Baaghi TV

Author: Ayesha Rehmani

  • ہتکِ عزت کیس: شہباز شریف کیخلاف عمران خان کی درخواست ، 3رکنی بینچ تشکیل دینے کا حکم

    ہتکِ عزت کیس: شہباز شریف کیخلاف عمران خان کی درخواست ، 3رکنی بینچ تشکیل دینے کا حکم

    اسلام آباد:سپریم کورٹ نے ہتک عزت کیس میں شہباز شریف کے خلاف بانی پی ٹی آئی کی درخواست پر سماعت دو ہفتوں کے لیے ملتوی کرتے ہوئے تین رکنی بینچ تشکیل دینے کا حکم دے دیا۔

    ہتک عزت کیس میں شہباز شریف کے خلاف بانی پی ٹی آئی کی درخواست پر سماعت ہوئی،سماعت کے دوران جسٹس شاہد بلال حسن نے ریمارکس دیے کہ اس کیس کی کیا پوزیشن ہے؟ جس پر وکیل نے عدالت کو آگاہ کیا کہ یہ کیس اس وقت لاہور ہائیکورٹ میں زیرِ سماعت ہے عدالت نے فریقین کے مؤقف سننے کے بعد کارروائی مؤخر کرتے ہوئے کیس کی سماعت دو ہفتے کے لیے ملتوی کر دی، جبکہ آئندہ سماعت پر تشکیل دیے گئے بینچ کے روبرو کیس کو دوبارہ سنا جائے گا۔

    دوسری جانب، القادر ٹرسٹ کیس میں بانی پی ٹی آئی کی ضمانت منسوخی جبکہ توشہ خانہ کیس میں عمران خان اور بشریٰ بی بی کی ضمانت منسوخی کی درخوا ستیں غیر مؤثر ہونے پر خارج کر دی گئیں سپریم کورٹ نے 9 مئی لاہور واقعات میں بانی پی ٹی آئی کی ضمانت منسوخی کی درخواستوں پر تین رکنی بینچ بنانے کا حکم دیا،عدالت نے سائفر کیس اور 9 مئی واقعات میں ضمانت منسوخی کی درخواستوں پر سماعت دو ہفتے کے لیے ملتوی کر دی۔

  • محسن نقوی کی آج وزیر اعظم سے ملاقات متوقع

    محسن نقوی کی آج وزیر اعظم سے ملاقات متوقع

    چیئرمین پی سی بی اور وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کی آج وزیر اعظم شہباز شریف سے ملاقات متوقع ہے۔

    ذرائع کے مطابق چیئرمین پی سی بی محسن نقوی وزیر اعظم شہباز شریف کو آئی سی سی اور بی سی بی سے ہونے والی ملاقات پر اعتماد میں لیں گے محسن نقوی آئی سی سی کی درخواست کے بارے میں بھی وزیر اعظم کو آگاہ کریں گے وزیر اعظم سے ملاقات کے بعد ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ میں بھارت کے خلاف کھیلنے کا فیصلہ ہوگا بنگلادیش کرکٹ بورڈ اور پی سی بی کے نقط نظر سے بھی آگاہ کیا جائے گا۔

  • صدر ٹرمپ کی چینی صدر سے ٹیلیفونک گفتگو، وائٹ ہاؤس مدعو کر لیا

    صدر ٹرمپ کی چینی صدر سے ٹیلیفونک گفتگو، وائٹ ہاؤس مدعو کر لیا

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ رواں سال کے آخر میں چینی صدر شی جن پنگ کی وائٹ ہاؤس میں میزبانی کریں گے۔

    ٹرمپ نے یہ بات این بی سی نیوز کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہی، جو بدھ کے روز ریکارڈ کیا گیا اسی دن ٹرمپ اور شی جن پنگ کے درمیان تجارت، تائیوان، یوکرین جنگ اور ایران کی صورتحال سمیت متعدد اہم امور پر تفصیلی گفتگو بھی ہوئی،جبکہ یہ پیش رفت ایسے وقت میں جب دنیا کی 2 بڑی معیشتیں تجارتی جنگ سے متاثرہ تعلقات کو ازسرِنو بہتر بنانے کی کوشش کر رہی ہیں امکان ہے کہ صدر ٹرمپ اپریل میں چین کا دورہ کریں گے، جس کے بعد صدر شی جن پنگ امریکا کا دورہ کریں گے۔

    انٹرویو میں ٹرمپ نے بتایا کہ چینی صدر سال کے آخر میں وائٹ ہاؤس آئیں گے م دنیا کے 2 طاقتور ترین ممالک ہیں اور ہمارے تعلقات بہت اچھے ہیںصدر ٹرمپ نے شی جن پنگ کے ساتھ گفتگو کو ’بہترین‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہم دونوں اس بات کی اہمیت کو سمجھتے ہیں کہ تعلقات کو اسی طرح برقرار رکھا جائے۔

    چینی سرکاری نشریاتی ادارے سی سی ٹی وی کے مطابقشی جن پنگ نے اس امید کا اظہار بھی کیا کہ تجارت سمیت دوطرفہ مسائل بیجنگ اور واشنگٹن کے درمیان خوش اسلوبی سے حل ہو سکتے ہیں شی جن پنگ نے کہا کہ مسائل کو ایک ایک کر کے حل کرتے ہوئے اور باہمی اعتماد کو مضبوط بناتے ہوئے، ہم دونوں ممالک کے درمیان درست طرزِ تعلق قائم کر سکتے ہیں۔

    وائٹ ہاؤس واپسی کے بعد گزشتہ ایک سال کے دوران ٹرمپ نے مختلف شعبوں پرٹیرف عائد کیے، جن میں اسٹیل، گاڑیاں اور دیگر اشیا شامل ہیں، جبکہ وسیع تر معاشی اقدامات بھی کیے گئے اگرچہ امریکا اور چین کے درمیان تجارتی معاملات پر کشیدگی رہی، تاہم گزشتہ موسم بہارمیں بڑے تصادم کے بعد دونوں ممالک ایک وسیع تر مفاہمت پر پہنچے۔

    امریکا کی جانب سے چینی مینوفیکچرنگ پر انحصار کم کرنے کی کوششوں کے باوجود، دونوں ممالک کی معیشتیں اب بھی گہرے طور پر ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہیں آخری بار 2023 میں امریکا کا دورہ کرنیوالے چینی صدر شی جن پنگ نے بدھ کے روز ٹرمپ کو خودمختار تائیوان کو اسلحہ فروخت کرنے کے معاملے پر ’احتیاط‘ برتنے کا مشورہ دیا، جسے چین اپنی سرزمین کا حصہ قرار دیتا ہے۔

    ادھر جمعے کے روز امریکا نے روس اور چین کے ساتھ سہ فریقی مذاکرات کے ذریعے جوہری ہتھیاروں پر نئی پابندیاں عائد کرنے کی تجویز دی، تاہم بیجنگ نے فی الحال ان مذاکرات میں شامل ہونے سے انکار کردیا ہے۔

  • بابا وانگا کی پیشگوئی سونے اور چاندی میًں سرمایہ کاری میں اضافے کا سبب

    بابا وانگا کی پیشگوئی سونے اور چاندی میًں سرمایہ کاری میں اضافے کا سبب

    بابا وانگا کی پیشگوئیاں ایک بار پھر عالمی سطح پر خبروں کی زینت بن گئی ہیں۔

    بابا وانگا نے اپنی پیشگوئیوں میں دعویٰ کیا تھا کہ دنیا کو شدید مالی بحران کا سامنا کرنا پڑے گا اور کاغذی کرنسی کی قدر میں نمایاں کمی واقع ہوگی، جس کے باعث سونا، چاندی اور تانبا لوگوں کے لیے محفوظ ترین سرمایہ کاری کے ذرائع بن جائیں گےان پیشگوئیوں کے بعد کئی افراد نے اپنی بچتیں قیمتی دھاتوں میں منتقل کرنا شروع کر دیں گزشتہ چند ماہ کے دوران سونے اور چاندی کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آیا، جس نے سرمایہ کاروں کی توجہ مزید بڑھا دی۔

    مارکیٹ رپورٹس کے مطابق ایم سی ایکس پر سونے کی قیمت ایک وقت میں ایک لاکھ 80 ہزار روپے فی 10 گرام تک جا پہنچی، جب کہ ایک سال کے دوران اس کی قیمت میں تقریباً 70 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیااسی طرح چاندی کی قیمت بھی تیزی سے بڑھتی ہوئی 4 لاکھ روپے فی کلوگرام کی سطح کو عبور کر گئی چاندی نے بھی سرمایہ کاروں کو ایک سال میں 160 فیصد سے زائد منافع دیا، جس کے باعث اسے ایک مضبوط سرمایہ کاری آپشن کے طور پر دیکھا جا نے لگا۔

    ماہرین کے مطابق بابا وانگا کی پیشگوئیوں نے بھی اس رجحان کو مزید تقویت دی اور لوگوں نے غیر یقینی معاشی حالات کے خدشے کے تحت قیمتی دھاتوں میں سرمایہ کاری کو ترجیح دیتاہم، 30 جنوری کے بعد صورتحال میں اچانک تبدیلی دیکھنے میں آئی سونے اور چاندی کی قیمتوں میں ایک ہی دن میں نمایاں کمی واقع ہوئی اور یہ گراوٹ مسلسل تقریباً تین دن تک جاری رہی اس دوران دونوں دھاتوں کی قیمتیں تیزی سے نیچے آئیں جس سے سرمایہ کاروں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ عالمی معاشی حالات، منڈی کے اتار چڑھاؤ اور سرمایہ کاروں کے بدلتے رجحانات کے باعث قیمتوں میں اس طرح کی کمی بیشی آتی رہتی ہے۔ تاہم بابا وانگا کی پیشگوئیوں کے باعث سونا اور چاندی اب بھی طویل مدتی سرمایہ کاری کے طور پر اہمیت رکھتے ہیں۔

  • اقوامِ متحدہ کے اسسٹنس مشن برائے افغانستان کی رپورٹ حقائق پر مبنی نہیں، پاکستان

    اسلام آباد: پاکستان نے اقوامِ متحدہ کے اسسٹنس مشن برائے افغانستان (UNAMA) کی جانب سے جاری کردہ رپورٹ کو مکمل طور پر مسترد کر دیا-

    پاکستان نے اپنے بیان میں کہا کہ یہ رپورٹ حقائق پر مبنی نہیں بلکہ نام نہاد اسلامک امارتِ افغانستان (آئی ای اے) کے یکطرفہ، غیر مصدقہ اور غیر مستند الزامات پر انحصار کرتی ہےپاکستان نے افغانستان میں کسی بھی شہری آبادی کو نشانہ نہیں بنایا اور نہ ہی کسی شہری جانی نقصان کا سبب بنا۔

    ترجمان دفتر خارجہ نے واضح کیا کہ پاکستان کی جانب سے کی گئی تمام کارروائیاں صرف اُن دہشتگرد عناصر کے خلاف تھیں جو افغانستان کی سرزمین سے پاکستان کے خلاف دہشت گرد حملوں کی منصوبہ بندی، سہولتکاری اور عمل درآمد میں براہِ راست ملوث تھے پاکستان کی کارروائیاں اقوامِ متحدہ کے چارٹر کے تحت حقِ دفاع کے دائرے میں، درست انٹیلیجنس معلومات کی بنیاد پر کی گئیں، جن میں شہری آبادی کو دانستہ طور پر نشانہ بنانے سے مکمل اجتناب کیا گیا دہشتگرد تربیتی مراکز اور کیمپوں کو نشانہ بنانے کے شواہد پہلے ہی عالمی برادری کے سامنے پیش کیے جا چکے ہیں۔

    پاکستان نے UNAMA رپورٹ میں اس بنیادی حقیقت کو نظر انداز کرنے پر بھی شدید تحفظات کا اظہار کیا کہ افغانستان طالبان کے زیرِ انتظام دہشتگرد تنظیموں کے لیے محفوظ پناہ گاہ بنا ہوا ہے اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی مانیٹرنگ رپورٹس کے مطابق، افغانستان میں متعدد دہشت گرد تنظیمیں سرگرم ہیں جو پاکستان میں دہشتگردی کی کارروائیوں میں براہِ راست ملوث رہی ہیں-

    ترجمان نے کہا کہ افغانستان میں شہری نقصان کی اصل ذمہ داری اُن عناصر پر عائد ہوتی ہے جو دہشت گر دوں کو شہری آبادیوں میں پناہ دیتے اور انہیں آپریشنل سہولت فراہم کرتے ہیں ایسے حالات میں پاکستان کی جوابی کارروائیوں کو سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کرنا حقائق کو مسخ کرنے کے مترادف ہے۔

    دفتر خارجہ نے اقوامِ متحدہ پر زور دیا کہ وہ غیر جانبدار، قابلِ تصدیق اور متوازن رپورٹس مرتب کرے اور دہشتگردی کے اصل محرکات اور ذمہ داروں کو نظر انداز نہ کرے پاکستان نے واضح کیا کہ وہ اپنی خودمختاری، علاقا سالمیت اور عوام کے تحفظ کے لیے تمام قانونی اقدامات کا حق محفوظ رکھتا ہے۔

  • ملک کے مختلف علاقوں میں گرج چمک کے ساتھ بارش کی پیشگوئی

    ملک کے مختلف علاقوں میں گرج چمک کے ساتھ بارش کی پیشگوئی

    محکمہ موسمیات نے ملک کے مختلف علاقوں میں گرج چمک کے ساتھ بارش کی پیشگوئی کی ہے-

    محکمہ موسمیات کے مطابق اسلام آباد میں گرج چمک کے ساتھ بارش اور چند مقامات پر ژالہ باری کا امکان ہےچترال، دیر، سوات، کالام، شانگلہ، کوہستان، بونیر، پشاور، بٹگرام، مانسہرہ، ایبٹ آباد، ہری پور، مردان، صوابی، چارسدہ، کوہاٹ، کرم، بنوں، باجوڑ، مہمند اور خیبرمیں بارش کی توقع ہے۔

    ملک کے بالائی علاقوں میں مغربی ہوائیں داخل ہو گئی ہیں،آج سے بارش و برفباری کی توقع ہے، خیبرپختونخوا میں آج سے کل تک بارش اوربالائی علاقوں میں برفباری کی توقع ہے مری اور گلیات میں آج سے کل تک بارش وبرفباری کاامکان ہے،محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ برفباری کے باعث سڑکوں پر پھسلن اور لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ ہے۔

    اورکزئی، ڈیرہ اسماعیل خان اور وزیرستان میں بارش کا امکان ہے، کوئٹہ، زیارت، پشین، چمن، قلعہ عبداللہ، قلعہ سیف اللہ، مستونگ، قلات، تربت، چاغی، گوادر اور خاران میں بارش کا امکان ہے ژوب اور موسیٰ خیل میں بھی چند مقامات پر بارش ہونے کی توقع ہے، سندھ کے ساحلی علاقوں میں چند مقامات پربارش کا امکان ہے،آزاد کشمیر، گلگت بلتستان میں تیز ہواؤں اور گرج چمک کے ساتھ بارش و برفباری کی توقع ہے۔

  • نئی سولر پالیسی ، کروڑوں صارفین کو بھاری سبسڈی فراہم کرنا ممکن نہیں رہا، وزیر توانائی

    نئی سولر پالیسی ، کروڑوں صارفین کو بھاری سبسڈی فراہم کرنا ممکن نہیں رہا، وزیر توانائی

    وفاقی وزیر توانائی اویس لغاری نے کہا ہے کہ حکومت کی مجوزہ نئی سولر پالیسی کا اطلاق صرف نئے صارفین پر ہوگا جبکہ موجودہ صارفین کو متاثر نہیں کیا جائے گا۔

    نجی ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئےوفاقی وزیر توانائی اویس لغاری نے واضح کیا کہ ریاست کے لیے کروڑوں صارفین کو بھاری سبسڈی فراہم کرنا ممکن نہیں رہا بجلی کے شعبے میں اصلاحات کے باعث صنعتی صارفین کے لیے بجلی کے نرخ اب خطے کے دیگر ممالک کے قریب آ چکے ہیں بعض حلقوں کی جانب سے بنگلہ دیش میں چھ سے سات سینٹ فی یونٹ بجلی کے دعوے درست نہیں اور زمینی حقائق مختلف ہیں۔

    وفاقی وزیر کے مطابق ملک میں کم بجلی استعمال کرنے والے صارفین کی تعداد تیزی سے بڑھی ہےاضی میں 200 یونٹس سے کم بجلی استعمال کرنے والے صارفین کی تعداد چند ملین تھی جو بڑھ کر کروڑوں تک پہنچ گئی ہے، اور اس طبقے کو بھاری سبسڈی دینا ریاست کے لیے مشکل ہوتا جا رہا ہے اس سے قبل بھی حکومت کی جانب سے بتایا گیا تھا کہ کم یونٹس استعمال کرنے والے صارفین کو 70 فیصد تک سبسڈی دی جاتی رہی ہے۔

    اویس لغاری نے کہا کہ بعض صاحب حیثیت افراد سولر سسٹم لگانے کے بعد اپنی بجلی کی کھپت کم ظاہر کرتے ہیں اور رعایتی صارفین کی فہرست میں شامل ہو جاتے ہیں، جس سے سبسڈی کا بوجھ مزید بڑھتا ہے اتنے بڑے طبقے کو بجلی کی قیمت میں تقریباً 70 فیصد رعایت دینا معاشی طور پر پائیدار نہیں۔

    واضح رہے کہ حکومت ماضی میں بھی یہ عندیہ دے چکی ہے کہ سولر اور نیٹ میٹرنگ پالیسی میں ایسی تبدیلیاں کی جا سکتی ہیں جن سے بجلی کے شعبے پر مالی دباؤ کم ہو اور دیگر صارفین پر اضافی بوجھ نہ پڑے۔

  • حج 2026 کیلئے بائیو میٹرک کرانے کی تاریخ میں توسیع

    حج 2026 کیلئے بائیو میٹرک کرانے کی تاریخ میں توسیع

    حج 2026 کے لئے بائیومیٹرک کرانے کی تاریخ میں 17 فروری تک توسیع کر دی گئی ہے۔

    ترجمان وزارت مذہبی امور کا کہنا ہے کہ سعودی ویزا کے لئے بائیو میٹرک لازمی قرار دی گئی ہے، بائیو میٹرک نہ کرانے والوں کو حج ویزا جاری نہیں کیا جائے گا، 17 فروری کے بعد بائیو میٹرک مکمل کرنے کی اجازت نہیں ہوگی بائیو میٹرک نہ کرانے والے عازمین اس برس حج نہیں کر سکیں گے، موبائل ایپ سعو دی ویزا بائیو کے ذریعے گھر بیٹھے بائیومیٹرک کرائی جا سکتی ہے۔

    عازمین حج کی سہولت کے لئے تاشیر سینٹرز بھی کھلے رہیں گے، عازمین حج کو فوری طور پر بائیو میٹرک کیلئے سعودی ویزا مراکز سے رجوع کرنے کا کہا گیا ہے، 80 برس سے زائد عمر کے عازمین حج کو بائیو میٹرک سے استثنیٰ حاصل ہے، ان کا چہرہ اور فنگر پرنٹ اسکین نہیں ہوں گے، ان کے پاسپورٹ اسکین ہونے کی تصدیقی ای میل ان کو موصول ہو گی، عازمین حج پراسیس مکمل ہونے کے بعد رسید حاصل کریں۔

  • پاکستان میں موجود امریکا منتقلی کے منتظر افغان شہریوں سے متعلق اہم پیشرفت

    پاکستان میں موجود امریکا منتقلی کے منتظر افغان شہریوں سے متعلق اہم پیشرفت

    پاکستان میں موجود امریکا منتقلی کے منتظر افغان شہریوں کو واپس افغانستان بھیجنے کا فیصلہ کیے جانے کی اطلاعات ہیں۔

    ذرائع کے مطابق ہزاروں افغان شہری کئی برس سے امریکا میں آبادکاری کے منتظر ہیں، تاہم طویل تاخیر کے باعث اب ان کی واپسی کا عمل شروع کیے جانے کا امکان ہے پاکستان میں موجود تقریباً 19 ہزار سے زائد افغان شہری امریکا منتقلی کے انتظار میں ہیں، تاہم افغانستان میں طالبان حکومت کے قیام کے بعد کئی سال گزرنے کے باوجود امریکا کی جانب سے ان کی مکمل آبادکاری ممکن نہیں ہو سکی۔ اس صورتحال کے باعث پاکستان نے افغان شہریوں کو واپس ان کے ملک بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے۔

    ذرائع کے مطابق وفاقی وزارت داخلہ نے افغان شہریوں کی واپسی کے حوالے سے صوبوں کو آگاہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے اس سلسلے میں تمام صوبائی چیف سیکریٹریز، پولیس سربراہان، آزاد کشمیر، گلگت بلتستان اور اسلام آباد انتظامیہ کو باقاعدہ خطوط ارسال کیے جانے کا امکان ہے۔

    یاد رہے کہ پاکستان پہلے بھی غیر قانونی مقیم غیر ملکیوں خصوصاً افغان شہریوں کی واپسی کا عمل شروع کر چکا ہے، اور ماضی میں بڑی تعداد میں افغان شہریوں کو ملک چھوڑنے کی ہدایات دی گئی تھیں پاکستان نے اس سے قبل مغربی ممالک، خصوصاً امریکا، پر زور دیا تھا کہ وہ ان افغان شہریوں کی بروقت آبادکاری یقینی بنائیں، بصورت دیگر انہیں واپس بھیجنے کا فیصلہ کیا جا سکتا ہے۔

    واضح رہے کہ افغانستان میں طالبان حکومت آنے کے بعد بڑی تعداد میں افغان شہری پاکستان منتقل ہوئے تھے، جن میں وہ افراد بھی شامل تھے جنہیں غیر ملکی حکومتوں کے ساتھ کام کرنے کے باعث خطرات لاحق تھے اب کئی سال گزرنے کے باوجود ان کے کیسز مکمل نہ ہونے سے صورتحال پیچیدہ ہو گئی ہے۔

  • ایپسٹین فائلز میں نام، دلائی لامہ کے دفترکا وضاحتی بیان جاری

    ایپسٹین فائلز میں نام، دلائی لامہ کے دفترکا وضاحتی بیان جاری

    بدھ مت کے روحانی پیشوا دلائی لامہ کے دفتر نے واضح کیا ہے کہ دلائی لامہ کی سزا یافتہ جنسی مجرم جیفری ایپسٹین سے کبھی ملاقات نہیں ہوئی۔

    یہ وضاحت اس وقت سامنے آئی جب چینی میڈیا نے دعویٰ کیا کہ امریکی حکومت کی جانب سے جاری کی گئی ایپسٹین فائلز میں دلائی لامہ کا نام شامل ہےامریکی محکمہ انصاف نے گزشتہ ماہ ایپسٹین کیس سے متعلق تین ملین سے زائد دستاویزات، تصاویر اور ویڈیوز جاری کی تھیں۔

    خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق ان فائلز میں دلائی لامہ کا نام 150 سے زائد مرتبہ آیا ہے، تاہم کہیں بھی ان کی ایپسٹین سے ملاقات یا رابطے کا کوئی ثبوت موجود نہیں۔

    دلائی لامہ کے دفتر نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ بعض میڈیا رپورٹس اور سوشل میڈیا پوسٹس دلائی لامہ کو ایپسٹین سے جوڑنے کی کوشش کر رہی ہیں، جو سراسر غلط ہے دلائی لامہ نے نہ کبھی جیفری ایپسٹین سے ملاقات کی اور نہ ہی کسی کو ان کی جانب سے ایسی کسی ملاقات کی اجازت دی۔

    چینی سرکاری نشریاتی ادارے سی جی ٹی این نے دعویٰ کیا تھا کہ ایپسٹین فائلز میں ایک ای میل کا ذکر ہے جس میں ایک نامعلوم شخص نے کسی تقریب میں دلائی لامہ کو دیکھنے کی بات کی تھی تاہم اے ایف پی کے مطابق اس ای میل میں بھی دلائی لامہ اور ایپسٹین کی براہِ راست ملاقات کا کوئی ذکر نہیں۔

    واضح رہے کہ ایپسٹین کو 2008 میں نابالغ لڑکی سے جسم فروشی کے جرم میں سزا سنائی گئی تھی، جبکہ 2019 میں وہ جنسی اسمگلنگ کے مقدمے کا سامنا کرتے ہوئے جیل میں ہلاک ہو گیا تھا حالیہ فائلز کے اجرا کے بعد کئی عالمی شخصیات کے نام سامنے آئے ہیں، تاہم صرف نام کا ذکر کسی بھی فرد کے خلا ف الزام یا جرم کا ثبوت نہیں سمجھا جاتا۔