کوئٹہ: بلوچستان کے ضلع ژوب میں امیر جماعت اسلامی سراج الحق کے قافلے پر خود کش دھماکا کرنے والے حملہ آور کی شناخت ہو گئی-
باغی ٹی وی: محکمہ انسداد دہشتگردی (سی ٹی ڈی) کے ذرائع نے بتایا کہ ژوب میں امیر جماعت اسلامی سراج الحق کے قافلے پر خود کش حملہ کرنے والے شخص کی شنا خت ہو گئی ہے، حملہ آور کا تعلق کوئٹہ سے ہے جو ڈیڑھ سال سے گھر سے غائب تھا اور اس کے اہل خانہ کا پتہ لگایا جارہا ہے۔
واضح رہے کہ ژوب میں گزشتہ روز امیر جماعت اسلامی سراج الحق کے قافلے پر خودکش حملہ ہوا تھاجس میں 6 کارکن زخمی جبکہ حملہ آور ہلاک ہوگیا تھا واقعہ کا مقدمہ سی ٹی ڈی تھانہ ژوب میں انسداد دہشت گردی، اقدام قتل اور 3,4,5ایکسپلو سیو ایکٹ کےتحت درج کیا گیا ہے وا قعہ کی مزید تحقیقات سی ٹی ڈی کر رہی ہے اور حملہ آور کے نیٹ ورک کا پتہ لگایا جا رہا ہے۔
وزیراعظم کے معاون خصوصی اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنما عطا تارڈ نے عمران خان اور رکن امریکی کانگریس میکسین کی مبینہ زوم آڈیو لیک پر ردعمل دیا ہے-
باغی ٹی وی: لاہور میں ملک احمد کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے عطا تارڑ نے کہا کہ امریکی سازش کا بیانیہ ایک سیاسی جماعت نے بنایا، اس جماعت نے ریڈیو پاکستان اور شہدا کی یاد گاروں پر حملہ کیایہ انتہا پسندی کی بھی انتہا ہےٹھنڈے کمرے میں بیٹھ کر سرحدوں پر کھڑے جوانوں پر تنقید کرنا بہت آسان ہے-
عطا تارڈ نے عمران خان کو کہا کہ آپ نے کہا کہ امریکی سازش کے نتیجے پر حکومت ختم کی گئی، اب آپ امریکی کانگریس وومن کی خوشامد کررہےہیں، کہہ رہے ہیں ہماری مدد کرو، بڑے برے حالات ہیں، ہم کوئی غلام ہیں والے اسٹیکرز عمران خان کے ماتھے پر لگا دینے چاہئیں۔
لیگی رہنما نے کہا کہ آپ امریکا کو کہہ رہے ہیں میری مدد کرو، خان صاحب اب آپ کی باری ہے، بالکل نہیں گھبرانا، یہ فون کالز اور زوم میٹنگز نہیں کرنی، کسی کے ساتھ کوئی رعایت نہیں ہوگی، کوئی گنہگار جیل سے باہر نہیں رہے گا۔
انہوں نے کہا کہ آپ چاہتے ہیں لوگوں کو پکڑا نہ جائے، تاکہ پاکستان کا دشمن وہی حرکت کرے جو آپ نے کی، اب ہاتھ جوڑ کر کہا جارہا ہے کہ آپ مداخلت کریں، بیان دیں، اللہ وہ وقت کسی پر نہ لائے جو فواد چوہدری پر آیا، بڑی باتیں کرتے تھے، سیاسی انتقام ذوالفقار علی بھٹو کا قتل تھا، آپ کو تو ابھی انگلی لگی ہے تو ’اوئی‘ نکل جاتی ہے، آپ اسے سیاسی انتقام کہتے ہیں، شرم آنی چاہئے-
عطا تارڑ نے کہا کہ آپ یا تو کہیں کہ حسان نیازی میرا بھانجا نہیں ہے، آپ کی تینوں بہنیں کور کمانڈر ہاؤس کے باہر موجود تھیں، جو مور لے کر آیا تھا اسے بھی بعد میں مور بنایا گیا۔
سعودی عرب سے پاکستان پہنچنے والے ایک اور مسافر میں منکی پاکس کی تصدیق ہوگئی۔
باغی ٹی وی: پمز انتظامیہ کے مطابق مکہ سے آج اسلام آباد پہنچنے والی خاتون لیب ٹیکنیشن منکی پاکس کی مریضہ نکلی منکی پاکس سے متاثرہ خاتون کا پمز کے آئسولیشن وارڈ میں علاج کیا جا رہا ہے دوسری جانب قومی ادارہ برائے صحت اسلام آباد نے بھی 19 سالہ خاتون کے منکی پاکس میں مبتلا ہونے کی تصدیق کی ہے۔
قومی ادارہ برائے صحت کے مطابق اب تک سعودی عرب سے پاکستان آئے 4 افراد میں منکی پاکس کی تصدیق ہوچکی ہے، تاہم پاکستان میں منکی پاکس مقامی سطح پر پھیلنے کے کوئی شواہد نہیں ملے ہیں۔
منکی پاکس (Mpox)) ایک متعدی بیماری ہے جو منکی پوکس وائرس کی وجہ سے ہوتی ہے۔ 1958ء میں پہلی بار یہ وبا ڈنمارک میں تحقیق کے لیے رکھے گئے بندروں میں پھوٹی تھی، اسی لیے اس کا نام منکی پاکس رکھا گیا۔
انسانوں میں اس کا پہلا کیس 1970ء میں جمہوریہ کانگو میں 9ماہ کے بچے میں ریکارڈ کیا گیا جب وہاں اسمال پاکس وبا پر قابو پانے کے لیے کوششیں کی جارہی تھیں۔ 1980ء میں چیچک کے خاتمے اور دنیا بھر میں چیچک کی ویکسینیشن ختم کیے جانے کے بعد منکی پاکس مسلسل وسطی، مشرقی اور مغربی افریقا میں ابھر رہا ہے جبکہ 2022ء -2023ء میں عالمی وبا کے طور پر سامنے آئی ہے۔
افریقی خطے سے باہر یہ انفیکشن انسانوں کے سفر یا جانوروں کے ذریعے پھیلا اور مئی 2022ء کے بعد سے منکی پاکس ان ممالک میں بھی رپورٹ ہونا شروع ہوا جہاں اس سے پہلے کوئی ایک کیس بھی نہ تھا۔ اب تک یہ وائرس برطانیہ، امریکا، کینیڈا، سنگاپور اور پاکستان سمیت کئی ممالک میں رپورٹ ہوچکا ہے۔ اس بیماری میں تکلیف دہ ددوڑے، بڑے آبلے دار دانے اور بخار ہوسکتا ہے۔ زیادہ تر لوگ مکمل طور پر صحت یاب ہو جاتے ہیں، لیکن کچھ بہت بیمار ہو جاتے ہیں۔
یہ بیماری انسانوں سے انسانوں اور کبھی کبھی جانورورں سے انسانوں میں رابطے کے ذریعے پھیلتی ہے، آمنے سامنے (بات کرنا یا سانس لینا) متاثرہ شخص کو چھونے، بوسہ لینے یا جنسی تعلق کے ذریعے، جانور کے کاٹنے، خراش لگنے، ان کا شکار کرتے، کھال اتارتے یا پکاتے وقت، منکی پاکس وائرس سے آلودہ چادروں، کپڑوں یا سوئیوں کا استعمال، حاملہ خواتین سے بچے کو وائرس کی منتقلی-
بھارتی حکومت نے 2000 روپے کا نوٹ ختم کرنے کا اعلان کیا ہے-
باغی ٹی وی : روئٹرز کے مطابق بھارت کے مرکزی بینک نے کہا کہ وہ 2 ہزار روپے مالیت کا سب سے بڑا نوٹ ختم کرنے جارہا ہے جس کو2016 میں متعارف کروایا گیا تھا، ساتھ ہی عوام سے کہا کہ رواں برس 30 ستمبر2023 تک اِن نوٹوں کو بینک میں جمع یا تبدیل کروالیں۔
وزارت خزانہ کے اعلی عہدیدار، ٹی وی سوماناتھن نے کہا کہ حکومت کے اِس قدام سے خلل پیدا ہونے کی توقع نہیں ہے ریزرو بینک آف انڈیا (آر بی آئی) نے کہا کہ شواہد سے ظاہر ہوتا ہے کہ لین دین کے لیے عام طور پر فرق استعمال نہیں کیا جا رہا تھا نوٹ قانونی طور پر ٹینڈر رہیں گے، لیکن لوگوں سے کہا جائے گا کہ وہ انہیں 30 ستمبر تک جمع کر کے چھوٹے نوٹوں میں تبدیل کر دیں۔
جب 2016 میں 2 ہزار روپے کے نوٹ متعارف کروائے گئے تھے تواس کا مقصد تھا کہ معیشت کو دوبارہ بہتر کرنا تھااس بات کے بہت کم شواہد موجود ہیں کہ منصوبہ کامیاب ہوا، لیکن اس اقدام نے معیشت کی 86% کرنسی کو راتوں رات قدر کے لحاظ سے گردش میں لے کر نقد رقم کی ایک منظم قلت پیدا کر دی۔
حکومت نےبعد ازاں 500 روپے کے نئے نوٹ جاری کرنا شروع کیے، اور 2,000 کا اضافہ کرنسی کو تیزی سے گردش میں لانے کے لیے شامل کیا تاہم اب بھارت کے مرکزی کا کہنا ہے کہ وہ زیادہ مالیت کے نوٹوں کو کم کرنا چاہتا ہے اور گزشتہ چار برسوں میں 2 ہزار روپے کے نوٹوں کی چھپائی بند کردی ہے۔
ریزرو بینک آف انڈیا نے ان نوٹوں کو واپس لینے کے فیصلے کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ یہ نوٹ عام طور پر لین دین کے لیے استعمال نہیں ہوتے ہیں اگرچہ حکومت اور مرکزی بینک نے اس اقدام کی وجہ نہیں بتائی لیکن تجزیہ کار کہتے ہیں کہ ملک بھر میں عام انتخابات سے پہلے نقد کے استعمال میںٓ تیزی آتی ہے۔
ایل اینڈ ٹی فائنانس ہولڈنگز کی گروپ چیف اکانومسٹ روپا ریگے نِتسور نے کہا کہ عام انتخابات سے پہلے ایسا اقدام کرنا ایک دانشمندانہ فیصلہ ہے کیونکہ جو لوگ اس کو اپنے پاس محفوظ رکھتے ہیں ان کے مشکل پیش آسکتی ہے۔
روپا ریگے کہنا ہے کہ یہ اقدام سے کوئی بڑا مسئلہ پیدا نہیں کرے گا کیونکہ کم مالیت کے نوٹ کثیر تعداد میں موجود ہیں جبکہ گزشتہ 7، 6 برسوں کے دوران ڈیجیٹل لین دین اور ای- کامرس نے کافی وسعت اختیار کی ہے ماہراقتصادیات یوویکا سنگھل کا کہنا ہے کہ لیکن چھوٹے کاروبار جیسے کہ زراعت اور تعمیرات جو نقد پر انحصار کرتے ہیں ان کو کچھ وقت کے لئے تکلیف ہوسکی ہے۔
مزید کا کہ جن کے پاس یہ نوٹ ہیں تو وہ لوگ اس کو بینک جمع کروانے کے بجائے خریداری کرتے ہیں اور ایسی چیزیں خرید لیتے ہیں جس کی ان کو ضرورت نہیں ہوتی ہے۔
حکومت نے عوام سے کہا کہ وہ 30 ستمبر تک کم مالیت کے نوٹ جمع کرائیں یا تبدیل کر دیں جس کی وجہ سے بینک ڈپازٹس میں اضافہ ہوگا۔ یہ ایک ایسے وقت میں ہورہا ہے جب ڈپازٹ کی نمو بینک کریڈٹ سے کم ہے۔
لندن میں سابق وزیراعظم نواز شریف کے نام پر نامعلوم افراد نے ایک اور گاڑی بھی رجسٹر کرالی اس سے قبل مسلم لیگ ن کے قائد کلے نام 3 گڑیاں رجسٹرڈ کرائی جا چکی ہیں-
باغی ٹی وی : سٹی آف لندن پولیس سازش کرنے والوں تک پہنچنے کیلئے تحقیقات میں مصروف ہے تاہم اب چوتھی گاڑی بھی نواز شریف کے نام پر رجسٹر کرالی گئی ہے نواز شریف لندن آفس کے خرم بٹ نے پولیس کو چوتھی گاڑی رجسٹر ہونے سے بھی آگاہ کردیا۔
نوازشریف لندن آفس کے مطابق گاڑیاں نوازشریف کے نام پر رجسٹر کرانے کا مقصد جرائم کرکے تعلق نوازشریف سے جوڑنا ہوسکتا ہے نوازشریف کے نام پر رجسٹرگاڑیوں کو دہشت گردی، دھوکا دہی اور مجرمانہ کارروائیوں کیلئے استعمال کیاجاسکتا ہے۔
گزشتہ دنوں گاڑیاں رجسٹر ہونے کا معاملہ اس وقت سامنے آیا تھا جب نوازشریف کے نام رجسٹرگاڑی کی تفصیل ڈی وی ایل اے نے ایون فیلڈ بھیجی تھی، مارچ 2023 میں نوازشریف آفس نے ڈی وی ایل اے کو فراڈ سآگاہ کیا اور پھر اپریل 2023 میں ایک اور گاڑی نواز شریف کے نام پر رجسٹر کی گئی نواز شریف کے نام پر تیسری گاڑی کا اس وقت پتہ چلا جب ٹریفک قواعد کی خلاف ورزی کا جرمانہ وصول ہوا۔
اس حوالے سے خرم بٹ کا کہنا تھاکہ چند شرپسند عناصر نواز شریف کا نام اپنے مجرمانہ مقاصد کیلئے استعمال کرنے کی کوشش کررہے ہیں، دوسروں کے نام پر گاڑی رجسٹر کرانے والے جلد پکڑے جائیں گے۔
اس حوالے سے لندن پولیس کا کہنا تھا کہ نواز شریف لندن آفس کی گاڑیوں کی رجسٹریشن سے متعلق شکایت پر تحقیقات کر رہے ہیں پولیس نے تصدیق کی کہ نواز کے لندن آفس کی جانب سے پولیس کو رپورٹ کرنے کے بعد تحقیقات کا آغاز کیا گیا کہ ان کے نام پر تین مختلف گاڑیاں رجسٹرڈ ہیں اور کوئی جرم کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔
ماسکو: روس نے سابق امریکی صدر باراک اوباما اور متعدد صحافیوں سمیت 500 امریکیوں کے ملک میں داخلے پرپابندی عائد کردی۔
باغی ٹی وی : سی این این کے مطابق روس نے جمعے کے روز اعلان کیا کہ وہ "500 امریکیوں، جو کہ جو بائیڈن انتظامیہ کی طرف سے لگائی جانے والی روس مخالف پابندیوں کے جواب میں، "امریکی ایگزیکٹو پاور کی بہت سی اہم شخصیات” کے ملک میں داخلے پر پابندی عائد کر رہا ہے۔
روسی پابندیوں کی فہرست میں سابق امریکی صدر باراک اوباما،امریکی میڈیاکےصحافی، متعدد امریکی سینیٹرز، سابق امریکی سفیر اور متوقع چیئرمین جوائنٹ چیفس بھی شامل ہیں۔
اس حوالے سے روس کی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ باراک اوباما سمیت 500 امریکیوں پر ملک میں داخلے پر پابندی روس مخالف اقدامات کا ردعمل ہےجو بائیڈن انتظامیہ روس پر مسلسل پابندیاں عائد کر رہی ہے، امریکا کو یہ بات بہت پہلے سمجھنی چاہیے تھی کہ ہمارے خلاف ہر حملے کا بھرپور جواب دیا جائےگا۔
بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ "منسلک ‘لسٹ-500’ میں وہ لوگ بھی شامل ہیں جو حکومت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں میں شامل ہیں جو نام نہاد سٹارمنگ دی کیپیٹل کے تناظر میں مخالفین کے ظلم و ستم میں براہ راست ملوث ہیں۔” 6 جنوری 2021 کو سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حامیوں نے بائیڈن کی بطور صدر سرٹیفیکیشن روکنے کی کوشش کی اور امریکی کیپیٹل پر حملہ کیا۔
ممبئی: بالی ووڈ اسٹار سلمان خان نے آن لائن اسٹریمنگ پلیٹ فارم کے ساتھ اپنے کیرئیر کا سب سے بڑا معاہدہ طے کرلیا۔
باغی ٹی وی : بھارتی شوبز ویب سائٹ کے مطابق سلمان خان گزشتہ تین دہائیوں سے ایک باس کی طرح انٹرٹینمنٹ انڈسٹری پر راج کر رہے ہیں۔ان کے کیرئیر نے کئی اونچائیاں دیکھی ہیں لیکن ان کا مقام و مرتبہ اب بھی برقرار ہے۔ تازہ ترین مثال یہ ہے کہ باکس آفس پر کسی کا بھائی کسی کی جان کی کم کارکردگی کے باوجود، سپر اسٹار نے مبینہ طور پر ایک بڑے او ٹی ٹی پلیٹ فارم کے ساتھ معاہدہ کر لیا ہے-
سلمان خان نے آن لائن اسٹریمنگ پلیٹ فارم زی فائیو کے ساتھ 500 کروڑ روپے کا معاہدہ کر لیا ہے جس کے تحت آئندہ 5 سال تک ریلیز ہونے والی اداکار کی ساری فلموں کے حقوق زی فائیو کے پاس ہوں گے۔
بھارتی میڈیا کا کہنا ہے کہ رواں سال جنوری کے بعد تمام آنے والی فلموں کے سیٹلائٹ حقوق پر زی فائیو کا اختیار ہوگا جبکہ ’کسی کا بھائی کسی کی جان اس ڈیل کے بعد زی فائیو پر اسٹریم کی جانے والی پہلی فلم ہوگی دلچسپ بات یہ ہے کہ ٹائیگر 3 اس ڈیل کا حصہ نہیں ہوگا-
اس سے قبل سلمان خان کی فلم ’رادھے‘ بھی زی فائیو پر اسٹریم کی گئی تھی جس نے سنیما گھروں میں تو خاص کامیابی نہ سمیٹی تاہم پلیٹ فارم پر ریکارڈ توڑ دیئے تھے۔
آثار قدیمہ کے ماہرین نے بحیرہ روم کی تہہ میں 7 ہزار سال قبل بنائی گئی سڑک دریافت ہوئی ہے۔
باغی ٹی وی: "ہیلو میگزین” کےمطابق یونیورسٹی آف زادار کے ماہر آثار قدیمہ ایگور بورزیک نے پتھر کے زمانے کی سڑک کی باقیات کروشیا کے ساحل سے دور خلیج گریڈینا میں پانی کے تقریباً 16 فٹ نیچے دریافت کی ہزاروں سال پہلے کی اس اہم دریافت نے آثار قدیمہ کے ماہرین کو پرجوش کر دیا ہے۔
اگرچہ یہ کوئی اٹلانٹس کی طرح کھویا ہوا شہر نہیں ہےتاہم سائنسدانوں نے ایک ایسے تاریخی حصے کو بےنقاب کیا ہے جسے سمندر نگل چکا تھا۔ ماہرین نے اعتراف کیا کہ وہ بھی حیران رہ گئے جب غوطہ خوروں نے 7،000 سال پرانی پتھر کی سڑک کا پتہ لگایا جو سمندر کی مٹی کی تہوں میں دبی ہوئی تھی۔
قدیم ڈھانچے کو اس وقت دریافت کیا گیا جب یونیورسٹی آف زادار کے ماہر آثار قدیمہ ایگور بورزیک نے کروشیا کے ساحل سے دور خلیج گریڈینا میں تقریباً 16 فٹ (5 میٹر) پانی کے اندر “عجیب ڈھانچے” کو دیکھا۔
ماہرین کے مطابق ڈوبی ہوئی سڑک کبھی کسی زمانے میں کروشیا کے جزیرے کورچولا کو قدیم بستی سے جوڑتی تھی۔ بستی کا تعلق سمندری ثقافت Hvar سے تھا جو ایک مصنوعی زمین پر بیٹھی تھی لیکن اب بحیرہ روم میں ایڈریاٹک سمندر کے نیچے چار سے پانچ میٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔
سولین نامی اس قدیم جگہ کو 2021 میں کروشیا یونیورسٹی کے محققین نے اس وقت دریافت کیا جب انہوں نے سیٹلائٹ تصاویر میں سمندر کی تہہ میں غیر معمولی ڈھانچے کو دیکھا۔ غوطہ خوری اور قریب سے دیکھنے پر، انہوں نے ایک بستی دریافت کی، جو کہ نیو لیتھک ٹولز کے ساتھ مکمل تھی۔ جبکہ اس مقام پر ملنے والے نوادرات 4,900 سال پہلے کے ہیں، محققین نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ یہ سڑک تقریباً 7000 سال پہلے بنائی گئی تھی سولین کی طرح، قدیم سڑک ان تمام سالوں کے لیے نقصان سے محفوظ رہی کیونکہ اس علاقے کے ارد گرد جزیرے تھے۔
یونیورسٹی آف زادار نے دریافت کی فوٹیج جاری کی جس میں سڑک دکھائی گئی جو پتھروں پر مشتمل تھی اور اس کی پیمائش تقریباً 12 فٹ (تقریباً 4 میٹر) تھی۔
ماہرین آثار قدیمہ کا خیال ہے کہ لوگ تقریباً 7,000 سال پہلے اس سڑک پر چلتے تھے جبکہ اس جگہ کے قریب لکڑی کی ریڈیو کاربن ڈیٹنگ سے پتہ چلتا ہے کہ بستی 4,900 قبل مسیح کی ہے۔
تقریباً چار میٹر چوڑائی پر، سڑک کو احتیاط سے پتھر کے سلیبوں کا استعمال کرتے ہوئے بنایا گیا تھا۔ آج، یہ مٹی کی ایک موٹی تہہ سے ڈھکی ہوئی ہے جیسا کہ کسی بھی زیر آب ساخت کی طرح ہوتی ہے-
صرف یہی نہیں، اسی تحقیقی ٹیم نے جزیرے کے مخالف سمت میں ایک اور زیر آب بستی دریافت کی جو حیرت انگیز طور پر سولین سے ملتی جلتی ہے۔ سائنس دانوں نے اس سائٹ سے پتھر کے زمانے کے کچھ دلچسپ نوادرات بھی دریافت کیے، جن میں بلیڈ اور کلہاڑی بھی شامل ہیں اور یہ نتیجہ اخذ کیا گیا کہ وہ سولین کی دریافتوں کی طرح Hvar ثقافت کا حصہ ہیں۔
ان دلچسپ دریافتوں نے اس بات پر روشنی ڈالی ہے کہ ابتدائی انسان کس طرح خود کو مختلف ماحول کے مطابق ڈھال سکتے تھے اور ان کے درمیان سڑکیں بنا سکتے تھے۔
شہزادی ڈیانا کی موت کے پیچھے کون تھا؟ مصنوعی ذہانت نے 3 تصاویر دکھا دیں-
باغی ٹی وی : ” العربیہ” کے مطابق اتوار کو ٹک ٹاک پر ایک صارف ”راوول گوتیریز” نے انکشاف کیا کہ جب اس نے مصنوعی ذہانت سے پوچھا کہ 1997 میں ویلز کی شہزادی ڈیانا اور ان کے مصری دوست عماد الفاید کی موت کا سبب کون تھا تو اس کا جواب چونکا دینے والا تھامصنوعی ذہانت نے لفظوں کی بجائے تین تصاویر کے ساتھ جواب دیا جنہیں اطالوی جریدے فورم نے شائع کیا ہے۔
ان میں سے پہلی تصویر میں موجودہ برطانوی بادشاہ چارلس III یا ان کے آنجہانی والد فلپ سے ملتا جلتا شخص ہے، دوسری تصویر حادثے کے بعد تباہ ہونے والی گاڑی کی ہے اور آخری ایک خاتون کی ہے جو آنجہانی ملکہ الزبتھ II کی ہو سکتی ہے۔
اگرچہ تصاویر تجسس کو مطمئن کرنے کے لیے کوئی واضح نظریہ پیش نہیں کرتیں، لیکن ان شاہی شخصیات کو کم از کم ظاہری طور پر ذمہ دار ٹھہرانا ان لوگوں کے لیے کافی ناگوار اور چونکا دینے والا تھا جنہوں نے اس پوسٹ کو دیکھا۔
واضح رہے کہ ڈیانا اور ان کے دوست دودی الفاید کی موت 31 اگست 1997 کو ایک کار کے حادثے میں ہوئی تھی جو پاپارازیوں سے بچنے کی کوشش کر رہی تھی۔ وہ تصاویر لینے کی کوشش میں ان کی کار کا پیچھا کر رہے تھے۔
دوسری جانب برطانیہ کے نئے بادشاہ کے طور پر چارلس III کی تاج پوشی کے بعد باضابطہ طور پر جشن منایا گیا، تو تجسس سے بھرپور لیڈی ڈیانا کے مداحوں نے مصنوعی ذہانت کے ذریعے دکھایا کہ اگر وہ زندہ ہوتیں تو کیسی نظر آتیں مصنوعی ذہانت کی مدد سے بنی یہ تصاویر بہت سے صارفین نے سوشل میڈیا پر پوسٹ کی تھیں۔
واٹس ایپ نے بھارت میں 36 لاکھ موبائل کنکشن بند کرتے ہوئے ان کے واٹس ایپ اکاؤںٹس بند کردیئے ۔
باغی ٹی وی : بھارتی میڈیا کے مطابق واٹس ایپ نےیہ اقدام جعلی کالز کے سلسلے میں کیےفراڈ کالزروکنے سے متعلق حکومتی اقدامات کے حوالے سے پوچھے گئے سوال کے جواب میں بھارتی وزیر کا کہنا تھا کہ میٹا کی ملکیتی کمپنی واٹس ایپ نے رضامندی ظاہر کی ہے کہ کسی بھی فون نمبر کو دھوکہ دہی میں ملوث پایا گیاتو اس کی سروسز معطل کردی جائیں گی۔
یونین ٹیلی کام وزیراشونی ویشناؤ کا کہنا تھا کہ ہم واٹس ایپ کےساتھ مسلسل رابطےمیں ہیں اورانہوں نےاتفاق کیا ہے کہ صارفین کی حفاظت انتہائی اہم ہےتمام او ٹی ٹی پلیٹ فارمز اس بات پر تعاون کر رہے ہیں کہ دھوکہ دہی میں ملوث صارفین کے اکاؤنٹس کو معطل کر دیا جائے گا۔ 36 لاکھ موبائل کنکشنز دھوکہ دہی کے باعث معطل کر تے ہوئے اُن کے واٹس ایپ اکاؤںٹس کو بلاک کر دیا گیا ہے۔
بھارتی صارفین کی بڑی تعداد نے انٹرنیشنل سپیم کالز میں غیرمعمولی اضافہ کی شکایت کرتے ہوئے کہا تھا کہ سوشل میڈیا پرکئی صارفین نے انڈونیشیا، ویت نام، ملائیشیا، کینیا اورایتھوپیا سے فراڈ کالز کی شکایت کی ہے۔
واٹس ایپ نے بھارتی ٹیلی کام منسٹر کا شکریہ اداکرتے ہوئے کہا کہ ہم حکومت کے ساتھ مل کر صارفین کیلئے محفوظ ماحول تشکیل دے رہے ہیں۔