Baaghi TV

Author: Ayesha Rehmani

  • عمران خان اور پرویز الہٰی کی نیت ایک دوسرے کے لیے صحیح نہیں،چودھری سالک

    عمران خان اور پرویز الہٰی کی نیت ایک دوسرے کے لیے صحیح نہیں،چودھری سالک

    اسلام آباد: چودھری سالک حسین نے کہا ہے کہ چودھری پرویز الہیٰ نے وزارت اعلیٰ کے لیے خاندان کے 2 ٹکڑے کیے۔

    باغی ٹی وی : رکن قومی اسمبلی چودھری سالک حسین نے نجی خبررساں ادارے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ پنجاب اسمبلی کو بچانے کے لیےہمیں اسٹریٹجی کی ضرورت نہیں کیونکہ پنجاب حکومت خود بھی جانا نہیں چاہتی روزانہ زمان پارک جا کر قائل کیا جا رہا ہے کہ پنجاب اسمبلی کو نہ توڑا جائے۔

    انہوں نے کہا کہ یہی وزارت اعلیٰ کا منصب حاصل کرنے کے لیے ساری تگ و دو کی گئی اور میرا نہیں خیال کہ چودھری پرویز الہٰی اتنی جلدی جائیں گے جبکہ چودھری پرویز الہٰی نہیں چاہیں گے کہ وزارت اعلیٰ ان کے ہاتھ سے چلی جائے پرویزالہٰی آخری وقت تک اسمبلی تحلیل نہ کرنے کے لیے عمران خان کو قائل کریں گے اسمبلی تحلیل کرنے سے پرویز الہٰی اور پی ٹی آئی کا ہی نقصان ہو گا۔

    چودھری سالک حسین نے کہا کہ عمران خان صرف اپنا معاملہ دیکھتے ہیں اور وہ صرف اپنا ہی سوچتے ہیں اور اس وقت بھی عمران خان صرف اپنا ہی سوچ رہے ہیں جبکہ پرویز الہٰی بھی اپنی اسٹریٹجی دیکھ رہےہیں سیاست میں کوئی چیز بھی حتمی نہیں ہوتی-

    چودھری سالک نے کہا کہ عمران خان اور پرویز الہٰی کی نیت ایک دوسرے کے لیے صحیح نہیں ہے جبکہ مونس الہٰی نہیں چاہیں گے کہ عمران خان اور پرویزالہٰی کے درمیان اختلافات ہوں کیونکہ مونس الہٰی اپنا مستقبل عمران خان کے ساتھ دیکھتے ہیں۔ مونس الہٰی نے پرویز الہٰی کو بھی قائل کیا کہ آپ بار بار اپنی تقریروں میں عمران خان کا ذکر کریں اور اپنی تقریروں میں عمران خان کو اپنا قائد بولیں تاکہ عمران خان کو ہمارے اوپر یقین ہو۔

    آل پاکستان انٹربورڈ گرلز والی بال چیمپیئن شپ میں ڈی آئی خان اور لاہور کی ٹیمیں فائنل میں پہنچ گئیں

    انہوں نے کہا کہ توشہ خانہ معاملے کے بعد عمران خان کی مقبولیت میں کمی ہوئی ہے اور اب مزید 2 تحائف ایسے آگئے ہیں جو ڈکلیئر ہی نہیں تھے۔ عمران خان سوشل میڈیا کی حد تک مقبول ضرور ہیں لیکن عمران خان کے صاف شفاف والے بیانیے کو ضرور دھچکا پہنچا ہے۔

    مسلم لیگ ق کے حوالے سے انہوں ںے کہا کہ مسلم لیگ کے آفس میں میٹنگ کال کر کے انہوں نے اوچھی حرکت کی تھی جبکہ اجلاس میں چودھری شجاعت حسین اور طارق بشیر چیمہ کو فارغ کر دیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ ہم 5 سے 6 دنوں میں پارٹی الیکشن کرائیں گے لیکن کیس الیکشن کمیشن کے پاس گیا اور انہوں نے اس کارروائی کو روکا۔

    انہوں نے کہا کہ جنرل باجوہ کے حوالے سے پرویز الہٰی اور عمران خان کا بیانیہ بالکل برعکس ہے اور جنرل باجوہ کی طرف سے مجھے کوئی کال آئی نہ ہی کوئی پیغام لیکن پی ڈی ایم کی طرف جانے کا فیصلہ چودھری شجاعت اور پرویز الہٰی کا ہی تھا۔

    پٔنجاب:یوریا کھاد کی ذخیرہ اندوزی اورزیادہ قیمت پر فروخت کیخلاف کریک ڈاؤن جاری،150 افراد گرفتار

  • بھارتی حکومت چین کیجانب سےجنگ کے خطرے کو نظراندازکرکے سورہی ہے،راہول گاندھی

    بھارتی حکومت چین کیجانب سےجنگ کے خطرے کو نظراندازکرکے سورہی ہے،راہول گاندھی

    بھارتی کانگریس کے رہنما راہول گاندھی نے کہا ہےکہ بھارت چین کی جانب سے جنگ کے خطرات کو نظر انداز کررہا ہے-

    باغی ٹی وی : بھارتی میڈیا کےمطابق بھارت جوڑو یاترا کے موقع پر راہول گاندھی نے حال ہی میں لائن آف ایکچوئل پر بھارتی اورچینی فوج کی جھڑپ کے تناظر میں بات کی۔

    بھارت نے رات کی تاریکی میں اگنی5بیلسٹک میزائل کا تجربہ کردکھایا

    کانگریس رہنما نے کہا کہ بھارت چین کی جانب سے جنگ کے خطرات کو نظر انداز کررہا ہے،ہچین جنگ کی تیاری کررہا ہے اور بھارتی حکومت اس خطرے کو نظر انداز کرکے سورہی ہے۔

    دوسری جانب راہول گاندھی کے بیان پر بھارتی حکمران جماعت بی جے پی نے کانگریس رہنما پر فوج کے حوصلے پست کرنے کا الزام عائد کیا۔

    بی جے پی ترجمان راج یاوردھن سنگھ راٹھور نے کہا کہ راہول گاندھی سمجھتے ہیں کہ چین کے ساتھ قریبی تعلق ہونا چاہیے،انہوں نے بہت زیادہ قربت پیدا کی ہے اور وہ جانتے ہیں کہ چین کیا کرے گا۔

    بی جے پی ترجمان کا کہنا تھا کہ راہول گاندھی نے بھارتی بارڈر فورس پر بات کرتے ہوئے ملک میں ابہام پیدا کرنے کی کوشش کی اور سپاہیوں کے حوصلے پست کیے-

    برطانیہ اور چین کے درمیان سفارتی جنگ تیزہوگئی،چین کی وارننگ ،برطانیہ کا دبنگ جواب

    بی جے پی ترجمان نے نئی دہلی میں ایک نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بھارت اور چین کے درمیان 1962 کی جنگ کا ذکر کیا کہا کہ یہ راہول گاندھی کے دادا نہرو کا بھارت نہیں ہے جنہوں نے سوتے ہوئے 37 ہزار اسکوائر کلو میٹر سے زیادہ علاقہ چین کو دے دیا تھا راہول گاندھی کو نیشنل سکیورٹی پر غیر ضروری بیانات نہیں دینے چاہئیں۔

    راہول گاندھی کے پردادا کی چین سے زمین کھونے کے بعد، راٹھورنےکہا کہ اب وہ محسوس کرتے ہیں کہ چین کے ساتھ قربت ہونی چاہیے، اور انہوں نے چین کے ساتھ اتنی قربت پیدا کر لی ہے کہ وہ جانتے ہیں کہ چین کیا کرے گا۔”

    سونیا گاندھی کی زیرقیادت راجیو گاندھی فاؤنڈیشن کو لے کر کانگریس پر حملہ کرتے ہوئے، راٹھور نے الزام لگایا کہ یہ کمیونسٹ پارٹی آف چائنا کے پے رول پر تھا۔ کانگریس پارٹی نے کمیونسٹ پارٹی آف چائنا کے ساتھ ایک معاہدہ کیا تھا۔

    بی جے پی ترجمان نے دعویٰ کیا کہ مرکز میں کانگریس کی قیادت والی یو پی اے حکومت کے دوران متعدد چینی خلاف ورزیاں ہوئیں۔

    نابینا خاتون نجومی بابا وانگا کی 2023 کیلئے پیش گوئیاں

  • خاتون کے ہاں چار ٹانگوں والی بچی کی پیدائش

    خاتون کے ہاں چار ٹانگوں والی بچی کی پیدائش

    بھارتی خاتون کے ہاں چار ٹانگوں والی بچی کی پیدائش ہوئی ہے-

    باغی ٹی وی : بھارتی میڈیا کے مطابق چار ٹانگوں والی بچی کی پیدائش بھارتی ریاست مدھیہ پردیش کے ضلع گوالیار میں ہی آرتی کمپو نامی خاتون کے گھر ہوئی ہے ڈاکٹروں نے بتایا کہ نومولود صحت مند ہے۔

    3 ماہ سے کوما میں گئی خاتون بچی کو جنم دینے کے بعد ہوش میں آگئی

    بچی کا وزن 2.3 کلوگرام ہے۔ پیدائش کے بعد ڈاکٹروں کی ایک ٹیم نے جیاروگیا ہاسپٹل گروپ گوالیار کے سپرنٹنڈنٹ کے ساتھ مل کر بچے کا معائنہ کیا۔

    ڈاکٹرز کے مطابق جس بچے کی پیدائش کے وقت چار ٹانگیں ہوتی ہیں،اس کی جسمانی خرابی ہوتی ہےکچھ جنین اضافی ہو جاتے ہیں، جسے طبی سائنس کی زبان میں اسچیوپیگس کہتے ہیں۔ جب ایمبریو دو حصوں میں تقسیم ہو جاتا ہے، تو اس بچے کے جسم میں خرابی پیدا ہوتی ہے۔ جسم کی نشوونما دو جگہوں پر ہوتی ہے۔ اس بچی کی کمر کے نیچے والا حصہ دو اضافی ٹانگوں کے ساتھ نشوونما پا چکا ہے لیکن وہ ٹانگیں غیر فعال ہیں۔

    برطانیہ کی 106 سالہ تاریخ میں پہلی بار نرسیں بھی ہڑتال کرکے سڑکوں پر آ گئیں

    ابھی تو شعبہ اطفال کے ڈاکٹر چیک کر رہے ہیں کہ آیا جسم کے کسی حصے میں کوئی اور خرابی تو نہیں ہے۔ معائنے کے بعد اگر وہ صحت مند ہے تو سرجری کے ذریعے ان ٹانگوں کو نکال دیا جائے گا۔ تاکہ وہ نارمل زندگی گزار سکے-

    قبل ازیں رواں مارچ کے شروع میں مدھیہ پردیش کے رتلام میں ایک خاتون نے دو سر، تین بازو اور دو ٹانگوں والے بچے کو جنم دیا اس وقت بچے کا علاج کرنے والے ڈاکٹر نے بتایا تھا کہ یہ جوڑے کا پہلا بچہ ہے، اس سے قبل سونوگرافی رپورٹ میں یہ بات سامنے آئی تھی کہ دو بچے ہیں، یہ ایک نایاب کیس ہے، اس کی زندگی زیادہ لمبی نہیں ہوگی۔بچے کا وزن تقریباً 3 کلو اس کی دو ریڑھ کی ہڈیاں اور ایک معدہ تھا یہ ایک بہت ہی پیچیدہ حالت ہے۔ بچے کی نشونما کی اس بیماری کو Dicephalic Parapagus کہتے ہیں-

    چین اور شمالی کوریا کی دھمکیوں کے پیش نظر جاپان کی دفاعی اورسیکورٹی پالیسی میں بڑی تبدیلی

  • پٔنجاب:یوریا کھاد کی ذخیرہ اندوزی اورزیادہ قیمت پر فروخت کیخلاف کریک ڈاؤن جاری،150 افراد گرفتار

    پٔنجاب:یوریا کھاد کی ذخیرہ اندوزی اورزیادہ قیمت پر فروخت کیخلاف کریک ڈاؤن جاری،150 افراد گرفتار

    محکمہ زراعت پنجاب کی طرف سے یوریا کھاد کی ذخیرہ اندوزی اور زیادہ قیمت پر فروخت کے خلاف کریک ڈاؤن جاری ہے-

    باغی ٹی وی : ترجمان محکمہ زراعت پنجاب کے مطابق اس جر م میں ملوث افراد کے خلاف 439 ایف آئی آرز درج کی گئیں جبکہ یوریا کھاد کی ذخیرہ اندوزی اور بلیک مارکیٹنگ میں ملوث150 افراد کو گرفتار اور5 کروڑ57 لاکھ روپے سے زائد جرمانہ عائد کیا گیا-

    ہتک عزت کیس: عمران خان کا دفاع کا حق ختم کرنے کا فیصلہ درست تھا،لاہور ہائیکورٹ

    ترجمان محکمہ زراعت پنجاب کے مطابق صوبہ پنجاب میں کسی جگہ یوریا کھاد کی کوئی قلت نہیں ہے،صوبہ پنجاب میں ربیع 2022 کے دوران 23 لاکھ 50 ہزار میٹرک ٹن یوریا کھاد کی ضرورت ہے-

    ترجمان کے مطابق کاشتکارصوبہ میں کسی بھی جگہ یوریا کی ذخیرہ اندوزی اور اوور چارجنگ کی صورت میں ملوث افراد کے خلاف شکایات بذریعہ ایس ایم ایس/ واٹس ایپ پرفون نمبر0300-2955539 کر سکتے ہیں۔

    ترجمان پنجاب حکومت نے کہا کہ کسی کو مہنگی کھاد بیچنے کی اجازت نہیں دی جائے گی ، ذخیرہ اندوزوں اور مہنگی کھاد بیچنے والوں کے خلاف کاروائیاں تیز کرنے کے لئے کمشنرز اور ڈپٹی کمشنرز کو ہدایات جاری کر دی گئیں ہیں-

    آج شام عمران خان کی کال پر لبرٹی چوک لاہور میں جلسہ ہوگا،ترجمان پنجاب حکومت

  • آل پاکستان انٹربورڈ گرلز والی بال چیمپیئن شپ میں ڈی آئی خان اور لاہور کی ٹیمیں فائنل میں پہنچ گئیں

    آل پاکستان انٹربورڈ گرلز والی بال چیمپیئن شپ میں ڈی آئی خان اور لاہور کی ٹیمیں فائنل میں پہنچ گئیں

    آل پاکستان انٹر بورڈ گرلز والی بال چیمپیئن شپ میں ڈی آئی خان اور لاہور کی ٹیموں نے فائنل کے لیے کوالیفائی کر لیا۔

    باغی ٹی وی : نشتر سپورٹس کمپلیکس لاہور میں جاری چیمپیئن شپ میں جمعہ کے روز لیگ میچز سمیت دونوں سیمی فائنلز کھیلے گئے۔ پہلے سیمی فائنل میں ڈی آئی خان نے پشاور بورڈ کو تین صفر سیٹ سے مات دی۔

    کراچی:ایچ پی ایل پی ایس ایل 8 کی ڈرافٹنگ جاری

    دوسرا سیمی فائنل لاہور اور بنوں کے درمیان کھیلا گیا جس میں لاہور نے بنوں کو چار ایک سیٹ سے شکست دیکر فائنل کے لیئے کوالیفائی کیا۔ اس سے قبل آخری چھ لیگ میچز کا انعقاد ہوا۔

    ایبٹ آباد ٹیم کو کھلاڑی مکمل نہ ہونے پر ایونٹ سے ڈس کوالیفائی کر دیا گیا، چیمپیئن شپ کا فائنل اور تیسری پوزیشن کا میچ ہفتہ کو کھیلے جائیں گے-

    پی ایس ایل8: پشاورمیں انٹرنیشنل کرکٹ کی میزبانی کے حوالے سے پی سی بی حکام کے فیصلے پر جاوید آفریدی…

  • آج شام عمران خان کی کال پر لبرٹی چوک لاہور میں جلسہ ہوگا،ترجمان پنجاب حکومت

    آج شام عمران خان کی کال پر لبرٹی چوک لاہور میں جلسہ ہوگا،ترجمان پنجاب حکومت

    ترجمان پنجاب حکومت مسرت جمشید نے کہا ہے کہ آج شام عمران خان کی کال پر لبرٹی چوک لاہور میں جلسہ ہوگا-

    باغی ٹی وی : ترجمان پنجاب حکومت مسرت جمشید کے مطابق چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان 8 بجے جلسے سے خطا ب کریں گے جس میں عمران خان خطاب میں ملکی سیاسی مستقبل سے متعلق اعلان کریں گے،عمران خان کے خطاب کو مختلف شہروں میں بڑی اسکرین پر بھی دکھایا جائے گا-

    ہتک عزت کیس: عمران خان کا دفاع کا حق ختم کرنے کا فیصلہ درست تھا،لاہور ہائیکورٹ

    ترجمان پنجاب حکومت نے کہا کہ پاکستان کی معاشی حالت بگڑتی جا رہی ہے،سیاسی استحکام کے بغیر کوئی بہتری ممکن نہیں،موجودہ صورتحال میں فوری الیکشن ہی واحد حل ہیں،شریف خاندان کے اکاؤنٹس میں کروڑوں روپوں کی ٹی ٹیاں آتی رہیں،عدالت کے پوچھنے پر جواب میں یہی کہتے رہے کہ پتہ نہیں، پیسے کہاں سے آرہے تھے-

    اسلام آباد ایئرپورٹ سے ڈیوٹی ٹیکس کے بغیر موبائل فونز کلیئرکرانے کا انکشاف

    مسرت جمشید نے کہا کہ پنجاب ، خیبر پختونخوا ، کشمیر اور گلگت بلتستان کی رقوم وفاق نے ضبط کرلیں،فارن ریزرو 7 ارب ڈالر سے بھی کم رہ گئے وہ بھی دوست ممالک کے ہیں،جب عمران خان کو ہٹایا گیا اس وقت خزانے میں 22 ارب ڈالر تھے،سفارت خانوں کے پاس تنخواہوں کے پیسے نہیں ہیں جبکہ وزیر خارجہ بلاول کے دوروں پر 2 ارب روپے خرچ ہوچکے ہیں-

    مصطفیٰ نواز کھوکھر کا پیپلزپارٹی چھوڑنےکا اعلان

  • ہتک عزت کیس: عمران خان کا دفاع کا حق ختم کرنے کا فیصلہ درست تھا،لاہور ہائیکورٹ

    ہتک عزت کیس: عمران خان کا دفاع کا حق ختم کرنے کا فیصلہ درست تھا،لاہور ہائیکورٹ

    لاہور ہائیکورٹ میں شہباز شریف کی جانب سے عمران خان کے خلاف 10 ارب روپے کے ہتکِ عزت کے دعوے پر سماعت ہوئی-

    باغی ٹی وی : لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس چوہدری محمد اقبال نے فیصلے میں لکھا کہ 7 دن میں جواب داخل نہ کرنے پر دفاع کا حق ختم ہوجاتا ہے۔

    ملکہ نورجہاں کا یوم وفات

    فیصلے میں کہا گیا کہ شہباز شریف کی جانب سے عمران خان کے خلاف 10 ارب روپے کے ہتکِ عزت کے دعوے پر عمران خان کا دفاع کا حق ختم کرنے کا فیصلہ درست تھا۔

    جسٹس چوہدری اقبال نے اپنے فیصلے میں کہا کہ ٹرائل کورٹ نے عمران خان کو شہباز شریف کے سوالات کے جواب کے لیے نقول دیں، جوابات دینے کے بجائے عمران خان نے اعتراضات داخل کردیے جس پر ٹرائل کورٹ نے اعتراضات مسترد کرکے عمران خان کو جواب دینے کی ہدایت کی۔

    عدالت اپنے فیصلے میں مزید کہا کہ عمران خان نے پھر بھی جواب داخل نہیں کیا جس پر ٹرائل کورٹ نے ان کا حقِ دفاع ختم کر دیا، ٹرائل کورٹ کا فیصلہ درست تھا۔

    بلاول بھٹو کے مودی کو ‘قصائی’ کہنے پر بی جے پی مشتعل، احتجاج کی کال…

    عمران خان نے شہباز شریف پر پانامہ میں رشوت کی پیشکش کا الزام لگایا تھا جس پر شہباز شریف نےعمران خان کیخلاف 10 ارب ہرجانے کادعویٰ سیشن کورٹ میں دائر کیا تھا،سیشن عدالت نے عمران خان کا حق دفاع کا دعویٰ خارج کر دیا تھاجس پر عمران خان نےسیشن عدالت کا فیصلہ لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج کیا تھا۔

    ٹرائل کورٹ نے شہباز شریف کے سوالات کے جواب نہ دینے پر عمران خان کا دفاع کا حق ختم کردیا تھا،اپیل میں استدعا کی گئی کہ عمران خان کیخلاف 10 ارب روپے ہرجانے کے دعویٰ میں دفاع کا حق ختم کرنے کا فیصلہ کالعدم قرار دیا جائے۔

    قبل ازیں شہباز شریف کے ہتکِ عزت کے دعوے کا وزیرِ اعظم عمران خان نے عدالت میں جواب جمع کرایا تھا۔عمران خان نے عدالت سے شہباز شریف کا ہتکِ عزت کا دعویٰ جرمانے کے ساتھ خارج کرنے کی استدعا کی تھی-

    عمران خان کے جمع کرائے گئے جواب میں کہا گیا تھا کہ عمر فاروق نامی شخص نے بتایا کہ آفر ہے،بتایا کہ اگر عمران خان پاناما لیکس کی پیروی چھوڑ دیں تو وہ بھاری رقم دینے کو تیار ہے۔رقم کی پیشکش نواز شریف یا شہباز شریف کی طرف سے ڈائریکٹ نہیں بلکہ کسی کے ذریعے آئی تھی نواز شریف اور شہباز شریف نے ماضی میں ادارے کے اعلٰی افسر کو بی ایم ڈبلیو گاڑی دینے کی کوشش بھی کی تھی۔

    خود کو پولیس اہلکار ظاہرکر کےکار سوارمسلح ملزمان بزرگ شہری کو لوٹ کر فرارہو گئے

  • خود کو پولیس اہلکار ظاہرکر کےکار سوارمسلح ملزمان بزرگ شہری کو لوٹ کر فرارہو گئے

    خود کو پولیس اہلکار ظاہرکر کےکار سوارمسلح ملزمان بزرگ شہری کو لوٹ کر فرارہو گئے

    کراچی میں خود کو پولیس اہلکار ظاہر کرنے والے کار سوار مسلح ملزمان بزرگ شہری سے ساڑھے 3 لاکھ روپے چھین کر فرار ہوگئے-

    باغی ٹی وی : پولیس کے مطابق نیوکراچی صنعتی ایریا سیکٹر 12 بی میں کار سوار مسلح ملزمان بزرگ شہری سے ساڑھے 3 لاکھ روپے چھین کر فرار ہو گئے،پولیس نے واردات کا مقدمہ درج کر کے تفتیش شروع کردی ہے-

    گوجرہ:مسلح ڈا کو ؤ ں نے شہر سے خریداری کرکے آ نے وا لی خواتین سمیت تین افراد کو…

    سی سی ویڈیو میں واردات کے وقت سفید رنگ کی گاڑی میں سوار ملزمان کو متاثرہ شخص ذوالفقار کو اپنے پاس بلاتے دیکھا جاسکتا ہے گاڑی میں بیٹھے مسلح افراد نے قریب آتے ہی بزرگ شہری کی تلاشی لی اور جیب سے نکلنے والے پیسے چھین کر اپنے پاس رکھ لیے-

    متاثرہ شخص نے بتایا کہ ملزمان کے پاس واکی ٹاکی (وائرلیس سیٹ) بھی موجود تھا جبکہ انہوں نے خود کو پولیس اہلکار ظاہر کیا پولیس نے متاثرہ بزرک ذوالفقار علی محمد اکرم کی مدعیت میں مقدمہ درج کر کے کار سوار ملزمان کی تلاش شروع کردی۔

    جبکہ کورنگی زمان ٹاؤن میں ڈکیتی کی واردات کے دوران مزاحمت پر فائرنگ سے ایک شخص زخمی ہو گیا جسے فوری طورپرجناح اسپتال منتقل کردیا گیا جہاں زخمی کی شناخت 30 سالہ محمد عدنان ولد راجہ محمد ایوب کے نام سے کی گئی۔

    کندھ کوٹ: شھرمیں ڈاکوؤں کا راج ,غوث پور کے قریب لاڑکانہ کے رہائشی سمیت 5 افراد…

    پولیس کے مطابق فائرنگ کا واقعہ ڈکیتی کی واردات کے دوران نامعلوم مسلح ملزمان کی جانب سے فائرنگ کے باعث پیش آیا ہے اوراس حوالے سے مزید تفتیش کی جا رہی ہے –

    قبل ازیں کراچی یونیورسٹی روڈ پر ڈکیتی مزاحمت پر طالب علم کا قتل کر دیا گیا تھا قتل ہونے والے طالب علم بلال ناصرکے قتل کا مقدمہ درج کرلیا گیا، پولیس نے ایک ملزمان کی گرفتاری کا بھی دعویٰ کیا ہے۔

    15 دسمبر کو این ای ڈی یونیورسٹی کے سامنے چائے خانے پر ڈکیتوں نے دھاوا بولا تھا، اس موقع پر چائے کے ہوٹل پر بیٹھے این ای ڈی کے طالبعلم بلال ناصر نے ایک ڈکیت کو دبوچنے کی کوشش کی جس پر ملزم کے ساتھی کی فائرنگ سے بلال زندگی کی بازی ہارگیا تھا۔

    پولیس کے مطابق بلال ناصر کے قتل کا مقدمہ سرکاری مدعیت میں مبینہ ٹاؤن تھانے میں درج کیا گیا ہے جس میں 2 نامعلوم افراد کو نامزد کیا گیا –

    کراچی؛ ڈکیتی مزاحمت پر طالبعلم کے قتل کا مقدمہ درج، ملزم گرفتار

  • مولانا جلال الدین رومیؒ  کا یوم وفات

    مولانا جلال الدین رومیؒ کا یوم وفات

    محمد جلال الدین رومیؒ (پیدائش:1207ء میں پیدا ہوئے، مشہور فارسی شاعر تھے۔ مثنوی، فیہ ما فیہ اور دیوان شمس تبریز آپ کی معروف کتب ہے، آپ دنیا بھر میں اپنی لازاول تصنیف مثنوی کی بدولت جانے جاتے ہیں، آپ کا مزار ترکی میں واقع ہے۔

    پیدائش اور نام و نسب
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    اصل نام محمد ابن محمد ابن حسین حسینی خطیبی بکری بلخی تھا۔ اور آپ جلال الدین، خداوندگار اور مولانا خداوندگار کے القاب سے نوازے گئے۔ لیکن مولانا رومی کے نام سے مشہور ہوئے۔ جواہر مضئیہ میں سلسلہ نسب اس طرح بیان کیا ہے :

    محمد بن محمد بن محمد بن حسین بن احمد بن قاسم بن مسیب بن عبد اللہ بن عبد الرحمن بن ابی بکرن الصدیق۔ اس روایت سےحسین بلخی مولانا کے پردادا ہوتے ہیں لیکن سپہ سالار نے انہیں دادا لکھا ہے اور یہی روایت صحیح ہےکیونکہ وہ سلجوقی سلطان کے کہنے پر اناطولیہ چلے گئے تھے جو اس زمانے میں روم کہلاتا تھا۔ ان کے والد بہاؤ الدین بڑے صاحب علم و فضل بزرگ تھے۔ ان کا وطن بلخ تھا اور یہیں مولانا رومی 1207ء بمطابق 6 ربیع الاول 604ھ میں پیدا ہوئے۔

    ابتدائی تعلیم
    ۔۔۔۔۔۔
    ابتدائی تعلیم کے مراحل شیخ بہاؤلدین نے طے کرادیے اور پھر اپنے مرید سید ب رہان الدین کو جو اپنے زمانے کے فاضل علما میں شمار کیے جاتے تھے مولاناکا معلم اور اتالیق بنادیا۔ اکثر علوم مولانا کو انہی سے حاصل ہوئے۔ اپنے والد کی حیات تک ان ہی کی خدمت میں رہے۔ والد کے انتقال کے بعد 639ھ میں شام کا قصد کیا۔ ابتدا میں حلب کے مدرسہ حلاویہ میں رہ کر مولاناکمال الدین سے شرف تلمذ حاصل کیا۔

    علم و فضل
    ۔۔۔۔۔۔
    مولانا رومیؒ اپنے دور کے اکابر علما میں سے تھے۔ فقہ اور مذاہب کے بہت بڑے عالم تھے۔ لیکن آپ کی شہرت بطور ایک صوفی شاعر کے ہوئی۔ دیگرعلوم میں بھی آپ کو پوری دستگاہ حاصل تھی۔ دوران طالب علمی میں ہی پیچیدہ مسائل میں علمائے وقت مولانا کی طرف رجوع کرتے تھے۔ شمس تبریز مولانا کے پیر و مرشد تھے۔ مولانا کی شہرت سن کر سلجوقی سلطان نے انھیں اپنے پاس بلوایا۔ مولانا نے درخواست قبول کی اور قونیہ چلے گئے۔ وہ تقریباً 30 سال تک تعلیم و تربیت میں مشغول رہے۔ جلال الدین رومی ؒ نے 3500 غزلیں 2000 رباعیات اور رزمیہ نظمیں لکھیں۔

    اولاد
    ۔۔۔۔۔۔
    مولانا کے دو فرزند تھے، علاؤ الدین محمد، سلطان ولد۔ علاؤ الدین محمد کا نام صرف اس کارنامے سے زندہ ہے کہ انہوں نے شمس تبریز کو شہید کیا تھا۔ سلطان ولد جو فرزند اکبر تھے، خلف الرشید تھے، گو مولانا کی شہرت کے آگے ان کا نام روشن نہ ہو سکا لیکن علوم ظاہری و باطنی میں وہ یگانہ روزگار تھے۔ ان کی تصانیف میں سے خاص قابل ذکر ایک مثنوی ہے، جس میں مولانا کے حالات اور واردات لکھے ہیں اور اس لحاظ سے وہ گویا مولانا کی مختصر سوانح عمری ہے۔

    سلسلہ باطنی
    ۔۔۔۔۔۔
    مولانا کا سلسلہ اب تک قائم ہے۔ ابن بطوطہ نے اپنے سفرنامے میں لکھا ہے کہ ان کے فرقے کے لوگ جلالیہ کہلاتے ہیں۔ چونکہ مولانا کا لقب جلال الدین تھا اس لیے ان کے انتساب کی وجہ سے یہ نام مشہور ہوا ہوگا۔ لیکن آج کل ایشیائے کوچک، شام، مصر اور قسطنطنیہ میں اس فرقے کو لوگ مولویہ کہتے ہیں۔ دوسری جنگ عظیم سے قبل بلقان، افریقہ اور ایشیا میں مولوی طریقت کے پیروکاروں کی تعداد ایک لاکھ سے زائد تھی۔ یہ لوگ نمد کی ٹوپی پہنتے ہیں جس میں جوڑ یا درز نہیں ہوتی، مشائخ اس ٹوپی پر عمامہ باندھتے ہیں۔ خرقہ یا کرتا کی بجائے ایک چنٹ دار پاجامہ ہوتاہے۔ ذکر و شغل کا یہ طریقہ ہے کہ حلقہ باندھ کر بیٹھتے ہیں۔ ایک شخص کھڑا ہو کر ایک ہاتھ سینے پر اور ایک ہاتھ پھیلائے ہوئے رقص شروع کرتا ہے۔ رقص میں آگے پیچھے بڑھنا یا ہٹنا نہیں ہوتا بلکہ ایک جگہ جم کر متصل چکر لگاتے ہیں۔ سماع کے وقت دف اور نے بھی بجاتے ہیں۔

    وفات
    ۔۔۔۔۔۔
    بقیہ زندگی وہیں گزار کر تقریباً 66 سال کی عمر میں سن 1273ء بمطابق 672ھ میں انتقال کر گئے۔ قونیہ میں ان کا مزار آج بھی عقیدت مندوں کا مرکز ہے۔

    مثنوی رومی
    ۔۔۔۔۔۔
    ان کی سب سے مشہور تصنیف ’’مثنوی مولانا روم‘‘ ہے۔ اس کے علاوہ ان کی ایک مشہور کتاب ’’فیہ مافیہ‘‘ بھی ہے۔

    ”باقی ایں گفتہ آید بے زباں
    در دل ہر کس کہ دارد نورِ جان

    ترجمہ: ’’جس شخص کی جان میں نورہوگا اس مثنوی کا بقیہ حصہ اس کے دل میں خودبخود اتر جائے گا‘‘

    اقبال اور رومیؒ
    ۔۔۔۔۔۔۔۔
    علامہ محمد اقبال مولانا رومی کو اپنا روحانی پیر مانتے تھے۔ کشف اور وجدان کے ذریعے ادراک حقیقت کے بعد صوفی صحیح معنوں میں عاشق ہو جاتا ہے کہ بہ رغبت تمام محبوب حقیقی کے تمام احکام کی پیروی کرتا ہے۔ رومی نے جوہر عشق کی تعریف اور اس کی ماہیت کی طرف معنی خیز اشارے کیے ہیں۔ صوفی کی ذہنی تکمیل کا مقام کیا ہے اس کے متعلق دو شعر نہایت دل نشیں ہیں:

    آدمی دید است باقی پوست است
    دید آں باشد کہ دید دوست است
    جملہ تن را در گداز اندر بصر
    در نظر رو در نظر رو در نظر
    علامہ اقبال نے اس کی یوں تشریح کی ہے:
    خرد کے پاس خبر کے سوا کچھ اور نہیں
    ترا علاج نظر کے سوا کچھ اور نہیں

    رومی بین الاقوامی سال
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ان کے 800 ویں جشن پیدائش پر ترکی کی درخواست پر اقوام متحدہ کے ادارہ برائے تعلیم، ثقافت و سائنس یونیسکو نے 2007ء کو بین الاقوامی سالِ رومی قرار دیا۔ اس موقع پر یونیسکو تمغا بھی جاری کیا۔

  • ملکہ نورجہاں کا یوم وفات

    ملکہ نورجہاں کا یوم وفات

    لاہور کی ایک وجہ شہرت یہ بھی ہے کہ یہ شہر مغل عمارات کا ایک بڑا تاریخی ورثہ رکھتا ہے۔ ان میں قلعہ لاہور، بادشاہی مسجد، شالامار باغ اور متعدد مقابر شامل ہیں۔

    لاہور شہر سے باہر مغلوں کے شاہی ذوق کی عکاسی کرنے والی ایک جگہ اور بھی ہے، جسے اس حوالے سے نظر انداز کیا جاتا رہا ہے، یہ ہےدریائے راوی کے کنارے وہ مقام جسے مغلیہ دَور میں دریا پار کرکے کشمیر یا کابل جانے یا قریبی شیخوپورہ میں ہرن کی شکار گاہ پہنچنے سے قبل سستانے کے مقام یا پڑاؤ کے لیے استعمال کیا جاتا تھا۔

    کسی زمانے میں یہ شاہدرہ سایہ دار گھنے درختوں اور سرسبز روشوں والا باغ، ”باغِ دل کشا“ تھا، جہاں شاہی ہاتھی، گھوڑے دکھائی دیتے اور شاہی خاندان کے افراد سیر کیا کرتے تھے۔ البتہ اب یہاں صرف تین مقابر باقی ہیں، جن میں سے دو مقبرے مغل بادشاہ نورالدین جہانگیر اور آصف جاہ کے ہیں۔ پہلوئے شاہ میں تیسرا مقبرہ وہ ہے، جس کے لیے کبھی ساحر لدھیانوی نے لکھا تھا:

    پہلوئے شاہ میں دختر جمہور کی قبر
    کتنے گم گشتہ فسانوں کا پتہ دیتی ہے
    کتنے خوں ریز حقائق سے اٹھاتی ہے نقاب
    کتنی کچلی ہوئی جانوں کا پتہ دیتی ہے

    اداس فضاؤں میں اس ویراں اور خاموش مرقد میں مدفون ہستی جسے ساحر لدھیانوی نے ”دختر جمہور“ قرار دیا کوئی بے بس و لاچار خاتون نہیں بلکہ سلطنت مغلیہ کی اپنے وقت کی طاقتور ترین خاتون تھی، جس نے اپنی ذہانت اور ذکاوت سے مغل سلطنت پر کئی عشرے حکومت کی۔

    اس خاتون کی طاقت و اختیارات کا اس سے بڑا ثبوت کیا ہوگا کہ یہ واحد خاتون تھی ،جن کے نام کا سکّہ مغلیہ دَور میں جاری ہوا اور شاہی مہر پر، جس کا نام کندہ تھا۔ یہ ملکہ ہندوستان نورجہاں کا مقبرہ ہے، جس کے بارے میں سٹینلے لین پول نے History of India میں تبصرہ کرتے ہوئے لکھا کہ ”یہ ایرانی شہزادی، بادشاہ جہانگیر پر بے پناہ اثر انداز رہی، یہاں تک کہ جہانگیر کے ساتھ اس کا نام سکّوں پر جاری ہوابیشتر عہد جہانگیری میں اصل حکومت ملکہ نور جہاں کی رہی۔ اُس نے جہانگیر کے دل پر ہی نہیں بلکہ اصل تاج و تخت پر بھی حکومت کی اور جہانگیر کی سیاسی و سماجی زندگی پر اثر انداز رہی۔

    قندھار میں پیدا ہونے والی ایرانی النسل مہر النسا، جسے شہنشاہ جہانگیر نے شادی کے بعد ”نورِ محل“ اور پھر ” نورِجہاں“ کا خطاب دیا ملکہ ہندوستان بنی اور مغل سلطنت کی باگ ڈور سنبھالی۔ لاہور ہی وہ شہر ہے ،جہاں مہر النسا اور جہانگیر کی شادی ہوئی، یہیں ملکہ نے اپنے شوہر کا مقبرہ تعمیر کروایا، قریبی باغات بنوائے، قلعہ لاہور میں اضافے کیے اور زنانہ کوارٹرز تعمیر کروائے۔ نورجہاں دَورِ مغلیہ کی واحد ملکہ تھی ،جس نے اپنی بیشتر زندگی لاہور میں گزاری ،جب کہ باقی تمام زیادہ تر مغل دارالسلطنت آگرہ اور دہلی میں مقیم رہیں۔

    مہر النساکے دادا ایرانی شاہ کے دربار میں ملازم تھے جب کہ اس کے والد غیاث بیگ، مغل بادشاہ اکبر کے دَور میں ایران سے ہجرت کر کے ہندوستان آئے اور شاہی دربار میں ملازمت اختیار کی۔ یہاں میں مہر النسا کی شادی ترک النسل علی قلی بیگ سے انجام پائی، جسے بعد ازاں شیر افگن کا خطاب دے کر بنگال میں جاگیردار تعینات کر دیا گیا۔ گورنر بنگال اور جہانگیر کے رضاعی بھائی قطب الدین کو ایک تنازع میں شیر افگن کے ہاتھوں قتل ہوئے، جس کے نتیجے میں گورنر کے محافظوں نے شیر افگن کو ہلاک کر دیا۔

    مہر النسا اور اس کی بیٹی کو آگرہ کے شاہی حرم میں بھجوا دیا گیا، جہاں وہ مغل شہنشاہ اکبر کی بیوہ رقیہ سلطان بیگم (جو مرزا ہندال کی بیٹی تھی) کی خدمت پر مامور ہوئیں۔ یہیں نو روز کے تہوار پر مہر النسا کا سامنا بادشاہ جہانگیر سے ہوا اور بادشاہ نے اس 35 سالہ حسین، برجستہ گو اور ذہین بیوہ سے شادی کر لی جو مستقبل میں جھانکنے کی صلاحیت رکھتی تھی۔

    رفتہ رفتہ جہانگیر کو ملکہ نورجہاں پر اس قدر بھروسہ ہو گیا کہ وہ حکومتی معاملات میں اس سے مشورہ لینے لگا جو سیاست، معیشت، ثقافت اور انتظام میں مہارت رکھتی تھی۔ وہ جہانگیر کی بیسویں، مگر سب سے محبوب اور پسندیدہ بیوی تھی۔ وہ غیر معمولی قابلیت، ذہانت اور حوصلے کے ساتھ سیاسی اختیارات کو استعمال کرتی رہی۔ اختیارات حاصل کرنے کے بعد اُس نے ایران سے ذہین سپاہی، علما اور شعرا ہندوستان بلوائے، جنہوں نے انتظامیہ اور مغل سلطنت کی ثقافتی زندگی کی ترقی میں اہم کردار ادا کیا۔ ان ہی کے باعث ملکہ کا دربار میں اثر و رسوخ بھی بڑھ گیا۔

    ملکہ نور جہاں کے والد غیاث بیگ اور بھائی عبدالحسن آصف خان کو دربار میں اہم عہدے دیے گئے جنہیں بالترتیب اعتماد لدولہ اور آصف جاہ کے خطابات سے نوازا گیا۔ نورجہاں کا خاندان اُس دَور کا طاقت ور ترین خاندان تھا۔ اعتماد الدولہ، جہانگیر کا وزیراعظم اور آرمی چیف بنا۔ آصف جاہ کو دربار میں اس وقت زیادہ اثر و رسوخ حاصل ہو گئےجب ملکہ نے اپنی بھانجی ارجمند بانو بیگم (ممتاز محل) کی شادی اپنے سوتیلے بیٹے خرم سےکروا دی بعد ازاں ملکہ نورجہاں نے اپنےپہلے شوہرکی بیٹی، جس کا نام لاڈلی بیگم تھا،کی شادی جہانگیر کے چوتھے بیٹے شہریار سے کروا دی۔ یوں مستقبل میں دونوں شہزادوں خرم اور شہریار میں سے جو بھی شہنشائے ہند بنتا ملکہ نورجہاں کو مزید اگلی ایک نسل تک طاقت و اختیارات حاصل رہتے۔

    شہنشاہ جہانگیر کے بڑے بیٹے خسرو نے جہانگیر کے خلاف بغاوت کر دی تو بادشاہ نے اسے اندھا کروا دیا تھا۔ خسرو کی مدد کرنے کے جرم میں مہرالنسا کے ایک بھائی کو بھی اپنی جان گنوانی پڑی تھی۔ جہانگیر کا دوسرا بیٹا پرویز مے نوشی کا عادی تھا۔ جہانگیر کی ناسازی طبیعت اور بڑھاپے کے باعث ہندوستان پر عملاً مرزا غیاث، نورِجہاں، آصف جاہ اور شہزادہ خرم کی حکومت تھی۔

    شہنشاہ جہانگیر تمام حکومتی اور محلاتی معاملات میں ملکہ نورجہاں پر بھروسا کرتا تھا، ملکہ دربار میں بادشاہ کے ساتھ موجود رہتی اور اسے جہانگیر کی طرف سے فیصلے کرنے کی آزادی حاصل تھی۔ شہزادہ خرم کی من مانی کی عادات کے باعث ملکہ اپنے داماد شہریار کو شہزادہ خرم پر فوقیت دینے لگی، جس پر خرم، ملکہ سے برافروختہ ہوگیا۔ خرم کے ملکہ کے احکامات ماننے سے انکار پر ہی قندھار سے بھی ہاتھ دھونے پڑے کہ اُس نے نورجہاں کے احکامات کے برعکس قندھار جانے سے انکار کردیا تھا۔

    خرم کو شبہ تھا کہ اُس کی غیر موجودگی میں شہریار کو ولی عہد بنا دیا جائے گا یا ہو سکتا تھا کہ وہ میدانِ جنگ میں مارا جائے۔ اسی کے باعث، شہزادہ خرم نے جنگ لڑنے اور قندھار جانے کی بجائے باپ کے خلاف بغاوت کر دی اور قندھار پر ایرانیوں کا قبضہ ہو گیا۔ اس بغاوت کے وقت جہانگیر، کشمیر کے راستے میں تھا کہ شہزادہ خرم نے اُسے گرفتار کروا لیا۔ ملکہ نور جہاں نے مداخلت کی اور مذاکرات کے ذریعے جہانگیر کو رِہا کروایا۔ اس کشمکش میں فتح خرم کی ہوئی ،جسے بغاوت میں مغل افواج کے جرنیل مہابت خان نے بھی مدد دی تھی جو ایک عورت یعنی ملکہ نورجہاں کے اقتدار اور درباری سیاست سے متنفر تھا۔

    اس واقعے کے بعد جہانگیر ایک برس ہی زندہ رہا اور کشمیر سے واپسی پر راستے میں وفات پائی۔ جہانگیر کو لاہور میں ملکہ نورجہاں کے ملکیتی وسیع و عریض باغ، باغِ دل کشا میں دفن کیا گیا۔شہنشاہ کی وفات کے بعد شہریار اپنی سوتیلی والدہ اور ساس ملکہ نورجہاں کی مدد سے تخت پر قابض ہو گیا۔ لیکن ملکہ نورجہاں کی ذہانت بھی اس کا اقتدار بچا نہ پائی، کیوںکہ اس موقع پر آصف جاہ نے بہن کی بجائے داماد کی حمایت کی۔ آصف جاہ کی افواج قلعہ کے اندر داخل ہو گئی اور اس جنگ میں شہریار مارا گیا۔

    آصف جاہ کی فتح کے بعد شہزادہ خرم، ”شاہ جہاں“ کے لقب سے لاہور میں تخت نشیں ہوا۔ شاہ جہاں نے اپنے سارے بھائیوں کو آصف جاہ کے ذریعے قتل اور ملکہ نورجہاں کو ایک طرح سے نظربند کروا دیا۔ البتہ شاہی دربار کی مداخلت سے ملکہ کو رِہا کیا گیا اور اس کا سالانہ وظیفہ مقرر ہوا۔

    شہنشاؤں کی طرح ملکہ پر بھی اقربا پروری، بداعمالی، بدعنوانی کے الزامات لگائے گئے، درباری سازشیں بھی اس سے منسوب کی گئیں لیکن اس کے باوجود مغل دربار کو جو کچھ ملکہ نورجہاں نے دیا۔مثلاََکھانے، طرزِ لباس، طرزِ زندگی، تہذیب…. وہ سب بے مثل ہے۔

    ملکہ نورجہاں مغل خواتین سے مختلف تھیں۔ وہ شاعرہ، زیورات اور لباس کی ڈیزائنر اور آرٹ سے شغف رکھنے والی ایک غیرمعمولی عورت جو عمر بھر تعمیرات و فنون کی سرپرستی کرتی رہیں۔ وہ جہانگیری عہد کی کئی فنی، تعمیری اور ثقافتی کامیابیوں کی تنہا ذمے دار تھیں۔ اس کی ڈیزائن کردہ تعمیرات میں کشمیر و آگرہ کے باغات، باغ ِدل کشا، اپنے والد اعتماد الدولہ، بادشاہ جہانگیر اور اپنے مقبرے شامل ہیں۔

    اعتماد الدولہ کا مقبرہ مغلیہ عہد کی تعمیرات میں ایسی پہلی مثال ہے جس میں سفید سنگمرمر اور قیمتی پتھروں کا استعمال کیا گیا تھا۔اس سے قبل مغل عمارات میں سنگ سرخ کا استعمال کیا جاتا تھا جیسا کہ شہنشاہ ہمایوں اور جلال الدین اکبر کے مقبروں میں دکھائی دیتا ہے، بعد میں شاہ جہاں نے اسی تکنیک کا استعمال کرتے ہوئے آگرہ میں اپنی محبوب ملکہ اور ملکہ نورجہاں کی بھانجی ارجمند بانو (ممتازمحل) کا مقبرہ، تاج محل تعمیر کروایا۔

    ملکہ کے بنوائے گئے باغات میں سے کچھ سرکاری شاہی تقریبات کے لیے مخصوص تھے، جب کہ دیگر عوام کے استعمال میں بھی آتے تھے۔ زنانہ حرم پر بھی ملکہ کا ہی حکم چلتا تھا، جس میں بیگمات، کنیزیں، بچے، خدّام، غلام، خواتین محافظات، خواجہ سرا وغیرہ شامل تھے۔ وہ زنانہ حرم کی زیبائش و آرائش کے ذوق، فیشن، زیورات،کھانوں پر اثر انداز رہی۔ نئی خوشبویات میں تجربات کیے گئے۔ نورجہاں ہی نے گلاب کا عطر ایجاد کیا۔\”چاندنی\” ملکہ نورجہاں کی اختراع ہے۔ دوسرے ممالک سے زیورات، ریشم، پورسلین درآمد کیے گئے۔

    ملکہ نورجہاں نے ہی خواتین کے لباس کو برصغیر کے گرم موسم سے ہم آہنگ کیا، نہ صرف یہ بلکہ ،جہانگیر کے شانہ بہ شانہ شیر، چیتے اور دیگر جانوروں کا شکار کھیلا کرتی تھیں۔ ان کا نشانہ بے مثال تھا۔ شکار کا یہذکر \”تزک جہانگیری\” میں بھی ملتا ہے۔ ملکہ نورجہاں اور بادشاہ جہانگیر دونوں کو مصوری سے شغف تھا۔ جہانگیر کے پاس منی ایچر پینٹنگز کا ایک بڑا خزانہ موجود تھا ،جن میں دربار کی زندگی کی عکاسی کی گئی تھی اور شاہی مرد و خواتین اور باغات اور پرندوں کی تصاویر شامل تھیں۔دَورِ اکبری میں داستانِ امیر حمزہ، اکبر نامہ اور ہندو اساطیر کی تصویرکشی پر کام کا آغاز ہوا تھا اور ایرانی مصوروں کی بدولت برصغیر میں فن مصوری کو فروغ ملا۔

    یورپیوں سے تجارت کا آغاز بھی ملکہ نور جہاں کے دَور میں ہوا۔ انہوں نے آنے والے تاجروں سے محصولات لینے کا آغاز کیا۔ داخلی اور خارجی تجارت میں دخل اندازی اور رکاوٹ سے بچنے اور سہولیات کے حصول کے لیے مغل حکومت کو ادائیگی کی جانے لگی۔ وہ بحری جہازوں کی مالک تھیں جو نہ صرف حج کے سفر بلکہ تجارت کے لیے بھی استعمال ہوتے تھے۔ تجارتی تعلقات سے مغل سلطنت کی دولت و آمدنی میں اضافہ ہوا۔ مغل دارالسلطنت آگرہ، ملکہ نور جہاں کے ان اقدامات کے باعث ایک کاسموپولیٹن شہر اور تجارتی مرکز بن گیا تھا۔

    اپنی گوشہ نشینی کے دَور میں بھی ملکہ نور جہاں فلاحی کاموں اور خواتین کی تعلیم اور دیگر معاملات میں دلچسپی لیتی اور یتیم لڑکیوں کو زمینیں اور جہیز عطا کرتی رہیں۔ شہریار کی بیوہ اور ملکہ کی واحد اولاد لاڈلی بیگم اس گوشہ نشینی میں ملکہ نورجہاں کے ساتھ رہتی تھی۔ ملکہ نے یہ وقت اپنے والد اور شوہر کے مقابر بنواتے ہوئے گزارا۔

    ملکہ نورجہاں نے 68 سال کی عمر میں شہنشاہ جہانگیر کے دنیا سے گزرنے کے 16 برس بعد گوشہ نشینی اور تنہائی کے عالم میں وفات پائی اور اپنے تعمیر کروائے گئے مقبرے میں دفن ہوئیں۔ ملکہ کی واحد اولاد لاڈلی بیگم کی قبر بھی ان ہی کے پہلو میں ہے۔

    ملکہ کا یہ مقبرہ کئی بار اُجڑا، اٹھارہویں صدی میں رنجیت سنگھ کے دَور میں سکھ گولڈن ٹیمپل کی تعمیر کے لیے نورجہاں اور جہانگیر کے مقبروں سے قیمتی پتھر اکھاڑ کر لے گئے۔ بعد ازاں انگریزوں نے مقبرے کے باغ سے ریلوے لائن گزاری اور انیسویں صدی میں اس مقبرے کے حصوں کو کوئلے کے گودام کے طور پر بھی استعمال کیا جاتا رہا۔ محکمہ آثارِقدیمہ کی غفلت کے باعث اب اس مقبرے کا قیمتی پتھر مخدوش و بوسیدہ حالت میں ہے۔

    ملکہ نور جہاں فارسی زبان کی شاعرہ تھیں اور مخفی تخلص تھا، ان کا مزار اسی کے فارسی شعر کی تفسیر ہے جو ان کی لوحِ مزار پر رقم ہے۔
    برمزارِ ما غریباں، نے چراغِ نے گلے
    نے پر پروانہ سوزد، نے صدائے بلبلے

    مجھ اجڑے ہوئے کے مزار پر چراغ (روشن) ہے نہ کوئی پھول (کھلے) ہیں۔ (اسی لیے) نہ یہاں پروانے کے پر جلتے ہیں نہ بلبل کی صدا سنائی دیتی ہے۔