Baaghi TV

Author: Ayesha Rehmani

  • جو بائیڈن نے کورونا سے متعلق خفیہ معلومات جاری کرنے کے قانون پر دستخط کر دیئے

    جو بائیڈن نے کورونا سے متعلق خفیہ معلومات جاری کرنے کے قانون پر دستخط کر دیئے

    کورونا کی ابتدا کہاں سےہوئی؟ امریکی صدرجوبائیڈن نے امریکی انٹیلی جنس کی خفیہ معلومات جاری کرنے کے قانون پر دستخط کر دیئے-

    باغی ٹی وی : غیر ملکی خبررساں ادارے "اے پی” کے مطابق امریکی صدر جوبائیڈن کا کہنا ہے کہ وہ اس قانون پر دستخط کرنے پر خوش ہیں ہمیں تہہ تک جانے کی ضرورت ہے کہ کووڈ 19 کی ابتدا کہاں سے ہوئی، جس میں ووہان انسٹی ٹیوٹ آف وائرولوجی کے ممکنہ روابط بھی شامل ہیں۔

    بل کو ایوان اور سینیٹ دونوں سے اختلاف رائے کے بغیر منظور کیا، نیشنل انٹیلی جنس کے ڈائریکٹر کے دفتر کو ہدایت کی کہ وہ چین کے ووہان انسٹی ٹیوٹ آف وائرولوجی سے متعلق انٹیلی جنس کو ظاہر کرے۔ اس میں وہاں کی گئی تحقیق اورکوویڈ 19 کے پھیلنے کے درمیان "ممکنہ روابط” کا حوالہ دیا گیا ہےجسے عالمی ادارہ صحت نے 11 مارچ 2020 کو وبائی مرض قرار دیا تھا۔

    بائیڈن نے کہا کہ 2021 میں عہدہ سنبھالنے کے بعد انہوں نے انٹیلی جنس کمیونٹی کو ہدایت کی تھی کہ وہ تحقیقات کے لیے اپنے اختیار میں موجود ہر ٹول استعمال کرے یہ کام اب بھی جاری ہے، قومی سلامتی کو نقصان پہنچا ئے بغیر جس قدر ممکن ہے معلومات جاری کی جا ئے گی ۔

    امریکی انٹیلی جنس ایجنسیاں اس بات پر منقسم ہیں کہ آیا لیب کا رساؤ یا جانوروں سے پھیلنا مہلک وائرس کا ممکنہ ذریعہ ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ کورونا وائرس وبائی مرض کی اصل اصلیت، جس نے امریکہ میں 1.1 ملین سے زیادہ اور پوری دنیا میں لاکھوں افراد کو ہلاک کیا ہے، شاید کئی سالوں تک معلوم نہ ہوسکے –

    واضح رہے کہ کورونا وبا سے دنیا بھر میں 70لاکھ سے زائد افراد ہلاک ہوئے تھے،وال اسٹریٹ جرنل نے لکھا تھاکہ امریکی محکمہ توانائی کی جانب سے وائٹ ہاؤس اور کانگریس کے اہم ارکان کو پیش کردہ رپورٹ کےمطابق کورونا وائرس ممکنہ طورپر چین کی کسی لیب سے غلطی سے لیک ہوا تھا۔

    قومی سلامتی کے مشیر جیک سلیوان نے کہا تھا کہ اس معاملے پر انٹیلی جنس کمیونٹی میں مختلف آراء ہیں، لیکن اس بات کو یقینی بنانے کے لیے مطلوبہ حد تک معلومات نہیں ہیں۔

  • اسلا م آباد سمیت ملک کےمختلف شہروں میں بارش کا امکان

    اسلا م آباد سمیت ملک کےمختلف شہروں میں بارش کا امکان

    محکمہ موسمیات کے مطابق اسلا م آباد سمیت ملک کےمختلف شہروں میں بارش کا امکان ہے-

    باغی ٹی وی: محکمہ موسمیات کے مطابق بارش برسانے والا نیا سسٹم آج سے ملک میں داخل ہو گا جو کل تک ملک کے بیشتر علاقوں کو اپنی لپیٹ میں لے لے گا آج سے جمعہ کے روز تک اسلام آباد ،سندھ ، پنجاب، بلوچستان ،خیبر پختو نخوا،کشمیر اور گلگت بلتستان کے اکثر علاقوں میں تیزبارش کا امکان ہے ۔

    محکمہ موسمیات کےمطابق اسلام آبادمیں گرج چمک کےساتھ مزید بارش کا امکان ہے،خیبرپختونخوابالائی پنجاب اوربلوچستان میں بارش متوقع ہے، آزادکشمیراورگلگت بلتستان میں بھی بارش کاامکان ہے،پنجگور،کیچ،گوادر،پسنی،جیوانی،لسبیلہ اوردالبندین میں بارش متوقع ہے،قلات،خضدار،تربت،آواران اور مکران میں بارش کا امکان ہے-

    محکمہ موسمیات کے مطابق مری،گلیات،خطہ پوٹھوہار،گوجرانوالہ اورمنڈی بہاؤالدین میں بارش متوقع ہے،ٹوبہ ٹیک سنگھ، فیصل آباد،جھنگ،خوشاب،بہاولنگراورقصورمیں کاامکان ہے، ڈیرہ اسماعیل خان اور بنوں میں تیز ہواؤں اور گرج چمک کے ساتھ بارش کا امکان ہے-

    محکمہ موسمیات کےمطابق اوکاڑہ،شیخوپورہ،حافظ آباد،لاہور،قصور،گجرات اور نارووال میں بھی بارش متوقع جبکہ سیالکوٹ،میانوالی اورسرگودھا میں چند مقامات پر بارش کاامکان ہے سوات،دیر،مالاکنڈ، مانسہرہ،ایبٹ آباد ،بالاکوٹ میں بار ش کا امکان ہے کوہاٹ،کوہستان،پشاور،مردان،کرم،وزیرستان میں بھی تیزہواوں کےساتھ بارش متوقع ہے –

    محکمہ موسمیات کے مطابق رواں ہفتے کے دوران ملک میں مزید بارشوں کا امکان ہے۔

  • بھارتی معروف گلوکارہ  الکا یاگنک

    بھارتی معروف گلوکارہ الکا یاگنک

    تم آئے تو آیا مجھے یاد گلی میں آج چاند نکلا

    گلوکارہ الکا یاگنک

    آغا نیاز مگسی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    ہندوستان کی معروف گلوکارہ الکا یاگنک 23 مارچ 1966 میں کلکتہ میں پیدا ہوئیں ۔ ان کی ماں شوبھا یاگنک ایک کلاسیکل گلوکارہ تھی اسی وجہ سے الکا کو بچپن میں ہی گھر میں موسیقی کا ماحول ملا جس سے متاثر ہو کر انہوں نے 6 سال کی عمر میں ہی آل انڈیا ریڈیو کے آکاشوانی اسٹیشن سے چائلڈ اسٹار کے طور پر اپنے فنی سفر کا آغاز کر دیا ۔ ان کی ماں نے ان کی بھرپور فنی تربیت کی یہی وجہ ہے کہ وہ ایک کامیاب گلوکارہ بن گئیں ۔

    الکا نے پہلا فلمی گیت 14 سال کی عمر میں 1980 میں فلم پائل کی جھنکار کیلئے گایا جبکہ 1988 میں فلم تیزاب کیلئے انہوں نے ” ایک دو تین ” گانا گایا جس سے ان کو بڑی شہرت حاصل ہوئی جس کیلئے ان کو فیمیل پلے بیک سنگر نیشنل فلم ایوارڈ دیا گیا ۔ الکا یاگنک اب تک 7 فلم فیئر ایوارڈز اور دو نیشنل فلم فیئر ایوارڈز حاصل کر چکی ہیں ۔

    الکا یاگنک کو 2019 میں ایک بیٹی پیدا ہوئی جس کا نام سشیشما کپورہےشادی کے بعد 8 سال بعد میاں بیوی کے درمیان کچھ عرصے کیلئے علیحدگی ہو گئی لیکن بعدازں دونوں کے درمیان صلح اور ہم آہنگی پیدا ہو گئی۔ گینز بک آف ورلڈ ریکارڈ کے مطابق الکا یاگنک 2022 دنیا میں یوٹیوب پر عالمی سطح پر سب سے زیادہ سنی گئی۔

    ٹائمز آف انڈیا نے الکا یاگنک کوشہد کی آواز کی گلوکارہ Honey Vioce Singer جبکہ ہندوستان ٹائمز نے انہیں جادوئی آواز کی گلوکارہ Magical Vioced Singer کے خطاب سے نوازا ہے۔ الکا یاگنک مہدی حسن کی بہت بڑی مداح ہیں ان کا کہنا ہے کہ مہدی حسن بیت بڑے گلوکار تھے میں ان کی غزلیں سن کر بڑی ہوئی ہوں۔

    الکا یاگنک کی آواز میں گائے گئے چند گیتوں کے بول

    تم آئے تو آیا مجھے یاد گلی میں آج چاند نکلا

    یہ دعا ہے میری رب سے تجھے دوستوں میں سب سے میری دوستی پسندآئے

    تم سے بڑھ کر دنیا میں نہ دیکھا کوئی

  • اردو کے ممتاز شاعر افتخار حسین عارف

    اردو کے ممتاز شاعر افتخار حسین عارف

    مرے خدا مجھے اتنا تو معتبر کر دے
    میں جس مکان میں رہتا ہوں اس کو گھر کر دے

    افتخارحسین عارف پاکستان سے تعلق رکھنے والے اردو کے ممتاز شاعر، سابق صدر نشین مقتدرہ قومی زبان، سابق چیئرمین اکادمی ادبیات پاکستان، سابق سربراہ اردو مرکز لندن،تہران میں ایکو (ECO) کے ثقافی ادارے کے سربراہ رہ چکے ہیں اوراس وقت مقتدرہ قومی زبان کے چیرمین کے عہدہ پر فائز ہیں۔

    سوانح
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    افتخار عارف کی اصل تاریخ پیدائش 21 مارچ 1944ء ہے جبکہ کاغذات میں 1943ء درج ہے سو اسی نسبت سے آپ کے بارے لکھا جاتا ہے کہ آپ 21 مارچ، 1943ء کو لکھنؤ میں پیدا ہوئے۔ قیام پاکستان کے بعد ان کا خاندان کراچی منتقل ہوگیا۔ لکھنؤ یونیورسٹی سے ایم۔ اے کیا۔ اپنی علمی زندگی کا آغاز ریڈیو پاکستان میں بحیثیت نیوز کاسٹر کیا۔ پھر پی ٹی وی سے منسلک ہو گئے۔ اس دور میں ان کا پروگرام کسوٹی بہت زیادہ مقبول ہوا۔

    بی سی سی آئی بینک کے تعاون سے چلنے والے ادارے "اردو مرکز” کو جوائن کرنے کے بعد آپ انگلینڈ تشریف لے گئے۔ انگلینڈ سے واپس آنے کے بعد مقتدرہ قومی زبان کے چیرمین بنے۔ اس کے بعد اکادمی ادبیات کے چیرمین کی حیثیت سے خدمات سر انجام دیتے رہے۔ جبکہ نومبر 2008ء سے مقتدرہ قومی زبان کے چیرمین کی حیثیت سے خدمات سر انجام دینے کے بعد آج کل اسلامی جمہوریہ ایران کے دار الحکومت تہران میں ایکو تنظیم کے ثقافتی شعبے کو سبنھالے ہوئے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی ایران میں ہونی والی ادبی اور علمی محفلوں کے ساتھ ساتھ مشاعروں میں افتخارعارف صاحب کی شرکت تقریبا ایک لازمی امر بن گئی ہے۔

    شاعری
    ۔۔۔۔۔۔
    افتخار عارف کا اپنی نسل کے شعرا میں سنجیدہ ترین شاعر ہیں۔ وہ اپنے مواد اور فن دونوں میں ایک ایسی پختگی کا اظہار کرتے ہیں جو دوسروں میں نایاب نہیں تو کمیاب ضرور ہے۔ وہ عام شعراءکی طرح تجربہ کے کسی جزوی اظہار پر قناعت نہیں کرتے بلکہ اپنا پورا تجربہ لکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اور اس کی نزاکتوں اور پیچیدگیوں کے ساتھ اسے سمیٹتے ہیں۔

    اپنے مواد پر ان کی گرفت حیرت انگیز حد تک مضبوط ہے اور یہ سب باتیں مل کر ظاہر کرتی ہیں کہ افتخار عارف کی شاعری ایک ایسے شخص کی شاعری ہے جو سوچنا، محسوس کرنا اور بولنا جانتا ہے جب کہ اس کے ہمعصروں میں بیشتر کا المیہ یہ ہے کہ یا تو وہ سوچ نہیں سکتے یا وہ محسوس نہیں کر سکتے اورسوچ اور احساس سے کام لے سکتے ہیں تو بولنے کی قدرت نہیں رکھتے۔ ان کی ان خصوصیات کی بنا پر جب میں ان کے کلام کو ہم دیکھتے ہیں تو یہ احساس کیے بغیر نہیں رہ سکتے کہ افتخار عارف کی آواز جدید اردو شاعری کی ایک بہت زندہ اور توانا آواز ہے۔ ایک ایسی آواز جو ہمارے دل و دماغ دونوں کو بیک وقت اپنی طرف کھینچتی ہے اور ہمیں ایک ایسی آسودگی بخشتی ہے جو عارف کے سوا شاید ہی کسی ایک آدھ شاعر میں مل سکے۔

    شعری مجموعے
    ۔۔۔۔۔۔۔
    ۔ (1)بارہواں کھلاڑی
    ۔ (2)مہر دو نیم
    ۔ (3)حرفِ باریاب
    ۔ (4)جہان معلوم
    ۔ (5)شہر علم کے دروازے پر
    ۔ (6)کتاب دل و دنیا کلیات
    ۔ (7)Writen in the
    ۔ Season of Fear
    ۔ (8)مکالمہ
    ۔ (9)در کلوندہ
    ۔ (10)افتخار عارف جی نظمن جو سندھی ترجمو

    اہم اعزازات:
    ۔۔۔۔۔۔ Faiz International Award 1988
    ۔۔۔۔۔۔ Waseeqa-e-eEtraaf 1994
    ۔۔۔۔۔۔ Baba-e-Urdu Award 1995
    ۔۔۔۔۔۔ Naqoosh Award 1994
    ۔۔۔۔۔۔ تمغا حسن کارکردگی1989
    ۔۔۔۔۔۔ ستارۂ امتیاز1999
    ۔۔۔۔۔۔ ہلال امتیاز2005

    منتخب اشعار
    ۔۔۔۔۔۔
    خواب کی طرح بکھر جانے کو جی چاہتا ہے
    ایسی تنہائی کہ مر جانے کو جی چاہتا ہے

    دل پاگل ہے روز نئی نادانی کرتا ہے
    آگ میں آگ ملاتا ہے پھر پانی کرتا ہے

    خود کو بکھرتے دیکھتے ہیں کچھ کر نہیں پاتے ہیں
    پھر بھی لوگ خداؤں جیسی باتیں کرتے ہیں

    تم سے بچھڑ کر زندہ ہیں
    جان بہت شرمندہ ہیں

    مرے خدا مجھے اتنا تو معتبر کر دے
    میں جس مکان میں رہتا ہوں اس کو گھر کر دے

    دعا کو ہات اٹھاتے ہوئے لرزتا ہوں
    کبھی دعا نہیں مانگی تھی ماں کے ہوتے ہوئے

    بیٹیاں باپ کی آنکھوں میں چھپے خواب کو پہچانتی ہیں
    اور کوئی دوسرا اس خواب کو پڑھ لے تو برا مانتی ہیں

    ایک چراغ اور ایک کتاب اور ایک امید اثاثہ
    اس کے بعد تو جو کچھ ہے وہ سب افسانہ ہے

    گھر کی وحشت سے لرزتا ہوں مگر جانے کیوں
    شام ہوتی ہے تو گھر جانے کو جی چاہتا ہے

    کریں تو کس سے کریں نا رسائیوں کا گلہ
    سفر تمام ہوا ہم سفر نہیں آیا

    دعائیں یاد کرا دی گئی تھیں بچپن میں
    سو زخم کھاتے رہے اور دعا دئیے گئے ہم

    بہت مشکل زمانوں میں بھی ہم اہل محبت
    وفا پر عشق کی بنیاد رکھنا چاہتے ہیں

    وفا کی خیر مناتا ہوں بے وفائی میں بھی
    میں اس کی قید میں ہوں قید سے رہائی میں بھی

    وہ کیا منزل جہاں سے راستے آگے نکل جائیں
    سو اب پھر اک سفر کا سلسلہ کرنا پڑے گا

    امید و بیم کے محور سے ہٹ کے دیکھتے ہیں
    ذرا سی دیر کو دنیا سے کٹ کے دیکھتے ہیں

    وہ ہم نہیں تھے تو پھر کون تھا سر بازار
    جو کہہ رہا تھا کہ بکنا ہمیں گوارا نہیں

    راس آنے لگی دنیا تو کہا دل نے کہ جا
    اب تجھے درد کی دولت نہیں ملنے والی

    زمانہ ہو گیا خود سے مجھے لڑتے جھگڑتے
    میں اپنے آپ سے اب صلح کرنا چاہتا ہوں

    میں زندگی کی دعا مانگنے لگا ہوں بہت
    جو ہو سکے تو دعاؤں کو بے اثر کر دے

    دنیا بدل رہی ہے زمانہ کے ساتھ ساتھ
    اب روز روز دیکھنے والا کہاں سے لائیں

    مٹی کی محبت میں ہم آشفتہ سروں نے
    وہ قرض اتارے ہیں کہ واجب بھی نہیں تھے

    وہی چراغ بجھا جس کی لو قیامت تھی
    اسی پہ ضرب پڑی جو شجر پرانا تھا

    ہوا ہے یوں بھی کہ اک عمر اپنے گھر نہ گئے
    یہ جانتے تھے کوئی راہ دیکھتا ہوگا

    گھر سے نکلے ہوئے بیٹوں کا مقدر معلوم
    ماں کے قدموں میں بھی جنت نہیں ملنے والی

    ہم اپنے رفتگاں کو یاد رکھنا چاہتے ہیں
    دلوں کو درد سے آباد رکھنا چاہتے ہیں

    میں چپ رہا کہ وضاحت سے بات بڑھ جاتی
    ہزار شیوۂ حسن بیاں کے ہوتے ہوئے

    جواب آئے نہ آئے سوال اٹھا تو سہی
    پھر اس سوال میں پہلو نئے سوال کے رکھ

    بلند ہاتھوں میں زنجیر ڈال دیتے ہیں
    عجیب رسم چلی ہے دعا نہ مانگے کوئی

    کوئی تو پھول کھلائے دعا کے لہجے میں
    عجب طرح کی گھٹن ہے ہوا کے لہجے میں

    در و دیوار اتنے اجنبی کیوں لگ رہے ہیں
    خود اپنے گھر میں آخر اتنا ڈر کیوں لگ رہا ہے

    سمجھ رہے ہیں مگر بولنے کا یارا نہیں
    جو ہم سے مل کے بچھڑ جائے وہ ہمارا نہیں

    دل کبھی خواب کے پیچھے کبھی دنیا کی طرف
    ایک نے اجر دیا ایک نے اجرت نہیں دی

    یہ معجزہ بھی کسی کی دعا کا لگتا ہے
    یہ شہر اب بھی اسی بے وفا کا لگتا ہے

    سمندروں کو بھی حیرت ہوئی کہ ڈوبتے وقت
    کسی کو ہم نے مدد کے لیے پکارا نہیں

    اک خواب ہی تو تھا جو فراموش ہو گیا
    اک یاد ہی تو تھی جو بھلا دی گئی تو کیا

    ہم بھی اک شام بہت الجھے ہوئے تھے خود میں
    ایک شام اس کو بھی حالات نے مہلت نہیں دی

    عذاب یہ بھی کسی اور پر نہیں آیا
    کہ ایک عمر چلے اور گھر نہیں آیا

    رند مسجد میں گئے تو انگلیاں اٹھنے لگیں
    کھل اٹھے میکش کبھی زاہد جو ان میں آ گئے

    خاک میں دولت پندار و انا ملتی ہے
    اپنی مٹی سے بچھڑنے کی سزا ملتی ہے

    عجب طرح کا ہے موسم کہ خاک اڑتی ہے
    وہ دن بھی تھے کہ کھلے تھے گلاب آنکھوں میں

    غم جہاں کو شرمسار کرنے والے کیا ہوئے
    وہ ساری عمر انتظار کرنے والے کیا ہوئے

    روش میں گردش سیارگاں سے اچھی ہے
    زمیں کہیں کی بھی ہو آسماں سے اچھی ہے

    یہ وقت کس کی رعونت پہ خاک ڈال گیا
    یہ کون بول رہا تھا خدا کے لہجے میں

    شکم کی آگ لیے پھر رہی ہے شہر بہ شہر
    سگ زمانہ ہیں ہم کیا ہماری ہجرت کیا

    مرا خوش خرام بلا کا تیز خرام تھا
    مری زندگی سے چلا گیا تو خبر ہوئی

    اب بھی توہین اطاعت نہیں ہوگی ہم سے
    دل نہیں ہوگا تو بیعت نہیں ہوگی ہم سے

    ستاروں سے بھرا یہ آسماں کیسا لگے گا
    ہمارے بعد تم کو یہ جہاں کیسا لگے گا

    وہی فراق کی باتیں وہی حکایت وصل
    نئی کتاب کا ایک اک ورق پرانا تھا

    میں اس سے جھوٹ بھی بولوں تو مجھ سے سچ بولے
    مرے مزاج کے سب موسموں کا ساتھی ہو

    تمام خانہ بدوشوں میں مشترک ہے یہ بات
    سب اپنے اپنے گھروں کو پلٹ کے دیکھتے ہیں

    ایک ہم ہی تو نہیں ہیں جو اٹھاتے ہیں سوال
    جتنے ہیں خاک بسر شہر کے سب پوچھتے ہیں

    میں جس کو اپنی گواہی میں لے کے آیا ہوں
    عجب نہیں کہ وہی آدمی عدو کا بھی ہو

    عجیب ہی تھا مرے دور گمرہی کا رفیق
    بچھڑ گیا تو کبھی لوٹ کر نہیں آیا

    دیار نور میں تیرہ شبوں کا ساتھی ہو
    کوئی تو ہو جو مری وحشتوں کا ساتھی ہو

    پیمبروں سے زمینیں وفا نہیں کرتیں
    ہم ایسے کون خدا تھے کہ اپنے گھر رہتے

    شگفتہ لفظ لکھے جا رہے ہیں
    مگر لہجوں میں ویرانی بہت ہے

    زندگی بھر کی کمائی یہی مصرعے دو چار
    اس کمائی پہ تو عزت نہیں ملنے والی

    جو ڈوبتی جاتی ہے وہ کشتی بھی ہے میری
    جو ٹوٹتا جاتا ہے وہ پیماں بھی مرا ہے

    وہی ہے خواب جسے مل کے سب نے دیکھا تھا
    اب اپنے اپنے قبیلوں میں بٹ کے دیکھتے ہیں

    بس ایک خواب کی صورت کہیں ہے گھر میرا
    مکاں کے ہوتے ہوئے لا مکاں کے ہوتے ہوئے

    کھلا فریب محبت دکھائی دیتا ہے
    عجب کمال ہے اس بے وفا کے لہجے میں

    سب لوگ اپنے اپنے قبیلوں کے ساتھ تھے
    اک میں ہی تھا کہ کوئی بھی لشکر مرا نہ تھا

    کہانی میں نئے کردار شامل ہو گئے ہیں
    نہیں معلوم اب کس ڈھب تماشا ختم ہوگا

    یہ بستی جانی پہچانی بہت ہے
    یہاں وعدوں کی ارزانی بہت ہے

    منہدم ہوتا چلا جاتا ہے دل سال بہ سال
    ایسا لگتا ہے گرہ اب کے برس ٹوٹتی ہے

    اسی کو بات نہ پہنچے جسے پہنچنی ہو
    یہ التزام بھی عرض ہنر میں رکھا جائے

    تماشا کرنے والوں کو خبر دی جا چکی ہے
    کہ پردہ کب گرے گا کب تماشا ختم ہوگا

    یہ ساری جنتیں یہ جہنم عذاب و اجر
    ساری قیامتیں اسی دنیا کے دم سے ہیں

    وہ جس کے نام کی نسبت سے روشنی تھا وجود
    کھٹک رہا ہے وہی آفتاب آنکھوں میں

    یہ بستیاں ہیں کہ مقتل دعا کیے جائیں
    دعا کے دن ہیں مسلسل دعا کیے جائیں

    سمندر کے کنارے ایک بستی رو رہی ہے
    میں اتنی دور ہوں اور مجھ کو وحشت ہو رہی ہے

    ہمیں میں رہتے ہیں وہ لوگ بھی کہ جن کے سبب
    زمیں بلند ہوئی آسماں کے ہوتے ہوئے

    کہیں کہیں سے کچھ مصرعے ایک آدھ غزل کچھ شعر
    اس پونجی پر کتنا شور مچا سکتا تھا میں

    دل کے معبود جبینوں کے خدائی سے الگ
    ایسے عالم میں عبادت نہیں ہوگی ہم سے

    یہ تیرے میرے چراغوں کی ضد جہاں سے چلی
    وہیں کہیں سے علاقہ ہوا کا لگتا ہے

    منصب نہ کلاہ چاہتا ہوں
    تنہا ہوں گواہ چاہتا ہوں

    میں جس کو ایک عمر سنبھالے پھرا کیا
    مٹی بتا رہی ہے وہ پیکر مرا نہ تھا

    میں اپنے خواب سے کٹ کر جیوں تو میرا خدا
    اجاڑ دے مری مٹی کو در بدر کر دے

    یہ روشنی کے تعاقب میں بھاگتا ہوا دن
    جو تھک گیا ہے تو اب اس کو مختصر کر دے

    کوئی جنوں کوئی سودا نہ سر میں رکھا جائے
    بس ایک رزق کا منظر نظر میں رکھا جائے

    روز اک تازہ قصیدہ نئی تشبیب کے ساتھ
    رزق برحق ہے یہ خدمت نہیں ہوگی ہم سے

    کاروبار میں اب کے خسارہ اور طرح کا ہے
    کام نہیں بڑھتا مزدوری بڑھتی جاتی ہے

    وہ میرے نام کی نسبت سے معتبر ٹھہرے
    گلی گلی مری رسوائیوں کا ساتھی ہو

    رنگ سے خوشبوؤں کا ناتا ٹوٹتا جاتا ہے
    پھول سے لوگ خزاؤں جیسی باتیں کرتے ہیں

    مرے سارے حرف تمام حرف عذاب تھے
    مرے کم سخن نے سخن کیا تو خبر ہوئی

    اس بار بھی دنیا نے ہدف ہم کو بنایا
    اس بار تو ہم شہ کے مصاحب بھی نہیں تھے

    ڈوب جاؤں تو کوئی موج نشاں تک نہ بتائے
    ایسی ندی میں اتر جانے کو جی چاہتا ہے

    وفا کے باب میں کار سخن تمام ہوا
    مری زمین پہ اک معرکہ لہو کا بھی ہو

    دل ان کے ساتھ مگر تیغ اور شخص کے ساتھ
    یہ سلسلہ بھی کچھ اہل ریا کا لگتا ہے

    مٹی کی گواہی سے بڑی دل کی گواہی
    یوں ہو تو یہ زنجیر یہ زنداں بھی مرا ہے

    جب میرؔ و میرزاؔ کے سخن رائیگاں گئے
    اک بے ہنر کی بات نہ سمجھی گئی تو کیا

    حامی بھی نہ تھے منکر غالبؔ بھی نہیں تھے
    ہم اہل تذبذب کسی جانب بھی نہیں تھے

    ہر نئی نسل کو اک تازہ مدینے کی تلاش
    صاحبو اب کوئی ہجرت نہیں ہوگی ہم سے

    ہمیں تو اپنے سمندر کی ریت کافی ہے
    تو اپنے چشمۂ بے فیض کو سنبھال کے رکھ

    خزانۂ زر و گوہر پہ خاک ڈال کے رکھ
    ہم اہل مہر و محبت ہیں دل نکال کے رکھ

    یہی لہجہ تھا کہ معیار سخن ٹھہرا تھا
    اب اسی لہجۂ بے باک سے خوف آتا ہے

    سپاہ شام کے نیزے پہ آفتاب کا سر
    کس اہتمام سے پروردگار شب نکلا

    عذاب وحشت جاں کا صلہ نہ مانگے کوئی
    نئے سفر کے لیے راستہ نہ مانگے کوئی

    ہر اک سے پوچھتے پھرتے ہیں تیرے خانہ بدوش
    عذاب دربدری کس کے گھر میں رکھا جائے

    ہمیں بھی عافیت جاں کا ہے خیال بہت
    ہمیں بھی حلقۂ نا معتبر میں رکھا جائے

    یہی لو تھی کہ الجھتی رہی ہر رات کے ساتھ
    اب کے خود اپنی ہواؤں میں بجھا چاہتی ہے

    کہاں کے نام و نسب علم کیا فضیلت کیا
    جہان رزق میں توقیر اہل حاجت کیا

    صبح سویرے رن پڑنا ہے اور گھمسان کا رن
    راتوں رات چلا جائے جس کو جانا ہے

    جو حرف حق کی حمایت میں ہو وہ گم نامی
    ہزار وضع کے نام و نشاں سے اچھی ہے

    مآل عزت سادات عشق دیکھ کے ہم
    بدل گئے تو بدلنے پہ اتنی حیرت کیا

    عاجزی بخشی گئی تمکنت فقر کے ساتھ
    دینے والے نے ہمیں کون سی دولت نہیں دی

  • جادو ہے یا طلسم تمھاری زبان میں

    جادو ہے یا طلسم تمھاری زبان میں

    جادو ہے یا طلسم تمھاری زبان میں
    تم جھوٹ کہہ رہے تھے مجھے اعتبار تھا

    نام سید وحید الدین، تخلص بیخودؔ ۔ پہلا تخلص نادرؔ تھا۔ 21مارچ 1863ء کو بھرت پور میں پید اہوئے۔ دہلی ان کا مولد ومسکن تھا۔ بیخودؔ نے دہلی میں اردو اور فارسی کی تعلیم حاصل کی۔ مولانا حالیؔ سے ’’مہرنیم روز‘‘ اور اساتذہ کے دواوین پڑھے۔ حالیؔ ہی کے ایما سے داغؔ کے شاگرد ہوئے۔ شاعری بیخودؔ کو ورثے میں ملی تھی۔ شاعری میں دلی ٹکسالی زبان،محاورات اور روز مرہ کا استعمال جس خوبی سے بیخود کرتے تھے، وہ اپنی مثال آپ ہے۔ اسی وجہ سے تمام اساتذۂ فن نے انھیں داغؔ کا صحیح جانشین تسلیم کیا ہے۔

    بیخودؔ خوش پوشاک اور خوش خوراک ہونے کے علاوہ شاہ خرچ بھی تھے۔ 1948ء میں وزیر اعظم پنڈت جواہر لال نہرو نے کچھ وظیفہ مقرر کردیا تھا۔ 150 روپیہ ماہوار وزارت تعلیم حکومت ہند سے ملتا تھا جس کے سربراہ مولانا ابوالکلام آزاد تھے۔ ان کے دو دیوان’’گفتار بیخود‘‘ اور ’’شہوار بیخود‘‘ طبع ہوچکے ہیں ۔02اکتوبر 1955ء کو دہلی میں انتقال ہوا۔

    منتخب اشعار
    ۔۔۔۔۔۔۔
    ادائیں دیکھنے بیٹھے ہو کیا آئینہ میں اپنی
    دیا ہے جس نے تم جیسے کو دل اس کا جگر دیکھو

    آئنہ دیکھ کر وہ یہ سمجھے
    مل گیا حسن بے مثال ہمیں

    راہ میں بیٹھا ہوں میں تم سنگ رہ سمجھو مجھے
    آدمی بن جاؤں گا کچھ ٹھوکریں کھانے کے بعد

    نہ دیکھنا کبھی آئینہ بھول کر دیکھو
    تمہارے حسن کا پیدا جواب کر دے گا

    وہ کچھ مسکرانا وہ کچھ جھینپ جانا
    جوانی ادائیں سکھاتی ہیں کیا کیا

    بولے وہ مسکرا کے بہت التجا کے بعد
    جی تو یہ چاہتا ہے تری مان جائیے

    دل محبت سے بھر گیا بیخودؔ
    اب کسی پر فدا نہیں ہوتا

    دل تو لیتے ہو مگر یہ بھی رہے یاد تمہیں
    جو ہمارا نہ ہوا کب وہ تمہارا ہوگا

    سن کے ساری داستان رنج و غم
    کہہ دیا اس نے کہ پھر ہم کیا کریں

    قیامت ہے تری اٹھتی جوانی
    غضب ڈھانے لگیں نیچی نگاہیں

    دل ہوا جان ہوئی ان کی بھلا کیا قیمت
    ایسی چیزوں کے کہیں دام دیے جاتے ہیں

    مجھ کو نہ دل پسند نہ وہ بے وفا پسند
    دونوں ہیں خود غرض مجھے دونوں ہیں نا پسند

    بات کرنے کی شب وصل اجازت دے دو
    مجھ کو دم بھر کے لئے غیر کی قسمت دے دو

    جواب سوچ کے وہ دل میں مسکراتے ہیں
    ابھی زبان پہ میری سوال بھی تو نہ تھا

    نمک بھر کر مرے زخموں میں تم کیا مسکراتے ہو
    مرے زخموں کو دیکھو مسکرانا اس کو کہتے ہیں

    منہ میں واعظ کے بھی بھر آتا ہے پانی اکثر
    جب کبھی تذکرۂ جام شراب آتا ہے

    تکیہ ہٹتا نہیں پہلو سے یہ کیا ہے بیخودؔ
    کوئی بوتل تو نہیں تم نے چھپا رکھی ہے

    رقیبوں کے لیے اچھا ٹھکانا ہو گیا پیدا
    خدا آباد رکھے میں تو کہتا ہوں جہنم کو

    سوال وصل پر کچھ سوچ کر اس نے کہا مجھ سے
    ابھی وعدہ تو کر سکتے نہیں ہیں ہم مگر دیکھو

    اب آپ کوئی کام سکھا دیجئے ہم کو
    معلوم ہوا عشق کے قابل تو نہیں ہم

    بات وہ کہئے کہ جس بات کے سو پہلو ہوں
    کوئی پہلو تو رہے بات بدلنے کے لیے

    انہیں تو ستم کا مزا پڑ گیا ہے
    کہاں کا تجاہل کہاں کا تغافل

    میرا ہر شعر ہے اک راز حقیقت بیخودؔ
    میں ہوں اردو کا نظیریؔ مجھے تو کیا سمجھا

    پڑھے جاؤ بیخودؔ غزل پر غزل
    وہ بت بن گئے ہیں سنے جائیں گے

    جادو ہے یا طلسم تمہاری زبان میں
    تم جھوٹ کہہ رہے تھے مجھے اعتبار تھا

    غم میں ڈوبے ہی رہے دم نہ ہمارا نکلا
    بحر ہستی کا بہت دور کنارا نکلا

    تم کو آشفتہ مزاجوں کی خبر سے کیا کام
    تم سنوارا کرو بیٹھے ہوئے گیسو اپنے

    محفل وہی مکان وہی آدمی وہی
    یا ہم نئے ہیں یا تری عادت بدل گئی

    بیخودؔ تو مر مٹے جو کہا اس نے ناز سے
    اک شعر آ گیا ہے ہمیں آپ کا پسند

    بھولے سے کہا مان بھی لیتے ہیں کسی کا
    ہر بات میں تکرار کی عادت نہیں اچھی

    یہ کہہ کے میرے سامنے ٹالا رقیب کو
    مجھ سے کبھی کی جان نہ پہچان جائیے

    تمہاری یاد میرا دل یہ دونوں چلتے پرزے ہیں
    جو ان میں سے کوئی مٹتا مجھے پہلے مٹا جاتا

    دی قسم وصل میں اس بت کو خدا کی تو کہا
    تجھ کو آتا ہے خدا یاد ہمارے ہوتے

    دشمن کے گھر سے چل کے دکھا دو جدا جدا
    یہ بانکپن کی چال یہ ناز و ادا کی ہے

    منہ پھیر کر وہ کہتے ہیں بس مان جائیے
    اس شرم اس لحاظ کے قربان جائیے

    ہمیں اسلام اسے اتنا تعلق ہے ابھی باقی
    بتوں سے جب بگڑتی ہے خدا کو یاد کرتے ہیں

    ہو لیے جس کے ہو لیے بیخودؔ
    یار اپنا تو یہ حساب رہا

    تیر قاتل کو کلیجے سے لگا رکھا ہے
    ہم تو دشمن کو بھی آرام دیے جاتے ہیں

    کیا کہہ دیا یہ آپ نے چپکے سے کان میں
    دل کا سنبھالنا مجھے دشوار ہو گیا

    زمانہ ہم نے ظالم چھان مارا
    نہیں ملتیں ترے ملنے کی راہیں

    دل چرا کر لے گیا تھا کوئی شخص
    پوچھنے سے فائدہ، تھا کوئی شخص

    محبت اور مجنوں ہم تو سودا اس کو کہتے ہیں
    فدا لیلیٰ پہ تھا آنکھوں کا اندھا اس کو کہتے ہیں

    نہ دیکھے ہوں گے رند لاابالی تم نے بیخودؔ سے
    کہ ایسے لوگ اب آنکھوں سے اوجھل ہوتے جاتے ہیں

    حوروں سے نہ ہوگی یہ مدارات کسی کی
    یاد آئے گی جنت میں ملاقات کسی کی

    نظر کہیں ہے مخاطب کسی سے ہیں دل میں
    جواب کس کو ملا ہے سوال کس کا تھا

    سودائے عشق اور ہے وحشت کچھ اور شے
    مجنوں کا کوئی دوست فسانہ نگار تھا

    سخت جاں ہوں مجھے اک وار سے کیا ہوتا ہے
    ایسی چوٹیں کوئی دو چار تو آنے دیجے

    چشم بد دور وہ بھولے بھی ہیں ناداں بھی ہیں
    ظلم بھی مجھ پہ کبھی سوچ سمجھ کر نہ ہوا

    موت آ رہی ہے وعدے پہ یا آ رہے ہو تم
    کم ہو رہا ہے درد دل بے قرار کا

    ہمیں پینے سے مطلب ہے جگہ کی قید کیا بیخودؔ
    اسی کا نام جنت رکھ دیا بوتل جہاں رکھ دی

    آپ ہوں ہم ہوں مئے ناب ہو تنہائی ہو
    دل میں رہ رہ کے یہ ارمان چلے آتے ہیں

    آئنہ دیکھ کے خورشید پہ کرتے ہیں نظر
    پھر چھپا لیتے ہیں وہ چہرۂ انور اپنا

    اے شیخ آدمی کے بھی درجے ہیں مختلف
    انسان ہیں ضرور مگر واجبی سے آپ

    دل میں پھر وصل کے ارمان چلے آتے ہیں
    میرے روٹھے ہوئے مہمان چلے آتے ہیں

    کوئی اس طرح سے ملنے کا مزا ملتا ہے
    اوپری دل سے وہ ملتا ہے تو کیا ملتا ہے

    رند مشرب کوئی بیخودؔ سا نہ ہوگا واللہ
    پی کے مسجد ہی میں یہ خانہ خراب آتا ہے

    بیخودؔ ضرور رات کو سوئے ہو پی کے تم
    یہ تو کہو نماز پڑھی یا قضا ہوئی

    جھوٹا جو کہا میں نے تو شرما کے وہ بولے
    اللہ بگاڑے نہ بنی بات کسی کی

    چلنے کی نہیں آج کوئی گھات کسی کی
    سننے کے نہیں وصل میں ہم بات کسی کی

    نامہ بر یہ تو کہی بات پتے کی تو نے
    ذکر اس بزم میں رہتا تو ہے اکثر اپنا

    دل وہ کافر ہے کہ مجھ کو نہ دیا چین کبھی
    بے وفا تو بھی اسے لے کے پشیماں ہوگا

    آپ شرما کے نہ فرمائیں ہمیں یاد نہیں
    غیر کا ذکر ہے یہ آپ کی روداد نہیں

    زاہدوں سے نہ بنی حشر کے دن بھی یارب
    وہ کھڑے ہیں تری رحمت کے طلب گار جدا

    اپنے جلوے کا وہ خود آپ تماشائی ہے
    آئینے اس نے لگا رکھے ہیں دیواروں میں

    تمہارے ہاتھ خالی جیب خالی زلف خالی تھی
    نہ تھے تم چور دل کے لو ادھر دیکھو یہ کیا نکلا

    ان کے آتے ہی ہوا حسرت و ارماں کا ہجوم
    آج مہمان پہ مہمان چلے آتے ہیں

    ملا کے خاک میں سرمایۂ دل بیخودؔ
    وہ پوچھتے ہیں بتاؤ یہ مال کس کا تھا

    آپ کو رنج ہوا آپ کے دشمن روئے
    میں پشیمان ہوا حال سنا کر اپنا

    وفا کا نام تو پیچھے لیا ہے
    کہا تھا تم نے اس سے پیشتر کیا

    اجازت مانگتی ہے دخت رز محفل میں آنے کی
    مزا ہو شیخ صاحب کہہ اٹھیں بے اختیار آئے

    اس جبین عرق افشاں پہ نہ چنئے افشاں
    یہ ستارے کہیں مل جائیں نہ سیاروں میں

    کچھ طرح رندوں نے دی کچھ محتسب بھی دب گیا
    چھیڑ آپس میں سر بازار ہو کر رہ گئی

  • ملازمین کی ہڑتال ،پیرس کی سڑکوں پر ہزاروں ٹن کچرا جمع

    ملازمین کی ہڑتال ،پیرس کی سڑکوں پر ہزاروں ٹن کچرا جمع

    کوڑا اٹھانے والے ملازمین کی ہڑتال کے باعث پیرس کی سڑکوں پر ہزاروں ٹن کچرا جمع ہوگیا-

    باغی ٹی وی: فرانسیسی حکام کے مطابق کوڑا اٹھانے والے ملازمین کی ہڑتال کے باعث پیرس کی سڑکوں پرکچرے کی مقدار 10,000 ٹن تک پہنچ گئی ہے ہڑتالی ملازمین کو کام پرواپس لانے کی تمام تر کوششیں رائے گاں گئی ہیں۔

    ایران:مزار پر حملے میں ملوث دو ملزمان کو سزائے موت سنا دی گئی

    وزیر داخلہ جیرالڈ ڈرمینین نے اعلان کیا تھا کہ ہڑتال کرنے والوں کو ضروری خدمات کے تحفظ کے لیے بنائے گئے ہنگامی اختیارات کے تحت کام پر واپس آنے پر مجبور کیاجائے گا مگرحکومت ابھی تک ایسا نہیں کرسکی۔

    کوڑا اٹھانے والے کارکنان 12 دنوں سے پیرس میں ریٹائرمنٹ کے نظام میں اصلاحات کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں۔ اس شعبے میں ریٹائرمنٹ کی قانونی عمر 57 سے بڑھا کر 59 سال کر دی گئی ہے یہ کارکن دارالحکومت کے تقریباً 20 اضلاع میں سے نصف میں کچرا اٹھانے کا کام کرتے ہیں، جب کہ دیگر علاقوں کو نجی کمپنیاں سنبھالتی ہیں۔

    ایکواڈوراورپیرو میں زلزلہ،15 افراد ہلاک اور 125 سے زائد زخمی،بلوچستان میں بھی زلزلے کے جھٹکے

    نجی کمپنیاں اب بھی کام کر رہی ہیں اور کچھ نے سب سے زیادہ متاثرہ علاقوں میں گنجان آباد سڑکوں کو صاف کرنے کے معاہدے پر دستخط کیے ہیں، جہاں تیزی سے بدبو پھیلتی ہےسخت متاثرہ 9 ویں ڈسٹرکٹ کی میئر ڈیلفائن برکلے نے جمعہ کو مشورہ دیا کہ "فوج سے سڑکوں کو صاف کرنے کا مطالبہ کیا جائے۔”

    پیرس میں جمعے کی شب مظاہرین کے ساتھ فرانسیسی فسادات کی پولیس کی جھڑپ ہوئی، کیونکہ ملک میں ریٹائرمنٹ کی عمر بڑھانے کے حکومتی منصوبے کے خلاف احتجاج کیا گیا-

    آسٹریلوی فوجی افغانستان میں مبینہ جنگی جرائم کے الزام میں 3 سال بعد گرفتار

  • جامعہ فلوریڈا کے ایک پروفیسر100 دن  زیر آب رہیں گے

    جامعہ فلوریڈا کے ایک پروفیسر100 دن زیر آب رہیں گے

    فلوریڈا: جامعہ جنوبی فلوریڈا کے ایک پروفیسر نے سائنسی تحقیق کے لیے 100 دن زیرآب رہنے کا اعلان کیا ہے۔

    باغی ٹی وی: جنوبی فلوریڈا یونیورسٹی کے ایک ایسوسی ایٹ پروفیسر 100 دن پانی کے اندر رہ کر عالمی ریکارڈ توڑنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ جوزف ڈٹوری اس بات کا مطالعہ کر رہے ہیں کہ انسانی جسم پر انتہائی دباؤ کے طویل مدتی اثرات کس طرح اثر انداز ہوتے ہیں-

    ایکواڈوراورپیرو میں زلزلہ،15 افراد ہلاک اور 125 سے زائد زخمی،بلوچستان میں بھی زلزلے کے جھٹکے

    اس سے قبل وہ زیرِ آب بلبلے نما مرکزمیں وہ 16 روز 22 میٹرگہرائی میں گزارکر تحقیق کرچکے ہیں۔ تاہم گنیزبک آف ورلڈ ریکارڈ کے مطابق 2014 میں بروس سینٹرل اور جیسیکا فائن جولس انڈر سی لاج میں 73 دن تک رہ کر عالمی ریکارڈ بناچکے ہیں اب پروفیسر جوزف طویل تحقیق کے ساتھ یہ ریکارڈ بھی توڑنا چاہتے ہیں۔

    اس دوران وہ پورے مشن میں تنہا رہیں گے جبکہ اس کے طالبعلم ان کے لیے ضروری سامان پہنچاتے رہیں گے۔ 2012 میں وہ امریکی نیوی سے ریٹائرہونے کے بعد اب مزید تحقیق کرنا چاہتے ہیں۔ وہ فلوریڈا کے پاس کی لارگو لگون کے پاس 22 فٹ گہرائی میں بنے بلبلہ نما گھر میں رہیں گے اور آبی حیات پر تحقیق کریں گے۔

    ایک طبی ٹیم معمول کے مطابق ان کے رہائش گاہ میں غوطہ لگا کر 55 سالہ شخص کی صحت کو نوٹ کرے گی ایک ماہر نفسیات ایک طویل مدت تک الگ تھلگ،محدود ماحول میں رہنے کےذہنی اثرات کو بھی نوٹ کریں گےپروجیکٹ سے پہلے، اس کے دوران اور بعد میں،ڈیٹوری نفسیاتی، کےاور طبی ٹیسٹ کئے جائینگے جس میں بلڈ پینلز، الٹراساؤنڈز اور الیکٹروکارڈیوگرامس کے ساتھ ساتھ اسٹیم سیل ٹیسٹ بھی شامل ہیں۔

    سائنسدانوں نے کورونا وائرس کو پھیلانے والے ممکنہ جانور کی شناخت کرلی

    اس منصوبے کو ’پروجیکٹ نیپچون‘ کا نام دیا گیا ہے۔ جو ڈیٹوری چاہتے ہیں کہ ایک جانب وہ سمندر کی گہرائی میں رہ کر نئی دریافتیں کریں تو دوسری جانب وہ اتنے طویل عرصے تک پانی نے اندر رہ کر خود اپنے جسم پر اس کے اثرات دیکھنا چاہتے ہیں۔

    ڈیٹوری نے کہا کہ انسانی جسم کبھی بھی اتنے لمبے عرصے تک پانی کے اندر نہیں رہا، اس لیے میری نگرانی کی جائے گی۔” "یہ مطالعہ اس سفر کے میرے جسم پر اثر انداز ہونے والے تمام طریقوں کا جائزہ لے گا، لیکن میرا مفروضہ یہ ہے کہ بڑھتے ہوئے دباؤ کی وجہ سے میری صحت میں بہتری آئے گی۔

    ڈیٹوری ایک تحقیق میں پائے جانے والے نتائج کو آگے بڑھا رہے ہیں، جہاں بڑھتے ہوئے دباؤ کا سامنا کرنے والے خلیات پانچ دنوں کے اندر دوگنا ہو جاتے ہیں اس سے پتہ چلتا ہے کہ بڑھتا ہوا دباؤ انسانوں کو اپنی لمبی عمر بڑھانے اور بڑھاپے سے وابستہ بیماریوں کو روکنے میں مدد دیتا ہے-

    دنیا کے خوش ترین ممالک کی فہرست جاری،پاکستان کا کونسا نمبر؟

  • دنیا کے خوش ترین ممالک کی فہرست جاری،پاکستان کا کونسا نمبر؟

    دنیا کے خوش ترین ممالک کی فہرست جاری،پاکستان کا کونسا نمبر؟

    خوشی کے عالمی دن کے موقع پر اقوام متحدہ کے تعاون سے جاری کی گئی دنیا کے خوش ترین ممالک کی فہرست جاری کر دی گئی-

    باغی ٹی وی : پہلی ورلڈ ہیپی نیس رپورٹ کو شائع ہوئے دس سال سے زیادہ کا عرصہ گزر چکا ہے۔ اور اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی قرارداد 66/281 کو منظور کیے ہوئے ٹھیک دس سال ہو گئے ہیں، جس میں 20 مارچ کو ہر سال خوشی کا عالمی دن منانے کا اعلان کیا گیا تھا۔ تب سے، زیادہ سے زیادہ لوگ اس بات پر یقین کرنے لگے ہیں کہ بحیثیت ممالک ہماری کامیابی کا اندازہ ہمارے لوگوں کی خوشی سے لگایا جانا چاہیے۔ خوشی کی پیمائش کیسے کی جانی چاہئے اس کے بارے میں بھی ایک بڑھتی ہوئی اتفاق رائے ہے۔ اس اتفاق رائے کا مطلب ہے کہ قومی خوشی اب حکومتوں کے لیے ایک عملی مقصد بن سکتی ہے۔

    آسٹریلوی فوجی افغانستان میں مبینہ جنگی جرائم کے الزام میں 3 سال بعد گرفتار

    ورلڈ ہیپی نیس رپورٹ سسٹین ایبل ڈیولپمنٹ سلوشنز نیٹ ورک نے شائع کی ، جس کا ڈیٹا گیلپ ورلڈ پول کے ذریعے اکٹھا کیا گیارپورٹ میں بتایا گیا کہ اگرچہ عالمی سطح پر حالات خراب ہو رہے ہیں مگر لوگوں میں امید اور خوشی کا احساس بڑھا ہے درحقیقت کورونا وائرس کی وبا سے پہلے کے مقابلے میں اس وقت عالمی سطح پر لوگوں میں خوشی کا احساس 25 فیصد زیادہ بڑھ گیا ہے۔

    فہرست مرتب کرنے والے ماہرین نے کہا کہ مشکل برسوں کے باوجود مثبت جذبات کی شرح منفی جذبات کے مقابلے میں دگنا زیادہ ہے اور مثبت سماجی تعاون کی شرح اب بھی تنہائی کے مقابلے میں دگنا زیادہ ہے اس فہرست کے لیے 150 سے زائد ممالک کے افراد سے 2020 سے 2022 کے دوران ہونے والے عالمی سروے کے ڈیٹا کا تجزیہ کرکے درجہ بندی کی گئی۔

    اس درجہ بندی کے لیے فی کس آمدنی، متوقع زندگی، سماجی مدد، آزادی، سخاوت اور کرپشن جیسے عوامل کو مدنظر رکھا گیافہرست میں پاکستان 137 میں سے 108 ویں نمبر پر رہا جبکہ گزشتہ سال پاکستان اس فہرست میں 121 ویں نمبر پر تھا یعنی ایک سال میں رینکنگ میں 13 درجے بہتری آئی ہے بھارت میں ناخوشی کا احساس بڑھا اور وہ 137 ممالک کی فہرست میں 126 ویں نمبر پر رہا۔

    ایران:مزار پر حملے میں ملوث دو ملزمان کو سزائے موت سنا دی گئی

    دنیا میں سب سے ناخوش ملک افغانستان رہا جو 137 ویں نمبر پر موجود ہے جس کے بعد لبنان 136 ویں کے ساتھ دوسرے جبکہ سیرالیون 135 ویں نمبر کے ساتھ تیسرا ناخوش ملک قرار پایا جبکہ یورپی ملک فن لینڈ مسلسل چھٹے سال دنیا کا سب سے خوش ترین ملک قرار پایا جبکہ ڈنمارک اور آئس لینڈ بھی بدستور دوسرے اور تیسرے نمبر پر رہے۔

    اس سال اسرائیل نے چوتھا نمبر حاصل کیا جو گزشتہ سال 9 ویں نمبر پر تھا جس کے بعد نیدرلینڈز 5 ویں، سوئیڈن چھٹے، ناروے 7 ویں، سوئٹزر لینڈ 8 ویں، لگسمبرگ 9 ویں جبکہ نیوزی لینڈ 10 ویں نمبر پر رہا آسٹریا، آسٹریلیا، کینیڈا، آئرلینڈ، امریکا، جرمنی، بیلجیئم، چیک ریپبلک، برطانیہ اور لتھوانیا بالترتیب 11 سے 20 ویں خوش ترین ملک قرار پائے۔

    قتل کرنے کی دھمکیاں،ممبئی پولیس نے سلمان خان کی سیکیورٹی بڑھا دی

    دنیا کے 20 ناخوش ممالک میں زمبابوے (134 ویں)، کانگو (133 ویں)، بوٹسوانا (132 ویں)، ملاوی (131 ویں)، کمروز (130 ویں)، تنزانیہ (129 ویں)، زیمبیا (128 ویں)، مڈغاسکر (127 ویں)، بھارت (126 ویں)، لائبیریا (125 ویں)، ایتھوپیا (124 ویں)، اردن (123 ویں)، ٹوگو (122 ویں)، مصر (121 ویں)، مالی (120 ویں) گیمبیا (119 ویں) اور بنگلا دیش (118 ویں) شامل ہیں۔

  • آسٹریلوی فوجی افغانستان میں مبینہ جنگی جرائم کے الزام میں 3 سال بعد گرفتار

    آسٹریلوی فوجی افغانستان میں مبینہ جنگی جرائم کے الزام میں 3 سال بعد گرفتار

    افغانستان میں مبینہ جنگی جرائم کی تحقیقات کے بعد آسٹریلیا کے ایک سابق 41 سالہ ایس اے ایس فوجی پر قتل کا الزام عائد کیا گیا ہے-

    باغی ٹی وی: بی بی سی کے مطابق 41 سالہ اولیور شولز پہلے آسٹریلوی فوجی ہیں جن پر آسٹریلوی قانون کے تحت جنگی جرم کا الزام لگایا گیا ہے اس جرم میں زیادہ سے زیادہ عمر قید کی سزا ہےاسے پیر کو علاقائی نیو ساؤتھ ویلز (NSW) میں گرفتار کیا گیا تھا، اور منگل کو عدالت میں پیش کیا جائے گا-

    ایران:مزار پر حملے میں ملوث دو ملزمان کو سزائے موت سنا دی گئی

    آسٹریلیا براڈکاسٹنگ کارپوریشن (اے بی سی) کا کہنا ہے کہ شولز وہ شخص ہے جسے مارچ 2020 میں نشر ہونے والی ایک دستاویزی فلم میں زمین پر پڑے ایک افغان شہری کو گولی مارتے دیکھا جا سکتا ہے فوٹیج میں 2012 میں جنوبی افغانستان کے صوبہ ارزگان میں ایک افغان شخص کو گندم کے کھیت میں سپاہی سی کو گولی مارتے ہوئے دکھایا گیا تھا دستاویزی فلم کے نشر ہونے کے بعد مذکورہ اہلکار کو فوج سے ہٹا دیا گیا تھا۔

    یہ تحقیقات اسپیشل انویسٹی گیٹر (OSI) کے دفتر کی طرف سے کی گئی، جو کہ ایک آرمی ریزرو میجر جنرل اور NSW سپریم کورٹ کے جج پال بریریٹن کی سربراہی میں چار سال کی انکوائری کے بعد مبینہ جنگی جرائم کی تحقیقات کے لیے قائم کی گئی ہے۔

    بریریٹن رپورٹ جو 2020 میں جاری کی گئی تھی نے پایا کہ ” ثبوت” موجود ہیں کہ آسٹریلوی اشرافیہ کے فوجیوں نے افغان جنگ کے دوران غیر قانونی طور پر 39 افراد کو ہلاک کیا آفس آف اسپیشل انوسٹی گیٹر نے اپنے قیام کے بعد پہلی تحقیقاتی رپورٹ میں سفارش کی کہ 2009 سے 2013 تک "قیدیوں، کسانوں یا عام شہریوں” کے قتل کے معاملے میں پولیس کے 19 موجودہ یا سابق اسپیشل فورسز کے فوجیوں سے تفتیش کی جانی چاہیے آفس آف اسپیشل انوسٹی گیٹر نے یہ بھی سفارش کی کہ ان فوجیوں کے خلاف جنگی جرائم کے مقدمات فوجی عدالت کے بجائے سویلین کورٹس میں سنے جائیں۔

    قتل کرنے کی دھمکیاں،ممبئی پولیس نے سلمان خان کی سیکیورٹی بڑھا دی

    خیال کیا جاتا ہے کہ یہ اس انکوائری سے منسلک پہلی گرفتاری ہے آسٹریلوی پولیس نے دوفوجی اہلکار کی گرفتاری اور عدالت میں پیش کرنے کی تصدیق کی ہے تاہم اہلکار کا نام اور عہدہ ظاہر نہیں کیا۔

    یاد رہے کہ 2005 سے 2016 کے درمیان افغانستان میں آسٹریلوی فوجیوں کے جنگی جرائم کی تحقیقات کے لیے آسٹریلیا میں ’’آفس آف اسپیشل انوسٹی گیٹر کا قیام‘‘ عمل میں لایا گیا تھا۔

    واضح رہے کہ افغانستان میں آسٹریلوی فوجیوں کا دستہ پہلی بار 2001 اور پھر 2005 میں بھیجا گیا تھا۔ افغان جنگ کے دوران ان دستوں نے نیٹو اتحادی فوج کی حیثیت سے حصہ لیا تھا آسٹریلوی فوجی بھی گزشتہ برس طالبان کے اقتدار سنبھالنے پر نیٹو اتحادی افواج کے ہمراہ اپنے وطن لوٹ گئےتھےتاہم افغانستان میں تعیناتی کے دوران آسٹریلوی فوجیوں پر کئی معصوم شہریوں کے قتل کے الزامات لگے تھے۔

    سعودی عرب نے سوشل میڈیا پر نماز اور جمعہ خطبات نشر کرنے پر پابندی عائد …

    آسٹریلیا کے محکمہ ’’آفس آف اسپیشل انوسٹی گیٹر‘‘ نے تحقیقات کیں اور ایک فوجی اہلکار کو افغان شہری کے قتل میں ملوث پایا جس پر وفاقی پولیس نے ’’آسٹریلوی ڈیفنس فورس‘‘ کے 41 سالہ فوجی کو نیوساؤتھ ویلزسے گرفتار کرلیا آسٹریلوی فوجی کو جنگی جرائم کے الزام میں گرفتار کیا گیایہ پہلے آسٹریلوی فوجی ہے جن پر جنگی جرائم کا مقدمہ چلایا جائےگا اورالزام ثابت ہونے پرعمر قید کی سزا بھی ہوسکتی ہے-

    تسمانیہ یونیورسٹی کے قانون کے پروفیسر اور انٹرنیشنل کے پراسیکیوٹر کے جنگی جرائم کے خصوصی مشیر ٹم میک کارمیک نے کہا کہ مسٹر شولز کے کیس کو مغرب اور اس کے اتحادیوں کے لیے فوج میں مشتبہ غلط کاموں سے نمٹنے کے لیے ایک "اہم مثال” قائم کرنی چاہیے۔انہوں نے اے بی سی کو بتایا کہ "ہمارے پاس ماضی میں کبھی بھی ایسی صورتحال نہیں رہی جہاں آسٹریلوی ڈیفنس فورس کے کسی رکن، موجودہ یا سابق، پر جنگی جرم کا الزام لگایا گیا ہو اور اس پر سویلین عدالت میں مقدمہ چلایا جائے۔”

  • آئی ایچ آر ایف ایک عالمی یہودی نواز تنظیم ہے،جو عمران خان کی حمایت میں کھل کر سامنے آگئی ہے،زید حامد

    آئی ایچ آر ایف ایک عالمی یہودی نواز تنظیم ہے،جو عمران خان کی حمایت میں کھل کر سامنے آگئی ہے،زید حامد

    معروف تجزیہ نگاراور دفاعی امور کے ماہر زید حامد کا کہنا ہے کہ انٹرنیشنل ہیومن رائٹس فاؤنڈیشن ایک عالمی یہودی نواز تنظیم ہے جو عمران کی حمایت میں کھل کر سامنے آ گئی ہے –

    انسانی حقوق کی نام نہاد جعلی تنظیم تحریک انصاف اور عمران خان کے حق میں سامنے آئی ہے، تنظیم نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے ٹوئٹ میں پاکستانی فوج اور پولیس کو موجودہ ملکی حالت کے پیش نظر تنقید کا نشانہ بنایا-

    حسان نیازی کی گرفتاری کیخلاف اسلام آباد ہائیکورٹ میں درخواست دائر


    تنظیم نے اپنی ٹوئٹ میں لکھا کہ پولیس اور فوجی افسران موصول ہونے والے کسی بھی واضح طور پر غیر منصفانہ یا غیر قانونی حکم کی تعمیل نہ کریں۔ پرامن اور غیر مسلح شہریوں کے خلاف ہر قسم کا تشدد بند کریں۔ مجرمانہ مینڈیٹ کا حکم بجا لانا لازمی نہیں ہے۔ انسانی حقوق، جمہوریت اور قانون کی حکمرانی کا احترام کریں۔

    اداروں کیخلاف مہم چلانے والوں سے آہنی ہاتھوں سے نمٹیں،وزیراعظم

    انٹرنیشنل ہیومن رائٹس فاؤنڈیشن کی اس ٹوئٹ پر رد عمل دیتے ہوئے دفاعی امور کے ماہر زید حامد نے اس تنظٰم کو یہودی نواز تنظٰم قرار دیا-
    https://twitter.com/BTPakistan/status/1637736229381840896?s=20
    انہوں نے کہا کہ یہ ایک عالمی یہودی نواز تنظیم ہے جو عمران کی حمایت میں کھل کر سامنے آ گئی ہے اور پاکستان کی پولیس اور مسلح افواج کو ورغلا رہی ہے کہ وہ حکومت کے خلاف بغاوت کر دیں یہ سب تنظیمیں اس وقت بالکل خاموش تھیں جب مصر کے‌ مسلمان صدر مرسی کو حکومت سے اتار کر پھانسی چڑھایا گیا۔

    جوڈیشل کمپلیکس میں پولیس کا مقصد تحفظ فراہم کرنا تھا،لیکن شرپسندوں نےپولیس کو تشدد کا …

    واضح رہے کہ تحریک انصاف کی فارن فنڈنگ رنگ دکھانے لگی۔ پاکستان تحریک انصاف اور جعلی بھارتی ہیومن رائٹس واچ کا گٹھ جوڑ سامنے آ گیا، جعل سازی، فیک نیوز اور جھوٹ کے پرچار میں ہندوستان کا کوئی ثانی نہیں ہے۔نام نہاد عالمی تنظیموں کے بھیس میں ہندوستان اپنے مزموم عزائم کو جھوٹے پروپیگنڈے کے تحت حاصل کرنے میں سرگرم ہے، ہندوستانی نام نہاد ہیومن رائٹس واچ کی جانب سے شہباز گل کی گرفتاری کے معاملے کو اچھالنا اور عمران خان کی دہشتگردی ایکٹ کے تحت گرفتاری کے لئے ورکنگ گروپ کے زریعے ملک میں انتشار پھیلانے کی ایک بہت بڑی سازش ہے۔ اس آرگنائزیشن کے تحت یہ تاثر دیا گیا کہ شہباز گل کی گرفتاری عالمی سطح پر بھونچال لانے کے مترادف ہے۔ در حقیقیت یہ ایک بوگس اور جعلی آرگنائزیشن ہے۔ اس آرگنائزیشن کے اکاؤنٹس سے 3 ٹویٹس ہیں جن میں واضح طور پر بھارت کے دو شہروں بنگلور اور نئی دِلی کی لوکیشن دیکھی جا سکتی ہیں۔ بنگلور اور دہلی سے حمایتی ٹویٹس ہو رہے ہیں۔سی این این کے فیک سکرین شاٹس اور اسرائیلی چینلز کے تشویشی پروگرام نشر کرنا ایک سوچی سمجھی سازش ہے۔ جب پاکستانیوں نے اس نام نہاد آرگنائزیشن کی حقیقت جاننے کی کوشش کی تو یہ آرگنائزیشن غائب ہو جاتی ہے اور پاکستانیوں کو بلاک کر دیا جاتا ہے۔ کیا حقیقت میں انسانی حقوقی کی تنظیمیں ایسی ہوتی ہیں؟درحقیقیت یہ آرگنائزیشن ہندوستان میں رجسٹرڈ ہے اور ہندوستانی ہی اسے چلا رہے ہیں۔ یہ آرگنائزیشن نیو یارک، سپین اور مڈرڈ میں رجسٹرڈ نہیں بلکہ ہندوستان سے ہی آپریٹ ہو رہی ہے۔ ایک سوچی سمجھی چال کے تحت 100سے زائد ہندوستانی ویب سائٹس نے اس آرگنائزیشن کے بیان کو پھیلایا۔