Baaghi TV

Author: Ayesha Rehmani

  • اسلام آباد پولیس نے شیخ رشید کوآخری موقع دے دیا

    اسلام آباد پولیس نے شیخ رشید کوآخری موقع دے دیا

    اسلام آباد پولیس نے سابق وزیر داخلہ شیخ رشید کو طلب کر لیا-

    باغی ٹی وی: ترجمان پولیس کے مطابق شیخ رشید احمد کےلیے آخری موقعہ کل شام 4 بجے تک پولیس کے روبرو پیش ہوں شیخ رشید احمد پولیس انکوائری میں تعاون نہیں کررہے ہیں –

    شیخ رشید احمد ایک بالواسطہ پیغام میں آصف زرداری پر لگائے گئے الزامات سے منحرف ہوگئے ان کے مطابق انہوں نے یہ بیان عمران خان کے بیان کی بنیاد پر دیا انہیں کسی سازش کا علم نہیں۔

    ترجمان کے مطابق انکوائری افسر تھانہ آبپارہ نے شیخ رشید کو کل شام 4 بجے تک مزید مہلت دی کہ وہ خود پیش ہوکر اپنے بیان کی وضاحت کریں ورنہ قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی ۔

  • مقبول فلمی صحافی عاشق چوھدری انتقال کر گئے

    مقبول فلمی صحافی عاشق چوھدری انتقال کر گئے

    لاہور: مقبول فلمی صحافی عاشق چوھدری انتقال کر گئے-

    باغی ٹی وی: عاشق چوہدری روزنامہ جنگ سے منسلک تھے۔مرحوم کے نماز جنازہ کا اعلان بعد میں کیا جائے گا،مرحوم نے پسماندگان میں تین بیٹے اور ایک بیٹی چھوڑی ہے۔


    سینئیر صحافی مبشر لقمان نے افسوس کا اظہار کیا سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر جاری تعزیتی پیغام میں کہا کہ وہ ایک بہترین صحافی اور شریف آدمی تھے۔ اللہ ان کی روح کو سکون عطا فرمائے-

  • ہیر رانجھا،پاکستان کی پہلی پنجابی فلم

    ہیر رانجھا،پاکستان کی پہلی پنجابی فلم

    چناں کتھے گزاری اے رات وے

    ہیر رانجھا
    پاکستان کی پہلی پنجابی فلم

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    پاکستان کی پہلی پنجابی فلم 1932 میں لاہور کے سنیما مالک حکیم رام پرشاد نے پلے آرٹ فوٹو ٹون کے بینر تلے، ” حور پنجاب ” کے نام سے بنانا شروع کی. بعد میں اس کا نام ” ہیر رانجھا” کردیا گیا. ہیر انوری بیگم بنی اور رانجھارفیق غزنوی،(دونوں نے بعد میں شادی کرلی تھی) کیدو ایم اسماعیل بنے جن سے یہ کردار چپک گیا، وہ بعد میں بھی کیدو بنتے رہے. فلم کے ہدایت کار اے آر کاردار تھے. فلم لاہور کے امپیریل تھیٹر میں لگی( جس کا نام بعد میں ریجنٹ سنیما رکھ دیا گیا تھا) تیکنیکی ناتجربہ کاری کی وجہ سے فلم کی فوٹو گرافی اور ساؤنڈ دونوں ناقص رہیں جس کی وجہ سے فلم فلاپ ہوئی. ویسے بھی یہ پنجابی اردو ملی جلی تھی. بہر حال پنجابی فلموں کا آغاز ہوگیا.

    1932 سے 1947 تک 37 پنجابی فلمیں بنیں. پنجابی فلم سازی کے مراکز کلکتہ، لاہور اور بمبئی رہے.

    پاکستان میں فلموں کا کوئی آرکائیو یا لائبریری نہیں ہے جہاں یہ فلمیں، ان کے گانے، بک لیٹ، پوسٹر محفوظ ہوں. دلچسپی رکھنے والے لوگوں نے ایسی کچھ چیزیں محفوظ کی ہیں لیکن مکمل ریکارڈ دستیاب نہیں. ایسی صورت حال میں مشہور فلمی ریسرچر فیاض احمد اشعر نے اس مشکل ٹاسک پر کام شروع کیا. ان کی دُھن اور دوسروں سے تعاون کو سب مانتے ہیں اس لیے اکثر کلیکٹرز نے ان سے بھی تعاون کیا-

    اس طرح وہ ان فلموں کے بیشتر گانے جمع کرنے میں کامیاب رہے اور وہ سب اس کتاب”ابتدائی پنجابی فلمی گیت” میں پیش کردئیے. ایک ایک گیت کی تلاش کیلئے انہیں کہاں کہاں بھٹکنا اور خجل خوار ہونا پڑا، اس کا اندازہ کوئی ریسرچر ہی لگا سکتا ہے. گیت ہی نہیں، انہوں نے ہر فلم بنانے والی کمپنی، ہدایت کار، موسیقار، اداکاروں اور گلوکاروں کے نام بھی دے دئیے ہیں. اس طرح یہ فلمی تاریخ بھی ہے اور اس کی ادبی اہمیت بھی ہے.

    یہ جس قدر محنت طلب کام تھا اور ریسرچ کا نتیجہ جتنا وقیع ہے، اس سے آدھے کام پر بھی ایم فل بلکہ پی ایچ ڈی کی ڈگریاں مل جاتی ہیں. ( یہ الگ بات ہے کہ اب بھاری فیسیں بھی دینا پڑتی ہیں)

    1932 سے 1947 کی پنجابی فلمیں :

    1932 ہیر رانجھا( لاہور)
    1932شیلا عرف پنڈ دی کڑی (کلکتہ)
    1935 مرزا صاحباں عرف عشق پنجاب( کلکتہ)
    1938 ہیر سیال( کلکتہ)
    1939 مرزاصاحباں( بمبئی)
    سوہنی کمہارن (کلکتہ)
    سسی پنوں( کلکتہ)
    سوہنی مہینوال (لاہور)
    بھگت سورداس (کلکتہ)
    پورن بھگت( کلکتہ)
    گل بکاؤلی( لاہور)
    1940 یملا جٹ( لاہور)
    متوالی میراں( کلکتہ)
    لیلے’ مجنوں( کلکتہ)
    دلا بھٹی( لاہور)
    جگا ڈاکو( کلکتہ)
    علی بابا( بمبئی)
    1941 چترا بکاؤلی( لاہور)
    چنبے دی کلی( کلکتہ)
    کڑمائی (بمبئی)
    مبارک (کلکتہ)
    میرا پنجاب (کلکتہ)
    میرا ماہی (لاہور)
    چودھری (لاہور)
    سہتی مراد (لاہور)
    پٹواری( لاہور)
    پردیسی ڈھولا (کلکتہ)
    1942 منگتی (لاہور)
    راوی پار (لاہور)
    گوانڈھی( لاہور)
    پٹولا (کلکتہ)
    1943 اک مسافر (لاہور)
    1944 گل بلوچ (لاہور)
    کوئل (لاہور)
    1945 نکھٹو (لاہور)
    1946 کملی (لاہور)
    1947 وساکھی.. لاہور میں بننا شروع ہوئی لیکن فسادات کے باعث بمبئی منتقل کردی گئی اور 1950 میں ریلیز ہوسکی دو اور فلمیں کالیاں راتاں اور ماہیا بننے کا بھی اعلان ہوا. کچھ کام ہوا، گیت بھی ریکارڈ ہوئے لیکن فلمیں بن نہ سکیں.
    ماہیا کی خاص بات یہ تھی کی اس کی موسیقی نثار بزمی نے دی تھی. لیکن یہ سامنے نہ آسکی. اس کے بعد انہوں نے کسی پنجابی فلم کا میوزک نہیں دیا.

    آپ کو حیرت ہوگی کہ اس دور کے فلمی (اور بعض غیر فلمی ) گیتوں کے مقبول مکھڑوں پر بعد کے شاعروں بالخصوص خواجہ پرویز نے خوب ہاتھ صاف کیا . مثلا” یہ مکھڑے :
    ماہی میرا غصے غصے
    پلا مارکے بجھا گئی دیوا
    چناں کتھے گزاری اے رات وے
    کچی ٹٹ گئی جنہاں دی یاری
    بتی بال کے بنیرے آتے رکھنی آں
    ڈھول جانی ساڈی گلی آویں
    بھاویں جانے تے بھاویں نہ جانے
    چھڈ میری وینی نہ مروڑ
    لما لما باجرے دا سٹا

  • بلیو اوریجن صرف خواتین عملے پر مشتمل مشن خلا میں روانہ کرے گی

    بلیو اوریجن صرف خواتین عملے پر مشتمل مشن خلا میں روانہ کرے گی

    واشنگٹن: دنیا کے دوسرے امیر ترین شخص جیف بیزوس کی اسپیس کمپنی بلیو اوریجن آئندہ برس مکمل طور پر خواتین عملے پر مشتمل مشن کو خلا میں بھیجے گی۔

    باغی ٹی وی: جیف بیزوس کی گرل فرینڈ لورین سینچیز کا وال اسٹریٹ جرنل سے بات کرتے ہوئے کہنا تھا کہ وہ 2024 کے ابتداء میں بھیجے جانے والے مشن کی رہنمائی کریں گی۔

    بلیو اوریجن کا چاند پر جانے والا خلائی مشن حادثے کا شکار ہو گیا

    لورین سینچیز کے ساتھ مشن پر جانے والی دیگر پانچ خواتین کی شناخت لانچ سے قریب ظاہر جائے گی۔ تاہم، مشن کے حوالے سے کمپنی کی جانب سے تصدیق کی جانی باقی ہے۔

    اس وقت لانچ کی تاریخ معلوم نہیں ہے، لیکن سانچیز، ایک میڈیا شخصیت اور تربیت یافتہ ہیلی کاپٹر پائلٹ نے کہا کہ وہ اگلے سال کے اوائل تک پرواز کرنے کی امید رکھتی ہیں۔

    ڈرون جو 100 پاؤنڈ وزن اٹھا کر600 میل فاصلہ طے کر سکتا ہے

    واضح رہے ایمازون کمپنی کے بانی اور سابق سی ای او جیف بیزوس 20 جولائی 2021 کو خلاء میں عملے سمیت بھیجے جانے والے پہلے مشن میں سوار تھے۔

    لورین سینچیز کی جانب سے بتایا جانے والا یہ منصوبہ ناسا کے منصوبے سے مشابہ ہے جس کے تحت 2025 میں چاند پر بھیجے جانے والے آرٹِمس پروگرام میں پہلی خاتون خلاء نورد موجود ہوں گی۔

    زمین کی اندرونی تہہ نے الٹی جانب گھومنا شروع کردیا ہے،تحقیق

  • ایل پی جی کےگھریلو سلنڈرکی قیمت میں اضافہ،سونے کی فی تولہ قیمت میں بڑی کمی

    ایل پی جی کےگھریلو سلنڈرکی قیمت میں اضافہ،سونے کی فی تولہ قیمت میں بڑی کمی

    حکومت نے مائع پٹرولیم گیس (ایل پی جی) کےگھریلو سلنڈرکی قیمت میں اضافہ کردیا۔

    باغی ٹی وی: آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) کی جانب سے ایل پی جی کےگھریلو سلنڈرکی قیمت میں اضافےکا نوٹیفکیشن جاری کردیا گیاہےنوٹیفکیشن کےمطابق 11.8کلو ایل پی جی کاگھریلو سلنڈر 703 روپے 24 پیسےمہنگا کر دیا گیاہےایل پی جی کےگھریلو سلنڈرکی قیمت میں اضافےکا اطلاق یکم فروی سے ہوگا۔

    ایل پی جی کی فی کلو قیمت 263 روپے 95 پیسے ہوگئی ہے، اضافے کے بعد 11.8 کلوگرام کے گھریلو سلنڈرکی قیمت 3 ہزار 114 روپے67 پیسے مقررکی گئی ہے۔

    جنوری کےلیے ایل پی جی کی فی کلو قیمت 204 روپے 35 پیسے تھی، رواں ماہ ایل پی جی کےگھریلو سلنڈرکی قیمت 2 ہزار 411 روپے 43 پیسے تھی ملک بھر میں ایل پی جی کی بلیک مارکیٹنگ عروج پر ہے اور من مانی قیمت پر ایل پی جی کی فروخت جاری ہے۔

    چیئرمین ایل پی جی ایسوسی ایشن کا کہنا تھا کہ ملک میں جاری بحرانی حالات میں سرکاری گیس کمپنی مافیا بن گئی ہے، ملک میں یومیہ 5000 ٹن ایل پی جی فروخت ہورہی ہے اگر عوام کو سستی گیس فراہم کرنی ہے تو لوکل پلانٹ JJVL چلانا ہوگا، JJVL آپریشنل کرنے سے یومیہ 550 تا 750 میٹرک ٹن ایل پی جی کی پیداوار ہوگی جس سے مافیا کا خاتمہ اور صارفین کے لیے ایل پی جی کو مقررہ سرکاری قیمت پر لایا جاسکتا ہے۔

    سانحہ پشاور کے بعد ضرب عضب جیسے آپریشن کی ضرورت ہے،خواجہ آصف

    عرفان کھوکھر نے کہا کہ جے جے وی ایل کی 31ماہ سے بندش کے باعث 157 ارب روپے ریونیو خسارہ ہوچکا ہے، سرکاری گیس کمپنی نے جے جے وی ایل کی مستقل بندش کے لیے لابنگ جاری رکھی ہوئی ہے۔

    دوسری جانب ملک میں سونے کی فی تولہ قیمت میں 9 ہزار روپے کی بڑی کمی ہو گئی ہے،سندھ صرافہ بازار ایسوسی ایشن کے مطابق اس بڑی کمی کے بعد ملک میں ایک تولہ سونے کی قیمت 2 لاکھ ایک ہزار 500 روپے ہے،اسی طرح 10 گرام سونے کی قیمت 7716 روپے کمی کے بعد ایک لاکھ 72 ہزار 754 روپے ہوگئی۔

    ادھر پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں آج کاروبار کا مثبت دن رہا اور 100 انڈیکس میں 80 پوائنٹس کا اضافہ ہوا،کاروبار کے اختتام پر 100 انڈیکس 40 ہزار 673 پر رہا، بازار میں 15 کروڑ شیئرز کا کاروبار 7 ارب 44 کروڑ روپے میں طے ہوا، اس کے علاوہ مارکیٹ کیپپٹلائزیشن 101 ارب روپے بڑھ کر 6394 ارب روپے ہے۔

    ڈیرہ غازیخان: ڈپٹی کمشنر کے حکم پر یوسی لاڈن میں 100 تھیلے آٹا تقسیم

  • دہشتگردی کیخلاف جاری جنگ میں کامیابی کیلئے پرعزم ہیں،آرمی چیف

    دہشتگردی کیخلاف جاری جنگ میں کامیابی کیلئے پرعزم ہیں،آرمی چیف

    آئی ایس پی آر کے مطابق آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر کی زیرصدارت 225ویں کورکمانڈر کانفرنس منعقد کی گئی-

    باغی ٹی وی: آئی ایس پی آر کی جانب سے اعلامیے کے مطابق کانفرنس میں ملکی سیکیورٹی صورتحال پر غور کیا گیا،شرکا کو درپیش خطرات،دہشتگردی کے بڑھتے واقعات پر بریفنگ دی گئی-


    آئی ایس پی آر کے مطابق مقبوضہ جموں کشمیر کی صورتحال اور دہشت گردوں کا گٹھ جوڑ توڑنے پر بھی بریفنگ دی گئی ،جبکہ لائن آف کنٹرول اوردہشت گردی کے خلاف جاری آپریشن پربھی بریفنگ دی گئی-

    فورم نے پشاور پولیس لائن دھماکے کے شہداء کو زبردست خراج عقیدت پیش کیا اور اس عزم کا اظہار کیا کہ قصورواروں کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔

    کانفرنس میں آرمی چیف سید آصف منیر نے کہا کہ دہشتگردی کیخلاف جاری جنگ میں کامیابی کیلئے پرعزم ہیں، ایسی بزدلانہ کارروائیاں قوم کے عزم کو متزلزل نہیں کر سکتیں،پشاور سانحہ کے ذمہ داروں کو انصاف کےکٹہرے میں لائے جائے گا،دہشتگردوں کیخلاف آپریشن پر توجہ مرکوز رکھی جائے-

    کسی بھی دہشت گرد ادارے کے لیے زیرو ٹالرنس کے ساتھ۔ سی او اے ایس نے تمام کمانڈروں کو ہدایت کی کہ وہ انٹیلی جنس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ مل کر انسداد دہشت گردی کی کارروائیوں پراس وقت تک توجہ مرکوز رکھیں جب تک کہ ہم پائیدار امن حاصل نہیں کر لیتے۔

  • سانحہ پشاور کے بعد ضرب عضب جیسے آپریشن کی ضرورت ہے،خواجہ آصف

    سانحہ پشاور کے بعد ضرب عضب جیسے آپریشن کی ضرورت ہے،خواجہ آصف

    اسلام آباد: وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ پشاور پولیس لائنز دھماکہ سانحہ اے پی ایس سے کم نہیں، اس وقت بھی تمام سیاستدان اکھٹے ہوئے تھے، اس وقت بھی قوم کو تمام تر اختلافات کے باوجود اتفاق رائے کی ضرورت ہے۔

    باغی ٹی وی: تفصیلات کے مطابق اسپیکر قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف کی زیر صدارت ہونے والے قومی اسمبلی کے اجلاس میں پشاور پولیس لائنز میں 100افراد کی شہادت پر فاتحہ خوانی کی گئی، زخمیوں کی جلد صحت یابی کے لیے بھی ایوان میں دعا کی گئی، جماعت اسلامی کے رکن مولانا عبدالاکبر چترالی نے دعا کروائی۔

    وزیر دفاع خواجہ آصف نے قومی اسمبلی میں اپنی تقریر میں کہا کہ گزشتہ روز پشاور میں سانحہ پیش آیا،آرمی پبلک اسکول کا سانحہ بھی نہیں بھولے، 2010 سے2017 تک دہشت گردی کے خلاف کامیاب جنگ لڑی، مسلم لیگ ن نے اپنے دور میں دہشت گردی کا خاتمہ کیا۔

    وزیر دفاع خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ پشاور پولیس خودکش حملے کے بعد دہشت گردوں کے خلاف ضرب عضب جیسے آپریشن کی ضرورت ہے تاہم اس کا فیصلہ قومی سلامتی کی کمیٹی کرے گی امید ہے وزیراعظم آپریشن ضرب عضب جیسا کوئی فیصلہ کریں گے ماضی کی طرح اس وقت بھی قومی سطح پر دہشت گردوں کے خلاف ضرب عضب جیسے آپریشن کے لیے اتفاق رائے پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔

    خواجہ آصف نے کہا کہ پشاور پولیس لائن مسجد پر خود کش دھماکے میں 100 افراد کی شہادت سانحہ آرمی پبلک اسکول سے کم نہیں۔ اس وقت قوم کو تمام تر اختلافات کے باوجود اتفاق رائے کی ضرورت ہے اے پی ایس سانحہ کے وقت بھی تمام سیاستدان اکٹھے ہوئے تھے لیکن ہمیں ماضی پر بھی نظر ڈالنے کی ضرورت ہے اور غلطیوں کا اعتراف کرنا چاہیے۔

    خواجہ آصف نے کہا کہ جب روسی فوج افغانستان میں داخل ہوئی تو ضیا دور میں ہم امریکی جنگ میں کود گئے۔ روس واپس چلا گیا اور امریکا خوش ہوگیا لیکن خمیازہ ہم نے بھگتا اور پھر مشرف دور نائن الیون میں دوبارہ اس حصہ کا بن گئے پریڈ لین میں جو کچھ ہوا ہم بھول گئے-

    خواجہ آصف نے قومی اسمبلی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ چن چن کے وہ بچے شہید کئے گئے جن کے والد سوات آپریشن میں حصہ لے رہے تھے، ایک دو سال پہلے ان لوگوں کو یہاں لا کر بسانا تباہ کن فیصلہ ثابت ہوا،دہشت گردوں کا کلمے یا دین کے ساتھ کوئی تعلق نہیں، عبادت کے وقت حملہ ہمارے دشمن ممالک میں بھی نہیں ہوتا۔

    انہوں نے کہا کہ ہم نے ڈیڑھ دو سال قبل جو بھی فیصلے کئے تھے وہ اس ہاؤس نے قبول نہیں کئے تھے، کل پشاور میں بہائے جانے والے خون کا حساب کون دے گا؟ یہ کون بتائے گا کہ کون آکر لوگوں کے پیاروں کی جان لے گیا؟

    وزیر دفاع نے کہا کہ اس پوری جنگ میں سب سے زیادہ جانی و مالی نقصان ہم نے بھگتا پشاور پولیس لائنز سانحہ اے پی ایس سانحے سے کم نہیں پھر ان دہشت گردوں کو واپس لانے کی باتیں ہوئیں اور اب ہم کیسے شہید پولیس اہلکاروں کے اہل خانہ کو کیسے بتائیں کہ ان کے ساتھ کیا ہوا۔

    انہوں نے کہا کہ اس واقعے کی جتنی مذمت کی جانی چاہئے اتنی آواز نہیں آ رہی، دہشت گردی کے خلاف ساری قوم کو متحد ہونا چاہیے، اس جنگ میں کوئی لکیر نہیں کھینچی گئی، دہشت گردی کسی مذہب یا فرقے کی پہچان نہیں رکھتی، ایوان میں اس مسئلے پر صرف تقریر نہیں ہونی چاہیے، ہماری افواج نے بے پناہ قربانیاں دی ہیں۔

    خواجہ آصف نے فرقہ واریت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ایک دوسرے کی مساجد کو نشانہ بنایا گیا۔ ایسا دنیا میں کہاں ہوتا ہے اسرائیل میں بھی مساجد میں ایسا نہیں ہوتا جیسا پاکستان میں ہوا، نمازیوں پر مسجد میں حملہ نہ بھارت میں ہوتا ہے نہ اسرائیل میں، نائن الیون میں ہمیں دھمکی ملی ہم ڈھیر ہوگئے، افغانستان کی جنگ ہماری دہلیز پر آگئی-

    وزیر دفاع خواجہ آصف نے انکشاف کیا کہ ساڑھے چار لاکھ افغانی قانونی دستاویزات پر پاکستان آئے اور اب وہ واپس نہیں جائیں گے۔ معلوم نہیں ان میں سے کون معصوم شہری ہے اور کون دہشت گرد ہے ہمیں امریکا کا حواری بننے کے بجائے پہلے اپنا گھر درست کرنا چاہیے۔ دوحہ مذاکرات میں طالبان نے لکھ کر یقین دلایا تھا کہ افغان سرزمین کسی بھی دوسرے ملک کے خلاف استعمال نہیں ہوگی۔

    انہوں نے کہا کہ ہم نے دہشت گردی کے خلاف جنگ پر 126 ارب ڈالرز لگا دیا، فوج اور سول افراد کی 83 ہزار قربانیاں ہیں، اب تو ہم آپس میں بھی دہشت گردی کرتے ہیں، اب تو سیاست، زبان اور اعمال کی بھی دہشت گردی آگئی ہے، پچھلے پانچ سال میں عوام کا جس طرح مزاج بدلا اس کی گواہی سوشل میڈیا سے مل جائے گی، پاکستان میں آج کل ایک شخص باؤلا ہوگیا ہے، کبھی کہتا ہے کہ خطرناک ہوجاؤں گا اور کبھی کچھ اور ہوجائے گا 126 بلین ڈالرز ہم نے کھویا ہے جب کہ ہم ہی 400 اور 500 ملین ڈالرز کیلئے ساری دنیا میں بھیک مانگتے ہیں۔

    خواجہ آصف نے کہا کہ ہم نے اپنا پورا کا پورا ملک گروی رکھ دیا ہے، ہمیں سپر پاورز کا آلہ کار بننے کا شوق بڑا پرانا ہے، ہمیں خود احتسابی کی ضرورت ہے، ہمیں امریکہ کے کہنے پر جنگ نہیں لڑنی چاہیے، چاہتے ہیں امریکہ کے ساتھ اچھے تعلقات ہوں مگر ان کی باتوں پر عمل نہیں کرنا چاہیے۔

    اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر داخلہ رانا ثنااللہ کا کہنا تھا کہ ہم نے ہر قیمت پر دہشت گردی کے خلاف جنگ جیتنی ہے۔

    وفاقی وزیر داخلہ رانا ثنااللہ کا کہنا تھا کہ پشاور واقعے پر ہر پاکستانی افسردہ ہے، ہمیں مجاہدین تیار کرنے کی ضرورت نہیں تھی، لوگوں کو مجاہدین ہم نے بنایا اور وہ خود دہشت گرد بن گئے، روزانہ فوج اور ایف سی کے لوگ قربانیاں دے رہے ہیں، قوم فوج اور قانون نافذ کرنے والوں کےساتھ ہے۔

    رانا ثنااللہ کا کہنا تھا کہ یہاں وزیراعظم، آرمی چیف اور ڈی جی آئی ایس آئی بھی آئیں گے، پہلے کی طرح پارلیمنٹیرینز کو بریفنگ دی جائےگی، وزیراعظم اور عسکری قیادت بھی ایوان کی رہنمائی حاصل کریں گے، اب کم و بیش وہی صورتحال ہے جو دس بارہ سال پہلے تھی، ہماری پالیسی آج بھی اے پی ایس سانحےکے بعد والی ہے۔

  • طیارہ 13 گھنٹے کی مسافت کے بعد واپس وہیں پہنچ گیاجہاں سے اڑان بھری

    طیارہ 13 گھنٹے کی مسافت کے بعد واپس وہیں پہنچ گیاجہاں سے اڑان بھری

    متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کی ایمریٹس ایئرلائنز کا طیارہ 13 گھنٹے کی مسافت کے بعد واپس اسی ایئرپورٹ پہنچ گیا جہاں سے اڑان بھری تھی۔

    باغی ٹی وی: غیر ملکی میڈیا کے مطابق دبئی سے نیوزی لینڈ کے شہر آکلینڈ جانے والے مسافر اتنی لمبی مسافت کے بعد دوبارہ یو اے ای پہنچنے پر حیران رہ گئےہوا کچھ یوں کہ کچھ روز قبل آکلینڈ کے ایئرپورٹ کےٹرمینل پرپانی بھرجانے کی وجہ سےحکام نے ایئرپورٹ کو پروازوں کے لیے بند کردیا تھا۔

    امریکا، پاک، روس توانائی ڈیل روکنے کی کوشش کرے گا، روسی وزیر خارجہ

    فلائٹ ای کے 448 نے دبئی سے مقامی وقت کےمطابق اڑان بھری، لیکن 9 ہزار میل کے اس سفر کا آدھا راستہ طے کرنے کے بعد طیارے نے یوٹرن لے لیا اور یہ طیارہ تقریباً آدھی رات کو واپس دبئی پہنچ گیا۔

    دوسری جانب آکلینڈ ایئرپورٹ حکام نے ٹوئٹر پر اس صورتحال سے متعلق ایک پیغام جاری کیا اور صورتحال کو انتہائی پریشان کن قرار دیا۔

    اپنے پیغام میں آکلینڈ ایئرپورٹ نے لکھا کہ ایئرپورٹ بین الاقوامی ٹرمینل پر نقصان کا اندازہ لگارہا ہے اور یہ بات سامنے آئی ہے کہ آج کے دن کوئی بین الاقوامی فلائٹ آپریٹ نہیں کی جاسکتی ہم جانتے ہیں کہ یہ انتہائی پریشان کن ہے لیکن مسافروں کی حفاظت ہماری اولین ترجیح ہے۔

    ممکنہ تیسری عالمی جنگ کن ہتھیاروں سےلڑی جائےگی،تفیصلات آگئیں

    ایئرپورٹ حکام نے یہ بھی بتایا تھا کہ 29 جنوری کی صبح 7 بجے تک کوئی بین الاقوامی پرواز نہیں آسکتی بعد ازاں ایک روز بعد ایئرپورٹ پر دوبارہ فلائٹ آپریشن بحال کردیا گیا تھا۔

  • بلوچستان حکومت کو ریکوڈک منصوبے کی پہلی ادائیگی کر دی گئی

    بلوچستان حکومت کو ریکوڈک منصوبے کی پہلی ادائیگی کر دی گئی

    ریکوڈک منصوبے پرکام کرنے والی کمپنی بیرک گولڈکارپوریشن نے منصوبےسے متعلق بلوچستان حکومت کو پہلی ادائیگی کردی۔

    باغی ٹی وی: بیرک گولڈکارپوریشن کی جانب سے جاری اعلامیےکے مطابق بلوچستان حکومت کو نئی شراکت داری کے فریم ورک کے تحت تین ملین ڈالرکی ادائیگی کی گئی ہےریکوڈک پاکستان کےکنٹری منیجر علی رند نے سیکرٹری معدنیات کو 3 ملین ڈالرکا چیک دیا۔

    پی ٹی سی ایل کی ٹیلی نار کمپنی کو خریدنے میں دلچسپی

    واضح رہے کہ گزشتہ ماہ ہی وفاقی کابینہ نے ریکوڈک منصوبے کی حتمی ڈیل پر دستخط کرنےکی باضابطہ منظوری دی تھی۔

    بیرک گولڈ کارپوریشن کے سربراہ کا کہنا تھا کہ ریکوڈک سے پہلی کمرشل پیداوار 2028 میں شروع ہوگی اور ریکوڈک کے ذخائرکی مدت 40 سال ہوگی اور اس سے سالانہ 80ملین ٹن کی پروسیسنگ کی جائےگی۔

    ان کا کہنا تھا کہ ریکوڈک منصوبے میں ساڑھے 7ہزار لوگوں کو روزگار ملے گا اور منصوبے سے 4 ہزار طویل المدتی نوکریاں پیدا ہوں گی، یقینی بنارہےہیں کہ بلوچستان کو اگلے سال سے فوائد پہنچنا شروع ہوجائیں کمرشل پیداوار شروع ہونے پربلوچستان کو سالانہ 50 ملین ڈالرز تک رائلٹی ملےگی۔

    عمران دور میں کرپشن 6 درجے تک بڑھ گئی تھی. رپورٹ

    ریکوڈک بلوچستان میں کہاں واقع ہے؟

    ریکوڈک ایران اور افغانستان سے طویل سرحد رکھنے والے بلوچستان کے ضلع چاغی میں واقع ہے جس کو ’ریک ڈک‘ یا یعنی ریت کا ٹھیلہ کہا جاتا ہے۔ یہاں سونے کے ذخائر پائے گئے ہیں بعض رپورٹس کے مطابق ریکوڈک کا شمار پاکستان میں تانبے اور سونے کے سب سے بڑے جبکہ دنیا کے چند بڑے ذخائر میں ہوتا ہے۔

    ریکوڈک کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہاں سونے اور تانبے کے بھاری ذخائر ہیں جو پوری دنیا کے ذخائر کے پانچویں حصے کے برابر ہیںریکوڈک کے قریب ہی سیندک واقع ہے جہاں ایک چینی کمپنی ایک دہائی سے زیادہ عرصے سے تانبے اور سونے کے ذخائر پر کام کر رہی ہےتانبے اور سونے کے دیگر ذخائر کے ساتھ ساتھ چاغی میں بڑی تعداد میں دیگر معدنیات کی دریافت کے باعث ماہرین ارضیات چاغی کو معدنیات کا ’شو کیس‘ کہتے ہیں۔

    ملک میں مہنگائی کی شرح 25 فیصد تک پہنچ گئی

  • 4.6 ارب سال قبل نظام شمسی سے آنے والےبڑے بڑے آگ کے گولوں نے زمین پر زندگی کی بنیاد رکھی

    4.6 ارب سال قبل نظام شمسی سے آنے والےبڑے بڑے آگ کے گولوں نے زمین پر زندگی کی بنیاد رکھی

    ایک نئی تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ نظامِ شمسی کے باہر کے حصے جس میں مشتری، زحل اور یورینس شامل ہیں سے آنے والے بڑے بڑے آگ کے گولوں نے 4.6 ارب سال قبل زمین زندگی کی بنیاد رکھی۔

    باغی ٹی وی: میساچوسیٹس انسٹیٹیوٹ آف ٹیکنالوجی (ایم آئی ٹی) اور امپیریئل کالج لندن کے سائنسدانوں کو ایک تحقیق میں معلوم ہوا کہ یہ قدیم شہابیے کاربنیسیئس کونڈرائٹ سے بنے ہوئے تھے جو پوٹاشیم اور زِنک کے عناصر پر مشتمل تھا پوٹاشیم خلیے کے مائع کو بنانے میں مدد دیتا ہے جبکہ زِنک ڈی این اے کی تخلیق کے لیے اہم جزو ہے۔

    زمین کی اندرونی تہہ نے الٹی جانب گھومنا شروع کردیا ہے،تحقیق

    اتار چڑھاؤ ایسے عناصر یا مرکبات ہیں جو نسبتاً کم درجہ حرارت پر ٹھوس یا مائع حالت سے بخارات میں تبدیل ہوتے ہیں ان میں جانداروں کے ساتھ ساتھ پانی میں پائے جانے والے چھ سب سے عام عناصر شامل ہیں۔ اس طرح، اس مواد کا اضافہ زمین پر زندگی کے ظہور کے لیے اہم رہے گا۔

    اس سے پہلے، محققین کا خیال تھا کہ زمین کے زیادہ تر اتار چڑھاؤ ان سیاروں سے آتے ہیں جو زمین کے قریب بنتے ہیں۔ نتائج سے اس بارے میں اہم سراغ ملتے ہیں کہ زمین زندگی کو برقرار رکھنے کے لیے درکار خصوصی حالات کو کس طرح سہارا دیتی ہے۔

    حالیہ تحقیق میں سائنسدانوں کو معلوم ہوا کہ ہماری زمین جب تخلیق کے مراحل میں تھی تب اس سے ٹکرائی جانے والی خلائی چٹانوں میں 10فیصد وہ خلائی چٹانیں تھیں جوکاربنیسیئس کونڈرائٹ سےبنی تھیں جبکہ دیگر90 فیصد چٹانیں ایسےنظاموں سے آئیں تھیں جو کاربنیسیئس مواد سے نہیں بنے تھے ان شہابیوں نے زمین کو 20 فی صد پوٹاشیم اور زمین پر موجود زِنک کی نصف مقدار فراہم کی۔

    تحقیق کی سربراہ مصنفہ ڈاکٹرنِکول نائی کےمطابق پوٹاشیم کم غیرمستحکم جبکہ زنک سب سے زیادہ غیر مستحکم عنصر ہے دونوں عناصر غیر مستحکم سمجھے جاتے ہے جو نسبتاً کم درجہ حرارت پر ٹھوس یا مائع صورت سے بھانپ می تبدیل ہوجاتے ہیں۔

    نیا دریافت شدہ سیارچہ زمین کے قریب سے گزرے گا،ناسا

    تحقیق کےسینئر مصنف اور امپیریئل کالج لندن کے پروفیسر مارک ریہکمپر نے ایک بیان میں کہا کہ تحقیق میں حاصل ہونے والی معلومات بتاتی ہے کہ زمین پر موجود زِنک کی نصف مقدار نظامِ شمسی کے بیرونی حصے سے آنے والے مواد نے فراہم کی ہے۔

    امپیریل کالج لندن کے شعبہ ارتھ سائنس اینڈ انجینئرنگ کے سینئر مصنف پروفیسر مارک ریہکا نے کہا: "ہمارے اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہےکہ زمین کی زنک انوینٹری کاتقریباً نصف حصہ مشتری کےمدار سےباہر بیرونی نظام شمسی سے مواد کے ذریعے پہنچایا گیا تھا۔ ابتدائی شمسی نظام کی ترقی کے موجودہ ماڈلز کی بنیاد پر، یہ مکمل طور پر غیر متوقع تھا اس کے برعکس، نئے نتائج بتاتے ہیں کہ بیرونی نظام شمسی نے پہلے سوچنے سے کہیں زیادہ بڑا کردار ادا کیا۔

    پروفیسر ریہکا نے مزید کہا کہ بیرونی نظام شمسی کے مواد کی اس شراکت نے زمین کی غیر مستحکم کیمیکلز کی انوینٹری کو قائم کرنے میں اہم کردار ادا کیا ایسا لگتا ہے جیسے بیرونی نظام شمسی کے مواد کی شراکت کے بغیر، زمین میں اتار چڑھاؤ کی مقدار اس سے کہیں کم ہوگی جو آج ہم جانتے ہیں – یہ خشک اور ممکنہ طور پر زندگی کی پرورش اور برقرار رکھنے کے قابل نہیں ہے۔

    سبز دم دار ستارہ زمین کے قریب سے 50 ہزار سال بعد دوبارہ گزرے گا

    اس تحقیق کے لیے، محققین نے مختلف ماخذ کے 18 شہابیوں کا جائزہ لیا – گیارہ نظامِ شمسی سے، جو غیر کاربوناسیئس میٹورائٹس کے نام سے جانے جاتے ہیں، اور سات بیرونی نظامِ شمسی سے، جنہیں کاربوناسیئس میٹیورائٹس کہا جاتا ہے۔

    اس مقالے کی پہلی مصنفہ رائیسا مارٹنز، شعبہ ارتھ سائنس اینڈ انجینئرنگ میں پی ایچ ڈی کی امیدوار نے کہا کہ ہم طویل عرصے سے جانتے ہیں کہ زمین میں کچھ کاربونیسیئس مواد شامل کیا گیا تھالیکن ہمارے نتائج سے معلوم ہوتا ہے کہ اس مواد نے زمین کے قیام میں کلیدی کردار ادا کیا ہمارے غیر مستحکم عناصر کا بجٹ، جن میں سے کچھ زندگی کے پھلنے پھولنے کے لیے ضروری ہیں۔

    اس کے بعد محققین مریخ کی چٹانوں کا تجزیہ کریں گے جن میں 4.1 سے 3 بلین سال پہلے خشک ہونے سے پہلے پانی موجود تھا-

    پروفیسر ریہکا ایمپر نے کہا کہ بڑے پیمانے پر رائج نظریہ یہ ہے کہ چاند کی تشکیل اس وقت ہوئی جب تقریباً 4.5 بلین سال پہلے ایک بہت بڑا سیارچہ ایک برانن زمین سے ٹکرا گیا۔ چاند کی چٹانوں میں زنک آسوٹوپس کا تجزیہ کرنے سے ہمیں اس مفروضے کو جانچنے اور یہ تعین کرنے میں مدد ملے گی کہ آیا ٹکرانے والے شہابیے نے پانی سمیت اتار چڑھاؤ کو زمین تک پہنچانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔

    انٹارکٹیکا میں 7.6 کلوگرام وزنی غیرمعمولی آسمانی پتھر دریافت