Baaghi TV

Author: Ayesha Rehmani

  • اے این ایف کی ملک بھر میں کارروائیاں جاری،بیرون ملک منشیات اسمگلنگ کی کوششیں ناکام

    اے این ایف کی ملک بھر میں کارروائیاں جاری،بیرون ملک منشیات اسمگلنگ کی کوششیں ناکام

    اسلام آباد: اینٹی نارکوٹکس فورس (اے این ایف) کی کارروائیاں ملک بھر میں جاری ،اسلام آباد اور پشاورسے بیرون ملک منشیات اسمگلنگ کی کوششیں ناکام بنا دیں۔

    باغی ٹی وی: ترجمان اے این ایف کے مطابق اس سلسلے میں اسلام آباد انٹرنیشنل ائرپورٹ سے فلائٹ نمبر کیو آر 633 کے ذریعے دوحہ جانے والے خیبر کے رہائشی ملزم سے 2 کلو 108 گرام آئس برآمد کرلی گئی، جو سوٹ کیس میں چھپائی گئی تھی۔

    اسلام آباد موٹر وے کے قریب کار سے 56 کلو 400 گرام چرس اور 8 کلو 400 گرام افیون برآمد کرکے سیالکوٹ کے رہائشی 4 ملزمان کو گرفتار کرلیا گیا-

    دوسری جانب باچا خان انٹرنیشنل ائرپورٹ پشاور پر اے این ایف اور اے ایس ایف کی مشترکہ کارروائی میں فلائٹ نمبر پی کے 217 کے ذریعے ابوظبی جانے والے ملزم سے 123 گرام چرس برآمد کرلی گئی، جسے جوتوں میں چھپایا گیا تھا۔

    اینٹی نارکوٹکس فورس نے تمام کارروائیوں میں گرفتار کیے گئے ملزمان کے خلاف انسداد منشیات ایکٹ کے تحت مقدمات درج کرکے تفتیش شروع کردی ہے۔

  • شمالی وزیرستان: سیکورٹی فورسزکی کارروائی،2 سپاہی شہید،2 دہشتگرد ہلاک اور 2 گرفتار

    شمالی وزیرستان: سیکورٹی فورسزکی کارروائی،2 سپاہی شہید،2 دہشتگرد ہلاک اور 2 گرفتار

    راولپنڈی: شمالی وزیرستان کے علاقے اسپن وام میں سیکورٹی فورسز اور دہشت گردوں کے درمیان جھڑپ میں 2 سپاہی شہید ہوگئے۔

    باغی ٹی وی:آئی ایس پی آر کیجانب سے جاری بیان کے مطابق شمالی وزیرستان کے علاقے اسپن وام میں سیکورٹی فورسز کی دہشتگردوں کےخلاف کارروائی کی-

    آئی ایس پی آر کے مطابق شدید فائرنگ کے تبادلےمیں سپاہی عمران اللہ او رسپاہی افضل خان شہید ہوگئےسیکورٹی فورسزکےآپریشن میں 2 دہشتگرد بھی مارے گئےجبکہ 2 کو گرفتار کرلیا گیا دہشتگردوں کے قبضے سے سے اسلحہ اور گولہ بارود بھی برآمد کرلیا گیا۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق دہشت گرد سیکورٹی فورسز کے خلاف کارروائیوں اور معصوم شہریوں کے قتل میں ملوث تھے-

    آئی ایس پی آر کے مطابق علاقے میں کلئیرنس آپریشن جا رہی ہے۔

  • ہرنائی میں کان کنوں پر فائرنگ،4 کان کن ہلاک اور 3 زخمی،جنوبی وزیرستان میں بم دھماکہ،بچہ جاں بحق

    ہرنائی میں کان کنوں پر فائرنگ،4 کان کن ہلاک اور 3 زخمی،جنوبی وزیرستان میں بم دھماکہ،بچہ جاں بحق

    ڈی آئی خان: جنوبی وزیرستان بم دھماکے کے باعث بچہ جاں بحق جبکہ 2 زخمی ہوگئے۔

    باغی ٹی وی:جنوبی وزیرستان میں یہ دھماکہ گاؤں دژہ غونڈئی میں ہوا،ابتدائی اطلاعات کے مطابق بم سڑک کے قریب نصب کیا گیا تھا تاہم پولیس نے واقعے کی تحقیقات شروع کر دی ہےزخمیوں کو ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر اسپتال لے جایا گیا ہے۔

    دوسری جانب بلوچستان میں ہرنائی کے علاقے خوست کوئل مائنز ایریا میں نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ سے 4 کان کن جاں بحق ہوگئے۔

    لیویز حکام کے مطابق فائرنگ سے تین افراد زخمی بھی ہوئے، واقعے میں جاں بحق کانکنوں کی لاشوں اور زخمیوں کو ہرنائی اسپتال منتقل کر دیا گیا۔

    وزیراعلیٰ بلوچستان میر عبدالقدوس بزنجو نے خوست میں کوئلہ کانکنوں پر فائرنگ کے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے انتہائی دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ واقعہ انتہائی افسوسناک اور انسانیت سوز ہے، غریب اور بے قصور محنت کشوں کو مارنے والے انسان کہلانے کے لائق نہیں۔ دہشت گردی کے بد ترین واقعےمیں ملوث عناصر کی گرفتاری کے لیے تمام وسائل بروٴے کار لائے جائیں مائننگ ایریاز میں سیکیورٹی کو مزید سخت کیا جائے۔

  • 27 فروری بھارت کیلئے بھیانک خواب بن گئی،دراندازی پر ایک اور ہمسایہ ملک سے شکست کا سامنا

    27 فروری بھارت کیلئے بھیانک خواب بن گئی،دراندازی پر ایک اور ہمسایہ ملک سے شکست کا سامنا

    27 فروری کی تاریخ میں ہزیمت اٹھانا بھارتی فوج اور مودی سرکار کے مقدر میں لکھا جا چکا ہے، 27 فروری 2019 کوجہاں پاک فضائیہ نے منہ کے بل گرایا تھا جس سے بھارت دنیا بھر میں تماشہ اور مذاق بن کر رہ گیا تھا وہیں آج 27 فروری 2023 کو ایک اور پڑوسی ملک بنگال نے بھی بھارتی فوج کو منہ توڑ جواب دیا ہے۔

    باغی ٹی وی: 27 فروری 2019 کو پاک فضائیہ نے دراندازی کرنے والے بھارتی طیاروں کو مارگرایا تھا اور ایک پائلٹ کو حراست میں لے لیا تھا آج اس واقعے کے 4 سال مکمل ہونے پر بھارتی فوج کو بنگلادیش نے پسپائی پر مجبور کردیابھارتی بارڈر فوج کے دو اہلکار شدید زخمی ہیں۔

    کشمیرمیڈیا سروس کےمطابق بھارتی ریاست مغربی بنگال میں بھارت-بنگلہ دیش سرحدپر بنگلہ دیشی کسانوں نے بھارتی بارڈر سیکیورٹی فورس (بی ایس ایف)کے دو اہلکار وں کوشدید زخمی کردیا اور ان کے ہتھیار چھین لیے۔

    ہو کچھ یوں کہ بھارتی بارڈر سیکیورٹی فورسز نےمغربی بنگال میں سرحدی خلاف ورزی کرتےہوئے بنگلادیش کے حدود میں داخل ہونے کی کوشش کی بنگلادیشی فوج کے اہلکار اس دراندازی پر الرٹ ہوگئے اور جوابی کارروائی کی جس پر بھارتی سیکیورٹی فورسز نے اپنی روایات کے عین مطابق فرار ہوکر اپنی جان بچانے میں ہی عافیت جانی۔

    عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ یہ معاملہ اس وقت شروع ہوا جب بنگلادیشی کسان اپنے کھیتوں میں کام کر رہے تھے لیکن بھارتی بارڈر فورس نے اسے بھارتی سرزمین قرار دیا اور سرحد کے قریب ایک کھیت میں سو سے زائد بنگلہ دیشی کسانوں کو کام کرنے سے روک دیاجس پر بنگلادیشی کسان جو عرصہ دراز سےاس زمین پرکاشت کرتےآرہے ہیں بنگلہ دیشی کسانوں نے شدید احتجا کیا اور بھارتی فوج اور کسانوں میں جھڑپ بھی ہوئی تھی۔

    اسی موقع پر بنگلادیش کی سرحدی فورس کے اہلکار بھی پہنچ گئے اور بھارتی بارڈر سیکیورٹی فورس کے اہلکاروں کو پیچھے دھکیل دیا۔

    دوسری جانب کولکتہ میں بی ایس ایف کے ترجمان نے دعویٰ کیاکہ بنگلہ دیش کے سو سے زائد کسان بھارتی علاقے میں داخل ہوئے اور بی ایس ایف کے اہلکاروں پر لاٹھیوں اور تیز دھار ہتھیاروں سے حملہ کردیا۔

    ترجمان کے مطابق ضلع مرشد آباد کے برہم پور سیکٹر میں ہونے والے اس حملے میں بی ایس ایف کے دو اہلکار شدید زخمی ہوگئے جبکہ حملہ آور فوجیوں کا اسلحہ چھین کر بنگلہ دیش فرار ہوگئے۔

  • پی ٹی آئی رہنماؤں کو 30 روزکیلئےایم پی اوکے تحت نظربند کیا ہے،پنجاب حکومت نےعدالت میں رپورٹ جمع کرا دی

    پی ٹی آئی رہنماؤں کو 30 روزکیلئےایم پی اوکے تحت نظربند کیا ہے،پنجاب حکومت نےعدالت میں رپورٹ جمع کرا دی

    لاہور: جیل بھرو تحریک کے دوران گرفتار رہنماؤں کی بازیابی کے لیے لاہور ہائیکورٹ میں دائر درخواستوں پر پنجاب حکومت نے گرفتاریاں دینے والے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنماؤں سے متعلق رپورٹ جمع کروا دی۔

    باغی ٹی وی: پنجاب حکومت کی جانب سے لاہور ہائیکورٹ میں جمع کرائی گئی رپورٹ میں بتایا گیا کہ شاہ محمود قریشی، اسدعمر اور اعظم سواتی سمیت 9 رہنماؤں کو 30 روزکے لیے مینٹیننس آف پبلک آرڈر (ایم پی او) کے تحت نظربند کیا ہے۔

    پنجاب حکومت کے وکیل نے لاہور ہائی کورٹ کو بتایا کہ پنجاب کے مختلف اضلاع میں77 لوگوں کو نظر بندکیا گیا ہے، ڈپٹی کمشنر لاہور نے نظر بندی کے احکامات جاری کیےپی ٹی آئی رہنماؤں کی دوسرےشہروں میں منتقلی کےخلاف درخواست ہےاعجاز چوہدری کی رہنماؤں کی بازیابی کی درخواست میں رپورٹ آگئی ہے۔

    لاہور ہائی کورٹ نے سرکاری وکیل کو اگلی سماعت تک باقاعدہ جواب داخل کرانےکی ہدایت کرتے ہوئےکہا کہ ابھی رپورٹ عدالت کی فائل میں نہیں لگی، اس میں بھی رپورٹ جمع کرائیں، دونوں درخواستوں میں رپورٹ آنےکے بعد جمعےکو سماعت کریں گے۔

    واضح رہے کہ لاہور ہائی کورٹ میں پی ٹی آئی کی جیل بھرو تحریک کے دوران گرفتار وائس چیئرمین پی ٹی آئی شاہ محمود قریشی، سیکریٹری جنرل پی ٹی آئی اسد عمر، سینیٹر اعظم سواتی، سینیٹر ولید اقبال، عمر چیمہ، مراد راس، جان مدنی، اعطم نیازی اور احسان ڈوگر کی بازیابی کے لیے ایک سے زائد درخواستیں دائر کی گئیں تھیں-

    پی ٹی آئی کے سینیٹر اعجاز چوہدری نے مشترکہ درخواست دائر کی تھی جس میں ایڈیشنل چیف سیکریٹری ہوم، انسپکٹر جنرل (آئی جی) اور سی سی پی او کو فریق بنایا گیا تھا-

    درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا تھا کہ آئی جی اور سی سی پی او نے پی ٹی آئی کے قائدین کو گرفتار کیا، پی ٹی آئی قائدین کو مال روڈ سے پکڑ کر پہلے کیمپ جیل پھر کوٹ لکھپت جیل لے جایا گیا،قائدین کو کھانا اور دوائیاں بھی فراہم نہیں کی جارہی ہیں اور نہ ادویات کی اجازت دی گئی اور انہیں غیر قانونی حراست میں رکھا گیا ہے تاکہ ان کی شہرت اور ذات کو نقصان پہنچانے کے لیے جھوٹے مقدمات بنائے جاسکیں۔

    درخواست کے مطابق پی ٹی آئی رہنماؤں اور کارکنان کو حراست میں رکھنے کا کوئی قانونی جواز نہیں سینیٹر اعجاز چوہدری نے عدالت سے استدعا کی رہنماؤں کو بازیاب کرکے پولیس کو غیرقانونی اقدام سے باز رہنے کا حکم دیا جائے۔

    پی ٹی آئی کے وائس چیئرمین شاہ محمود قریشی کے صاحبزادے زین قریشی، ولید اقبال کی اہلیہ سیدہ نوریا، اعظم سواتی کے بیٹے عثمان علی سواتی نے الگ درخواستیں بھی دائر کیں، جس میں ان کی رہائی کی استدعا کی گئی-

  • سپریم کورٹ انتخابات ازخود نوٹس کی سماعت کرنے والا بنچ ٹوٹ گیا

    سپریم کورٹ انتخابات ازخود نوٹس کی سماعت کرنے والا بنچ ٹوٹ گیا

    پنجاب اور خیبرپختونخوا میں انتخابات سے متعلق ازخود نوٹس،سپریم کورٹ کا نیا بینچ تشکیل دے دیا گیا،
    چیف جسٹس عمر عطا بندیال،جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس منیب اختر نئے بینچ میں شامل ہیں،جسٹس جمال خان مندوخیل اور جسٹس محمد علی مظہر بھی سپریم کورٹ کے نئے بینچ کا حصہ ہیں ،جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس مظاہر علی نقوی سپریم کورٹ کےنئے بینچ میں شامل نہیں اختلافی نوٹ لکھنے والے 4 میں سے 2 ججز بھی سپریم کورٹ کے نئے بینچ میں شامل نہیں جسٹس اطہر من اللہ اور جسٹس یحییٰ آفریدی بھی سپریم کورٹ کےنئے بینچ میں شامل نہیں

    اسلام آباد: پنجاب اور کے پی میں انتخابات کیلئے سپریم کورٹ کے ازخود نوٹس کیس کی سماعت کرنے والا بینچ ٹوٹ گیا-

    باغی ٹی وی: پنجاب اور خیبر پختونخوا (کے پی) میں انتخابات کے لیے سپریم کورٹ نے 23 فروری کو ازخود نوٹس کیس کی سماعت کا تحریری حکم جاری کردیا۔سپریم کورٹ میں ازخود نوٹس کی سماعت کے لیے پہلے ساڑھے11، پھر 12 بجےکا وقت دیا گیا تھا۔تاہم اب انتخابات کیلئے سپریم کورٹ کے ازخود نوٹس کیس کی سماعت کرنے والا بینچ ٹوٹ گیا .جسٹس اعجا الاحسن اور جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی نے انتخابات ازخود نوٹس کیس کی سماعت کرنے سے معذرت کر لی۔

    چیف جسٹس عمر عطابندیال کا کہنا تھا کہ چاروں ججز نے اختلافی نوٹ لکھا ہے،انتخابات سے متعلق دائر درخواستوں پر سماعت کل ساڑھے 9 بجے کریں گے ،جسٹس محمد علی مظہر نے استفسار کیا کہ گورنر کون مقرر کرتا ہے؟ علی ظفر نے کہا کہ گورنر کا تقرر صدر مملکت کی منظوری سے ہوتا ہے،جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ گورنر کے اسمبلی تحلیل کرنے اور آئینی مدت کے بعد ازخود تحلیل ہو جانے میں فرق ہے،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سماعت کل ساڑھے 9 بجےکر کے مکمل کریں گے ،وکیل علی ظفر نے کہا کہ گورنر پنجاب نے نگران وزیراعلیٰ کیلئے دونوں فریقین سے نام مانگے،ناموں پر اتفاق رائے نہ ہوا تو الیکشن کمیشن نے وزیراعلی ٰکا انتخاب کیا،الیکشن کمیشن نے گورنر کو خط لکھ کر پولنگ کی تاریخ دینے کا کہا،گورنر نے جواب دیا انہوں نے اسمبلی تحلیل نہیں کی تو تاریخ کیسے دیں؟ آئین کے مطابق اسمبلی تحلیل کے بعد 90 دن میں انتخابات لازمی ہیں،کوئی آئینی عہدیدار بھی انتخابات میں90 دن سے زیادہ تاخیر نہیں کرسکتا، 90دن کی آئینی مدت کا وقت 14 جنوری سے شروع ہوچکا ہے،جسٹس محمد علی مظہر نے استفسار کیا کہ لاہورہائیکورٹ میں جو سماعت ہوئی کب تک ملتوی ہوئی؟ وکیل نے کہا کہ لاہورہائیکورٹ میں آ ج سماعت مقرر تھی وہ ملتوی کردی گئی ہے ،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ایک غیر یقینی کی صورتحال ہے،علی ظفر ایڈوکیٹ نے عدالت میں کہا کہ الیکشن کمیشن آئین پر عمل نہیں کررہا ،گورنر کو بھی سمجھ نہیں آرہی ہے، وکیل شیخ رشید نے کہا کہ معاملے میں توہین عدالت کی درخواستیں بھی دائر کی گئی ہیں،جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ توہین عدالت کیس میں کیا احکامات ہائیکورٹس نے جاری کیے ہیں؟وکیل شیخ رشید نے کہا کہ ان درخواستوں پر مارچ میں سماعت ہوگی،وکیل علی ظفر نے کہا کہ عدالت گورنر یا الیکشن کمیشن کو تاریخ مقرر کرنے کا حکم دے سکتی ہے،انتخابات کرانا الیکشن کمیشن کی ذمہ داری ہے،ہائیکورٹ نے قرار دیا انتخابی عمل الیکشن سے پہلے شروع اور بعد میں ختم ہوتا ہےعدالتی حکم پر الیکشن کمیشن اور گورنر کی ملاقات بے نتیجہ ختم ہوئی، صدر مملکت نے حالات کا جائزہ لیتے ہوئے خود تاریخ مقرر کر دی،

    قبل ازیں سپریم کورٹ ،پنجاب اور خیبرپختونخوا میں انتخابات سے متعلق ازخود نوٹس سپریم کورٹ نے 23 فروری کی سماعت کا تحریری حکمنامہ جاری کر دیا نئے بینچ تشکیل دینے کے لیے معاملہ چیف جسٹس کو بھیج دیا گیا، چار ججز نے نئے بینچ کی تشکیل کیلئے معاملہ چیف جسٹس عمر عطابندیال کو بھجوایا سپریم کورٹ کے چار وں ججز کے نوٹس آرڈر شیٹ میں شامل ہیں،جسٹس منصور علی شاہ،جسٹس جمال خان مندوخیل نے نوٹ لکھا،جسٹس یحییٰ آفریدی اور جسٹس اطہر من اللہ کو نوٹ بھی شامل ہیں،

    جسٹس یحییٰ آفریدی نے نوٹ لکھا کہ الیکشن کا معاملہ پشاوراور لاہور ہائیکورٹ میں زیر سماعت ہے، ازخود کیس میں سپریم کورٹ کی رائے لاہور پشاور ہائیکورٹ کے فیصلے پراثرانداز ہوسکتی ہے، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ
    بینچ کے 4 ممبرز نے خود کو بینچ سے الگ کر لیا ہے،عدالت کا باقی بینچ مقدمہ سنتا رہے گا، آئین کی تشریح کیلئے عدالت سماعت جاری رکھے گی،آئین کیا کہتا ہے اس کا دارومدار تشریح پر ہے، کل ساڑھے 9 بجے سماعت شروع کرکے ختم کرنے کی کوشش کریں گے،جب تک حکمنامہ ویب سائٹ پر نہ آجائے جاری نہیں کرسکتے،جسٹس جمال مندوخیل کا نوٹ حکمنامہ سے پہلے ہی سوشل میڈیا پر آگیا،مستقبل میں احتیاط کریں گے کہ ایسا واقعہ نہ ہو،علی ظفر آگاہ کریں عدالت یہ کیس سنے یا نہیں؟ کل ہر صورت مقدمہ کو مکمل کرنا ہے،

    زرائع کے مطابق گیارہ بجے سے غیر رسمی فل کورٹ میٹنگ جاری ہے جو اس وقت تک جاری ہے جبکہ یہ بھی اطلاعات ہیں کہ ججز صاحبان کے درمیان تلخ اور شدید جملوں کا بھی تبادلہ ہوا-

    باخبر ذرائع کا کہنا ہے کہ پنجاب اور خیبرپختونخوا اسمبلیوں کے انتخابات تو دور کی بات ہے اطلاعات کے مطابق ضمنی انتخابات بھی نہیں ہوں گے ۔

    واضح رہے کہ کیس کی سماعت چیف جسٹس پاکستان عمر عطا بندیال کی سربراہی میں 9 رکنی لارجر بینچ کر رہا ہے جس میں جسٹس اعجاز الاحسن، جسٹس منصور علی شاہ، جسٹس منیب اختر، جسٹس یحییٰ آفریدی، جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی، جسٹس جمال خان مندوخیل، جسٹس محمد علی مظہر اور جسٹس اطہر من اللہ بینچ میں شامل ہیں۔

    حکمران اتحاد 9 رکنی بینچ میں سے جسٹس مظاہر علی نقوی اور جسٹس اعجاز الاحسن کو الگ کر کے فل کورٹ بنانے کی اپیل دائر کرچکا ہے۔

    پچھلی سماعت میں چیف جسٹس نے کہا تھا پیر کو ججز کے معاملے پر معترضین کو سنیں گے،چیف جسٹس نے پہلی سماعت میں ریمارکس دیئے تھے کہ الیکشن 90 دن میں ہونے ہیں ، آئین کی خلاف ورزی برداشت نہیں کریں گے۔

    عدالت نے آج اٹارنی جنرل ، چاروں صوبائی ایڈووکیٹ جنرل اور پی ڈی ایم سمیت سیاسی جماعتوں، پاکستان بار کونسل اور سپریم کورٹ بار کو نوٹس جاری کر رکھے ہیں۔

    یاد رہے کہ سپریم کورٹ کے 2 رکنی بینچ نے غلام محمود ڈوگر کیس میں 16فروری کو ازخودنوٹس کے لیے معاملہ چیف جسٹس کوبھیجا تھا سپریم کورٹ نے پنجاب اور خیبرپختونخوا اسمبلیوں کی تحلیل کے بعد انتخابات کے لیے تاریخ کا اعلان نہ ہونے پر از خود نوٹس لیا تھا۔

  • گرفتار لیفٹیننٹ جنرل (ر) امجد شعیب کے جسمانی ریمانڈ کی استدعا پر فیصلہ محفوظ

    گرفتار لیفٹیننٹ جنرل (ر) امجد شعیب کے جسمانی ریمانڈ کی استدعا پر فیصلہ محفوظ

    اسلام آباد:عدالت نے گرفتار لیفٹیننٹ جنرل (ر) امجد شعیب کے جسمانی ریمانڈ کی استدعا پر فیصلہ محفوظ کرلیا

    باغی ٹی وی: عوام کو اداروں کے خلاف اکسانے اور نفرت پھیلانے کےکیس میں گرفتار لیفٹیننٹ جنرل (ر) امجد شعیب کو ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ اسلام آباد میں پیش کردیا گیا-

    امجد شعیب کو جوڈیشل مجسٹریٹ عباس شاہ کی عدالت میں پیش کیا گیا، تھانہ رمنا کے تفتیشی افسر، پراسیکیوٹر اور امجد شعیب کی لیگل ٹیم بھی عدالت میں پیش ہوئی پراسیکیوشن کی جانب سے امجد شعیب کی 7 روز کے جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی گئی۔

    عدالت میں پراسیکوٹر نے امجد شعیب کے خلاف مقدمےکا متن پڑھاا کہ نجی ٹیلیویژن پر امجد شعیب بطور مہمان موجود تھے، امجد شعیب کے بیان سے حکومت، اپوزیشن اور سرکاری ملازمین کےدرمیان نفرت پھیلانے کی کوشش کی گئی، اپوزیشن کو حکومت کے خلاف مزید سخت حکمت عملی کے لیے اکسایا گیا۔

    پراسیکوٹر کا کہنا تھا کہ امجد شعیب کے بیان سے 3 گروہوں کے درمیان نفرت پھیلائی گئی، امجد شعیب پرلگی دفعات کے تحت5 اور 7 سال کی سزا ہوسکتی ہے، لاہور سے امجد شعیب کا فوٹوگرامیٹرک ٹیسٹ بھی کروانا ہے۔

    امجد شعیب کے وکیل مدثر خالد عباسی نے جسمانی ریمانڈ کی مخالفت کرتے ہوئے کیس سے ڈسچارج کرنے کی استدعا کردی۔

    مدثر خالد عباسی کا کہنا تھا کہ عدالت نے دیکھنا ہےکہ امجد شعیب نےکوئی جرم کیا بھی ہے یا نہیں، اگرمجسٹریٹ کو لگتا ہےکہ کوئی جرم نہیں کیا تو کیس ڈسچارج کیاجاسکتا ہےامجد شعیب پر مقدمے میں لگائی گئی دفعات بنتی ہی نہیں، امجد شعیب نے ایک مخصوص صورتحال سے متعلق صرف مثال دی، امجد شعیب نے ایسی کیا بات کردی جس پر قانون نےکوئی پابندی لگائی ہو؟

    امجد شعیب کے وکیل نے مزیدکہا کہ مجد شعیب تقریباً 80 سال کے ہیں، انہوں نے مثبت تنقیدکی، صرف سیاسی بنیادوں پر مقدمہ درج کیا گیاامجد شعیب کو کافی عرصے سے ہراساں کیا جا رہا ہے، ایک گھنٹےکے اندر مقدمہ درج کرکےامجد شعیب کوسلاخوں کے پیچھے بھیج دیا گیا، جائز تنقید کرنا اگر غلط ہے تو اپوزیشن کو تو سسٹم سے ہی نکال دیں۔

    پراسیکوٹر نے امجد شعیب کو کیس سے ڈسچارج کرنےکی درخواست کی مخالفت کرتے ہوئےکہا کہ ٹرائل کے لیے وائس میچنگ اور فوٹوگرامیٹرک ٹیسٹ کا ثبوت ضروی ہوتا ہے۔

    امجد شعیب کے وکیل ریاست علی آزاد نے اپنے دلائل میں کہا کہ امجد شعیب نے 1965 اور 1971 کی جنگیں لڑیں، امجد شعیب پاکستان کے سب سے محب وطن شہری ہیں، امجد شعیب نے شہریوں کو نہیں کہا کہ سرکاری دفاتر نہ جائیں۔

    امجد شعیب کے وکیل قاسم ودود نے دلائل میں کہا کہ امجد شعیب کا ملک پر قرضہ ہے، امجد شعیب ریلوے اسٹیشن کے پلیٹ فارم پر بھی سوچکے اور پھر لیفٹیننٹ جنرل بنے اس دوران امجد شعیب کے وکیل قاسم ودود کمرہ عدالت میں آبدیدہ ہوگئے۔

    عدالت نے امجد شعیب کے جسمانی ریمانڈ کی استدعا پر فیصلہ محفوظ کرلیا، فیصلہ کچھ دیر بعد سنایا جائےگا۔

    واضح رہےکہ لیفٹیننٹ جنرل (ر) امجد شعیب کو گزشتہ رات اسلام آباد پولیس نے ان کی رہائش گاہ سے گرفتارکیا تھا، ان کے خلاف مقدمہ مجسٹریٹ اویس خان کی مدعیت میں درج ہے۔

  • عوام ملک میں انصاف چاہتے ہیں، نظریہ ضرورت نہیں،مریم اورنگزیب

    عوام ملک میں انصاف چاہتے ہیں، نظریہ ضرورت نہیں،مریم اورنگزیب

    اسلام آباد: وفاقی وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب نے کہا ہے کہ عمران خان کا نگران حکومت پر شفاف اور غیر جانبدارانہ انتخاب نہ کروانے کا الزام دفن ہوگیا ہے-

    باغی ٹی وی: تفصیلات کے مطابق ایک بیان میں مریم اورنگزیب نے کہا کہ عمران خان کا نگران حکومت پر شفاف اور غیر جانبدارانہ انتخاب نہ کروانے کا الزام دفن ہوگیا ہے، یہ بڑی کامیابی ہے جس کا عمران خان نے اعتراف کر لیا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ 2018 میں این اے 193 میں مسلم لیگ (ن) کا کوئی انتخابی امیدوار نہیں تھا، گزشتہ روزپہلی بار اس حلقے سے 53000 ووٹ لیے ہیں جس پر ووٹرز کا شکریہ ادا کرتے ہیں، ووٹرز نے مسلم لیگ (ن) پر بھرپور اعتماد کا اظہار کیا۔

    مریم اورنگزیب نےعمران خان کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آگے آگے دیکھو ہوتا ہے کیا، گھڑی چور فتنے، جیت جائیں تو فتح کا جشن اور ہار جائیں تو الیکشن کمیشن کے باہردھرنا اور الزامات؟،عوام ملک میں انصاف چاہتے ہیں، نظریہ ضرورت نہیں۔

    واضح رہے کہ راجن پور میں قومی اسمبلی کے حلقہ این اے193 پر ضمنی انتخاب کے تمام 237 پولنگ اسٹیشنوں کے غیر حتمی اورغیر سرکاری نتائج سامنے آگئے۔

    غیر حتمی اور غیر سرکاری نتائج کے مطابق تحریک انصاف کے محمد محسن لغاری 90392 ووٹ لے کر پہلے نمبر پر رہے جبکہ مسلم ليگ ن کے عمار احمد خان لغاری 55218 ووٹ لےکر دوسرے نمبر پر رہے۔

    پاکستان پیپلز پارٹی کے اختر حسن خان گورچانی 20 ہزار 74 ووٹ حاصل کر کے تیسرے نمبر پر رہے جبکہ تحریک لبیک پاکستان کے محمود احمد 3 ہزار 961 ووٹ لیکر چوتھے نمبر پر رہے۔

    خیال رہے کہ این اے 193 کی نشست پی ٹی آئی کے ایم این اے سردار جعفر لغاری کے انتقال کے باعث خالی ہوئی تھی۔

  • نیویارک:قیمتی ایپل ہیڈ فون چھیننے والا گروہ سرگرم

    نیویارک:قیمتی ایپل ہیڈ فون چھیننے والا گروہ سرگرم

    نیویارک : پارک، یا ریستورانوں میں بیٹھے افراد کےسرسے قیمتی ایپل ہیڈ فون چھین کرفرارہونے والا چوروں کا گروہ منظم ہو گیا ، جنوری سے لے کر، نیویارک سٹی پولیس ڈیپارٹمنٹ نے 21 واقعات درج کیے ہیں

    باغی ٹی وی: غیر ملکی میڈیا کے مطابق یہ وارداتیں 28 جنوری سے شروع ہو ئیں اور اب تک 21 افراد اپنے قیمتی ایپل ہیڈفون سے محروم ہوچکے ہیں ہیڈفون ڈکیتوں میں کم سے کم چار افراد شامل ہے۔

    غیر ملکی میڈیا کے مطابق دو افراد ایئربڈز پہنے شخص کے پیچھے جاکر ہیڈفون چھین لیتے ہیں اور فوراً فرار ہوجاتے ہیں اور خاص طور پر ایپل میکس ہیڈفونز چھینتے ہیں پولیس نے بتایا کہ کسی بھی چوری میں کوئی زخمی نہیں ہوا۔

    ایپل میکس ہیڈفونزکی قیمت 549 ڈالر تک ہے پاکستانی روپوں میں اس کی قدر 140000 روپے ہے کیونکہ یہ شور کو کم کرتے ہیں اور نوائز کینسل کرنے کی خاصیت بھی رکھتے ہیں اس طرح ہیڈفون لگا کر آپ اطراف کا شور سننے سے محفوظ رہ سکتے ہیں۔

    پولیس کے مطابق اگرچہ یہ واقعات ہر جگہ ہوئے ہیں لیکن سب سے زیادہ وارداتیں نیویارک کے مشہور سینٹرل پارک میں ہوئی ہیں اور 18 سے 41 برس کے افراد اس کا نشانہ بنے ہیں عموماً یہ ڈکیت دوپہر میں واردات کرتے ہیں۔

    ریکارڈ کے مطابق 8 فروری کو 5 اور 18 فرروی کو 8 ہیڈفون چھینے گئے ہیں تمام چور اب تک پولیس کی گرفت سے آزاد ہیں۔

    نیویارک یونیورسٹی، جس میں کچھ چوری کے مقامات کے قریب کیمپس کی عمارتیں ہیں، نے 10 فروری کو طلباء کو ان واقعات کے بارے میں الرٹ بھیجا۔

    ای میل میں، یونیورسٹی نے کہا کہ دو طالب علم ہیڈ فون چوری کرنے کی کوشش کا نشانہ بنے تھے اور ایک طالب علم کا ایئر پوڈ میکس ہیڈ فون چوری ہو گیا تھا۔ یونیورسٹی نے طلباء کو مشورہ دیا کہ وہ اپنے اردگرد کے ماحول سے باخبر رہیں اور اپنے فون اور دیگر قیمتی اشیاء کو اپنی جیبوں میں رکھیں۔

  • کرپشن اور آمدن سے زائد اثاثے:عثمان بزدار کو کیس میں شامل تفتیش ہونے کا حکم

    کرپشن اور آمدن سے زائد اثاثے:عثمان بزدار کو کیس میں شامل تفتیش ہونے کا حکم

    لاہور: احتساب عدالت نے سابق وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کو کرپشن اور آمدن سے زائد اثاثوں کے کیس میں شامل تفتیش ہونے کا حکم دے دیا۔

    باغی ٹی وی: لاہور کی احتساب عدالت میں عثمان بزدارکے خلاف آمدن سے زائد اثاثہ جات کے کیس کی سماعت ہوئی جس سلسلے میں سابق وزیراعلیٰ عدالت میں پیش ہوئے۔دورانِ سماعت عدالت نے کہا کہ ملزم کو علم ہونا چاہےکہ الزام کیا ہے، اس دوران نیب نے عدالت کو بتایا کہ عثمان بزدار شامل تفتیش نہیں ہوئے۔عدالت نے عثمان بزدار سے استفسار کیا کہ آپ شامل تفتیش کیوں نہیں ہورہے، اس پر سابق وزیراعلیٰ نےکہا کہ میں جلد شامل تفتیش ہو جاؤں گا، ایک شادی کی تقریب ہے، 10 دن کی مہلت دے دیں-

    عدالت نے ریمارکس دیئے کہ آپ بہانے نہ بنائیں شادی کوئی بہانہ نہیں ہے، بزدار صاحب شادی میں کیا کرنا ہے، 10 دن کی تاریخ مانگ رہے ہیں، خدا کا خوف کریں،اگرآپ شامل تفتیش نہیں ہوتےتو آپ کومجھ سےریلیف نہیں ملےگانیب سے بھی پوچھیں آپ نے کن شواہد کی بنیاد پر انکوائری شروع کی۔عثمان بزدار نے کہا کہ نیب والےکہتے ہیں میرے 10 ارب کے اثاثے ہیں، میرے پورے قبیلےکے 10 ارب کے اثاثے نہیں۔

    بعد ازاں عدالت نے عثمان بزدار کو 3 مارچ کو نیب آفس میں پیش ہونے کا حکم دیا اور انہیں انکوائری کی کاپی فراہم کرنے کی بھی ہدایت کی عدالت نے کیس میں عثمان بزادر کی ضمانت میں7 مارچ تک توسیع کردی اور انہیں شامل تفتیش ہونے کا حکم دیا۔

    پیشی کے موقع پر میڈیا سے گفتگو میں عثمان بزدار نے کہا کہ نیب والے آج کل مجھ پر، فیملی، بھائیوں اور دوستوں پر کیسز بنارہے ہیں اور نوٹسز دے رہے ہیں، ہم کیس کریں گے اور مجھے امید ہے کہ عدالتوں سے ہمیں ریلیف ملےگا نیب والے 10ارب کی بات کررہے ہیں یہ عجیب سی بات ہے، میرے تو پورے خاندان کے اثاثے بھی 10 ارب نہیں۔پرویز الٰہی سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ یہاں سیاسی باتیں نہیں کرنی چاہئیں، کورٹ کی باتیں کریں۔

    واضح رہےکہ نیب نے سابق وزیراعلیٰ عثمان بزدار کے خلاف کرپشن اور آمدن سے زائد اثاثہ جات کے الزام کے تحت انکوائری شروع کررکھی ہے۔