Baaghi TV

Author: Ayesha Rehmani

  • حریم شاہ کی رانا ثنا اللہ کو دھمکی،انٹر نیٹ بحال،عوام ٹک ٹاکر کی مشکور

    حریم شاہ کی رانا ثنا اللہ کو دھمکی،انٹر نیٹ بحال،عوام ٹک ٹاکر کی مشکور

    ٹک ٹاکر حریم شاہ نے وزیرِداخلہ رانا ثنا اللہ کو انٹرنیٹ بحال نہ کرنے پر دھمکی دی جس کے کچھ گھنٹوں بعد انٹرنیٹ بحال پوگیا-

    باغی ٹی وی : وزیرِداخلہ پنجاب کے حکم پر پی ٹی اے نے ملک بھر میں انٹرنیٹ سروس معطل کر رکھی ہے جس پر عوام کو شدید مشکلات کا سامنا ہے جس پر حریم شاہ نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے ٹوئٹ میں رانا ثنا کو انٹرنیٹ بحال نہ کرنے پر دھمکی دی ہے-

    حریم نے اپنی ٹوئٹ رانا ثنا اللہ کو ٹیگ کرتے ہوئے لکھا کہ اگر رانا جی نے آج رات تک انٹرنیٹ بحال نہ کیا تومیں نے ویڈیوز بحال کر دینی ہے۔

    دھمکی آمیز ٹوئٹ کے بعد حریم شاہ کا نام ٹوئٹر پر ٹاپ ٹرینڈز میں شامل ہوگیا ہے اور صارفین کی جانب سے اس پر بھرپور تبصرے کئے جارہے ہیں۔

    ملک کے خراب حالات سے پریشان عوام نے جہاں حریم شاہ کی ٹوئٹ پر دلچسپ تبصرے کیے، وہیں لوگوں نے ان کا شکریہ بھی ادا کیا کہ ان کی ایک دھمکی نے انٹرنیٹ سروسز بحال کروادیں کئی صارفین نے حریم شاہ کو مشورہ دیا کہ وہ ویڈیوز بحال کر ہی دیں جبکہ کئی نے یہ جان کر حیرت کا اظہار کیا کہ حریم شاہ کے پاس رانا ثنا اللہ کی بھی ویڈیوز موجود ہیں یہ وزیرِداخلہ کیلئے فکر کی بات ہے۔

    دلچسپ بات یہ ہے کہ حریم شاہ کی ٹوئٹ کے کچھ گھنٹوں بعد ملک میں جزوی طور پر انٹرنیٹ سروسز بحال کردی گئی تھیں۔

    واضح رہے کہ ملک بھر میں 9 مئی سے موبائل انٹرنیٹ سروسز اور سوشل میڈیا ایپس بند تھیں، تاہم 12 مئی کی شب کو انہیں جزوی طور پر بحال کردیا گیا تھا انٹرنیٹ سروسز اور سوشل میڈیا ایپس کو عمران خان کی اسلام آباد ہائی کورٹ کے احاطے سے گرفتاری کے بعد بند کیا گیا تھا تاکہ ملک بھر میں امن و امان قائم رکھا جا سکے۔

    عمران خان کی گرفتاری کے بعد ملک بھر میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کارکنان کی جانب سے ہنگامے اور جلاؤ گھیراؤ شروع کیا گیا تھا، جس کے بعد حکومت نے انٹرنیٹ سروسز اور سوشل میڈیا ایپس بند کردی تھیں-

  • انٹیلی جنس ایجنسیز ججز کی تعیناتی کو کیسے کنٹرول کرسکتے ہیں،سپریم کورٹ

    انٹیلی جنس ایجنسیز ججز کی تعیناتی کو کیسے کنٹرول کرسکتے ہیں،سپریم کورٹ

    اسلام آباد: سپریم کورٹ میں ایڈیشنل جج تعینات نہ کرنے کے کیس کی سماعت ہوئی-

    باغی ٹی وی : چیف جسٹس عمرعطا بندیال کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 3 رکنی بینچ نے طارق آفریدی کو پشاورہاٸیکورٹ کا ایڈیشنل جج تعینات نہ کرنے کی درخواست پر سماعت کی۔

    پریکٹس اینڈ‌پروسیجر بل کیس:موجودہ کیس آئینی ترامیم کا نہیں ہےججز پر الزام لگے تو ٹرائل …

    درخواست گزارکے وکیل حامد خان نے مؤقف اپنایا کہ جوڈیشل کمیشن نے طارق آفریدی کو پشاور ہاٸیکورٹ کا ایڈیشنل جج تعینات کرنے کی سفارش کی لیکن ججز تقرر بارے پارلیمانی کمیٹی نے نامزدگی انٹیلی جنس ایجنسیز کی رپورٹ پر مسترد کی، انٹیلی جنس رپورٹ کے مطابق طارق آفریدی کی ساکھ اچھی نہیں۔

    جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیئے کہ انٹیلی جنس ایجنسیز ججز کی تعیناتی کو کیسے کنٹرول کرسکتے ہیں، پارلیمانی کمیٹی نے پیشہ وارانہ صلاحیت کی بجائے انٹیلی جنس رپورٹ کی روشنی میں فیصلہ کیا، اس عمل سے عدلیہ کہ آزادی پر اثر پڑے گا،چیف جسٹس عمرعطا بندیال نے کہا کہ عدالت معاملے کی قانونی حیثیت کا جاٸزہ لے گی، کیا پارلیمانی کمیٹی جوڈیشل کمیشن کی سفارشات کو مسترد کرسکتی ہے؟ اٹارنی جنرل کو عدالت کی معاونت کے لیے بلا لیتے ہیں۔

    عمران خان کے خلاف 121 مقدمات: تفتیشی آفیسر کو پابند نہیں کیا جا سکتا کہ …

    سپریم کورٹ نے آٸندہ سماعت پر اٹارنی جنرل کوعدالتی معاونت کے لیے طلب کرتے ہوے کیس کی مزید سماعت ایک ماہ تک ملتوی کردی۔

    واضح رہے کہ سپریم کورٹ کے وکیل طارق آفریدی کو جوڈیشل کمیشن آف پاکستان نے 2 جولائی 2019 کو پشاور ہائی کورٹ کا ایڈیشنل جج مقرر کرنے کی سفارش کی تھی لیکن پارلیمانی کمیٹی نےاس سفارش کومسترد کردیا تھاپارلیمانی کمیٹی نے 8 جولائی 2019 کے فیصلے میں کہا تھا کہ طارق آفریدی کی ہائی کورٹ کے جج کی حیثیت سے تقرری آئین پاکستان کی شقوں سے مطابقت نہیں رکھتی، لہٰذا اسے کالعدم قرار دیا جاتا ہے۔

    خاتون جج دھکمی کیس: دلائل نہیں دیں گے تو اپیل خارج کردیں گے،عدالت

    پارلیمانی کمیٹی نے ان کی نامزدگی مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ انٹیلی ایجنسیوں کی رپورٹ کے مطابق ان کے مالی معاملات درست نہیں، وہ پیشہ ورانہ طور پر اہل نہیں اور انہوں نے قانون و ضوابط کی خلاف ورزیاں کی ہیں۔

    دوسری جانب دو دن قبل ہی مسلم لیگ (ن) کے حمایت یافتہ طارق آفریدی پشاور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر منتخب ہوئے ہیں۔

    میرپور خاص:سی آئی اے پولیس کی ٹنڈو جان محمد میں منشیات فروشوں کیخلاف کارروائی،4گرفتار

  • عمران خان کے خلاف 121 مقدمات: تفتیشی آفیسر کو پابند نہیں کیا جا سکتا کہ ان کی مرضی کے مطابق تفتیش کرے

    عمران خان کے خلاف 121 مقدمات: تفتیشی آفیسر کو پابند نہیں کیا جا سکتا کہ ان کی مرضی کے مطابق تفتیش کرے

    لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس علی باقر نجفی کی سربراہی میں 5 رکنی لارجر بینچ نے عمران خان کے خلاف 121 مقدمات کی کارروائی روکنے سمیت دیگر درخواستوں پر سماعت کی۔

    باغی ٹی وی :جسٹس انوار الحق، جسٹس عالیہ نیلم، جسٹس طارق سلیم اور جسٹس امجد رفیق بینچ میں شامل تھے دوران سماعت عمران خان کے وکیل نے بتایا کہ جے آئی ٹی سے تعاون کیا جا رہا ہے،عمران خان شامل تفتیش ہوچکے ہیں،عدالت نے جے آئی ٹی کے سربراہ کو آئندہ پیشی پر طلب کر لیاہے،سرکاری وکیل کا کہنا تھا کہ عدالتی حکم پر جے آئی ٹی سےتعاون کیا اور انہیں عمران خان کی رہائش گاہ کی رسائی دی گئی وکیل نے عدالت میں موقف اختیار کیا کہ جے آئی ٹی نے عمران خان سے مختلف مقدمات میں تفتیش کی۔

    پریکٹس اینڈ‌پروسیجر بل کیس:موجودہ کیس آئینی ترامیم کا نہیں ہےججز پر الزام لگے تو ٹرائل …

    جسٹس علی باقر نجفی نے سرکاری وکیل سے استفسار کی کیا کہ جے آئی ٹی کی تفتیشی رپورٹ کہاں ہے؟سرکاری وکیل نے بتایا کہ رپورٹ ابھی تک نہیں مل سکی، تاخیر ہونے پر معذرت خواہ ہیں۔

    جسٹس علی باقر نجفی نے سرکاری وکیل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہاکہ لگتا ہے آپ نے ہمارے حکم پر سنجیدہ نہیں لیا،سرکاری وکیل نے کہا کہ عدالت کے حکم کی تعمیل ہوگی،ہم نے متعلقہ افسران کو آگاہ کیا تھاجسٹس طارق سلیم شیخ نےکہاکہ ہمارے لیےکوئی کیس اسپیشل نہیں ہوتا سب ایک جیسے ہوتےہیں، وکیل نے کہاکہ غیرمعمولی بات ہو گی کہ تفتیشی ٹیم کوملزم کی رہائش گاہ پرجانے کے احکامات دیئے جائیں۔

    عدالت نے عمران خان کے وکیل سے استفسار کیا کہ آپ ایک کیس میں کہہ رہے ہیں کہ ویڈیو لنک پر لیا جائے اور دوسرے میں کہہ رہے ہیں کہ تمام کیس یکجا کر دیے جائیں؟ وکیل نے بتایا کہ 1970 کے بعد سے سیاسی انتقام جاری ہے، ہم چاہتے ہیں کہ پنجاب اور اسلام آباد میں درج مقدمات کو یکجا کر دیا جائےانور مجید کے کیس میں سپریم کورٹ میں 70 سال کی عمر اوربیمارشخص کو ریلیف دینے کی مثال موجود ہے۔

    جسٹس مسرت ہلالی بطور چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ تعینات

    لاہور ہائیکورٹ نے سرکاری وکیل سے استفسار کیا کہ آپ نے واضح جواب ہی نہیں دیا کہ کتنی ٹوٹل ایف آئی آرز درج ہیں؟ سرکاری وکیل نے بتایا کہ ہم نے کیسز کی تعداد سے متعلق رپورٹ جمع کرا دی تھی۔

    جسٹس انوار الحق پنوں کا کہنا تھا کہ دونوں طرف سے ہی خرابیاں ہو رہی ہیں،ہمیں ان چیزوں سے آگے بڑھنا ہوگا،جسٹس عالیہ نیلم نے ریمارکس دیے کہ کیا عدالت میں وہ تمام تفتیشی افسران موجود ہیں جنہوں نے تفتیش کی۔

    سرکاری وکیل کا کہنا تھا کہ عدالت کا ماحول ایسا نہیں ہے کہ تمام تفتشی افسران پیش ہوں سکیں،جسٹس عالیہ نیلم نے ریمارکس دیئے کہ عدالت میں کوئی آئے نہ آئے پولیس والے ہر پیشی پر موجود ہوتے ہیں، بتائیں اب تک کی رپورٹ کہاں ہے؟

    چترال : سالانہ ڈیلرز کنونشن کا اہتمام۔ بہترین کاروباری حضرات کو شیلڈز پیش کی گئیں

    جسٹس امجد رفیق نے ریمارکس دئیے کہ یہ کہاں لکھا ہے کہ ملزم تھانے آ کر ہی شامل تفتیش ہو، یہ بھی کہاں لکھا ہے کہ جہاں آپ موجود ہیں ملزم وہیں پر ہی ضرور آئےسرکاری وکیل نے بتایا کہ تحقیقات کے لیے جے آئی ٹی عمران خان کے گھر گئی، تفتیشی آفیسر کو پابند نہیں کیا جا سکتا کہ ان کی مرضی کے مطابق تفتیش کرے۔

    جسٹس علی باقر نجفی نے ریمارکس دیے کہہمیں کوئی شوق نہیں ہے کہ بڑے افسر ہمارے پاس پیش ہوں،ہم نہیں چاہتے کہ یہ سسٹم یرغمال بن جائے جس کا جو دل چاہے وہ کرتا پھرے، کل کو دوسری طرف سے بھی ایسا ہو سکتا ہے، جسٹس علی باقر نجفی نے ریمارکس دیے کہ عمران خان جن مقدمات میں قصور وار ثابت ہوتے ہیں چالان فائل کریں اگر عمران خان بے قصور ثابت ہوتے ہیں توان کو ڈسچارج کردیں،ہم 5 ججز کیس سن رہے ہیں دیگر کیسز بھی سننے ہوتے ہیں،عدالتوں پر غیر ضروری بوجھ نہیں ڈالنا چاہیے۔

    گوجرخان : لندن پلازہ میں مسلح ڈکیتی کی واردات لاکھوں روپے لوٹ لئے گئے

    جسٹس علی باقر نجفی کا کہنا تھا کہ ہم آپ کو ایک موقع دے رہے ہیں رپورٹ جمع کروائیں، ہم آپ کو 2 روز دیتے ہیں آپ رپورٹ جمع کروائیں، جے آئی ٹی سربراہ کو تفتیشی رپورٹ سمیت 19 مئی کو طلب کر تے ہوئے عدالت نے سماعت جمعہ تک ملتوی کر دی۔

  • خاتون جج دھکمی کیس: دلائل نہیں دیں گے تو اپیل خارج کردیں گے،عدالت

    خاتون جج دھکمی کیس: دلائل نہیں دیں گے تو اپیل خارج کردیں گے،عدالت

    اسلام آباد کی مقامی عدالت میں خاتون جج دھمکی کیس میں پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کو جاری نوٹس کے خلاف اپیل پر کل دلائل طلب کرلیے۔

    باغی ٹی وی : ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج طاہرعباس سپرا نے خاتون جج دھمکی کیس میں عمران خان کو جاری نوٹس کے خلاف دائر اپیل پر سماعت کی دوران سماعت جج نے عمران خان کو جاری نوٹس کے خلاف اپیل پر کل دلائل طلب کرلیے۔

    پریکٹس اینڈ‌پروسیجر بل کیس:موجودہ کیس آئینی ترامیم کا نہیں ہےججز پر الزام لگے تو ٹرائل …

    عمران خان کے وکیل نعیم پنجوتھہ نے سماعت بغیر کارروائی جمعے تک ملتوی کرنے کی استدعا کرتے ہوئے بتایا کہ اپیل پر دلائل عمران خان کے وکیل سلمان صفدر نے دینے ہیں، جو آج لاہورہائیکورٹ پیش ہوں گے جج طاہرعباس سپرا نے کہا کہ سلمان صفدرمصروف ہیں تو ہر کیس میں وکالت نامہ کیوں جمع کروایا ہے، اپیل آپ نے دائر کی، دلائل نہیں دیں گے تو اپیل خارج کردوں گا۔

    جسٹس مسرت ہلالی بطور چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ تعینات

    وکیل نعیم پنجوتھہ نے کہا کہ سیاسی نوعیت کے کیسزختم ہونے میں خاتون جج دھمکی کیس بھی ختم ہوسکتا ہے، اپیل کو ابھی ایک ماہ نہیں ہوا، التواء پر کوئی اعتراض نہیں، بعدازاں عدالت نے دلائل طلب کرتے ہوئے سماعت کل بروز منگل تک ملتوی کردی۔

  • پریکٹس اینڈ‌پروسیجر بل کیس:موجودہ کیس آئینی ترامیم کا نہیں ہےججز پر الزام لگے تو ٹرائل سپریم کورٹ کا ہوتا ہے،چیف جسٹس

    اسلام آباد: چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ درخواست میں کی گئی استدعا اچھے الفاظ میں نہیں لیکن عدالت کو سمجھ آ گئی ہے۔

    باغی ٹی وی: چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں 8 رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی۔ جسٹس اعجاز الاحسن، جسٹس منیب اختر، جسٹس مظاہر نقوی، جسٹس محمد علی مظہر، جسٹس عائشہ ملک، جسٹس حسن اظہر رضوی اور جسٹس شاہد وحید بینچ کا حصہ تھے۔

    جسٹس مسرت ہلالی بطور چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ تعینات

    سپریم کورٹ نےگزشتہ سماعت میں تمام فریقین کو تحریری جوابات جمع کرانے کی ہدایت کی تھی، عدالت نے اٹارنی جنرل سے پارلیمنٹ کی کارروائی اور قائمہ کمیٹیوں کا ریکارڈ بھی طلب کر رکھا تھا۔

    دورانِ سماعت اٹارنی جنرل منصور اعوان نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ ہم نے فل کورٹ تشکیل دینے کیلئے متفرق درخواست دائر کی ہے ن لیگ نے بھی فل کورٹ کی تشکیل کے لیے عدالت کو درخواست دے دی۔ جس پر جسٹس اعجاز الحسن نے ن لیگی وکیل صلاح الدین احمد سے کہا کہ آپ کی درخواست پر تو ابھی نمبر بھی نہیں لگا۔

    سماعت کے دوران چیف جسٹس نے سوال کیا کہ کیا آپ نے پارلیمانی کارروائی کی دستاویزات جمع کروا دی ہیں؟ جس پر اٹارنی جنرل نے کہا کہ امید ہے کل تک پارلیمانی کارروائی کا ریکارڈ مل جائے گا۔ اسپیکر آفس سے باضابطہ اور غیر رسمی طور پر بھی رابطہ کیا ہے۔

    اوچ شریف :کھیتوں سے ایک شخص کی لاش برآمد

    اٹارنی جنرل نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ عدالت قراردے چکی ہےکہ آئین کا بنیادی ڈھانچہ موجود ہےقانون میں بینچوں کی تشکیل اور اپیلوں کا معاملہ طے کیا گیا ہے۔ عدالتی اصلاحات بل میں وکیل کی تبدیلی کا بھی حق دیا گیا ہے۔ سپریم کورٹ کے رولز فل کورٹ نے تشکیل دیے تھےسپریم کورٹ رولز میں ترمیم بھی فل کورٹ ہی کرسکتی ہےعدلیہ کی آزادی اور رولز سے فیصلہ و مقدمہ بھی فل کورٹ کو سننا چاہیے۔ قانون براہ راست ان ججز پر بھی لاگو ہو گا جو مقدمہ نہیں سن رہے۔

    دورانِ سماعت جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیئے کہ سوال قانون سازی کے اختیارات کا ہے رولز میں ترمیم کا نہیں۔ قانون سازی کے اختیار کے مقدمات مختلف بینچز معمول میں سنتے رہتے ہیں –

    جسٹس مظاہر نقوی نے سوال کیا کہ کیا سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ جیسی قانون سازی ہوئی ہے؟ جس پر اٹارنی جنرل نے کہا کہ 1992 تک رولز بنانے کیلئے صدر کی اجازت درکار تھی۔ جسٹس مظاہر نقوی نے سوال کیا کہ آرٹیکل 91 کے ہوتے ہوئے ایسی قانون سازی کیسے ہو سکتی ہے؟-

    اٹارنی جنرل نےکہا کہ صدر کی اجازت کا اختیار واپس لے لیا گیا تھا 1973 تک رولز بنانے کے لیے صدرکی اجازت درکار تھی۔رولز آئین و قانون کے مطابق بنانے کی شق برقرار رکھی گئی ماضی میں کبھی ایسا مقدمہ نہیں آیا اس لیے فل کورٹ تشکیل دی جائے۔

    مذاکرات تحریک انصاف نے سبوتاژ کئے ہیں. قمرزمان کائرہ

    جسٹس مظاہر نقوی کا کہنا تھا کہ آئین کے آرٹیکل 191 کے ہوتے ہوئے ایسی قانون سازی کیسے ہوسکتی ہے؟ جسٹس محمد علی مظہر نےکہا کہ آپ نے اپنی درخواست میں کہا کہ یہ اپنی نوعیت کا پہلا مقدمہ ہے اس لیے فل کورٹ سنے،اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ ماضی میں کبھی ایسا مقدمہ نہیں آیا اس لیے فل کورٹ تشکیل دی جائے۔

    جسٹس عائشہ ملک کا کہنا تھا کہ ہم ہر وقت معمول کے مطابق اپنی نوعیت کے پہلے کیسز سنتے رہتے ہیں سپریم کورٹ کا کوئی بھی بینچ کوئی بھی مقدمہ سن سکتا ہےکیا حکومت فل کورٹ کا فائدہ اٹھانا چاہتی ہے؟ کیا حکومت چاہتی ہے کہ عدالت کی اندرونی بحث باہر آئے؟ ہر مقدمہ اہم ہوتا ہے یہ یقین کیسے ہوگا کہ کونسا کیس فل کورٹ سنے؟ عدلیہ کی آزادی کا ہر مقدمہ فل کورٹ نے سنا تھا؟ اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ افتخار چودھری کیس سمیت کئی مقدمات فل کورٹ نے سنے۔

    چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ 1996 سے عدلیہ کی آزادی کے مقدمات سنے جارہے ہیں، بظاہر یہ آپ کا مقدمہ نہیں لگتا کہ فل کورٹ بنائی جائے۔ اٹارنی جنرل نے کہا کہ عدلیہ کی آزادی کے تمام مقدمات فل کورٹ نے نہیں سنے۔

    سیالکوٹ :مراد پور پولیس کی کاروائی،شمعون گینگ کے چار ڈکیت گرفتار

    جسٹس عائشہ ملک کا کہنا تھا کہ آپ کی منطق سمجھ سے باہر ہے فل کورٹ کا فیصلہ اچھا اور تین رکنی بینچ کا برا ہو گا۔ جسٹس منیب اختر نے کہا کہ فل کورٹ کا جواب خود پارلیمنٹ نے اپنے بنائے گئے قانون میں دے دیا ہے۔ عدالتی اصلاحات بل کے مطابق پانچ رکنی بینچ آئین کی تشریح کا مقدمہ سنے گا۔ یا تو آپ کہیں کہ پارلیمنٹ نے قانون غلط بنایا ہے جسٹس اعجازالاحسن کا کہنا تھا کہ کیا آپ کا مدعا یہ ہےکہ رولز فل کورٹ نے بنائے تو تشریح بھی وہی کرے؟

    جسٹس منیب اختر کا کہنا تھا کہ فل کورٹ کا جواب خود پارلیمنٹ نے اپنے بنائےگئے قانون میں دے دیا ہے، عدالتی اصلاحات بل کے سیکشن4 کے مطابق کمیٹی کا بنایا گیا 5 رکنی بینچ آئین کی تشریح کا مقدمہ سنےگا، جب پارلیمنٹ خود اپنے ایکٹ میں5 رکنی بینچ کہہ رہی ہے تو کیا آپ یہ کہہ رہے ہیں کہ پارلیمنٹ نے قانون غلط بنایا ہے؟

    اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ عدالت نے قانون پر عمل درآمد سے روک رکھا ہے۔ جس پر جسٹس منیب اختر نے کہا کہ اگر حکم امتناع نہ ہوتا تو فل کورٹ کی استدعا کہا جاتی؟پارلیمنٹ کہتی ہے کہ پانچ رکنی بینچ ہو اٹارنی جنرل کہتے ہے فل کورٹ ہو۔ لگتا ہے حکومت کی گنتی کمزور پڑگئی ہے کہ یہاں کتنے ججز بیٹھے ہیں۔

    پرویز الٰہی جھوٹ بولنے سے پرہیز کریں تو بہتر ہوگا. نگران وزیر اطلاعات پنجاب

    اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ فل کورٹ کی استدعا کیس کی مناسبت سے کی جاسکتی ہے، قانون میں کم سےکم 5 ججزکا لکھا ہے۔ جسٹس منیب اختر کا کہنا تھا کہ پارلیمنٹ 5 ججز سے مطمئن ہے تو اٹارنی جنرل یا کابینہ کیوں نہیں؟

    جسٹس عائشہ ملک کا کہنا تھا کہ پارلیمنٹ کے بنائے گئے قوانین کےخلاف درخواستیں عدالت معمول میں سنتی ہے، ہائی کورٹس بھی قوانین کے خلاف درخواستیں سنتی ہیں، کیا ہائی کورٹ میں بھی فل کورٹ کی استدعا کی گئی؟

    جسٹس مظاہرعلی کا کہنا تھا کہ یہ اپنی نوعیت کا پہلا مقدمہ نہیں ہے، 2012 میں بھی اس نوعیت کا مقدمہ سنا جاچکا ہے، فل کورٹ کی درخواست میں لکھا ہےکہ بینچ حکم امتناع میں اپنا موقف دے چکا ہے جسٹس منیب اختر نےکہا کہ کیا لاہور ہائی کورٹ میں فل کورٹ میں60 اور سندھ ہائی کورٹ میں 40 ججز سماعت کریں گے؟ اس پر اٹارنی جنرل نےکہا کہ عدالتی اصلاحات بل ہائی کورٹ میں چیلنج نہیں اس پربات نہیں کروں گا۔

    جسٹس شاہد وحید کا کہنا تھا کہ درخواست میں وفاق نے چیف جسٹس کو حکم دینے کی استدعا کر رکھی ہے، اس طرح کی استدعا پر عدالت کس قسم کا حکم دے سکتی ہے؟چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ وفاق کی استدعا اچھے الفاظ میں نہیں لیکن سمجھ چکے ہیں۔

    عمران خان نے اداروں کوبدنام کرنے کی ہر حد پار کردی ہے. آصف علی زرداری …

    اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ ذوالفقار علی بھٹو نے اپنی پھانسی کے مقدمے میں بینچ پر اعتراض کیا تھا۔ جج پر اعتراض ہوا اور 9 رکنی فل کورٹ نے مقدمہ سنا۔ اس وقت کے چیف جسٹس انورالحق نے اعتراض مسترد کیا۔ نو رکنی فل کورٹ میں چیف جسٹس خود بھی شامل تھے۔ موجودہ درخواست میں کسی جج یا چیف جسٹس پر اعتراض نہیں۔

    چیف جسٹس نے کہا کہ اعتراض ہو تو فیصلہ جج نے کرنا ہوتا ہے کہ وہ مقدمہ سنے یا نہیں۔ تعین کرنا ہے کہ بینچ کن حالات میں فل کورٹ تشکیل دینے کا کہہ سکتا ہے۔عدالت کو اس حوالے سے مزید معاونت چاہیے۔اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ معاملہ صرف آئین کی تشریح یا عدالت کی آزادی کا نہیں ہے، آئینی ترامیم کیس میں عدالت نے فوجی عدالتیں درست قرار دی تھیں۔

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال کا کہنا تھا کہ موجودہ کیس آئینی ترامیم کا نہیں ہےججز پر الزام لگے تو ٹرائل سپریم کورٹ کا ہوتا ہے۔ معاملہ سنگین نوعیت کا ہونے پر ہی فل کورٹ بنا تھا اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ عدالتی فیصلہ مستقبل کے لیے ہوتا ہے، 20 سال بعد شاید زمینی حقائق اور آئین مختلف ہو، استدعا ہے کہ عدالت فل کورٹ بنائے۔

    تحریک انصاف سے تعلق رکھنے والے متعدد رہنماء پیپلز پارٹی میں شامل

    مسلم لیگ ن کے وکیل بیرسٹر صلاح الدین نے فل کورٹ پر دلائل دیتے ہوئےکہا کہ حکم امتناع کے ذریعے پہلی بار قانون پر عمل درآمد روکا گیا ہے، فل کورٹ کے لیے درخواستیں معمول میں دی جاتی ہیں، جسٹس فائز عیسٰی کیس میں بھی فل کورٹ بینچ تشکیل دیا گیا تھا۔

    جسٹس اعجازالاحسن کا کہنا تھا کہ جسٹس فائز عیسٰی کیس کا معاملہ چیف جسٹس کو بھجوایا گیا تھا، چیف جسٹس خود جسٹس فائزعیسٰی کیس نہیں سن رہے تھےبیرسٹرصلاح الدین کا کہنا تھا کہ سات رکنی بینچ نے فل کورٹ تشکیل دینےکی ہدایت کی تھی، بعض اوقات بینچ خود بھی فل کورٹ کی تشکیل کے لیے فائل چیف جسٹس کوبھجواتا ہے۔

    چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ افتخار چوہدری اور جسٹس فائز عیسٰی کیسز صدارتی ریفرنس پر تھے، ججز پر الزام لگے تو ٹرائل سپریم کورٹ کا ہوتا ہے، معاملہ سنگین نوعیت کا ہونے پر ہی فل کورٹ بنا تھا، دونوں ججز کے خلاف ریفرنس سپریم کورٹ نے کالعدم قرار دیے، کسی اور مقدمے میں فل کورٹ کی مثال ہے تو دیں۔بیرسٹر صلاح الدین کا کہنا تھا کہ آئی جی جیل خانہ جات کیس میں بھی فل کورٹ تشکیل دی گئی تھی۔

    جسٹس منیب اختر کا کہنا تھا کہ افتخار چوہدری کیس میں جج کو معزول کردیا گیا تھا، وہ ماسٹر آف روسٹرکا اختیار استعمال نہیں کرسکتے تھے، معزولی کے بعد قائم مقام چیف جسٹس اس اختیار کو استعمال کر رہے تھے، مسلم لیگ ن پارلیمنٹ کی سب سے بڑی جماعت ہے، جو قانون پارلیمنٹ نے بنایا ہے اس میں 5 رکنی بینچ کی بات کی گئی ہے، مسلم لیگ ن فل کورٹ کی استدعا کیسے کرسکتی ہے؟

    کراچی؛ ضمنی بلدیاتی انتخابات کے غیرسرکاری و غیرحتمی نتائج آنے کا سلسلہ جاری

    جسٹس محمد علی مظہر کا کہنا تھا کہ مسلم لیگ ن نے درخواست میں موجودہ بینچ پر اعتراض اٹھایا ہے،کیا مسلم لیگ ن کو موجودہ بینچ پر اعتماد نہیں ہے؟

    چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ اگر آپ نے نوٹس کیا ہو تو میں اس معاملے کو خاموشی سے سن رہا ہوں، کیس کو خاموشی سے اس لیے سن رہا ہوں کہ یہ چیف جسٹس کے اختیارات سے متعلق ہے، چیف جسٹس کو ہی بینچز بنانے کا اختیار ہے، فل کورٹ سےمتعلق کوئی جوڈیشل آرڈر دینا نہیں چاہتے جو مستقبل میں عدالتی نظیر کے طور پر استعمال ہو، موجودہ نکتے پر ابھی دلائل باقی ہیں اور دوسرے فریقین کو بھی سننا ہے۔

    بعد ازاں سپریم کورٹ نے اٹارنی جنرل کو پارلیمانی کارروائی کا ریکارڈ کل تک جمع کرانےکا حکم دیتے ہوئے سپریم کورٹ میں پریکٹس اینڈ پروسیجر بل کیخلاف درخواستوں پر سماعت 3 ہفتوں تک ملتوی کردی گئی۔

    شہباز شریف سے اسکاٹ لینڈ فرسٹ منسٹر کی ملاقات؛ سرمایہ کاری سمیت مختلف شعبوں …

  • جسٹس مسرت ہلالی بطور چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ تعینات

    جسٹس مسرت ہلالی بطور چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ تعینات

    پشاور: صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے جسٹس مسرت ہلالی کی بطور چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ تعیناتی کی منظوری دے دی۔

    باغی ٹی وی : جسٹس مسرت ہلالی پشاور ہائی کورٹ میں بطور قائم مقام چیف جسٹس کی ذمہ داریاں ادا کر رہی ہیں صدر مملکت نے چیف جسٹس کی تعیناتی کی منظوری آئین کے آرٹیکل 175 اے 13 کے تحت دی۔

    جسٹس مسرت ہلالی پشاور ہائی کورٹ کی سینئر ترین جج ہیں اور پشاور ہائی کورٹ کی چیف جسٹس کا عہدہ سنبھالنے والی پہلی خاتون ہیں۔

    مسرت ہلالی نے پشاور یونیورسٹی کے خیبر لا کالج سے قانون کی تعلیم حاصل کی جس کے بعد 1983 میں ڈسٹرکٹ کورٹس میں وکالت شروع کی اس کے بعد وہ 1988 میں ہائی کورٹ اور 2006 میں سپریم کورٹ آف پاکستان میں وکالت کی بھی اہل قراردے دی گئی تھیں۔

    مسرت ہلالی کا جوڈیشل کریئر بھی شاندار رہا ہے۔ انھیں سنہ 2013 میں ایڈیشنل جج کے طور پر تعینات کیا گیا تھا اور پھر سال 2014 میں انھیں پشاور ہائی کورٹ کا مستقل جج تعینات کیا گیا جسٹس ہلالی بطور جج تعینات ہونے سے قبل مختلف ادوار میں پشاور ہائیکورٹ بارکی پہلی سیکرٹری اور نائب صدر کے عہدے پر بھی کام کرتی رہی ہیں۔

    انھوں نے بطور ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل خیبر پختونخوا، چیئرپرسن خیبر پختونخوا انوائرمنٹل پروٹیکشن ٹربیونل کے علاوہ خواتین کے کام کے مقامات پر ہراسانی کے خلاف محتسب کے عہدے پر بھی کام کیا ہے۔

    جسٹس مسرت ہلالی نے اُس وقت ایک جج کے حیثیت سے حلف اٹھایا جب صوبے میں شدت پسندی عروج پر تھی اور ان دنوں میں جبری گمشدہ افراد کے کیسز بڑی تعداد میں رپورٹ ہو رہے تھے جبکہ انھی دنوں میں ایکشن ان ایڈ آف سول پاور ریگولیشن جیسے قوانین بھی سامنے آئے تھے۔

  • یورینس کے چاربڑے چاندوں میں ممکنہ طور پر پانی موجود ہے،ناسا

    یورینس کے چاربڑے چاندوں میں ممکنہ طور پر پانی موجود ہے،ناسا

    ناسا کی جانب سے ایک تحقیق میں انکشاف کیا گیا ہے کہ نظامِ شمسی کے ساتویں سیارے یورینس کے چاربڑے چاندوں میں ان کے مرکز اور برفیلے خول کے درمیان ممکنہ طور پر پانی موجود ہے۔

    باغی ٹی وی: امریکی خلائی ایجنسی ناسا کی جانب سے کی جانے والی تحقیق، ایسی پہلی تحقیق ہے جس میں یورینس کے پانچوں بڑے چاندوں (ایریئل، امبریئل، ٹائٹینیا، اوبیرون اور مِیرانڈا) کے سانچے اور اندرونی تشکیل کے ارتقاء کے متعلق تفصیل سے بتایا گیا ہے تحقیق کے مطابق چار چاندوں میں سمندر موجود ہیں جو ممکنہ طور پر میلوں گہرے ہوسکتے ہیں۔

    تنہائی سگریٹ نوشی سےزیادہ خطرناک،جبکہ قبل از وقت موت کےخطرےکو30 فیصد تک بڑھا دیتی ہے


    ناسا کے وائجر خلائی جہاز کے ڈیٹا کا دوبارہ تجزیہ، نئے کمپیوٹر ماڈلنگ کے ساتھ، ناسا کے سائنسدانوں کو اس نتیجے پر پہنچا ہے کہ یورینس کے سب سے بڑے چاندوں میں سے چار ممکنہ طور پر اپنے کور اور برفیلی پرتوں کے درمیان ایک سمندری تہہ پر مشتمل ہیں-

    مجموعی طور پر، کم از کم 27 چاند یورینس کے گرد چکر لگاتے ہیں، جس میں چار سب سے بڑے ایریئل سے لے کر، 720 میل (1,160 کلومیٹر) کے اس پار، ٹائٹینیا تک ہیں، جو 980 میل (1،580 کلومیٹر) تک ہیں سائنسدانوں نے طویل عرصے سےٹائٹینیا کےسائز کو دیکھتے ہوئےسوچا ہے کہ اندرونی حرارت کو برقرار رکھنے کا سب سے زیادہ امکان ہے، جو تابکار کشی کی وجہ سے ہوتا ہے۔

    ماہرین فلکیات کا پہلی بار ستارے کو نگلتے ہوئے سیارے کا مشاہدہ کرنے کا دعویٰ

    دوسرے چاند کو پہلے بڑے پیمانے پر بہت چھوٹا سمجھا جاتا تھا کہ وہ اندرونی سمندر کو جمنے سےبچانے کے لیے ضروری حرارت کو برقرار رکھنے کے لیے بہت چھوٹا سمجھے جاتے تھے، خاص طور پر اس لیے کہ یورینس کی کشش ثقل کی وجہ سے پیدا ہونے والی حرارت گرمی کا صرف ایک معمولی ذریعہ ہے۔

    نیشنل اکیڈمیز کے 2023 پلانیٹری سائنس اینڈ ایسٹروبائیولوجی ڈیکاڈل سروے نےیورینس کی تلاش کو ترجیح دی۔ ایسے مشن کی تیاری میں، سیاروں کے سائنس دان پراسرار یورینس نظام کے بارے میں اپنے علم کو بڑھانے کے لیے برف کےپہاڑوں پر توجہ مرکوز کر رہے ہیں۔

    جنوبی کیلی فورنیا میں ناسا کی جیٹ پروپلشن لیبارٹری کے لیڈ مصنف جولی کاسٹیلوروگیز نے کہا کہ جرنل آف جیو فزیکل ریسرچ میں شائع ہوا، نیا کام یہ بتا سکتا ہے کہ مستقبل کا مشن چاندوں کی تحقیقات کیسے کر سکتا ہےلیکن اس مقالے میں ایسے مضمرات بھی ہیں جو یورینس سے آگے بڑھتے ہیں-

    چاند کی مٹی سے آکسیجن حاصل کرنا ممکن ہے،ناسا

    ناسا کی جیٹ پروپلژن لیبارٹری کی جولی کاسٹیلو روگیزنےایک بیان میں کہا کہ جب چھوٹےاجرامِ فلکی کی بات آتی ہےتوماضی میں سیاروی سائنس دانوں کو متعدد غیر متوقع جگہوں پر سمندروں کے شواہد ملے ہیں۔ ان جگہوں میں بونے سیارے سِیریز اور پلوٹو اور سیارے زحل کا چاند مِیماس شامل ہیں۔لہٰذا ان جگہوں پر کچھ ایسے نظام ہیں جن کو ہم مکمل طور پر سمجھ نہیں پا رہے۔

    ناسا کا کہنا تھا کہ یہ دریافت وائجر اسپیس کرافٹ سے حاصل ہونے والے اصل ڈیٹا کا دوبارہ تجزیہ کرنے کے بعد ہوئی ہے۔ وائجر نے یہ تفصیلی معلومات 1980 کی دہائی میں یورینس کے قریب سے دو بار گزرنے کے دوران اکٹھا کی تھیں۔

    ڈیٹا کے استعمال کے ساتھ ناسا سائنس دانوں نے روایتی ٹیلی اسکوپ کا استعمال کرتے ہوئے سیاروں کے کمپیوٹر ماڈل بنائے جن میں ناسا کے گیلیلیو، کیسینی، ڈان اور نیو ہورائزنز سے حاصل ہونے والی معلومات بھی شامل تھیں۔

    زمین موسمیاتی تبدیلیوں کے بحران کے باعث "نامعلوم مقام” پر پہنچ گئی ہے،سائنسدانوں کا انتباہ …

  • 100 واں ڈے،پی سی بی نے بابر اعظم کی فتوحات کی فہرست جاری کر دی

    100 واں ڈے،پی سی بی نے بابر اعظم کی فتوحات کی فہرست جاری کر دی

    کراچی: پاکستان ٹیم کے کپتان اور تینوں فارمیٹ میں درجنوں اعزاز رکھنے والے بابر اعظم نیوزی لینڈ کے خلاف سیریز کے پانچویں اور آخری ون ڈے میچ 100 واں ون ڈے کھیلنے والے کھلاڑی بن گئے جبکہ پاکستان کو ون ڈے کی نمبر ون ٹیم بنانے والے کپتان کا سہرا بھی حال ہی میں بابر اعظم کے سر سجا ہے۔

    باغی ٹی وی : بابر اعظم کے 100 ویں ون ڈے کے موقع پر پاکستان کرکٹ بورڈ کی جانب سے بابر اعظم کے ون ڈے اعزازات کی ایک فہرست شیئر کی گئی ہے جبکہ پی سی بی نے ا خدمات کے اعتراف میں بابراعظم کو میچ سے قبل 100 میچز مکمل ہونے پر انہیں یادگاری ٹی شرٹ بھی دی جبکہ بابر اعظم کے پہلے ون ڈے کھیلنے کی ویڈیو شئیر بھی کی-

    نمبر ون ٹیم بنانے پر انعام کے طور پر ورلڈکپ تک بابر اعظم کپتان برقرار


    پی سی بی کی جانب سے جاری فہرست کے مطابق بابر اعظم اپنے پہلے 25 ون ڈے میچز میں کسی بھی بیٹر سے زیادہ (1306 ) رنز بنانے اور کم سے کم 97 اننگز میں 5 ہزار رنز بنانے والے کرکٹر کا اعزاز رکھتے ہیں ون ڈے میچز کی تاریخ میں بابر اعظم وہ واحد بیٹر ہیں جن کی ون ڈے ایوریج 59.85 رہی، ون ڈے میچز میں اب تک یہ اعزاز صرف بابر اعظم کے پاس ہے۔

    زلمی فاونڈیشن نے ارشد ندیم کو 10 لاکھ روپےانعام دے دیئے

    پی سی بی کے مطابق بطور کپتان 20 ون ڈے میچز میں بابر اعظم کی ایوریج کسی بھی کپتان کےمقابلے سب سے زیادہ75.17 رہی،دوسرے نمبر پر بھارتی ویرات کوہلی ہیں جن کی اوسط 72.65 رہی بابر کی 18 ون ڈے سنچریز کے میچز میں سے 14 میچز میں پاکستان کو فتح ملی،3 میں شکست جبکہ ایک میچ ٹائی ہوا۔

    جاری فہرست کے مطابق کپتان بابر اعظم وہ واحد بیٹر ہیں جو دو مرتبہ تین لگاتار ون ڈے سنچریز بناچکے ہیں بابر اعظم 757 دن تک ون ڈے بیٹرز رینکنگ میں نمبر ون رہے ہیں 2019 کے ون ڈے ورلڈکپ کے دوران بابر اعظم نے بطور پاکستانی بیٹر 474 رنز بنائے اس سے قبل کسی ایک ورلڈکپ میں اتنے رنز بنانے کا اعزاز کسی پاکستانی بیٹر کو حاصل نہیں رہا۔

    شاہد آفریدی کا کراچی میں لیجنڈز ارینا کے قیام کا اعلان


    پی سی بی کے مطابق بابر اعظم آئی سی سی چیمپیئن ٹرافی کی فاتح ٹیم میں شامل تھے بابر وہ واحد پاکستانی بلے باز ہیں جنہیں آئی سی سی مینز اوڈی آئی کرکٹر آف دی ایئر کے اعزاز سے نوازا گیا 2022 میں بابر اعظم نے سرگار فیلڈ سوبرز کرکٹر آف دی ایئر 2022 بھی اپنے نام کیا تھا 2020 میں بابر اعظم نے پاکستان کے ویلیوایبل کرکٹ آف دا ایئر کا ایوارڈ حاصل کیا-

    آئی سی سی ، ون ڈے پلیئرز کی رینکنگ جاری ،فخر زمان بابر اعظم …

  • ملک میں انتہا پسندانہ رویوں کی وجہ عمران خان ہے،مریم اورنگزیب

    ملک میں انتہا پسندانہ رویوں کی وجہ عمران خان ہے،مریم اورنگزیب

    اسلام آباد: وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب نے کہا ہے کہ فارن ایجنٹ کا بیان سُن کر لگتا ہے فارن ایجنٹ نے وزیراعظم شہباز شریف کی برطانوی بادشاہ کے ساتھ ویڈیو دیکھ لی ہے-

    باغی ٹی وی: عمران خان کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئےانہوں ٹوئٹر پرجاری اپنے بیان میں کہا کہ ملکی مسائل کا حل یہ ہے کہ تم جیل جاؤ اورملک کے خلاف سازش، جھوٹ اور چوریوں پر تمہیں سزا ہو، تمہارا شر، زہر، غلیظ ذہنیت، معاشرے میں عدم برداشت اور تشدد پیدا کررہا ہے۔

    اسلام آباد: دفعہ 144کی خلاف ورزی پر تحریک انصاف کے خلاف مقدمہ درج

    انہوں نے کہا کہ ملک کو تم جیسا فراڈ، فتنہ، فساد، انتشار اور خلفشار نہیں بلکہ روٹی، روزگار اور کاروبار چاہیے، ملک میں انتہا پسندانہ رویوں کی وجہ تم ہو جس کی وجہ سے آج جتھوں کے ہاتھوں لوگوں کا قتل ہو رہا ہے، ہندوستان، کبھی کشمیر، کبھی اسلام پر گھٹیا سیاست کرتے آ رہے ہو اور آج بھی کر رہے ہو۔


    مریم اورنگ زیب نے کہا کہ مودی کی کامیابی کی دعائیں کرنے والے کی باتیں سنو؟ بے شرم، فارن ایجنٹ نے فتنہ، فساد اور انتشار کی کال صرف شہباز شریف کی عالمی رہنماؤں سے ملاقاتوں اور چینی وزیر خارجہ کی پاکستان آمد کو دیکھ کر دی ہے۔ چین کے وزیرِ خارجہ کو دیکھ کر دی ہے،فارن ایجنٹ نے فتنہ، فساد اور انتشار کی کال صرف شہباز شریف کی بادشاہ چارلس کے ساتھ ویڈیو دیکھ کر دی ہے اور سی پیک پر کام کی رفتار تیز ہوتے ہی فارن فنڈڈ ایجنٹ کو پاگل پن کا دورہ پڑ گیا ہے۔

    عمران خان کی کینیڈین اپوزیشن پارٹی کے لیڈر سے ملاقات

    وزیر اطلاعات نے کہا کہ وزیر خارجہ بلاول بھٹو کے کامیاب دورہ بھارت اور بھارتی وزیر خارجہ کوجواب کے بعد عمران خان مکمل پاگل ہو گیا ہے، وزیراعظم شہباز شریف برطانیہ کے بادشاہ سمیت عالمی رہنماؤں سے ملاقات کر ر ہے ہیں، شہباز شریف کیا کررہے ہیں، تم دیکھ نہیں سکتے کیونکہ تم نے سر پر کالی بالٹی پہنی ہوئی۔

    انہوں نے کہا کہ ملک میں عدم برداشت پھیلانے والے کی وجہ سے آج پاکستان کے اندر جتھے قاتل بن گئے ہیں، تم 2013ء سے احتجاج اور سڑکوں پر ہو اور رو رہے ہو اورمستقبل میں بھی اسی طرح روتےاور پیٹتے ہی رہوگےالیکشن ضرور ہوگا لیکن تم کبھی سلیکٹ نہیں ہوسکو گے کیونکہ اب نہ فیض، نہ کھوسہ، نہ ثاقب نثار اور نہ ہی باجوہ ہیں، اب تم سڑکوں پر نہیں عدالت جاؤ گے۔

    لندن میں نواز شریف کے نام پرنامعلوم افراد نے تین گاڑیاں رجسٹرکرالیں،لندن پولیس کی تحقیقات …

  • عمران خان کی کینیڈین اپوزیشن پارٹی کے لیڈر سے ملاقات

    عمران خان کی کینیڈین اپوزیشن پارٹی کے لیڈر سے ملاقات

    لاہور: چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے زمان پارک لاہور میں کینیڈا کی اپوزیشن پارٹی کے لیڈر پیٹرک براؤن ملاقات کی-

    باغی ٹی وی :چیئرمین تحریک انصاف عمران خان سے زمان پارک لاہور میں کینیڈا کی اپوزیشن پارٹی کے لیڈر پیٹرک براؤن کی قیادت میں وفد نے ملاقات کی ملاقات میں پاکستان کی سیاسی صورت حال اور معاشی پالیسیوں کے حوالے سے گفتگو ہوئی-

    اسلام آباد: دفعہ 144کی خلاف ورزی پر تحریک انصاف کے خلاف مقدمہ درج

    عمران خان نے وفدکو پاکستان میں انتخابات کے حوالے سے حکومتی رویےسے بھی آگاہ کیا عمران خان کا کہنا تھا کہ وہ ملک کو فلاحی ریاست بنانا چاہتے ہیں جہاں سب کے لیے یکساں قانون ہو حکمران انتخابات سے خوفزدہ ہیں اور وہ انتخابات کا راستہ روکنے کے لیے آئین شکنی کا راستہ اختیار کر رہے ہیں۔

    کینیڈا: البرٹا میں کئی مقامات پر لگی جنگلات کی آگ بے قابو ہوگئی ،ایمرجنسی نافذ

    ملاقات کرنے والوں میں کینیڈا میں پی ٹی آئی کے رہنما عامر خان، اشفاق احمد، چوہدری ظفر، میاں عدنان اور مدثر مچانہ شامل تھے جبکہ سینیٹر فیصل جاوید بھی اس موقع پر موجود تھے۔

    لندن میں نواز شریف کے نام پرنامعلوم افراد نے تین گاڑیاں رجسٹرکرالیں،لندن پولیس کی تحقیقات جاری