Baaghi TV

Author: Ayesha Rehmani

  • مصر می‌ نو عمر لڑکے کی ممی سے سونے کا دل دریافت

    مصر می‌ نو عمر لڑکے کی ممی سے سونے کا دل دریافت

    قاہرہ: قدیم مصری تہذیب سے دریافت شدہ ایک ممی کو کھولے بغیر معلوم ہوا ہے کہ اسے 49 قیمتی تعویز گنڈوں سے سجایا گیا تھا-

    باغی ٹی وی: نوعمر لڑکے کو 2300 سال قبل ممی میں ڈھالا گیا تھا 1916 میں دریافت ہونے والی یہ ممی قاہرہ کے عجائب گھر میں کھلے بغیر رکھی تھی اور 300 قبل مسیح میں بطلیموسی عہد میں بنائی گئی تھی-

    اب جامعہ قاہرہ کی سحرسلیم اورانکےساتھیوں نے اسے ڈجیٹل انداز میں پرت در پرت کھولا ہےاس میں ایکسرے، سی ٹی (کمپیوٹر ٹوموگرافی) کے ساتھ ساتھ ہائی ریزولوشن کے سینکڑوں ایکسرے لئے گئے تو معلوم ہوا کہ 21 اقسام کے 49 قیمتی تعویز اور گنڈے بھی جسم میں لگائے گئے ہیں۔

    ایرانی جوہری تنصیبات پر حملے کی تیاری

    Mummy gold
    ممی کوایکسرے اور دیگر آلات سے دیکھا گیا ہے چونکہ مصری، بلیوں کی طرح بھنوروں کو بھی مقدس تصور کرتے تھے اور اسی وجہ سے ایک سونے کا بھنورا بنا کر اسے دل کے قریب لگایا گیا ہے اسے غالباً دوسرے دل کے طور پر نصب کیا گیا ہے۔

    لڑکے کے سینے کے جوف میں تین سینٹی میٹر سونے کا دل لگایا گیا تھاالٹی ران میں ایک چیرا لگا کر دو انگلیوں کی شکل کا ایک اور تعویز بھی رکھا گیا ہےجبکہ جسم کے دیگر مقامات پر سونے، قیمتی پتھر اور نیم قیمتی معدنیات وغیرہ کی بنی اشیا بھی موجود ہیں۔

    سبز دم دار ستارہ زمین کے قریب سے 50 ہزار سال بعد دوبارہ گزرے گا

    پروفیسر سحر کے مطابق دل اور دیگر اشیا کو دوسری دنیا کے سفر اور تحفظ کے لیے پہنائے گئے ہیں اس لڑکے کے اہلِ خانہ نے لڑکے کے تحفظ کے لیے بہت خرچ کیا ہوگا اسے قیمتی سینڈل بھی پہنائے گئے ہیں تاکہ یہ تابوت سے باہرآکر بحفاظت سفر کرسکے۔

  • سندھ میں ایک اور دینی مدرسے کو جامعہ کا چارٹر دینے کی سفارش کی

    سندھ میں ایک اور دینی مدرسے کو جامعہ کا چارٹر دینے کی سفارش کی

    کراچی: چیئرمین سندھ ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) نے وزیر اعلیٰ سندھ سے ایک اور دینی مدرسے کو جامعہ کا چارٹر دینے کی سفارش کی ہے-

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق سندھ میں دوسرے دینی مدرسے کو یونیورسٹی کا چارٹر دینے کی سفارش کردی گئی ہے جسے الکوثر یونیورسٹی کا نام دیا گیا ہے ،الکوثر یونیورسٹی کراچی کے معروف علاقے گلشن اقبال میں سپاری پارک کے سامنے قائم کی جارہی ہے-

    اب سڑکوں پر بات ہو گی،ایم کیو ایم کا اگلے ماہ احتجاج کرنے کا اعلان

    یہ بات چیئرمین سندھ ایچ ای سی ڈاکٹر طارق رفیع نے وزیر اعلٰی سندھ مراد علی شاہ کی موجودگی میں این ای ڈی یونیورسٹی میں منعقدہ دینی مدارس کے کرکٹ ٹورنامنٹ کے موقع پر بتائی۔

    بدھ کی شب این ای ڈی یونیورسٹی کے کرکٹ گراؤنڈ میں دس دینی مدارس کے مابین منعقدہ کرکٹ ٹورنامنٹ کی اختتامی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلٰی سندھ مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ یہ افتخار کا باعث ہے کہ مدارس کے مابین کرکٹ ٹورنامنٹ میں بحیثیت مہمان خصوصی شریک ہوا ہوں یہ خوش آئند بات ہے کہ مدارس کے طلبہ یونیورسٹی کی سطح پرعصر حاضرکی تعلیم حاصل کررہے ہیں، دین اسلام رواداری کے ساتھ ساتھ ہمیں جسمانی مضبوطی کا بھی درس دیتا ہے۔

    پرویزالہیٰ کے دور حکومت میں ہونے والی بھرتیوں کی تفصیلات طلب

    واضح رہے کہ اس سے قبل کراچی کے علاقے گلشن معمار میں قائم ایک اور دینی مدرسے کو یونیورسٹی کا درجہ دیا جاچکا ہے اور سندھ مدارس کو قومی دھارے میں لانے اور وہاں جدید علوم کی تعلیم دینے کی مہم میں سبقت لے جارہا ہے۔

  • جنگل کے بادشاہ شیر کی گھاس کھانے کی ویڈٰیو وائرل

    جنگل کے بادشاہ شیر کی گھاس کھانے کی ویڈٰیو وائرل

    سوڈان کے دارالحکومت خرطوم میں مویشیوں کے ایک باڑے میں ایک شیر کی گھاس کھانےکی ویڈیو سوشل میڈیا پر گردش کر رہی ہے-

    باغی ٹی وی : ویڈیو سوشل میڈیا پر جنگل میں آگ کی طرح پھیل گئی ہے ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ شیر مویشیوں کے ایک باڑے میں بیٹھا گھاس چررہا ہے لوگ ویڈیو دیکھ کر حیران ہیں کہ جنگل کا بادشاہ گوشت کے بجائے گھاس کیوں کھا رہا ہے؟-

    سوڈان وائلڈ لائف پارک نے اعتراف کیا کہ یہ منظر عجیب اور غیر فطری لگتا ہے، لیکن سچ یہ ہے کہ شیر وقتاً فوقتاً گھاس اور پتے کھاتے ہیں۔


    پارک انتظامیہ نے اپنے فیس بک پیج پر اس غیر معمولی رویے کی وضاحت کی کہا کہ جڑی بوٹیاں شیروں کی خوراک کا لازمی جزو نہیں ہیں، لیکن بعد میں انہیں کھانے کا سہارا لیا جاتا ہے کیونکہ یہ ان کے پیٹ کے امراض کو پرسکون کرنے میں مدد دیتی ہیں۔

    وضاحت میں کہا گیا کہ آج دوپہر کا کھانا کھانے کے بعد وہ بیٹھ گیا اور کچھ گھاس پر چبانے لگا جی ہاں، شیر گھاس کھاتے ہیں، تاہم، گھاس کو خوراک کے قدرتی حصے کے طور پر نہیں کھایا جاتا ہےاس کے بجائے،شیر گھاس کھاتے ہیں کیونکہ یہ انہیں پیٹ کےکیڑےکو پرسکون کرنے میں مدد کرتا ہے۔ ان کے گھاس کھانے کی ایک اور وجہ یہ ہے کہ گھاس معدنیات، وٹامنز اور فائبر کا قدرتی ذریعہ ہے، جو ان کی صحت کو سہارا دیتی ہے اور ہاضمے میں مدد دیتی ہے۔

    شیر گھاس کھاتے ہیں، اگرچہ یہ عجیب اور غیر فطری لگتا ہے، وہ وقتاً فوقتاً گھاس کھاتے رہتے ہیں درحقیقت، بلی کے تمام ارکان میں یہ ایک عام رویہ ہے۔ شیرچیتے اور گھریلو بلیا ں کبھی کبھار گھاس چباتے ہیں،پھر بھی، کوئی بھی جانور گھاس نہیں کھائے گا کیونکہ وہ گھاس کے ذائقے سے لطف اندوز ہوتے ہیں یا اس لیے کہ گھاس ان کی عام خوراک کا حصہ ہے۔

    دوسرے لفظوں میں شیر مختلف حالتوں میں جڑی بوٹی کو پیٹ کی ایک قسم کی دوا کے طور پر استعمال کرتے ہیں

  • فلپائن  میں دو طیارے  حادثے کا شکار

    فلپائن میں دو طیارے حادثے کا شکار

    منیلا: فلپائن میں یکے بعد دیگرے دو طیارے تباہ، فوجی طیارہ گر کر تباہ ہونے سے دو اہلکار ہلاک ہوگئے جبکہ ایک نجی طیارہ لاپتہ ہوگیا جس میں 6 افراد سوار تھے۔

    باغی ٹی وی: عالمی ذرائع ابلاغ کے مطابق فلپائن کے صوبے بتان میں فوجی طیارے نے تربیتی پرواز کے لیے ایئربیس سے اُران بھری تھی تاہم کچھ دیر بعد ہی کھیتوں میں گر کر تباہ ہوگیا۔

    فضائیہ نے بتایا کہ SF-260 TP مارچیٹی کو ٹیک آف کے 40 منٹ بعد دارالحکومت منیلا کے مغرب میں باتان صوبے میں ایک دھان کے کھیت میں گرتے ہوئے دیکھا گیا-

    فوجی طیارے کے زمین پر گرتے ہی آگ بھڑک اُٹھی۔ طیارے میں دو اہلکار سوار تھے جو حادثے میں ہلاک ہوگئے تاحال حادثے کی وجہ کا تعین نہیں ہوسکا ہے۔ حادثے کی تحقیقات کے لیے انکوائری کمیٹین تشکیل دیدی گئی۔

    فضائیہ نے کہا کہ اس نے اپنے SF-260 TP ٹرینر طیاروں کے بیڑے کو عارضی طور پر گراؤنڈ کر دیا ہے۔

    یہ طیارہ، جو 1970 کی دہائی سے فلپائن میں کام کر رہا ہے، اس نے ہلکے حملہ کرنے والے جنگی طیارے کے طور پر بھی کام کیا ہے، جس میں 2017 میں اسلامک اسٹیٹ کے وفادار عسکریت پسندوں کے قبضے کے بعد جنوبی مراوی شہر پر مہینوں کے فضائی حملوں کے دوران بھی شامل ہے۔

    جاپان میں شدید برف باری، نظام زندگی درہم برہم ،منسوخ پروازوں کی تعداد300 سے تجاوز کرگئی

    قبل ازیں 2021 میں، ایک فوجی طیارہ جو فوجیوں کو لے کر بغاوت کے خلاف کارروائیوں کے لیے روانہ ہوا تھا، 96 افراد کے ساتھ گر کر تباہ ہو گیا تھا، جس میں 53 افراد ہلاک ہو گئے تھے-

    دوسری جانب کوایان ایئرپورٹ سے اُڑان بھرنے والا ایک پرائیوٹ سیسا طیارہ اپنی منزل پر نہیں پہنچ سکا طیارے کو سیرا میدر کے پہاڑی سلسلے سے گزرنا تھا اڑان بھرنے کے 4 منٹ بعد ہی کنٹرول ٹاور سے رابطہ منقطع ہوگیا تھا۔

    مسافر بردار طیارے کو 30 منٹ کی پرواز کے بعد منزل مقصود پر پہنچنا تھا لیکن طیارہ راستے میں ہی لاپتہ ہوگیا طیارے کی تلاش کے لیے ریسکیو ٹیم بھیجی گئی لیکن تاحال طیارے کا سراغ نہیں مل سکا۔

    طیارے میں 6 افراد سوار تھے۔ موسم کی خرابی کے باعث ریسکیو آپریشن بند کردیا گیا تھا جسے آج صبح دوبارہ شروع کیا گیا ہے مسافروں کے زندہ ملنے کی امیدیں معدوم ہوگئیں ہیں-

    فضائیہ نے کہا کہ اس کے ہیلی کاپٹر بدھ کے روز ایک لاپتہ سیسا طیارے کی تلاش کی کارروائیوں میں شامل تھے جس میں چھ عام شہری سوار تھے، جو گزشتہ روز شمال مشرقی صوبہ ازابیلا کے ایک ہوائی اڈے پر پہنچنے میں ناکام رہا۔

  • اب سڑکوں پر بات ہو گی،ایم کیو ایم کا اگلے ماہ احتجاج کرنے کا اعلان

    اب سڑکوں پر بات ہو گی،ایم کیو ایم کا اگلے ماہ احتجاج کرنے کا اعلان

    متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) پاکستان نے بلدیاتی انتخابات اور حلقہ بندیوں کے خلاف اگلے ماہ احتجاج کرنے کا اعلان کردیا۔

    باغی ٹی وی : ایم کیو ایم پاکستان کے کنوینر ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی کا کہنا ہے کہ احتجاج سے پہلے الیکشن کمیشن اور سندھ حکومت کو موقع دے رہے ہیں کہ اگلے ہفتے سے دوبارہ حلقہ بندیاں شروع کرائیں ، جب حلقہ بندیاں ہی نہیں تو انتخابات کی کیا قانونی حیثیت رہی۔

    فواد چوہدری کی گرفتاری سیاسی نہیں،مریم اورنگزیب

    انہوں نے کہا کہ ایم کیو ایم کے لیے الیکشن نہیں حلقہ بندیاں اہم ہیں ، آئینی قانونی اور جمہوری طریقے سے انتخابات میں حصہ لینا چاہتے ہیں اگر ہم انتخابات میں حصہ نہیں لیں گے تو الیکشن تسلیم ہی نہیں ہوں گے ۔

    واضح رہے کہ متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) پاکستان نے کراچی اور حیدرآباد میں نئے بلدیاتی انتخابات کرانے کا مطالبہ کیا تھا کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وسیم اختر کا کہنا تھا کہ بلدیاتی انتخابات ہوئے پانچ دن ہوگئے لیکن نتیجہ اب تک نہیں آيا، موسم خراب ہے نہ برف باری، نہ ٹرن آؤٹ زیادہ ہےتوپھرانتخابی نتائج میں تاخیر کیوں؟ فافن اور الیکشن کمیشن سمیت سب کہہ رہے ہیں کہ انتحابات میں دھاندلی ہوئی۔

    ان کا کہنا تھا کہ کراچی اور حیدر آباد کا بلدیاتی الیکشن کالعدم قرار دے کر نیا الیکشن کرایا جائے، وہ شہر جو اسلام آباد اورسندھ حکومت کابجٹ بناتاہےاس کاخیال کیاجائےاگر بلدیاتی انتخابات میں ایسی دھاندلی ہوگی تو عام انتخابات میں کیاہوگا؟کراچی میں تین بار بلدیاتی انتخابات ملتوی ہوئے پھر بھی حلقہ بندیاں ٹھیک نہ کی گئيں، الیکشن سےپہلے ہی نہیں بعد میں بھی دھاندلی کی جارہی ہے، ووٹنگ ٹرن آؤٹ بڑھانے کیلئے مختلف طریقے اپنائے جارہے ہیں۔

    الیکشن کمیشن کو دھمکانے کے کیس میں فواد چوہدری کا 2 دن کا جسمانی ریمانڈ منظور

  • راج کوی کاخطاب پانے والے پنڈت میلہ رام

    راج کوی کاخطاب پانے والے پنڈت میلہ رام

    اک بار اس نے مجھ کو دیکھا تھا مسکراکر
    اتنی تو حقیقت ہے باقی سب کہانیاں ہیں

    میلا رام وفا

    پنڈت بھگت رام کے بیٹے اور پنڈت جے داس کے پوتے،ناول نویس ،شاعر،صحافی اورحکومت پنجاب سے راج کوی کاخطاب پانے والے پنڈت میلہ رام،میلہ رام وفا کے نام سے جانے جاتے ہیں۔ 26 جنوری1895کوگاؤں ديپوکےضلع سیالکوٹ میں پیداہوئے۔ بچپن میں گاؤں میں مویشی چرانےجایا کرتے تھے۔ کئی اخباروں کےمدیرہوئے، نیشنل کالج لاہور میں اردو فارسی کےدرس و تدریس کافریضہ انجام دیا۔

    ان کو باغیانہ نظم ”اے فرنگی“ لکھنے کے جرم میں دوسال کی قید بھی ہوئی شعری مجموعے”سوزوطن“ اور”سنگ میل“ کے علاوہ ”چاندسفرکا“ (ناول)ان کی اہم کتابیں ہیں بڑے بھائی سنت رام بھی شاعرتھےاورشوق تخلص کرتے تھے ٹی آر رینا کی کتاب پنڈت میلہ رام وفا حیات وخدمات، انجمن ترقی اردو(ہند) سے2011 میں چھپ چکی ہے فلم پگلی(1943)اورراگنی(1945)کے نغمے انہی کے لکھے ہوئے ہیں۔

    بارہ سال کی عمرمیں شادی ہوئی 17سال کی عمرمیں شعر کہنا شروع کیا پنڈت راج نارائن ارمان دہلوی کے شاگرد ہوئےارمان داغ دہلوی کے شاگرد تھے۔اردوکےمشہورومعروف رسالہ ”مخزن“ کے مدیررہے اور لالہ لاجپت رائے کے اردو اخبار ”وندے ماترم“ کی ادارت بھی کی۔ مدن موہن مالویہ کے اخبارات میں بھی کام کیا ویر بھارت میں جنگ کا رنگ کے عنوان سے کالم لکھتے تھے ان کاانتقال جالندھر پنجاب میں 19 ستمبر 1980 کو ہوا۔

    اشعار
    ۔۔۔۔۔
    اک بار اس نے مجھ کو دیکھا تھا مسکرا کر
    اتنی تو ہے حقیقت باقی کہانیاں ہیں

    گو قیامت سے پیشتر نہ ہوئی
    تم نہ آئے تو کیا سحر نہ ہوئی

    کہنا ہی مرا کیا ہے کہ میں کچھ نہیں کہتا
    یہ بھی تمہیں دھوکا ہے کہ میں کچھ نہیں کہتا

    اتنی توہین نہ کر میری بلا نوشی کی
    ساقیا مجھ کو نہ دے ماپ کے پیمانے سے

    عالم ہے ترے پرتو رخ سے یہ ہمارا
    حیرت سے ہمیں شمس و قمر دیکھ رہے ہیں

    تم بھی کرو گے جبر شب و روز اس قدر
    ہم بھی کریں گے صبر مگر اختیار تک

    راتیں عیش و عشرت کی دن دکھ درد مصیبت کے
    آتی آتی آتی ہیں جاتے جاتے جاتے ہیں

    دن جدائی کا دیا وصل کی شب کے بدلے
    لینے تھے اے فلک پیر یہ کب کے بدلے

  • مؤرخ، ماہر لسانیات، ماہر بشریات اور ماہر آثار قدیمہ پروفیسر احمد حسن دانی

    مؤرخ، ماہر لسانیات، ماہر بشریات اور ماہر آثار قدیمہ پروفیسر احمد حسن دانی

    پروفیسر احمد حسن دانی پاکستان سے تعلق رکھنے والے نامور مفکر، مؤرخ، ماہر لسانیات، ماہر بشریات اور ماہر آثار قدیمہ تھے۔

    ابتدائی زندگی
    پروفیسر احمد حسن دانی کشمیری الاصل تھے۔ وہ 20 جون 1920ء کو بسنہ، چھتیس گڑھ، برطانوی ہندوستان میں پیدا ہوئانہوں نے 1944ء میں جامعہ بنارس ہندو سے ایم اے کیا۔ وہ اس ادارے سے ایم اے کی ڈگری لینے والے پہلے مسلمان طالبِ علم تھے۔ اگلے ہی برس انھوں نے محکمہ آثارِ قدیمہ میں ملازمت اختیار کر لی اور پہلے ٹیکسلا اور اُس کے بعد موہنجوڈارو میں ہونے والی کھدائی میں حصّہ لیا۔

    ڈھاکہ
    ۔۔۔۔۔
    آثارِ قدیمہ میں اُن کی بے حد دلچسپی کے پیشِ نظر انھیں برطانیہ کی حکومت نے تاج محل جیسے اہم تاریخی مقام پر متعین کر دیا۔ تقسیمِ ہند کے بعد وہ پاکستان آ گئے اور ڈھاکہ میں فرائض انجام دینے لگے۔ تعلیم و تربیت کے ابتدائی مراحل ہی میں پروفیسر دانی نے محسوس کر لیا تھا کہ آثارِ قدیمہ کی تحقیقات کو عوام تک پہنچانے کے لیے عجائب گھروں کی تعمیر انتہائی ضروری ہے۔ چنانچہ 1950ء میں انھوں نے وریندر میوزیم راجشاہی کی بنیاد رکھی۔ کچھ عرصہ بعد جب انھیں ڈھاکہ میوزیم کا ناظم مقرر کیا گیا تو انھوں نے بنگال کی مسلم تاریخ کے بارے میں کچھ نادر تاریخی نشانیاں دریافت کیں جو آج بھی ڈھاکہ میوزیم میں دیکھنے والوں کی توجہ کا مرکز ہیں۔

    غیر ملکی دورے
    ۔۔۔۔۔۔
    متحدہ ہندستان میں انگریز ماہرین کے تحت کام کرتے ہوئے پروفیسر دانی کے دِل میں اس بیش بہا تاریخی، ثقافتی اور تمدنی خزانے کو دیکھنے کی تمنّا پیدا ہوئی تھی جو انگریزوں نے اپنے طویل دور میں جمع کر لیا تھا۔ پروفیسر دانی کی یہ خواہش بیس پچیس برس بعد اس وقت پوری ہوئی جب خود ان کا نام تاریخ اور عمرانیات کے مطالعے میں ایک حوالہ بن چُکا تھا۔ سن ستر کی دہائی میں انھیں انگلستان اور امریکا کے طویل مطالعاتی دوروں کا موقع مِلا۔

    اعزازات
    ۔۔۔۔۔
    احمد حسن دانی کو ان کی اعلٰیٰ ترين علمی خدمات کے صلے ميں حکومت پاکستان نے ستارہ امتياز اور ہلال امتياز سے نوازا۔ خود اُن کے علم و بصیرت کی چکا چوند جب مغربی دنیا میں پہنچی تو آسٹریلیا سے کینیڈا تک ہر علمی اور تحقیقی اِدارہ اُن کی میزبانی کا شرف حاصل کرنے کی دوڑ میں پیش پیش نظر آنے لگا۔ امریکا، برطانیہ فرانس اور آسٹریلیا کے علاوہ انہیں جرمنی اور اٹلی میں بھی اعلٰی ترین تعلیمی، تدریسی اور شہری اعزازات سے نوازا گیا۔

    گندھارا
    ۔۔۔۔۔
    گندھارا تہذیب میں بے پناہ دلچسپی کے باعث پروفیسر دانی کا بہت سا وقت پشاور یونیورسٹی میں گزرا۔ اسی زمانے میں انھوں نے پشاور اور لاہور کے عجائب گھروں کی تزئینِ نو کا بیڑا بھی اُٹھایا۔ 1971 میں وہ اسلام آباد منتقل ہو گئے جہاں انھوں نے قائدِاعظم یونیورسٹی میں علومِ عمرانی کا شعبہ قائم کیا اور 1980 میں اپنی ریٹائرمنٹ تک اسی سے منسلک رہے۔

    ریٹائرمنٹ
    ۔۔۔۔۔
    ریٹائر ہونے کے بعد انھیں پتھروں پر کندہ قدیم تحریروں میں دلچسپی پیدا ہو گئی اور اواخرِعمر تک وہ گلگت، بلتستان، چترال اور کالاش کے علاقوں میں، آثارِ قدیمہ کے جرمن ماہرین کی معاونت سے قدیم حجری کتبوں کے صدیوں سے سربستہ راز کھولنے کی کوشش میں مصروف رہے۔

    وفات
    ۔۔۔۔۔
    حسن دانی گردے اور ذیابیطس کے مرض میں مبتلا تھے۔ 22 جنوری 2009ء کو انہیں پمز ہسپتال اسلام آباد لایا گیا جہاں ان کے علاج کی کوشش کی گئی لیکن 26 جنوری 2009ء وہ 88 سال کی عمر میں اپنے خالق حقیقی سے جا ملے۔

  • ہندوستانی ناول نگارانیتا نائر

    ہندوستانی ناول نگارانیتا نائر

    انیتا نائر کی پیدائش 26 جنوری 1966 کو ہوئی۔وہ ایک ہندستانی ناول نگار ہیں جو اپنی کتابیں انگریزی زبان میں لکھتی ہیں۔

    ابتدائی زندگی
    نائر کیرالہ کے پلوکاد ضلع کے شورانور میں پیدا ہوئیں۔ نائر نے کیرالہ واپس آنے سے پہلے چنئی (مدراس) میں تعلیم حاصل کی جہاں انھوں نے انگریزی زبان و ادب میں بی اے کی تعلیم حاصل کی۔ وہ اپنے شوہر سریش پرم باتھ اور ایک بیٹے کے ساتھ بنگلور میں رہتی ہیں۔

    کیریئر
    نائر بنگلور میں ایک اشتہاری ایجنسی کے تخلیقی ڈائریکٹر کی حیثیت سے کام کر رہی تھیں جب انہوں نے اپنی پہلی کتاب ”سب وے کے ستیر“ نامی مختصر کہانیوں کا ایک مجموعہ لکھا جسے انہوں نے ہار آنند پریس کو فروخت کیا۔ اس کتاب نے ورجینیا سینٹر برائے تخلیقی فنون کی رفاقت حاصل کی۔

    نائر کی دوسری کتاب پینگوئن انڈیا نے شائع کی تھی اور یہ کسی ہندستانی مصنف کی پہلی کتاب تھی جوپیکاڈر امریکہ کے ذریعہ شائع ہوئی تھی۔ افسانہ نگار اور شاعری کے لیے بہترین فروخت ہونے والی مصنف نائر کے ناولوں دی بیٹر مین اور لیڈیز کوپ کا 21 زبانوں میں ترجمہ کیا گیا ہے۔ نائر کا ناول دی بیٹر مین (2000) یورپ اور امریکہ میں بھی شائع ہوا ہے۔

    2002 میں ، ملیبار منڈ کی نظموں کا مجموعہ شائع ہوا۔ 2001 سے انیتا کا دوسرا ناول لیڈیز کوپ اب تک ہندستان سے باہر 15 ممالک جن میں امریکہ , ترکی ، پولینڈ , پرتگال بھی شامل ہیں ناقدین اور قارئین دونوں میں بہت پسند کیا گیا۔ کوپ ناول مردانہ غلبہ پانے والے معاشرے میں خواتین کے حالات کے بارے میں ہے جسے بڑی بصیرت، یکجہتی اور مزاح کے ساتھ لکھا گیا ہے۔

    لیڈیز کوپ 2002 کی پہلی پانچ کتابوں میں سے ایک قرار دی گئی تھی اور اسے دنیا بھر کی پچیس سے زیادہ زبانوں میں ترجمہ کیا گیا تھا۔ انھوں نے کچھ دوسری کتابیں بھی لکھی ہیں جیسے مسٹریس (2003) ، ایڈونچرز آف نونو، اسکیٹنگ اسکوائرل (2006)، لیونگ نیکسٹ ڈور ٹو ایلیس (2007) اور میجیکل انڈین میتھس (2008)۔ نائر کے کاموں میں بہت سارے سفری مقامات بھی شامل ہیں نائن فیکس آف بائیننگ ڈرامے کے ساتھ ، سب سے زیادہ فروخت ہونے والی مصنف انیتا نائر ڈرامہ نگار بھی بن گئی ہیں۔

  • جرمنی  نے یوکرین کو جدید ٹیکنالوجی سے لیس لیپرڈ 2 ٹینک فراہم کرنے کی منظوری دے دی

    جرمنی نے یوکرین کو جدید ٹیکنالوجی سے لیس لیپرڈ 2 ٹینک فراہم کرنے کی منظوری دے دی

    جرمنی نے یوکرین کو جدید ٹیکنالوجی سے لیس لیپرڈ 2 ٹینکوں سے مسلح کرنے کی منظور دے دی ہے۔

    باغی ٹی وی: جرمنی کے حکومتی ترجمان اسٹیفن ہیبسٹریٹ نے کہا کہ جرمن حکومت کی جانب سے ٹینکوں کی پارٹنر ممالک سے ری ایکسپورٹ کی بھی منظور دی گئی ہے۔

    یوکرین کے کئی اعلیٰ عہدے داروں نے استفعے دے دئیے

    یوکرینی صدر زیلنسکی نے جرمن چانسلر اولاف شولز کا شکریہ ادا کیا اور کیف کو روس کے ساتھ جاری جنگ میں ٹینکوں سے لیس کرنے کے فیصلے کو انتہائی اہم اور بروقت فیصلہ قرار دیا۔

    دوسری جانب اپنے رد عمل میں روس نے جرمنی کی جانب سے یوکرین کو لیپرڈ 2 ٹینک فراہم کرنے کے فیصلے کی مذمت کرتے ہوئے اسے مغرب کی اشتعال انگیزی قرار دے دیا۔

    2019 میں پاکستان اوربھارت جوہری جنگ کے قریب تھے،امریکی مداخلت نے کشدگی کو…

    روس کا کہنا ہے کہ اس فیصلے سے ثابت ہوتا ہے کہ جرمنی دوسری عالمی جنگ کے دوران نازی جرائم کے بعد خود پر عائد ہونے والی تاریخی ذمہ داری کو بھول چکا ہے یوکرین کو بھاری اسلحہ فراہم کرنے سے ثابت ہوتا ہے کہ مغرب جنگ کو بھڑکا رہا ہے۔

  • امریکی کمپنی کا ایشیا کےامیر ترین شخص گوتم اڈانی پر فراڈ ،ہیرا پھیری کرنے سمیت متعدد سنگین الزامات عائد

    امریکی کمپنی کا ایشیا کےامیر ترین شخص گوتم اڈانی پر فراڈ ،ہیرا پھیری کرنے سمیت متعدد سنگین الزامات عائد

    ایک امریکی کمپنی نے ایشیا کے امیر ترین شخص گوتم اڈانی کی کمپنیوں کو اکاؤنٹنگ فراڈ اور اسٹاک کی ہیرا پھیری میں ملوث قرار دیا ہے۔

    باغی ٹی وی: اڈانی گروپ کی کمپنیوں میں حصص اس وقت گرے جب امریکی سرمایہ کار ہندنبرگ ریسرچ نے کہا کہ وہ اس گروپ کے اسٹاک کو کم کر رہی ہے اور ایشیا کے سب سے امیر آدمی کی ملکیت والی فرموں پر اکاؤنٹنگ فراڈ اور اسٹاک کی ہیرا پھیری کا لازما لگا رہی ہے-


    اڈانی سے متعلقہ اداروں کے بانڈز اور حصص اس وقت گر گئےجب ہندن برگ، جو کہ مختصر فروخت میں مہارت رکھتی ہے، ایک امریکی سرمایہ کاری ریسرچ فرم نے ٹائیکون کی کمپنیوں کے بارے میں دو سال کی تحقیقات کے بعد مبینہ کارپوریٹ بدعنوانی کے وسیع پیمانے پر الزامات لگائے۔


    امریکا کی شارٹ سیلنگ کمپنی ہندن برگ کی جانب سے اس حوالے سے اپنی ویب سائٹ پر ایک جامع رپورٹ جاری کی ہے،رپورٹ میں کہا گیا کہ ہم اپنی 2 سالہ تحقیقات کے نتائج کو جاری کررہے ہیں اورایسے شواہد پیش کیے جارہے ہیں جن سے ثابت ہوتا ہے کہ 17.8 ٹریلین (218 ارب امریکی ڈالرز) مالیت کا اڈانی گروپ دہائیوں سے اسٹاک کی ہیرا پھیری اور اکاؤنٹنگ فراڈ اسکیم میں ملوث ہے۔


    اڈانی پورٹ کے ساتھ اڈانی سے وابستہ اسٹاک گر گئے 5 فیصد سے زیادہ کا نقصان۔ اڈانی پاورکے حصص کی قیمت 4.5 فیصد سے زیادہ گر گئی اور اڈانی ٹرانسمیشن بھی تقریبا 5 فیصد کم ہو گیا-


    رپورٹ میں تو گوتم اڈانی کے گروپ آف کمپنیز کے لیے کارپوریٹ تاریخ کے سب سے بڑے دھوکے باز کے الفاظ بھی استعمال کیے گئے۔


    رپورٹ میں الزام عائد کیا گیا کہ سکیورٹیز اینڈ ایکسچینج بورڈ آف انڈیا نے اڈانی گروپ کے آف شور فنڈز کے حوالے سے امریکی کمپنی کی تحقیقات میں رکاوٹ ڈالی اوران ضوابط کو نافذ کرنے میں سستی کا مظاہرہ کر رہا ہے جس کی وجہ سے اڈانی کمپنیوں کو ڈی لسٹ کرنا پڑے گا۔

    رپورٹ میں متحدہ عرب امارات سمیت کئی ممالک میں اڈانی خاندان کی آف شور کمپنیوں کی تفصیلات بھی دی گئیں اور دعویٰ کیا گیا کہ ان کمپنیوں کو کرپشن، منی لانڈرنگ اور ٹیکسوں کی چوری کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔


    دوسری جانب اڈانی گروپ نے ہندنبرگ کی رپورٹ کو "منتخب غلط معلومات کا بدنیتی پر مبنی مجموعہ” قرار دیا اور مزید کہا کہ یہ "ہمیشہ تمام قوانین کی تعمیل کرتی رہی ہے۔

    گروپ کے چیف فنانشل آفس جوگیشندر سنگھ نے غیر ملکی خبررساں ادارے سی این بی سی کو ایک بیان میں کہا کہ رپورٹ کی اشاعت کا مقصد واضح طور پر اڈانی گروپ کی ساکھ کو نقصان پہنچانے کا ہے ہنڈن برگ نےہم سےرابطہ کرنے یاحقائق پرمبنی میٹرکس کی تصدیق کرنے کی کوئی کوشش کیے بغیر” اپنی رپورٹ شائع کی۔


    بلومبرگ بلینیئرز انڈیکس کے مطابق، 2008 میں ارب پتی بننے کے بعد سے، اڈانی اب 119 بلین ڈالر کی دولت کے ساتھ دنیا کے امیر ترین لوگوں میں سے ایک ہیں اگست میں، کمپنی نے ہندوستانی میڈیا گروپ NDTV کے مخالفانہ قبضے کی کوشش کی، جس نے ایک فائلنگ میں کہا کہ یہ اقدام اس کے بانیوں سے "بغیر کسی رضامندی کے” کیا گیا تھا۔