Baaghi TV

Author: Ayesha Rehmani

  • برطانیہ میں فلسطین کے حق میں مظاہرے،سینکڑوں افراد گرفتار

    برطانیہ میں فلسطین کے حق میں مظاہرے،سینکڑوں افراد گرفتار

    برطانیہ میں فلسطین کے حق میں مظاہرہ کرنے پر سینکڑوں افراد کو گرفتار کرلیا گیا ہے۔

    برطانوی پولیس کے مطابق فلسطین ایکشن کی حمایت میں لندن میں ہونے والے مظاہرے میں کم از کم 523 مظاہرین کو گرفتار کیا گیا ہے،کُل 523 افراد کو ایک کالعدم تنظیم کی حمایت ظاہر کرنے پر گرفتار کیا گیا پولیس نے مزید کہا کہ حراست میں لیے گئے افراد کی عمریں 18 سے 87 کے درمیان ہیں، یہ گرفتاریاں ڈیفنڈ آور جیوریز کی طرف سے منعقدہ احتجاج کے سلسلے میں کی گئی ہیں۔

    دوسری جانب اسرائیل میں ایران کے ساتھ جنگ بندی کے بعد ملک بھر میں جنگ مخالف احتجاجی مظاہرے شدت اختیار کر گئے ہیں، جہاں ہزاروں افراد نے تل ابیب سمیت مختلف شہروں میں سڑکوں پر نکل کر امن کا مطالبہ کیا۔

    غیر ملکی میڈیا کے مطابق تل ابیب کے حبیمہ اسکوائر میں ہونے والے بڑے احتجاج میں ہزاروں افراد شریک ہوئے، جبکہ پولیس کی جانب سے اجازت نامے میں صرف ایک ہزار افراد کی حد مقرر کی گئی تھی۔ مظاہرین نے حکومت کی جنگی پالیسیوں اور لبنان و خطے میں جاری عسکری کارروائیوں کے خلا ف نعرے لگائے۔

  • ایران کے پاس اب بھی ہزاروں بیلسٹک میزائل اور لانچرز موجود ہیں،امریکی انٹیلیجنس

    ایران کے پاس اب بھی ہزاروں بیلسٹک میزائل اور لانچرز موجود ہیں،امریکی انٹیلیجنس

    امریکی انٹیلی جنس جائزوں سے واقف حکام کے مطابق ایران کے پاس اب بھی ہزاروں بیلسٹک میزائل موجود ہیں جنہیں زیرِ زمین اسٹوریج سے لانچرز نکال کر دوبارہ استعمال کیا جا سکتا ہے۔

    امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹ کے مطابق امریکی حکام نے کہا ہے کہ اس جنگ بندی کا مقصد نہ صرف بحری راستوں کی بحالی ہے بلکہ ایران، امریکی افواج اور خطے کی ریاستوں کو مزید حملوں سے محفوظ رکھنا بھی ہے۔ تاہم بعض امریکی اہلکاروں کو خدشہ ہے کہ ایران اس وقفے کو اپنی میزائل صلاحیت دوبارہ منظم کرنے کے لیے استعمال کر سکتا ہے۔

    امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے صحافیوں سے گفتگو میں دعویٰ کیا کہ ایران کا میزائل پروگرام عملی طور پر تباہ ہو چکا ہے اور لانچرز و میزائل ناکار ہو گئے ہیں تاہم امریکی انٹیلی جنس رپورٹس اس دعوے سے جزوی طور پر مختلف تصویر پیش کرتی ہیں اگرچہ ایران کے نصف سے زائد میزائل لانچرز یا تو تباہ، نقصا ن زدہ یا زیر زمین پھنس چکے ہیں، لیکن ان میں سے متعدد کو مرمت کر کے یا زیر زمین کمپلیکس سے دوبارہ نکالا جا سکتا ہے۔

    امریکی حکام کے مطابق ایران کا میزائل ذخیرہ مجموعی طور پر تقریباً آدھا رہ گیا ہے، تاہم اس کے پاس اب بھی ہزاروں درمیانے اور کم فاصلے تک مار کرنے والے بیلسٹک میزائل موجود ہیں۔

    رپورٹ کے مطابق یہ میزائل زیر زمین چھپائے گئے مقامات یا خفیہ اسٹوریج سے دوبارہ استعمال میں لائے جا سکتے ہیں اسی طرح ایران کے پاس موجود ڈرونز کی تعداد بھی جنگ کے آغاز کے مقابلے میں 50 فیصد سے کم رہ گئی ہے، کیونکہ بڑی تعداد میں ڈرونز استعمال ہو چکے ہیں اور ایران کی پیداواری صلا حیت کو امریکی اور اسرائیلی حملوں نے متاثر کیا ہے۔

    تاہم امریکی حکام کا کہنا ہے کہ مذاکرات کی ناکامی پر ایران روس سے اسی نوعیت کے نظام حاصل کر کے اپنے دفاعی اور حملہ آور صلاحیت کو دوبارہ مضبوط بنا سکتا ہے۔ اس کے علاوہ ایران کے پاس اب بھی محدود تعداد میں کروز میزائل موجود ہیں جو خلیج فارس میں بحری جہازوں یا امریکی افواج کو نشانہ بنانے کے لیے استعمال ہو سکتے ہیں۔

    امریکی اور اسرائیلی حکام کے مطابق ایران کے تقریباً دو تہائی بیلسٹک میزائل لانچرز جنگ کے دوران ناکارہ ہو چکے ہیں، تاہم ان میں سے کئی اب بھی مرمت یا زیر زمین سے نکالے جا سکتے ہیں ایران کے پاس جنگ سے پہلے موجود تقریباً 2500 درمیانے فاصلے تک مار کرنے والے میزائلوں میں سے اب بھی 1000 سے زائد باقی ہیں، جبکہ باقی استعمال یا تباہ ہو چکے ہیں۔

    امریکی سینٹرل کمانڈ نے اس معاملے پر براہ راست تبصرہ کرنے سے انکار کیا ہے اور اعلیٰ امریکی فوجی قیادت کے حالیہ بیانات کی طرف اشارہ کیا ہےامریکی جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کے چیئرمین جنرل ڈین کین نے کہا کہ حالیہ حملوں نے ایران کے دفاعی صنعتی ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچایا ہے، امریکا نے 13 ہزار سے زائد بم استعمال کیے جن کے ذریعے میزائل اور ڈرون اسٹوریج مراکز،بحری اثاثے اور دفاعی صنعت کو نشانہ بنایا گیا تاکہ ایران اپنی سرحدوں سے باہر طاقت کے اظہار کی صلاحیت دوبارہ حاصل نہ کر سکے۔

    اُدھر واشنگٹن میں سینٹر فار اسٹریٹجک اینڈ انٹرنیشنل اسٹڈیز کے ماہر جون آلٹر مین کے مطابق ایران اپنی محدود صلاحیت کے باوجود خلیج کے خطے میں اثر انداز ہونے کی صلاحیت رکھتا ہے،ہر دن جب ایران شکست نہیں کھاتا وہ اس کے لیے فائدہ ہے، اور ہر دن جب مخالفین مکمل کامیابی حاصل نہیں کرتے وہ ان کے لیے نقصان ہے۔

  • ایران میں توانائی کے شعبوں کی بحالی کا کام شروع

    ایران میں توانائی کے شعبوں کی بحالی کا کام شروع

    جنگ بندی کے بعد ایران میں توانائی کے شعبوں کی بحالی کا کام شروع کر دیا گیا-

    الجزیرہ کے مطابق ایران کے نائب وزیر تیل محمد صادق عظیمی نے کہا ہے کہ ملک اپنی متاثرہ ریفائننگ اور ترسیلی صلاحیت کو آئندہ دو ماہ میں پرانی سطح کے 70 سے 80 فیصد تک بحال کرنے کے لیے کوشاں ہے۔

    انہوں نے ایرانی خبر رساں ادارے ایس این این سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ایران کی ریفائنریاں، ٹرانسمیشن لائنیں، آئل ڈپو اور طیاروں کو ایندھن فراہم کرنے والی تنصیبات ملک بھر میں بارہا حملوں کا نشانہ بنیں متاثرہ علاقوں میں ملبہ ہٹانے اور خراب آلات کی تبدیلی کے لیے ٹیمیں تعینات کر دی گئی ہیں، جن میں جزیرہ لاوان پر واقع ریفائنری بھی شامل ہے حکام آئندہ 10 دن کے اندر اس ریفائنری کے ایک حصے کو دوبارہ فعال کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

    دوسری جانب سعودی عرب نے بھی اپنے توانائی کے شعبے میں بحالی کا اعلان کیا ہے سعودی وزارتِ توانائی کے مطابق حالیہ حملوں کے بعد دو اہم توانائی کی تنصیبات پر آپریشنز بحال کر دیے گئے ہیں۔

    سعودی وزارت نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ مشرقی سے مغربی علاقوں تک تیل کی ترسیل کے لیے ایسٹ ویسٹ پائپ لائن کی مکمل پمپنگ صلاحیت، جو یومیہ 70 لاکھ بیرل ہے، دوبارہ حاصل کر لی گئی ہےحکام نے منیفہ آئل فیلڈ میں یومیہ تقریباً 3 لاکھ بیرل تیل کی پیداوار بھی بحال کر دی ہے خریص آئل فیلڈ میں مکمل آپریشنز کی بحالی کے لیے کام جاری ہے، جس سے مزید 3 لاکھ بیرل یومیہ پیداوار میں اضافہ متوقع ہے۔

    واضح رہے کہ جمعرات کے روز سعودی عرب نے ریاض، مشرقی صوبے اور ینبع انڈسٹریل سٹی میں تیل، گیس اور بجلی کی تنصیبات پر حملوں کے بعد متعدد مقامات پر آپریشنز معطل کرنے کا اعلان کیا تھا۔

  • مریم نواز کی مون سون سے قبل  نکاسی آب کے پراجیکٹس کی تکمیل کی ہدایت

    مریم نواز کی مون سون سے قبل نکاسی آب کے پراجیکٹس کی تکمیل کی ہدایت

    مریم نواز نے نکاسی آب کے پراجیکٹس جون سے پہلے مکمل کرنے کا ہدف دیتے ہوئے 15 شہروں میں جاری نکاسی آب کے پراجیکٹس پر 24 گھنٹے کام کرنے کا حکم دے دیا۔

    مون سون سے قبل سیوریج لائن اور بارشی پانی کے نکاس کے پراجیکٹس کی یقینی تکمیل کی ہدایت کی، سرگودھا، ڈیرہ غازی خان، گجرات، اوکاڑہ، جھنگ، ملتان اور سیالکوٹ میں نکاسی آب پراجیکٹس پر تیزی سے کام جاری ہے، جہلم، حافظ آباد، ساہیوال، فیصل آباد، گوجرانوالہ، شیخوپورہ، ننکانہ صاحب اور راولپنڈی میں نکاسی آب پراجیکٹس جاری ہے۔

    15 شہروں کے لیے 2265 کلو میٹر طویل سیوریج لائن اور بارش کے پانی کے نکاس کے لیے 189 کلو میٹر طویل پائپ لائن بچھائی جائے گی، فیز ون میں 86 ڈسپوزل اسٹیشن اور 9 انڈر گراؤنڈ اسٹوریج ٹینک بنائے جائیں گے۔

    Water and Sanitation Agency سیوریج اور بارشی پانی کے نکاس کے پراجیکٹ کی تکمیل پر 752 کلو میٹر طویل سڑکیں بھی تعمیر کرے گا، وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کی زیر صدارت خصوصی اجلاس میں 15 شہروں میں واسا کمپلیکس ڈیزائن کی منظوری دی گئی۔

    واسا کمپلیکس میں افسران کے لیے ہوسٹل بھی بنائے جائیں گے، واسا، ڈیش بورڈ اور موبائل ایپ پر جاری پراجیکٹس کی ریئل ٹائم مانیٹرنگ کی جائے گی، واسا مون سون سے قبل بڑے پیمانے پر نالوں کی صفائی کے لیے ڈی سلٹنگ مہم بھی شروع کرے گا۔

  • نیتن یاہو کا ترک صدر  پر ایران کو سہولت فراہم کرنے کا الزام

    نیتن یاہو کا ترک صدر پر ایران کو سہولت فراہم کرنے کا الزام

    اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کا کہنا ہے کہ ایران اور اس کے اتحادیوں سے لڑائی جاری رکھیں گے۔

    اپنے ایک بیان میں نیتن یاہو نے ترک صدر رجب طیب اردوان پر ایران کو سہولت فراہم کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے ترک صدر پرکردوں کےقتل عام میں ملوث ہونےکا بھی الزام لگایا کہا کہ ایران اور اس کے اتحادیوں سے لڑائی جاری رکھیں گے۔

    ترک صدارتی دفتر کے کمیونیکیشن امور کے سر برا ہ برہا نیتن دوران Burhanettin Duran نے کہا کہ نیتن یاہوکی غزہ میں نسل کشی اور خطےکے7 ملکوں پر حملےجاری ہیں، نیتن یاہو ترک صدر کو نشانہ بنانے کی خوش فہمی کا شکار ہیں نیتن یاہو مجرم ہےجن کے گرفتاری کے وارنٹ جاری ہوچکےہیں-

    انہوں نے کہا کہ نیتن یاہو اپنی سیاسی بقا کے لیے خطےکو کشیدگی اور تصادم میں دھکیلنا چاہتا ہے، سب جانتےہیں اسرائیلی وزیراعظم دوسروں کو درس دینےکی اخلاقی اورقانونی حیثیت کھو چکا ہے، نیتن یاہوکو بالآخر انسانیت کےخلاف جرائم کا ذمےدار ٹھہرایا جائے گا۔

  • امریکا کی ذمہ داری ہے وہ ایران کا اعتماد حا صل کرنے کے لیے عملی اقدامات کرے،اسپیکر ایرانی پارلیمنٹ

    امریکا کی ذمہ داری ہے وہ ایران کا اعتماد حا صل کرنے کے لیے عملی اقدامات کرے،اسپیکر ایرانی پارلیمنٹ

    ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے امریکا کے ساتھ مذاکرات کے حوالے سے کہا ہے کہ ایران نے نیک نیتی کا مظاہرہ کیا ہے، تاہم ماضی کے تجربات کے باعث اعتماد کا فقدان برقرار ہے-

    ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے سوشل میڈیا پر جاری اپنے پیغامات میں کہا ہے کہ مذاکرات سے قبل ہی ایران نے واضح کر دیا تھا کہ وہ نیک نیتی اور سنجیدہ ارادے کے ساتھ آگے بڑھ رہا ہے، تاہم 2 سابقہ جنگوں کے تجربات کے باعث مخالف فریق پر مکمل اعتماد موجود نہیں،ایرانی وفد نے مذاکرات کے دوران مستقبل کی جانب دیکھتے ہوئے مثبت اور تعمیری تجاویز پیش کیں، جبکہ اب امریکا پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ ایران کا اعتماد حا صل کرنے کے لیے عملی اقدامات کرے۔

    قالیباف کے مطابق ایران سفارتکاری کو اپنی طاقت کا ایک اہم ذریعہ سمجھتا ہے، جو عسکری جدوجہد کے ساتھ ساتھ قومی مفادات کے تحفظ کے لیے استعما ل ہوتی ہے، ایران اپنی قومی دفاعی کامیابیوں کو مزید مستحکم بنانے کے لیے کسی بھی لمحے اپنی کوششیں ترک نہیں کرے گاانہوں نے پاکستان کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ ایران مذاکراتی عمل میں سہولت کاری پر اپنے برادر اور دوست ملک پاکستان کا شکر گزار ہے اور پاکستانی عوام کے لیے نیک خواہشا ت کا اظہار کرتا ہے۔

    ایرانی اسپیکر نے کہا کہ ایران 9 کروڑ عوام پر مشتمل ایک مضبوط قوم ہے، جس نے سپریم لیڈر کی رہنمائی میں بھرپور یکجہتی کا مظاہرہ کیاعوام کی حمایت نے وفد کو حوصلہ دیا اور طویل 21 گھنٹے جاری رہنے والے مذاکرات میں شریک ٹیم کی کاوشیں قابلِ تحسین ہیں انہوں نے ایران کی سلامتی اور استحکام کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ملک کی خودمختاری اور قومی مفادات کے تحفظ کے لیے کوششیں جاری رہیں گی۔

  • لیسکو شارٹ فال 850 میگاواٹ سے متجاوز

    لیسکو شارٹ فال 850 میگاواٹ سے متجاوز

    لاہور: لیسکوکا شارٹ فال 850 میگاواٹ سے تجاوز کرگیا۔

    ذرائع این ٹی ڈی سی کے مطابق لیسکوکا شارٹ فال 850 میگاواٹ سے تجاوز کرگیا جس کے باعث وہ اپنی 2700 میگاواٹ کی ڈیمانڈ بھی پوری نہیں کر پا رہا، شارٹ فال کی وجہ سے شہر میں 2گھنٹے جبکہ دیہات میں 4 سے 6 گھنٹےکی غیراعلانیہ لوڈشیڈنگ کی جارہی ہے، بجلی کی طلب بڑھنے پر لوڈشیڈنگ کا دورانیہ مزید بڑھنےکا امکان ہے۔

    ادھر ذرائع سوئی ناردرن نے بتایا کہ درجہ حرارت بڑھنے کے ساتھ گیس کی قلت بھی بڑھ گئی ہے، گیس کی قلت کے باعث شہری ایل پی جی خرید رہے ہیں، آر ایل این جی گیس نہ ملنے سے بلوکی پاورپلانٹ بند ہوگیا ہے، بلوکی پاورپلانٹ 1223 میگاواٹ بجلی سسٹم میں فراہم کرتا تھا۔

  • اسرائیل میں نیتن یاہو کے خلاف  احتجاجی مظاہرے شدت اختیار کر گئے

    اسرائیل میں نیتن یاہو کے خلاف احتجاجی مظاہرے شدت اختیار کر گئے

    تل ابیب میں اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کی حکومت کے خلاف بڑے پیمانے پر احتجاجی ریلی نکالی گئی، جس میں شہریوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔

    اسرائیل میں ایران کے ساتھ جنگ بندی کے بعد ملک بھر میں جنگ مخالف احتجاجی مظاہرے شدت اختیار کر گئے ہیں، جہاں ہزاروں افراد نے تل ابیب سمیت مختلف شہروں میں سڑکوں پر نکل کر امن کا مطالبہ کیا تل ابیب کے حبیمہ اسکوائر میں ہونے والے بڑے احتجاج میں ہزاروں افراد شریک ہوئے، جبکہ پولیس کی جانب سے اجازت نامے میں صرف ایک ہزار افراد کی حد مقرر کی گئی تھی مظاہرین نے حکومت کی جنگی پالیسیوں اور لبنان و خطے میں جاری عسکری کارروائیوں کے خلاف نعرے لگائے،احتجاج کے دوران شرکاء نے ہاتھوں میں پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے جن پر "جنگ روکو” اور "نسل کشی بند کرو”، جنوبی لبنان پر قبضہ ایک تباہ کن فیصلہ ہوگا اور جب تک امن قائم نہیں ہوتا، اسرائیل میں حقیقی سلامتی ممکن نہیں جیسے نعرے درج تھے-

    رپورٹس کے مطابق یہ مسلسل چھٹا ہفتہ ہے جب اسرائیل میں جنگ مخالف مظاہرے ہو رہے ہیں اس بار احتجاج ملک کے دیگر شہروں جیسے یروشلم، حیفہ اور بئر سبع تک بھی پھیل گیا، جہاں شہریوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی مظاہرین کا کہنا تھا کہ خطے میں جاری کشیدگی اور عسکری کارروائیاں عام شہریوں کی زندگیوں کو خطرے میں ڈال رہی ہیں،س لیے حکومت کو فوری طور پر امن مذاکرات کی طرف جانا چاہیے۔

  • ٹرمپ کا ایران کی مکمل بحری ناکہ بندی کا منصوبہ

    ٹرمپ کا ایران کی مکمل بحری ناکہ بندی کا منصوبہ

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ وہ ایک ایسے منصوبے پر غور کر رہے ہیں جس کے تحت وینزویلا کے خلاف استعمال ہونے والی حکمت عملی کی طرز پر ایران کی مکمل بحری ناکہ بندی نافذ کی جا سکتی ہے۔

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے زیر غور ایک مبینہ منصوبے میں وینزویلا کی طرز پر ایران کی مکمل بحری ناکہ بندی کی حکمت عملی سامنے آئی ہے، جس میں آبنائے ہرمز سمیت اہم تجارتی راستوں پر دباؤ بڑھانے کی بات کی جا رہی ہے وینزویلا کے خلاف بحری ناکہ بندی ماضی میں اس کی معیشت کو کمزور کرنے کے لیے استعمال کی گئی تھی، اور اسی ماڈل کو ایران پر بھی لاگو کرنے کی تجویز دی جا رہی ہے۔

    منصوبے کے مطابق اگر اسے نافذ کیا گیا تو یہ ناکہ بندی صرف تیل کی برآمدات ہی نہیں بلکہ ایران کی تمام تجارتی سرگرمیوں کو بھی بری طرح متاثر کرے گی، اور بحری راستوں کے ذریعے ہونے والی ہر قسم کی ترسیل روک دی جائے گی تین کیریئر اسٹرائیک گروپس کی مدد سے اس ممکنہ بحری ناکہ بندی کو عملی شکل دی جا سکتی ہے، جس کے ذریعے خطے میں بحری نگرانی اور دباؤ میں اضافہ کیا جائے گا۔

    دوسری جانب ایران نے اس صورتحال پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اپنی سرزمین اور سمندری حدود کا ہر قیمت پر دفاع جاری رکھے گا ایرانی موقف کے مطابق آبنائے ہرمز پر اس کی موجودگی اور کنٹرول برقرار ہے۔

    تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز پر کسی بھی بڑی کشیدگی یا بندش کی صورت میں عالمی معیشت کو شدید نقصان پہنچ سکتا ہے، کیونکہ یہ راستہ دنیا کی توانائی تجارت کا ایک انتہائی اہم اور حساس گزرگاہ ہے۔

  • لبنان میں اسرائیلی کارروائیاں،متعدد سرحدی دیہات مکمل  تباہ

    لبنان میں اسرائیلی کارروائیاں،متعدد سرحدی دیہات مکمل تباہ

    جنوبی لبنان میں جاری اسرائیلی فوجی کارروائیوں کے دوران متعدد سرحدی دیہات کو مکمل طور پر تباہ کر دیا گیا ہے، جہاں گھروں کو بارودی مواد سے اُڑا کر زمین بوس کیا جا رہا ہے۔

    برطانوی اخبار دی گارڈین کی جانب سے جائزہ لی گئیں ویڈیوز میں دکھایا گیا ہے کہ اسرائیلی فوج نے سرحدی دیہات طیبہ، نقورہ اور دیر سریان میں بڑے پیمانے پر دھماکے کیےلبنانی میڈیا نے دیگر سرحدی علاقوں میں بھی ایسی ہی کارروائیوں کی اطلاع دی ہے، تاہم ان دعوؤں کی تصدیق کے لیے سیٹلائٹ تصاویر فوری طور پر دستیاب نہیں ہو سکیں۔

    یہ کارروائیاں اس وقت سامنے آئیں جب اسرائیلی وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے سرحدی دیہات میں تمام گھروں کو تباہ کرنے کا مطالبہ کیا، اور اس حوالے سے غزہ کے علاقوں رفح اور بیت حنون میں اپنائے گئے ماڈل کی پیروی کی بات کی، اسرائیلی فوج اس سے قبل جنوبی غزہ کے شہر رفح میں تقریباً 90 فیصد گھروں کو تباہ کر چکی ہے،یہ کارروائیاں بڑے پیمانے پر ریموٹ کنٹرول دھماکوں کے ذریعے کی جا رہی ہیں۔

    غزہ میں گھروں کے بڑے پیمانے پر تباہی کو ماہرین نے ڈومیسائیڈ قرار دیا ہے، جو ایک ایسی حکمت عملی ہے جس کے تحت شہری رہائش گاہوں کو منظم انداز میں تباہ کر کے پورے علاقے کو ناقابلِ رہائش بنا دیا جاتا ہے اسرائیل پر غزہ میں نسل کشی کے الزامات بھی عائد کیے جا چکے ہیں۔

    اسرائیلی فوج کا مؤقف ہے کہ ان کارروائیوں کا ہدف حزب اللہ کے بنیادی ڈھانچے جیسے سرنگیں اور عسکری تنصیبات ہیں، جنہیں ان کے مطابق شہری گھروں میں قائم کیا گیا ہے۔

    اسرائیل نے اعلان کیا ہے کہ وہ جنوبی لبنان کے وسیع علاقوں پر قبضہ کر کے دریائے لیتانی تک ایک سیکیورٹی زون قائم کرے گا، اور جب تک شمالی اسرائیل کے شہروں کی سیکیورٹی یقینی نہیں بن جاتی، بے گھر افراد کو واپس آنے کی اجازت نہیں دی جائے گی اس اعلان نے طویل مدتی بے دخلی کے خدشات کو بڑھا دیا ہے۔