Baaghi TV

Author: Ayesha Rehmani

  • تحفظات کے باوجود ایرانی وفد  آج رات اسلام آباد پہنچ رہا ہے،ایرانی سفیر

    تحفظات کے باوجود ایرانی وفد آج رات اسلام آباد پہنچ رہا ہے،ایرانی سفیر

    پاکستان میں ایران کے سفیر کا کہنا ہے کہ تحفظات کے باوجود ایرانی وفد مذاکرات کے لیے آج رات اسلام آباد پہنچ رہا ہے۔

    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری ایک بیان میں ایرانی سفیر رضا امیری مقدم کا کہنا ہے کہ اسرائیلی حکومت کی جانب سے سفارتی کوششوں کو سبو تاژ کرنے کے لیے جنگ بندی کی بار بار خلاف ورزیوں کی وجہ سے ایران میں مذاکرات کے حوالے سے شکوک و شبہات پائے جاتے ہیں، اسرائیلی ا قد ما ت کے کے باوجود وزیر اعظم شہباز شریف کی دعوت پر ایرانی وفد ایران کیجانب سے تجویز کردہ 10 نکاتی ایجنڈے پر سنجیدہ مذاکرات کے لیے آج رات اسلا م آباد پہنچ رہا ہے۔

    اس سے قبل گذشتہ رات وائٹ ہاؤس کی پریس سیکرٹری کیرولین لیویٹ نے بتایا تھا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی مذاکراتی ٹیم کو اسلام آباد بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے، صدر ٹرمپ کی اسلام آباد پہنچنے والی ٹیم میں نائب صدر جے ڈی وینس، ٹرمپ کے مشیر سٹیو وٹکوف اور ڈونلڈ ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر شامل ہوں گے۔

  • وائٹ ہاؤس نے ایران سے جنگ بندی کیلئے پاکستان پر سفارتی دباؤ ڈالا، برطانوی اخبار کا دعویٰ

    وائٹ ہاؤس نے ایران سے جنگ بندی کیلئے پاکستان پر سفارتی دباؤ ڈالا، برطانوی اخبار کا دعویٰ

    برطانوی اخبار کی ایک رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی سے قبل واشنگٹن نے پاکستان پر سفارتی دباؤ ڈالا تھا تاکہ تہران کو عارضی جنگ بندی پر آمادہ کیا جا سکے۔

    برطانوی اخبار فنانشل ٹائمز کے مطابق امریکی صدر ٹرمپ ایک جانب ایران کے خلاف سخت بیانات دیتے رہے اور یہ دعویٰ کرتے رہے کہ ایران معاہد ے کے لیے بے تاب ہے، جبکہ دوسری جانب ان کی انتظامیہ پس پردہ جنگ بندی کے لیے سرگرم تھی امریکا کئی ہفتوں سے پاکستان سے رابطے میں تھا اور اس پر دباؤ ڈال رہا تھا کہ وہ ایران کو قائل کرے تاکہ آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولا جا سکے اور خطے میں کشیدگی کم ہو۔

    رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان نے ایک اہم ثالث کے طور پر کردار ادا کیا، اور بطور مسلم اکثریتی ہمسایہ ملک ایران کو جنگ بندی پر آمادہ کرنے میں کامیا بی حاصل کی ذرائع کے مطابق فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی قیادت میں جاری بیک چینل سفارتکاری نے اہم پیشرفت ممکن بنائی یہ سفارتی کوششیں اس وقت کامیاب ہوئیں جب منگل کی رات امریکا، اسرائیل اور ایران کے درمیان دو ہفتوں کی جنگ بندی کا اعلان سامنے آیا، جسے خطے میں کشیدگی کم کر نے کی بڑی پیشرفت قرار دیا جا رہا ہے۔

    منگل کو ٹرمپ کی ڈیڈ لائن ختم ہونے کے ساتھ ہی،عاصم منیر نے ٹرمپ، نائب صدر جے ڈی وینس اور خصوصی ایلچی سٹیو وٹ کوف سمیت اعلیٰ امریکی حکام کو کال کرنے کا سلسلہ شروع کیا امریکہ اور پاکستان کا خیال تھا کہ اگر ایران ایک مسلم اکثریتی پڑوسی ریاست کی طرف سے پیش کیا جاتا ہے جس نے تنازعہ کے دوران اپنی غیرجانبداری پر زور دیا تھا تو ایران امریکہ کی حمایت یافتہ پیشکش کو قبول کر سکتا ہے۔

    منیر کی ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی سے گفتگو کے بعد وزیر اعظم شہباز شریف نے دو ہفتے کی تجویز کو سوشل میڈیا پر عام کیا شہباز شریف، جنہوں نے اس معاہدے کو پاکستان کی پہل قرار دیا، غلطی سے اپنی پوسٹ کے اوپری حصے میں ایک موضوع کی لکیر شامل کر دی: "مسودہ — پاکستانی وزیر اعظم کا پیغام X پر”-

    رپورٹ کے مطابق اس پیش رفت سے چند گھنٹے قبل صدر ٹرمپ نے ایران کو سخت دھمکیاں دی تھیں، جن میں تہذیب تباہ کرنے جیسے بیانات بھی شامل تھے تاہم پس پردہ وہ جنگ بندی کے خواہاں تھے، تیل کی قیمتوں میں اضافہ اور ایران کی غیر متوقع مزاحمت کے باعث ٹرمپ کم از کم 21 مارچ سے جنگ بندی کے حق میں تھے، جب انہوں نے ایران کے پاور پلانٹس کو نشانہ بنانے کی دھمکی دی تھی-

    ٹرمپ کی جانب سے آبنائے کو کھولنے کے لیے اپنا پہلا الٹی میٹم جاری کرنے کے فوراً بعد عاصم منیر اور دیگر سینئر پاکستانی حکام نے ایرانی سیاسی اور عسکر ی شخصیات اور وائٹ ہاؤس کے درمیان پیغامات بھیجنا شروع کر دیے۔

    انہوں نے اسلام آباد کو امن سربراہی اجلاس کے مقام کے طور پر پیش کیا، امریکہ کی طرف سے تیار کردہ 15 نکاتی تجویز اور پھر ایران کے پانچ اور 10 نکاتی ردعمل کا اشتراک کیا، اور 45 دن سے لے کر دو ہفتوں تک جنگ بندی کے آپشنز اٹھائے، دو علاقائی سفارت کاروں نے بتایا کہ دونوں فریق اپنے مطالبا ت میں بہت دور رہے، لیکن ایران، وقت گزرنے کے ساتھ، یورینیم کے اپنے ذخیرے کو کمزور کرنے اور اسے قبول کرنے کے لیے زیادہ موزوں ہو گیا-

    کئی ہفتوں کی امریکی اور اسرائیلی بمباری کے بعد، عراقچی اور تہران میں دیگر سیاسی رہنما اصولی طور پر ہرمز کے لیے عارضی جنگ بندی پر رضامند ہو گئے تھے، لیکن پاکستان کی زیر قیادت بیک چینل سے واقف دو لوگوں کے مطابق، وہ اسلامی انقلابی گارڈ کور سے حتمی منظوری حاصل کرنے کے لیے جدوجہد کر رہے تھے-

    تجزیہ کاروں کے مطابق یہ صورتحال اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ بظاہر سخت بیانات کے باوجود سفارتی سطح پر جنگ کو روکنے کی سنجیدہ کوششیں جاری تھیں، جن میں پاکستان کا کردار کلیدی رہا۔

  • شمالی کوریا نے کلسٹر بم وارہیڈ سے لیس بیلسٹک میزائل تیار کر لیا

    شمالی کوریا نے کلسٹر بم وارہیڈ سے لیس بیلسٹک میزائل تیار کر لیا

    شمالی کوریا نے جمعرات کو اعلان کیا ہے کہ رواں ہفتے کیے گئے ہتھیاروں کے تجربات میں مختلف نئے نظام شامل تھے، جن میں کلسٹر بم وارہیڈ سے لیس بیلسٹک میزائل بھی شامل ہیں۔

    شمالی کوریا کے سرکاری خبر رساں ادارے کوریئن سینٹرل نیوز ایجنسی کے مطابق یہ تجربات پیر سے شروع ہو کر تین روز تک جاری رہے، جن میں فضائی دفاعی ہتھیاروں، مبینہ برقی مقناطیسی (الیکٹرو میگنیٹک) نظاموں اور کاربن فائبر بموں کے مظاہرے بھی شامل تھے۔

    ایجنسی کے مطابق حالیہ تجربات میں جوہری صلاحیت کے حامل ہواسانگ-11 بیلسٹک میزائلوں پر نصب کلسٹر وارہیڈ سسٹمز کا بھی مظاہرہ کیا گیا، جو ڈیزائن کے لحاظ سے روس کے اسکینڈر میزائلوں سے مشابہ ہیں اور کم بلندی پر پرواز اور دفاعی نظاموں سے بچنے کی صلاحیت رکھتے ہیں ایسے وارہیڈ سے لیس یہ قلیل فاصلے تک مار کرنے والا میزائل 6.5 سے 7 ہیکٹر (16 سے 17.2 ایکڑ) کے رقبے کو انتہائی شدت کے ساتھ تباہ کر سکتا ہے تاہم جنوبی کوریا کی فوج نے ان دعوؤں پر فوری طور پر کوئی ردعمل نہیں دیا۔

    منگل کی شب جاری بیان میں شمالی کوریا کی وزارت خارجہ کے فرسٹ نائب وزیر جانگ کم چول نے کہا تھا کہ جنوبی کوریا ہمیشہ شمال کا سب سے بڑا دشمن ملک رہے گا، اور سیئول کی لبرل حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اس کے مذاکرات بحال کرنے کے اقدامات کو حیران کن حماقت قرار دیا۔

    کوریئن سینٹرل نیوز ایجنسی کی رپورٹ اس کے ایک دن بعد سامنے آئی جب جنوبی کوریا کی فوج نے بتایا تھا کہ اس نے مشرقی ساحلی علاقے سے دو دنوں میں دوسری بار متعدد میزائل داغے جانے کا سراغ لگایا جنوبی کوریا کے جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کے مطابق بدھ کو داغے گئے میزائل 240 سے 700 کلومیٹر تک پرواز کرنے کے بعد سمندر میں گرے، جبکہ منگل کو پیانگ یانگ کے قریب سے کم از کم ایک اور میزائل لانچ کیے جانے کا بھی پتہ چلا۔

    جاپان کی وزارت دفاع نے کہا کہ بدھ کو داغے گئے کسی بھی ہتھیار نے اس کے خصوصی اقتصادی زون کی حدود میں داخل نہیں ہوا، جبکہ امریکی فوج کے مطابق منگل اور بدھ کے روز شمالی کوریا کے یہ تجربات امریکا یا اس کے اتحادیوں کے لیے فوری خطرہ نہیں تھے۔

  • ایرانی وزیر خارجہ  کا لبنان میں جاری اسرائیلی حملوں پر شدید ردعمل

    ایرانی وزیر خارجہ کا لبنان میں جاری اسرائیلی حملوں پر شدید ردعمل

    ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے لبنان میں جاری اسرائیلی حملوں پر شدید ردعمل دیا ہے-

    عباس عراقچی نے کہا کہ عالمی برادری نہ صرف لبنان کی موجودہ صورتحال کا مشاہدہ کر رہی ہے بلکہ یہ بھی دیکھ رہی ہے کہ آیا امریکا اپنے وعدوں اور اعلانات پر قائم رہتا ہے یا نہیں،جنگ بندی کے بعد ایسے حملے اس کی سنجیدگی پر سوالیہ نشان ہیں۔

    ایرانی وزیر خارجہ نے پاکستان کے وزیراعظم شہباز کے جنگ بندی سے متعلق بیان کو بھی سوشل میڈیا پر شیئر کیا اور کہا کہ ایران اور امریکا کے درمیان طے شدہ جنگ بندی کی شرائط واضح اور دو ٹوک ہیں، اب فیصلہ امریکا کے ہاتھ میں ہے، گیند اب امریکا کے کورٹ میں ہے، اسے یہ طے کرنا ہوگا کہ وہ واقعی جنگ بندی چاہتا ہے یا اسرائیل کے ذریعے جنگ کو جاری رکھنا چاہتا ہے، کیونکہ دونوں چیزیں ایک ساتھ ممکن نہیں۔

    واضح رہے کہ ایران کے ساتھ جنگ بندی کے باوجود اسرائیل نے لبنان پر شدید اور بڑے پیمانے پر فضائی حملے جاری رکھے ہیں، جن کے نتیجے میں ہلاکتوں اور زخمیوں کی تعداد میں خطرناک اضافہ ہو گیا ہے،لبنان کی سول ڈیفنس اور وزارتِ صحت کے مطابق ملک بھر میں اسرائیلی حملوں میں اب تک کم از کم 254 افراد جاں بحق جبکہ 1100 سے زائد زخمی ہو چکے ہیں حکام کا کہنا ہے کہ امدادی کارروائیاں جاری ہیں اور ملبے تلے مزید افراد کے دبے ہونے کے باعث اموات میں اضافے کا خدشہ ہے۔

    اعداد و شمار کے مطابق دارالحکومت بیروت میں سب سے زیادہ جانی نقصان ہوا، جہاں 92 افراد جاں بحق اور 742 زخمی ہوئے، جبکہ بیروت کے جنوبی مضافاتی علاقوں میں 61 افراد جاں بحق اور 200 زخمی ہوئے اس کے علاوہ بعلبک میں 18، ہرمیل میں 9، نبیطہ میں 28، سدون میں 12 اور طیر میں 17 افراد جاں بحق ہونے کی اطلاعات ہیں۔

  • اسلام آباد میں امریکا ایران مذاکرات، ٹریفک  پلان جاری

    اسلام آباد میں امریکا ایران مذاکرات، ٹریفک پلان جاری

    اسلام آباد میں امریکا اور ایران کے درمیان اہم مذاکرات کے پیش نظرٹریفک کا خصوصی ڈائیورژن پلان جاری کر دیا گیا ہے-

    اسلام آباد ٹریفک پولیس کے مطابق 9 اور 10 اپریل کو مختلف شاہراہوں پر سیکیورٹی اور سفارتی سرگرمیوں کے باعث ٹریفک میں تبدیلیاں کی گئی ہیں سرینا چوک سے نادرا چوک جانے والے حضرات چیک پوسٹ روڈ استعمال کریں جبکہ خیابان سہروردی اور 9th ایونیو پر بھی مخصوص اوقات میں ڈائیورژن ہوگا۔

    اسی طرح جی-6، جی-5 اور ایف-6 کے اطراف آنے جانے والے شہریوں کو متبادل راستے اختیار کرنے کی ہدایت کی گئی ہے، جبکہ فیصل ایونیو، 9th ایونیو اور مری روڈ پر بھی ٹریفک کی جزوی بندش یا تبدیلی متوقع ہے ریڈ زون میں داخلے کے لیے خصوصی چیکنگ کے باعث تاخیر کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔

    ٹریفک پولیس کا کہنا ہے کہ شہری بروقت معلومات کے لیے ایف ایم 92.4 اور سوشل میڈیا اپڈیٹس سے رہنمائی حاصل کریں، جبکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں ہیلپ لائن سے رابطہ کیا جا سکتا ہے انتظامیہ نے شہریوں سے تعاون کی اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ اقدامات سکیورٹی اور نظم و ضبط برقرار رکھنے کے لیے کیے گئے ہیں، غیر ضروری سفر سے گریز کریں اور متبادل راستے استعمال کریں۔

  • اسرائیل کی لبنان پر کارروائیاں ،پاکستان اور سعوی عرب کی شدید مذمت

    اسرائیل کی لبنان پر کارروائیاں ،پاکستان اور سعوی عرب کی شدید مذمت

    پاکستان نے لبنان کے خلاف اسرائیلی جارحیت کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اسے بین الاقوامی قوانین اور انسانی اصولوں کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔

    ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق، اسرائیلی کارروائیوں کے نتیجے میں معصوم جانوں کا ضیاع اور بنیادی ڈھانچے کی بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی ہے، جو خطے میں امن و استحکام کے لیے جاری عالمی کوششوں کو نقصان پہنچا رہی ہے پاکستان نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ لبنان کے خلاف اسرائیلی جارحیت کے خاتمے کے لیے فوری اور ٹھوس اقدامات کرے،پاکستان اس مشکل گھڑی میں لبنان کی حکومت اور عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتا ہے اور لبنان کی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور امن و استحکام کی بھرپور حمایت جاری رکھے گا۔

    علاوہ ازیں اسلام آباد میں پاکستان کے ڈپٹی پرائم منسٹر اور وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے سعودی عرب کے وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان سے گزشتہ شب فون پر بات چیت کی، جس میں خطے میں موجودہ کشیدہ صورتحال اور لبنان میں جنگ بندی کی خلاف ورزیوں پر تشویش کا اظہار کیا گیا۔

    دونوں رہنماؤں نے زور دیا کہ پائیدار امن اور استحکام کے لیے جنگ بندی کا مکمل احترام اور نفاذ ضروری ہے، اسحاق ڈار نے سعودی عرب کی پاکستان کی امن کی کوششوں میں مسلسل تعاون کی قدر دانی کی، جبکہ دونوں نے قریبی رابطے اور تعاون جاری رکھنے پر اتفاق کیا، یہ بات چیت اسلام آباد میں جاری سفارتی کوششوں کے تناظر میں اہم قرار دی گئی ہے۔

    ایران کے ساتھ جنگ بندی کے باوجود اسرائیل نے لبنان پر شدید اور بڑے پیمانے پر فضائی حملے جاری رکھے ہیں، جن کے نتیجے میں ہلاکتوں اور زخمیوں کی تعداد میں خطرناک اضافہ ہو گیا ہے،لبنان کی سول ڈیفنس اور وزارتِ صحت کے مطابق ملک بھر میں اسرائیلی حملوں میں اب تک کم از کم 254 افراد جاں بحق جبکہ 1100 سے زائد زخمی ہو چکے ہیں حکام کا کہنا ہے کہ امدادی کارروائیاں جاری ہیں اور ملبے تلے مزید افراد کے دبے ہونے کے باعث اموات میں اضافے کا خدشہ ہے۔

    اعداد و شمار کے مطابق دارالحکومت بیروت میں سب سے زیادہ جانی نقصان ہوا، جہاں 92 افراد جاں بحق اور 742 زخمی ہوئے، جبکہ بیروت کے جنوبی مضافاتی علاقوں میں 61 افراد جاں بحق اور 200 زخمی ہوئے اس کے علاوہ بعلبک میں 18، ہرمیل میں 9، نبیطہ میں 28، سدون میں 12 اور طیر میں 17 افراد جاں بحق ہونے کی اطلاعات ہیں۔

    لبنانی وزارت صحت کے مطابق صرف ایک دن کے دوران ہونے والے حملوں میں 112 افراد جاں بحق اور 800 سے زائد زخمی ہوئے، جس کے بعد اسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے اور عوام سے خون کے عطیات دینے کی اپیل کی گئی ہے، بیروت میں مسلسل دھماکوں سے شہر گونج اٹھا جبکہ مختلف علاقوں سے دھوئیں کے بادل بلند ہوتے دیکھے گئے، جس سے صورتحال انتہائی کشیدہ ہو گئی ہے۔

    دوسری جانب اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ یہ کارروائیاں جنگ کے دوران اب تک کی سب سے بڑی اور مربوط مہم کا حصہ ہیں، جن میں لبنان کے مختلف علاقوں بشمول وادی بقاع اور جنوبی لبنان میں 100 سے زائد اہداف کو نشانہ بنایا گیا، جن میں حزب اللہ کے کمانڈ سینٹرز اور دیگر عسکری تنصیبات شامل ہیں۔

    اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے واضح کیا ہے کہ ایران کے ساتھ ہونے والی جنگ بندی لبنان پر لاگو نہیں ہوتی، جبکہ وزیر دفاع اسرائیل کاٹز کا کہنا ہے کہ ان حملوں میں حزب اللہ کو بھاری نقصان پہنچایا گیا ہے۔

  • ٹرمپ کا پاکستان کو ایران جنگ کے خاتمے میں کردار دینے کا ذکر حیران کن ہے،ششی تھرور

    ٹرمپ کا پاکستان کو ایران جنگ کے خاتمے میں کردار دینے کا ذکر حیران کن ہے،ششی تھرور

    بھارت کے معروف سیاستدان اور سابق سفارتکار ششی تھرور نے امریکا اور ایران کے درمیان حالیہ جنگ بندی میں پاکستان کے کردار کو تسلیم کرتے ہوئے اسے اہم سفارتی کامیابی قرار دیا ہے۔

    انڈیا ٹو ڈے کو دیے گئے انٹرویو میں ششی تھرور نے کہا کہ عالمی سطح پر بدلتی صورتحال میں پاکستان ایک مؤثر کردار ادا کر رہا ہے جبکہ بھارت سفارتی میدان میں پیچھے رہتا دکھائی دے رہا ہے، سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیان میں پاکستان کو ایران جنگ کے خاتمے میں کردار دینے کا ذکر حیران کن ہے اور یہ بھارت کے لیے ایک اسٹریٹجک ناکامی کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ پاکستان خود کو عالمی سطح پر ایک استحکام فراہم کرنے والے ملک کے طور پر پیش کر رہا ہے جبکہ بھارت اپنی سفارتی حیثیت کھو رہا ہے، بھار ت میں اس وقت سنجیدہ عالمی معاملات کے بجائے غیر اہم موضوعات پر توجہ دی جا رہی ہے، جو کہ ایک تشویشناک رجحان ہے بدلتی عالمی صورتحال میں خاموش رہنا دانشمندی نہیں بلکہ اندھی وفاداری کے مترادف ہے، اور اب وقت آ گیا ہے کہ بھارت اپنی خارجہ پالیسی پر سنجیدگی سے نظرثانی کرے،عالمی نظام تیزی سے تبدیل ہو رہا ہے اور اگر بھارت نے بروقت اقدامات نہ کیے تو اسے سفارتی سطح پر مزید نقصان اٹھانا پڑ سکتا ہے۔

  • مذاکرات: امریکی اور ایرانی وفود آج اسلام آباد پہنچیں گے

    مذاکرات: امریکی اور ایرانی وفود آج اسلام آباد پہنچیں گے

    امریکی نائب صدر جے ڈی وینس آج رات پاکستان پہنچیں گے۔

    ذرائع کا بتانا ہے کہ امریکی نائب صدر کے ہمراہ اسٹیو وٹکوف اور جیریڈ کشنر بھی ایرانی وفد سے مذاکرات کے لیے آج اسلام آباد پہنچیں گے ،امر یکی وفد میں معاونت کے لیے شامل 23 ارکان پہلے ہی اسلام آباد پہنچ چکے ہیں، وفد کے ارکان میں سکیورٹی ماہرین اور ٹیم کے ارکان بھی شامل ہیں جبکہ ایران کے اسپیکر محمد باقر قالیباف اور وزیر خارجہ عباس عراقچی بھی آج رات گئے اسلام آباد پہنچیں گے۔

    اس سے قبل وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیوٹ نے کہا تھا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے ساتھ مذاکرات کے لیے اپنی مذاکراتی ٹیم اسلام آباد بھیج رہے ہیں، مذاکراتی ٹیم میں جے ڈی وینس، اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر شامل ہوں گے، مذاکراتی ٹیم ہفتے کی صبح اسلام آباد میں بات چیت کرے گی۔

    دوسری جانب ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے ٹیلیفونک گفتگو میں پاکستانی وزیراعظم کو آگاہ کیا ہےکہ ایران کا وفد مذاکرات کے لیے اسلام آباد آئے گا۔

  • برطانوی وزیراعظم کی  محمد بن سلمان سے اہم ملاقات

    برطانوی وزیراعظم کی محمد بن سلمان سے اہم ملاقات

    ریاض : برطانوی وزیراعظم کیئر اسٹارمر کا دورہ سعودی عرب، ولی عہد و وزیراعظم محمد بن سلمان سے اہم ملاقات ہوئی۔

    ملاقات کے دوران دونوں رہنماؤں نے دوطرفہ تعلقات کو مزید مستحکم بنانے، اقتصادی تعاون، سرمایہ کاری کے مواقع اور باہمی دلچسپی کے دیگر امور پر تبادلہ خیال کیا اس موقع پر خطے کی مجموعی صورتحال اور درپیش چیلنجز پر بھی تفصیلی گفتگو ہوئی۔

    ذرائع کے مطابق دونوں رہنماؤں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ باہمی روابط کو مزید فروغ دیا جائے گا اور مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے کے لیے مشترکہ کوششیں جاری رکھی جائیں گی۔

  • پاکستان نے ہمیشہ اپنی تاریخ میں مثبت سفارت کاری کو ترجیح دی ہے،رضوان سعید شیخ

    پاکستان نے ہمیشہ اپنی تاریخ میں مثبت سفارت کاری کو ترجیح دی ہے،رضوان سعید شیخ

    امریکہ میں پاکستان کے سفیر رضوان سعید شیخ نے کہا ہے کہ پاکستان نے ہمیشہ اپنی تاریخ میں مثبت سفارت کاری کو ترجیح دی ہے-

    امریکی نشریاتی ادارے سی این این کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان حالیہ جنگ بندی کے پیچھے پاکستان کی سفارتی کو ششیں اہم کردار ادا کرتی ہیں جو گزشتہ کئی ہفتوں سے جاری تھیں اور بالآخر کامیاب جنگ بندی اور مذاکرات کے اعلان پر منتج ہوئیں، یہ پیشرفت سفارت کا ری اور مکالمے کی فتح ہے اور پاکستان نے ہمیشہ اپنی تاریخ میں مثبت سفارت کاری کو ترجیح دی ہے پاکستان پر تمام فریقین کے اعتما د پر وہ شکر گزار ہیں۔

    انہوں نے مزید بتایا کہ سفارتی عمل کو کامیاب بنانے میں متعدد ممالک نے بھی اہم کردار ادا کیا، جن میں سعودی عرب، ترکیہ، مصر، قطر، چین اور دیگر ممالک شامل ہیں، ان تمام ممالک کی مشترکہ کوششوں سے نہ صرف جنگ بندی ممکن ہوئی بلکہ مذاکرات کا راستہ بھی کھلا، چین نے ابتدا سے ہی فریقین کو تحمل اور سفارت کاری اختیار کرنے پر زور دیا،جبکہ پاکستان کی اعلیٰ قیادت نے اس پورے سفارتی عمل میں براہ راست کردار ادا کیا۔

    انہوں نے واضح کیا کہ مذاکراتی عمل کی کامیابی راز داری اور باہمی اعتماد کی متقاضی ہے، اور بغیر کسی دباؤ کے ہی اس کے فیصلہ کن ہونے کے امکانات زیادہ ہیں،فیصلوں کا اختیار متعلقہ فریقین کے پاس ہے جبکہ پاکستان صرف ایک سہولت کار کے طور پر خلوص نیت سے اپنی ذمہ داریاں ادا کر رہا ہے۔

    پاکستانی سفیر نے کہا کہ پاکستان کے خلیجی ممالک کے ساتھ دیرینہ اور مضبوط تعلقات ہیں، اور خلیجی ریاستوں میں تقریباً55 لاکھ پاکستانی مقیم ہیں، اس پورے سفارتی عمل کے دوران خلیجی ممالک کی قیادت کے ساتھ مسلسل مشاورت جاری رہی امید ہے کہ پاکستان کی یہ مخلصانہ اور سفارتی کوششیں مثبت نتائج دے گی اور خطے میں امن و استحکام نہ صرف خلیج بلکہ عالمی سیاست اور معیشت پر بھی مثبت اثرات مرتب کرے گا۔