Baaghi TV

Author: Ayesha Rehmani

  • ایران کا آبنائے ہرمز پر کرپٹو کرنسی میں ٹیکس وصولی کا فیصلہ

    ایران کا آبنائے ہرمز پر کرپٹو کرنسی میں ٹیکس وصولی کا فیصلہ

    تہران نے دنیا کی اہم ترین بحری گزرگاہ آبنائے ہرمز پر اپنا کنٹرول مزید سخت کرنے کے لیے پٹو کرنسی میں ٹیکس وصولی کا فیصلہ کیا ہے-

    برطانوی اخبار ’فنانشل ٹائمز‘ کی رپورٹ کے مطابق ایران اب یہاں سے گزرنے والے تیل کے ہر بحری جہاز سے فی بیرل ایک ڈالر ٹول ٹیکس وصول کرنے کا ارادہ رکھتا ہے اور اس نے مطالبہ کیا ہے کہ یہ ادائیگیاں روایتی کرنسی کے بجائے ڈیجیٹل کرنسی یعنی کرپٹو میں کی جائیں۔

    ایران کی آئل، گیس اور پیٹرو کیمیکل ایکسپورٹرز یونین کے ترجمان حامد حسینی کا کہنا ہے کہ تہران اب اس گزرگاہ سے گزرنے والے تمام جہازوں کی نگرانی کے ساتھ ساتھ انہیں ریگولیٹ بھی کرے گا، ہر جہاز کو گزرنے کی اجازت دینے سے پہلے اس کے سامان کی جانچ پڑتال کی جائے گی۔

    انہوں نے بتایا کہ ایران کو یہ دیکھنا ہے کہ آبنائے ہرمز سے کیا اندر آ رہا ہے اور کیا باہر جا رہا ہے تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ جنگ بندی کے ان دو ہفتوں کو ہتھیاروں کی منتقلی کے لیے استعمال نہ کیا جائے، اگرچہ جہازوں کو گزرنے دیا جائے گا لیکن اس عمل میں وقت لگ سکتا ہے کیونکہ ایران کو کوئی جلدی نہیں ہے۔

    مجوزہ نظام کے تحت ٹینکرز کو ای میل کے ذریعے اپنے سامان کی تفصیلات شیئر کرنی ہوں گی جس کے بعد حکام ٹیکس کا حساب لگائیں گے اور کمپنیوں کو بٹ کوائن جیسی ڈیجیٹل کرنسی میں ادائیگی کے لیے بہت تھوڑا وقت دیا جائے گا۔

    اس وقت تقریباً 400 بحری جہاز خلیج میں کھڑے اپنی باری کا انتظار کر رہے ہیں اور ماہرین اس منظر نامے کو ایک بڑی پارکنگ لاٹ سے تشبیہ دے رہے ہیں۔

    دوسری جانب جہاز رانی کی بڑی کمپنی میرسک نے کہا ہے کہ وہ صورتحال کا جائزہ لے رہی ہے لیکن فی الحال معمول کی کارروائیاں شروع کرنے کے لیے تیار نہیں ہے، اس معاملے پر عمان نے بھی اپنا موقف واضح کرتے ہوئے کہا ہے کہ موجودہ عالمی معاہدوں کے تحت اس بین الاقوامی گزرگاہ سے گزر نے والے جہازوں پر کوئی ٹیکس یا فیس نہیں لگائی جا سکتی۔

  • ٹرمپ کا بعض نیٹو ممالک کو ایران جنگ میں حمایت نہ دینے پر سزا دینے پر غور

    ٹرمپ کا بعض نیٹو ممالک کو ایران جنگ میں حمایت نہ دینے پر سزا دینے پر غور

    امریکی جریدے کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ بعض نیٹو ممالک کو ایران جنگ میں حمایت نہ دینے پر سزا دینے پر غور کر رہے ہیں۔

    امریکی جریدے کے مطابق ایسےنیٹو ممالک سے امریکی فوجیوں کو نکالا جائے گا جو ایران جنگ میں غیرمعاون رہے امریکی فوجیوں کو ممالک میں تعینات کیا جائے گا جو اس جنگ میں حمایت کر رہے ہیں،ممکنہ طور پر اسپین یاجرمنی میں امریکی اڈے بند کرنا پلان میں شامل ہوسکتاہے۔

    دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو فوجی سامان فراہم کرنے والے ممالک کے خلاف سخت اقدامات کا فیصلہ کرلیا،یہ اعلان واشنگٹن اور تہران کے درمیان دو ہفتوں کی جنگ بندی پر اتفاق کے بعد سامنے آیا۔

    امریکی صدر نے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں کہا کہ جو بھی ملک ایران کو ہتھیار فراہم کرے گا، اس کی امریکا کو برآمد کی جانے والی تمام اشیا پر فوری طور پر 50 فیصد ٹیرف عائد ہوگا اور اس میں کسی قسم کی کوئی رعایت نہیں ہوگی-

    عرب میڈیا کی رپورٹ کے مطابق روس اور چین پر ماضی میں ایران کی فوجی صلاحیت بڑھانے میں مدد کے الزامات عائد کیے جاتے رہے ہیں، جن میں میزائل، فضائی دفاعی نظام اور دہرے استعمال کی ٹیکنالوجی کی فراہمی شامل ہے تاہم روس اور چین نے حالیہ عرصے میں کسی بھی قسم کے اسلحہ فراہم کرنے کی تردید کی ہے۔

  • حکومت نے عارضی جنگ بندی میں اہم کردار ادا کیا،حافظ نعیم الرحمان

    حکومت نے عارضی جنگ بندی میں اہم کردار ادا کیا،حافظ نعیم الرحمان

    حافظ نعیم الرحمان نے اپنے بیان میں کہا کہ عارضی جنگ بندی پر ایرانی قوم کے عزم کو سلام پیش کرتے ہیں، حکومت نے عارضی جنگ بندی میں اہم کردار ادا کیا، پوری پاکستانی قوم مبارک آباد کی مستحق ہے۔

    اپنے ویڈیو بیان میں انہوں نے کہا کہ حکومت نے گلف میں جاری کشیدگی کو نارملائز کیااور بڑی کامیابی حاصل کی، امریکہ اسرائیل کے پپٹ کے طور پر کام کررہا ہے، صہیونی دنیا بھر میں امریکہ کو استعمال کررہے ہیں، دنیا بھر میں باضمیر انسان امریکی دہشت گردی کے خلاف ہیں پاکستان کا کردار بہت اہم ہوگیا ہے،امریکہ کو اخلاقی، سفارتی اور فوجی شکست ہوئی ہے-

    حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ پاکستان کو سب کے ساتھ مستحکم تعلقات رکھنے ہیں اور باہمی تجارتی تعاون کو بڑھانا ہے، ایران کے ساتھ گیس پائپ لائن کا عمل شروع کیا جائے،خلیجی ممالک اور ایران کے ساتھ آزاد تجارت اور ملکی گیس و پیٹرول کی ضروریات کو پورا کرنا ہوگا پاک سعودی عرب دفاعی معاہدے میں ترکیہ، ایران کو شامل کیا جائے اور خلیجی ممالک رضاکارانہ شریک ہوں۔

  • اٹلی کے سابق وزیر اعظم نے شہباز شریف کو نوبیل انعام کا حقدار قرار دے دیا

    اٹلی کے سابق وزیر اعظم نے شہباز شریف کو نوبیل انعام کا حقدار قرار دے دیا

    اٹلی کے سابق وزیر اعظم پاؤلو جینٹی لونی نے پاکستانی وزیر اعظم شہباز شریف کو نوبیل انعام کا حقدار قرار دے دیا۔

    امریکا و اسرائیل اور ایران کے درمیان جنگ بندی کی کوششوں کو سراہتے ہوئے جینٹی لونی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ اس جنگ بندی کیلئے کامیابی پر وزیراعظم شہباز شریف نوبیل انعام کے مستحق ہیں۔

    واضح رہے کہ پاکستانی وزیراعظم اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی طرف سے جنگ بندی کیلئے کی گئی کوششوں کو پوری دنیا میں سراہا جارہا ہے،وزیراعظم شہباز شریف اور آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر کی قیادت کو خطے میں امن کے قیام کے لیے مثبت پیشرفت قرار دے دیا۔

  • پاکستان میں سونے کی قیمت پھر 5 لاکھ سے زائد ہو گئی

    پاکستان میں سونے کی قیمت پھر 5 لاکھ سے زائد ہو گئی

    ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی کے بعد پاکستان میں سونے کی قیمتوں کو پر لگ گئے –

    آل پاکستان صرافہ جیمز اینڈ جیولرز ایسوسی ایشن کے مطابق ملک بھر میں فی تولہ سونے کی قیمت میں یکدم 15 ہزار 700 روپے کا بڑا اضافہ دیکھا گیا ہے، جس کے بعد اب ایک تولہ سونا 5 لاکھ 4 ہزار 162 روپے کی ریکارڈ سطح پر فروخت ہو رہا ہے،اسی طرح 10 گرام سونے کی قیمت میں بھی 13 ہزار 460 روپے کا اضافہ ہوا ہے اور اب اس کی نئی قیمت 4 لاکھ 32 هزار 237 روپے مقرر کی گئی ہے۔

    سونے کی قیمتوں میں اس اچانک اور بڑے اضافے کی بنیادی وجہ عالمی منڈی میں ہونے والی تبدیلی ہے،بین الاقوامی بازار میں سونے کا بھاؤ 157 ڈالرز کے نمایاں اضافے کے ساتھ 4814 ڈالرز فی اونس ہو گیا ہے اضافہ ایک ایسے وقت میں ہوا ہے جب صرف ایک دن پہلے ہی سونے کی قیمتوں میں کچھ کمی دیکھی گئی تھی، جہاں فی تولہ سونا 3 ہزار روپے اور 10 گرام سونا 2572 روپے سستا ہوا تھا۔

    صرافہ ایسوسی ایشن کے نمائندوں کا کہنا ہے کہ قیمتوں میں یہ اتار چڑھاؤ عالمی مارکیٹ کی صورتحال سے جڑا ہوا ہے اور سرمایہ کار اب سونے کو ایک محفوظ سرمایہ کاری کے طور پر دیکھ رہے ہیں، جب تک عالمی سطح پر قیمتیں مستحکم نہیں ہوتیں، مقامی مارکیٹ میں بھی اسی طرح کا غیر یقینی اتار چڑھاؤ جاری رہنے کا خدشہ ہے۔

  • تحریک انصاف کی راولپنڈی میں  جلسے کی درخواست مسترد

    تحریک انصاف کی راولپنڈی میں جلسے کی درخواست مسترد

    ڈپٹی کمشنر راولپنڈی نے پاکستان تحریک انصاف کے لیاقت باغ میں جلسے کے لیے این او سی کی درخواست مسترد کر دی-

    انتظامیہ کے مطابق امن و امان کی موجودہ صورتحال اور سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر ڈسٹرکٹ انٹیلی جنس کمیٹی (DIC) کے اجلاس میں اس معاملے پر غور کیا گیا، جس میں موجودہ خطرے کے اسپیکٹرم کو مدنظر رکھتے ہوئے کہا گیا کہ عوامی اجتماعات میں شرکا کے جان و مال کو خطرات لاحق ہو سکتے ہیں راولپنڈی میں دفعہ 144 بھی نافذ ہے جب کہ لیاقت باغ کی سیکیورٹی کلیئرنس کے لیے حفاظتی وسائل کی بڑے پیمانے پر تعیناتی حکومتی کفایت شعاری پالیسی کے تحت ممکن نہیں۔

    انتظامیہ کے مطابق موجودہ حالات میں عوامی اجتماع کو محفوظ بنانے کے لیے ضروری انتظامی، لاجسٹک اور مالی ضروریات کو پورا کرنا ایک چیلنج ہے، اسی لیے ڈسٹرکٹ انٹیلی جنس کمیٹی کے متفقہ فیصلے کی روشنی میں جلسے کے این او سی کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔

    دوسری جانب پاکستان تحریک انصاف نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ راولپنڈی کے لیاقت باغ میں 9 اپریل کے جلسے کے لیے دی گئی درخواست مسترد کر دی گئی ہے۔ پارٹی کے مطابق پرامن جلسہ ہر سیاسی جماعت کا بنیادی آئینی حق ہے۔

    پی ٹی آئی راولپنڈی کے ڈسٹرکٹ صدر عاقل خان نے اس حوالے سے کہا کہ انہیں جلسے کے اجازت نامے سے انکار کے فیصلے سے آگاہ کر دیا گیا ہے۔ انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ امن و امان اور سیکیورٹی صورتحال کے باعث جلسے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔

  • وزیراعظم شہباز شریف اور ایرانی صدر کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ

    وزیراعظم شہباز شریف اور ایرانی صدر کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ

    وزیراعظم شہباز شریف اور اراین کے صدر مسعود پزشکیان کے درمیان ٹیلی فونک رابطہ ہوا جس میں دونوں رہنماؤں نے امریکا ایران جنگ بندی پر اطمینان کا اظہار کیا۔

    وزیراعظم دفتر کی جانب سے جاری بیان میں بتایا گیا کہ وزیراعظم شہباز شریف اور ایران کے صدر مسعود پزشکیان کے درمیان 45 منٹ تک ٹیلیفون پر گفتگو ہوئی، جس میں حالیہ جنگ بندی اور مستقبل کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا ،وزیراعظم شہباز شریف نے سیز فائز کے لیے ایرانی قیادت کی ذہانت کی تعر یف کی اور امریکا کے ساتھ اسلام آباد میں مذاکرات کے لیے آمادگی پر ان کا شکریہ ادا کیا، وزیراعظم شہباز شریف نے ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کے لیے بھی اپنا پیغام بھجوایا۔

    اعلامیے کے مطابق ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے دو ہفتوں کی جنگ بندی کے لیے اقدامات کرنے پر وزیراعظم شہباز شریف اور پاکستانی لیڈر شپ کا شکریہ ادا کیا اور پاکستانی عوام کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا مسعود پزشکیان نے اس بات کی تصدیق کی کہ ایران کا وفد مذاکرات کے لیے پاکستان آئے گا۔

    سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی کے حوالے سے جامع مذاکرات اسلام آباد میں ہونے جا رہے ہیں، جس میں ایران کی جانب سے اسپیکر پارلیمنٹ باقر قالیباف اور وزیر خارجہ عباس عراقچی جبکہ امریکا کی جانب سے نائب صدر جے ڈی وینس اور اسٹیو وٹکوف شریک ہوں گے۔

  • پنجاب اسمبلی میں ایران امریکا جنگ بندی پر خیر مقدم کی قراردادجمع

    پنجاب اسمبلی میں ایران امریکا جنگ بندی پر خیر مقدم کی قراردادجمع

    پنجاب اسمبلی میں ایران امریکا جنگ بندی کے خیرمقدم کی قرارداد جمع کرا دی گئی۔

    تفصیلات کے مطابق یہ قرارداد مسلم لیگ (ن) کی رکن حنا پرویز بٹ کی جانب سے جمع کروائی گئی ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ یہ ایوان ایران امریکا جنگ بندی کا خیرمقدم کرتا ہے ایوان وزیراعظم شہباز شریف، وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کو خراجِ تحسین پیش کرتا ہے، پاکستان نے مشرقِ وسطیٰ میں قیامِ امن کے لیے مخلصانہ کوششیں کی ہیں –

    قرارداد میں مزید کہا گیا ہے کہ پاکستان کی پرامن سفارتی کاوشوں کو آج پوری دنیا تسلیم کر رہی ہے یہ وزیراعظم شہباز شریف اور ان کی حکومت کی ایک بڑی کامیابی ہے جس پاکستان کو عالمی سطح پر تنہائی کا شکار کرنے کی کوشش کی گئی تھی، آج وہی پاکستان دنیا کے اہم فیصلوں میں مؤثر کردار ادا کر رہا ہے وزیراعظم شہباز شریف، وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اسلامی دنیا کے ہیرو بن کر سامنے آئے ہیں،یہ ایوان امن کے قیام کے لیے وفاقی حکومت کے تمام فیصلوں کی تائید کرتا ہے۔

  • آپریشن غضب للحق: افغان طالبان سرحدی چوکیاں چھوڑ کر فرار

    آپریشن غضب للحق: افغان طالبان سرحدی چوکیاں چھوڑ کر فرار

    پاکستانی سیکیورٹی فورسز نے سرحد پار حملوں کا بھرپور جواب دیتے ہوئے افغان طالبان کے ناپاک عزائم کو خاک میں ملادیا۔

    ’افغانستان انٹرنیشنل‘ کے مطابق پاکستانی سیکیورٹی فورسز کےساتھ حالیہ جھڑپوں کے بعد افغان طالبان صوبے نورستان اورکنڑ میں سرحدی چوکیاں چھوڑ کر فرار ہوئے، افغان طالبان سرحدی چوکیوں سے پسپائی کے بعد مساجد میں نا صرف چھپ گئے بلکہ عام شہریوں کے روپ میں علاقوں سے فرار بھی ہوگئے۔

    افغان میڈیا کے مطابق قبائلی عمائدین کا کہنا ہے کہ افغان طالبان سیکیورٹی کی فراہمی میں مکمل طور پر ناکام اور اپنی عبرتناک شکست چھپانے کیلئے غلط معلومات پھیلا رہے ہیں، افغان طالبان رجیم کی غفلت نےعوام کو فاقہ کشی پر مجبور کیا، مقامی آبادی نے مدد کیلئے پاکستانی سیکیورٹی فورسز سے رجوع کرنے کا عندیہ دیدیا۔

    ماہرین کے مطابق طالبان رجیم کیخلاف حالیہ کارروائیاں اس بات کاثبوت ہیں کہ پاکستانی سیکیورٹی فورسزکسی بھی مہم جوئی کامنہ توڑ جواب دینے کی مکمل صلاحیت رکھتی ہیں پاکستان نے دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بناکر یہ واضح پیغام دے دیا کہ اب دہشتگردوں کی سرپرستی برداشت نہیں کی جائے گی۔

  • ترکیہ کا ایران امریکا عارضی جنگ بندی کا خیرمقدم

    ترکیہ کا ایران امریکا عارضی جنگ بندی کا خیرمقدم

    ترکیہ کی وزارتِ خارجہ نے خطے میں جاری جنگ کے حوالے سے اعلان کردہ عارضی جنگ بندی کا خیرمقدم کیا ہے۔

    سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ایکس’ پر جاری بیان میں کہا گیا کہ ترکیہ عارضی جنگ بندی کا خیرمقدم کرتا ہے اور اس کے مکمل نفاذ کی ضرورت پر زور دیتا ہے، جبکہ توقع ظاہر کی گئی ہے کہ تمام فریقین طے شدہ معاہدے کی پاسداری کریں گے،پائیدار امن کا راستہ صرف مذاکرات، سفارتکاری اور باہمی اعتماد کے ذریعے ہی ممکن ہے، اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات کی کامیاب تکمیل کے لیے ہر ممکن تعاون جاری رکھا جائے گا،پاکستان کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا گیا کہ امن کے قیام کے لیے کی جانے والی تمام کوششوں کا تسلسل برقرار رہنا چاہیے۔

    ادھر سعودی عرب کے ذرائع ابلاغ میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے جنگ بندی اور پاکستان کے وزیراعظم محمد شہباز شریف کی طرف سے امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی کے معاہدے تک پہنچنے کے اعلان کا خیرمقدم کیا گیا ہے۔

    سعودی میڈیا نے سعودی عرب کی وزارتِ خارجہ کے حوالے سے لکھا ہے کہ اس پیش رفت کو خطے میں کشیدگی کم کرنے کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا گیا ہے، جبکہ اس تناظر میں پاکستان کی قیادت، خصوصاً وزیراعظم اور آرمی چیف کی کوششوں کو سراہا گیا ہے جنہوں نے اس معاہدے تک پہنچنے میں کردار ادا کیا۔

    سعودی عرب پاکستان کی جانب سے جاری سفارتی اور ثالثی کوششوں کی مکمل حمایت کرتا ہے، جن کا مقصد ایک مستقل معاہدے تک پہنچنا ہے جو خطے میں امن واستحکام کو یقینی بنائے اور ان تمام عوامل کا حل فراہم کرے جو طویل عرصے سے عدم استحکام کا باعث بنتے رہے ہیں آبنائے ہرمز کو بین الاقوامی قانو ن، خصوصاً 1982 کے اقوامِ متحدہ کے قانونِ سمندر کے تحت، جہاز رانی کے لیے کھلا رکھا جانا چاہیے اور اس پر کسی قسم کی پابندی عائد نہیں ہونی چاہیے۔

    میڈیا رپورٹس کے مطابق امید کا اظہار کیا گیا کہ جنگ بندی ایک جامع اور پائیدار امن کی بنیاد بنے گی، جس کے نتیجے میں خطے میں سلامتی اور استحکام کو فروغ ملے گا اور ایسے تمام اقدامات کا خاتمہ ہوگا جو خطے کے ممالک کی خودمختاری، امن اور استحکام کو متاثر کرتے ہیں۔