Baaghi TV

Author: Ayesha Rehmani

  • مریم نواز نے بسنت کے وقت میں توسیع کر دی

    مریم نواز نے بسنت کے وقت میں توسیع کر دی

    وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے بسنت منانے کا وقت بڑھانے کا اعلان کر دیا ہے، جس کے تحت اب لاہور میں بسنت رات 12 بجے کے بجائے صبح 5 بجے تک منائی جا سکے گی۔

    اس سے قبل وزیراعلیٰ پنجاب نے لاہور میں محفوظ انداز میں بسنت منانے پر شہریوں کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ لاہور والوں نے ذمہ داری کا مظاہرہ کر کے حکومت کے اعتماد کی لاج رکھ لی ہےآج لاہور خوشیوں میں ڈوبا ہوا ہے اور وہ خود بھی شہریوں کے ذمہ دارانہ رویے پر بے حد خوش ہیں، ان کا کہنا تھا کہ الحمدللہ عوام نے قواعد و ضوابط پر مکمل عمل کرتے ہوئے محفوظ بسنت کے انعقاد میں اہم کردار ادا کیا۔

    وزیراعلیٰ پنجاب کے مطابق شہر بھر میں چھتوں پر ایس او پیز کے مطابق بسنت منائی گئی، کھانوں سے لطف اندوز ہوا گیا اور پتنگ بازی کے دوران پیچوں کے دلچسپ مقابلے دیکھنے میں آئے مقررہ سائز اور منظور شدہ ڈور کے علاوہ ممنوعہ ڈور کے استعمال کی کوئی اطلاع موصول نہیں ہوئی، دھاتی تار استعمال نہ ہونے کے باعث شہر بھر میں ٹرانسفارمرز محفوظ رہے، جو انتظامیہ اور شہریوں کی مشترکہ کامیابی ہے حکومت کی جانب سے کیے گئے پیشگی اقدامات اللہ کے فضل و کرم سے مؤثر ثابت ہوئے۔

    انہوں نے کہا کہ لبرٹی، اندرون شہر اور دیگر علاقوں سمیت لاہور بھر میں 200 کلینک آن ویل اور 21 فیلڈ ہسپتال تعینات کیے گئے تھے تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال سے بروقت نمٹا جا سکےسیف بسنت کا یہ ماڈل آئندہ لاہور کے بعد دیگر شہروں میں بھی متعارف کروایا جائے گابسنت فیسٹیول کا آج آخری دن ہے اور عوام خوشی کے اس موقع پر بھی احتیاط اور حفاظتی ہدایات پر مکمل عمل کریں۔

  • پاکستان دشمنی کی پالیسی پرششی تھرور کا دو ٹوک موقف

    پاکستان دشمنی کی پالیسی پرششی تھرور کا دو ٹوک موقف

    بھارتی سیاستدان اور کانگریس کے سینئر رہنما ششی تھرور نے پاکستان کے خلاف مستقل دشمنی سے خطے میں امن کے امکانات کمزور ہوئے ہیں اور یہ طویل مدت میں مفید ثابت نہیں ہو سکی۔

    بھارتی اخبار میں شائع اپنے کالم میں ششی تھرور کا کہنا تھا کہ دہشت گردی ایک مخصوص خطرہ ہے مگر پورے پاکستانی معاشرے کو ایک ہی نظر سے دیکھنا درست نہیں اس طرح کا رویہ شدت پسند عناصر کو مضبوط اور امن کے حامی طبقات کو کمزور کر سکتا ہےبھارت کو پاکستان کو مستقل طور پر شیطان بنا کر پیش کرنے کے بجائے ایسے ماحول کے قیام کی کوشش کرنی چاہیے جو خطے میں امن اور استحکام کو فروغ دے سکے ان کے مطابق مذاکرات اور سفارتی رابطے کو کمزوری سمجھنا ایک غلط سوچ ہے جبکہ جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کیلئے بات چیت ناگزیر ہے۔

    ششی تھرور نے اپنے کالم میں سخت پالیسیوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کو عالمی سطح پر تنہا کرنے کی کوششیں بھی زیادہ مؤثر ثابت نہیں ہوئیں اور اس سوچ سے دونوں ممالک کے عوام کے درمیان فاصلے مزید بڑھتے ہیں۔

    سیاسی مبصرین کے مطابق بھارت میں ایک ایسا طبقہ سامنے آ رہا ہے جو پاکستان کے ساتھ مکالمے اور کشیدگی میں کمی کا حامی ہے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ششی تھرور کا بیان اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ بھارتی سیاست میں پاکستان مخالف بیانیے پر اندرونی سطح پر بحث اور سوالات میں اضافہ ہو رہا ہے۔

    ماہرین کے مطابق جنوبی ایشیا میں امن اور اقتصادی استحکام کیلئے دونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں بہتری اہم کردار ادا کر سکتی ہے، تاہم موجودہ سیاسی حالات میں یہ عمل آسان نہیں ہوگا۔

  • سربراہ پاک بحریہ  کی رائل ملائیشین نیوی کی قیادت سے ملاقات

    سربراہ پاک بحریہ کی رائل ملائیشین نیوی کی قیادت سے ملاقات

    پاک بحریہ کے تعاون پر مبنی بحری سیکیورٹی اور بحری سفارت کاری کے عزم کی عکاسی کرتے ہوئے، سربراہ پاک بحریہ ایڈمرل نوید اشرف نے ملائیشیا کا سرکاری دورہ کیا اور رائل ملائیشین نیوی کی قیادت سے ملاقات کی۔

    دورے کا آغاز رائل ملائشین نیوی ہیڈ کوارٹرز سے ہوا، جہاں رائل ملائشین نیوی کے سربراہ، ایڈمرل تان سری (ڈاکٹر) ذوالحلمی بن اثنین Dr. Tan Sri Zulhelmy bin Ithnain نے ایڈمرل نوید اشرف کا استقبال کیا اس موقع پر انہیں گارڈ آف آنر بھی پیش کیا گیا۔

    رائل ملائیشین نیوی کے سربراہ سے ملاقات کے دوران تیزی سے بدلتے ہوئے پیچیدہ بحری ماحول میں تزویراتی نقطہ نظر کو ہم آہنگ کرنے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ دونوں سربراہان نے آپریشنل تعاون بڑھانے، استعداد کار میں اضافے اور ابھرتے ہوئے میری ٹائم سیکیورٹی چیلنجز کے خلاف مربوط ردعمل پر اتفاق کیا ایڈمرل نوید اشرف نے ریجنل میری ٹائم سیکیورٹی پیٹرولز اور کمبائنڈ میری ٹائم فورسز میں مسلسل شرکت کے ذریعے علاقائی استحکام کے لیے پاک بحریہ کے کلیدی کردار پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے اعادہ کیا کہ پاکستان ایک ذمہ دار بحری ریاست کے طور پر خطے کی سلامتی کے لیے اپنا فعال کردار جاری رکھے گا۔

    پاک بحریہ کے سربراہ نے ملائیشیا کے نیشنل ہائیڈروگرافک سینٹر کا بھی دورہ کیا جہاں انہیں سینٹر کی تکنیکی صلاحیتوں اور بحری سلامتی میں اس کے کردار کے بارے میں بریفنگ دی گئی۔ ایڈمرل نوید اشرف نے ہائیڈروگرافی کو موثر بحری آپریشنز کی بنیاد قرار دیتے ہوئے، ملائیشیا کے نیشنل ہائیڈروگرافک سینٹر اور پاکستان کے نیشنل ہائیڈروگرافک آفس (NHO) کے درمیان ادارہ جاتی روابط، بالخصوص پیشہ ورانہ تربیت اور ڈیٹا کے تبادلے میں تعاون کو مزید مستحکم کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔

    مشترکہ اقدار اور دیرینہ دوستی پر مبنی پاکستان اور ملائیشیا کے بحری تعلقات عصر حاضر کے تقاضوں کے مطابق مسلسل مستحکم ہو رہے ہیں۔ پاک بحریہ کے سربراہ کا یہ دورہ دونوں ممالک کی بحری افواج کے درمیان مربوط تعاون پر مبنی اور مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ شراکت داری کی جانب ایک اہم سنگ میل ثابت ہوگا۔

  • رمضان المبارک: کن ممالک میں روزے سب سے طویل اور سب سے چھوٹے ہوں گے؟

    رمضان المبارک: کن ممالک میں روزے سب سے طویل اور سب سے چھوٹے ہوں گے؟

    رمضان المبارک 2026 کی آمد میں صرف چند دن باقی رہ گئے ہیں اور دنیا بھر میں روزوں کے دورانیے کے حوالے سے تفصیلات سامنے آ گئی ہیں۔

    ماہرین فلکیات کے مطابق رمضان 2026 کا آغاز 19 فروری 2026 کو متوقع ہے، تاہم اگر ہلال 18 فروری کو نظر آئے تو یہ ایک دن قبل شروع ہو سکتا ہے رمضان کے روزے گزشتہ سال کے مقابلے میں کچھ کم دورانیے کے ہوں گے، جس سے عبادت گزاروں کو کچھ راحت ملے گی۔

    خلیج ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق اسلامی ہجری کیلنڈر قمری چاند کے مدار پر مبنی ہے، جس کے مطابق ہر ماہ 29 یا 30 دن پر مشتمل ہوتا ہے، چاند کے نظر آنے کی بنیاد پر مہینے کی شروعات طے کی جاتی ہے۔ رواں برس بھی رمضان کا آغاز تقریباً 10 سے 12 دن پہلے ہونے جا رہا ہے، جس کا اثر روزے کے دورانیے اور دن کی روشنی پر پڑے گا۔

    رمضان کے روزے کا آغاز صبح صادق سے غروب آفتاب تک ہوتا ہے، اور روزے کی مدت ہر مقام پر سورج کے طلوع و غروب کے وقت کے مطابق مختلف ہوتی ہے جغرافیائی محل وقوع کے فرق کی وجہ سے دنیا کے مختلف ممالک میں روزے کے اوقات مختلف ہوتے ہیں۔

    میڈیا رپورٹس کے مطابق شمالی ممالک جیسے روس کے شمالی حصے، گرین لینڈ، آئس لینڈ، ناروے، سویڈن اور فن لینڈ میں روزے کا دورانیہ 16 گھنٹے سے زیادہ ہو سکتا ہے جبکہ بعض علاقوں میں یہ مدت 20 گھنٹے تک بھی پہنچ سکتی ہے دوسری جانب جنوبی اور معتدل خطوں میں روزے کا دورانیہ نسبتاً کم رہے گا، بر ازیل، جنوبی افریقہ، چلی، نیوزی لینڈ، انڈونیشیا، ملائیشیا اور کینیا جیسے ممالک میں روزے کا دورانیہ 11 سے 14 گھنٹے کے درمیان متوقع ہے۔

    علمائے کرام کے مطابق ایسے علاقوں میں جہاں دن یا رات غیر معمولی طور پر طویل یا مختصر ہو، وہاں مکہ مکرمہ یا کسی قریبی معتدل شہر کے اوقات کے مطابق روزہ رکھنے کی اجازت ہے۔

  • دھابیجی :پمپنگ اسٹیشن پر بجلی کا بریک ڈاؤن، پائپ لائن پھٹ گئی

    دھابیجی :پمپنگ اسٹیشن پر بجلی کا بریک ڈاؤن، پائپ لائن پھٹ گئی

    دھابیجی میں پانی کے بیک پریشر سے 72 انچ قطر کی پائپ لائن نمبر 5 ایک بار پھر پھٹ گئی ہے۔

    دھابیجی میں پائپ لائن پھٹنے سے لاکھوں گیلن پانی ضائع ہگیا ہے اور بڑا علاقہ زیرآب آگیا ہےواٹرکارپوریشن کے عملے نے متاثرہ لائن کا وال بند کرکے مرمت کاکام ہنگامی بنیاد پر شروع کردیا ہے واٹرکارپوریشن انتظامیہ کا کہنا ہے کہ لائن کی مرمت میں 24 گھنٹے کا وقت لگے گا کراچی کو پانی کی فراہمی میں سو ملین گیلن کمی کا سامنا رہے گا۔

    واضح رہے کہ چار روز قبل بھی پمپنگ اسٹیشن پر بجلی کے بریک ڈاؤن سے 2 لائنیں لائن نمبر5 اور لائن نمبر2 پھٹ گئی تھی۔

  • اسلام آباد دھماکہ، مہتمم جامعہ بنوریہ عالمیہ کراچی کی شدید مذمت

    اسلام آباد دھماکہ، مہتمم جامعہ بنوریہ عالمیہ کراچی کی شدید مذمت

    اسلام آباد میں ایک امام بارگاہ میں ہونے والے دھماکے پر مہتمم جامعہ بنوریہ عالمیہ کراچی ڈاکٹر مفتی نعمان نعیم نے شدید ردِعمل دیتے ہوئے واقعے کو انتہائی قابلِ مذمت قرار دیا ہے-

    ڈاکٹر مفتی نعمان نعیم نے اپنے بیان میں کہا کہ بے گناہ شہریوں کو نشانہ بنانا اور عبادت گاہوں پر حملے کرنا بدترین دہشتگردی ہے، جس کی کوئی مذہب اجازت نہیں دیتا،ایسے سفاکانہ واقعات انسانی اقدار اور دینی تعلیمات کے سراسر منافی ہیں،ملک دشمن قوتیں دہشتگردی کے ذریعے وطنِ عزیز پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کی کوشش کر رہی ہیں، تاہم یہ عناصر اپنے مذموم عزائم میں کبھی کامیاب نہیں ہوں گے۔

    ڈاکٹر مفتی نعمان نعیم نے کہا کہ دہشتگردی کے خلاف پوری قوم متحد ہے اور ایسے واقعات قومی عزم کو کمزور نہیں کر سکتے انہوں نے مطالبہ کیا کہ واقعے میں ملوث عناصر کو جلد از جلد گرفتار کر کے سخت ترین سزا دی جائے تاکہ آئندہ ایسے سانحات کی روک تھام ممکن ہو۔

    واضح رہے کہ جمعے کے روز ترلائی کے علاقے میں واقع امام بارگاہ قصرِ خدیجۃ الکبریٰ میں نماز جمعہ کے بعد ہوا، جس میں 30 سے زائد افراد جاں بحق اور 100 سے زیادہ زخمی ہو گئے۔ پولیس حکام کے مطابق خودکش حملہ آور کو امام بارگاہ کے مرکزی دروازے پر روکا گیا، جہاں اس نے خود کو دھماکے سے اڑا لیا واقعے کے بعد سامنے آنے والی فوٹیج اور تصاویر میں امام بارگاہ کے داخلی دروازے کے قریب لاشیں بکھری ہوئی دکھائی دیں، جبکہ عبادت گاہ کے اندر اور باہر زخمی افراد مدد کے لیے پکار رہے تھے اس حملے پر ملک بھر میں غم و غصے کی لہر دوڑ گئی جبکہ عالمی سطح پر بھی متعدد ممالک اور تنظیموں نے مذمت کی۔

    دوسری جانب وزیر داخلہ محسن نقوی نے بتایا کہ حملے کے مرکزی منصوبہ ساز سمیت چار سہولت کاروں کو خیبر پختونخوا میں رات گئے کارروائیوں کے دوران گرفتار کر لیا گیا ہے۔ ان کے مطابق متعدد اداروں نے مشترکہ تحقیقات کے بعد کارروائیاں کیں اور علی الصبح تمام مرکزی کرداروں کو حراست میں لے لیا گیا۔

    وزیر داخلہ نے دعویٰ کیا کہ حملے کا ماسٹر مائنڈ افغان شہری تھا اور داعش سے منسلک تھا، جس نے افغانستان میں تربیت حاصل کی۔ کارروائیوں کے دوران خیبر پختونخوا پولیس کا ایک اہلکار شہید جبکہ متعدد زخمی بھی ہوئےدہشت گرد نیٹ ورک کو مکمل طور پر ختم کر دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان میں متعدد دہشت گرد تنظیمیں سرگرم ہیں اور بھارت کی جانب سے مالی معاونت کے شواہد بھی سامنے آئے ہیں۔

  • ہالینڈ کے زلزلہ پیما ماہر کی زلزلے کے حوالے سے بڑی پیشگوئی

    ہالینڈ کے زلزلہ پیما ماہر کی زلزلے کے حوالے سے بڑی پیشگوئی

    ہالینڈ کے زلزلہ پیما ماہر فرینک ہوگربیٹس نے زلزلے کے حوالے سے بڑی پیشگوئی کی ہے-

    فرینک ہوگربیٹس نے انتباہ جاری کرتے ہوئے کہا کہ آنے والے چند دنوں میں زمین پر ممکنہ زلزلہ خیز سرگرمیاں دیکھنے کو مل سکتی ہیں اور اس بار انہوں نے کسی ”سرپرائز“ سے بھی خبردار رہنے کی تاکیدکی ہےاجرامِ فلکی کی ترتیب جسے وہ سیاروں کی جیومیٹری کہتے ہیں، اس وقت خاص طور پر اہم ہے-

    انہوں نے کہا کہ 13 سے 15 فروری کے درمیان زمین، چاند اور سیارہ مشتری ایک لائن میں آ رہے ہیں، جس کی وجہ سے زلزلوں کی سرگرمیاں بڑھ سکتی ہیں ،میں آپ کو 13 سے 15 فروری تک انتہائی محتاط رہنے کا مشورہ دیتا ہوں کیونکہ اس دوران ایک بڑا زلزلہ آ سکتا ہے اور کوئی حیران کن واقعہ پیش آ سکتا ہے۔

    اس کے برعکس سائنسی ماہرین نے فرینک کے نظریات کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یہ دعوے غیر سائنسی ہیں اور سیاروں کی گردش کا زمین پر زلزلوں سے کوئی تعلق موجودہ سائنسی بنیادوں پر نہیں پایا جاتااگرچہ کچھ علاقے زلزلے کیلئے زیادہ خطرناک ہیں لیکن مختصر مدت میں درست پیش گوئی ممکن نہیں۔

  • آئین، جمہوریت اور پاکستان: ایک بے لاگ احتساب،تجزیہ :شہزاد قریشی

    آئین، جمہوریت اور پاکستان: ایک بے لاگ احتساب،تجزیہ :شہزاد قریشی

    آئین، جمہوریت اور پاکستان: ایک بے لاگ احتساب

    پاکستان کی سیاسی اور مذہبی جماعتوں سے ایک بنیادی سوال برسوں سے جواب مانگ رہا ہے:کیا اس ملک میں کبھی آئین پر حقیقی معنوں میں عمل ہوا ہے؟آئین کسی بھی ریاست میں عوامی حقوق، وسائل کی منصفانہ تقسیم اور مستقبل کی منصوبہ بندی کا ضامن ہوتا ہے۔ مگر اگر پاکستان کے زمینی حقائق کا جائزہ لیا جائے تو آئین اور عملی سیاست کے درمیان ایک گہری خلیج صاف نظر آتی ہے۔ آبادی میں مسلسل اضافہ، پانی کی شدید قلت اور توانائی کے بحرا ن جیسے مسائل دہائیوں سے ہمارے سامنے ہیں، مگر فوجی ادوار کے بعد کسی منتخب حکومت نے بڑے آبی ذخائر یا طویل المدتی منصوبہ بندی کو قومی ترجیح کیوں نہ بنایا؟

    آج پاکستان کی اکثریت بجلی، گیس، صاف پانی، تعلیم اور صحت جیسی بنیادی سہولتوں کے لیے جدوجہد کر رہی ہے، حالانکہ یہ تمام حقوق آئین میں واضح طور پر درج ہیں۔ سوال یہ نہیں کہ مسائل کیوں ہیں، بلکہ سوال یہ ہے کہ جن جماعتوں نے بار بار اقتدار حاصل کیا، انہوں نے ان آئینی ذمہ داریوں کو پورا کرنے میں کیا کردار ادا کیا؟

    پاکستانی سیاست میں آئین اور جمہوریت زیادہ تر نعروں تک محدود رہے ہیں ہر انتخابی مہم میں عوام کو بہتر مستقبل کے خواب دکھائے گئے، مگر اقتدار میں آنے کے بعد ترجیحات بدل گئیں احتساب، ادارہ جاتی اصلاحات اور عوامی فلاح کے بجائے طاقت، اختیار اور سیاسی بقا مرکزِ توجہ بنی رہی اگر یہ واقعی آئین کی جنگ ہوتی تو آج عام پاکستانی بنیادی سہولتوں کے لیے دربدر نہ ہوتا۔

    میری نسل کے لوگ اس تلخ حقیقت کے عینی شاہد ہیں کہ کس طرح قوم کو دہائیوں تک بلند بانگ، مگر کھوکھلے نعروں کے سہارے رکھا گیا اسی لیے آج نوجوانوں کے نام ایک سنجیدہ پیغام ضروری ہے: سیاستدانوں اور مذہبی جماعتوں کے دعوؤں کو صرف الفاظ کی بنیاد پر قبول نہ کریں، بلکہ ان کے ماضی، ان کی کارکردگی اور ان کے فیصلوں کو کسوٹی بنائیں۔

    یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ پاکستان کی بقا میں سب سے زیادہ مسلسل قربانیاں ریاستی اداروں، بالخصوص پاک فوج نے دی ہیں، جو اپنے آئینی عہد کے تحت ملک اور عوام کے تحفظ کی ذمہ داری نبھا رہے ہیں اس کے برعکس سیاسی نظام اب تک ایسا فریم ورک فراہم کرنے میں ناکام رہا ہے جو عوامی مفاد کو ذاتی یا جماعتی مفاد پر ترجیح دے سکے۔

    دنیا کی مستحکم جمہوریتیں، چاہے وہ یورپ میں ہوں یا امریکہ میں، مضبوط اداروں، شفاف احتساب اور عوامی فلاح کو بنیاد بناتی ہیں وہاں جمہوریت ایک نعرہ نہیں بلکہ ایک نظام ہے۔ بدقسمتی سے پاکستان میں جمہوریت اکثر ایک سیاسی کاروبار کی شکل اختیار کر چکی ہے، جہاں اقتدار عوامی خدمت کے بجائے ذاتی دولت اور اثر و رسوخ میں اضافے کا ذریعہ بن جاتا ہے۔

    آج کا نوجوان اگر واقعی پاکستان کا مستقبل سنوارنا چاہتا ہے تو اسے تاریخ کا غیرجانبدار مطالعہ کرنا ہوگا، دعوؤں کے بجائے نتائج کو دیکھنا ہوگا، اور آئین کو صرف ایک مقدس دستاویز نہیں بلکہ قابلِ عمل سماجی معاہدہ بنانے کا مطالبہ کرنا ہوگا یہ وقت جذباتی نعروں کا نہیں، سنجیدہ سوالات کا ہےکیونکہ جب تک آئین کو عوامی مفاد کے ساتھ جوڑا نہیں جاتا، جمہوریت محض ایک خواب اور سیاست محض اقتدار کی جنگ ہی رہے گی۔

  • عروسی لباس پٔرلاکھوں روپے خرچ کرنے کے بجائے کرائے پر لینا زیادہ بہتر آپشن ہے،لائبہ خان

    عروسی لباس پٔرلاکھوں روپے خرچ کرنے کے بجائے کرائے پر لینا زیادہ بہتر آپشن ہے،لائبہ خان

    حال ہی میں شادی کے بندھن میں بندھنے والی خوبرو اداکارہ لائبہ خان نے مستقبل کی دلہنوں کو اہم مشور ہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ عروسی لباس پٔرلاکھوں روپے خرچ کرنے کے بجائے کرائے پر لینا زیادہ بہتر آپشن ہے-

    اداکارہ لائبہ خان کا کہنا ہے کہ مستقبل کی دلہنوں کو مہنگے عروسی لباس پر غیر ضروری اخراجات کے بجائے سونے کے زیورات میں سرمایہ کاری کو ترجیح دینی چاہیے،عروسی لباس عموماً صرف ایک بار پہنا جاتا ہے، اس لیے لاکھوں روپے خرچ کرنے کے بجائے اسے کرائے پر لینا زیادہ بہتر آپشن ہے مہنگے کپڑوں کے مقابلے میں سونے کے زیورات نہ صرف شادی کے بعد بھی کام آتے ہیں بلکہ مستقبل میں ایک قیمتی اثاثہ بھی ثابت ہوتے ہیں۔

    showbiz

    اداکارہ کا کہنا تھا کہ بچپن سے شادی کا شوق ضرور تھا مگر وقت کے ساتھ یہ احساس ہوا کہ شادی محض ایک تقریب نہیں بلکہ ایک بڑی ذمہ داری ہے جو زندگی کو مکمل طور پر بدل دیتی ہےشادی سے پہلے ذہنی طور پر تیار ہونا بے حد ضروری ہے، اگر انسان خود کو شادی کی ذمہ داریوں کیلئے تیار محسوس نہ کرے تو صرف خواہش کے تحت یہ فیصلہ نہیں کرنا چاہیے شادی کے بعد آنے والی ذمہ داریوں کو سمجھنا اور نبھانے کی صلاحیت ہونا لازمی ہے وہ کافی عرصے سے شادی کے بارے میں سنجیدگی سے سوچ رہی تھیں اور جب انہیں لگا کہ یہ بالکل درست وقت ہے تو انہوں نے گھر والوں سے بات کی اور شادی کا فیصلہ کرلیا۔

    showbiz

  • خواجہ آصف سرکاری دورے  پر سعودی عرب پہنچ گئے

    خواجہ آصف سرکاری دورے پر سعودی عرب پہنچ گئے

    ریاض:وزیر دفاع خواجہ آصف سعودی حکومت کی باضابطہ دعوت پر سرکاری دورے کے لیے ریاض پہنچ گئے ہیں جہاں وہ ورلڈ ڈیفنس شو میں شرکت کریں گے۔

    ریاض ایئرپورٹ پر سعودی حکام اور سعودی عرب میں تعینات پاکستان کے سفیر نے وزیر دفاع کا استقبال کیا،دورے کے دوران خواجہ آصف کی اعلیٰ سعودی حکام سے ملاقاتیں متوقع ہیں جن میں دوطرفہ دفاعی تعاون، خطے کی صورتحال اور باہمی دلچسپی کے دیگر امور پر تبادلہ خیال کیا جائے گاذرائع کے مطابق یہ دورہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دفاعی تعلقات کو مزید مضبوط بنانے اور مشترکہ تعاون کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کرے گا۔