Baaghi TV

Author: Ayesha Rehmani

  • چیف جسٹس سمیت تینوں ججوں کے خلاف ریفرنس زیر غور ہے،وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ

    چیف جسٹس سمیت تینوں ججوں کے خلاف ریفرنس زیر غور ہے،وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ

    وفاقی وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ نے کہا ہے کہ چیف جسٹس سمیت تینوں ججز کے خلاف ریفرنس دائر کرنے کا معاملہ زیر غور ہے-

    باغی ٹی وی : برطانوی خبررساں ادارے انڈیپینڈنٹ اردو کو انٹرویو میں رانا ثنا اللہ کا کہنا تھا کہ چیف جسٹس سمیت تینوں ججز کے خلاف ریفرنس دائر کرنے کا معاملہ زیر غور ہے، ریفرنس دائر کرنے کا ابھی فیصلہ نہیں ہوا لیکن تینوں ججز کے خلاف ریفرنس دائر کرنے کا فیصلہ ہوسکتا ہے۔

    چند ججز عمران خان کوریلیف دینا چاہتے ہیں،مولانا فضل الرحمان

    رانا ثنا اللہ نے کہا کہ تینوں ججز کا ایک کافی لمبا ریکارڈ ہے کہ انہوں نے ایسے فیصلے دیئے جو ن لیگ کے خلاف تھے،جو انہوں نے فیصلے دیئے ان میں ایک فیصلہ ایسا بھی ہے جسے صرف مسلم لیگ ن ہی غلط نہیں کہتی، بلکہ اس فیصلے کو ہر وہ شخص جو قانون کو تھوڑا بہت جانتا ہے آئین ری رائٹ کرنے کے مترادف قراردیتا ہے اور وہ فیصلہ 63 اے کے متعلق ہے جس کے تحت پنجاب میں ن لیگ کی حکومت ختم کی گئی۔


    وزیرداخلہ کا کہنا تھ اکہ اب بھی بظاہر ایسے معلوم ہورہا ہے تینوں جج صاحبان ہر قیمت پر اس فیصلے کو خودکرنے پر بضد ہیں 9 رکنی بینچ بنا پھر 7 کا رہ گیا، پھر5 کا ، پھر 4 کا رہ گیا اور اب 3 کا ہے، تینوں ججز نے فل کورٹ کی استدعا مسترد کردی ہے-

    نوجوت سنگھ سدھو جیل سے رہا ہو گئے

    ابہوں نے کہا کہ تینوں ججز نے اپنے ساتھی اکثریتی ججز کی بات بھی تسلیم کرنے سے انکار کردیا ہے، ہمارے پاس اس کے سوا کوئی اور صورت بچتی ہی نہیں ہے کہ ہم اپنا احتجاج نوٹ کرائیں۔

    واضح رہے کہ سپریم کورٹ میں پنجاب اور خیبرپختونخوا کے انتخابات کی تاریخ کے ازخود نوٹس پر 3 رکنی بینچ سماعت کررہا ہے جس کی سربراہی چیف جسٹس عمر عطا بندیال کر رہے ہیں اس کے علاوہ بینچ میں جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس منیب اختر شامل ہیں۔

    وفاق نےقاضی فائز عیسیٰ کیخلاف دائردرخواست واپس لینےکیلئےمتفرق درخواست دائرکردی

  • مہنگائی میں مزید اضافے کا عندیہ

    مہنگائی میں مزید اضافے کا عندیہ

    حکومت نے ملک میں جاری مہنگائی میں مزید اضافے کا عندیہ دے دیا۔

    باغی ٹی وی: وزارت خزانہ کی جانب سے جاری ماہانہ اقتصادی جائزے میں کہا گیا ہے کہ مہنگائی کے اس دوسرے دور میں افراط زر میں اضافے کا امکان ہے جس کا اہم ایک سبب سیاسی عدم استحکام اور معیشت کی غیر یقینی صورت حال ہے، جن کی وجہ سے افراط زر کی شرح بڑھتی جارہی ہے۔

    مارچ میں مہنگائی 3.72 فیصد بڑھی،ادارہ شماریات

    ماہانہ اقتصادی جائزے میں کہا گیا کہ مہنگائی کا تعین کرنے والے قیمتوں کے ایس پی آئی گزشتہ ہفتے 46 اعشاریہ 65 فیصد کی بلند ترین شرح پر پہنچ گئے، جب کہ کنزیومر پرائس انڈیکس کے مطابق فروری میں 31 اعشاریہ 6 فیصد تک پہنچ گئی جو کہ چھ دہائیوں میں ہونے والا سب سے زیادہ اضافہ ہے۔

    تاہم جمعہ کو جاری ہونے والی قیمتوں کے حساس اشاریے ( ایس پی آئی) میں تھوڑی کمی دیکھی گئی اور یہ 45 اعشاریہ 36 فیصد تک آگئی، جبکہ مارچ کی ریڈنگ کا اجراء جلد متوقع ہے۔

    مسلم لیگ ن کے رہنما نذر گوندل نے پیپلز پارٹی میں شمولیت اختیار کر لی

    دوسری جانب ادارہ شماریات نے ملک میں مہنگائی کے ماہانہ اعداد و شمار جاری کردیئے،ادارہ شماریات کے مطابق مہنگائی کی مجموعی شرح 35.37 فیصد تک پہنچ گئی ہے، رواں مالی سال کے 9 ماہ میں مہنگائی 27.26 فیصد ریکارڈ کی گئی ،مارچ کے مہینے میں مہنگائی 3.72 فیصد بڑھی، گزشتہ مالی سال مارچ میں مہنگائی 12.7 فیصد تھی. رواں سال مارچ میں شہروں میں مہنگائی 3.9 فیصد بڑھی، شہروں میں مہنگائی کی مجموعی شرح 33 فیصد تک پہنچ گئی ہے جبکہ مارچ میں دیہی علاقوں میں مہنگائی 3.5 فیصدبڑھی اور دیہی علاقوں میں مہنگائی 38.9 فیصد تک پہنچ گئی ہے-

    چند ججز عمران خان کوریلیف دینا چاہتے ہیں،مولانا فضل الرحمان

  • مسلم لیگ ن کے رہنما نذر گوندل نے پیپلز پارٹی میں شمولیت اختیار کر لی

    مسلم لیگ ن کے رہنما نذر گوندل نے پیپلز پارٹی میں شمولیت اختیار کر لی

    مسلم لیگ ن کے رہنما اور سابق رکن پنجاب اسمبلی نذر گوندل نے پارٹی کو خیر باد کہہ دیا-

    باغی ٹی وی : جہلم کی ممتاز سیاسی شخصیت نذر گوندل نے پیپلز پارٹی میں شمولیت کا اعلان کردیا سابق ن لیگی رہنما نے بلاول ہاؤس میں چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو اورسابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی سے ملاقات کی،بلاول بھٹو زرداری نے نذر گوندل اور تمام شخصیات کو خاش آمدید کہا-

    عمران خان نے پیمرا کے خلاف توہین عدالت کی درخواست دائر کر دی

    ملاقات کے دوران ملکی سیاسی صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا نذر گوندل کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی کے نظریات اور منشور سے مطمئن ہوں۔ اگلا الیکشن پیپلز پارٹی کے پلیٹ فارم سے لڑوں گا پچھلے الیکشن میں فواد چوہدری کی سپورٹ کی تھی ، پارٹی میں شمولیت اختیار نہیں کی تھی –

    منصوررانا نے پاکستانی شاہینز کےساتھ زمبابوےجانےسےمعذرت کرلی

    ملاقات کے دوران نذر گوندل کے ہمراہ،چوہدری اصغر گوندل،بلال نذر گوندل،تصور عباس پھپھرا اور پیر حمزہ کرامانی بھی موجود تھے انہوں نے بھی پورے گروپ کے ہمراہ پی پی میں شمولیت اختیار کی-

    چند ججز عمران خان کوریلیف دینا چاہتے ہیں،مولانا فضل الرحمان

  • عمران خان نے پیمرا کے خلاف توہین عدالت کی درخواست دائر کر دی

    عمران خان نے پیمرا کے خلاف توہین عدالت کی درخواست دائر کر دی

    لاہور: تحریک انصاف کے چیئرمین اور سابق وزیراعظم عمران خان نے لاہور ہائی کورٹ میں پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی (پیمرا) کیخلاف توہین عدالت کی درخواست دائر کردی ہے۔

    باغی ٹی وی: سابق وزیراعظم کی جانب سے دائر درخواست میں چیئرمین پیمرا کو فریق بنایا گیا ہے،لاہور ہائیکورٹ کی جانب سے پیمرا کی پابندی کا نوٹیفکیشن معطل کر رکھا ہے نوٹیفکیشن معطلی کے باوجود ٹی وی چینلز پر نشر نہ کرنا بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے-

    چند ججز عمران خان کوریلیف دینا چاہتے ہیں،مولانا فضل الرحمان

    چئیرمین پی ٹی آئی کی جانب سے دائر کی گئی درخواست میں موقف اختیار کیا گیا کہ ٹی وی چینلز پرعمران خان کی تقاریر نشر نہ کرنے کیلئے دباؤڈالا جارہا ہے پیمرا کی جانب سے عدالتی حکم کی خلاف ورزی کی جا رہی ہے۔

    درخواست میں عدالت سے استدعا کی گئی کہ چیئرمین پیمرا کو ذاتی حیثیت میں طلب کرے اور چیئرمین پیمرا کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی عمل میں لائے۔

    وفاق نےقاضی فائز عیسیٰ کیخلاف دائردرخواست واپس لینےکیلئےمتفرق درخواست دائرکردی

    یاد رہےکہ پیمرا نےتمام ٹی وی چینلز پرچیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی تقاریربراہ راست نشر کرنے پر پابندی عائد کردی تھی نوٹیفکیشن میں کہا گیا تھا کہ ’عمران خان کی تقریر پر پابندی پیمرا آرڈیننس 2002 کے سیکشن 27 کے تحت لگائی گئی ہے-

  • وفاق نےقاضی فائز عیسیٰ کیخلاف دائردرخواست واپس لینےکیلئےمتفرق درخواست دائرکردی

    وفاق نےقاضی فائز عیسیٰ کیخلاف دائردرخواست واپس لینےکیلئےمتفرق درخواست دائرکردی

    اسلام آباد : وفاقی حکومت نے سپریم کورٹ کے سینئیر جج جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف دائر درخواست واپس لینے کیلئے سپریم کورٹ میں متفرق در خواست دائر کردی۔

    باغی ٹی وی : وفاقی حکومت کی جانب سے درخواست اے او آر نے دائر کی جس میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ حکومت جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف دائر کیوریٹو درخواست کی پیروی نہیں کرنا چاہتی اس لیے حکومت سپریم کورٹ میں دائیر کیوریٹو ریویو واپس لے رہی ہے-

    اغوا برائے تاوان کی واردات طالبعلم قتل،پولیس مقابلےمیں ساتھیوں کی فائرنگ سےبچےکا ٹیچر ہلاک

    وفاقی حکومتی جانب سے دائر درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ عدالت کیس واپس لینے کی اجازت دے۔

    یاد رہے کہ وزیراعظم شہباز شریف نے سپریم کورٹ کے سینیئر جج جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف کیوریٹو ریویو ریفرنس واپس لینےکاحکم دیا تھا وزیراعظم نے وزیر قانون سینیٹر اعظم نذیر تارڑ کو جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف کیوریٹیو ریویو ریفرنس واپس لینے کی ہدایت کی تھی-

    حکومت کا مؤقف ہے کہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف کیوریٹو ریویو ریفرنس کمزور اور بے بنیاد وجوہات پر دائر کیا گیا تھا لہٰذا حکومت نے اس کی پیروی نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے، وزیراعظم کی زیر صدارت کابینہ پہلے ہی اس فیصلے کی منظوری دے چکی ہے۔

    چند ججز عمران خان کوریلیف دینا چاہتے ہیں،مولانا فضل الرحمان

    اس حوالے سے وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا تھا کہ ریفرنس کے نام پر جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور ان کے اہل خانہ کو ہراساں اور بدنام کیاگیا یہ ریفرنس نہیں تھاآئین اور قانون کی راہ پر چلنےوالےایک منصف مزاج جج کےخلاف ایک منتقم مزاج شخص عمران خان کی انتقامی کارروائی تھی یہ ریفرنس عدلیہ کی آزادی پرشب خون اوراسےتقسیم کرنےکی مذموم سازش تھی، پاکستان مسلم لیگ (ن) اوراتحادی جماعتوں نے اپوزیشن کے دور میں بھی اس جھوٹے ریفرنس کی مذمت کی تھی-

    شہباز شریف نے کہا تھا کہ عمران خان نے صدر کے آئینی منصب کا اس مجرمانہ فعل کے لیے ناجائز استعمال کیا، صدر عارف علوی عدلیہ پر حملے کے جرم میں آلہ کار اور ایک جھوٹ کے حصہ دار بنے، پاکستان بار کونسل سمیت وکلا تنظیموں نے بھی اس کی مخالفت کی تھی، ہم ان کی رائے کی قدر کرتے ہیں-

    منصوررانا نے پاکستانی شاہینز کےساتھ زمبابوےجانےسےمعذرت کرلی

    واضح رہے کہ عمران خان دور حکومت میں پہلے جسٹس قاضی فائزعیسیٰ کو ہٹانے کیلئے ان کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں ریفرنس دائر کیا گیا تھا سپریم کورٹ کے سینئر ترین ججز میں سے ایک جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف صدارتی ریفرنس کا معاملہ مئی 2019 کے اواخر میں سامنے آیامئی 2019 سے جون 2020 تک یہ معاملہ تقریباً 13 ماہ تک چلا، جہاں سپریم کورٹ میں اس کیس کی 40 سے زیادہ سماعتیں ہوئیں۔

    سپریم جوڈیشل کونسل میں صدر مملکت کیجانب سے بھجوائے گئے ریفرنس میں جسٹس فائزعیسیٰ پریہ الزام لگایا گیا تھاکہ انہوں نے برطانیہ میں اپنی ان جائیدادوں کوچھپایا جو مبینہ طور پر ان کی بیوی اور بچوں کےنام ہیں صدارتی ریفرنس میں اثاثوں کےحوالے سے مبینہ الزامات عائد کرتے ہوئے سپریم جوڈیشل کونسل سے آرٹیکل 209 کے تحت کارروائی کی استدعا کی گئی تھی۔

    رواں سال پاؤنڈ کی قدر میں اضافہ، بینک آف انگلینڈ کیجانب سے شرح سود میں …

    تاہم 7 اگست 2019 کو جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے اپنے خلاف صدارتی ریفرنس کو ذاتی طور پر عدالت عظمیٰ میں چیلنج کردیا تھا جس پر پہلے سپریم کورٹ نے ایف بی آر کو تحقیقات کر کے رپورٹ جمع کروانے کا حکم دیا تھا۔

    جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور بارز نے اس فیصلے کے خلاف نظر ثانی دائر کی اور نظرثانی درخواستوں میں اکثریتی فیصلے کے ذریعے ساری کارروائی کو ختم کردیا گیا تھا تاہم جس کے بعد دوبارہ اُس وقت کی حکومت نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف کیوریٹو ریویو کے نام سے درخواست دائر کردی تھی جسے اب حکومت نے واپس لینے کا فیصلہ کیا ہے۔

    مارچ میں مہنگائی 3.72 فیصد بڑھی،ادارہ شماریات

  • چند ججز عمران خان کوریلیف دینا چاہتے ہیں،مولانا فضل الرحمان

    چند ججز عمران خان کوریلیف دینا چاہتے ہیں،مولانا فضل الرحمان

    اسلام آباد: حکومت میں شامل جماعتوں کے اہم مشاورتی اجلاس میں اہم فیصلے کر لئے-

    باغی ٹی وی: حکمران جماعتوں نے چیف جسٹس کی سربراہی میں سپریم کورٹ کا تین رکنی بینچ پر عدم اعتماد کا اظہار کر دیا ،حکمران جماعتوں نے اعلامیے میں کہا کہ تین رکنی بینچ پر اعتماد نہیں ہے، سپریم کورٹ کا لارجر بینچ پہلے ہی کا تین کے مقابلے چار ججوں کی اکثریت سے انتخابی درخواستیں خارج کرچکا ہے –

    اغوا برائے تاوان کی واردات طالبعلم قتل،پولیس مقابلےمیں ساتھیوں کی فائرنگ سےبچےکا ٹیچر ہلاک

    اعلامیے میں کہا کہ چیف جسٹس اکثریتی پر اقلیتی فیصلہ مسلط کرنا چاہتے ہیں پاکستان بار کونسل اور دیگر بار ایسوسی ایشنز کی آرٹیکل 209 کے تحت دائر ریفرنسز پر کارروائی کی جائےجسٹس فائز عیسیٰ کی سربراہی میں بینچ نے 184 (3 ) کے تحت زیر سماعت مقدمات پر کارروائی سے روکنے کا کہا ہے-

    حکمران جماعتوں نے اعلامیے میں کہا کہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ بینچ کے فیصلےکا احترام کرنا بھی سب پرلازم ہےجسٹس اعجازالا حسن کا دوبارہ تین رکنی بینچ میں شامل ہونا غیر منصفانہ ہے یہ عمل سپریم کورٹ کے طریقہ کار اور نظائر کی بھی صریح خلا ف ورزی ہے-

    رواں سال پاؤنڈ کی قدر میں اضافہ، بینک آف انگلینڈ کیجانب سے شرح سود میں …

    اعلامیے میں کہا گیا کہ سیاستدانوں سے کہاجارہا ہے کہ وہ مل کر بیٹھیں لیکن سپریم کورٹ خود تقسیم ہے ان حالات کا تقاضا ہے کہ چیف جسٹس پاکستان اور تین رکنی بینچ کے دیگر جج صاحبان مقدمے سے دستبردار ہوجائیں اجلاس کا پارلیمنٹ کی حالیہ قانون سازی کی بھرپور تائید اور حمایت کا اعلان کیا-

    حکمران جماعتوں نے کہا کہ قانون سازی سے عوام الناس کے ساتھ یک طرفہ انصاف کی روش کا خاتمہ ہوگاپارلیمنٹ نے قانون سازی کے ذریعے آرٹیکل 184 (3) سے متعلق اپنی رائے واضح کردی ہےپارلیمنٹ بالا دست ہے جس کی رائے کا سب کو احترام کرنا چاہیے ا مید ہے کہ صدر قانون سازی کی راہ میں جماعتی وابستگی کی بنیاد پر رکاوٹ نہیں بنیں گے-

    اجلاس میں حکمران جماعتوں نے مطالبہ کیا کہ پاکستان تحریک انصاف کے معاملے میں خصوصی امتیازی رویے کے تاثر کو چیف جسٹس ختم کریں-

    حکمران اتحاد کا تین رکنی بنچ کے بائیکاٹ کا فیصلہ

    دوسری جانب پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) و جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے حکومتی اتحادیوں کے اہم اجلاس کے بعد پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ چیف جسٹس اقلیت کےفیصلے کو اکثریت کے فیصلے پر مسلط کرنا چاہتے ہیں، 3ججزپرمشتمل بنچ پراعتماد نہیں، اخلاقی طورپرچیف جسٹس اور دیگر دو ججز کو اس کیس سے الگ ہوجانا چاہیے۔

    انہوں نے کہا کہ عمران خان اداروں میں تقسیم چاہتے ہیں، دھاندلی کے دوبڑے مجرم دندناتے پھررہے ہیں ان کے خلاف ازخودنوٹس نہیں لیا جارہا چند ججز عمران خان کوریلیف دینا چاہتے ہیں، پی ڈی ایم کو ان تین ججزپرمشتمل بینچ پراعتماد نہیں، اس بینچ میں ایسا جج بھی ہے جس نے پہلے سماعت سے معذرت کی پھر واپس آ کر بیٹھ گیا، ہماری نظر میں سپریم کورٹ کا یہ تین بینچ دو صوبوں کے کیس میں واضح طور پر فریق کا کردار ادا کر رہا ہے۔

    رواں سال پاؤنڈ کی قدر میں اضافہ، بینک آف انگلینڈ کیجانب سے شرح سود میں اضافہ متوقع

    فضل الرحمان کا کہنا تھاکہ ملک کو ایک رکھنے کےلیے ایک الیکشن ہونا ضروری ہے، چیف جسٹس ہمیں نصیحت کررہے ہیں کہ مل بیٹھ کر طے کریں، ہمیں تو مل بیٹھنے کی تلقین کر رہے ہیں اور خود اپنی کورٹ کو تقسیم کردیا۔

  • نوجوت سنگھ سدھو جیل سے رہا ہو گئے

    نوجوت سنگھ سدھو جیل سے رہا ہو گئے

    بھارت کی اپوزیشن جماعت کانگریس کے پنجاب کے رہنما و سابق کرکٹر نوجوت سنگھ سدھو کوجیل سے رہا کردیا گیا۔

    باغی ٹی وی: بھارتی سپریم کورٹ نے گزشتہ برس سدھو کو 34 برس پرانے روڈ ایکسیڈینٹ کے کیس میں ایک برس جیل کی سزا سنائی تھی اس حادثے میں ایک شخص ہلاک ہوا تھا سدھو 10 ماہ سے پٹیالہ کی جیل میں قید تھے تاہم انہیں سزا پوری ہونے سے 2 ماہ قبل ہی آج رہا کردیا گیا۔

    رواں سال پاؤنڈ کی قدر میں اضافہ، بینک آف انگلینڈ کیجانب سے شرح سود میں …


    جیل حکام نے بتایا کہ سدھوکی دو ماہ قبل رہائی جیل میں اچھے برتاؤ کے باعث عمل میں آئی رہائی پر کانگریس کے کارکنوں نے دھول کی تھاپ پر جیل کے باہر رہنما کا استقبال کیا۔

    واضح رہے کہ بھارتی میڈیا کے مطابق نوجوت سنگھ سدھو کو 1988 کے روڈ ریج کیس میں سپریم کورٹ نے ایک سال قید کی سزا سنائی تھی روڈ ریج مقدمے میں یہ الزام شامل تھا کہ 27 دسمبر 1988 کو سدھو نے گرنام سنگھ کے سر پر مکّا مارا تھا جس سے ان کی موت ہوئی تھی۔

    پولیس کی طرف قتل قراردی گئی لڑکی 9 سال بعد زندہ لوٹ آئی،قتل کے الزام …

    رپورٹس کے مطابق گزشتہ سال مئی میں نوجوت سنگھ سدھو کوایک سال قید کی سزا سنائی گئی تھی بھارتی سپریم کورٹ نےسدھو پر 1000روپے جرمانہ عائد کر کے انہیں رہا کردیا تھا تاہم اس حوالے سے ہلاک ہونے والے شخص کے خاندان نے نظرثانی درخواست دائر کی تھی جس میں ان کو سزا سنائی گئی تھی۔

    ٹوئٹر میں کمپنیوں سے منسلک اکاؤنٹس کو ویری فائیڈ کرنے کا فیچر متعارف کروا دیا …

  • اغوا برائے تاوان کی واردات طالبعلم قتل،پولیس مقابلےمیں ساتھیوں کی فائرنگ سےبچےکا ٹیچر ہلاک

    اغوا برائے تاوان کی واردات طالبعلم قتل،پولیس مقابلےمیں ساتھیوں کی فائرنگ سےبچےکا ٹیچر ہلاک

    راولپنڈی میں تھانہ نصیر آباد کے علاقے میں اغوا برائے تاوان کی واردات میں نویں جماعت کے طالب علم کو قتل کردیا گیا-

    باغی ٹی وی: پولیس کے مطابق گزشتہ روز نویں جماعت کے طالب علم مجتبیٰ شمیم کو نامعلوم اغوا کاروں نے اغوا کیا اور 10 لاکھ روپے تاوان کا مطالبہ کیا، ملزم بچے کے باپ کو واٹس ایپ سے بچے کی ویڈیو بھیج کر تاوان طلب کرتے رہے۔

    لاہور میں گولیاں چل گئیں، سابق ایس پی کی ہوئی موت

    پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے مرکزی ملزم محمد عمر کو گرفتار کیا جس کی نشاندہی پر اغوا کاروں کے ٹھکانے پر کارروائی کی گی، اغواکار کے ساتھیوں نے پولیس کو دیکھتے ہی فائرنگ شروع کردی اور فائرنگ کے دوران مرکزی ملزم محمد عمراپنے ہی ساتھیوں گولیاں لگنے سے مارا گیا جبکہ ملزمان فرار ہوگئے ملزم محمد عمر بچے کو ٹیوشن پڑھاتا تھا-

    دہشگرد کی فائرنگ سے شہید ہونے والے سی ٹی ڈی اہلکار کی نماز جنازہ …

    پولیس نے ٹھکانے کی تلاشی لی تو 13 سالہ بچے کی لاش برآمد ہوئی، ابتدائی تفتیش کے مطابق بچے کو گلا دبا کر قتل کیا گیا، پولیس نے بچے کی لاش پوسٹ مارٹم کے لیے ہسپتال منتقل کردی۔

  • منصوررانا نے پاکستانی شاہینز کےساتھ زمبابوےجانےسےمعذرت کرلی

    منصوررانا نے پاکستانی شاہینز کےساتھ زمبابوےجانےسےمعذرت کرلی

    لاہور : پاکستان کرکٹ ٹیم کے منیجر منصور رانا نے پاکستانی شاہینز کے ساتھ کام کرنے سے معذرت کر لی۔

    باغی ٹی وی: ذرائع کا کہنا ہے کہ منصور رانا کو پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے شاہینز کے ساتھ زمبابوے جانے کی پیشکش تھی لیکن انہوں نے معذرت کرلی،اب پاکستان شاہینز کی منیجمنٹ کا اعلان آئندہ ہفتے متوقع ہے۔

    بابر اعظم کا نام بھارتی نصابی کتاب میں شامل

    61 سالہ منصور رانا لاہور قلندرز ہائی پرفارمنس سینٹر کے ڈائریکٹر بھی ہیں حال ہی میں انہوں نے افغانستان کےخلاف سیریز میں بھی بطور مینیجر خدمات انجام دی تھیں۔پی سی بی نے منیجر کے عہدے کیلئے اشتہار دے رکھا ہے-

    پی سی بی کامورنے مورکل،مکی آرتھر اوراینڈریو پٹک کی خدمات حاصل کرنے کا فیصلہ

    پی سی بی قومی ٹیم کے منیجر کیلئے ریحان الحق کی خدمات حاصل کر رہا ہے، منصور رانا کو پی سی بی نے پاکستان شاہینز کا منیجر بنانے کا فیصلہ کیا تھا پاکستان شاہینز ٹیم نےزمبابوے کا دورہ کرنا ہے جہاں اس نے تین ٹی ٹوئنٹی اور تین ایک روزہ میچز کھیلنا ہیں۔

    ورلڈ کپ 2023 : پاک بھارت میچز بنگلادیش میں ہونے کا امکان

  • 10رمضان المبارک ام المومنین سیدہ خدیجۃ الکبریٰ کا یوم وصال

    10رمضان المبارک ام المومنین سیدہ خدیجۃ الکبریٰ کا یوم وصال

    سیدہ خدیجۃ الکبریٰ 10رمضان المبارک

    رمضان المبارک کے اہم واقعات میں سے ایک واقعہ سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنھا کے وصال کا ہے۔

    ابتدائیہ: والد کا نام خویلد، والدہ کا نام فاطمہ بنت زاہدہ اور لقب طاہرہ، پہلا نکاح ابو ہالہ بن زرارہ تمیمی جس سے دو لڑکے ہند اور حارث پیدا ہوئے اور دوسرا نکاح ابو ہالہ کی وفات کے بعد عتیق بن عابد مخزومی سے لیکن وہ بھی وفات پا گئے۔ سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنھا سمجھدار، امیر، ہر خوبی کی مالک اور اچھے فیصلے کرنے والی تھیں، اسلئے اُن کا سب سے”اچھا“ فیصلہ حضور ﷺ سے نکاح کرنا تھا۔

    نکاح کی وجوہات: حضرت خدیجہ حضور ﷺ کی امانت و دیانت سے بے حد متاثر، غلام میسرہ کے ساتھ دُگنے معاوضے پر شام کے علاقے میں اپنا تجارتی سامان بیچنے کی پیشکش، غلام میسرہ سفر میں حضور ﷺ کے کردار سے متاثر کیونکہ حضور ﷺ پر بادلوں کا سایہ کرنا، شام میں راہب پادری نسطورا کا علامات نبوت سے حضور ﷺ کو پہچاننا، حضرت خدیجہ رضی اللہ عنھا نے غلام میسرہ سے سفر کے حالات پر بہت کچھ سُنا، حضور ﷺ کے ساتھ فرشتوں کو بھی دیکھا، ایک خواب دیکھا جس کی تعبیر چچا زاد بھائی ورقہ بن نوفل نے یہ بتائی کہ تم سے آخری نبی کا نکاح ہو گا۔

    نکاح: حضرت خدیجہ نے حضور ﷺ کو اپنی سہیلی نفیسہ بنت منیہ کے ذریعے نکاح کا پیغام دیا جو حضور ﷺ نے قبول کیا۔ نکاح کا خطبات چچا ابو طالب، ورقہ بن نوفل اور حضرت خدیجہ کے چچا عمرو بن اسد نے پڑھے اورایک اونٹ ذبح کر کے مہمانوں کو کھانا کھلایا گیا۔ حضرت خدیجہ امیر مگر امانت دار اور حضور ﷺ ظاہری طور پر غریب مگر امانت دار اور اللہ کریم کا فیصلہ ہمیشہ امانت داروں کے متعلق اچھا ہوتا ہے۔

    ریکارڈ: نکاح 25 سال کی عمر میں اور پہلی وحی 40 سال کی عمر میں، 25 سے 40 سال کے درمیان حضور ﷺ کی اولاد بھی پیدا ہوئی، البتہ کیسے بچوں کوپالا سنبھالا، بیٹیاں حضرت زینب، ام کلثوم اور رقیہ رضی اللہ عنھم کے نکاح کیسے کئے، کون کون شامل ہوا، کچھ ریکارڈ نہیں ملتا سوائے یہ کہ آپ ﷺ غارِ حرا جاتے اور پیاری ”بیوی“ حضورﷺ کو ستو (کھانا) باندھ دیتی یا کھانا دینے جاتی۔

    تصدیق: حضرت جبرائیل علیہ اسلام سے پہلی ملاقات، دل مضطرب کے ساتھ گھر تشریف لاکر فرمایا مجھے چادر اوڑھا دو، پیاری بیوی کوسارا واقعہ وحی کا بتایا تو پیاری بیوی جو پہلے کچھ نشانیاں دیکھ چُکی تھیں اور نکاح کے 15 سالوں کے دوران حضور ﷺ کوجو کرتے دیکھا تو اُس کی تصدیق اسطرح کی ”آپ ﷺ کو اللہ کریم کبھی رسوا نہیں کرے گا کیونکہ آپ صلہ رحمی کرتے، کمزوروں کا بوجھ اُٹھاتے، محتاجوں کے لئے کماتے، مہمان کی ضیافت کرتے اور راہ حق میں مصائب برداشت کرتے ہیں۔

    ساتھی: پیاری سمجھدار بیوی نے مزید یہ کیا کہ حضور ﷺ کو چچا زاد بھائی ورقہ بن نوفل کے پاس لے گئیں جو نصرانی تھے، عبرانی زبان میں انجیل لکھا کرتے۔ حضور ﷺ کا واقعہ سُننے کے بعد کہنے لگے: یہ وہی فرشتہ ہے جسے اللہ کریم نے حضرت موسی علیہ السلام پر اُتارا تھا، اے کاش میں اُس وقت زندہ ہوتا جب کہ آپ کی قوم آپ کو نکالے گی۔

    سکون: حضور ﷺ، حضرت خدیجہ اور حضرت علی نماز ادا کرتے اور ایک دفعہ کسی نے دیکھا تو چچا عباس پاس تھے، اُن سے پوچھا یہ کون ہیں؟ انہوں نے فرمایا کہ یہ میرا بھتیجا ہے جو کہتا ہے کہ اللہ کریم وحدہ لا شریک ہے۔ نبوت کے تین سال بعد اللہ کریم نے فرمایا ”اپنے رشتے داروں اور قرابت داروں کو ڈر سناؤ“ جس پر حضور ﷺ نے فاران کی چوٹیوں پر رشتے داروں کو لا الہ الا اللہ کی دعوت دی۔

    سوشل بائیکاٹ: اس کے بعد حضرت خدیجہ کے گھر اور گھرانے پر قیامت ٹوٹ پڑی، حضور ﷺ کے راستے میں کانٹے بچھائے جاتے، گھر میں گندگی پھینکی جاتی، آپ ﷺ کو جھوٹا (نعوذ باللہ) کہا جاتا حتی کہ 43 سال کی عمر کے بعد کے 7 سال میں سے آخر والے تین سال تو بنو ہاشم کا سوشل بائیکاٹ کر کے شِعبِ ابی طالب میں قید کر دیا گیا مگر کیا خوبصورت صبر ہے کہ حضرت خدیجہ اور کسی بچے کی دنیاوی حاجت یا بھوک پیاس رہنے پر چیخنے کا ایک واقعہ نہیں ملتا۔

    ہمت: سوشل بائیکاٹ کے دوران حضرت حکیم بن حزام اپنی پھوپھی حضرت خدیجہ کے لئے گیہوں لائے، راستے میں ابوجہل سے بحث، ابوالبختری بن ہاشم کا وہاں آنا، ابو جہل کو سمجھانا مگر اس کا نہ ماننا تو ابوالبختری نے اونٹ کے جبڑے کی ہڈی سے ابو جہل کا سر زخمی کر دیا۔ ابو البختری اور حضرت حکیم بن حزام دونوں حضرت خدیجہ رضی اللہ عنھا کے بھتیجے تھے۔

    سلام: ایک دفعہ حضرت خدیجہ رضی اللہ عنھا حضور ﷺ کے لئے کھانا لے کر آ رہی تھیں تو حضرت جبرائیل علیہ السلام نے عرض کی کہ یا رسول اللہ ﷺ! جب آپ کے پاس پہنچیں تو ان کو اللہ کریم کا اور میرا سلام پیش کریں اور جنت میں خول دار موتی سے بنے ہوئے گھر کی بشارت دیجئے جس میں شور ہے نہ کوئی تکلیف۔ (صحیح بخاری 3820)

    افضل جنتی؛ حضرت خدیجہ رضی اللہ عنھا، آپ کی بیٹی سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنھا، فرعون کی بیوی آسیہ بنت مزاحم اور حضرت عیسی علیہ السلام کی والدہ مریم بنت عمران جنت میں فضیلت والی عورتیں ہیں۔ (مسند احمد 2730)

    نبی کریم ﷺ نے پیر کے روز صبح کے وقت نماز پڑھی، سیدہ خدیجہ نے پیر کے دن اس کے آخری حصے میں نماز پڑھی اور سیدنا علی نے منگل کو نماز پڑھی ( المعجم الکبیر للطبرانی: 945)

    سیدہ عائشہ فرماتی ہیں میں نے رسول اللہ ﷺ کی ازواج میں سے کسی پر اتنی غیرت نہ کی جتنی جناب خدیجہ پر کی، حالانکہ میں نے انہیں نہیں دیکھا تھا لیکن حضور ﷺ سیدہ خدیجہ کا بہت ذکر فرماتے تھے، (صحیح بخاری 3818)

    سیدہ خدیجہ کے ساتھ آپ ﷺ نے 25 سال گزارے، اس ساری مدت میں آپ ﷺ نے کبھی دوسری شادی نہیں کی، سیدہ خدیجہ نے بھی کوئی ایسا کام نہیں کیا جو آپ ﷺ کو نا پسند ہو۔( صحیح مسلم 2436)

    وفات: ام المومنین حضرت سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنھا نبوت کے 10ویں سال جب چچا ابو طالب کو وفات پائے ابھی 3 یا 5 دن ہوئے تھے، 65 سال کی عمر میں 10 رمضان المبارک کو وفات پائی۔ غُسل دیا گیا اور نماز جنازہ کا ابھی حُکم نازل نہیں ہوا تھا، آپ کو مکہ مکرمہ میں واقع حَجُون (جنّتُ المعلیٰ) کے مقام پر دفن کیا گیا۔