Baaghi TV

Author: Ayesha Rehmani

  • اہم مواقعوں پر بشری بی بی کی سیاسی معاملات میں مداخلت تباہ کن ثابت ہوئی،سینئیر صحافی

    اہم مواقعوں پر بشری بی بی کی سیاسی معاملات میں مداخلت تباہ کن ثابت ہوئی،سینئیر صحافی

    سینئر صحافی کامران خان نے چیئرمین پی ٹی آئی کی اہلیہ بشری بی بی سے متعلق تہلکہ خیز انکشافات کئے ہیں۔

    باغی ٹی وی : سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنی ٹوئٹ انہوں نے کہا ہے کہ چیئرمین پی ٹی آئی تسلیم کر چکے ہیں کہ بشری بی بی ان کی روحانی سرپرست تھیں۔یہ سب کچھ ایک روحانی حد میں رہتا تو اس میں کوئی حرج نہ تھا تاہم اہم مواقعوں پر بشری بی بی کی سیاسی معاملات میں مداخلت تباہ کن ثابت ہوئی ہے۔


    کامران خان نے پانچ اہم سیاسی موڑ پر بشری بی بی کی مداخلت کے حوالے سے بتایا کہ عمران خان کی سب غلطیوں کی ماں اہم سیاسی اور قومی اہمیت کے معاملات پر بشری بی بی کے توہم پرستانہ حساب کتاب سے راہنمائی اور اجازت لینا تھی بشریٰ بی بی کے صوفیانہ حسابات پر عمل کرتے ہوئے عمران خان نے یکطرفہ طور پر پنجاب اور کے پی کے حکومتیں ختم کرنے کا فیصلہ کیا۔

    جہانگیر ترین نے ناروال سے اہم سیاسی شخصیات کو شامل کر لیا

    کامران خان نے اپنی ٹوئٹ میں کہا کہ بشریٰ بی بی نے عمران خان کو پی ٹی آئی کے ایم این ایز کے استعفوں کا اعلان کرنے پر مجبور کیا۔ پی ٹی آئی کے تقریباً ہر ایم این اے کی مخالفت کے باوجود، بی بی نے خان کو باز نہیں آنے دیا۔

    انہوں نے کہا کہ عمران خان سے زیادہ، بشریٰ بی بی چاہتی تھی کہ لیفٹیننٹ جنرل فیض آئی ایس آئی کے سربراہ کے طور پر برقرار رہیں اور بعد ازاں جنرل باجوہ کی جگہ آرمی چیف بنیں۔ اس پیش رفت نے خان کے COAS باجوہ اور ان کے کور کمانڈرز کے ساتھ خوشگوار تعلقات کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا۔

    پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ایک بار پھر بڑے اضافے کا امکان

    کامران خان نے کہا کہ بشریٰ بی بی عثمان بزدار کی سب سے بڑی حمایتی تھیں۔ انہوں نے کچھ صوفیانہ حسابات کی بنیاد پر خان کو قائل کیا کہ اقتدار میں ان کی بقا کا تعلق بزدار کے بطور وزیراعلیٰ رہنے سے ہے۔

  • مریم نواز نے پنجاب کے تمام اضلاع سے خواتین یوتھ کوآرڈی نیٹرز کا تقررکر دیا

    مریم نواز نے پنجاب کے تمام اضلاع سے خواتین یوتھ کوآرڈی نیٹرز کا تقررکر دیا

    لاہور: پاکستان مسلم لیگ ن کی سینئر نائب صدر اور چیف آرگنائزر مریم نواز نے پنجاب کے تمام 36 اضلاع میں خواتین یوتھ کوآرڈی نیٹرز کا تقرر کر دیا۔ ن لیگی رہنما نے نومنتخب کوآرڈی نیٹرز میں نوٹیفکیشن بھی تقسیم کردیئے۔

    باغی ٹی وی: ماڈل ٹاؤن لاہور میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مریم نواز کا کہنا تھا کہ خواتین کو قومی دھارے میں شامل کئے بغیر حقیقی قومی ترقی کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکتا۔ پاکستان مسلم لیگ ن اس حقیقت سے نہ صرف با خوبی آگاہ ہے بلکہ اس جماعت نے خواتین کو باختیار بنانے اور انہیں زندگی کے مختلف شعبوں میں منظم کرنے کے لئے ٹھوس اقدامات کئے ہیں۔ ضلعی سطح پر خواتین کوارڈینیٹرز کی تقرری بھی پارٹی کی جمہوری ویژن کا عکاس ہے۔

    پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ایک بار پھر بڑے اضافے کا امکان

    اس موقع پر تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مسلم لیگ ن کی چیف آرگنائز اورسینئر نائب صدر مریم نواز نے کہا کہ مسلم لیگ نون ملک کی حقیقی جمہوری سیاسی جماعت ہے جس نے اختیارات کو نچلی سطح پر منتقل کرنے اور ہر شعبہ ہائے زندگی سے وابستہ افراد کو آگے بڑھنے کے مواقع فراہم کئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ ن نے اپنے قائد میاں نواز شریف کے ویژن پر عمل کرتے ہوئے خواتین کی قومی دھارے میں شمولیت کو یقینی بنایا ہے۔

    کیچ میں ریموٹ کنٹرول بم دھماکا،چیئرمین یونین کونسل بالگتر سمیت 7 افراد جاں بحق

    ضلعی کوارڈینیٹر خواتین نے کہا کہ سیاسی افق پر ن لیگ کی خواتین سیاسی رہنما جس آب و تاب سے چمک رہی ہیں یہ روز روشن کی طرح عیاں ہے۔ آج مسلم لیگ ن نے پنجاب کے تمام 36 اضلاع میں پارٹی کی کوارڈینیٹر مقرر کر کے سیاست میں خواتین کی اہمیت پر مہر ثبت کر دی ہے۔ خواتین کوارڈینٹرز کا کہنا ہے کہ ضلعی سطح پرکوارڈینیٹر مقرر کرنے سے اضلاع میں خواتین کو فعال کرنے اور ان کے مسائل کو حل کرنے میں مددملے گی۔ تقریب کے اختتام پر مریم نواز 36 اضلاع سےمنتخب ہونے والی کوارڈنیٹرز میں تعیناتی کے نوٹیفیکیشن تقسیم کیے-

    جہانگیر ترین نے ناروال سے اہم سیاسی شخصیات کو شامل کر لیا

  • پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ایک بار پھر بڑے اضافے کا امکان

    پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ایک بار پھر بڑے اضافے کا امکان

    ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ایک بار پھر بڑے اضافے کا امکان ہے۔

    باغی ٹی وی: میڈیا رپورٹس کے مطابق پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں 300 روپے کی سطح کے قریب پہنچ جائیں گی۔ 16 اگست سے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 22 روپے تک اضافے کا امکان ہےڈیزل کی قیمت میں 22 روپے تک جبکہ پٹرول کی قیمت میں 13 روپے تک اضافے کا امکان ہےعالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں بڑھنے کی وجہ سے پاکستان میں بھی پٹرولیم مصنوعات مزید مہنگی ہونے کا امکان ہے۔

    قبل ازیں گھریلو صارفین کو اوسط فی یونٹ قیمت 59 روپے کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی وفاقی حکومت کی جانب سےبجلی کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ جاری ہے بجلی کے بنیادی ٹیرف اورٹیکسزشامل ہونے سے یونٹ قیمت 59 روپے تک پہنچ چکی ہے، حکومت نے کچھ روز قبل بجلی کے بنیادی ٹیرف میں 7 روپے فی یونٹ کا اضافہ کیا تھا۔

    بجلی کی فی یونٹ قیمت 59 روپے تک کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی

    فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ، الیکٹرک سٹی ڈیوٹی شامل کرنےسےقیمت میں ہوشربااضافہ ہوا،فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ کی رقم پر بھی اضافی ٹیکس لگا کر بلز میں شامل کیا گیا،کوارٹرٹیرف ایڈجسٹمنٹ، انکم ٹیکس، پی ٹی وی فیس کے علاوہ ایف سی سرچارج کو بلوں میں شامل کیا ہے، جنرل سیلز ٹیکس سمیت دیگر چارچز شامل کرنے کی وجہ سے قیمت میں اضافہ ہواہے،صارفین کو رواں ماہ کی بلنگ نئے ٹیرف کے مطابق شروع ہو چکی ہے۔

    واضح رہے کہ حکومت نے بجلی صارفین پر 144 ارب 69 کروڑ پر اضافی بوجھ ڈالنے کی تیاری کر لی ہے، بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں نے صارفین پر اضافی بوجھ کے لئے نیپرا سے رجوع کر لیانیپرا سے سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ کی مد میں 144 ارب 69 کروڑ روپے اضافے کی درخواست کی گئی ہے، نیپرا اتھارٹی ڈسکوز کی درخواست پر 23 اگست کو سماعت کرے گی۔

    اگست کا مہینہ جیل میں، بشریٰ بی بی زمان پارک سے غائب

  • کیچ میں ریموٹ کنٹرول بم دھماکا،چیئرمین یونین کونسل بالگتر سمیت 7 افراد جاں بحق

    کیچ میں ریموٹ کنٹرول بم دھماکا،چیئرمین یونین کونسل بالگتر سمیت 7 افراد جاں بحق

    بلوچستان کے علاقے میں کیچ میں ریموٹ کنٹرول بم دھماکا ہوا ہے جس کے نتیجے میں چیئرمین یونین کونسل بالگتر سمیت 7 افراد جاں بحق ہو گئے۔

    باغی ٹی وی: لیویز حکام کے مطابق دہشتگردوں نے بالگتر کے علاقے نلی میں گاڑی کو نشانہ بنایا ہے،چیئرمین یونین کونسل بالگترمحمد اسحاق سمیت 7 افراد جاں بحق ہو گئے جو ایک تقریب میں شرکت کیلئے جارہے تھے کہ بارودی سرنگ سے ان کی گاڑی کو نشانہ بنایا گیا،دھماکے کی اطلاع ملتے ہی امدادی ٹیمیں جائے وقوعہ کی جانب روانہ ہوگئیں۔

    واضح رہے کہ چند دن پہلے کوئٹہ میں فائرنگ سے سابق وزیر اعلیٰ بلوچستان نواب اسلم رئیسانی کے بیٹے سمیت 3 افراد جاں بحق اور 3 زخمی ہو گئے تھے پولیس کے مطابق نواب اسلم رئیسانی کے بھتیجے اور بلوچستان فوڈ اتھارٹی کے ڈپٹی ڈائریکٹر ہارون رئیسانی اور ان کے محافظ کو تلخ کلامی کے بعد گولی مار کر جاں بحق کر دیا گیا تھا جبکہ فائرنگ سے بس ٹرمینل کے مالک کا بیٹا برہمداغ لہڑی بھی جاں بحق ہوا۔

    بجلی کی فی یونٹ قیمت 59 روپے تک کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی

    ایس پی سریاب ضیا مندوخیل کے مطابق ہارون رئیسانی نے سریاب روڈ پر واقع بس ٹرمینل کے ساتھ واقع دکانوں پر چھاپہ مارا اور ایک دکان سے ممنوعہ اشیا برآمد ہونے پر جرمانہ کر دیا۔ جس پر بس ٹرمینل کے مالک کا بیٹا برہمداغ لہڑی نے کارسرکار میں مداخلت کی اور تلخ کلامی کے بعد دونوں جانب سے فائرنگ کر دی گئی۔

    انہوں نے کہا کہ ہارون رئیسانی کے ساتھ ایک سرکاری محافظ بھی تھا۔ دونوں کو سرکاری ڈیوٹی کے دوران نشانہ بنایا گیا جبکہ فائرنگ سے 3 افراد زخمی بھی ہوئے جنہیں فوری طبی امداد کے لیے اسپتال منتقل کر دیا گیا۔

    الیکشن کمیشن کی عمران خان کو پارٹی عہدے سے ہٹانے کی خبروں کی تردید

  • جہانگیر ترین نے ناروال سے اہم سیاسی شخصیات کو شامل کر لیا

    جہانگیر ترین نے ناروال سے اہم سیاسی شخصیات کو شامل کر لیا

    پیٹرن انچیف استحکام پاکستان پارٹی جہانگیر ترین نے ناروال سے اہم سیاسی شخصیات کو اپنے قافلے میں شامل کر لیا۔

    باغی ٹی وی: استحکام پاکستان پارٹی کے سربراہ جہانگیر ترین سے میاں عثمان رشید اور چوہدری سجاد مہیس سمیت دیگر سیاسی شخصیات نے ان کی رہائش گاہ پر ملاقات کی اور پارٹی میں باضابطہ شمولیت کا اعلان کیا،اس موقع پر مراد راس ، نعمان لنگڑیال، رانا نذیر اور عون چودھری اور پارٹی کے دیگر رہنما موجود تھے جہانگیر ترین نے پارٹی میں شمولیت اختیار کرنے والوں کو خوش آمدید کرتے ہوئے کہا کہ ہم سب مل کر استحکام پاکستان کیلئے کام کریں گے۔

    واضح رہے کہ نکلئی برادران نے جہانگیر ترین اعتماد کرتے ہوئے پارٹی میں شمولیت کا اعلان کیا تھا۔

  • تحریک انصاف کے چیئرمین قاسم کے ابو ہیں اور رہیں گے،شاہ محمود قریشی

    اسلام آباد: تحریک انصاف کے وائس چیئرمین شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ تحریک انصاف کے چیئرمین قاسم کے ابو ہیں اور رہیں گے۔

    باغی ٹی وی: اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ پشاور میں تحریک انصاف کو نمایاں کامیابی ملی، حویلیاں (ن) لیگ کا گڑھ سمجھا جاتا ہے، وہاں (ن) لیگ تیسرے نمبر پر آئی ہے، اب سمجھ آجانی چاہیے کہ الیکشن میں کیوں تاخیر کی جا رہی ہے۔

    شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ بہت سی جماعتوں کا دہرا معیار سامنے آگیا ہے، حکومت نے 9 اگست کو اسمبلی تحلیل کرنے کا فیصلہ کیا اس پر ہمیں اعتراض نہیں، قوم انتخابات کی منتظر ہے، نئے انتخابات آئینی اور جمہوری تقاضا ہیں چیئرمین پی ٹی آئی کو جیل کے چھوٹے سے کمرہ میں رکھا گیا ہے، سابق وزیر اعظم کو جیل میں کوئی سہولیات بھی نہیں دی گئیں ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف کے چیئرمین قاسم کے ابو ہیں اور رہیں گے-

    الیکشن کمیشن کی عمران خان کو پارٹی عہدے سے ہٹانے کی خبروں کی تردید

    واضح رہے کہ 5 اگست کو ایڈیشنل سیشن جج ہمایوں دلاور نے توشہ خانہ کیس میں چیئرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان کو 3 سال قید اور ایک لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنائی تھی عدالت کی جانب سے سزا سنائے جانے کے بعد پولیس نے عمران خان کو لاہور میں ان کی رہائش گاہ سے گرفتار کر کے اٹک جیل منتقل کیا تھا، عدالت نے فیصلے میں کہا کہ ملزم نے جان بوجھ کر الیکشن کمیشن میں جھوٹی تفصیلات دیں، ملزم کو الیکشن ایکٹ کی سیکشن 174 کے تحت 3 سال قید کی سزا سنائی جاتی ہے-

    بعد ازاں خبریں تھیں کہ الیکشن کمیشن نے چئیرمین کو پارٹی صدارت سے ہٹانے کا فیصلہ کر لیا، الیکشن کمیشن کچھ دیر میں باضابطہ اعلان کرے گا، چیئرمین تحریک انصاف کو پارٹی صدارت سے ہٹانے کی فائل تیار کر کے کمیشن کو بھجوا دی گئی تاہم الیکشن کمیشن آف پاکستان نے پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کو پارٹی عہدے سے ہٹانے کی خبروں کی تردید کردی تھی-

    بجلی کی فی یونٹ قیمت 59 روپے تک کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی

    ترجمان الیکشن کمیشن کے مطابق میڈیا اور سوشل میڈیا پر پی ٹی آئی چیئرمین کو پارٹی عہدے سے ہٹانے کی چلنے والی تمام خبروں کی الیکشن کمیشن سختی سے تردید کرتا ہےالیکشن کمیشن میں آج اس موضوع پر نہ تو کوئی اجلاس ہوا ہے اور نہ ہی یہ موضوع زیر غور رہا ہے۔

  • سیاست ایسے کریں کہ ادارے دائرے میں رہ کر کام کرتے رہیں ،بلاول بھٹو

    سیاست ایسے کریں کہ ادارے دائرے میں رہ کر کام کرتے رہیں ،بلاول بھٹو

    اسلام آباد: وزیر خارجہ بلاول بھٹو نے کہا ہے کہ نواز شریف اور آصف زرداری کو ایسے فیصلے لینے چاہئیں جس سے میرے اور مریم نواز کیلئے سیاست آسان ہو۔

    باغی ٹی وی: قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہمیں طے کرنا ہو گا کہ واپڈا کو منسٹری چلائے گی یا سپریم کورٹ،ہمیں طے کرنا ہو گا کہ سیاست ایسے کریں کہ ادارے دائرے میں رہ کر کام کرتے رہیں ہم اپنے دور حکومت میں کامیاب نہیں ہوئے کہ اداروں کو اپنے دائرے میں رکھ سکیں ہم آگے جا کر سیاسی جماعتوں کو سوچنا چاہیے کہ اس مسئلہ کو حل کیا جائے۔

    پچھلے 15ماہ میں عوام کی خدمت کا موقع ہی نہیں ملا ،کبھی لانگ مارچ اور کبھی زمان پارک میدان جنگ بنا رہا،ہم سب کو سیاست دان بننا چاہیے اور جمہوریت کو مضبوط کرنا چاہیے ،ہم روایتی سیاست سےتنگ آ چکے ہیں ملک کو ترقی نوجوان دلوا سکتے ہیں ،ایسی سیاست کی جائے جس سے نوجوانوں کی امید برقرار رہے۔

    بلاول بھٹو کی ا سپیکر قومی اسمبلی کومبارکباد

    افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ہمیں ایسی اپوزیشن ملی جس نے تاریخ میں پہلی بار جناح ہاؤس پر حملہ کیا، فوجی تنصیبات پر حملہ کیا اور جب ایسا کوئی قدم اٹھایا جاتا ہے تو ریاست کی رٹ قائم کرنے کیلئے سخت اقدامات اٹھانے پڑتے ہیں،ہماری کوشش ہمیشہ یہ ہی رہی ہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی کے فلسفے اور منشور، شہید ذوالفقار علی بھٹو کے نظریہ اور شہید محترمہ بینظیر بھٹو کی تربیت کے مطابق کام کریں، ہم نے ایوان میں کبھی گالم گلوچ نہیں کی کیونکہ ہم اس پر یقین نہیں رکھتے۔

    بچوں کے مسائل ترجیحی بنیادوں پر حل کرنا ہمارا نصب العین ہونا چاہیے،راجہ پرویز اشرف

  • صحافت ریاست کا چوتھا ستون ہے، صحافت کے بغیر پارلیمان مکمل نہیں ہوتا، راجہ پرویز اشرف

    صحافت ریاست کا چوتھا ستون ہے، صحافت کے بغیر پارلیمان مکمل نہیں ہوتا، راجہ پرویز اشرف

    اسلام آباد: اسپیکر قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف نے کہا ہے کہ خواتین کو زندگی کے تمام شعبوں میں برابر نمائندگی دے کر ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن کیا جا سکتا ہے-

    باغی ٹی وی: اسپیکر قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف نے وویمن پارلیمانی کاکس کے زیر اہتمام پریس کلب اسلام آباد میں منعقدہ تقریب میں شرکت کی اس موقع پر اسپیکر نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ صحافت ریاست کا چوتھا ستون ہے، صحافت اور پارلیمان کا چولی دامن کا ساتھ ہے۔انہوں نے کہا کہ صحافت کے بغیر پارلیمان مکمل نہیں ہوتا۔پارلیمان کی پریس گیلری ایوان کی کارروائی کو عوام تک پہنچانے میں کلیدی کردار ادا کر رہی ہے۔

    اسپیکر نے زندگی کے تمام شعبوں میں خواتین کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ دنیا کے ترقی یافتہ معاشروں میں خواتین کا کردار کلیدی اہمیت کا حامل سمجھا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ خواتین کی شمولیت کے بغیر کوئی بھی معاشرہ ترقی نہیں کر سکتا۔انہوں نے کہا کہ ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنے کے لیے خواتین اور مردوں کو ایک دوسرے کے شانہ بشانہ کام کرنا ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ خواتین کو ہر شعبے میں برابر نمائندگی دے کر ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن کیا جا سکتا ہے۔ اسپیکر کا کہنا تھا کہ خواتین اراکین نے قانون سازی میں سب سے زیادہ حصہ لیا اور ایوان میں سو فیصد حاضری کو یقینی بنایا ہے۔

    بلاول بھٹو کی ا سپیکر قومی اسمبلی کومبارکباد

    اسپیکر نے کہا کہ میری سیاسی تربیت بھی ایک خاتون لیڈر نے کی ہے۔ اسپیکر نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی نے خواتین کو وزیراعظم، اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر بنانے کا اعزاز بخشا ہے۔ اسپیکر نے سیکرٹری وویمن پارلیمانی کاکس محترمہ شاہدہ رحمانی کی خدمات کو سراہا۔
    اسپیکر نے کہا کہ سیاست میں رواداری اور مفاہمت کا دامن نہیں چھوڑنا چاہیے۔ سیاست میں تعصب اور ضد سے بالا تر ہو کر چلنا پڑتا ہے۔اسپیکر نے پارلیمان اور عوام کے درمیان رابطوں کے فروغ کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ گزشتہ 13 ماہ میں قومی اسمبلی کو عوام کے لیے کھلا رکھا رہا ہے۔

    اس موقع پر سیکرٹری وویمن پارلیمانی کاکس شاہدہ رحمانی نے اجلاس کو پارلیمانی کاکس سے متعلق آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کے سابق دور حکومت میں وویمن پارلیمانی کاکس کا قیام عمل میں لایا گیا۔ انہوں نے کہا کہ اسپیکر قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف نے وویمن پارلیمانی کاکس کے لیے گراں قدر تعاون کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وویمن کاکس میں سب نے بطور ٹیم ورک ملکر کام کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں خواتین کے مسائل بہت گھمبیر ہیں۔ ہم نے ملکر کوشش کی ہے کہ خواتین کو درپیش مسائل کو کم کیا جائے۔

    بچوں کے مسائل ترجیحی بنیادوں پر حل کرنا ہمارا نصب العین ہونا چاہیے،راجہ پرویز اشرف

    صدر پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹ (پی ایف یو جے ) افضل بٹ نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اسپیکر قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف نے بطور اسپیکر ایک تاریخ ساز اسمبلی کو چلایا ہے۔ انہوں نے کہاہے کہ پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار پارلیمنٹ اپنے پاؤں پر کھڑی نظر آئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ کو مضبوط بنانا کسٹوڈین آف دی ہاؤس کا کام ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسپیکرراجہ پرویز اشرف نے ایک حقیقی جمہوری اسپیکر ہونے کا ثبوت دیا ہے۔انہوں نے کہا کہ راجہ پرویز اشرف نے پارلیمنٹ کی طاقت کو باور کروا کر جمہوریت کو مضبوط کیا ہے۔

  • فرح گوگی کی پنجاب میں لوٹ مار،بزدار بھی تھے ساتھ، اہم تفصیلات

    فرح گوگی کی پنجاب میں لوٹ مار،بزدار بھی تھے ساتھ، اہم تفصیلات

    بزدار دور حکومت میں سب سے زیادہ کرپٹ بیوروکریٹس کی تفصیلات سامنے آ گئیں-

    باغی ٹی وی : تحریک انصاف کی پنجاب میں دور حکومت کے دوران فرح گوگی اور بزدار کے لیے کام کرنیوالے کرپٹ ترین بیوروکریٹس کی فہرست باغی ٹی وی نے حاصل کر لی، عثمان بزدار وزیر اعلی پنجاب گئے تو فرح گوگی کے ذریعے بشری بی بی نے کمائی کی ۔بیورو کریٹ اور پولیس افسران پی ٹی آئی حکومت کے دوران نہ صرف وفاداریاں نبھاتے رہے بلکہ کرپشن کی بہتی گنگا میں ہاتھ دھوتے رہے

    ڈاکٹر راحیل صدیق، وزیراعلیٰ کےپرنسپل سیکرٹری (کنکشن- بزدار، فرح خان، جنوبی پنجاب گرڈ، اور شہباز شریف حکومت کے خلاف مخبر)۔ اس نےٹرانسفر پوسٹنگ میں رشوت لینا شروع کی جب اس نےپہلے طارق بخاری پی ایم ایس سےبھاری رقم لی اور دسمبر 2018 میں اسے بطور ڈی سی شیخوپورہ تعینات کیا۔ اس کے بعد اس طرح کے واقعات کا ایک سلسلہ شروع ہوا۔ بھاری رشوت کی وصولی کے بعد لاہور میں شراب کا لائسنس جاری کروانے میں وہ بنیادی کردار تھا اور جہاں ڈی پی او ساہیوال تیمور بزدار نے فرح خان اور بزدار سے حصہ لیا۔ نیب نے ابتدائی طور پر کیس اٹھایا جس میں بزدار اور راحیل صدیق نے اس وقت کے ڈی جی ایکسائز مسٹر گوندل کو قربانی کا بکرا بنایا-

    ڈاکٹر شعیب اکبر، وزیراعلیٰ کے پرنسپل سیکرٹری – (بزدار، فرح خان اور جنوبی پنجاب گرڈ)۔ راحیل صدیق کے جانے کے بعد ڈاکٹر شعیب نے اپنے آقاؤں یعنی بزدار اور فرح خان کی حمایت حاصل کی اور کرپشن میں ملوث ہونے کے نئے طریقے تجویز کئے لاہور رنگ روڈ اراضی اسکینڈل (بحریہ ٹاؤن لاہور شہرت) میں ان کے اور آصف بلال لودھی کےملوث ہونےکی شکایات پر انہیں وفاقی حکومت کے حوالے کر دیا گیا۔

    طاہر خورشید ، سابق کمشنر ڈی جی خان، سیکرٹری سی اینڈ ڈبلیو ڈیپارٹمنٹ اور وزیراعلیٰ کے پرنسپل سیکرٹری۔ (کنکشن – بزدار اور ان کا خاندان، فرح خان، احسن گجر، خاور مانیکا، موسٰی مانیکا)۔ اس نے بدعنوانی کو نئی بلندیوں تک پہنچایا اور اے سی سےکمشنر اور سیکرٹریز تک کی پوسٹنگ/ ٹرانسفرز اور تمام ترقیاتی منصوبوں میں پیسے بٹورے اور انہیں بزدار، ان کے بھائیوں، فرح خان اور مانیکاس کے ساتھ شیئر کیا۔

    اس کی منی مائٹنگ اور بدعنوان طریقوں میں مندرجہ ذیل لوگوں کی مدد کی گئی جنہوں نے براہ راست افسران، پراجیکٹس وغیرہ سے پیسے بٹورنے کے لیے مافیا کے ایجنٹ کے طور پر کام کیا اور بزدار، فرح، ٹی کے گروپ (عامر جان سیکرٹری انرجی، دی) کی جانب سے پیسہ اکٹھا کرنے والوں کا کردار ادا کیا۔ ان میں محکمہ توانائی، محکمہ صحت میں کرپٹ ترین افسر، کیپٹن اسد اللہ سیکرٹری سی اینڈ ڈبلیو، نور مینگل سیکرٹری لوکل گورنمنٹ آصف اقبال لودھی کمشنر لاہور، شہریار سلطان سیکرٹری فوڈ/سروسز، صائمہ سعید سیکرٹری سروسز، مبشر ماکن پی ایس او بزدار، حیدر علی پی ایس او وزیراعلیٰ۔ کیپٹن اعجاز پی ایس او کو وزیراعلیٰ/ڈی سی ڈی جی خان، طاہر فاروق ایڈیشنل سیکرٹری وزیراعلیٰ/ڈی سی ڈی جی خان، محمد اختر پی ایس او وزیراعلیٰ، احمد رضا سرور سیکرٹری کوآپریٹوز، نعیم بخاری سیکرٹری صوبائی ٹرانسپورٹ اتھارٹی، کیپٹن عثمان یونس سیکرٹری صحت، نبیل اعوان سیکرٹری صحت موسیٰ رضا پولیٹیکل اسسٹنٹ ڈی جی خان/ڈی سی بھکر/مظفر گڑھ۔مہتاب وسیم ڈی سی منڈی بہاؤالدین/ڈی سی رحیم یار خان۔خواجہ سہیل ڈی جی ایف ڈی اے/ڈی سی گوجرانوالہ۔دانش افضل ڈی سی لاہور/ڈی سی گوجرانوالہ۔ عامر کریم پی ایس او بزدار اور ڈی سی ملتان۔ مدثر ریاض ملک/ کمشنر ڈی جی خان، ڈی سی لاہور/ ڈی جی سوشل ویلفیئر۔ صالحہ سعید سابق ڈی سی لاہور، ڈی جی ایکسائز اور سپیشل سیکرٹری صحت کرپٹ ترین خاتون رہیں جنہیں قریبی رشتہ دار عائشہ حمید اور عثمان معظم کی مدد ملی، جو فرح خان اور بزدار کے ماتحت کرپٹ گروہ کے دو ارکان ہیں۔

    بابر حیات نے پٹواری نظام کو بحال کرنے اور ایس ایس حکومت کے ڈیجیٹل اقدامات کو ختم کرنے کے لیے رقوم اکٹھی کیں اور پٹواریوں کی بھرتی میں بھاری رقوم اکٹھی کیں۔ احمد عزیز تارڑ ڈی جی ایل ڈی اے، سابق سیکرٹری وزیراعلیٰ جنہوں نے ایل ڈی اے کو اس کرپٹ مافیا کے لیے فروخت کر رکھا تھا۔ سارہ اسلم سابق سیکرٹری تعلیم۔ ارم بخاری سابق سیکرٹری توانائی، سیکرٹری تعلیم اور ٹی کے کے بیچ میٹ۔ (اس گروہ نے پنجاب کے پورے انتظامی سیٹ اپ کو غلام بنا لیا اور یہاں تک کہ اے سی اور اے ڈی سی آر کی پوسٹنگ ٹرانسفرز کو بھی نہیں بخشا گیا ان سے پیسے بٹورے گئے۔

    ٹی کے گروپ کے اہم ممبران میں طاہر خورشید گروپ دوسرے امیر جان، شہریار سلطان، کیپٹن عثمان یونس تھے۔ ، نبیل اعوان، عمران سکندر، افتخار سہو، مدثر ریاض ملک، ارم بخاری، جاوید اختر محمود، نور الامین مینگل، احمد رضا سرور وغیرہ گروپ بعد میں حامد ش، افتخار سہو، ثاقب ظفر، ظفر اقبال کی شمولیت کے ساتھ بڑھا دیا گیا۔ کمشنر بہاولپور، جاوید بخاری، ڈاکٹر فرح، دانش افضال، بابر تارڑ، علی مرے کرپٹ زنجیر کا حصہ تھے جن کی سرپرستی بزدار، راجہ بشارت، آصف نقی، ہاشم ڈوگر کیپٹن اسد سی اینڈ ڈبلیو کے سڑے ہوئے انڈے تھے، ان تمام کرپٹ افسران کو تحفظ فراہم کیا گیاپنکی، فرح، بزدار اور پنکی، مانیکاس اور گجر کے لیے مالیاتی خدمات کے لیے باری باری وزیر اعلیٰ آفس کی سرپرستی کی۔

    شیریار سلطان ( بشریٰ پنکی، فرح خان اور ٹی کے) گدی نشین ہونے کی وجہ سے اس کے بشریٰ بی بی اورعمران خان سے بہت گہرے تعلقات تھے۔ مبینہ طور پر وہ بشریٰ بی بی کا جاسوس تھا اورعمران خان کو ایس ایس فیملی کے بارے میں معلومات بھی دیتا تھا۔ وہ فوڈ سکینڈل میں ملوث تھے اور انہوں نے بطور سیکرٹری فوڈ اور اس سے قبل ڈائریکٹر فوڈ کے طور پر بھاری رقوم حاصل کیں۔ انہوں نے سیکرٹری کوآپریٹو کے طور پر بھی کام کیا اور TK کے ٹول کے طور پر اپنے، خاندان کے افراد، بشریٰ پنکی، فرح خان اور بزدار کے لیے مختلف کوآپریٹو سوسائٹیز میں تقریباً 40 پلاٹوں کا انتظام کیا یہ ایک کرپٹ آدمی کے طور پر جانا جاتا ہے۔

    جاوید اختر محمود، سابق کمشنر ملتان ( بزدار، ٹی کے اور فرح خان ) انہوں نے بزدار فیملی اور ٹی کے کو سنبھالا اور کمشنر ملتان کی حیثیت سے انہیں ماہانہ بھاری رقم ادا کی۔

    6. *نور مینگل، سابق ڈی سی لیہ، ساہیوال* (بزدار، فرح خان اور ٹی کے)۔ انہوں نے بزدار کو پہلے ڈی سی لیہ اور پھر ڈی سی ساہیوال کی حیثیت سے 5 کروڑ روپے ادا کئے۔ اس نے روپے کمائے۔ دونوں سلاٹسں سے 30 کروڑ۔ اس نے ابتدائی طور پر پنجاب میں اترنے کے لیے بلوچی گرڈ کا استعمال کیا اور پھر فرح خان اور ٹی کے کو بھاری رقوم دے کر سیکرٹری لوکل گورنمنٹ کی پوسٹنگ اور پھر کمشنر پنڈی کی حیثیت سے ٹی کے/ فرح خان چین کا حصہ بن گئے۔

    7. ذیشان جاوید بزدار۔ ( عثمان بزدار، عمر بزدار) انہیں پہلے ڈی سی ساہیوال اور پھر ڈی سی سیالکوٹ لگایا گیذ انہوں نے گزشتہ سال سیالکوٹ کے انتخابات میں دھاندلی کی تھی۔ وہ بزدار کا فرنٹ مین تھا اور اس کے لیے پیسے جمع کرتا تھا۔

    8. بابر بشیر۔ (کنکشن – عثمان بزدار اور عمر بزدار) اس نے روپے ادا کئے۔ بزدار کو پہلے ڈی سی لیہ اور پھر ڈی سی ساہیوال کی حیثیت سے 5 کروڑ روپے دیئے دونوں سلاٹس سے 30 کروڑ روپے بٹورے-

    9. امیر عقیق۔ (کنکشن – فرح خان گروپ) کو فرح گروپ کو بھاری رشوت دینے کے بعد ڈی سی اوکاڑہ اور پھر ڈی سی پنڈی تعینات کیا گیا۔ شہباز شریف کے دور میں ان کے خلاف اے سی ای پنجاب نے مقدمہ درج کیا تھا۔

    ڈاکٹر ذیشان ڈی ایس ٹو سی ایم۔ وزیراعلیٰ سابق اے ڈی سی آر ٹوبہ ٹیک سنگھ امیر جان سیکرٹری ٹو وزیراعلیٰ کے فرنٹ مین تھے جنہوں نے پیسے اور آئی فون لے کر کئی افسران کی پوسٹنگ کا انتظام کیا۔ اس نے رشوت لے کر کئی اے ڈی سی آرز کی تعیناتی کی۔

    رانا عبدالشکور۔ رجسٹرار کوآپریٹوز پنجاب۔ (رابطے – بزدار، فرح خان، راجہ بشارت اور مونس الٰہی)۔ راجہ بشارت اور مونس الٰہی کی حمایت سے شکور نے ایک میڈیا ٹائیکون اور راجہ بشارت منسٹر کوآپریٹو کی ایجنسی کے ذریعے فرح خان کے ساتھ معاہدہ کیا اور رجسٹرار کوآپریٹوز کے طور پر ان کی تعیناتی کے لیے 5 کروڑ ادا کیے۔ اس نے اپنے پیشرو رجسٹرار کوآپریٹوز کو معزول کر دیا جو پہلے اسٹیبلشمنٹ کی مداخلت پر تعینات تھے اور فرح خان کی سربراہی میں اس گروپ کے پلاٹوں کے غیر قانونی مطالبات کو ماننے سے انکار کر دیا تھا۔

    منظور ناصر، ڈی جی ACE پنجاب۔ (کنکشن-بزدار، فرح خان، بزدار برادران، فیاض چوہان، راجہ جہانگیر انور)۔ وہ پیسے اور مشہوری کی خاطر اپنی ماں کو بیچنے کے لیے مشہور ہے۔ انہیں راحیل صدیقی نے ڈی سی گوجرانوالہ اور بعد ازاں ایم ڈی پنجاب ٹیکسٹ بک بورڈ اور سی ای او ٹیوٹا، سیکرٹری ٹرانسپورٹ اور پھر فرح، بزدار برادران اور شہزاد اکبر کی مداخلت پر ڈی جی اے سی ای کے طور پر تعینات کیا تھا۔

    انہوں نے شیخ رشید کی ہدایت پر راولپنڈی سے پی ایم ایل این کے سینیٹر کو گرفتار کیا۔ منظور ناصر نے ایم ڈی پنجاب ٹیکسٹ بک، سی ای او ٹیوٹا اور ڈی جی اینٹی کرپشن کی پوسٹنگ حاصل کرنے کے لیے مختلف اوقات میں 4 کروڑ ادا کیے۔ واضح رہے کہ سابق ڈی جی اینٹی کرپشن پولیس نے منظور ناصر کو جگہ دینے سے قبل اپنے دو سال کے دور میں ایک ارب روپے سے زائد کمائے تھے۔

    گوہر نفیس، سابق ڈی جی ACE پنجاب۔ (کنکشن- شہزاد اکبر، سابق ڈپٹی چیئرمین نیب)۔ وہ شہزاد اکبر اور نیب کے کٹھ پتلی رہے ہیں اور پی ایم ایل این کی قیادت کے خلاف انتہائی سخت اقدامات اٹھائے ہیں۔ پنجاب میں اس کی جانچ پڑتال نہیں کی گئی اور سرکاری ملازمین کی زندگیوں سے کھلواڑ کیا اور بڑی خوشیاں وصول کیں۔ ان کا کیس نیب نے اٹھایا لیکن شہزاد اکبر کے کہنے پر ان کے خلاف کارروائی ختم کر دی گئی۔

    بلال حیدر، کمشنر PESSI (کنکشن- ٹی کے، بزدار، فرح خان) نے بھی بھرتی ہونے کیلئے روپے ادا کیے فرح خان کو دو بار کمشنر PESSI تعینات کرنے پر دو کروڑ ادا کئے-

    ساجد ظفر اقبال، سابق کمشنر ڈی جی خان، سابق سیکرٹری ٹو سی ایم۔ (کنکشن- بزدار، فرح خان)پہلے دور میں شہباز شریف کے ساتھ خدمات انجام دینے کے بعد، انہوں نے بزدار حکومت کے ساتھ ہاتھ ملایا اور وزیراعلیٰ کے سیکرٹری کوآرڈینیشن بن گئے جس کے بعد ان کی تعیناتی کمشنر ڈی جی خان کی گئی۔ وہ شہباز شریف کے دور حکومت کے خلاف آئی کے کو مخبر تھا۔

    سہیل زمان وٹو، کین کمشنر، سابق ڈی سی ساہیوال۔ (کنکشن- بشریٰ بی بی اور فرح خان سے قریبی تعلق)۔ وہ ایک اوسط درجے کے پیشہ ور تھے جنہیں انتہائی سیاسی طور پر جانا جاتا تھا۔ انہیں شہباز شریف نے ڈی سی بھکر کے طور پر رکھا تھا لیکن شکایات پر ہٹا دیا گیا جب اس نے بھکر میں بشریٰ بی بی کے رشتہ داروں کو زمین الاٹ کی تھی۔ عمران خان کے دور حکومت میں، انہیں پہلے ڈی سی ساہیوال اور پھر کین کمشنر کے طور پر شوگر ملوں کو خراب کرنے کے لیے رکھا گیا۔ بدلتے ہوئے سیاسی حالات کے ساتھ انہوں نے رمضان شوگر ملز کی انتظامیہ وغیرہ کے ساتھ گڈ گڈی کر کے اپنا دوستانہ امیج بنانا شروع کر دیا –

    آصف بلال لودھی، سیکرٹری کوآرڈینیشن اور کمشنر لاہور (کنکشن- بزدار، فرح خان)۔ انہیں ابتدائی طور پر بزدار کے سیکرٹری کوآرڈ ینیشن کے طور پر رکھا گیا تھا۔ وہاں سے اسے کمشنر لاہور کے طور پر لانچ کیا گیا اور پی ٹی آئی کی مدد سے اس نے بحریہ ٹاؤن کے لیے فوائد حاصل کیے اور اپنے اور فرح خان اور بزدار کے لیے بھاری رقم وصول کی۔ انہیں بلوچستان کے حوالے کر دیا گیا لیکن بعد میں حال ہی میں دوبارہ چیئرمین پی آئی ٹی بننے میں کامیاب ہو گئے۔

    رانا سقراط امان، سابق سیکرٹری کوآرڈینیشن ٹو سی ایم۔ (کنکشن- ٹی کے گروپ بعد میں بزدار اور فرح خان کے ساتھ شامل ہوا)۔ آکسفورڈ یونیورسٹی سے گریجویٹ ہے ۔ ٹی کے نے اسے مقامی حکومت کے پروجیکٹ کے پی ڈی کے طور پر اور بعد میں اسپیشل سیکرٹری لوکل گورنمنٹ کے طور پر اپنا ایجنٹ بنا لیا۔ اسے اس کے بیچ کی ساتھی عائشہ حمید سکریٹری کے ذریعے ٹی کے بیٹیوں کی شادی اور آسیہ گل، فیاض موہل اور خواجہ سہیل سمیت چند ڈی سی کی پوسٹنگ کے لیے دولت اکھٹی کرنے کے بدعنوان طریقوں میں ملوث کیا گیا۔

    رانا محمد ارشد، پراجیکٹ ڈائریکٹر رنگ روڈ لاہور، سابق ڈی سی قصور۔ (کنکشن- بزدار فیملی)۔ وہ کرپٹ تھا اور شراب نوشی اور زنانہ حرکات جیسی غیر اخلاقی سرگرمیوں میں ملوث تھا۔ اس نے بھیXEN ہائی وے فیاض بزدار کو 3 کروڑ روپے ادا کئے، وزیراعلیٰ بزدار کے فرنٹ مین اور رنگ روڈ پراجیکٹس کے PD کے طور پر پوسٹنگ حاصل کی جہاں سے انہوں نے روپے کمائے۔ مختلف لینڈ مافیا کی طرف سے 12 کروڑ روپے۔ اس سے قبل ڈی سی قصور کی حیثیت سے انہوں نے ایک ارب مالیت کی سرکاری اراضی کو غیر قانونی طور پر فروخت کیا تھا اور بھاری رقم وصول کی تھی۔ ACE پنجاب میں ایک کیس ابھی زیر التوا ہے لیکن اپنے اثر و رسوخ کی وجہ سے اسلام آباد میں بھی تعینات رہے-

    طارق بخاری، پی ایم ایس آفیسر۔ (کنکشن- بزدار، راحیل صدیق، جاوید قیصرانی) ڈی جی خان میں پولیٹیکل ایجنٹ رہنے کے بعد، اس نے بزدار اور خاندان اور ان کے دوستوں کے ساتھ ایسے تعلقات استوار کیے ہیں جن میں وہ ابتدائی افسران میں شامل تھے بزدار کے بھائی عمر بزدار کو ڈی سی شیخوپورہ اور پھر ڈی جی کوہ سلیمان اتھارٹی بنانے کے لیے 2 کروڑ روپے ادا کئے-

    اصغر جوئیہ۔ (کنکشن- بزدار، شہزاد اکبر، فرح خان) انہیں 2019 میں ڈائریکٹر اینٹی کرپشن لاہور ریجن کے طور پر رکھا گیا تھا اور وہاں سے انہوں نے شہزاد اکبر اور فرح خان کے ساتھ پی ایم ایل این کے سیاسی پیتل کو نچوڑنے کے لیے اپنے تعلقات استوار کیے تھے۔ اس نے بھی ڈی سی شیخوپورہ اور پھر ڈی سی سرگودھا بننے کے لیے 3 کروڑ روپے رشوت دی شیخوپورہ میں مسلم لیگ ن کی قیادت کے خلاف مقدمات درج کرائے گئے۔

    سید موسیٰ رضا۔ (کنکشن- بزدار اور فرح خان) 1.5 کروڑ روپے دے کر پولیٹیکل ایجنٹ ڈی جی خان بنااور پھر ٹی کے اور بزدار کو ڈی سی بھکر اور بعد میں ڈی سی مظفر گڑھ بننے کے لیے 2 کروڑ روپے ادا کئے-

    رانا شکیل پی ایم ایس۔ (کنکشن- بشریٰ بی بی کے بھائی، فرح اور بزدار، موسیٰ مانیکا)۔ پتوکی قصور سے تعلق رکھنے والے رانا شکیل جن کے والد 2018 کے انتخابات میں پی ٹی آئی کے ایم پی اے کے امیدوار تھے۔ وہ اس سے قبل بشریٰ پنکی کی تحصیل دیپالپور کے اے سی کے طور پر خدمات انجام دے چکے ہیں۔ پنکی فیملی کے ساتھ اس کے اچھے تعلقات تھے اور انہوں نے موسی مانیکا کو پہلے ڈی سی پاکپتن اور پھر ڈی سی شیخوپورہ تعینات کرنے پر 2 کروڑ روپے ادا کئے-

    عمر شیر چٹھہ۔ (کنکشن- بشریٰ پنکی اور فرح خان) عمر عاشر چٹھہ اپنے دور میں شہباز شریف کے ڈپٹی سیکرٹری اور پی ایس او رہے۔ بعد ازاں اس نے بشریٰ پنکی اور احسن گجر سے تعلقات استوار کیے اور پہلے ڈی سی سیالکوٹ، اس کے بعد میانوالی اور پھر لاہور میں BS-18 بننے کے لیے 3 کروڑ ادا کیے۔ وہ عمران خان کا شہباز شریف کے خلاف مخبری تھا۔

    ذوالفقار گھمن۔ (کنکشن-احسن گجر، بشریٰ پنکی اور فرح خان) اصل میں پراپرٹی ڈیلر ذوالفقار گھمن نے احسن سلیم گجر کے ساتھ پراپرٹی کا مفاد بڑھایا اور زمین کے سودوں میں فرح خان اور احسن گجر کےفرنٹ مین کا کردار ادا کیا جہاں اس نےکمشنرلاہور اور کمشنر گوجرانوالہ دونوں کے طور پر لاہور، قصور اور گوجرانوالہ میں ان کے حق میں زمین کے لین دین کی سہولت فراہم کی۔

    کیپٹن عثمان یونس، سابق سیکرٹری صحت اور کمشنر لاہور۔ (کنکشن- بزدار، فرح خان، شہزاد اکبر)۔ کیپٹن عثمان نے بڑی چالاکی سے ان کا بھیس بدل کر عمران خان کے خاص آدمی کا روپ دھار لیا، اب وہ پی ایم ایل این کی طرف جھکنا شروع ہو گئے ہیں اور ان کی طرف فرمانبرداری کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔ پہلے وہ ڈی سی لاہور تھے اور اپنے آپ کو حمزہ شہباز کے ساتھی کے طور پر پیش کرتے تھے جو جونیئر افسران کو دھمکیاں دیتے تھے۔ انہوں نے عمران خان کی حکومت کے آتے ہی رخ بدل لیا اور 4 سال ڈی سی لاہور رہ کر حمزہ شہباز اور شہباز شریف کے خلاف مخبر بن گئے۔ وہ تشہیر کا بھوکا ہے اور اس نے خود کو ترین خان گروپ کے ساتھ جوڑ دیا اور کووڈ 19 کی مدت کے دوران سیکرٹری صحت کی حیثیت سے کرپشن کے راستے کی قیادت کی۔ وہ طاہر خورشید گروپ کے بنیادی رکن تھے دیگر میں امیر جان، شہریار سلطان، نبیل اعوان، عمران سکندر، افتخار سہو، ارم بخاری، جاوید اختر محمود، مدثر ریاض ملک، ارم بخاری، جاوید اختر محمود، نور الامین مینگل ،احمد اور رضا سرور سغیرہ شامل تھے۔

    رفاقت نسوانا، سابق ڈی جی فوڈ اتھارٹی اور اب بطور رجسٹرار کوآپریٹوز تعینات ہیں۔ (کنکشن- فرح خان، ٹی کے گروپ، راجہ بشارت اور مونس الٰہی) ابتدائی طور پر انہوں نے رجسٹرار کوآپریٹوز کی پوسٹنگ حاصل کرنے کے لیے راجہ بشارت کے ذریعے فرح خان کو 2 کروڑ اور ڈی جی فوڈ بننے کے لیے مزید2 کروڑ ادا کیے تھے۔

    عبداللہ سنبل چیئرمین پی اینڈ ڈی۔ (کنکشن – عمران خان کا آدمی)۔ میانوالی سے تعلق رکھتے ہیں اور نیازیوں کی ذیلی ذات سے تعلق رکھتے ہیں۔ عبداللہ سنبل نے خود کو عمران خان کا زیادہ وفادار ثابت کیا اور عمران خان کا معتمد تھا۔ انہوں نے عمران خان کو شہباز شریف اور فیملی کے بارے میں معلومات فراہم کیں اور ان تمام کمپنیوں کے بارے میں بصیرت فراہم کی جن پر نیب نے کارروائی کی لیکن کچھ نہیں ملا۔ انہوں نے میانوالی اور لیہ کے تمام منصوبوں کو فنڈز فراہم کیے جبکہ باقی پنجاب میں ترقی پر سمجھوتہ کیا۔

    احمر سہیل کیفی، ڈی سی پاکپتن۔ (کنکشن- چیئرمین نیب اور بشریٰ پنکی) چیئرمین نیب جاوید اقبال نے اپنے داماد کے بھائی احمر سہیل کیفی کو پہلے ڈائریکٹر ACE لاہور اور پھر ڈی سی پاکپتن کےعہدے پر تعینات کیا احمر کیفی کے والد پی پی ایس سی میں غیر قانونی سرگرمیوں کے لیے بدنام ہیں کیونکہ وہ اپنے بیٹوں اور بہو سمیت کئی پی ایم ایس اور دیگر افسروں کے انتخاب میں ملوث ہیں۔

    عاصم جاوید ڈی سی چنیوٹ۔ (کنکشن-عامر جان، بزدار، فرح خان) وہ ہوم ڈیپارٹمنٹ رہے اور ڈی سی چنیوٹ کی پوسٹنگ کے لیے ایک کروڑ ادا کیا۔

    چوہدری پرویز الٰہی گروپ۔ سیف، جو دو بار ڈی سی گجرات اور پھر ڈی سی جہلم تعینات رہےاس نے مونس الٰہی کو ان کی تین پوسٹنگ کے لیے 7 کروڑ روپے ادا کئے-

    خرم شہزاد نے مونس الٰہی کو بطور ڈی سی گجرات، ڈی سی رحیم یار خان اور پھر دوبارہ ڈی سی گجرات کے عہدے پر تعیناتی کے لیے 9 کروڑ ادا کیے گئے جبکہ مہتاب وسیم نے مونس الٰہی کو ڈی سی منڈی بہاؤالدین اور ڈی سی رحیم یار خان کی تعیناتی کے لیے 6 کروڑ ادا کیے تھے۔

    پولیس سروس کرپٹ افسران – بزدار فائلیں۔

    اشفاق خان (PSP/DIG)۔ احسن گجر کا پیسہ اکٹھا کرنے والا بندہ۔ دو بار ڈی آئی جی آپریشنز لاہور رہے، ایک بار آر پی او فیصل آباد، آر پی او سرگودھا اور آر پی او راولپنڈی رہے 3 سالہ دور حکومت میں ایک دن بھی انعامی پوسٹنگ نہیں کی گئی اور بزدار کو 10 کروڑ روپے، فرح خان کو 15 کروڑ ادا کیے گئے۔ اسے مری میں ہونے والی کئی ہلاکتوں میں کلین چٹ دی گئی تھی۔ عمران خان کوشہباز شریف اور خاندان کے خلاف معلومات فراہم کیں۔

    رانا فیصل (ڈی آئی جی پی ایس پی)۔ وزیراعلیٰ بزدار بھائی کے کہنے پر بطور آر پی او ڈی جی خان اور سرگودھا تعینات ہوئے عمران خان کو کو شہباز شیرف اور خاندان کے خلاف معلومات فراہم کیںجبکہ عمران محمود ڈی آئی جی۔ امیر تیمور سابق ایس ایس پی اور عثمان بزدار کے چچا کو ادائیگی کے بعد پوسٹ کیا گیا۔

    زعیم اقبال شیخ۔ سابق ڈی آئی جی 3 سال تک ایڈیشنل آئی جی سپیشل برانچ رہے جس کے دوران وہ بنیادی طور پر کرپٹ تھے اور BS-21 بورڈ میں ترقی کے لیے مسترد کر دیے گئے۔عمران خان کو شہباز شریف اور خاندان کے خلاف معلومات فراہم کیں۔

    بی اے ناصر ایڈیشنل آئی جی۔ احسن گجر نے سابق پاکستان رخصت پر کرپٹ پولیس افسر عظیم ارشد کے ذریعے نیٹ استعمال کیا۔ عظیم ارشد ڈی آئی جی وہ شخص تھا جس نے ڈی پی او پاکپتن رضوان گوندل کو مقامی پولیس کے ساتھ جھگڑے میں خاور مانیکا کی مدد کرنے کے لیے فون کیا اور پھر مسٹر گوندل کی سیٹ حاصل کی-

    مبشر مکن مرکزی شخص تھا جو عثمان بزدار کی آنکھ اور کان تھے اور عمر سعید ایس ایس پی کو ان کے آبائی شہر میں ڈی پی او کے طور پر تجویز کیا تھا۔ وہ بزدار سے فرح خان کے گھر پیسے پہنچاتا تھا۔

    مسٹر عاطف ایس ایس پی سی ایم سیکرٹریٹ میں رہے جنہوں نے پولیس کے بہت سے معاملات میں ہیرا پھیری کی اور پوسٹنگ کے لیے رشوت دینے پر درمیانی آدمی کے طور پر کام کیا۔

    محمد اختر پی ایس پی نے بزدار کے لیے پی ایس او کے طور پر خدمات انجام دیں اور فرح خان اور بزدار کے لیے پیسے جمع کرنے والے ایجنٹ تھے جبکہ منتظر مہدی PSP نے بطور CTO لاہور تعیناتی کے لیے 4 کروڑ ادا کیے۔ ان کی سفارش فرح خان نے کی تھی۔

    جی ایم ڈوگر سابق سی سی پی او لاہور نے فرنٹ مین مسٹر افتخار بوڈا کے ذریعے وزیراعلیٰ بزدار کو بھاری رقم ادا کی اور اپنی پوسٹنگ کروائی۔ اس نے خرم جانباز ایس ایس پی کی مدد سے انتہائی کرپشن کی اور ان کے ٹرانسفر ہونے تک بہت پیسہ لوٹا۔

    ذیشان اصغر۔ گجر خاندان سے تعلق رکھنے والے کرپٹ سابق چیف سیکرٹری بلوچستان کے بہت قریب اور اپنے قریبی دوست مبشر ماکن کو وزیراعلیٰ سیکرٹریٹ میں ہیرا پھیری کرکے لاہور میں ایس ایس پی کے عہدے پر تعینات کیا اور کرپشن کرکے اپنے کیرئیر کا نام روشن کیا اور بڑے بڑے وگوں کو رائفلیں پیش کیں جو کہ رقم تھی۔ ایک پٹواری کا بیٹا ہونے کے ناطے لاکھوں روپے لوٹے-

    12. زاہد مروت پی ایس پی نے بطور ڈی پی او اپنے تین ادوار کے لیے مبشر ماکن اور ایس ایس پی عاطف کے ذریعے بھاری رقم ادا کی جبکہ مستنصر فیروز نے فرح خان اور بشریٰ بی بی کو بطور ڈی پی او تین پوسٹنگ کے لیے بھاری رقم ادا کی۔

  • بلاول بھٹو کی ا سپیکر قومی اسمبلی کومبارکباد

    بلاول بھٹو کی ا سپیکر قومی اسمبلی کومبارکباد

    اسلام آباد: اسپیکر قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف نے پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین/ پارلیمانی رہنما اور وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری سے ملاقات کی-

    باغی ٹی وی : اسپیکر قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف نے نئی روایت قائم کرتے ہوئے قومی اسمبلی کی مدت پوری ہونے پر ایوان میں موجود جماعتوں کے پارلیمانی رہنماؤں سے ملاقاتوں کا فیصلہ کیا تھا دونوں رہنماؤں کے درمیان آج کی ملاقات اسی سلسلے کی ایک کڑی تھی ملاقات میں وزیراعلی سندھ سید مراد علی شاہ بھی موجود تھے۔

    ملاقات میں سپیکر قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف نے پندرویں قومی اسمبلی کی کارروائی میں مثبت اور بامعنی کردار ادا کرنے پر ان کا اور جماعت کا شکریہ ادا کیا سپیکر نے کہا کہ پیپلز پارٹی کے مثبت رویے کی بدولت ملک میں جمہوریت مضبوط ہوئی اور ملک سیاسی اور معاشی استحکام کی طرف گامزن ہوا پارلیمان عوام کی امیدوں اور امنگوں کا محور ہے مجھے اس بات کی خوشی ہے کہ گزشتہ ڈیڑھ سال کے دوران آپکی رہنمائی میں پیپلز پارٹی نے مکمل دل جمی سے اپنی زمہ داریوں کو پورا کیا اور وہ فیصلے لئے جو عوام اور ملک کے لئے کارآمد ثابت ہوئے-

    بجلی کی فی یونٹ قیمت 59 روپے تک کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی

    بلاول بھٹو زرداری نے بھی اسپیکر قومی اسمبلی کو ایوان کی کاروائی احسن طریقے سے چلانے پر مبارکباد پیش کی اور انکے کردار کو سراہا بعد ازاں سپیکر کی طرف سے بلاول بھٹو زرداری کو موجودہ اسمبلی میں بھرپور اور مثبت کردار ادا کرنے کے اعتراف میں یادگاری شیلڈ بھی پیش کی۔

    اگست کا مہینہ جیل میں، بشریٰ بی بی زمان پارک سے غائب