Baaghi TV

Author: Ayesha Rehmani

  • پاکستان کی پہلی خاتون انگریزی مصنفہ، صحافی، ایڈیٹر اورشاعرہ بیگم زیب النساء حمید اللہ

    پاکستان کی پہلی خاتون انگریزی مصنفہ، صحافی، ایڈیٹر اورشاعرہ بیگم زیب النساء حمید اللہ

    بیگم زیب النساء حمید اللہ ،پاکستان کی پہلی خاتون انگریزی مصنفہ، صحافی، ایڈیٹر اور شاعرہ

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    آغا نیاز مگسی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    بیگم زیب النساء صاحبہ کو بہت سے اہم ترین اور منفرد اعزازات حاصل ہیں اور یہ سب کچھ انہیں خداداد صلاحیتوں کی بدولت حاصل ہوا۔ زیب النساء 25 دسمبر 1921 میں کولکتہ کے ایک علمی اور ادبی مسلم گھرانے میں پیدا ہوئیں۔ ان کے والد صاحب واجد علی ایک نامور لکھاری تھے جنہوں نے سب سے پہلے شاعر مشرق علامہ محمد اقبال کی شاعری کا بنگالی زبان میں ترجمہ کیا۔ ان کے والد نے اپنی ہونہار صاحبزادی کو اعلی تعلیم دلائی۔ہندوستان کی تقسیم کے باعث ان کا خاندان کراچی پاکستان منتقل ہو گیا۔

    زیب النسا کی شادی 1940 میں ایک کاروباری شخصیت خلیفہ محمد حمید اللہ سے ہوئی جس سے انہیں دو بیٹیاں نیلوفر اور یاسمین پیدا ہوئیں۔ زیب النسا نے 1948 میں انگریزی اخبار روزنامہ ڈان سے کالم نگاری کا آغاز کیا جبکہ 1958 میں انہوں نے کراچی سے انگریزی میں Mirror کے نام سے ماہنامہ جریدہ نکالا جو کہ بہت جلد پاکستان کا ایک مقبول ترہن جریدہ بن گیا ۔

    وہ "مرر” کی ایڈیٹر اور پبلشر خود ہی تھیں جبکہ وہ ادارت اور کالم نگاری کے علاوہ شاعری بھی کرتی تھیں اس طرح وہ پاکستان میں انگریزی زبان کی پہلی خاتون صحافی، کالم نگار ، ایڈیٹر ، پبلشر اور انگریزی شاعرہ بن گئیں جو کہ بہت بڑے اعزازات ہیں ۔ اپنے کالمز اور اداریوں میں حکومت کی غلط پالیسیوں پر زبردست تنقید کی وجہ سے ان کے جریدے کی اشاعت پر پابندی عائد کر دی گئی لیکن انہوں نے معروف قانون دان اے کے بروہی کی توسط سے سپریم کورٹ میں حکومت کے خلاف مقدمہ دائر کیا گیا اور یہ مقدمہ انہوں نے جیت لیا اور پاکستان میں کسی بھی خاتون صحافی کا مقدمہ جیتنے کا پہلا اعزاز بھی ان کے حصے میں آیا۔

    محترمہ فاطمہ جناح اور بیگم رعنا لیاقت علی خان ان کی بہترین دوستوں میں شامل تھیں ۔ زیب النسا صاحبہ کے خاوند پاکستان میں باٹا شوز کمپنی کے چیف ایگزیکٹو کے عہدے پر فائز تھے۔ 1970 میں ان کے شوہر حمید اللہ صاحب کا آئر لینڈ تبادلہ کر دیا گیا تو زیب النسا بھی ان کے ہمراہ ڈبلن آئر لینڈ منتقل ہو گئیں لیکن کراچی پاکستان میں ان کی آمد و رفت کا سلسلہ جاری رہا۔ 1983 میں ان کے شوہر محترم کا کراچی میں انتقال ہوا۔ زیب النسا کو پاکستان کی پہلی خاتون مبصر ہونے اور الازہر یونیورسٹی قاہرہ سے خطاب کرنے کا بھی اعزاز حاصل رہا ہے ۔ 10 ستمبر 2000 میں ان کا کراچی میں انتقال ہوا ۔ کراچی کی مشہور گلی ” زیب النسا اسٹریٹ” ان کے نام سے منسوب ہے ۔ بیگم زیب النساء حمید اللہ کی انگریزی تصانیف کی تفصیل درج ذیل ہے۔

    تصانیف
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ۔ (1)Indian Bouquet
    ۔ 1941
    ۔ (2)Lotus Leaves
    ۔ 1946
    ۔ (3)Sixty Days in
    ۔ America
    ۔ 1956
    ۔ (4)The Young Wife
    ۔ 1958
    ۔ (5)The Flute of
    ۔ Memory
    ۔ 1964
    ۔ (6)Poems
    ۔ 1972

  • دریائے ستلج میں پانی کی سطح میں مسلسل اضافہ،20 سے زائد دیہات زیر آب، زمینی رابطہ منقطع

    دریائے ستلج میں پانی کی سطح میں مسلسل اضافہ،20 سے زائد دیہات زیر آب، زمینی رابطہ منقطع

    قصور: بھارت کی جانب سے پانی چھوڑے جانے کے بعد دریائے ستلج میں پانی کی سطح میں مسلسل اضافہ ریکارڈ کیا جارہا ہے۔

    باغی ٹی وی : بھارت کی جانب سے پانی چھوڑے جانے کے بعد قصورگنڈا سنگھ کے مقام پر پانی کی سطح 22 فٹ سے بڑھ گئی اور اگلے 24 سے48 گھنٹوں میں دریائے ستلج گنڈا سنگھ والا میں درمیانے سے اونچے درجے کا سیلاب متوقع ہےجبکہ دریائے ستلج کے اطراف 20 سے زائد دیہات زیر آب آ گئے ہیں اور ان کا زمینی رابطہ منقطع ہو گیا ہے، دیہاتی اپنی مدد آپ کے تحت محفوظ علاقوں کا رخ کرنے لگے ہیں۔

    سیلابی پانی کی وجہ سے نگر گاؤں کا حفاظتی بند بھی ٹوٹ گیا ہے، دریائے ستلج میں انتہائی اونچے درجے کا سیلاب ہے، سیلاب کے باعث فصلیں اور سڑکیں زیر آب آ گئی ہیں دریائے ستلج میں دو لاکھ کیوسک کا ریلہ گزر رہا ہے،قصور،مستے کی، سہجرہ، دھوپ سڑی، دونہ، چھانٹ سمیت متعدد گاؤں زیر آب آ گئے ہیں۔

    آج سے مزید مون سون بارشوں کی پیشگوئی

    اسسٹنٹ کمشنر قصور کا کہنا ہے کہ کمال پورہ، بھکی ونڈ سمیت پانچ گاؤں مکمل خالی کرالئے گئے،ان کا کہنا تھا کہ دریائے ستلج میں بوٹس اور عملہ کو بڑھا دیا گیا ہے،سرکاری و غیر سرکاری عمارات میں ریلیف کیمپس قائم کر گئے ہیں۔

    بھارت سے آنے والا ایک لاکھ 85 ہزار کیوسک کا سیلابی ریلا جسڑ سے شاہدرہ لاہور کی جانب بڑھ رہا ہے جس سے راوی کنارے شکر گڑھ کے سرحدی علاقوں میں فصلوں کو نقصان پہنچا ہے جب کہ جھنگ میں دریائے چناب میں سیلابی پانی کے بہاؤ میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے اطراف کے 40 دیہاتوں میں 48 ہزار آبادی متاثر ہوئی ہے جبکہ فصلیں اور رابطہ سڑکیں بھی زیر آب آگئی ہیں۔

    ننکانہ :ممکنہ سیلاب، ناگہانی صورتحال،نمٹنے کے لیے ریسکیو 1122 ہائی الرٹ ہے

  • پشاور:اعلانیہ غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ سے پریشان شہریوں کے لئے ایک اور بُری خبر

    پشاور:اعلانیہ غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ سے پریشان شہریوں کے لئے ایک اور بُری خبر

    پشاور الیکٹرک سپلائی کمپنی (پیسکو) نے اعلان کیا ہے کہ شہر میں بجلی 5 روز بند رہےگی۔

    باغی ٹی وی: پیسکو نے کہا ہے کہ پشاور میں ناگزیز مرمت کی وجہ سے رحمان بابا، کوہاٹ روڈ اور سٹی گرڈ سٹیشن سے بجلی فراہمی آج سے 17 جولائی تک صبح 7 سے دوپہر 12 بجے تک بند رہے گی ہزار خوانی، یکاتوت، چمکنی اور شریف آباداور دیگر مختلف علاقوں کے شہری بھی بجلی سے محروم رہیں گےاسی طرح نوتھیہ، بانہ ماڑی، کوہاٹ روڈ، سول کوارٹر،ہشتنگری، گلبہار، ریڈیو پاکستان، نشترآباد، ارمڑ سمیت مختلف علاقوں کے صارفین بھی متاثر رہیں گے مرمت کام مکمل ہوتے ہی بجلی کی فراہمی مذکورہ اوقات میں جاری رہے گی۔

    دوسری جانب پشاور میں گرمی کی شدت میں اضافے سے بچے مختلف بیماریوں میں مبتلا ہو رہے ہیں۔ پشاور کے تینوں تدریسی اسپتالوں میں یومیہ 600 سے زیادہ ایسے بچوں کو لایا جا رہا ہے جو گیسٹرو اور ڈائیریا کا شکار ہیں، اسپتالوں میں گیسٹرو اور ڈائیریا کے امراض میں مبتلا بچوں کا رش بڑھ گیا ہے جس کے باعث لیڈی ریڈنگ اسپتال میں ایک بیڈ پر دو سے تین بچوں کو رکھا گیا ہے۔

    دوسری جانب لیاری کے مکینوں نے بجلی کی لوڈ شیڈنگ کے خلاف شدید احتجاج کیا اور کے الیکٹرک کے ہیڈ آفس پر دھاوا بول دیا،لیاری کے علاقہ مکینوں نے پتھروں اور ڈنڈوں سے دفتر کے شیشے توڑ ڈالے، یہاں تک کہ دفتر کے باہر لگے سی سی ٹی وی کیمرے بھی توڑ دیے۔

    کئی گھنٹے کے احتجاج کے بعد ادارے کی انتظامیہ نے مذاکرات کیے اور لوڈ شیڈنگ نہ ہونے کی یقین دہانی پر احتجاج ختم کیا گیا کے الیکٹرک کا مؤقف ہے کہ لیاری کا 38 فیصد علاقہ لوڈ شیڈنگ سے مستثنیٰ ہے جب کہ لیاری کے مختلف علاقوں کے نادہندگان پر10ارب روپے سے زائد کے واجبات ہیں۔

  • انسداد دہشت گردی عدالت مین عدم پیشی،عمران خان کےقابل ضمانت وارنٹ جاری

    انسداد دہشت گردی عدالت مین عدم پیشی،عمران خان کےقابل ضمانت وارنٹ جاری

    اسلام آباد کی انسداد دہشت گردی عدالت نے تین مقدمات میں چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان ، شبلی فراز، فرخ حبیب اور حسان نیازی سمیت دیگر رہنمائوں کے قابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کردیئے

    عدالت نے تمام ملزمان کو 19 جولائی کو ذاتی حیثیت میں طلب کرلیا ، اے ٹی سی کے جج ابوالحسنات محمد ذوالقرنین نے کیس کی سماعت کی ،دوران سماعت چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کے وکلا ء کی جانب سے حاضری سے استثنیٰ کی درخواست دائر کی گئی،وکیل نے عدالت میں کہا کہ عمران خان نے لاہور ہائیکورٹ میں پیش ہونا ہے لاہور ہائیکورٹ میں پیشی کے باعث عمران خان اسلام آباد نہیں آسکتے۔

    جج ابوالحسنات نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ عمران خان کو عدالت پیش ہونا پڑے گامعدالت نے جوڈیشل کمپلیکس پر حملے کے الزام میں اسلام آباد کے تھانہ رمنا کے 2 اور تھانہ گولڑہ میں درج ایک مقدمے میں وارنٹ گرفتاری جاری کردیئے۔عدالت نے چیئرمین پی ٹی آئی سمیت تمام ملزمان کو 19جولائی کو ذاتی حیثیت میں طلب کرکے کیس کی سماعت 19 جولائی تک ملتوی کر دی

    آج سے مزید مون سون بارشوں کی پیشگوئی

    دوسری جانب اسلام آباد ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ میں چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کےخلاف توشہ خانہ فوجداری کیس کی سماعت آج ہوگی،اسلام آباد ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ کے جج ہمایوں دلاور کیس کی سماعت کریں گے عدالت نے 2 گواہوں کو آج بیانات ریکارڈ کرانے کیلئے طلب کر رکھا ہے، چیئرمین پی ٹی آئی پرتوشہ خانہ کیس میں پہلے ہی فرد جرم عائد ہوچکی ہے۔

    علاوہ ازیں عمران خان لاہور ہائیکورٹ میں حفاظتی ضمانت کے لئے جائیں گے اور پھر عدالتی کارروائی کے بعد وہ اسلام آباد کی عدالت میں پیش ہونے جائیں گے وکیل چیئرمین پی ٹی آئی نعیم پنجھوتا نے اپنے ٹویٹ میں کہا ہے کہ عمران خان لاہورہائیکورٹ میں پیش ہوں گے، حفاظتی ضمانت کی درخواست لاہورہائیکورٹ میں مقرر ہے چیئرمین پی ٹی آئی ایک مقدمہ میں پیش ہوں گے ، جسٹس باقر نجفی اور امجد رفیق مقدمہ سنیں گے۔

    آئی ایم ایف نے پاکستان کی معاشی کارکردگی سے متعلق رپورٹ جاری کردی

    واضح رہے کہ لاہور ہائیکورٹ میں چیئرمین پی ٹی آئی کی راولپنڈی کے مقدمہ میں ضمانت قبل از گرفتاری کی درخواست سماعت کیلئے مقرر ہے جسٹس علی باقر نجفی کی سربراہی میں 2 رکنی بنچ سماعت کرے گا رجسٹرار آفس نے درخواست پر اعتراض عائد کرتے ہوئے کہا تھا کہ درخواست ناقابل سماعت ہے متعلقہ عدالت سے رجوع کیا جائے۔

    چیئرمین تحریک انصاف نے بیرسٹر سلمان صفدر کے توسط سے درخواست دائر کی ہے، جس میں مؤقف اپنایا گیا ہے کہ عمران خان کو راولپنڈی کے مقدمہ میں ملزم نامزد کر دیا گیا ہے، چیئرمین تحریک انصاف کو 9 مئی ہنگامہ آرائی کیس میں نامزد کیا گیا ہے عمران خان پر اعانت جرم کا الزام ہے، چیئرمین تحریک انصاف پر روزانہ کی بنیاد پر مقدمات درج کیے جا رہے ہیں، وہ مقدمہ کی تحقیقات میں پیش ہونا چاہتے ہیں، خدشہ ہے پولیس گرفتار کر لے گی، اس لئے عدالت ضمانت قبل از گرفتاری منظور کرے-

    یوکرین کو نیٹو کا رکن بنایا جانا مستقبل قریب میں نہیں ہوگا،امریکا

  • یوکرین کو نیٹو کا رکن بنایا جانا مستقبل قریب میں نہیں ہوگا،امریکا

    یوکرین کو نیٹو کا رکن بنایا جانا مستقبل قریب میں نہیں ہوگا،امریکا

    امریکا نے واضح کردیا ہے کہ روس سے تنازعہ ختم ہونے تک یوکرین کو نیٹو میں شامل نہیں کیا جائے گا۔

    باغی ٹی وی : روسی میڈیا کے مطابق لیتھوانیا میں 2 دو روزہ نیٹو سمٹ کے اختتام پر خطاب کرتے ہوئےامریکی صدر جو بائیڈن نے کہا کہ یوکرین کو نیٹو کا رکن بنایا جانا مستقبل قریب میں نہیں ہوگا، یہ اس وقت تک ممکن نہیں جب تک کہ جنگ ختم نہیں ہوجاتی اوریوکرین کے صدر زیلنسکی بھی سمجھتے ہیں کہ نیٹو ممالک کی ذمہ داریاں اس بات سے کہیں زیادہ اہم ہیں کہ یوکرین کو نیٹو کا رکن بنایا جائے۔

    لیتھوانیا میں نارتھ اٹلانٹک ٹریٹی آرگنائیزیشن (نیٹو) اجلاس میں جی سیون ممالک نے واضح کیا کہ جب تک ضرورت پڑی یوکرین کی بھرپور مدد کی جائےگی اور روسی اثاثے اس وقت تک منجمد رہیں جب تک ماسکو ہرجانہ نہیں دیتا۔

    امید کرتا ہوں واشنگٹن کے ساتھ بات چیت کے مثبت نتائج برآمد ہوں گے۔ اردوان

    جو بائیڈن نے کہا ہے کہ روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے طاقت اور زمین کے حصول کی ہوس میں یوکرین پر حملہ کرکے جنگ کا آغاز کردیا، ان کا اندازہ تھا کہ ایسا کرنے سے نیٹو اتحاد ٹوٹ جائے گا لیکن وہ غلط سوچ رہے تھے، نیٹو اتحاد پہلے سے زیادہ مضبوط، متحد اور پرعزم ہے۔

    بائیڈن کا کہنا تھا کہ روسی صدر نے امریکی سربراہی میں عسکری اتحاد کے بارے میں انتہائی غلط اندازہ قائم کیا تھا۔ نیٹو اپنی تاریخ میں سب سے زیادہ مضبوط، زیادہ طاقتور، زیادہ متحد اور اپنے مشترکہ محفوظ مستقبل کیلئے زیادہ پرعزم ہے یوکرین کیلئے ہماری حمایت اور مدد جاری رہے گی اور یہ یوکرین کیلئے ہماری مضبوط عزم کا اظہار ہے۔

    نیٹو سمٹ کے موقع پر یوکرینی صدر زیلنسکی سے ہونے والی ملاقات میں امریکی صدر کی جانب سے انہیں یقین دہانی کروائی گئی کہ روس کے ساتھ جنگ میں یوکرین کی ضروریات کے تحت انہیں ہر ممکن مدد فراہم کی جائے گی امریکی صدر نے یوکرینی صدر کے عزم کو سراہتے ہوئے کہا کہ مجھے اس دن کا انتظار ہے جس دن ہم باضابطہ یوکرین کے نیٹو میں شمولیت کا جشن منائیں گے زیلنسکی کے ساتھ مذاق کرتے ہوئے امریکی صدر جو بائیڈن نے کہا کہ تمہارے لیے بری خبر یہ ہے کہ ہم کہیں نہیں جا رہے تم ہمارے پاس پھنس چکے ہو۔

    صدیاں ہیں فقط ایک ہی لمحے کی کہانی ، لمحہ جسے کھو دے وہ دوبارہ …

    دوسری جانب برطانیہ نے یوکرین کی جانب سے بار بار اسلحے کی درخواست پر حالت جنگ کا سامنا کرنے والے اپنے اتحادی ملک سے کہا ہے کہ ’ہم کوئی ایمازون، دنیا کی معروف ترین ای کامرس کمپنی، نہیں‘ ہیں برطانوی سیکرٹری دفاع بین والس نے ایک بیان میں کہا کہ مغربی امداد کے بدلے یوکرین کو ہمارا احسان مند ہونا چاہیے اور اس چیز کو سمجھنا چاہیے کہ ان کے اتحادی ممالک کے بھی اپنے اندرونی معاملات ہیں۔

    یوکرین کی جانب سے بار بار اسلحے کی درخواست پر سیکرٹری دفاع بین والس کا کہنا تھا کیف کو سمجھنا چاہیے کہ کیپیٹل ہل میں کچھ بڑبولے بیٹھے ہیاگر وہ واشنگٹن کو اسلحے کی شاپنگ لسٹ میں شامل کرتے ہیں توامریکی حکومت ایمازون کی برانچ کی طرح ہے، یوکرین کو اس چیز کو سمجھنا چاہیے کہ وہ اپنے اتحادیوں سے اسلحے کے اسٹاک کا ذخیرہ مانگ رہا ہے، ہم کوئی ایمازون نہیں ہیں۔

    اقوام متحدہ میں قرآن پاک کی بےحرمتی کیخلاف پاکستان کی قرارداد منظور

    برطانیہ کے سیکرٹری دفاع بین والس کے حالیہ بیان پر ردعمل دیتے ہوئے یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی کا کہنا تھا ہم برطانوی عوام کے شکر گزار ہیں کیونکہ وہاں کے عوام نے ہمیشہ یوکرین کی حمایت کی، مجھے نہیں معلوم کہ بین والس کے حالیہ بیان کا کیا مطلب ہے، انہیں چاہیے کہ وہ اس حوالے سے مجھے تحریری طور پر لکھیں اور بتائیں کہ وہ کس طرح سے ہمیں اپنا احسان مند دیکھنا چاہتے ہیں۔

    اس موقع پر یوکرین کے صدر نے ساتھ بیٹھے وزیر دفاع سے پوچھا کہ کیا تمھارے برطانوی سیکرٹری دفاع کے ساتھ کوئی مسائل ہیں، کیا آپ نے کبھی کہا کہ آپ ان کے شکر گزار ہیں، آپ کو بین والس کو آج ہی فون کرنا چاہیےدوسری جانب برطانوی وزیراعظم رشی سونک نے خود کو اپنے سیکرٹری دفاع بین والس کے بیان سے علیحدہ رکھتے ہوئے کہا کہ یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی ہمیشہ شکر گزار رہے ہیں۔

    نیٹو کایوکرین کو اتحاد میں شمولیت کا دعوت نامہ اور ٹائم فریم دینے سے انکار

  • ترک ناول نگار ، کالم نگار فاطمہ عالیہ ٹوپوز

    ترک ناول نگار ، کالم نگار فاطمہ عالیہ ٹوپوز

    فاطمہ عالیہ ٹوپوز جنھیں اکثر فاطمہ علی کے نام سے جانا جاتا ہے۔ وہ ایک ترک ناول نگار ، کالم نگار ، مضمون نگار، خواتین کے حقوق کی کارکن اور انسان دوست شخصیت کی مالک تھیں۔ اس سے قبل 1877 میں ترکی کی خاتون مصنف ظفرحنم کا شائع کردہ ناول آچکا تھا جو کہ ان کا واحد ناول فاطمہ کو دوسری ترک خاتون ناول اپنے پانچ ناولوں کے ساتھ ادبی حلقوں میں ترک ادب کی دوسری خاتون ناول نگار کے طور پرجانا جاتا ہے۔

    ابتدائی زندگی
    ۔۔۔۔۔۔۔
    فاطمہ 09 اکتوبر 1862 کو قسطنطنیہ میں پیدا ہوئیں۔ وہ معروف سرکاری ملازم، مشہور مورخ اور بیوروکریٹ احمد سیویت پاشا (1822-1895) اور ان کی اہلیہ اڈویئے رابعہ کی دوسری اولاد تھیں۔ ان کے دو بہن بھائی تھے۔ ایک بھائی علی سادات اور ایک بہن ایمین سیمیئ۔ 1878 میں وہ اپنے خاندان کے ساتھ نوماہ دمشق میں بھی رہیں۔ فاطمہ علی نے غیررسمی طور پر گھر میں تعلیم حاصل کی چونکہ اس وقت ، لڑکیوں کے لئے باضابطہ کلاسوں میں داخلہ لینا عام بات نہیں تھی۔ اپنے فکری تجسس کی وجہ سے انھوں نے عربی اور فرانسیسی زبان میں اعلیٰ درجے کی مہارت حاصل کی۔

    1879 میں ، جب وہ سترہ سال کی تھیں، ان کے والد نے ان کی شادی کا اہتمام کپتان میجر (عثمانی ترک: کولاساسی) سے کیا۔ مہمت فائک بی، سلطان عبد الحمید دوم کے معاون کیمپ اور غازی عثمان پاشا کے بھتیجے، محاصرہ پلوینا (1877) کا ہیروجن سے انھوں نے چار بیٹیوں کو جنم دیا: ہیٹیس (پیدائش 1880) ، آئیس (پیدائش 1884) ، نیمٹ (پیدائش 1900) اور زبیڈ اسمیٹ (پیدائش 1901)۔ ان کے شوہر ایک قدامت پسند شخص تھے اور انھیں شادی کےابتدائی برسوں کے دوران غیرملکی زبان میں ناول پڑھنے کی اجازت نہیں تھی۔

    پچھلے سال
    ۔۔۔۔۔۔۔
    ان کی سب سے چھوٹی بیٹی زبیڈ اسمیٹ نے 1926 میں عیسائیت میں تبدیل ہوکر ترکی چھوڑ دیا تاکہ رومن کیتھولک راہبہ بنیں۔ فاطمہ عالیہ نے 1920 کی دہائی میں اپنی بیٹی کی تلاش میں اور اپنی صحت کی وجہ سے بھی کئی بار فرانس کا سفر کیا1928 میں انھوں نے اپنے شوہر کو کھو دیا۔ 21 جون 1934 کو ترکی میں کنیت قانون نافذ ہونے کے بعد فاطمہ علی نے اپنا خاندانی نام ”توپوز“ اپنایا تھا۔ خراب صحت اور مالی پریشانی میں زندگی گزارنے کے بعد وہ 13 جولائی 1936 کو استنبول میں انتقال کرگئیں۔ انہیں فریکی قبرستان میں سپرد خاک کردیا گیا۔

  • آج سے مزید مون سون بارشوں کی پیشگوئی

    آج سے مزید مون سون بارشوں کی پیشگوئی

    اسلام آباد: محکمہ موسمیات نے آج سے مزید مون سون بارشوں کی پیشگوئی کر دی ہے بارشوں کا یہ نیا سلسلہ 17 جولائی تک جاری رہنے کا امکان ہے۔

    باغی ٹی وی: محکمہ موسمیات کے مطابق کراچی شہر کے مختلف علاقوں میں میں رات کے اوقات میں بوندا باندی کا امکان ہے،لاہور سمیت پنجاب بھر میں آج سے17 جولائی تک بارشوں کی پیشگوئی کی گئی ہے آزادکشمیر، خطہ پوٹھوہار، مشرقی پنجاب اوربالائی خیبر پختونخوا میں بارش متوقع ہے جبکہ اسلام آباد میں آندھی،تیز ہواؤں اورگرج چمک کے ساتھ بارش کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔

    آئی ایم ایف نے پاکستان کی معاشی کارکردگی سے متعلق رپورٹ جاری کردی

    محکمہ موسمیات کےمطابق کشمیر، مری، گلیات،اسلام آباد، راولپنڈی، چکوال، جہلم، اٹک، منڈی بہاؤالدین، نارووال،حافظ آباد اور گوجرانوالہ میں تیز ہواؤں اور آندھی کے ساتھ موسلا دھار بارشوں کی پیشگوئیہے بارش کا سلسلہ سترہ جولائی تک جاری رہنے کا امکان ہے گلگت بلتستان، چترال، سوات مانسہرہ، پشاور، مردان لکی مروت، کوہاٹ میں گرج چمک کے ساتھ موسلا دھار بارش کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔

    ژوب آپریشن مکمل؛ 9 نوجوان شہید جبکہ 5 دہشتگرد ہلاک

    14 سے 17 جولائی کے دوران اسلام آباد، راولپنڈی، گوجرانوالہ میں نشیبی علاقے زیر آب آنے کا خدشہ ہے، محکمہ موسمیات نے آج ملک کے بیشتر علاقوں میں موسم گرم اور مرطوب رہنے کی پیشگوئی کی گئی ہے۔

    ننکانہ :ممکنہ سیلاب، ناگہانی صورتحال،نمٹنے کے لیے ریسکیو 1122 ہائی الرٹ ہے

    مون سون کے نئے اسپیل کا آغاز،احتیاط برتیں، شیری رحمان
    پیپلز پارٹی کی رہنما، وفاقی وزیر شیری رحمان کا کہنا ہے کہ آج سے مون سون کے نئے اسپیل کا آغاز ہو رہا ہے جس کی وجہ سے اسلام آباد، پنجاب، سندھ، بلوچستان، خیبر پختون، گلگت بلتستان اور کشمیر کے مختلف علاقوں میں گرج چمک کے ساتھ بارشوں کا امکان ہے۔ مون سون کا یہ نیا سلسلہ 17 جولائی تک جاری رہنے کا امکان ہے۔ اس دوران تمام متعلقہ اداروں کو الرٹ رہنے کی ہدایت بھی جاری کر دی گئی ہیں۔ 13 سے17 جولائی کےدوران اسلام آباد، راولپنڈی، پشاور، گوجرانوالہ اورلاہور میں موسلا دھار بارش کے باعث نشیبی علاقے زیر آب آنے کا خدشہ ہے۔ جبکہ مری، گلیات، کشمیر، گلگت بلتستان اور خیبر پختو نخواہ کے پہاڑی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ کا خطرہ بھی موجود ہے۔ ان علاقوں میں سیاحوں کو بارشوں کے دوران کسی بھی ناخوشگوار صورتحال سے بچنے کے لیے محتاط رہنے کی درخواست کی جاتی ہے۔ آندھی، گرج چمک اور شدید بار شوں کے باعث کمزور انفرا سٹرکچر ( بجلی کے کھمبے، سولر پینل، کچے مکانات) کو نقصان پہنچ سکتا ہے، شہریوں سے درخواست ہے احتیاط برتیں۔

  • آئی ایم ایف نے پاکستان کی معاشی کارکردگی سے متعلق رپورٹ جاری کردی

    آئی ایم ایف نے پاکستان کی معاشی کارکردگی سے متعلق رپورٹ جاری کردی

    عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے پاکستان کی معاشی کارکردگی سے متعلق رپورٹ جاری کردی ۔

    باغی ٹی وی: آئی ایم ایف کی رپورٹ میں آئی ایم ایف رواں مالی سال بیروزگاری کم ہونے کے علاوہ اوسط مہنگائی بھی کم ہونے کی پیش گوئی کی گئی ہے،رپورٹ کے مطابق رواں مالی سال سال 2023-24 میں معاشی شرح نمو 2.5 فیصد رہنے کا امکان ہے۔ گزشتہ مالی سال معاشی کارکردگی منفی 0.5 فیصد رہی جبکہ حکومت نے جی ڈی پی گروتھ 0.3 فیصد مثبت رہنے کا دعویٰ کیا تھا حکومت نے نئے بجٹ میں معاشی ترقی کا ہدف ساڑھے3 فیصد مقررکررکھا ہے۔

    رپورٹ میں آئی ایم ایف کا کہنا ہے کہ سال 2024 میں پاکستان میں بیروزگاری ساڑھے 8 فیصد سے کم ہوکر 8 فیصد پرآجائے گی ۔ اس کے علاوہ رواں مالی سال میں اوسط مہنگائی بھی 29.6 فیصد سے کم ہو کر 25.9 فیصد پرآنے کی پیشگوئی کی گئی ہے رپورٹ کے مطابق رواں سال مالی خسارہ معمولی کمی سے ساڑھے 7 فیصد رہنے کا امکان ہے، پرائمری سرپلس جی ڈی پی کا 0.4 فیصد رہنے کا امکان ہے۔ اس کے علاوہ کیا گیا ہے کہ پاکستان کے ذمہ قرضوں کا حجم 81.8 فیصد سے کم ہو کر 74.9 فیصد پر آجائے گا۔

    ننکانہ :ممکنہ سیلاب، ناگہانی صورتحال،نمٹنے کے لیے ریسکیو 1122 ہائی الرٹ ہے

    دوسری جانب آئی ایم ایف کی منیجنگ ڈائریکٹر (ایم ڈی) کرسٹالینا جارجیوا نے کہا ہے کہ نیا اسٹینڈ بائی ارینجمنٹ پروگرام پاکستان کے لیے میکرو اکنامک استحکام لانے کا موقع ہے اور پاکستان کو اس پروگرام پر پوری لگن سے عمل کرنا ہوگااکستان کو توانائی کے شعبے میں اصلاحات کی ضرورت ہے اور پاور سیکٹر میں ٹارگٹڈ سبسڈی بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔

    انہوں نے کہا کہ پاکستان کو آئی ایم ایف پروگرام پر پوری لگن سے عمل کرنا ہو گا اور غیرضروری اخراجات سے متعلق مالیاتی نظم ونسق پر عمل کیا جائے۔ بیرونی دباؤ کا سامنا کرنے کے لیے مارکیٹ بیسڈ ایکسچینج ریٹ اہم ہے اسٹینڈبائی ایگریمنٹ پاکستان کے لیے استحکام حاصل کرنے کا موقع ہے جبکہ سماجی اور ترقیاتی اخراجات کے لیے ریونیو میں بہتری کی ضرورت ہے۔

    دبئی: پاکستان پیپلزپارٹی کو گلف و مڈل ایسٹ میں مزید مضبوط بنائیں گے- میاں منیر …

  • نیٹو کایوکرین کو اتحاد میں شمولیت کا دعوت نامہ اور ٹائم فریم دینے سے انکار

    نیٹو کایوکرین کو اتحاد میں شمولیت کا دعوت نامہ اور ٹائم فریم دینے سے انکار

    ولنیئس : نارتھ اٹلانٹک ٹریٹی آرگنائزیشن ( نیٹو ) کے سربراہان نے یوکرین کو فوجی اتحاد میں شمولیت کا دعوت نامہ اور ٹائم فریم دینے سے انکار کر دیا ہے-

    باغی ٹی وی : نیٹو کے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ یوکرین کو مستقبل میں فوجی اتحاد میں شامل ہونے کے قابل ہونا چاہیے، لیکن انہوں صدر ولادیمیر زیلنسکی کو ناراض کرتے ہوئے کیف کو فوری طور پر دعوت دینے سے انکار کردیا یوکرائن کی فوجیں اپنے ملک کے کچھ حصوں پر قابض روسی افواج کے خلاف جوابی کارروائی میں اہم کامیابیاں حاصل کرنے کی جدوجہد کر رہی ہیں۔

    نیٹو کے 31 رکن ممالک کے رہنماؤں نے منگل کو لتھوانیا کے دارالحکومت ولنیئس میں دو روزہ سربراہی اجلاس کا آغاز کیا تمام رہنماؤں نے اعلان کیا کہ یوکرین کا مستقبل نیٹو میں ہے لیکن انہوں نے اس عمل کے لیے کوئی ٹائم لائن پیش نہیں کی اجلاس کے اعلامیے میں کہا گیا کہ جب ہم اس پوزیشن میں ہوں گے کہ اتحادی متفق ہوں اور شرائط پوری ہو جائیں تو ہم یوکرین کو اتحاد میں شامل ہونے کی دعوت دیں گے اعلامیے میں شرائط کی وضاحت نہیں کی گئی تاہم یوکرین کیلئے ایک شرط ”ممبر شپ پلان“ کو ختم کر دیا گیا۔

    اقوام متحدہ میں قرآن پاک کی بےحرمتی کیخلاف پاکستان کی قرارداد منظور

    اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ ہم یوکرین کی حکومت اور عوام کے ساتھ ان کے اپنی قوم، اپنی سرزمین اور مشترکہ اقدار کے بہادرانہ دفاع پرغیرمتزلزل یک جہتی کا اعادہ کرتے ہیں، اتحاد کیف کو فوجی باہمی تعاون کے ساتھ ساتھ جمہوریت اور سلامتی کے شعبے میں اضافی اصلاحات پر پیش رفت کرنے میں مدد کرے گا

    منگل کو ہونے والے سربراہی اجلاس میں یوکرین کے لیے کئی فوجی پیکجوں کا بھی اعلان کیا گیا حکام نے بتایا کہ 11 ممالک کا اتحاد اگست میں رومانیہ میں قائم کیے جانے والے ایک مرکز میں یوکرین کے پائلٹوں کو امریکی ساختہ ایف 16 لڑاکا طیارے اڑانے کی تربیت دینا شروع کرے گا، جبکہ جرمنی نے کیف کو مزید 771 ملین ڈالر کی فوجی امداد کا وعدہ کیا، جس میں دو پیٹریاٹ میزائل سسٹم لانچر، مزید 40 مارڈر انفنٹری فائٹنگ وہیکلز اور 25 لیپرڈ 1 ٹینک شامل ہیں۔

    ماسکو کے بارے میں سخت زبان میں کہا گیا ہے کہ روسی فیڈریشن اتحادیوں کی سلامتی اور یورو اٹلانٹک کے علاقے میں امن و استحکام کے لیے سب سے بڑا اور براہ راست خطرہ ہے-

    مذاہب کےاحترام سےمتعلق پاکستان کیجانب سےاقوام متحدہ میں پیش قرارداد پرآج ووٹنگ کاامکان

    قبل ازیں زیلنسکی نے اس سے قبل نیٹو رہ نماؤں کو رُکنیت کے لیے کوئی ٹائم فریم پیش نہ کرنے پر تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔انھوں نے نیٹو کے سربراہ اجلاس میں خصوصی مہمان کی حیثیت سے شرکت کی ہے انھوں نے اس سے قبل کہا کہ یہ غیر معمولی اور مضحکہ خیز ہوگا اگر دعوت نامے کا اور نہ ہی یوکرین کی رکنیت کے لیے کوئی ٹائم فریم مقررکیا جاتا ہے اجلاس کے آغاز پر زیلنسکی کا یہ تبصرہ نیٹو کے سیکریٹری جنرل جینزاسٹولٹن برگ کے اس بیان کے بعد سامنے آیا ہے جس میں انھوں نے کہا تھا کہ یہ بلاک کیف کو رکنیت کی راہ پر ایک ‘مثبت پیغام’ دے گا۔

    زیلینسکی کی تنقید کے بارے میں پوچھے جانے پر اسٹولٹن برگ نے پریس کانفرنس میں کہا کہ جب رکنیت کے لیے آگے بڑھنے کے راستے کے سیاسی پیغام اور نیٹو اتحادیوں کی ٹھوس حمایت کی بات آتی ہےنیٹو کی طرف سے کبھی اس سے زیادہ مضبوط پیغام نہیں آیا نیٹو میں اس سے قبل کسی ملک کی شمولیت کے لیے کوئی ٹائم لائن نہیں تھی بلکہ وہ شرائط پر مبنی ہوتی تھی اور ہمیشہ سے ایسا ہی رہا ہے۔

    2023 سے 2027 تک کا عرصہ دنیا کی تاریخ کا گرم ترین دورریکارڈ ہوگا،اقوم متحدہ

    دوسری جانب ماسکو نے نیٹو کے سربراہی اجلاس پر تنقید کی اور خبردار کیا ہے کہ جنگ بڑھنے کی صورت میں یورپ کو سب سے پہلے تباہ کن نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔

    کریملن کے ترجمان دیمتری پیسکوف نے کہا کہ ممکنہ طور پر یہ مسئلہ یورپی سلامتی کے لیے بہت خطرناک ہے اور اس لیے فیصلہ کرنے والوں کو اس سے آگاہ ہونا چاہیے، یورپی رہنما یہ نہیں سمجھتے کہ نیٹو کے فوجی ڈھانچے کو روس کی سرحدوں کی طرف منتقل کرنا ایک غلطی تھی۔

    علاوہ ازیں روسی وزارت خارجہ کی ترجمان ماریا زاخارووا کا کہنا تھا کہ نیٹو کے ارکان یوکرین کے اتحاد میں شامل نہ ہونے پر متحد ہیں، آپ دیکھ سکتے ہیں کہ نیٹو نے یوکرین کو شامل نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے، فن لینڈ اور سویڈن کو رکنیت کیلئے دعوت دی گئی لیکن یوکرین کو نہیں، کیوں؟ ، یہ ایک سوال ہے جو تمام ٹی وی چینلز پر اٹھایا جانا چاہیے ۔

    وزن کم کرنے والے انجیکشن کا استعمال خود کشی کا سبب بن سکتا ہے؟

  • صدیاں ہیں فقط ایک ہی لمحے کی کہانی ، لمحہ جسے کھو دے وہ دوبارہ نہیں ملتا

    صدیاں ہیں فقط ایک ہی لمحے کی کہانی ، لمحہ جسے کھو دے وہ دوبارہ نہیں ملتا

    اس عہد کی تصویر میں اپنا بھی لہو ہے
    ڈھونڈے سے مگر نام ہمارا نہیں ملتا

    ماہ طلعت زاہدی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    محترمہ ماہ طلعت زاہدی کا تعلق ایک ایسے گھرانے سے تھا جہاں انھیں بچپن سے ہی کاغذ قلم کی وابستگی میسرآئی۔ ان کے والد ڈاکٹر مقصود زاہدی خاکہ نگار،شاعر، یاد نگار، افسانہ نگار اور نقاد کی حیثیت سے اردوادب میں معتبر مقام رکھتے ہیں۔ ترقی پسند تحریک کے ساتھ ڈاکٹرصاحب کی وابستگی غیرمشروط تھی ۔ماہ طلعت زاہدی کے بھائی ڈاکٹرانور زاہدی بھی شاعری، افسانے اورتراجم کے حوالے سے اردوادب کا معتبرحوالہ ہیں۔

    ماہ طلعت زاہدی 08 ستمبر 1953ءکوملتان میں پیداہوئیں ۔ ان کی ایک علمی ادبی ماحول میں پرورش ہوئی۔ انھوں نے 1967ء میں گورنمنٹ گرلز سکول نواں شہر سے میٹرک کیا گرلز ڈگری کالج کچہری روڈ ملتان سے 1969 میں ایف اے اور1972ء میں بی اے کا امتحان پاس کیا 1977ءمیں ایمرسن کالج بوسن روڈ سے ایم اے اردوکیا ماہ طلعت زاہدی زمانہ طالب علمی سے شعر کہہ رہی تھیں۔ ادبی محافل اورمشاعروں میں ان کی شرکت نہ ہونے کے برابرہے لیکن انھوں نے مشاعروں میں شرکت کیےبغیر بہت باوقار اندازمیں ادبی حلقوں سے اپنی صلاحیتوں کا اعتراف کرایا اور ناقدین ادب سے بھرپور داد وصول کی۔

    2000ء میں نامور ماہر تعلیم نقاد اور محقق ڈاکٹراسدادیب ان کے رفیقِ حیات بنے جس کے بعد ماہ طلعت زاہدی کی کتابوں کی اشاعت بھی شروع ہوئی ۔ اب تک ان کی نظموں کے دو، غزلیات اورسہ حرفیوں کا ایک ایک مجموعہ شائع ہوچکاہے جبکہ سفرنامہ انگلستان ”تاب نظارہ نہیں“ کے نام سے منظرعام پرآیاہے۔ راجہ بھرتری ہری، رابندرناتھ ،ٹیگور،عمرخیام ، واحد بشیر ،کبیرداس، میرابائی کے بارے میں مضامین پرمشتمل انکی ایک اورکتاب بھی اشاعت کی منتظرتھی ماہ طلعت زاہدی کی مطبوعہ کتابوں میں روپ ہزار، شاخ غزل، میں کیسے مسکراتی ہوں ، تین مصرعوں کاجہاں اور تابِ نظارہ نہیں شامل ہیں۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ادبیاتِ پاکستان کے مطابق ماہ طلعت زاہدی کی تاریخ ولادت 01 جنوری 1955ء ہے۔

    غزل
    ۔۔۔۔
    اس کی آنکھوں میں اک سوال سا تھا
    میرے دل میں کوئی ملال سا تھا
    دھل گیا آنسوؤں میں سارا وجود
    عشق میں یہ عجب کمال سا تھا
    جسم کی ڈال پر جھکا تھا خواب
    روح سرشار دل نہال سا تھا
    گفتگو کر رہی تھی خاموشی
    ہجر کی راہ میں وصال سا تھا
    خواہشیں ہر گھڑی عروج پہ تھیں
    وقت کو ہر گھڑی زوال سا تھا
    میں بھی تھی آشنا روایت سے
    اس کو بھی ضبط میں کمال سا تھا
    خواب در خواب تھیں ملاقاتیں
    درد دل وجہ اندمال سا تھا
    آئنہ بن گیا ہے میرے لئے
    ایک چہرہ کہ بے مثال سا تھا

    غزل
    ۔۔۔۔
    بے کہے بے سنے خدا حافظ
    جو بھی گزرے اسے خدا حافظ
    درد رک بھی گیا اگر تو کیا
    ہے اجل سامنے خدا حافظ
    لغزشیں سب معاف ہوں میری
    وقت عجلت میں ہے خدا حافظ
    اتنی ناراضگی ارے توبہ
    وہ بھی بیمار سے خدا حافظ
    کم سے کم مڑ کے دیکھیے صاحب
    زندگی کہتی ہے خدا حافظ
    درد ہے یا ہے موت کی دستک
    بے بسی کیا کرے خدا حافظ
    کار دنیا تو ختم ہوتا نہیں
    کہنا ہی پڑتا ہے خدا حافظ

    غزل
    ۔۔۔۔
    وحشت بھری راتوں کو کنارہ نہیں ملتا
    دل ڈوب چلا صبح کا تارا نہیں ملتا
    ملتے ہیں بہت یوں تو جو آغوش کشا ہو
    دل کے لئے وہ درد کا دھارا نہیں ملتا
    اس عہد کی تصویر میں اپنا بھی لہو ہے
    ڈھونڈے سے مگر نام ہمارا نہیں ملتا
    قدرت کا کرم ہو تو الگ بات ہے ورنہ
    مشکل میں تو اپنوں کا سہارا نہیں ملتا
    صدیاں ہیں فقط ایک ہی لمحے کی کہانی
    لمحہ جسے کھو دے وہ دوبارہ نہیں ملتا