Baaghi TV

Author: Ayesha Rehmani

  • ملتان میں جیل بھرو تحریک ختم،پی ٹی آئی رہنما اور کارکنان بغیر گرفتاری دیئے واپس چلے گئے

    ملتان میں جیل بھرو تحریک ختم،پی ٹی آئی رہنما اور کارکنان بغیر گرفتاری دیئے واپس چلے گئے

    ملتان: پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کی کال پر پی ٹی آئی کے رہنما اور کارکنان گرفتاریاں دینے کے جمع ہوئے اور بغیر گرفتاری دیئے واپس چلے گئے۔

    باغی ٹی وی: پی ٹی آئی کی جانب سے چوتھے روز ملتان میں جیل بھرو تحریک کے تحت گرفتاریاں دینے کا اعلان کیا گیا تھا جہاں کارکنان نواں شہر چوک پر جمع ہوئے،اس موقع پر رہنما بھی موجود تھے پولیس نے رضاکارانہ گرفتاری کی تحریک کے پیش نظر نواں شہر چوک پر قیدیوں کی تین گاڑیوں پہنچائیں تاہم کارکنان اور چند رہنما اس میں بیٹھ کر واپس باہر آگئے۔

    دریں اثنا گرفتاری دینے آنے والے پی ٹی آئی کارکنان نے 10 منٹ کیلئے دھرنا دیا تھا عون عباس بپی کا کہنا تھا کہ 10منٹ تک قیدی وین نہ آئی تو دھرنا ختم کردیں گے اسٹیج سے اعلان کیا گیا تھا کہ گرفتاری دینے والے کارکنان اسٹیج پر موجود رہیں گے-

    بعد ازاں پی ٹی آئی کے مقامی رہنما عامر ڈوگر نے جیل بھرو تحریک بغیر کسی گرفتاری کے ختم کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ قومی اور صوبائی اسمبلی کے سابق اراکین، رہنما اور کارکنان گرفتاریوں کے منتظر تھے مگر پولیس نہیں آئی۔

    انہوں نے کہا کہ پولیس نے ایک کلومیٹردورگاڑیاں کھڑی کردی تھی جبکہ ہم نے نواں شہر چوک پر جمع ہونے کا اعلان کیا تھا۔ عامر ڈوگر نے کہا کہ چیئرمین پی ٹی آئی کی کال پر کسی بھی وقت گرفتاری دینے کیلیے تیار ہیں، کل یا پرسوں جیسے ہی عمران خان نے اگرکال دی تودوبارہ گرفتاریاں دینے کیلئے آئیں گے۔

    دوسری جانب چئیرمین پی ٹی آئی عمران خان کا کہنا تھا کہ کارکنان حکومتی فسطائیت اور بنیادی حقوق کی پامالیوں پر گرفتاریاں دے رہے ہیں ،پی ٹی آئی حکمرانوں کے 1100ارب روپے کے کیسز معاف کروانے اورمہنگائی کیخلاف سراپا احتجاج ہے-

  • سرکاری ملازمین کی تنخواہیں رکنے کی خبریں، وزارت خزانہ کا بیان سامنے آ گیا

    سرکاری ملازمین کی تنخواہیں رکنے کی خبریں، وزارت خزانہ کا بیان سامنے آ گیا

    وزارت خزانہ نے سرکاری ملازمین کی تنخواہیں اور پنشنز روکنے سے متعلق زیرگردش خبروں کی تردید کر دی ہے-

    باغی ٹی وی: اس ضمن میں جاری فنانس ڈویژن کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ سرکاری ملازمین کی پنشن اور تنخواہ روکنے سے متعلق افواہیں سراسر غلط ہیں، فنانس ڈویژن کی طرف سے ایسی کوئی ہدایات نہیں دی گئیں۔

    نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ اے جی پی آر نے تصدیق کی ہے کہ تنخواہ اور پنشن کی ادائیگیوں سے متعلق کارروائی مکمل ہو چکی ہے اور یہ وقت پر ادا کر دی جائے گی مزید یہ کہ دیگر ادائیگیوں پر معمول کے مطابق کارروائی کی جا رہی ہے۔

    واضح رہے کہ میڈیا پر ایسی خبریں گردش کر رہی تھیں کہ طویل معاشی اور مالی مشکلات کے تناظر میں، وزارت خزانہ نے اے جی پی آر کو ہدایت کی ہے کہ وہ اگلے احکامات تک وفاقی وزارتوں/ ڈویژنوں اور منسلک محکموں کے تمام بلوں کو کلیئر کرنے سے روک دیں یہاں تک کہ خبریں تھیں کہ تنخواہوں کے بلوں کی منظوری بھی روک دی گئی ہے۔

  • بھارت پہنچنے کے بعد پاکستان میں دیئے گئے بیان پرجاوید اختر ردعمل

    بھارت پہنچنے کے بعد پاکستان میں دیئے گئے بیان پرجاوید اختر ردعمل

    بھارتی فلم رائٹر جاوید اختر نے بھارت پہنچنے کے بعد پاکستان میں دیئے گئے بیان پر ردعمل کا اظہار کیا ہے۔

    باغی ٹی وی: گزشتہ دنوں لاہور میں ہونے والے فیض فیسٹول کے دوران جاوید اختر نے پاکستانیوں سے متعلق متنازع گفتگو کی تھی،انہوں نے کہا تھا کہ پاکستان میں ممبئی پر حملے کرنے والے آزاد گھوم رہے ہیں اگر کوئی ہندوستانی یہ شکوہ کرے تو پاکستانیوں کو بُرا نہیں ماننا چاہیے جاوید اختر کے اس بیان پر پاکستان کی عوام اور فنکاروں کی جانب سے شدید ردِعمل سامنے آیا تھا۔

    اب جاوید اختر نے بھارت میں ایک تقریب کے دوران پاکستانیوں سے متعلق متنازع گفتگو کے حوالے سے ردعمل دیا ہے کہا بیان دینے کے بعد مجھے لگا ایسے ایونٹس میں نہیں جانا چاہیے لیکن یہاں (بھارت) آیا تو لگا پتہ نہیں تیسری عالمی جنگ جیت کر آیا ہوں‘۔

    دوسری جانب جہاں شوبز شخصیات نے بھی جاوید اختر کے بیان سے متعلق ناراضگی کا اظہار کیا اور انہیں تنقید کا نشانہ بنایا تھا وہیں پاکستان کے معروف ناول نگار اور کالم نگار مستنصر حسین تارڑ نے بھارتی نغمہ نگار جاوید اختر کے پاکستان مخالف بیان پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔

    لاہور کے الحمرا آرٹس کونسل میں 10ویں لٹریچر فیسٹیول کا آغاز ہو چکا ہے جس میں گفتگو کرتے ہوئے مستنصر حسین تارڑ نے کہا کہ انہیں بھارتی مہمان جاوید اختر کےپاکستان کےخلاف الفاظ سُن کرخود پر شرم محسوس ہوئی انہوں نےکہاکہ وہ جاوید اختر کے فیض فیسٹیول میں کہے الفاظ کو تبصرے کے لائق بھی نہیں سمجھتے۔

    معروف ناول نگار کا کہنا تھا کہ مجھ میں ایسی صفت نہیں ہیں کہ میں نوبل انعام کیلئے اپنے معاشرے کو بُرا کہہ سکوں، ان کا کہنا تھا کہ میرے لئے پاکستان کے پرائیڈ آف پرفارمنس نگار اور کمال فن ایوارڈز کسی نوبل پرائز سے کم نہیں۔

    پاکستان کے موجودہ حالات کی وجہ سے عوام پر پڑنے والے اثرات کے حوالے سے مستنصر حسین تارڑ کا کہنا تھا کہ ہماری قوم پاگل ہوگئی ہے اور برداشت کھو بیٹھی ہے۔

  • پولیس کی گاڑی کی ٹکر سے ایک بچہ جاں بحق ،خاتون سمیت دو بچے زخمی

    پولیس کی گاڑی کی ٹکر سے ایک بچہ جاں بحق ،خاتون سمیت دو بچے زخمی

    کراچی: مبینہ طور پر پولیس کی گاڑی کی ٹکر سے ایک بچہ جاں بحق جبکہ ایک خاتون سمیت دو بچے زخمی ہوگئے۔

    باغی ٹی وی: تفصیلات کے مطابق سائٹ سپر ہائی وے تھانے کی حدود جمالی پل پر پولیس نمبر پلیٹ کی گاڑی میں سوار ڈرائیور کی ٹکر سے دس سالہ محسن ولد شاہ وزیر جاں بحق ہوگیا جبکہ ایک ہی خاندان کے تین افراد زخمی ہوگئے۔

    پولیس کے مطابق عائشہ دختر شاہ وزیر اپنے بچوں کے ہمراہ سڑک پر موجود تھیں کہ تیز رفتار گاڑی نے ٹکر ماردی جس کے نتیجے میں ایک بچہ جاں بحق اور خاتون اور دو بچے زخمی ہوگئے جنہیں طبی امداد کیلئے ہسپتال منتقل کردیا گیا۔

    ذرائع کے مطابق متاثرہ افراد پولیس افسر کی گاڑی کے نیچے کچلے گئے، حادثے کا سبب بننے والی گاڑی ایس پی کے نام پر ہے جس کی تحقیقات کی جارہی ہیں ۔

    قبل ازیں راولپنڈی میں خونی بسنت اور دن بھر شدید ہوائی فائرنگ کے باعث نور خان ائیربیس پر فلائٹ آپریشن اور وی وی آئی پی مومنٹ بھی متاثررہی وزیراعظم شہباز شریف کا خصوصی طیارہ وقت پرلاہورکے لیے پرواز نہ کرسکا راولپنڈی انتظامیہ و پولیس حکام کی دوڑیں لگی رہیں ۔ وزیراعظم ساڑھے تین گھنٹے کی تاخیر سے لاہور روانہ ہوئے ۔

    نور خان بیس کے گرد و نواح میں ہوائی فائرنگ اسقدرشدید تھی کہ نامعلوم سمت سےچلائی گئی گولی بیس پرکھڑی وزیر اعظم کی سیکورٹی کے لیے استعمال ہونے والی گاڑی کو بھی لگی۔

    واقعے کی تحقیقات کا آغاز کردیا گیاخونی بسنت و شدید ہوائی فائرنگ کا نوٹس لیتے ہوئے آئی جی پنجاب کے احکامات پر آر پی او راولپنڈی سید خرم علی نے دو ڈی ایس پیز اور ائیرپورٹ سمیت تین تھانوں کے ایس ایچ اوز معطل کردئیے ۔

    وزیر اعظم شہباز شریف کا لاہورروانہ ہونے والا طیارہ بھی وقت پر روانہ نہ ہوسکاشہبازشریف کی لاہور روانگی کےاسلام آباد اور راولپنڈی پولیس شام چار بجے کے قریب سیکورٹی انتظامات اوکے رکھنے کے لیے کہاگیا وزیر اعظم نے شام چھ بجے نور خان بیس سے خصوصی طیارے کے ذریعے لاہور روانہ ہونا تھا لیکن راولپنڈی میں بسنت اور ہوائی فائرنگ اسقدر شدید تھی کہ نور خان بیس سے فلائٹ آپریشن کی کلیئرنس نہ ملی ۔

    تقریبا ساڑھے تین گھنٹے کی تاخیر سے رات سوا نو بجے ہوائی فائرنگ و پتنگ بازی تھمی تو وزیراعظم ہیلی کاپٹر سے نور خان ائیربیس پہنچے جہاں راولپنڈی انتطامیہ اور پولیس کے اعلی حکام کو بھی طلب کیا گیا-

    آئی جی پنجاب اور آر پی او راولپنڈی سید خرم علی نے بھی بسنت و شدید ہوائی فائرنگ کا سخت نوٹس لیا اور دو ڈی ایس پیز جن میں ڈی ایس پی نیوٹاؤن اور ڈی ایس پی سٹی شامل ہیں سمیت تین تھانوں کے ایس ایچ اوز جن میں ایس ایچ او ائیرپورٹ راجہ مصدق، ایس ایچ او رتہ امرال اور ایس ایچ او صادق آباد کو معطل کردیا۔

    بسنت و ہوائی فائرنگ و چھتوں سے گرنے و ڈور پھرنے سے بچوں سمیت تین افراد جاں بحق اور پچاس سے زائد افراد زخمی ہوئے اور ایک چہرے پر ڈور پھرنے سے ایک معصوم بچی نور خان بیس کے قریب ایئرپورٹ روڈ پر بھی زخمی ہوئی ۔

  • ازخود نوٹس:پی ڈی ایم کی سپریم کورٹ سے فل کورٹ تشکیل دینے کی استدعا،اقلیتی برادری نے بھی رجوع کر لیا

    ازخود نوٹس:پی ڈی ایم کی سپریم کورٹ سے فل کورٹ تشکیل دینے کی استدعا،اقلیتی برادری نے بھی رجوع کر لیا

    اسلام آباد : سپریم کورٹ کی جانب سے پنجاب اور خیبرپختونخوا انتخابات کی تاریخ کےحوالے سے لیے گئے ازخود نوٹس میں اقلیتی برادری نے بھی درخواست دائر کردی جبکہ حکومت میں شامل پی ڈی ایم کی تین بڑی سیاسی جماعتوں نےخیبرپختونخوا اور پنجاب میں عام انتخابات سے متعلق از خود نوٹس کیس میں سپریم کورٹ سے فل کورٹ تشکیل دینے کی استدعا کی ہے-

    باغی ٹی وی: سپریم کورٹ میں درخواست فاروق ایچ نائیک، کامران مرتضیٰ اور منصور عثمان ایڈووکیٹ کے توسط سے دائر کی گئی ہے۔

    درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ کیس کی سماعت کیلئے تمام ججز پر مشتمل فل کورٹ بنائی جائے اور فل کورٹ میں جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی کو فل کورٹ میں شامل نہ کیا جائے۔

    درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ دونوں ججز پہلے سے اپنا مائنڈ کیس میں اپلائی کرچکے ہیں، کئی آئینی، قانونی اور عوامی اہمیت کے سوال سامنے آ چکے ہیں جن پر سماعت ضروری ہے۔

    دوسری جانب پنجاب اور خیبرپختونخوا انتخابات کی تاریخ کے حوالے سے لیے گئے ازخود نوٹس میں اقلیتی برادری نے کیس میں فریق بننے کیلئےرجوع کرلیا۔

    مذکورہ درخواست سیموئیل پیارا نامی شہری کی جانب سے دائر کی گئی ہے جس میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ پنجاب اور کے پی میں عام انتخابات سے مسیحی برادری کے حقوق جڑے ہیں دونوں صوبوں میں عام انتخابات کی تاریخ کو تبدیل کیا جائے، 9اپریل مسیحی برادری کے مذہبی تہوار ایسٹر کا دن ہے۔

    شہری کا اپنی درخواست میں کہنا ہے کہ دونوں صوبوں کی مسیحی برادری ان دنوں ایسٹر کے تہوار میں مصروف ہوگی۔ اس کے علاوہ 7اپریل کو گُڈفرائیڈے کا دن بھی مقدس ہے۔

    مسیحی درخواست گزار نے سپریم کورٹ سے استدعا کی ہے کہ مسیحی برادری کے حقوق کو مدنظر رکھتےہوئے اسے ازخود نوٹس کیس میں فریق بنایا جائے۔

  • نيب  نےعثمان بزدار اور انکی فیملیز کے نام جائیدادوں کا ریکارڈ طلب کرلیا

    نيب نےعثمان بزدار اور انکی فیملیز کے نام جائیدادوں کا ریکارڈ طلب کرلیا

    نيب لاہور نے عثمان بزدار اور انکی فیملیز کے نام جائیدادوں کا ریکارڈ طلب کرلیا-

    باغی ٹی وی: آمدن سے زائد اثاثہ جات کیس اورجائیداديں بنانے کے الزام میں نيب نے سابق وزیراعلی پنجاب عثمان بزدار کے خلاف گھیرا مزید تنگ کرتے ہوئےعثمان بزدار اور ان کی فیملیز کے نام جائیدادوں کا ریکارڈ طلب کرلیا،لاہورنیب نے خاندان کے 10 افراد سے متعلق تمام تفصیلات طلب کرلیں

    نيب نے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنرز ریونيو کو مراسلہ جاری کردیا جس میں 28 فروری تک نيب لاہور کو عثمان بزدار کے نام جائیدادوں کا ریکارڈ فراہم کرنے کے احکامات جاری کر دیے گئے۔

    مراسلے کے مطابق عثمان بزدار کے خاندان کے دس افراد کے نام جائیدادوں کا ریکارڈ طلب کیا گیا ہے، عثمان بزدار کے تمام فیملی ممبران کے نام جائیدادوں کا ریکارڈ عثمان بزدار یا فیملی کے نام پر پراپرٹی، زمین، تحائف اور وراثتی جائیداد کا ریکارڈ مانگا گیا ہے۔

  • عمران خان ٹانگ کا پلاسٹر اب تمہیں مزید نہیں بچائے گا، مرد بنو اور قانون کا سامنا کرو،مریم نواز

    عمران خان ٹانگ کا پلاسٹر اب تمہیں مزید نہیں بچائے گا، مرد بنو اور قانون کا سامنا کرو،مریم نواز

    لاہور: مسلم لیگ (ن) کی چیف آرگنائزر مریم نواز نےعمران خان کو “سازشوں کا بادشاہ” قرار دیا-

    باغی ٹی وی: عمران خان نے اپنے ایک ٹوئٹر بیان میں کہا کہ سپریم کورٹ کے ججوں پر پی ڈی ایم کے بے شرم اور بے حساب حملے اور بدعنوانی کے پیسوں سے پالی جانے والی بی بی مریم کا صرف ایک مقصد ہے آئین کی خلاف ورزی کرکے بھی انتخابات سے بھاگنا۔ ایس سی پی پر حملہ کرکے، وہ فیڈریشن کو نقصان پہنچا رہے ہیں اور پاکستان میں جنگل کے قانون کی حکمرانی کو یقینی بنا رہے ہیں۔


    عمران خان کی ٹویٹ کے جواب میں مریم نواز نے عمران خان کو “سازشوں کا بادشاہ” قرار دیاکہا کہ آپ کی چیخیں غلط نہیں کیوںکہ آپ اپنے گاڈ فادر فیض اور ان کی باقیات کی مدد سے ‘سازشوں کے بادشاہ’ ہیں۔


    مریم نواز نے کہا کہ آپ فیض اوران کی باقیات کی سازشوں پر پھلتے پھولتےاورزندہ رہتےہیں، اب آپ دیکھیں گےکہ “بگڑی ہوئی شہزادی” آپ کو کیسے مات دیتی ہے، آپ جیسے پیادے غیر متعلقہ ہو جائیں گے۔

    مریم نے مزید کہا کہ تم عدالتوں سے بچتے پھر رہے ہو اور التوا کی بھیک مانگ رہے ہو، جو تمہارے مجرم ہونے کا واضح ثبوت ہے، ٹانگ کا پلاسٹر اب تمہیں مزید نہیں بچائے گا، مرد بنو اور قانون کا سامنا کرو-


    مریم نواز کا کہنا تھا کہ یہ چور ڈاکو کا بیانیہ اب پٹ چکا ہے، بلکہ تم اور تمہاری بیوی توشہ خانہ کیس میں چوری کرتے رنگے ہاتھوں پکڑے گئے ہو 190 ملین پاؤنڈ (58 ارب روپے) کی چوری ، بیوی کے زیورات اور توشہ خانہ کی ڈکیتی، 5 کیرٹ ہیرے کی انگوٹھی کے لیے فائلوں پر دستخط کرنے تک ہر قسم کی بدعنوانی کا مجرم بننے والے پہلے وزیراعظم ہو-

  • سرائیکی زبان کے معروف شاعر شاکر شجاع آبادی کا یومِ پیدائش

    سرائیکی زبان کے معروف شاعر شاکر شجاع آبادی کا یومِ پیدائش

    شاکر شجاع آبادی کا تعلق شجاع آباد کے ایک چھوٹے سے گاوٗں راجہ رام سے ہے جو ملتان سے ستر70 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے ۔۔ شاکر شجاع آبادی 25 فروری 1968 کو پیدا ہوئے وہ عصرِ حاضر میں سرائیکی زبان کےمشہور اور ہر دل عزیز اور سرائیکی کے نمائندہ شاعر ہیں۔ جسے سرائیکی زبان کا شیکسپیئر اور انقلابی شاعر کہا جاتا ہے ان کا اصل نام محمد شفیع ہے اور تخلص شاکرؔ ہے، شجاع آباد کی نسبت سے شاکر شجاع آبادی مشہور ہے۔

    خواجہ غلام فرید کوشاعری میں اپنا روحانی استاد مانتے ہیں 1994ء تک بول سکتے تھے، اس کے بعد فالج کا حملہ ہوا جس کے باعث درست طور پر بولنے سے قاصر ہیں اور ان کا پوتا ان کی ترجمانی کرتا رہا۔

    گزشتہ کئی سالوں سے وہ سرائیکی کے مظلوم عوام کے دلوں کی آواز بنے ہوئے ہیں ۔۔۔ وہ خود بولنے کی صلاحیت سے محروم ہیں لیکن انھوں نے سرائیکی عوام کی محرومیوں کو اجاگر کر کے ان کو جذبات کی عکاسی کے لیے زبان دی ہے ۔۔ 1986 سے باقاعدہ شاعری کر رہے ہیں ۔۔ نصابی تعلیم نہ ہونے کی وجہ سے وہ کتابیں نہیں پڑھ سکے ۔۔ ان کا شاعری سے متعلق تمام علم ریڈیو پروگراموں کا مرہون منت ہے ۔۔ غلام فرید اور وارث شاہ کو انھوں بہت سنا ۔۔۔ وہ کہتے ہیں کہ ‘‘میرا مسئلہ صرف سرائیکی وسیب نہیں ہے بلکہ میں پوری دنیا کے مظلوم لوگوں کی بات کرتا ہوں چاہے کوئی کافر ہی کیوں نہ ہو ۔’’ 1994 تک بول سکتے تھے ۔۔ اس کے بعد فالج کا حملہ ہوا جس کے باعث درست طور پر بولنے سے قاصر ہیں ۔۔

    کہتے ہیں میں زیادہ سکول نہیں گیا ’’سب کچھ غور کرنے سے اور دنیا کے تجربات سے سیکھا ہے‘‘ ۔۔ایک انٹرویو میں ان کا کہنا تھا کہ ‘‘پاکستان کے زوال کی اصل وجہ وڈیروں کا قابض ہونا اور لوگوں کا ان کے خلاف نہ اٹھنا ہے ۔۔ اگر لوگوں کو شعور دیا جائے کہ ان کی غلامی سے کیسے نکلنا ہے تو مسائل حل ہو سکتے ہیں ‘‘۔۔ موجودہ سیاسی نظام سے وہ منتفر ہیں ۔۔ماضی کے لیڈران میں سے وہ ذوالفقار علی بھٹو کو پسند کرتے ہیں ۔۔ جنھوں نے عوام کو حقوق کا شعور دیا ۔۔

    وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے ایک بار انھیں دو لاکھ کا چیک دیا تھا جو انھوں نے اپنے علاقے کے ایک سکول کی عمارت پر لگا دیا ۔۔ لیکن سٹاف نہ ہونے کی وجہ سے وہ سکول بند ہے ۔۔۔ وہ خود انتہائی غربت میں زندگی بسر کر رہے ہیں ۔۔ اکثر بیمار رہتے ہیں اور روزمرّہ اخراجات کو پورا کرنے کے لیےبھی معلوم نہیں کیا کیا پاپڑبیلنے پڑتے ہیں انھوں نے اپنی شاعری کی فکر اور فلسفہ کسی کتاب ، یونیورسٹی یا عظیم دانشوروں کے افکار و نظریات سے نہیں لیا ۔۔ بلکہ جو انھوں نے دیکھا ، سوچا ، سمجھا اور جو ان پر بیتا اسے قلم بند کرتے رہے ۔۔

    ایک مشاعرے میں جہاں مختلف یونیورسٹیوں کے طلباء اور پروفیسرز ان کی شاعری سننے کے لیے جمع تھے ۔۔۔ تو ان سے پوچھا گیا کہ وہ ان تعلیم یافتہ لوگوں کے درمیان کیا محسوس کر رہے ۔۔ تو انھوں نے کہا کہ میں بچپن میں پڑھ لکھ کر سائنس دان بننا چاہتا تھا ۔۔۔ لیکن غربت کی وجہ سے نہ پڑھ سکا ۔۔ جس کا افسوس ہوتا تھا ۔۔ لیکن اب خوشی ہوتی ہے کہ میں لوگوں کی آواز بنا ہوں ۔۔ اور بہت سے پڑھے لکھے لوگ مجھے سنتے ہیں اور میرے بارے میں لکھتے ہیں ۔۔۔

    ان کی شاعری زبان کی حدود و قیود کو پھلانگ کر مظلوم قوموں اور پسے ہوئے طبقات کی آواز بن چکی ہے ۔۔۔ پاکستان کے کونے کونے میں مزدور ، کسان ، جھونپڑیوں میں رہنے والے اور مذہبی فرسودگی سے تنگ آئے ہوئے لوگ آپ کو شاکر شجاع آبادی کے اشعار گنگناتے ہوئے ملیں گے ۔۔ اور ممکن ہے انھیں یہ بھی علم نہ ہو کہ ان اشعار کا خالق کون ہے ۔۔۔۔

    ان کی شاعری کا موضوع ، غربت ، پسماندگی ، غیر مساویانہ معاشی تقسیم ،بددیانتی اور مذہبی ٹھیکیداروں کی رجعت پسندی ہےبظاہر تو یوں لگتا ہے کہ ان کی شاعری ان کے ذاتی مسائل خطے کی صورتحال اور سرائیکی بیلٹ کی پسماندگی کا فطری ردِ عمل ہےلیکن اپنے طرزِ اظہار کے باعث انھوں نے اپنی شاعری کو عالمی صورتحال سے جوڑ دیا ہے ۔۔ اور جب تک یہ مسائل ہیں ۔۔ اس خطے کے لوگ شاکر شجاع آبادی کو نہیں بھول سکتے ۔۔ ان کی شاعری ان کے مسائل کی عکّاسی کرنے کے ساتھ ساتھ اُن میں تبدیلی کی تڑپ کو زندہ رکھے گی –

    ان کی شاعری کے کئی مجموعے چھپ چکے ہیں ۔۔ کلامِ شاکر ، خدا جانے ، شاکر دیاں غزلاں ، منافقاں توں خدا بچائے اور شاکر دے دوہڑے ان کے مجموعہ ہائے کلام ہیں-

    حکومت پاکستان کی طرف سے اعلیٰ کارکردگی کی وجہ سے 14 اگست 2006ء میں انہیں صدارتی اعزاز برائے حسن کارکردگی ملا۔

    ہر چند کہ شاکر شجاع آبادی صاحب کی تعلیمی قابلیت پرائمری ہے لیکن اﻥ کا ﮐﻼﻡ ﺍﺱ ﻭﻗﺖ ﯾﻮﻧﯿﻮﺭﺳﭩﯿﻮﮞﻣﯿﮟ ﭘﮍﮬﺎﯾﺎ ﺟﺎ ﺭﮨﺎ ﮨﮯ
    ﺍﺳﻼﻣﯿﮧ ﯾﻮﻧﯿﻮﺭﺳﭩﯽ ﺑﮩﺎﻟﭙﻮﺭ،،ﺑﮩﺎﺀﺍلدﯾﻦﯾﻮﻧﯿﻮﺭﺳﭩﯽ ﻣﻠﺘﺎﻥ،،ﺍﯾﮕﺮﯼ ﮐﻠﭽﺮﻝ ﯾﻮﻧﯿﻮﺭﺳﭩﯽ ﻻﮨﻮﺭ ﺍﻭﺭ ﻋﻼﻣﮧ ﺍﻗﺒﺎﻝ ﺍﻭﭘﻦ، ﯾﻮﻧﯿﻮﺭﺳﭩﯽ ﺍﺳﻼﻡ ﺁﺑﺎﺩ –

    ﺟﻨﺎﺏ_ ﺷﺎﮐﺮ ﺷﺠﺎﻉ ﺁﺑﺎﺩﯼ ﺻﺎﺣﺐ ﮐﮩﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ ﻣﯿﮟ ﺳﺎﺋﻨﺴﺪﺍﻥ ﺑﻨﻨﺎ ﭼﺎﮨﮩﺘﺎ ﺗﮭﺎ ﻣﮕﻏﺮﺑﺖ ﻧﮯ ﺁﻥ ﮔﮭﯿﺮﺍ ﻣﮕﺮ ﺍﺏ ﮐﭽﮫ ﻧﮧ ﮐﭽﮫ ﺧﻮﺍﺏ ﭘﻮﺭﺍﮨﻮﺍ ﮐﯿﻮﮞ ﮐﮧ ﻟﻮﮒ ﻣﯿﺮﮮ ﮐﻼﻡ ﮐﮯ ﺍﻭﭘﺮ ﭘﯽ ﺍﯾﭻ ﮈﯼ ﮐﺮ ﺭﮨﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﻥ ﮐﮯ ﺳﺮﺍﺋﯿﮑﯽ ﮐﻼﻡ ﺗﻮ ﺁﭖ ﻧﮯ ﺑﮩﺖ ﺳﻨﮯ ﭘﮍﮬﮯ ﮨﻮﮞ ﮔﮯﺍﻥ ﮐﮯ ﺩﻭ ﮐﻼﻡ ﺍﺭﺩﻭ ﻣﯿﮟ ﻣﻼﺧﻄﮧ ﻓﺮﻣﺎﺋﯿﮟ –
    ____
    ﺳﺘﻢ ﮐﻮ ﺍﭘﻨﮯ ﻗﺪﺭﺕ ﺳﺎ ﮐﺒﮭﯽ ﺍﻧﺪﺍﺯ ﻣﺖ ﺩﯾﻨﺎ
    ﻭﮦ ﺑﮯ ﺁﻭﺍﺯ ﻻﭨﮭﯽ ﮨﮯ ﺍﺳﮯ ﺁﻭﺍﺯ ﻣﺖ ﺩﯾﻨﺎ
    ﺳﺘﻢ ﺟﺐ ﻟﻮﭨﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﺗﻮ ﺳﺘﻢ ﮔﺮ ﭘﺮ ﺟﮭﭙﭩﺘﮯﮨﯿﮟ
    ﺳﺘﻢ ﺟﯿﺴﮯ ﻋﻘﺎﺑﻮﮞ ﮐﻮ ﮐﮭﻠﯽ ﭘﺮﻭﺍﺯ ﻣﺖ ﺩﯾﻨﺎ
    ___
    ﺟﮭﻮﻧﮑﺎ ﮨﻮﺍ ﮐﺎ ﺗﮭﺎ ﺁﯾﺎ ﮔﺰﺭ ﮔﯿﺎ
    ﮐﺸﺘﯽ ﻣﯿﺮﯼ ﮈﺑﻮ ﮐﮯ ﺩﺭﯾﺎ ﺍﺗﺮ ﮔﯿﺎ
    ﻣﯿﺮﮮ ﭘﯿﺎﺭ ﭘﮧ ﺟﻮ ﺻﺪﻗﮧ ﻣﯿﺮﮮ ﯾﺎﺭ ﻧﮯ ﺩﯾﺎ
    ﺩﯾﮑﮭﺎ ﺟﻮ ﻏﻮﺭ ﺳﮯ ﺗﻮ ﻣﯿﺮﺍ ﮨﯽ ﺳﺮ ﮔﯿﺎ
    ﺑﭩﺘﯽ ﮨﯿﮟ ﺍﺏ ﻧﯿﺎﺯﯾﮟ ﺍﺱ ﮐﮯ ﻣﺰﺍﺭ ﭘﺮ
    ﮐﭽﮫ ﺭﻭﺯ ﭘﮩﻠﮯ ﺟﻮ ﺷﺨﺺ ﻓﺎﻗﻮﮞ ﺳﮯ ﻣﺮ
    ﮔﯿﺎ
    ﻣﺠﮭﮯ ﻗﺘﻞ ﮐﺮ ﮐﮯ ﺷﺎﮐﺮ ﻭﮦ ﺭﻭﯾﺎ ﺑﮯ ﭘﻨﺎﮦ
    ﮐﺘﻨﯽ ﮨﯽ ﺳﺎﺩﮔﯽ ﺳﮯ ﻗﺎﺗﻞ ﻣﮑﺮ ﮔﯿﺎ

    تصنیفات

    لہو دا عرق
    پیلے پتر
    بلدین ہنجو
    منافقاں تو خدا بچاوے
    روسیں تو ڈھاڑیں مار مار کے
    گلاب سارے تمہیں مبارک
    کلامِ شاکر
    خدا جانے
    شاکر دیاں غزلاں
    شاکر دے دوہڑے

    بشکریہ وکی پیڈیا

    ان کے کچھ منتخب اشعار پیش ہیں ۔۔۔۔۔ ان کی شاعری کا انتخاب بھی ایک کٹھن مرحلہ تھا ۔۔۔۔ کسی بھی موجود شعر کو چھوڑنا گراں محسوس ہو رہا تھا ۔۔۔ لیکن کچھ تو کرنا ہی تھا ۔۔ سو انتخاب حاضر ہے ۔۔۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔​۔۔

    مرے رازق رعایت کر نمازاں رات دیاں کر دے
    کہ روٹی رات دی پوری کریندے شام تھیں ویندی
    انھاں دے بال ساری رات روندن بھک تو سوندے نئیں
    جنھاں دی کیندے بالاں کوں کھڈیندے شام تھی ویندی
    میں شاکر بھکھ دا ماریا ہاں مگر حاتم توں گھٹ کئی نئیں
    قلم خیرات ہے میری چلیندے شام تھی ویندی

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔​۔۔۔۔۔۔۔

    کیہندے کتّے کھیر پیون کیہندے بچّے بھکھ مرن
    رزق دی تقسیم تے ہک وار ول کجھ غور کر
    غیر مسلم ہے اگر مظلوم کوں تاں چھوڑ دے
    اے جہنمی فیصلہ نہ کر اٹل کجھ غور کر

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔​۔۔۔۔۔۔۔

    اے پاکستان دے لوکو پلیتاں کوں مکا ڈیوو
    نتاں اے جے وی ناں رکھے اے ناں اوں کوں ولا ڈیوو
    جتھاں مفلس نمازی ہن او مسجد وی اے بیت اللہ
    جو ملاں دیاں دکاناں ہن مسیتاں کوں ڈھا ڈیوو
    اتے انصاف دا پرچم تلے انصاف وکدا پئے
    ایہوجی ہر عدالت کوں بمعہ املاک اڈا ڈیوو
    پڑھو رحمن دا کلمہ بنڑوں شیطان دے چیلے
    منافق توں تے بہتر ہے جے ناں کافر رکھا ڈیوو
    جے سچ آکھن بغاوت ہے بغات ناں اے شاکر دا
    چڑھا نیزے تے سر مینڈھا مینڈے خیمے جلا ڈیوو

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔​۔۔۔۔۔۔

    میکوں مینڈا ڈکھ ، میکوں تینڈا ڈکھ ، میکوں ہر مظلوم انسان دا ڈکھ
    جتھاں غم دی بھا پئی بلدی ہے میکوں روہی چولستان دا ڈکھ
    جتھاں کوئی انصاف دا ناں کوئی نئیں میکوں سارے پاکستان دا ڈکھ
    جیہڑے مر گئے ہن او مر گئے ہن میکوں جیندے قبرستان دا ڈکھ

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔​۔۔۔۔۔۔۔

    غریب کوں کئیں غریب کیتے ، امیرزادو جواب ڈیوو
    ضرورتاں دا حساب گھنو ، عیاشیاں دا حساب ڈیوو
    سخاوتاں دے سنہرے پانڑیں ، دے نال جیہڑے مٹا ڈتے نیں
    او لفظ موئے بھی بول پوسن ، شرافتاں دی کتاب ڈیوو
    شراب دا رنگ لال کیوں اے ، کباب دے وچ اے ماس کیندا
    شباب کیندا ہے ، کئیں اُجاڑے حساب کر کے جناب ڈیوو
    زیادہ پھلدا اے کالا جیکوں ، خرید گھن دا اے اوہو کرسی
    الیکشناں دا ڈرامہ کر کے ، عوام کوں نہ عذاب ڈیوو
    قلم اے منکر نکیر شاکر ، جتھاں وی لکسو اے تاڑ گھن سی
    غلاف کعبے دا چھک کے بھانوں ، ناپاک منہ تے نقاب ڈیوو

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔​۔۔۔۔۔

    72 حور دے بدلے گزارہ ہک تے کر گھنسوں
    71 حور دے بدلے اساں کوں رج کے روٹی دے

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔​۔۔۔۔۔

    نجومی نہ ڈراوے دے اساکوں بدنصیبی دے
    جڈاں ہتھاں تے چھالے تھئے لکیراں خود بدل ویسن

  • صوفیہ مرزا کو بڑا دھچکا، عدالت نے عمر فاروق ظہور کے خلاف بیٹیوں کے اغوا کا مقدمہ خارج کردیا

    صوفیہ مرزا کو بڑا دھچکا، عدالت نے عمر فاروق ظہور کے خلاف بیٹیوں کے اغوا کا مقدمہ خارج کردیا

    لاہور کی مقامی عدالت نے عمر فاروق ظہور کے خلاف بیٹیوں کو اغوا کرنے کا مقدمہ خارج کردیا۔

    باغی ٹی وی :جوڈیشل مجسٹریٹ لاہور غلام مرتضیٰ ورک نے فیصلے میں کہا ہے کہ ایف آئی اے کو لاہور میں مقدمہ درج ہی نہیں کرنا چاہیے تھا 14 برس قبل بچیوں زینب اور زنیرہ کے اغوا کا مبینہ واقعہ کراچی میں ہوا تو کارروائی بھی وہیں ہونی چاہیے تھی۔

    عدالت نے حکم دیا کہ معاملہ ہمارے دائرہ کار میں نہ نہیں ہے اس لیے اس کیس کی فائل تمام انکلوژرز اور شواہد کے ساتھ استغاثہ کو واپس کر دی جاتی ہے تاکہ اسے مناسب فورم پر دائر کیا جا سکے۔

    عدالت میں عمر ظہور کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ سپریم کورٹ میں معاملہ 2013 میں حل ہوچکا، صوفیہ مرزا نے 10 لاکھ لے کر کیس نمٹا دیا تھا۔

    ایف آئی اے نے مقدمے میں لائبیریا کے سفیر عمر فاروق، صدف ناز اور محمد زبیر کو نامزد کیا تھا،مجسٹریٹ کے فیصلے کے بعد تفتیشی عمل مکمل کرنے کیلئے کیس ایف آئی اے کراچی کو بھیجا جائے گا۔

    عمر فاروق ظہور نے شکایت کی درج کرائی تھی کہ ان کی سابق اہلیہ صوفیہ مرزا سابق وزیر احتساب شہزاد اکبر اور ایف آئی اے کے ڈائریکٹر (مرحوم) ڈاکٹر رضوان کے ساتھ مل کر سازش کی اور ان کے خلاف منی لانڈرنگ اور اغوا کے جعلی مقدمات درج کرائے تاکہ ان پر ایف آئی اے کو سزا دی جائے۔

    انتقام کی مہم اور آج کے آرڈر آف لرنڈ مجسٹریٹ نے اپنے موقف کی توثیق کی ہے کہ شہزاد اکبر نے ایف آئی اے لاہور کو اس حقیقت کے باوجود کہ ایف آئی اے لاہور کے دائرہ اختیار میں کمی کے باوجود ایف آئی اے لاہور کو اپنے خلاف جھوٹے مقدمات درج کرنے پر مجبور کر کے اپنے اختیارات کا غلط استعمال کیا۔

    حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ صدف ناز کی درخواست کے مطابق کراچی میں 2009 میں ہونے والے مبینہ جرم کی ایف آئی آر کے اندراج میں 10 سال سے زائد کی غیر وضاحتی تاخیر ہوئی ہے اور استغاثہ نے 9 گواہ پیش کیے ہیں لیکن وہ جرم کا ریکارڈ پیش کرنے میں ناکام رہا ہے۔ ملزم کے خلاف مواد صدف ناز نے استدعا کی تھی کہ انہیں بغیر کسی وجہ کے "جعلی اور فرضی” کیس میں گھسیٹا گیا اس لیے ان کے خلاف مقدمہ خارج کیا جائے۔

    سمجھا جاتا ہے کہ جج غلام مرتضیٰ ورک کے فیصلے کے بعد کیس اب باقی تفتیش مکمل کرنے کے لیے ایف آئی اے کراچی کو بھیجا جائے گا۔

    اس حوالے سےعمر فاروق ظہورکا کہنا تھا کہ سابقہ اہلیہ صوفیہ مرزا نے جون 2020 میں نےانتقامی کارروائی کیلئےجعلی مقدمہ درج کرکے ایف آئی کو ملوث کیا تھا، مقدمہ درج کرانے کیلئے صوفیہ مرزا کو سابق مشیر احتساب شہزاد اکبر اور ایف آئی اے کے ڈائریکٹر مرحوم ڈاکٹر رضوان کی معاونت حاصل تھی۔

    انہوں نے کہا کہ مجسٹریٹ کے فیصلے سے ثابت ہوگیا ایف آئی اے کو غلط مقدمہ درج کرنے کیلئے مجبور کیا گیا۔

    گزشتہ سال جون میں جیو اور دی نیوز نے تحقیقات کے بعد انکشاف کیا کہ صوفیہ مرزا کی طرف سے عمر فاروق ظہور پر مبینہ فراڈ اور 16 ارب روپے کی منی لانڈرنگ کے الزامات لگائے گئے شہزاد اکبر نے ایف آئی اے کو استعمال کرنے کیلئے صوفیہ مرزا کو شکایت درج کرانے کا مشورہ دیا، شکایت وزارت داخلہ کے ذریعے پی ٹی آئی حکومت کی کابینہ تک پہنچی تاہم کابینہ نے عمر فاروق ظہور اور ان کے عزیز کے خلاف 16 ارب روپے کے مبینہ فراڈ کی ایف آئی اے کو تحقیقات کی اجازت دی۔

    ایف آئی اے نے تفتیش مکمل کرنے کے بعد عمر فاروق ظہور کے خلاف دو کیسز درج کیے، تحقیقات کے مطابق عمر فاروق ظہور اور شریک ملزم نے ناروے اور سوئٹزرلینڈ میں فراڈ کیے، اوسلو میں 2010 میں 89.2 ملین ڈالر کا بینک فراڈ اور برن میں 12 ملین ڈالر کے فراڈ کا الزام عائد کیا گیا۔

    ایف آئی اے کو شکایت میں خوش بخت مرزا نے یہ نہیں بتایا کہ وہ بطور اداکارہ و ماڈل صوفیہ مرزا کے نام سے معروف ہیں، صوفیہ مرزا نے شکایت میں یہ بھی نہیں بتایا کہ عمر فاروق ظہور ان کے سابق شوہر ہیں۔

    شکایت میں الزام لگایا گیا کہ عمر فاروق ظہور نےکئی ممالک میں فراڈ کیا اور ناروے میں سزا یافتہ اور مطلوب ہے،عمر فاروق ظہور نے مبینہ طور پر 9.37 ملین ترک لیرا کا بھی فراڈ کیا، گھانا میں 510 ملین ڈالر کا مشکوک معاہدہ بھی کیا، عمر فاروق ظہور کے پاس کالے دھن کے کئی ملین ڈالر اور پاکستان و دبئی میں کئی جائیدادوں کا الزام بھی لگایا گیا۔

    صوفیہ مرزا نے سابق شوہر پر سونے کی اسمگلنگ، مہنگی گاڑیاں اورگھڑیوں کی ملکیت اور سونا و رقم گھر میں رکھنے کا الزام بھی لگایا۔

    ماڈل صوفیہ مرزا نے ایف آئی سے استدعا کی کہ وہ پاکستان کو بدنام کرنے والے شخص کے خلاف تحقیقات کرے، کابینہ میں شہزاد اکبر کی طرف سے پیش کی گئی سمری کے حوالے سے کوئی سوال نہیں کیا گیا تھا کابینہ کو یہ بتانے کی زحمت بھی نہیں کی گئی کہ خوش بخت مرزا ہی اصل میں صوفیہ مرزا ہیں،کابینہ کو عمر فاروق ظہور کے خوش بخت کا سابق شوہر ہونے اور جڑواں بچیوں کی تحویل کی لڑائی سے بھی لا علم رکھا گیا۔

    جوڑے کی 2008 میں طلاق کے بعد بچیاں اپنی مرضی سے والد کے ساتھ دبئی میں مقیم ہیں، کابینہ کو اس بات سے بھی لاعلم رکھا گیا کہ پاکستان اور یو اے ای کی اعلیٰ عدالتوں میں بچیوں کی تحویل کا معاملہ طے ہوچکا ہے۔

    صوفیہ مرزا نے بدعنوانی کے دو مقدمات سے قبل سابق شوہر پر بچیوں کے اغوا کا مقدمہ بھی درج کروایا، والدین پر اپنے بچوں کے اغوا کا مقدمہ نہ بننے کے قانون کے باوجود شہزاد اکبر کی ہدایت پر عمر فاروق ظہور کے خلاف مقدمہ بنا، کابینہ میں سمری کی منظوری کے بعد عمر فاروق ظہور کا نام ایگزٹ کنٹرول میں ڈال دیا گیا، قانونی کارروائی مکمل کیے بغیر ناقابل ضمانت وارنٹس کے اجرا کے علاوہ پاسپورٹ اور قومی شناختی کارڈ بلیک لسٹ کردیے گئے، انٹرپول کے ذریعے عمر فاروق ظہور کی گرفتاری کیلئے ریڈ وارنٹس بھی جاری کر دیے گئے۔

    عمر فاروق ظہور نے لائبیریا کے سفیر کے طور پر ایف آئی اے کے اقدامات کو ختم کرانے کیلئے کارروائی شروع کی، عدالتی کارروائی کے بعد ناقابل ضمانت وارنٹس اور ریڈ وارنٹس منسوخ ہوئے۔

    عدالت نے یہ مشاہدہ کیا کہ اشتہاری قرار دینے سے قبل مجوزہ طریقہ کار پر عمل نہیں کیا گیا تھا، عدالت نے یہ مشاہدہ بھی کیا کہ 2019 سے لائبیریا کا سفیر ہونے کی حیثیت سے عمر فاروق ظہور کو قانونی کارروائی سے استثنیٰ حاصل ہے۔

    عمر فاروق ظہور کو سفارتی استثنیٰ حاصل ہونے کے باوجود ایف آئی اے نے ڈفیوژن نوٹس جاری کیا، عمر فاروق کو استثنیٰ اور ہائی کورٹ کے احکامات کے باوجود ان کے خلاف ناقابل ضمانت وارنٹس جاری کرائےگئے۔

    عدالتی حکم نامے کے مطابق ایف آئی اے نے ڈفیوژن نوٹس کی اجازت کے حوالے سے انٹرپول سے جھوٹ بولا، ایف آئی اے کے غیر قانونی اقدامات سے بچانے کیلئے عمر فاروق نے جوڈیشل مجسٹریٹس لاہور غلام مرتضیٰ ورک سے رابطہ کیا۔

    جوڈیشل مجسٹریٹس لاہور غلام مرتضیٰ ورک کے مشاہدے میں یہ بات آئی کہ دونوں کیسز میں نہ تو ناقابل ضمانت وارنٹس جاری کیےگئے اور نہ ایف آئی اے کی جانب سے کوئی رپورٹ پیش کی گئی، عمر فاروق ظہور کا نام سرخیوں میں اس وقت آیا جب سابق ڈی جی ایف آئی اے بشیر میمن نے عمران خان کے غیرقانونی احکامات ماننے سے انکار کا انکشاف کیا۔

    بشیر میمن پر مارچ 2022 میں الزام لگایا گیا کہ انہوں نے عمر فاروق کو پاکستان کے دورے کرنے کی غیر قانونی اجازت دی، سوئس حکام نے 7 دسمبر 2020 کو تصدیق کےشواہدکی کمی اور ٹائم بار کے سبب عمر فاروق کے خلاف کیس خارج کردیا گیا۔

    ترک باشندے کی طرف سے لگائےگئے فراڈ کے الزام کی نیب نے انکوائری کی، کرپشن کا کوئی ثبوت نہ ملنے پر اگست 2013 کو احتساب عدالت نے عمر فاروق کو کلین چٹ دی تھی۔

    مئی 2020 میں ناروے حکام نے بینک فراڈ کیس عدم ثبوت پر عمر فاروق کے خلاف کیس بند کردیا تھا، سوئٹزرلینڈ اور ناروے کی طرف سے عمر فاروق ظہور پر کیسز ختم ہوتے ہی ان پر پاکستان میں عجلت میں کیسز بنائےگئے۔

  • امیر کویت شاٹ گن کپ،پاکستانی شوٹر نے گولڈ میڈل جیت لیا

    امیر کویت شاٹ گن کپ،پاکستانی شوٹر نے گولڈ میڈل جیت لیا

    پاکستان شوٹر نے امیر کویت شاٹ گن کپ میں ریکارڈ اپنے نام کرتے ہوئے گولڈ میڈل جیت لیا۔

    باغی ٹی وی: پاکستانی شوٹر عثمان چاند نے ایشیا شاٹ گن کپ کے کوالیفکیشن راؤنڈ میں بھی پہلی پوزیشن حاصل کی تھی جبکہ انہوں نے امیر کویت شاٹ گن کپ میں گولڈ میڈل اپنے نام کر لیا ہے۔


    پاکستان کے عثمان چاند نے امیر کویت شاٹ گن کپ میں 125 میں سے 124 شاٹ نشانے پر لگا کر منفرد ریکارڈ قائم کیا۔


    واضح رہے کہ نیشنل رائیفل ایسوسی ایشن آف پاکستان کے سیکرٹری کے مطابق پاکستان کی جانب سے کویت میں ہونے والے ایشین شاٹ گن کپ میں سینیئر کیٹیگری کیلئے عثمان چاند اور جونیئر کیٹیگری کیلئے امام ہارون پاکستان کی نمائندگی کر رہے ہیں۔

    خیال رہے کہ پاکستان ایشیا شاٹ گن کپ شوٹنگ چیمپئن شپ کی میزبانی کرے گا جو 2023 میں مارچ میں لاہور میں ہوگی۔ رائفل ایسوسی ایشن آف پاکستان کے سیکرٹری رضی احمد خان کا کہنا تھا کہ پاکستان کو پہلی بار ایشیاکپ کی میزبانی دی گئی ہے ۔