ کیا گیا ہے کہ جلسہ گاہ میں 10 ہزار کرسیاں لگادی گئی ہیں اور پنڈال میں لائٹنگ اور ساؤنڈ سسٹم کے انتظامات بھی مکمل ہیں۔

    نوازشریف کے استقبال کی تیاریاں،ن لیگ نے ٹھوکر نیاز بیگ کے قریب پنڈال سجا لیا

    خواتین کارکنان نے تانگہ ریلی بھی نکالی ،جس کی قیادت سابق ایم پی اے کنول لیاقت نے کی ریلی میں لیگی خواتین کارکنوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی، جنہوں نے پارٹی پرچم اور بینرز اٹھا رکھے تھےریلی میں شریک خواتین کا کہنا تھا کہ 21 اکتوبر کو نواز شریف کا تاریخی استقبال کریں گے،عوام نے جب بھی نواز شریف پر اعتماد کیا تو انہوں نے ملکی ترقی و خوشحالی کیلئے مثالی اقدامات کئے۔

    قصور: زمین کا تنازعہ،فائرنگ سے سب انسپکٹر سمیت 4 افراد جاں بحق

  • کراچی:گزشتہ ماہ ستمبر میں  قتل و غارت گری کے دوران  62 افراد کو موت کےگھاٹ اتار دیا گیا

    کراچی:گزشتہ ماہ ستمبر میں قتل و غارت گری کے دوران 62 افراد کو موت کےگھاٹ اتار دیا گیا

    کراچی میں اسٹریٹ کرائمز ، گاڑیوں اور موٹر سائیکلوں کی چھینا جھپٹی اور قتل غارت و گری کی وارداتوں کا سلسلہ گزشتہ ماہ ستمبر میں بھی بدستور جاری رہا شہری ستمبر میں 207 گاڑیوں، 5 ہزار 399 موٹرسائیکلز، 2 ہزار 464 فونز سے محروم ہوئے-

    باغی ٹی وی : سی پی ایل سی کے اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ ماہ ستمبر میں شہری مجموعی طور پر کروڑوں روپے مالیت کی 207 گاڑیوں سے محروم کر دیئے گئے جس میں 15 گاڑیاں چھینی اور 192 گاڑیوں کو چوری کرلیا گیا جبکہ متوسط طبقے کی سواری موٹر سائیکلوں کی چھینا جھپٹی عروج پر رہی اور گزشتہ ماہ ستمبر کے 30 روز کے دوران شہری مجموعی طور پر 5 ہزار 399 موٹر سائیکلوں سے محروم کر دیئے گئے جس میں 730 موٹر سائیکلوں کو ملزمان نے شہر کے مختلف علاقوں سے انتہائی دیدہ دلیری کے ساتھ چھین لیا جبکہ 4 ہزار 669 موٹر سائیکلوں کو چوری کرلیا گیا۔

    اسی طرح سے گزشتہ ماہ کے 30 روز کے دوران شہر کے مختلف علاقوں میں اسٹریٹ کرائمز کی وارداتوں کے دوران شہریوں سے کروڑوں روپے مالیت کے 2 ہزار 464 موبائل فون چھین لیے گئے شہر میں قتل و غارت گری کے دوران مجموعی طور پر 62 افراد کو موت کے گھاٹ اتار دیا گیا ، شہر میں اغوا برائے تاوان کا ایک جبکہ بھتہ خوری کے 2 کیس رپورٹ ہوئے ۔

    قصور: زمین کا تنازعہ،فائرنگ سے سب انسپکٹر سمیت 4 افراد جاں بحق

    دوسری جانب کراچی میں بھتہ خوری پھر شروع ہوگئی، رواں سال کے 9 ماہ کے دوران 91 بھتہ خوری کے واقعات رپورٹ ہوئے ہیں جبکہ بھتہ خوری کا نیٹ ورک ایران، دبئی اور افغانستان سے آپریٹ ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔

    اسپیشلائزڈانویسٹی گیشن یونٹ کے ایس ایس پی جنید شیخ کا کہنا ہے کہ بھتہ خوروں نے واردات کا طریقہ کار تبدیل کرلیا ہے، بھتہ خوری میں ملوث مضبوط اور منظم گینگ بیرون ملک موجود ہیں جنھوں نے مقامی لڑکوں کی مدد سے 5 سے 7 گروپس تشکیل دیئے ہیں،بھتہ خوروں کا لوکل نیٹ ورک اتنا مضبوط اور منظم نہیں ہے لیکن رواں سال پچھلے سالوں کے مقابلے میں انتہائی پریشان کن تھا کیوں کہ کچھ مقدمات اور ملزمان کی گرفتاری میں بیرون ملک سے بھتہ خوروں کا نیٹ ورک آپریٹ ہونے کا انکشاف ہوا ہے، یہ گروپ دبئی، ایران اور افغانستان سے آپریٹ کیے جارہے ہیں جنھیں جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے پکڑا بھی گیا۔

    50 ہزار ماہانہ تنخواہ لینے والے افراد پر ٹیکس عائد کرنے کی تجویز واپس

  • قصور:   زمین کا تنازعہ،فائرنگ سے سب انسپکٹر سمیت 4 افراد جاں بحق

    قصور: زمین کا تنازعہ،فائرنگ سے سب انسپکٹر سمیت 4 افراد جاں بحق

    قصور: تھانہ منڈی عثمان والا کے سرحدی علاقہ میں زمین کے تنازعہ پر فریقین کی دوطرفہ فائرنگ سے پولیس انسپکٹر سمیت 4 افرد جاں بحق ہو گئے-

    باغی ٹی وی: پنجاب کے ضلع قصور کے تھانہ منڈی عثمان والا کے سرحدی علاقہ میں زمین کے تنازعہ پر فائرنگ سے پولیس انسپکٹر جاں بحق جب کہ جوابی فائرنگ میں مخالفین کے 3 افراد مارے گئے پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ مخالف فریق کی فائرنگ میں انسپکٹر طارق بشیر چیمہ زخمی ہوگئے، انہیں پیٹ میں گولیاں لگی تھیں اور انہیں فوری طور پر جنرل اسپتال میں انتہائی نگہداشت وارڈ میں داخل کیا گیا، تاہم وہ جانبر نہ ہوسکے انسپکٹر طارق بشیر چیمہ لاہور کے تھانہ نصیر آباد میں انچارج انویسٹیگیشن تعینات تھا، قصور کے متعدد تھانوں میں ایس ایچ او تعینات رہا طارق بشیر چیمہ اور پولیس گارڈز کی فائرنگ سے مخالفین کے 3 افراد موقع پر جاں بحق ہوئے تھے۔

    50 ہزار ماہانہ تنخواہ لینے والے افراد پر ٹیکس عائد کرنے کی تجویز واپس

    دوسری جانب شہر قائد میں سپرہائی وے چاکرہوٹل کے قریب نامعلوم مسلح ملزمان کی فائرنگ سے موٹر سائیکل سوارسب انسپکٹر جاں بحق ہو گیا سب انسپکٹروادی حسین قبرستان میں اپنے پوتے کی قبرپرحاضری و فاتحہ خوانی کرنے کے بعد واپس جا رہا تھا کہ اسے نامعلوم مسلح ملزمان نے فائرنگ کرکے قتل کردیا،سب انسپکٹر کو سینے پرایک گولی لگی جوجان لیوا ثابت ہوئی ، اس کے پاس موجود نائن ایم ایم پستول بھی غائب ہےایس ایس پی ایسٹ نے سب انسپکٹر کے قتل کو ڈکیتی مزاحمت یا ذاتی دشمنی کا نتیجہ قرار دیتے ہوئےواقعے کی مختلف پہلوؤں پرتفتیش شروع کردی ہے۔

    نوازشریف کے استقبال کی تیاریاں،ن لیگ نے ٹھوکر نیاز بیگ کے قریب پنڈال سجا ..

    سب انسپکٹرعامرعلی فیاض پلازہ فیڈرل بی ایریا بلاک 13 کا رہائشی تھا اور ایس پی گلبرگ کمپلین سیل میں تعینات تھا ایس ایس پی ایسٹ عرفان علی بہادر بھی جائے وقوع پر پہنچے اورشواہد کا جائزہ لیا ،ایس ایس پی ایسٹ عرفان علی بہادرنے بتایا کہ امیر عباس کے بیٹے کا 2 سال قبل انتقال ہوا تھا اور انسپکٹرہراتوار کو وادی حسین قبرستان جایا کرتا تھا آج بھی وہ وادی حسین قبرستان میں اپنے پوتے کی قبرپرحاضری و فاتحہ خوانی کرنے کے بعد واپس جا رہا تھا کہ اسے مین سپرہائیوے چاکرہوٹل کے قریب نامعلوم مسلح ملزمان نے فائرنگ کرکے قتل کردیا ، ایک گولی سینے پر لگی جو جان لیوا ثابت ہوئی ،پولیس کو جائے وقوع سے گولی کا کوئی خول نہیں ملا البتہ ایک سکہ ضرور ملا ہے جسے پولیس نے اپنی تحویل میں لےلیا ہے،پولیس نے قانونی کارروائی کے بعد شہید سب انسپکٹر عامرعلی کی میت ورثا کے حوالے کردی۔ سب انسپکٹر عامر 2بچوں کا باپ اور تین بہنوں کا بھائی تھا-

    کاروباری ہفتے کے دوران ڈالر کی قیمت میں نمایاں کمی ہوئی

  • نوازشریف کے استقبال کی تیاریاں،ن لیگ نے  ٹھوکر نیاز بیگ کے قریب پنڈال سجا لیا

    نوازشریف کے استقبال کی تیاریاں،ن لیگ نے ٹھوکر نیاز بیگ کے قریب پنڈال سجا لیا

    لاہور: سابق وزیراعظم نوازشریف کے استقبال کی تیاریاں جاری ہیں آج مسلم لیگ ن نے ٹھوکر نیاز بیگ کے قریب پنڈال سجا لیا ہے-

    باغی ٹی وی : نواز شریف کے استقبال کی تیاریاں کے سلسلے میں آج لاہور کے حلقہ 135میں جلسہ ہوگا، مسلم لیگ ن نے ٹھوکر نیاز بیگ کے قریب پنڈال سجا لیا ہےجلسے سے مسلم لیگ ن کی چیف آرگنائزر مریم نواز خطاب کریں گی،مریم نواز شریف 21 اکتوبر کو نواز شریف کی واپسی اور ان کے ایجنڈے کے بارے میں اظہار خیال کریں گی اور پارٹی کی جانب سے دعویٰ کیا گیا ہے کہ جلسہ گاہ میں 10 ہزار کرسیاں لگادی گئی ہیں اور پنڈال میں لائٹنگ اور ساؤنڈ سسٹم کے انتظامات بھی مکمل ہیں۔

    خواتین کارکنان نے تانگہ ریلی بھی نکالی ،جس کی قیادت سابق ایم پی اے کنول لیاقت نے کی ریلی میں لیگی خواتین کارکنوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی، جنہوں نے پارٹی پرچم اور بینرز اٹھا رکھے تھےریلی میں شریک خواتین کا کہنا تھا کہ 21 اکتوبر کو نواز شریف کا تاریخی استقبال کریں گے،عوام نے جب بھی نواز شریف پر اعتماد کیا تو انہوں نے ملکی ترقی و خوشحالی کیلئے مثالی اقدامات کئے۔

    نجکاری کمیشن کل سے پی آئی اے کے مالی معاملات کا کنٹرول سنبھالے گا

    https://x.com/pmln_org/status/1710946745453297787?s=20
    دوسری جانب پریس کانفرنس میں ترجمان مسلم لیگ ن پنجاب عظمیٰ بخاری نے کہا کہ 21 اکتوبر کو صرف میاں صاحب کی واپسی نہیں ہے یہ پاکستان کی خوشحالی کی واپسی ہے مشکلات میں گھری عوام کیلیے ایک امید کی واپسی ہےمسلم لیگ ن خیالی پلاؤ پکانے والی جماعت نہیں ہے مسلم لیگ ن جو وعدے قوم سے کیے اسے ہمیشہ پورا کیا۔

    انہوں نے کہا کہ 2018 میں جو پاکستان کی ترقی کا ڈراپ سین تھا یہ میاں نوازشریف صاحب کو نہیں نکالا گیا تھا یہ پاکستان کی ترقی اور خوشحالی کے خلاف سازش تھی اور آج میاں صاحب کی واپسی پر ایک پروپیگنڈہ سیل پھر سے متحرک ہوچکا ہے-

    50 ہزار ماہانہ تنخواہ لینے والے افراد پر ٹیکس عائد کرنے کی تجویز واپس

  • عمرہ زائرین کے لیے نیا سفری ہدایت نامہ جاری

    عمرہ زائرین کے لیے نیا سفری ہدایت نامہ جاری

    ریاض: سعودی ائیرلائن نے عمرہ زائرین کے لیے نیا سفری ہدایت نامہ جاری کردیا۔

    باغی ٹی وی:سعودی ائیرلائن کے مطابق نئی سفری ہدایت سعودی ائیرلائن نے تمام ٹکٹ بکنگ سینٹر کو جاری کردی ہیں اور بذریعہ ریاض یا دیگر شہروں سے مکہ یا مدینہ جانے والے مسافروں کیلئے وقت کی پابندی کو لازمی قرار دیا ہے مسافروں کو ڈومیسٹک پرواز کیلئے 3گھنٹے سے کم وقت ائیرپورٹ پر رکنے کی اجازت نہیں ہوگی جبکہ عمرہ زائرین کو ائیرپورٹ پر 6 گھنٹے سے زائد بیٹھنےکی اجازت نہیں ہوگی۔

    سعودی ائیرلائن کے مطابق کنیکٹنگ فلائٹ کے عمرہ زائرین 3گھنٹے سے لے کر 6گھنٹے میں اگلی پرواز پر سوار ہونے کے پابند ہوں گے نئی ہدایات کا اطلاق براہ راست مدینہ اور مکہ جانے والے عمرہ زائرین پر نہیں ہوگا۔

    کاروباری ہفتے کے دوران ڈالر کی قیمت میں نمایاں کمی ہوئی

    دوسری جانب وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف ائی اے) کے امیگریشن سرکل نے پنجاب پولیس کو مطلوب ملزم کو عمرہ ویزے پر سعودی عرب جاتے ہوئے گرفتار کر لیاترجمان ایف آئی اے کے مطابق ملزم عبداللہ احمد کا نام انتہائی مطلوب ملزمان کی فہرست میں شامل تھا، ملزم عمرہ ادائیگی کے بہانے کراچی ائیرپورٹ سے فرار ہونا چاہتا تھا تاہم امیگریشن کاؤنٹر پر پہنچتے ہی ملزم کی تفصیلات سامنے آگئیں جس کے بعد ایف آئی اے حکام کی جانب سے مسافر کو پنجاب پولیس کے حوالے کر دیا گیا گرفتار ملزم ڈکیتی اور دیگر سنگین وارداتوں میں ملوث ہے، ملزم سعودی ائیر لائن کی پرواز سے سعودی عرب جانا چاہتا تھا۔

    نجکاری کمیشن کل سے پی آئی اے کے مالی معاملات کا کنٹرول سنبھالے گا