Baaghi TV

Author: Ayesha Rehmani

  • اسکول جانے سے روکنےکیلئے لڑکیوں کو زہر دیئے جانے کا انکشاف

    اسکول جانے سے روکنےکیلئے لڑکیوں کو زہر دیئے جانے کا انکشاف

    ایران میں اسکول جانے سے روکنےکیلئے لڑکیوں کو زہر دیئے جانے کا انکشاف ہوا ہے۔

    باغی ٹی وی: غیر ملکی میڈیا کے مطابق اس بات کا انکشاف ایک ایرانی نائب وزیریونس پناہی نے کیا، جن کا کہنا ہے کہ ایران میں اسکول کی طالبات کو زہر دیا گیا کیونکہ کچھ افراد لڑکیوں کی تعلیم کو روکنا چاہتے ہیں۔

    رپورٹس کے مطابق دارالحکومت تہران کے جنوب میں واقع وقم میں گزشتہ سال نومبر سے اسکول کی طالبات میں زہر کی وجہ سے سانس لینے کی تکلیف کے سیکڑوں کیسز سامنے آئے جن میں کئی لڑکیوں کو اسپتال میں داخل کرایا گیا۔


    اتوار کو نائب وزیر صحت یونس پناہی نے واضح طور پر تصدیق کی کہ جان بوجھ کر لڑکیوں کو زہر دیا گیا تھایونس پناہی نے کہا کہ کچھ لوگ چاہتے تھے کہ خاص طور پر لڑکیوں کے اسکول بند کردیے جائیں اس لیے طالبات کو زہر دیا گیا۔

    انہوں نے مزید تفصیل نہیں بتائی اور نہ کسی ہلاکت کا معلوم ہوسکا۔رپورٹس میں بتایا گیا کہ ابھی تک لڑکیوں کو زہر دینے کے واقعات کے خلاف کوئی گرفتاری عمل میں نہیں آئی۔

    خبر رساں ایجنسی کے مطابق 14 فروری کو کئی بیمار طالبات کے والدین نے حکام سے بچیوں کے بیمار ہونے پر وضاحت طلب کی۔تاہم اگلے دن حکومتی ترجمان علی بہادری نے کہا کہ انٹیلی جنس اور حکام زہر دینے کی وجہ تلاش کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔

    گزشتہ ہفتے پراسیکیوٹر جنرل محمد جعفر نے ان واقعات کی عدالتی تحقیقات کا حکم دیا تھا۔

  • عمران خان مختلف مقدمات میں پیشیوں کیلئے اسلام آباد روانہ

    عمران خان مختلف مقدمات میں پیشیوں کیلئے اسلام آباد روانہ

    اسلام آباد: چئیرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان مختلف مقدمات میں پیشیوں کیلئے عدالت روانہ ہوگئے-

    باغی ٹی وی: عمران خان کے خلاف اسلام آباد کی عدالتوں میں آج 4 مختلف کیسز کی سماعت ہوگی۔

    عمران خان انسداد دہشتگردی عدالت اور بینکنگ کورٹ سمیت سیشن عدالت کے 2 کیسز میں پیش ہوں گے۔

    چیئرمین عمران خان آج بینکنگ کورٹ ممنوعہ فنڈنگ کیس میں جج رخشندہ شاہین کے سامنے پیش ہوں گے۔

    انسداد دہشت گردی عدالت اقدام قتل کیس جج راجہ جواد عباس کے سامنے پیش ہوں گے جبکہ توشہ خانہ کیس میں جج ظفر اقبال کے سامنے پیش ہوں گے​-

    دوسری جانب چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کی اسلام آباد روانگی کا پروگرام تبدیل کردیا گیا ہے۔

    پی ٹی آئی کے رہنما میاں اسلم اقبال کے مطابق عمران خان کا آج اسلام آباد روانگی پروگرام تبدیل ہوگیا ہے،وہ طیارے کے بجائے موٹروے سے اسلام آباد روانہ ہوں گے۔

    انہوں نے بتایا کہ عمران خان لاہور میں اپنی رہائش گاہ سے صبح ساڑھے 7 بجے روانہ ہوں گے،سابق وزیر اعظم کے ساتھ پی ٹی آئی کارکن بھی اسلام آباد جائیں گے۔

  • ممتاز شاعر ، ملی و فلمی نغمہ نگار کلیم ثانی

    ممتاز شاعر ، ملی و فلمی نغمہ نگار کلیم ثانی

    ہے اگرچہ شہر میں اپنی شناسائی بہت
    پھر بھی رہتا ہے ہمیں احساس تنہائی بہت

    کلیم عثمانی

    کلیم عثمانی پاکستان سے تعلق رکھنے والے اردو کے ممتاز شاعر اور ملی و فلمی نغمہ نگار ہیں، جو اپنے گیت تیرا سایا جہاں بھی ہو سجنا، پلکیں بچھا دوں، ملی نغمہ اس پرچم کے سائے تلے ہم ایک ہیں اور یہ وطن تمہارا ہے، تم ہو پاسباں اس کے کی وجہ سے شہرت رکھتے ہیں۔

    حالات زندگی
    ۔۔۔۔۔۔۔
    کلیم عثمانی 28 فروری، 1928ء کو دیوبند، سہارنپور، برطانوی ہندستان میں پیدا ہوئے۔ ان کا اصل نا م احتشام الہٰی تھا۔ ان کے خاندان کا تعلق مولانا شبیر احمد عثمانی سے جا ملتا ہے۔ کلیم عثمانی کو بچپن سے ہی شاعری کا شوق تھا۔ والد فضل الہٰی بیکل بھی اپنے زمانے کے اچھے شاعر تھے۔ شروع میں والد سے شاعری میں اصلاح لی۔1947ء میں ان کا خاندان ہجرت کر کے لاہور منتقل ہو گیا۔ کلیم عثمانی نے یہاں احسان دانش کی شاگردی اختیار کی۔

    ان کی آواز میں ترنم تھا اس لیے مشاعروں میں انہیں خوب داد ملتی تھی۔ پھر انہوں نے فلمی نغمہ نگاری کے میدان میں قدم رکھا۔ سب سے پہلے انہوں نے 1955ء میں فلم انتخاب کے گیت تحریر کیے اس فلم کی موسیقی فیروز نظامی نے مرتب کی تھی۔اس کے بعد انہوں نے ہمایوں مرزا کی فلموں بڑا آدمی، راز، دھوپ چھاؤں کے نغمے لکھے۔ فلم راز کے لیے تحریر کردہ ان کا نغمہ میٹھی میٹھی بتیوں سے جیا نہ جلا بے مقبول ہوا۔ یہ نغمہ زبیدہ خانم نے گایاتھا اور اس کی موسیقی فیروز نظامی نے ترتیب دی تھی۔

    1966ء میں فلم ہم دونوں میں ان کی غزل ان کی نظروں سے محبت کا جو پیغام ملا نے ان کی شہرت کو بام عروج پر پہنچادیا۔ یہ گیت رونا لیلیٰ نے گایا تھا اور اس کی موسیقار نوشاد نے ترتیب دی تھی۔ بعد ازاں کلیم عثمانی لاہور منتقل ہو گئے جہاں انہوں نے متعدد فلموں میں مقبول گیت تحریر کیے جن میں ان کی اس زمانے کی فلموں میں عصمت، جوش انتقام، ایک مسافر ایک حسینہ، عندلیب، نازنین، دوستی، بندگی، نیند ہماری خواب تمہارے اور چراغ کہاں روشنی کے نام شامل ہیں۔

    1973ء میں انہوں نے فلم گھرانہ کے گیت تیرا سایہ جہاں بھی ہو سجنا اور 1978ء میں فلم زندگی کے گیت تیرے سنگ دوستی ہم نہ چھوڑیں کبھی پر نگار ایوارڈ حاصل کیے۔ فلم فرض اور مامتا میں انہوں نے ایک ملی گیت اس پرچم کے سائے تلے ہم ایک ہیں تحریر کیا۔ روبن گھوش کی موسیقی اور نیرہ نور اور ساتھیوں کی آواز میں گایا ہوا یہ گیت آج بھی بے حد مقبول ہے۔ اس کے علاوہ ان کا تحریر کردہ ایک اور ملی نغمہ یہ وطن تمہارا ہے، تم ہو پاسباں اس کے کا شمار بھی پاکستان کے مقبول ملی نغمات میں ہوتا ہے اور اسے مہدی حسن نے گایا۔

    کلیم عثمانی کی غزلیات کا مجموعہ دیوار حرف اور نعتیہ مجموعہ ماہ حرا کی نام سے شائع ہوا۔

    مشہور نغمات
    ۔۔۔۔۔۔۔
    اس پرچم کے سائے تلے ہم ایک ہیں (فرض اور مامتا)
    تیرا سایہ جہاں بھی ہو سجنا (گھرانہ)
    یہ وطن تمہارا ہے، تم ہو پاسباں اس کے
    ان کی نظروں سے محبت کا جو پیغام ملا (ہم دونوں)
    میٹھی میٹھی بتیوں سے جیا نہ جلا (راز)
    پیار کر کے ہم بہت پچھتائے (عندلیب)
    تیرے سنگ دوستی ہم نہ توڑیں کبھی (زندگی)
    مستی میں جھومے فضا(نازنین)

    تصانیف
    ۔۔۔۔۔۔
    دیوار حرف (غزلیات)
    ماہ حرا (نعتیہ مجموعہ)

    اعزازات
    ۔۔۔۔۔۔۔
    کلیم عثمانی نے 1973ء میں انہوں نے فلم گھرانہ کے گیت تیرا سایہ جہاں بھی ہو سجنا اور 1978ء میں فلم زندگی کے گیت تیرے سنگ دوستی ہم نہ چھوڑیں کبھی پر نگار ایوارڈ حاصل کیے۔

    نمونۂ کلام
    ۔۔۔۔۔۔
    غزل
    ۔۔۔۔۔۔
    ہے اگرچہ شہر میں اپنی شناسائی بہت
    پھر بھی رہتا ہے ہمیں احساسِ تنہائی بہت
    اب یہ سوچا ہے کہ اپنی ذات میں سمٹے رہیں
    ہم نے کرکے دیکھ لی سب سے شناسائی بہت
    منہ چھپا کر آستین میں دیر تک روتے رہے
    رات ڈھلتی چاندنی میں اس کی یاد آئی بہت
    اپنا سایہ بھی جدا لگتا ہے اپنی ذات سے
    ہم نے اس سے دل لگانے کی سزا پائی بہت
    آئینہ بن کے وہ صورت سامنے جب آئی
    عکس اپنا دیکھ کر مجھ کو ہنسی آئی بہت
    میں تو جھونکا تھا اسیرِ دام کیا ہوتا کلیم
    اس نے زلفوں کی مجھے زنجیر پہنائی بہت

    غزل
    ۔۔۔۔۔۔
    رات پھیلی ہے تیرے ، سرمئی آنچل کی طرح
    چاند نکلا ہے تجھے ڈھونڈنے ، پاگل کی طرح
    خشک پتوں کی طرح ، لوگ اُڑے جاتے ہیں
    شہر بھی اب تو نظر آتا ہے ، جنگل کی طرح
    پھر خیالوں میں ترے قُرب کی خوشبو جاگی
    پھر برسنے لگی آنکھیں مری ، بادل کی طرح
    بے وفاؤں سے وفا کرکے ، گزاری ہے حیات
    میں برستا رہا ویرانوں میں ، بادل کی طرح

    وفات
    ۔۔۔۔۔۔
    کلیم عثمانی 28 اگست، 2000ء کو لاہور، پاکستان میں وفات پا گئے اور لاہور میں علامہ اقبال ٹاؤن میں کریم بلاک کے قبرستان میں سپردِ خاک ہوئے۔

  • از خود نوٹس کے اختیار کا استعمال انتہائی احتیاط کا متقاضی ہے،جسٹس اطہر من اللہ،میرا سماعت کو سننے کا کوئی فائدہ نہیں،جسٹس یحییٰ آفریدی

    از خود نوٹس کے اختیار کا استعمال انتہائی احتیاط کا متقاضی ہے،جسٹس اطہر من اللہ،میرا سماعت کو سننے کا کوئی فائدہ نہیں،جسٹس یحییٰ آفریدی

    اسلام آباد: جسٹس اطہر من اللہ نے کہا ہے کہ اسمبلیاں توڑنے کی آئینی اور قانونی حیثیت دیکھنا نا گزیر ہے۔

    باغی ٹی وی: پنجاب اور خیبر پختونخوا میں انتخابات کے معاملے پر سپریم کورٹ کے از خود نوٹس کے حوالے سے جسٹس اطہر من اللّٰہ نے اختلافی نوٹ میں لکھا کہ میں نے چیف جسٹس پاکستان کا آرڈر پڑھ لیا ہے،چیف جسٹس کے اوپن کورٹ میں دیا گیا آرڈر تحریری حکم نامے سے مطابقت نہیں رکھتا-

    چیف جسٹس اطہر من اللہ کا کہنا تھا صوبائی اسمبلیاں توڑنے کی آئینی اور قانونی حیثیت کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ کیا صوبائی اسمبلیاں جمہوریت کے آئینی اصولوں کو روند کر توڑی گئیں؟ ہمارے سامنے رکھے گئے سوال کو علیحدہ نہیں دیکھا جا سکتا۔

    جسٹس اطہر من اللّٰہ نے اپنے نوٹ میں سوال کیا ہے کہ کیا صوبائی اسمبلیاں جمہوریت کے آئینی اصولوں کو روند کر توڑی گئیں؟

    ان کا کہنا ہے کہ اسمبلیاں توڑنے کی قانونی حیثیت پر سوالات بنیادی حقوق کی سنگین خلاف ورزی سے متعلق ہیں، ہمارے سامنے آنے والا معاملہ پہلے ہی صوبائی آئینی عدالت کے سامنے موجود ہے اس معاملے کا سپریم کورٹ آنا ابھی قبل از وقت ہےکسی اور معاملے کو دیکھنے سے پہلے چیف جسٹس نے مجھ سے اس معاملے پر سوالات مانگے ہیں-

    کیا صوبائی اسمبلی توڑنے کی ایڈوائس دینا وزیرِ اعلیٰ کا حتمی اختیار ہے جس کی آئینی وجوہات کو دیکھنا ضروری نہیں؟

    کیا وزیرِ اعلیٰ اپنی آزادانہ رائے پر اسمبلی توڑ سکتا ہے یا کسی کی رائے پر؟

    کیا کسی بنیاد پر وزیرِ اعلیٰ کی ایڈوائس کو آئینی طور پر مسترد کیا جا سکتا ہے اور اسمبلی بحال کی جا سکتی ہے؟

    جسٹس اطہر من اللّٰہ نے کہا کہ میں نےجب عدالت میں آئینی نکات اٹھائےتو چیف جسٹس نے انہیں شامل کرنے پر اتفاق کیا، میرے سوالات پر بینچ کے کسی رکن نے اعتراض نہیں کیا، کھلی عدالت میں میرے سوالات کو شامل کر کے حکم نامہ لکھوایا گیا۔

    جسٹس اطہر من اللّٰہ نے یہ بھی کہا کہ اس عدالت کی آئین کی تشریح کے عام لوگوں اور آنے والی نسلوں پر اثرات ہیں، از خود نوٹس کے اختیار کا استعمال انتہائی احتیاط کا متقاضی ہے، یہ ناگزیر ہے کہ آئینی خلاف ورزیوں اور آئینی تشریح کے اہم معاملات کو فل کورٹ سنے، چیف جسٹس کے از خود نوٹس کے اختیار کی آئینی تشریح بھی ضروری ہوگئی ہے۔

    دوسری جانب جسٹس یحییٰ نے اپنے احتلافی نوٹ میں لکھا کہ فیصلہ جاری کرنے کے لیے عدالتی اختیارات کا استعمال ٹھیک نہیں ہو گا، معاملہ ابھی لاہور ہائیکورٹ اور پشاور ہائیکورٹ میں زیرِ التواء ہے جس پر فیصلہ ہونا باقی ہے، سپریم کورٹ کا دائرہ کار انڈی پینڈنٹ ہے جس کا دیگر عدالتوں میں زیرِ التواء معاملے سے تعلق نہیں۔

    جسٹس یحییٰ آفریدی نے لکھا کہ ماحول چارج ہے، سیاسی جماعتوں کا نکتہ نظر بھی ہے، عدالت تحمل کا مظاہرہ کرے، عدالت کی خواہش پر ردِ عمل سے بچنے کے لیے ایسا کرنا چاہیے، سپریم کورٹ کی سماعت کے دوران ریمارکس یا فیصلہ جاری کرنا پارٹیوں کے دعوؤں کے ساتھ تعصب ہو گا، یہ ہائی کورٹ کے قانونی دائرہ اختیار کی بھی توہین ہو گی۔

    اپنے نوٹ میں جسٹس یحییٰ آفریدی نے لکھا کہ اس طرح ہائی کورٹ کے دائرہ اختیار پربھی اثر ہو گا، ہائی کورٹ قانون کو عزت اور پختگی سے چلانے کا حق رکھتی ہےمیں تینوں درخواستوں کومسترد کرتا ہوں، ہمارے لیےآرٹیکل 184 (3) کا استعمال تینوں درخواستوں پر درست نہیں ہو گا میرا سماعت کو سننے کا کوئی فائدہ نہیں، میں بینچ پر اپنے آپ کو برقرار رکھنے کا فیصلہ چیف جسٹس پر چھوڑتا ہوں۔

  • آئی ایم ایف کا سگریٹس کی غیرقانونی خریدو فروخت سے 80 ارب کی ٹیکس چوری پر شدید تشویش کا اظہار

    آئی ایم ایف کا سگریٹس کی غیرقانونی خریدو فروخت سے 80 ارب کی ٹیکس چوری پر شدید تشویش کا اظہار

    اسلام آباد: عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) نے سگریٹس کی غیر قانونی خریدو فروخت سے 80 ارب کی ٹیکس چوری پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔

    باغی ٹی وی : ذرائع کے مطابق وزارت خزانہ اور ایف بی آر حکام نے وزیراعظم کو سگریٹس کی غیر قانونی خریدو فروخت پر بریفنگ دی ذرائع کے مطابق وزیرِ اعظم شہباز شریف نے غیرقانونی سگریٹس کی فیکٹریوں کے خلاف کارروائی کی ہدایت دے دی۔

    وزیراعظم ایف بی آرکو تمام سگریٹس فیکٹریوں پر ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم جلد لگانےکی ہدایت کی ہے،جبکہ اس حوالے سے کی جانے والی کارروائی کی ماہانہ رپورٹ بھی وزیراعظم کو پیش کی جائے گی-

    ایف بی آر ان لینڈ ریونیو انٹیلی جنس ٹیمیں غیرقانونی سگریٹس فیکٹریوں پرچھاپہ ماریں گی، غیر قانونی سگریٹس کے خلاف کارروائی کی رپورٹ آئی ایم ایف کو بھی بھیجی جائے گی۔

    ذرائع کے مطابق 2 درجن سے زائد سگریٹس مینوفیکچرنگ کمپنیاں تاحال ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم میں شامل نہیں ہیں-

  • سعودی عرب کا یوکرین کیلئے 40 کروڑ ڈالر کی امداد کا اعلان

    سعودی عرب کا یوکرین کیلئے 40 کروڑ ڈالر کی امداد کا اعلان

    ریاض: سعودی عرب کی جانب سے یوکرین کو انسانی بنیادوں پر 40 کروڑ ڈالر کی امداد دی جائے گی۔

    باغی ٹی وی: سعودی عرب نے یوکرین کے ساتھ ایک معاہدے اور مفاہمت کی ایک یادداشت (ایم او یو) پر دست خط کیے ہیں، جس کے تحت سعودی عرب جنگ زدہ ملک کو انسانی امداد کے طورپر40 کروڑڈالرنقدی یا مصنوعات کی شکل میں مہیّا کرے گا۔

    دونوں ملکوں کے درمیان یہ معاہدہ اور سمجھوتا اتوارکوسعودی وزیرخارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان کے یوکرینی دارالحکومت کیف کے دورے کے موقع پر طے پایا ہے ان کی قیادت میں سعودی وفد نے یوکرین کے صدرولودی میرزیلنسکی سے کیف میں ان کی صدارتی رہائش گاہ پرملاقات کی۔

    سعودی میڈیا کے مطابق شہزادہ فیصل بن فرحان نے ان ملاقاتوں میں باہمی دلچسپی کے علاقائی اور بین الاقوامی امورکے علاوہ مختلف شعبوں میں دوطرفہ تعاون بڑھانے کے مواقع پرتبادلہ خیال کیا۔

    سعودی میڈیا کا کہنا ہےکہ سعودی عرب کی سفارتی کوششوں کا مقصد یوکرین کے بحران کوپُرامن طریقے سے حل کرنا اور یوکرین اور اس کے عوام کوجنگ کے سماجی اور معاشی منفی اثرات کو کم کرنے کے لیے مدد مہیاکرنا ہے۔

    دست خط شدہ مفاہمت کی یادداشت کے مطابق سعودی فنڈ برائے ترقی یوکرین کی 30 کروڑ ڈالر مالیت کی تیل کی مصنوعات کی شکل میں مالی اعانت کرے گا اور اس پر فنڈ کے چیف ایگزیکٹو سلطان عبدالرحمٰن المرشد نے دست خط کیے تھے۔

    اس امدادی پیکج کا اعلان سب سے پہلے سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے گذشتہ سال اکتوبر میں یوکرین کے صدر سے فون پر بات چیت کے بعد کیا تھا۔ولی عہد نے کشیدگی میں کمی کی کوششوں کی حمایت اور تنازع کے حل کے لیے ثالثی کی کوششیں جاری رکھنے پرآمادگی کا اظہار کیا تھا۔

  • کالے جادو کے توڑ کیلئے قبر سے کھوپڑی نکالنے والاشخص گرفتار

    کالے جادو کے توڑ کیلئے قبر سے کھوپڑی نکالنے والاشخص گرفتار

    بھارت میں ایک باپ نے اپنی بیمار بیٹی کا علاج کروانے کیلئے قبر کھود کر انسانی کھوپڑی نکالنے کی کوشش کی جسے پولیس نے گرفتار کرلیا۔

    باغی ٹی وی : بھارتی میڈیا کے مطابق ریاست اڑیسہ کے ضلع بالاسور میں ایک باپ نے تانترک کے کہنے پر قبر کھود کر انسانی کھوپڑی نکالنے کی کوشش کی –

    بھارتی پولیس کے مطابق بیٹی کے مسلسل بیمار رہنے پر ایک شخص نے تانترک سے رجوع کیا جس نے اسے بتایا کہ بیٹی پر کالا جادو ہوگیا ہے اور اسے ختم کرنے کیلئے انسانی کھوپڑی کی ضرورت ہے۔

    تانترک کے کہنے پر شخص دوست کے ساتھ مل کر اپنے گاؤں کے ایک قبرستان میں گیا اور رات کے اندھیرے میں قبر کھودنے کی کوشش کی جسے مقامی لوگوں نے پکڑ کر پولیس کے حوالے کردیا۔

    قبل ازیں پاکستان کے شہر فیصل آباد میں ناراض بیوی کو منانے کے لیے کالا جادو کرانے والے شوہر سے 25 لاکھ مالیت کا مبینہ فراڈ ہوگیامتاثرہ شہری نے جعلی عامل گروہ کے خلاف پولیس کو درخواست دی تھی-

    محسن شہزاد نامی متاثرہ شہری نے پولیس کو بیان دیا تھا کہ انہوں نے سوشل میڈیا پر اشتہار کے ذریعے عامل سے رابطہ کیا تھا جعل ساز گروہ نے کالے جادو کے ماہر عامل بن کر سوا 8 لاکھ روپے نقد لیے جب کہ ملزمان نے عملیات کے لیے 15 تولے زیورات بھی ہتھیالیے، ملزمان نے 3 لاکھ 75 ہزار آن لائن، 5 لاکھ نقدی اور زیورات خود وصول کیے۔

    پولیس نے تھانہ ڈجکوٹ میں باپ بیٹوں اور 2 خواتین سمیت 8 افراد کے خلاف مقدمہ درج کیا-

  • ترکی میں ایک بارپھر 5.6 شدت کا زلزلہ، ایک شخص ہلا،69 زخمی

    ترکی میں ایک بارپھر 5.6 شدت کا زلزلہ، ایک شخص ہلا،69 زخمی

    ترکی ایک بار پھر زلزلے سے لرز اٹھا، جس میں ایک شخص ہلاک، 69 دیگر زخمی ہوئے ہیں جبکہ پہلے سے ہی تباہ شدہ عمارتیں منہدم ہو گئی ہیں –

    باغی ٹی وی: ترکی تباہ کن زلزلےجس میں 48000 ہلاکتیں ہوئیں کے تین ہفتےبعد ایک بار پھر زلزلے سے لراٹھاملک کی ڈیزاسٹر مینجمنٹ ایجنسی نے بتایا کہ 5.6 شدت کے زلزلے کا مرکز جنوبی ترکی کے صوبہ ملاتیا کے یسلیورٹ قصبے میں آیا-

    یسیلیورٹ کے میئر مہمت سینار نے ہیبر ترک ٹیلی ویژن کو بتایا کہ زلزلے کی وجہ سے چار منزلہ عمارت کے ملبے کے نیچے ایک باپ اور بیٹی کئ پھنس جانے کی اطلاع ہے باپ بیٹی سامان اکٹھا کرنے کے لیے تباہ شدہ عمارت میں داخل ہو-

    انہوں نے رپورٹ کیا کہ ملاتیا میں ریسکیو کا کام جاری تھا کہ ایک بار پھر زلزلے کی وجہ سے پہلے سے تباہ شدہ عمارتیں منہدم ہو گئیں-

    ملاتیا ترکی کے ان 11 صوبوں میں شامل تھا جو 6 فروری کو 7.8 شدت کے زلزلے سے شدید متاثر ہوئے تھے جس نے جنوبی ترکی اور شمالی شام کے کچھ حصوں کو تباہ کر دیا تھا۔ اس زلزلے کے نتیجے میں 48,000 سے زیادہ افراد ہلاک ہوئے تھے اور ساتھ ہی 173,000 عمارتیں منہدم یا شدید نقصان پہنچا تھیں۔

    ترکی کے ڈیزاسٹر اینڈ ایمرجنسی مینجمنٹ اتھارٹی (اے ایف اے ڈی) کے سربراہ یونس سیزر نے آج ایک نیوز کانفرنس کو بتایا کہ ملاتیا میں پانچ عمارتوں میں تلاش اور بچاؤ ٹیمیں تعینات کر دی گئی ہیں۔

    ترکیہ میں 6 فروری کو آنے والےزلزلوں میں اموات کی تعداد 44 ہزار 374 تک پہنچ گئی، ڈیزاسٹر اینڈ ایمرجنسی منیجمنٹ اتھارٹی نے 21 ہزار منہدم عمارات میں سرچ اور ریسکیو آپریشن مکمل کر لیا، اب تک زلزلوں کے آفٹر شاکس کی تعداد 9 ہزار 900 ہو گئی ہے-

    گزشتہ ہفتے پیر کو ترکی کے صوبہ ہاتائے میں 6.4 شدت کا زلزلہ آیا، جو 6 فروری کو آنے والے زلزلے سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والا علاقہ تھا۔

    ترکی کی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی، اے ایف اے ڈی نے کہا کہ گزشتہ ہفتے کے زلزلے میں چھ افراد ہلاک اور 294 زخمی ہوئے، جن میں سے 18 کی حالت تشویشناک ہے۔

    دریں اثنا، ترک پولیس نے 6 فروری کو آنے والے تباہ کن زلزلے میں عمارتوں کے منہدم ہونے کے الزام میں 184 افراد کو گرفتار کیا ہے جس میں 48,000 افراد ہلاک ہوئے تھے۔

    ایک وزیر نے ہفتے کے روز کہا کہ منہدم ہونے والی عمارتوں کا ذمہ دار کون ہے اس بارے میں تحقیقات کا دائرہ بڑھا رہے ہیں، کیونکہ بہت سے لوگوں کا غصہ عمارتوں کے کرپٹ طریقوں کے طور پر دیکھنے میں آتا ہے۔

    وزیر انصاف بکیر بوزدگ نے کہا کہ منہدم عمارتوں کے سلسلے میں 600 سے زائد افراد سے تفتیش کی گئی ہے، انہوں نے جنوب مشرقی شہر دیار باقر میں ایک نیوز کانفرنس کے دوران بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ تباہی سے متاثرہ 10 صوبوں میں شامل ہے۔

    انہوں نے کہا کہ جن لوگوں کو باضابطہ طور پر گرفتار کر کے ریمانڈ پر رکھا گیا ہے ان میں 79 تعمیراتی ٹھیکیدار، 74 افراد جو عمارتوں کی قانونی ذمہ داری اٹھاتے ہیں، 13 جائیداد کے مالکان اور 18 افراد جنہوں نے عمارتوں میں ردوبدل کیا تھا۔

    صدر طیب اردوان، جنہیں جون تک ہونے والے انتخابات میں اپنی دو دہائیوں کی حکمرانی کے سب سے بڑے سیاسی چیلنج کا سامنا ہے، نے احتساب کا وعدہ کیا ہے۔

    سرکاری نشریاتی ادارے ٹی آر ٹی اور دیگر میڈیا نے رپورٹ کیا کہ صوبہ غازیانتپ میں، ضلع نوردگی کے میئرجو اردوان کی حکمراں اے کے پارٹی سے ہیں منہدم عمارتوں کی تحقیقات کے دوران گرفتار کیے جانے والوں میں شامل تھے۔

    تباہی کے تقریباً تین ہفتے بعد ترکی میں ہلاکتوں کی کوئی حتمی تعداد نہیں ہے اور حکام نے یہ نہیں بتایا ہے کہ ملبے تلے اب بھی کتنی لاشیں پھنسی ہوئی ہیں۔

  • انتخابات ازخود نوٹس کیس: جسٹس منصورعلی شاہ اور جسٹس جمال مندوخیل کے اختلافی نوٹ

    انتخابات ازخود نوٹس کیس: جسٹس منصورعلی شاہ اور جسٹس جمال مندوخیل کے اختلافی نوٹ

    اسلام آباد: جسٹس منصور علی شاہ نے انتخابات از خود نوٹس کیس بنچ میں سینئر ججز کی عدم شمولیت پر اعتراض اٹھادیا۔

    باغی ٹی وی: واضح رہے کہ انتخابات از خود نوٹس کیس کی سماعت کرنے والے سپریم کورٹ کے 9 رکنی بینچ سے 4 جج الگ ہوگئے ہیں فیصلے میں جسٹس منصور علی شاہ،جسٹس یحیی آفریدی، جسٹس اطہر من اللہ اور جمال خان مندوخیل کا اختلافی نوٹ شامل ہے۔

    جسٹس منصور علی شاہ نے اختلافی نوٹ میں لکھا کہ میرے پاس بینچ سے الگ ہونے کا کوئی قانونی جواز نہیں، اپنے خدشات کو منظرعام پر لانا چاہتا ہوں۔

    جسٹس منصور علی شاہ نے بنچ میں شامل ایک جج کی آڈیو لیکس کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ جج سے متعلق الزامات کا کسی فورم پر جواب نہیں دیا گیا، بار کونسلز نے جج کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں ریفرنس بھی دائر کردیا۔

    جسٹس منصور علی شاہ نے بنچ میں شامل جج پر اعتراض کے ساتھ ساتھ دیگر سینئر ججز کی بنچ پر عدم شمولیت پر بھی اعتراض کیا۔

    انہوں نے کہا کہ 2 سینئر جج صاحبان کو بینچ میں شامل نہیں کیا گیا، عدلیہ پر عوام کے اعتماد کے لیے ضروری ہے کہ اس کی شفافیت برقرار رہے۔

    جسٹس جمال مندوخیل نے اپنے اختلافی نوٹ میں کہا کہ غلام ڈوگر کیس سے متعلق آڈیو سنجیدہ معاملہ ہے، جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس مظاہر علی نقوی الیکشن سے متعلق پہلے ہی اپنا ذہن واضح کرچکے ہیں۔

    انہوں نے نوٹ میں کہا کہ دونوں ججز کا موقف ہے کہ انتخابات 90 روز میں ہونے چاہیے، دونوں ججز نے رائے دیتے وقت آڑٹیکل 10 اے پر غور نہیں کیا ان حالات میں چیف جسٹس کا از خود نوٹس لینے کا کوئی جواز نہیں بنتا۔

    جسٹس یحیی آفریدی نے اختلافی نوٹ میں کہا کہ عام انتخابات کا معاملہ پشاور اور لاہور ہائی کورٹ میں زیر سماعت ہے۔

    خیال رہے کہ چیف جسٹس کی سربراہی میں جسٹس منصور علی شاہ،جسٹس جمال خان مندوخیل، جسٹس منیب اختر اور جسٹس محمد علی مظہر پر مشتمل باقی 5 رکنی بنچ نے کیس کی سماعت شروع کی، تو چیف جسٹس پاکستان عمر عطا بندیال نے بتایا کہ 4 معزز ممبرز جسٹس اعجاز الاحسن، جسٹس مظاہر علی نقوی، جسٹس اطہر من اللہ اور جسٹس یحیی آفریدی نے خود کو بینچ سے الگ کر لیا ہے، اور اب عدالت کا باقی بینچ مقدمہ سنتا رہے گا، اطہر من اللہ اور یحیی آفریدی نے کیس کے حوالے سے اپنا ذہن واضح کر دیا تھا، انہوں نے خود کو بنچ سے الگ کیا۔

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ آئین کی تشریح کیلئے عدالت سماعت جاری رکھے گی، آئین کیا کہتا ہے اس کا دارومدار تشریح پر ہے، کل ساڑھے 9 بجے سماعت شروع کرکے کل ہی ختم کرنے کی کوشش کریں گے، جب تک حکمنامہ ویب سائٹ پر نہ آجائے جاری نہیں کرسکتے-

    چیف جسٹس نے کہا کہ جسٹس جمال مندوخیل کا نوٹ حکمنامہ سے پہلے ہی سوشل میڈیا پر آگیا، مستقبل میں احتیاط کریں گے کہ ایسا واقعہ نہ ہو، جسٹس جمال خان مندوخیل کے نوٹ کو حکم میں شامل ہونے سے پہلے پبلک ہونا غیر مناسب ہے، عدالتی احکامات پہلے ویب سائٹ پر آتے ہیں پھر پبلک ہوتے ہیں۔

    چیف جسٹس نے کہا کہ پی ٹی آئی وکیل علی ظفر دلائل کا آغاز کرتے ہوئے آگاہ کریں عدالت یہ کیس سنے یا نہیں، آگاہ کیا جائے عدالت یہ مقدمہ سن سکتی ہے یا نہیں، کل ہر صورت مقدمہ کو مکمل کرنا ہے۔

    فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ فل کورٹ کے معاملے پر درخواست دائر کی ہے، چیف جسٹس عمرعطا بندیال نے کہا کہ آپ کی درخواست بھی سن کرنمٹائی جائے گی، علی ظفر نے کہا کہ وزیراعلی پنجاب نےاسمبلی تحلیل کرنے کی سمری گورنرکوارسال کی۔

    سابق اسپیکر پنجاب اسمبلی کے وکیل علی ظفر نے بتایا کہ گورنر پنجاب نے کہا میں نے اسمبلی توڑنے کی سمری دستخط نہیں کی، دستخط نہ کرنے کی وجہ سے الیکشن کی تاریخ نہیں دے سکتا، گورنر نے اپنے جواب میں الیکشن کمشنر کوتاریخ دینے کا کہہ دیا، تاریخ کی نہ الیکشن کمیشن ذمہ داری لے رہا ہے نہ گورنر۔

    جسٹس جمال خان مندوخیل نے پوچھا کہ کیا الیکشن میں 90 دن سے تاخیر ہو سکتی ہے؟وکیل علی ظفر نے جواب دیا کہ الیکشن میں ایک گھنٹے کی بھی تاخیر نہیں ہو سکتی، تاریخ کی نہ الیکشن کمیشن زمہ داری لے رہا ہے نہ گورنر ، صدر مملکت نے معاملے پر دو خطوط لکھے۔

    جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ صدر مملکت کا خط ہائیکورٹ حکم کے متضاد ہے۔

    جسٹس محمد علی مظہر نے ریمارکس دیئے کہ الیکشن کمیشن نے تو اپنے جواب میں خود لکھا کہ گورنر سے مشاورت آئین میں نہیں، اگر مشاورت نہیں تو کمیشن پھر خود الیکشن کی تاریخ دے دیتا، الیکشن کمیشن اگر خود تاریخ دیدے تو کیا یہ توہین عدالت ہو گی؟

    علی ظفر نے دلائل دیئے کہ خیبرپختونخوا میں صورتحال مختلف ہے، خیبرپختونخوا میں گورنر نے اسمبلی تحلیل کرنے کے فیصلے پر دستخط کیے ، خیبرپختونخوا میں گورنر الیکشن کی تاریخ کا اعلان نہیں کر رہا۔

    وکیل الیکشن کمیشن نے بتایا کہ خیبرپختونخوا میں کیس کی اگلی سماعت کل ہے۔

    چیف جسٹس نے کہا کہ گورنر خیبرپختونخوا کو پشاور ہائیکورٹ میں 21 دن جواب جمع کرانے کے لیے دیے ، پشاور ہائیکورٹ نے 21 دن کا نوٹس کیوں دیا فریقین کو؟ قانونی نقطہ طے کرنا ہے یہ کوئی دیوانی مقدمہ تو نہیں جو اتنا وقت دیا گیا۔

    چیف جسٹس نے آج ہی گورنر خیبرپختونخوا کے سیکرٹری کو جواب جمع کرانے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ سیدھا سادھا کیس ہے 18 جنوری سے گورنر تاریخ دینے میں ناکام ہے۔

    جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ عدالت نے جائزہ لینا ہے کہ کیا لا اینڈ آڈر یا کسی اور وجہ سے الیکشن میں تاخیر ہو سکتی ہے۔

    چیف جسٹس نے کہا کہ 218(3)فری فیئر شفاف انتخابات کا کہتا ہے، الیکشن کمیشن کو شفاف الیکشن کروانے ہیں، کیا گورنر کی مشاورت کی ضرورت ہے یا نہیں، الیکشن کمیشن کا کام انتخابات کرانا ہے، سیکشن 57 کے تحت تاریخ دینے کیلئے الیکشن کمیشن کا کردار مشاورت کا ہے۔

    علی ظفر نے کہا کہ الیکشن کمیشن بے بسی ظاہر کرے تو عدالت کو ایکشن لینا چاہیے۔

    جسٹس جمال مندوخیل نے پوچھا کہ الیکشن کی تاریخ دینا ذمہ داری کس کی ہے؟۔ علی ظفر نے جواب دیا کہ الیکشن کی تاریخ کے تعین کا سوال ہی عدالت کے سامنے ہے، پوری قوم کی نظریں عدلیہ پر ہیں قوم آپکی شکرگزار ہوگی۔

    الیکشن کمیشن کے وکیل نے بتایا کہ 2018 کے انتخابات کی تاریخ صدر مملکت نے دی تھی۔

    واضح رہے کہ گزشتہ سماعت کے دوران پیپلز پارٹی کے وکیل فاروق ایچ نائیک نے حکومتی اتحاد میں شامل جماعتوں کا مشترکہ بیان پڑھتے ہوئے کہا تھا کہ 2 ججز کے بینچ میں شامل ہونے پر اعتراض ہے اعجازالاحسن اور جسٹس مظاہر نقوی اپنے آپ کو بینچ سےالگ کردیں۔

    خیال رہے کہ سپریم کورٹ کی جانب سے یہ ازخود نوٹس ایسے وقت میں لیا گیا جب صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے پیر کے روز یکطرفہ طور پر پنجاب اور خیبر پختون خوا میں 9 اپریل کو انتخابات کی تاریخ کا اعلان کیا تھا جس کے بعد الیکشن کمیشن آف پاکستان کی جانب سے اس معاملے پر مشاورت کے لیے ان کی دعوت کو مسترد کر دیا گیا تھا۔

    22 فروری کو چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے سپریم کورٹ کے دو رکنی بینچ کی درخواست پر پنجاب اور خیبرپختونخوا میں انتخابات میں تاخیر کے معاملے پر از خود نوٹس لیتے ہوئے معاملے کی سماعت کے لیے 9 رکنی لارجربینچ تشکیل دے دیا تھا۔

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے جسٹس اعجازالاحسن اور جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی کی درخواست پر لیے گئے از خود نوٹس میں کہا کہ ’عدالت کے دو رکنی بینچ کی جانب سے 16 فروری 2023 کو ایک کیس میں آئین کے آرٹیکل 184 (3) کے تحت از خود نوٹس لینے کی درخواست کی گئی تھی‘۔

    نوٹس میں کہا گیا کہ انتخابات میں تاخیر کے حوالے سے سپریم کورٹ میں مزید درخواستیں بھی دائر کردی گئی ہیں۔

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے پنجاب اور خیبرپختونخوا میں انتخابات کے معاملے پر از خود نوٹس کی سماعت کے لیے 9 رکنی لارجز بینچ تشکیل دیا ہے، جس میں سینئر ترین جج جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور جسٹس سردار طارق مسعود شامل نہیں ہیں۔

    یاد رہے کہ 12 جنوری کو وزیراعلیٰ پنجاب چوہدری پرویز الہٰی نے اعتماد کا ووٹ حاصل کرنے کے بعد صوبائی اسمبلی تحلیل کرنے کے لیے سمری پر دستخط کر دیے تھے۔

    گورنر پنجاب بلیغ الرحمٰن نے وزیراعلیٰ کی جانب سے ارسال کی گئی سمری پر دستخط نہیں کیے تھے، جس کے بعد صوبائی اسمبلی 48 گھنٹوں میں از خود تحلیل ہوگئی تھی۔

    بعدازاں 18 جنوری کو گورنر خیبر پختونخوا حاجی غلام علی نے وزیر اعلیٰ محمود خان کی جانب سے اسمبلی تحلیل کرنے سے متعلق ارسال کی گئی سمری پر دستخط کیے تھےدونوں اسمبلیوں کی تحلیل کے بعد پی ٹی آئی کی جانب سے نئے انتخابات کے لیے تاریخ دینے کا مطالبہ کیا تھا۔

    پی ٹی آئی نے 27 جنوری کو پنجاب میں الیکشن کی تاریخ دینے کے لیے لاہور ہائی کورٹ سے رجوع کیا تھا، لاہور ہائی کورٹ نے پنجاب اسمبلی کے انتخابات کے لیے پی ٹی آئی کی درخواست منظور کرتے ہوئے الیکشن کمیشن کو تاریخ کا فوری اعلان کرنے کا حکم دیا تھا۔

    بعد ازاں الیکشن کمیشن نے گورنر پنجاب بلیغ الرحمٰن سے صوبائی اسمبلی کے عام انتخابات کے لیے مشاورت کی تھی تاہم اجلاس بے نتیجہ ختم ہوگیا تھا، گورنر پنجاب نے لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے پر اپیل دائر کی تھی اور اس کے بعد الیکشن کمیشن نے بھی انٹراکورٹ اپیل دائر کر دی تھی۔

    دوسری جانب پشاور ہائی کورٹ نے الیکشن کمیشن آف پاکستان اور گورنر خیبر پختونخوا کو صوبائی اسمبلی کے انتخابات کی تاریخ طے کرنے کا حکم دینے سے متعلق درخواستوں پر ای سی پی سے الیکشن شیڈول طلب کرلیا تھا۔

  • ڈرون حملےمیں روسی فوج کا طیارہ گر کر تباہ

    ڈرون حملےمیں روسی فوج کا طیارہ گر کر تباہ

    بیلا روس کے دارالحکومت میں ایئربیس کےقریب ڈرون حملےمیں روسی فوج کا طیارہ گر کر تباہ ہوگیا،ڈرون حملے کی ذمہ داری بیلاروس حکومت کی مخالف عسکریت پسند تنظیم نے قبول کرلی۔

    باغی ٹی وی : غیر ملکی میڈیا کے مطابق بیلاروس کے دارالحکومت منسک کے قریب ایک ہوائی اڈے پر بیلاروس میں نگرانی پر مامور روسی فوج طیارے A-50 کومچولیشچی ایئر بیس پر ڈرون کے ذریعے نشانہ بنایا گیا۔

    روسی نگراں طیارے پر اس وقت حملہ کیا گیا ہے جب روس اور بیلاروس کے درمیان قربتیں بڑھ رہی ہیں اور روس نے یوکرین پر حملے کے لیے بیلاروس کے ایئر بیس سے اپنے طیارے بھیجے ہیں۔

    بیلا روس کے قانون نافذ کرنے والے سابق افسران کی ایک تنظیم BYPOL کے رہنما الیگزینڈر آزاروف نے ٹیلی گرام میسجنگ ایپ اور پولینڈ کے نیوز چینل پر بات کرتے ہوئے حملے کی ذمہ داری قبول کرلی۔

    عسکریت پسند تنظیم BYPOL بیلاروس کی حکومت کی مخالفت کرتی ہے اور اپوزیشن جماعتوں کی ہر قسم کی مدد کرتی ہیں جس پر حکومت نے تنظیم BYPOL کو دہشت گرد تنظیم قرار دیا گیا تھا۔

    اسی طرح حزب اختلاف کے رہنما سویٹلانا تسخانوسکایا کے قریبی مشیر فرانک ویاکورکا نے بھی اپنی ٹویٹ میں تنظیم BYPOL کی جانب سے نایاب روسی طیارے کو اڑانے کے لیے ایک کامیاب خصوصی آپریشن کی تصدیق کی ہے۔

    حزب اختلاف کے رہنما سویٹلانا تسخانوسکایا کے قریبی مشیر نے روسی طیارے پر حملے کو 2022 کے آغاز کے بعد سے سب سے بڑی کامیابی قرار دیا ہے تاہم روس اور بیلاروس کے حکام نے حملے کی تردید یا تصدیق نہیں کی۔