Baaghi TV

Author: Ayesha Rehmani

  • عمران خان چل نہیں سکتے تو ویل چیئر یا اسٹریچر پر عدالت آجائیں

    عمران خان چل نہیں سکتے تو ویل چیئر یا اسٹریچر پر عدالت آجائیں

    لاہور: ماہر قانون جسٹس ریٹائرڈ شائق عثمانی نے کہا ہے کہ اگرعمران خان چل نہیں سکتے تو ویل چیئر یا اسٹریچر پر عدالت آسکتے ہیں۔

    باغی ٹی وی : ایک بیان میں جسٹس ریٹائرڈ شائق عثمانی نے کہا کہ عمران خان کی عدالت میں حاضری لازمی ہے، ورنہ انہیں ضمانت نہیں مل سکتی قانون سب کیلئے برابر ہوتا ہے، عمران خان اپنے اصولوں کے خلاف جا رہے ہیں۔

    جسٹس ریٹائرڈ شائق عثمانی کا کہنا تھا کہ اس کیس میں انہیں خود عدالت آنا چاہیے، اب عمران خان کیلئے کوئی بچت نہیں ہے۔

    واضح رہے کہ لاہور ہائی کورٹ نے سابق وزیراعظم عمران خان کو پیشی کے بغیر حفاظتی ضمانت دینے سے انکار کردیا تھا۔

    عمران خان کے وکیل نے عدالت میں موقف اختیار کیا تھا کہ عمران خان متعلقہ عدالت میں پیش ہونا چاہتےہیں، میڈیکل کے مطابق تین ہفتے تک عمران خان چل پھر نہیں سکتے لہٰذا میڈیکل گراؤنڈ پرحفاظتی ضمانت دےدیں۔

    عدالت نے استفسار کیا کہ حفاظتی ضمانت کا قانون کیا ہے؟حفاظتی ضمانت میں ملزم کی پیشی ضروری ہے، زیادہ مسئلہ ہے تو ایمبولینس میں آ جائیں، قانون سب کیلئے برابر ہے، اصولی طورپر مجھے یہ درخواست خارج کردینی چاہیے لیکن رعایت دے رہا ہوں۔

    لاہور ہائیکورٹ نے عبوری ضمانت کے لیے عمران خان کو آج صبح 9 بجے تک عدالت میں پیش ہونے کی مہلت دے دی ہے۔ اس سے قبل ہائیکورٹ کے جسٹس طارق سلیم شیخ نے عمران خان کو عدالت میں پیش ہونے کے لیے گزشتہ رات 8بجے تک کا وقت دیا تھا تاہم عمران خان عدالت میں پیش نہ ہوئے ہیں۔

    عدالت نے گزشتہ روز رات کو سوا آٹھ بجے دوبارہ کیس کی سماعت کی جس میں عمران خا ن کے وکیل نے ہائیکورٹ میں موقف اختیار کیا کہ عمران خان کو ڈاکٹر نے چلنے سے منع کیا ہے جس کی وجہ سے وہ عدالت میں پیش نہیں ہوسکتے ہیں۔

    عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ عمران خان کو روز ٹی وی پر دیکھتے ہیں۔ ہم نے عمران خان کو چلنے کے لیے نہیں کہا ہے۔ اگر عمران خان چل نہیں سکتے ہیں تو سٹریچر پر عدالت آجائیں۔ اور ایمبولینس تو انکی اپنی ہے۔ اس موقع پر وکیل کی جانب سے عمران خان کی ویڈیو لنک کے ذریعے پیشی کی بھی درخواست کی گئی جو کہ عدالت کی جانب سے مسترد کردی گئی۔

    عدالت میں عمران خان کے دیگر وکلا میں اظہر صدیق ایڈووکیٹ بھی پیش ہوئے اور بولنا چاہا تو ان کو جسٹس طارق سلیم شیخ نے روک دیا اور کہا کہ یہ ٹاک شو نہیں ہے اور عمران خان کی جانب سے پیش ہونے والے دیگر وکلا کو حکم دیا کہ آپ قانون پیش کریں۔

    جس پر عمران خان کے وکیل نے کہا کہ میری درخواست حفاظتی ضمانت کی ہے۔ ڈاکٹر نے عمران خان کو اجازت نہیں دی ہے، وہ زخمی بھی ہیں اور سکیورٹی ایشو بھی ہے۔ جسٹس طارق سلیم شیخ نے کہا کہ اگر آپ اس کو واپس لینا چاہتے ہیں تو لے لیں۔ عدالت نے کہا کہ سکیورٹی میں دلا دیتا ہوں۔

  • سرائیکی کے ممتاز ادیب، شاعر، دانشور، محقق اور استاد دلشاد کلانچوی

    سرائیکی کے ممتاز ادیب، شاعر، دانشور، محقق اور استاد دلشاد کلانچوی

    سرائیکی کے ممتاز ادیب، شاعر، دانشور، محقق اور استاد

    یوم وفات: 16 فروری 1997 بہاولپور

    دلشاد کلانچوی کے والد وادیٔ سون کے گاؤں سبھرال کے اعوان تھے۔ حصولِ تعلیم کیلئے ریاست بہاول پور آئے اور پھر یہیں کے ہوگئے۔ دلشاد کلانچوی کا اصل نام عطا محمد تھا، وہ 24 مئی 1915ء کو بستی کلانچ والا میں پیدا ہوئے پروفیسر دلشاد کلانچوی نےطویل عرصہ سرائیکی علاقے کے کالجوں اور یونیورسٹی میں پڑھایا ۔ ایک زمانے میں اس خطے کا ہر دوسرا تیسرا گریجویٹ ان کا شاگرد ہوتا تھا ایس ای کالج بہاولپور میں طالب علمی کے دوران ان کی ایک نظم اس وقت کے اہم ادبی جریدے مولانا صلاح الدین احمد کے’’ ادبی دنیا ‘‘میں میراجی نے تعریفی نوٹ کے ساتھہ شائع کی تھی۔

    ملازمت کے دوران تین چار اردو ، انگریزی کتابیں لکھیں۔ ریٹائرمنٹ کے بعد تصنیف و تالیف اور تحقیق میں مصروف ہوگئے۔ سرائیکی اردو اور اردو سرائیکی لغت اور قرآن کے سرائیکی ترجمے سمیت ستر کے قریب کتابیں شائع ہوئیں۔ دو کتابوں پر اکادمی ادبیات سے اور ایک کتاب پر حکومت پنجاب سے سال کی بہترین کتاب کے انعامات ملے۔

    تصنیف و تالیف کا شوق ان کی اولاد میں بھی منتقل ہوا۔ ایک بیٹی مسرت کلانچوی کی 10 کتابیں شائع ہوچکی ہیں۔ دوسری بیٹی اختر صباح اور بیٹے جمشید اقبال اعوان کلانچوی تین تین اور پوتے عون محمد اور نواسے امروز اسلم بھی ایک ایک کتاب کے مصنف ہیں۔

    پروفیسر دلشاد کلانچوی کی کتابیں
    سرائیکی

    سوکھے ترجمہ آلا قرآن مجید (قرآن مجید کا سرائیکی ترجمہ)
    چنگا بال اقبال (اقبالیات)
    کون فرید فقیر (اقبالیات)
    ساڈا بخت اقبال (اقبالیات)
    سارے سگن سُہا گڑے (ناول)
    کلام کلانچوی(شاعری)
    غالب دیاں غزلاں (غالب کی غزلیات کا سرائیکی ترجمہ)
    ڈپٹی نذیر احمد کے ناول توبۃ النصوع کا سرائیکی ترجمہ)
    توبہ زاری (ڈپٹی نذیر احمد کے ناول توبۃ النصوح کا سرائیکی ترجمہ)
    سرائیکی گُل پُھل (مضامین)
    ضلع بہاول پور (تاریخ)
    کون فرید فقیر (فریدی شناسی)
    فریدیات (کلام فرید کا تنقیدی مطالعہ)
    سرائیکی زبان تے ادب (تنقید)
    سرائیکی باغ و بہار (تنقید)
    فرید کافیاں (منتخب کلام فرید کا ترجمہ و تشریح)
    فریدی ڈوہڑے (فریدی شناسی)
    چار سرائیکی صوفی شاعر (تنقید)
    قدیم سرائیکی شاعر تے ادیب (تنقید)
    بہاول پور دی تاریخ تے ثقافت (تاریخ و ثقافت)
    چنگیر (بچوں کے نظمیں)
    لغات دلشادیہ -اول (لسانیات)
    لغات دلشادیہ -دوم (لسانیات)
    سرائیکی لسانیات (لسانیات)
    سرائیکی شاعری دے اوزان تے قوافی (فن شعر و شاعری)
    سرائیکی ادب دی چنگیر (تنقید)
    قرآن مجید آپڑیں متعلق کیا آہدے؟ (اسلام)
    انارکلی تے اقتدار دی ہوس (امتیاز علی تاج کے ڈرامے انارکلی کا سرائیکی ترجمہ)
    چالیھ حدیثاں (سرائیکی ترجمہ احادیث)
    خواباں وچ خیال (محمد حسین آزاد کی کتاب نیرنگ خیال کا سرائیکی ترجمہ)
    خیابانِ خرام (خرم بہاولپوری کے سرائیکی کلام کی ترتیب و تدوین)
    رات دی کندھ (ڈرامے، افسانے)
    قصے تے پِڑ قصہ (میر امن کی باغ و بہار کا سرائیکی ترجمہ)
    مثنوی دلبہار (میر حسن کی مثنوی سحر البیان کا سرائیکی ترجمہ)
    نور نامہ (ترتیب و تدوین)
    معراج نامہ (ترتیب و تدوین)
    نعتیہ سی حرفی (شاعری)
    رسول کریم دے معجزے (مولانا سعید احمد دہلوی کی کتاب معجزات رسول کا سرائیکی ترجمہ)
    سرائیکی مطالعہ دے سو سال (ڈاکٹر کرسٹوفر شیکل کی کتاب کا سرائیکی ترجمہ)

    اردو

    اقبال شناسی اور ایجرٹن کالج میگزین (اقبالیات)
    اقبال اور اس کی اردو شاعری پر ایک نظر (اقبالیات)
    آؤ مجھے پہچانو (بچوں کے لیے نظمیں)
    نیا ستارا (بچوں کے لیے نظمیں)
    مثنوی یوسف زلیخا (عبد الحکیم اُچوی کی مثنوی کا نثری اردو ترجمہ)
    اصطلاحات معاشیات (درسی کتاب)
    نظریات معاشیات (درسی کتاب)
    انتخاب دیوان خواجہ غلام فرید (منتخب کافیوں کا اردو ترجمہ)
    سرائیکی اور اس کی نثر (تحقیق)

    انگریزی

    Descriptive Economic of Bharat & Pakistan
    Economic Terms
    Intermediate Economics (Made Easy)

    نمونۂ کلام

    —نظم —
    علامہ اقبال کی یاد میں
    اے کہ ترا وجود ہے باعث فخر ادبیات اے کہ ترا دماغ ہے مایہ صد تخیلات
    اے کہ ترے سخن میں ہے رنگ کلام سامری اے کہ ترے نفس سے ہے جاگی خدا کی کائنات
    اے کہ تری نگاہ میں مصر و حجاز و جنیوا شام ہے یا ہے قرطبہ روم و فرنگ و سومنات
    اے کہ تری خودی ہی ہے راز حیات جاوداں اے کہ تری شہنشہی رشک ملوک شش جہات
    اے کہ ترا یہ فلسفہ درس و پیام و ذکر و فکر اے کہ یہ درد و سوز و غم مظہر راز قومیات
    اے کہ رموز بے خودی تیرے قلم کی رازدار اے کہ طریق رند و شیخ تیرے رموز و نظریات
    اے کہ ترا مقام ہے چاند ستاروں سے بھی دور اے کہ ترا قیام ہے جائے دل و تصورات
    اے کہ غلام غیر کی تو نے نگاہیں پھیر دیں بندہ حُر کے سامنے رکھ دئیے سب مشاہدات
    اے کہ ترے لیے اگر کارِ جہاں دراز تھا ہم سے کیوں جلد موڑ لی تونے نگاہِ التفات

    اعزازات
    کون فرید فقیر پر اکادمی ادبیات پاکستان کی جانب سے 1983ء میں خواجہ فرید ایوارڈ دیا گیا سرائیکی زبان تے ادب اکادمی ادبیات پاکستان کی جانب سے 1988ء میں خواجہ فرید ایوارڈ دیا گیا بہاولپور دی تاریخ تے ثقافت پر حکومت پاکستان کے محکمہ اطلاعات و ثقافت جانب سے 1989ء میں جام درک ایوارڈ دیا گیا 1998ء میں خواجہ غلام فرید کے صد سالہ جشن کے موقع پر اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور کی جانب سے خواجہ فرید اور ان کے کلام کی تشریح و ترجمہ پر خواجہ فرید میڈل بعد از مرگ دیا گیا۔

  • زندگی تو نے مجھے قبر سے کم دی ہے زمیں

    زندگی تو نے مجھے قبر سے کم دی ہے زمیں

    زندگی تو نے مجھے قبر سے کم دی ہے زمیں
    پائوں پھیلائوں تو دیوار میں سر لگتا ہے

    بشیر بدر

    اصل نام سید محمد بشیر،ڈاکٹر 15فروری 1935ء ء کو کان پور میں پیدا ہوئے۔ اعلیٰ تعلیم علی گڑھ یونیورسٹی سے حاصل کی۔ ایم اے کے امتحان میں یونیورسٹی کے تمام شعبوں میں سب سے زیادہ نمبر حاصل کرنے پر ’’رادھا کرشن‘‘ ایوارڈ ملا۔’’آزادی کے بعد اردو غزل کا تنقیدی مطالعہ‘‘لکھ کر پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔ پہلے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے شعبۂ اردو میں تقرر ہوا۔ بعد میں میرٹھ یونیورسٹی سے وابستہ ہوگئے۔ ان کی تصانیف کے نام یہ ہیں: ’اکائی‘، ’آسمان‘،’امیج‘، ’آہٹ‘، ’اللہ حافظ‘، ’آمد‘، ’بیسویں صدی میں اردو غزل‘، ’کلیات بشیر بدر‘ بھی شائع ہوگئی ہے۔ آپ کی غزلوں کا انتخاب ہندی میں ’’تمہارے لیے ‘‘ کے نام سے شائع ہوگیا ہے۔ اردواکیڈمی یوپی اور بہار اردو اکادمی نے ان کی کتابوں پر انعام دیا ہے ۔ میراکادمی نے ان کو ’’امتیاز میر‘‘ پیش کیا ہے۔ بحوالۂ:پیمانۂ غزل(جلد دوم)،محمد شمس الحق،صفحہ:170

    غزل
    ۔۔۔۔۔۔
    وہ چہرا ساتھ ساتھ رہا جو ملا نہیں
    کس کو تلاش کرتے رہے کچھ پتہ نہیں
    شدت کی دھوپ، تیز ہواؤں کے با وجود
    میں شاخ سے گرا ہوں نظر سے گرا نہیں
    آخر غزل کا تاج محل بھی ہے مقبرہ
    ہم زندگی تھے ،ہم کو کسی نے جیا نہیں
    جس کی مخالفت ہوئی مشہور ہو گیا
    ان پتھروں سے کوئی پرندا گرا نہیں
    تاریکیوں میں اور چمکتی ہے دل کی دھوپ
    سورج تمام رات یہاں ڈوبتا نہیں
    کس نے جلائیں بستیاں،بازار کیوں لٹے
    میں چاند پر گیا تھا مجھے کچھ پتہ نہیں

    غزل
    ۔۔۔۔۔۔
    وہ چاندنی کا بدن خوشبوؤں کا سایہ ہے
    بہت عزیز ہمیں ہے مگر پرایا ہے

    اتر بھی آؤ کبھی آسماں کے زینے سے
    تمہیں خدا نے ہمارے لیے بنایا ہے

    کہاں سے آئی یہ خوشبو، یہ گھر کی خوشبو ہے
    اس اجنبی کے اندھیرے میں کون آیا ہے

    مہک رہی ہے زمیں چاندنی کے پھولوں سے
    خدا کسی کی محبت پہ مسکرایا ہے

    اسے کسی کی محبت کا اعتبار نہیں
    اسے زمانے نے شاید بہت ستایا ہے

    تمام عمر مرا دل اسی دھوئیں میں گھٹا
    وہ اک چراغ تھا میں نے اسے بجھایا ہے

    اشعار
    ۔۔۔۔۔۔
    اجالے اپنی یادوں کے ہمارے ساتھ رہنے دو
    نہ جانے کس گلی میں زندگی کی شام ہو جائے

    زندگی تو نے مجھے قبر سے کم دی ہے زمیں
    پاؤں پھیلاؤں تو دیوار میں سر لگتا ہے

    کچھ تو مجبوریاں رہی ہوں گی
    یوں کوئی بے وفا نہیں ہوتا

    دشمنی جم کر کرو لیکن یہ گنجائش رہے
    جب کبھی ہم دوست ہو جائیں تو شرمندہ نہ ہوں

    نہ جی بھر کے دیکھا نہ کچھ بات کی
    بڑی آرزو تھی ملاقات کی

    ہر دھڑکتے پتھر کو لوگ دل سمجھتے ہیں
    عمریں بیت جاتی ہیں دل کو دل بنانے میں

    یہاں لباس کی قیمت ہے آدمی کی نہیں
    مجھے گلاس بڑے دے شراب کم کر دے

    مسافر ہیں ہم بھی مسافر ہو تم بھی
    کسی موڑ پر پھر ملاقات ہوگی

    بڑے لوگوں سے ملنے میں ہمیشہ فاصلہ رکھنا
    جہاں دریا سمندر سے ملا دریا نہیں رہتا

    تم مجھے چھوڑ کے جاؤ گے تو مر جاؤں گا
    یوں کرو جانے سے پہلے مجھے پاگل کر دو

    محبتوں میں دکھاوے کی دوستی نہ ملا
    اگر گلے نہیں ملتا تو ہاتھ بھی نہ ملا

    کوئی ہاتھ بھی نہ ملائے گا جو گلے ملو گے تپاک سے
    یہ نئے مزاج کا شہر ہے ذرا فاصلے سے ملا کرو

    ہم تو کچھ دیر ہنس بھی لیتے ہیں
    دل ہمیشہ اداس رہتا ہے

    خدا کی اتنی بڑی کائنات میں میں نے
    بس ایک شخص کو مانگا مجھے وہی نہ ملا

    سر جھکاؤ گے تو پتھر دیوتا ہو جائے گا
    اتنا مت چاہو اسے وہ بے وفا ہو جائے گا

    گھروں پہ نام تھے ناموں کے ساتھ عہدے تھے
    بہت تلاش کیا کوئی آدمی نہ ملا

    تم محبت کو کھیل کہتے ہو
    ہم نے برباد زندگی کر لی

    حسیں تو اور ہیں لیکن کوئی کہاں تجھ سا
    جو دل جلائے بہت پھر بھی دل ربا ہی لگے

    اڑنے دو پرندوں کو ابھی شوخ ہوا میں
    پھر لوٹ کے بچپن کے زمانے نہیں آتے

    اگر تلاش کروں کوئی مل ہی جائے گا
    مگر تمہاری طرح کون مجھ کو چاہے گا

    اتنی ملتی ہے مری غزلوں سے صورت تیری
    لوگ تجھ کو مرا محبوب سمجھتے ہوں گے

    گفتگو ان سے روز ہوتی ہے
    مدتوں سامنا نہیں ہوتا

    نہ تم ہوش میں ہو نہ ہم ہوش میں ہیں
    چلو مے کدہ میں وہیں بات ہوگی

    بھلا ہم ملے بھی تو کیا ملے وہی دوریاں وہی فاصلے
    نہ کبھی ہمارے قدم بڑھے نہ کبھی تمہاری جھجک گئی

    ابھی راہ میں کئی موڑ ہیں کوئی آئے گا کوئی جائے گا
    تمہیں جس نے دل سے بھلا دیا اسے بھولنے کی دعا کرو

    اسی شہر میں کئی سال سے مرے کچھ قریبی عزیز ہیں
    انہیں میری کوئی خبر نہیں مجھے ان کا کوئی پتہ نہیں

    شہرت کی بلندی بھی پل بھر کا تماشا ہے
    جس ڈال پہ بیٹھے ہو وہ ٹوٹ بھی سکتی ہے

    عاشقی میں بہت ضروری ہے
    بے وفائی کبھی کبھی کرنا

    آنکھوں میں رہا، دل میں اتر کر نہیں دیکھا
    کشتی کے مسافر نے سمندر نہیں دیکھا

    پتھر مجھے کہتا ہے مرا چاہنے والا
    میں موم ہوں اس نے مجھے چھو کر نہیں دیکھا

    لوگ ٹوٹ جاتے ہیں ایک گھر بنانے میں
    تم ترس نہیں کھاتے بستیاں جلانے میں

    بھول شاید بہت بڑی کر لی
    دل نے دنیا سے دوستی کر لی

    میں جب سو جاؤں ان آنکھوں پہ اپنے ہونٹ رکھ دینا
    یقیں آ جائے گا پلکوں تلے بھی دل دھڑکتا ہے

    وہ چہرہ کتابی رہا سامنے
    بڑی خوب صورت پڑھائی ہوئی

    دشمنی کا سفر اک قدم دو قدم
    تم بھی تھک جاؤ گے ہم بھی تھک جائیں گے

    تمہیں ضرور کوئی چاہتوں سے دیکھے گا
    مگر وہ آنکھیں ہماری کہاں سے لائے گا

    اسی لئے تو یہاں اب بھی اجنبی ہوں میں
    تمام لوگ فرشتے ہیں آدمی ہوں میں

    جی بہت چاہتا ہے سچ بولیں
    کیا کریں حوصلہ نہیں ہوتا

    پتھر کے جگر والو غم میں وہ روانی ہے
    خود راہ بنا لے گا بہتا ہوا پانی ہے

    محبت ایک خوشبو ہے ہمیشہ ساتھ چلتی ہے
    کوئی انسان تنہائی میں بھی تنہا نہیں رہتا

    اچھا تمہارے شہر کا دستور ہو گیا
    جس کو گلے لگا لیا وہ دور ہو گیا

    کبھی کبھی تو چھلک پڑتی ہیں یوں ہی آنکھیں
    اداس ہونے کا کوئی سبب نہیں ہوتا

    عجب چراغ ہوں دن رات جلتا رہتا ہوں
    میں تھک گیا ہوں ہوا سے کہو بجھائے مجھے

    سات صندوقوں میں بھر کر دفن کر دو نفرتیں
    آج انساں کو محبت کی ضرورت ہے بہت

    ایک عورت سے وفا کرنے کا یہ تحفہ ملا
    جانے کتنی عورتوں کی بد دعائیں ساتھ ہیں

    اگر فرصت ملے پانی کی تحریروں کو پڑھ لینا
    ہر اک دریا ہزاروں سال کا افسانہ لکھتا ہے

    بہت دنوں سے مرے ساتھ تھی مگر کل شام
    مجھے پتا چلا وہ کتنی خوب صورت ہے

    خدا ایسے احساس کا نام ہے
    رہے سامنے اور دکھائی نہ دے

    رونے والوں نے اٹھا رکھا تھا گھر سر پر مگر
    عمر بھر کا جاگنے والا پڑا سوتا رہا

    جس دن سے چلا ہوں مری منزل پہ نظر ہے
    آنکھوں نے کبھی میل کا پتھر نہیں دیکھا

    دل کی بستی پرانی دلی ہے
    جو بھی گزرا ہے اس نے لوٹا ہے

    تری آرزو تری جستجو میں بھٹک رہا تھا گلی گلی
    مری داستاں تری زلف ہے جو بکھر بکھر کے سنور گئی

    کبھی تو آسماں سے چاند اترے جام ہو جائے
    تمہارے نام کی اک خوبصورت شام ہو جائے

  • اکبرالہ آبادی کا یوم وفات

    اکبرالہ آبادی کا یوم وفات

    رقیبوں نے رپٹ لکھوائی ہے جاجا کے تھانے میں
    کہ اکبر نام لیتا ہے خدا کا اس زمانے میں

    اکبر الہ آبادی

    اکبر کی شاعری اور ان کی شعری زبان آج بھی سیاسی ڈسکورس کا حصہ بنتی نظر آتی ہے ،تو ہمیں غور کرنا چاہیے کہ ان کی شاعری میں طلوع ہونے والی آنکھ کتنی دور دیکھ رہی تھی ۔

    لسان العصراکبرالہ آبادی(سیداکبرحسین رضوی (1921-1846)الہ آباد کےقصبےبارہ میں پیدا ہوئےطنزیہ اورمزاحیہ شاعری کےلیے مشہور اکبرکی ملازمت عرضی نویسی سےشروع ہوکروکالت،پھرسیشن جج کےعہدےپرختم ہوتی ہے ۔ان کادورنوآبادیاتی دورہے،اورشاید یہ اس دور کا ہی اثر تھا، جس نےداغ اور امیر مینائی کے رنگ میں روایتی غزل کہنے والے اکبر کی شاعری کا اندازہی بدل دیا۔ ان کی شاعری اسی بدلے ہوئے رنگ کی شاعری ہے جس میں اکبر کا عہد سانس لیتا ہے-

    طفل میں بو آئے کیا ماں باپ کے اطوار کی
    دودھ تو ڈبے کا ہے تعلیم ہے سرکار کی
    کوٹ اور پتلون جب پہنا تو مسٹر بن گیا
    جب کوئی تقریر کی جلسے میں لیڈر بن گیا

    شاعری سے قطع نظر اگر اکبر کی زندگی یا شخصیت کی بات کریں تو ایسے کئی سوال اٹھائے جا سکتے ہیں،جن پر مکالمہ قائم کیا جا سکتا ہے ۔ مثلاًاکبر نے دو شادیاں کیں، اپنی پہلی بیوی اور بچوں کے ساتھ ان کا رویہ اچھا نہیں تھا۔ دوسرے 1898میں برطانیہ حکومت سے ’خان بہادر‘کا خطاب لیا،پھر 1903میں اپنی دوسری بیوی کے بیٹے سید عشرت حسین رضوی کو اعلیٰ تعلیم کے لیے انگلستان بھیجا، جہاں ان کے بیٹے نے 3 سال کی پڑھائی کوختم کرنے میں 7سال لگا دیے اور واپس اس وقت آئے جب اکبر نے انھیں خرچ دینےسے منع کر دیا، خود اکبر نے اپنے ایک شعر میں اس کی طرف اشارہ کیاہے-

    عشرتی گھر کی محبت کا مزا بھول گئے
    کھا کے لندن کی ہوا عہد وفا بھول گئے

    ان سوالات کی اہمیت اپنی جگہ،لیکن یہ بات شاید اس سے زیادہ اہم ہے کہ ان کی شاعری ہندوستان میں بہہ رہی لندنی ہوا سے پھیلنے والے امراض کی صرف نشاندہی نہیں کرتی بلکہ اس کے دیر پا اثرات سے بھی خبردار کرتی ہے-

    افسوس ہے گلشن کو خزاں لوٹ رہی ہے
    شاخ گل تر سوکھ کے اب ٹوٹ رہی ہے
    ہند سے آپ کو ہجرت ہو مبارک اکبر
    ہم تو گنگا ہی پہ مار کے آسن بیٹھے
    میں کہتا ہوں ہندو مسلمان سے کہ بھائی
    موجوں کی طرح لڑومگر ایک رہو

    اکبر کی شاعری اس انسان کے احساسات و جذبات کی ترجمانی ہےجو غیرمعمولی ذہن رکھتا ہے۔وہ پرانی قدروں سے محبت بھی کرتا ہے اور زمانے کے مزاج کو بھی دیکھ رہا ہے،لوگوں کے متغیر کردارکودیکھ رہا ہےاوروہ یہ بھی جانتا ہے کہ اس میں اتنی قوت نہیں کہ وہ حکومت کا تختہ پلٹ دے ،لیکن وہ اس کو چپ چاپ قبول کر لینے کو تیار نہیں ہے۔ لہذا وہ انگریزی تہذیب پر ہنستا ہے ،طنز کرتا ہے ،اس کامذاق اڑاتا ہے ۔ وہ یہ بھی جانتا ہے کہ قدیم وجدید کی اس لڑائی میں نقصان صرف ہندوستانیوں کا ہی ہے-

    قدیم و ضع پہ قائم ہوں میں اگر اکبر
    تو صاف کہتے ہیں سید یہ رنگ ہے میلا
    جدید طرز اگر اختیار کرتا ہوں
    تو اپنی قوم مچاتی ہے شور واویلا
    غرض دو گونہ عذاب است جان مجنوں را
    بلائے صحبت ِ لیلیٰ و فرقت لیلیٰ

    اکبر اپنے دور میں اتنے مقبول شاعر تھے کہ ان کے اشعار عوام میں ضرب المثل بن گئے تھے۔عموما ًانھیں رجعت پسند کہا جاتا ہے ، لیکن اکبر اپنی شاعری میں ایسےشخص نظر آتےہیں جوبدلتی ہوئی قدروں پر گہری نظررکھتاہے اوراسی وقت ان تبدیلیوں کی آہٹ کو بھی سن رہا ہے جو آنے والے وقتوں میں ہندوستان کی تصویر بدلنے والا تھا۔اکبرنوآبادیاتی سیاست اوراس کے مضر اثرات کو بھی سمجھ رہے تھے۔ اس کا اظہار ان کی شاعری میں کھل کر ہواہے۔ جب اکبر جوڈیشل سروس میں تھے اس وقت بھی ان کی شاعری میں حکومت کے خلاف شدیداحتجاجی بیانیہ اپنی راہ بنا رہا تھا۔یہ اور بات ہے کہ انھوں نے اس پر طنز و مزاح کا شوخ رنگ چڑھا دیا تھا-

    نیٹو نہیں ہو سکتے جو گورے تو ہے کیا غم
    گورے بھی تو بندے سے خدا ہو نہیں سکتے
    یا الہی یہ کیسے بندر ہیں
    ارتقا پر بھی آدمی نہ ہوئے

    ان کی شاعری کو پڑھ کر لگتا ہے کہ اپنےثقافتی اقدار کا ایسا مرثیہ کوئی ’رجعت پسند‘ہی پڑھ سکتا ہے،جو نوآبادیاتی نظام کے زیر اثر مر رہی تھی-
    اب کہاں ذہن میں باقی ہیں براق و رفرف
    ٹکٹی بندھ گئی ہے قوم کی انجن کی طرف
    اس قوم سے وہ عادت دیرینہ طاعت
    بالکل نہیں چھوٹی ہے مگر چھوٹ رہی ہے

    اکبرکی شاعری میں ریل، انجن،موٹر،ایروپلین ،کمپ (Camp)،پمپ،جیسی دوسری ‘جدید’اشیا کاعلامتی استعمال،ان کی پس نوآبادیاتی (Postcolonial) فکر کا علامیہ ہے۔انھوں نے اپنی شاعری میں ان تمام اشیاکو ایسی علامتوں کے طور پر استعمال کیا ہے جو ہندوستان کی ترقی کے نام پر نوآبادیاتی نظام کے استحکام سے عبارت تھیں۔

    آج ہم سب اس حقیقت سے واقف ہیں کہ انگریزوں نے اگر ہندوستان میں ریل چلائی تو اس کے پیچھے ان کا مقصد ہندوستان کی ترقی نہیں بلکہ ان اندرونی علاقوں تک رسائی حاصل کرنا تھی،جہاں خام مال کا ذخیرہ موجود تھا۔یہی خام مال برطانیہ میں آئے صنعتی انقلاب میں کیا اہمیت رکھتا ہے ، اس کوتاریخ کی کتابوں میں آسانی سے پڑھا جا سکتا ہے ،اس کے علاوہ اس عمل نے ہندوستان کی صنعتی ترقی پر کیا اثر ڈالا یہ بات بھی اب چھپی نہیں۔

    نوآبادیاتی دور میں یہ سمجھنا اتنا آسان نہیں تھا، جبکہ اس وقت ہر کوئی آسانی سے’ نوآبادیاتی چکر‘ کا شکار ہو رہا تھا۔ اس نقطہ نظر کو دھیان میں رکھ کر جب ہم اکبر کی شاعری سے معاملہ کرتے ہیں تو نوآبادیاتی ڈسکورس کے خلاف اکبر کا احتجاج اتنا سطحی نہیں لگتا جتنا باور کرایا جاتا ہے۔اکبر کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ رجعت پسند تھے اورجدید تعلیم کے خلاف تھے۔حالاں کہ اکبر اس وقت بھی نوآبادیاتی نقاب کے پیچھے چھپی سچائی کو جانتے تھے ،جب سر سید حالی اور آزاد مغربی تعلیم حاصل کرنے کو زندگی کا اول و آخر مقصد تسلیم کر چکے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ اکبر پس نوآبادیاتی مطالعات کی ایک اہم آواز ہیں اور ان کی شاعری پس نوآبادیاتی ردعمل کا شدید بیانیہ ہے ؛
    مرعوب ہو گئے ہیں ولایت سے شیخ جی
    اب صرف منع کرتے ہیں دیسی شراب کو

    اکبر جانتے تھے کہ انگریز ہندوستانی ذہن کو ناکارہ بنا رہا ہے۔جدید تعلیم اور تہذیب کے نام پر جو چیزیں ہمیں دکھا رہا ہے ، ان کا تعلق صرف اور صرف اس کا ذاتی مفاد ہےاور کچھ نہیں۔اکبر اوردوسرے لوگ اپنی جو پہچان مذہب میں تلاش رہے تھے وہ بھی نوآبادیات کے’محدودو تشخص’ کی ایک چال کہی جا سکتی ہے۔ یہ اور بات ہے کہ اکبر نوآبادیاتی حکمت عملی کو بخوبی سمجھتے تھے۔نظم ‘برق کلیسا’ میں شامل ان کے ان ا شعار میں چھپے طنز کو آسانی سے سمجھا جا سکتا ہے-

    مجھ پہ کچھ وجہ عتابا آپ کو اے جان نہیں
    نام ہی نام ہے ورنہ میں مسلمان نہیں
    میرے اسلام کو اک قصہ ماضی سمجھو
    ہنس کہ بولی کہ تو پھر مجھ کو بھی راضی سمجھو

    حسن عسکری نے اکبر کو اردو کا ’جدید ترین شاعر‘ کہا ہے تو شمس الرحمن فاروقی انھیں پہلے شخص کے طور پر یاد کرتے ہیں جنھوں نے نوآبادیات کی حقیقت کو بہت پہلے ہی سمجھ لیا تھا-

    اکبر پہلے شخص ہیں جن کو بدلتے ہوئے زمانے ،اس زمانے میں اپنی تہذیبی اقدار کے لئے خطرہ، اور انگریزی تعلیم و ترقی کو انگریزی سامراج کے قوت مند ہتھیارہونے کا احساس شدت سے تھا اور انہوں نے اس کے مضمرات کو بہت پہلے دیکھ لیا تھا ۔ اس معاملے میں مہاتما گاندھی اور اقبال بھی ان کے بعد ہیں۔

    مزید لکھتے ہیں؛’مغربی تہذیب کے لئے اکبر نے بعض الفاظ وضع کئے مثلاًبرگڈ(Brigade)،کمپ (Camp)،توپ ،انجن ،وغیرہ جو علامت کا حکم رکھتے ہیں اور جن کی کارفرمائی ہم آج بھی دیکھ سکتے ہیں ۔برگڈ سے ان کی مراد وہ ہندوستانی تھے جو انگریزوں کے وفادار تھے۔اور کیمپ سے ان کی مراد مغربی معاشرت تھی ۔

    توپ ،استعماری قوت کے اظہار اور انجن اس قوت کو پھیلانے والے ذرائع کا استعارہ ہیں ۔‘عسکری صاحب نے بہت درست کہا ہے کہ’اکبر اس زمانے میں واحد شخص تھے جنہوں نے انگریزوں کی لائی ہوئی چیزوں میں استعارے اور علامتیں دیکھیں اور اکبر کے سوا کوئی ایسا نہ ہوا جو ’نشان‘کو ’علامت ‘کا درجہ دینے میں کامیاب ہوا ہو۔‘علامت کی اپنی اہمیت ہے جو معنوی سیاق کو وسعت عطا کرتی ہے۔ لیکن ہم ان الفاظ کو علامت کے علاوہ یوں بھی دیکھیں تو اس کی معنوی اہمیت کم نہیں ہوتی-

    ازراہ تعلق کوئی جوڑا کرے رشتہ
    انگریز تو نیٹو کے چچا ہو نہیں سکتے
    ہم ہوں جو کلکٹر تو وہ ہو جائیں کمشنر
    ہم ان سے کبھی عہدہ براہو نہیں سکتے

    انگریزوں کا مقصد ظاہر ہے ہندوستان کی ترقی کسی صورت نہ تھا۔ ہاں اگر اس سے تھوڑا بہت فرق پڑبھی گیا ’ترقی‘کے خانے میں تو اسے ترقی قرار دینا نادانی ہے کہ یہ ترقی برسوں کے استحصال اور ہندوستان کی لوٹ پاٹ کے سامنے ’ترقی‘تو کسی بھی طور پر نہیں کہی جا سکتی۔ انگریزوں کی آمد اور ان کے دور حکومت میں ہندوستانیوں کا استحصال کسی بھی ’ترقی‘سے زیادہ بڑا اور افسوس ناک المیہ ہے۔ اکبر ان چیزوں سے باخبر تھے اور نئے ہندوستان میں ہندوستانیوں کی تصویر یوں اتار رہے تھے-

    میری نصیحتوں کو سن کر وہ شوخ بولا
    نیٹو کی کیا سند ہے صاحب کہیں تو مانوں

    ‘نیٹو’اور ‘صاحب’کے درمیان کادوجاپن(otherness)اور اس کی پوری نفسیات کو اس ایک شعر میں اکبر نے بہت خوبصورتی سے پیش کیا ہے۔یہاں Hybridاشخاص کی وہ ذہنیت بھی دیکھی جا سکتی ہے جس کے تحت ان میں حاکم کا ‘دوجا’ رویہ (otherness) بھی شامل ہو جاتا ہے۔ گویا اس کی نظر میں اپنے ہندوستانی بھائی بہن ہی ‘نیٹو ‘(کالے)بن جاتے ہیں۔ایک شعر اورملاحظہ کریں-

    مٹاتے ہیں جو وہ ہم کو تو اپنا کام کرتے ہیں
    مجھے حیرت تو ان پر ہے جو اس مٹنے پہ مٹتے ہیں

    اکبر نہ صرف حاکم کی سیاسی پالیسی، نوآبادیاتی بیانیہ اور اس کے پس پشت کام کر رہے عناصر سے واقف تھے بلکہ محکوم قوم کی نفسیاتی حالت کا بھی انھیں بخوبی اندازہ تھا۔یوں اکبر کا شعری بیانیہ پس نوآبادیات کی مستحکم آواز کہا جا سکتا ہے اور ہم کہہ سکتے ہیں کہ وہ تعلیم یا ترقی کے مخالف نہیں تھے بلکہ نوآبادیاتی نظام اور اس کے متعلقات کے خلاف تھے۔ وہ طنز و مزاح کے بڑے اور غیر معمولی شاعر اسی لیے بھی ہیں کہ انہوں نے پس نوآبادیاتی بیانیہ کی شعری زبان دریافت کی اور اس میں ظلم وجبر کے علائم کو خلق کر دیا ۔یہ وہ شعری بیانیہ ہے جن میں تاریخی صداقتوں کی طرح تعصب نہیں ہے ،اپنوں کا درد ہے اور اس میں زندگی کر نے کا حوصلہ بھی-

    چیز وہ ہے بنے جو یورپ میں
    بات وہ ہے جو پانیر میں چھپے

    ہماری تہذیب و ثقافت کے سارے تذکرے اب صرف کتابوں کی زینت ہو کر رہ گئےہیں۔ ہم نے خود اپنے ہی ہاتھوں ان کا گلا گھونٹا۔ دیکھیے اکبر کیا کہتے ہیں-

    ہماری اصطلاحوں سے زباں نا آشنا ہوگی
    لغات مغربی بازار کی بھاشا سے ضم ہوں گے
    بدل جائے گا معیار شرافت چشم دنیا میں
    زیادہ تھے جو اپنے زعم میں وہ سب سے کم ہوں گے
    گزشتہ عظمتوں کے تذکرے بھی رہ نہ جائیں گے
    کتابوں میں ہی دفن افسانہ جاہ و حشم ہوں گے

    اکبر کایہ شعری بیانیہ ہمارے زمانے کی سچائی ہے اور کئی زمانوں کی ہمعصر تاریخ بھی اس میں گویا ہے۔ نوآبادیات نے ہندوستان کی ہندوستانیت کو بدل دیا ۔ تہذیب و ثقافت کو مسخ کیا اور’کلچر‘کو نئے معنی دیے۔صرف یورپی کلچر’کلچر‘قرار پایا۔ہم آج بھی اس سے نبردآزماہیں اور تاریخی سیاق بدل جانے کے بعد بھی ان کے شعر بامعنی ہیں-

    قوم کے غم میں ڈنر کھاتے ہیں حکام کے ساتھ
    رنج لیڈر کو بہت ہے مگر آرام کے ساتھ

    اس طرح کی شاعری اور ان کی شعری زبان آج بھی سیاسی ڈسکورس کا حصہ بنتی نظر آتی ہے ،تو ہمیں غور کرنا چاہیے کہ اکبر کی شاعری میں طلوع ہونے والی آنکھ کتنی دور دیکھ رہی تھی۔

    منتخب اشعار
    ۔۔۔۔۔۔۔
    ہم آہ بھی کرتے ہیں تو ہو جاتے ہیں بد نام
    وہ قتل بھی کرتے ہیں تو چرچا نہیں ہوتا

    عشق نازک مزاج ہے بے حد
    عقل کا بوجھ اٹھا نہیں سکتا

    دنیا میں ہوں دنیا کا طلب گار نہیں ہوں
    بازار سے گزرا ہوں خریدار نہیں ہوں

    حیا سے سر جھکا لینا ادا سے مسکرا دینا
    حسینوں کو بھی کتنا سہل ہے بجلی گرا دینا

    جو کہا میں نے کہ پیار آتا ہے مجھ کو تم پر
    ہنس کے کہنے لگا اور آپ کو آتا کیا ہے

    مذہبی بحث میں نے کی ہی نہیں
    فالتو عقل مجھ میں تھی ہی نہیں

    پیدا ہوا وکیل تو شیطان نے کہا
    لو آج ہم بھی صاحب اولاد ہو گئے

    آئی ہوگی کسی کو ہجر میں موت
    مجھ کو تو نیند بھی نہیں آتی

    رہتا ہے عبادت میں ہمیں موت کا کھٹکا
    ہم یاد خدا کرتے ہیں کر لے نہ خدا یاد

    لوگ کہتے ہیں بدلتا ہے زمانہ سب کو
    مرد وہ ہیں جو زمانے کو بدل دیتے ہیں

    اکبر دبے نہیں کسی سلطاں کی فوج سے
    لیکن شہید ہو گئے بیوی کی نوج سے

    ہنگامہ ہے کیوں برپا تھوڑی سی جو پی لی ہے
    ڈاکا تو نہیں مارا چوری تو نہیں کی ہے

    الٰہی کیسی کیسی صورتیں تو نے بنائی ہیں
    کہ ہر صورت کلیجے سے لگا لینے کے قابل ہے

    میں بھی گریجویٹ ہوں تم بھی گریجویٹ
    علمی مباحثے ہوں ذرا پاس آ کے لیٹ

    بس جان گیا میں تری پہچان یہی ہے
    تو دل میں تو آتا ہے سمجھ میں نہیں آتا

    بی.اے. بھی پاس ہوں ملے بی بی بھی دل پسند
    محنت کی ہے وہ بات یہ قسمت کی بات ہے

    آہ جو دل سے نکالی جائے گی
    کیا سمجھتے ہو کہ خالی جائے گی

    لپٹ بھی جا نہ رک اکبرؔ غضب کی بیوٹی ہے
    نہیں نہیں پہ نہ جا یہ حیا کی ڈیوٹی ہے

    ہم ایسی کل کتابیں قابل ضبطی سمجھتے ہیں
    کہ جن کو پڑھ کے لڑکے باپ کو خبطی سمجھتے ہیں

    غضب ہے وہ ضدی بڑے ہو گئے
    میں لیٹا تو اٹھ کے کھڑے ہو گئے

    خدا سے مانگ جو کچھ مانگنا ہے اے اکبرؔ
    یہی وہ در ہے کہ ذلت نہیں سوال کے بعد

    کھینچو نہ کمانوں کو نہ تلوار نکالو
    جب توپ مقابل ہو تو اخبار نکالو

    ہم کیا کہیں احباب کیا کار نمایاں کر گئے
    بی اے ہوئے نوکر ہوئے پنشن ملی پھر مر گئے

    عشق کے اظہار میں ہر چند رسوائی تو ہے
    پر کروں کیا اب طبیعت آپ پر آئی تو ہے

    جب میں کہتا ہوں کہ یا اللہ میرا حال دیکھ
    حکم ہوتا ہے کہ اپنا نامۂ اعمال دیکھ

    اس قدر تھا کھٹملوں کا چارپائی میں ہجوم
    وصل کا دل سے مرے ارمان رخصت ہو گیا

    دھمکا کے بوسے لوں گا رخ رشک ماہ کا
    چندا وصول ہوتا ہے صاحب دباؤ سے

    جو وقت ختنہ میں چیخا تو نائی نے کہا ہنس کر
    مسلمانی میں طاقت خون ہی بہنے سے آتی ہے

    طفل میں بو آئے کیا ماں باپ کے اطوار کی
    دودھ تو ڈبے کا ہے تعلیم ہے سرکار کی

    بتاؤں آپ کو مرنے کے بعد کیا ہوگا
    پلاؤ کھائیں گے احباب فاتحہ ہوگا

    مے بھی ہوٹل میں پیو چندہ بھی دو مسجد میں
    شیخ بھی خوش رہیں شیطان بھی بے زار نہ ہو

    محبت کا تم سے اثر کیا کہوں
    نظر مل گئی دل دھڑکنے لگا

    عشوہ بھی ہے شوخی بھی تبسم بھی حیا بھی
    ظالم میں اور اک بات ہے اس سب کے سوا بھی

    کوٹ اور پتلون جب پہنا تو مسٹر بن گیا
    جب کوئی تقریر کی جلسے میں لیڈر بن گیا

    وصل ہو یا فراق ہو اکبرؔ
    جاگنا رات بھر مصیبت ہے

    رقیبوں نے رپٹ لکھوائی ہے جا جا کے تھانے میں
    کہ اکبرؔ نام لیتا ہے خدا کا اس زمانے میں

    قوم کے غم میں ڈنر کھاتے ہیں حکام کے ساتھ
    رنج لیڈر کو بہت ہے مگر آرام کے ساتھ

    لیڈروں کی دھوم ہے اور فالوور کوئی نہیں
    سب تو جنرل ہیں یہاں آخر سپاہی کون ہے

    بوڑھوں کے ساتھ لوگ کہاں تک وفا کریں
    بوڑھوں کو بھی جو موت نہ آئے تو کیا کریں

    سو جان سے ہو جاؤں گا راضی میں سزا پر
    پہلے وہ مجھے اپنا گنہ گار تو کر لے

    جب غم ہوا چڑھا لیں دو بوتلیں اکٹھی
    ملا کی دوڑ مسجد اکبرؔ کی دوڑ بھٹی

    ناز کیا اس پہ جو بدلا ہے زمانے نے تمہیں
    مرد ہیں وہ جو زمانے کو بدل دیتے ہیں

    دل وہ ہے کہ فریاد سے لبریز ہے ہر وقت
    ہم وہ ہیں کہ کچھ منہ سے نکلنے نہیں دیتے

    شیخ اپنی رگ کو کیا کریں ریشے کو کیا کریں
    مذہب کے جھگڑے چھوڑیں تو پیشے کو کیا کریں

  • خیبر پختونخواہ  کی پہلی  اردو، پشتو، ہندکو اور انگریزی کی آرٹسٹ  بشری فرخ

    خیبر پختونخواہ کی پہلی اردو، پشتو، ہندکو اور انگریزی کی آرٹسٹ بشری فرخ

    یہ ہم ہیں جو کبھی بشری خود اپنے بھی نہیں تھے
    نہ جانے کس طرح خود کو تمہارا کر لیا ہے
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    خیبر پختونخواہ کی پہلی اردو، پشتو، ہندکو اور انگریزی کی آرٹسٹ

    ترقی پسند اور عوام دوست ادیبہ ، شاعرہ مصنفہ اور کمپیئر

    خیبر پختونخواہ کی پہلی صاحب کتاب نعت گو شاعرہ

    تحریر: آغا نیاز مگسی

    16فروری 1954ء میں پیداہونےوالی بشری صاحبہ کاشمار پاکستان کی صف اول کی ادیبہ، مصنفہ اورشاعرات میں ہوتا ہےوہ خیبر پختونخواہ کی پہلی اور واحد خاتون ہیں جنہیں بیک وقت ادیبہ،شاعرہ،مصنفہ، کمپیئر اور ریڈیو اور پی ٹی وی کے 2000 سے زائد پروگرام کرنے کا اعزاز حاصل ہے انہوں نے 100 سےزائد ایوارڈز حاصل کیے ہیں بشری صاحبہ نے 1979 میں پی ٹی وی کےسینیئرآفیسرفرخ سیر صاحب سے شادی کی جن سے انہیں 4 بیٹیاں پیدا ہوئیں۔

    شادی کے 20 سال بعد ان کے شوہر کی وفات ہو گئی جس کی وجہ سے بچیوں کی تعلیم اور تربیت کی تمام تر ذمہ داریاں ان کے کاندھوں پر آ گئیں جو کہ انہوں نے بہتر طور پر نبھائیں۔ بشری فرخ صاحبہ نے اپنی شاعری کا پہلا شعر اپنے خاوند مرحوم کی قبر کے سرہانے کھڑے ہو کر لکھا جس کے بعد ان کی شاعری میں مسلسل روانی آتی گئی۔

    بشری صاحبہ ایک ترقی پسند سوچ کی مالک ہیں وہ حکومت کی کارکردگی سے مطمئن نہیں عوام کی مشکلات اور مسائل پر انہیں بہت تشویش لاحق رہتی ہے۔ جنوری 2017 میں انہوں نے خواتین لکھاریوں کے لیے ” کاروان حوا لٹریری فورم” کا قیام عمل میں لایا جس سے خواتین لکھاریوں اور شاعرات کی صلاحیتوں کو اجاگر کرنے کے لیے بھرپور کردار ادا کیا جا رہا ہے۔

    تصانیف اور ایوارڈز
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    اک قیامت ہے لمحہ موجود (اردوشاعری) ، ادھوری محبت کا پوراسفر (اردوشاعری) ، بہت گہری اداسی ہے (اردوشاعری) ، محبتاں دے مزاج وکھرے (ہندکوشاعری) ، جدائی بھی ضروری ہے (اردوشاعری) ، خمینی کے ایران میں (سفرنامہ) ، ورفعنالک ذکرک (نعتیہ مجموعہ) ، مجھے آواز مت دینا (اردوشاعری) ، توکجا من کجا (نعتیہ مجموعہ)

    بشریٰ فرخ کو ملنےوالے مختلف ایوارڈز کی تعداد ڈیڑھ سو سےزائد ہےچند قابل ذکر ایوارڈز یہ ہیں: سردارعبدالرب نشتر ایوارڈ (گولڈمیڈل) ، ہندکو ورلڈ کانفرنس ایوارڈ، بزم بہارادب سلور جوبلی ایوارڈ، سٹی ڈسٹرکٹ گورنمنٹ ایوارڈ، فروغ ادب ایوارڈ، روزن انٹرنیشنل لٹریری ایوارڈ، تانگ وسیب ایوارڈ، خیبرکالج آف کامرس شیلڈ، عظیم ویلفیر سوسائٹی ایوارڈ، پی ٹی وی ایوارڈ (بیسٹ پرفارمنس ایوارڈ)، اگفاایوارڈ، فرنٹیئر کلچرکلب ایوارڈ، فرنٹیئرآرٹس کونسل ایوارڈ، میر آرٹس سوسائٹی ایوارڈ، پاکستان آرٹسٹ اکویلیٹی ایوارڈ

    بشری فرخ صاحبہ کی شاعری سے انتخاب
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    بدلاؤ کیسا شہر ستمگر میں آگیا
    وہ صبح خیز شام کے منظر میں آگیا
    ہر اک گزرنے والا کھلے در کو دیکھ کر
    دستک دیے بغیر مرے گھر میں آگیا
    دھندلا گیا تھا پھر مری یادوں کا آئینہ
    اک اشک تھا جو آنکھ کے پتھر میں آگیا
    احساسِ تشنگی کو مٹانے کے واسطے
    جانے کہاں سے قطرہ سمندر میں آگیا
    دل سے نکل چکا تھا مگر گھوم گھام کے
    پھر درد تیرا یاد کے ساگر میں آگیا
    خوش تھا وہ میرے درد کے بخیے ادھیڑ کر
    آنسو کہاں سے چشمِ گل تر میں آگیا
    خود اپنی ذات سے میرا رشتہ بحال تھا
    جو عکس آئینہ ہوا ، پتھر میں آگیا
    بجھنے کے میں قریب تھی بشریٰ کہ یک بیک
    اک آفتاب اتر کے میرے گھر میں آگیا

    غزل
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    یہ ہفت آسماں بحروبر چار دن کا
    یہ رشتے یہ ناطے یہ گھر چار دن کا
    گھنی چھاؤں والا شجر چار دن کا
    بنایا تھا پانی پہ گھر چار دن کا
    یہ دنیائے فانی تو ہے آنی جانی
    یہاں آدمی کا گزر چار دن کا
    محبت کبھی راس آئی نہ ہم کو
    کہ جو بھی ملا ہمسفر چار دن کا

    غزل
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    موافق نہیں دل کی آب و ہوا بھی
    خوشی ہو کہ غم ،ہے اثر چار دن کا
    یہ شہر ہنرور وہی ہے جہاں پر
    ہنر ور کا دست ہنر چار دن کا
    خرد یا جنوں ہو محبت یا نفرت
    یہ سارا ہی ہے شور و شر چار دن کا
    یہ جبہ و دستار عزت و شہرت
    یہ جتنا بھی ہے کر و فر چار دن کا

    غزل
    ۔۔۔۔۔۔۔۔
    تمہارا غم خوشی کا استعارہ کر لیا ہے
    گزارا ہی تو کرنا تھا،گزاراکر لیا ہے
    سلگتے موسموں کو ابر پارہ کر لیا ہے
    برا بر ہجر کا ہر گوشوارہ کر لیا ہے
    بقدرِ ظرف بڑھا لی ہے استعداد دل نے
    کسی کی بے وفائی کو گوارا کر لیا ہے
    میں اپنے آپ میں یوں دفن ہوتی جا رہی ہوں
    کہ کچھ مجروح جذبوں کا نظارہ کر لیا ہے
    کسی بھی سانحے کو اب صدا دیتا نہیں یہ
    دلِ شعلہ فشاں کو یوں شرارہ کر لیا ہے
    نہ پوچھو ہم سے احوالِ دروں،کار جنوں میں
    منافع ہونے والا تھا،خسارہ کر لیا ہے
    جو کرب ذیست کی روداد چہرے پر ہے رقصاں
    بتاتی ہے، محبت نے کنارا کر لیا ہے
    تھی غیر آباد جانے کب سے خوابوں کی حویلی
    اِک امکاں کو مکیں اس میں دوبارہ کر لیا ہے
    یہ ہم ہیں ،جو کبھی بشریٰ خود اپنے بھی نہیں تھے
    نہ جانے کس طرح خود کو تمہارا کر لیا ہے

  • کہتے ہیں جیتے ہیں امید پہ لوگ ، ہم کو جینے کی بھی امید نہیں

    کہتے ہیں جیتے ہیں امید پہ لوگ ، ہم کو جینے کی بھی امید نہیں

    ہوگا کوئی ایسا بھی کہ غالب کو نہ جانے
    شاعر تو وہ اچھا ہے پہ بدنام بہت ہے

    نجم الدولہ، دبیر الملک، مرزا نوشہ اسد اللہ خان غالب بہادر نظام جنگ (27دسمبر 1797ء – 15 فروری 1869ء) اردو زبان کے سب سے بڑے شاعروں میں ایک ہیں۔ غالب کی عظمت کا راز صرف ان کی شاعری کے حسن اور بیان کی خوبی ہی میں نہیں ہے۔ ان کاا صل کمال یہ ہے کہ وہ ز ندگی کے حقائق اور انسانی نفسیات کو گہرائی میں جاکر سمجھتے تھے اور بڑی سادگی سے عام لوگوں کے لیے بیان کردیتے تھے۔ غالب جس پر آشوب دور میں پیدا ہوئے، اس میں انھوں نے مسلمانوں کی ایک عظیم سلطنت کو برباد ہوتے ہوئے اور باہر سے آئی ہوئی انگریز قوم کو ملک کے اقتدار پر چھاتے ہوئے دیکھا۔ غالباً یہی وہ پس منظر ہے جس نے ان کی نظر میں گہرائی اور فکر میں وسعت پیدا کی۔
    مرزا غالب کا نام اسد اللہ بیگ خاں تھا۔ باپ کا نام عبداللہ بیگ تھا ۔ آپ 27 دسمبر 1797ء میں آگرہ میں پیدا ہوئے۔ غالب بچپن ہی میں یتیم ہو گئے تھے ان کی پرورش ان کے چچا مرزا نصر اللہ بیگ نے کی لیکن آٹھ سال کی عمر میں ان کے چچا بھی فوت ہوگئے۔ نواب احمد بخش خاں نے مرزا کے خاندان کا انگریزوں سے وظیفہ مقرر کرا دیا۔ 1810ء میں تیرہ سال کی عمر میں ان کی شادی نواب احمد بخش کے چھوٹے بھائی مرزا الہٰی بخش خاں معروف کی بیٹی امراءبیگم سے ہو گئی شادی کے بعد انھوں نے اپنے آبائی وطن کو خیر باد کہہ کر دہلی میں مستقل سکونت اختیار کرلی۔
    شادی کے بعد مرزا کے اخراجات بڑھ گئے اور مقروض ہوگئے۔ اس دوران میں انہیں مالی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ور قرض کا بوجھ مزید بڑھنے لگا۔ آخر مالی پریشانیوں سے مجبور ہو کر غالب نے قلعہ کی ملازمت اختیار کر لی اور 1850ء میں بہادر شاہ ظفر نے مرزا غالب کو نجم الدولہ دبیر الملک نظام جنگ کا خطاب عطا فرمایا اور خاندان تیموری کی تاریخ لکھنے پر مامور کر دیا اور 50 روپے ماہور مرزا کا وظیفہ مقرر ہوا۔
    غدر کے بعد مرزا کی سرکاری پنشن بھی بند ہو گئی ۔ چنانچہ انقلاب 1857ء کے بعد مرزا نے نواب یوسف علی خاں والی رامپور کو امداد کے لیے لکھا انہوں نے سو روپے ماہوار وظیفہ مقرر کر دیا جو مرزا کو تادم حیات ملتا رہا۔ کثرتِ شراب نوشی کی بدولت ان کی صحت بالکل تباہ ہو گئی مرنے سے پہلے بے ہوشی طاری رہی اور اسی حالت میں 15 فروری 1869ء کو ان کی وفات ہوئی۔

    مرزا اسد اللہ خان غالب کی شاعری سے انتخاب

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    ہم کو معلوم ہے جنت کی حقیقت لیکن
    دل کے خوش رکھنے کو غالبؔ یہ خیال اچھا ہے

    عشق نے غالبؔ نکما کر دیا
    ورنہ ہم بھی آدمی تھے کام کے

    محبت میں نہیں ہے فرق جینے اور مرنے کا
    اسی کو دیکھ کر جیتے ہیں جس کافر پہ دم نکلے

    اس سادگی پہ کون نہ مر جائے اے خدا
    لڑتے ہیں اور ہاتھ میں تلوار بھی نہیں

    ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پہ دم نکلے
    بہت نکلے مرے ارمان لیکن پھر بھی کم نکلے

    ان کے دیکھے سے جو آ جاتی ہے منہ پر رونق
    وہ سمجھتے ہیں کہ بیمار کا حال اچھا ہے

    یہ نہ تھی ہماری قسمت کہ وصال یار ہوتا
    اگر اور جیتے رہتے یہی انتظار ہوتا

    رگوں میں دوڑتے پھرنے کے ہم نہیں قائل
    جب آنکھ ہی سے نہ ٹپکا تو پھر لہو کیا ہے

    عشق پر زور نہیں ہے یہ وہ آتش غالبؔ
    کہ لگائے نہ لگے اور بجھائے نہ بنے

    عشرت قطرہ ہے دریا میں فنا ہو جانا
    درد کا حد سے گزرنا ہے دوا ہو جانا

    وہ آئے گھر میں ہمارے خدا کی قدرت ہے
    کبھی ہم ان کو کبھی اپنے گھر کو دیکھتے ہیں

    نہ تھا کچھ تو خدا تھا کچھ نہ ہوتا تو خدا ہوتا
    ڈبویا مجھ کو ہونے نے نہ ہوتا میں تو کیا ہوتا

    بے خودی بے سبب نہیں غالبؔ
    کچھ تو ہے، جس کی پردہ داری ہے

    ہم کو ان سے وفا کی ہے امید
    جو نہیں جانتے وفا کیا ہے

    رنج سے خوگر ہوا انساں تو مٹ جاتا ہے رنج
    مشکلیں مجھ پر پڑیں اتنی کہ آساں ہو گئیں

    آئینہ کیوں نہ دوں کہ تماشا کہیں جسے
    ایسا کہاں سے لاؤں کہ تجھ سا کہیں جسے

    ریختے کے تمہیں استاد نہیں ہو غالبؔ
    کہتے ہیں اگلے زمانے میں کوئی میرؔ بھی تھا

    ہیں اور بھی دنیا میں سخن ور بہت اچھے
    کہتے ہیں کہ غالبؔ کا ہے انداز بیاں اور

    آہ کو چاہیے اک عمر اثر ہوتے تک
    کون جیتا ہے تری زلف کے سر ہوتے تک

    بسکہ دشوار ہے ہر کام کا آساں ہونا
    آدمی کو بھی میسر نہیں انساں ہونا

    دل ہی تو ہے نہ سنگ و خشت درد سے بھر نہ آئے کیوں
    روئیں گے ہم ہزار بار کوئی ہمیں ستاے کیوں

    عشق سے طبیعت نے زیست کا مزا پایا
    درد کی دوا پائی درد بے دوا پایا

    موت کا ایک دن معین ہے
    نیند کیوں رات بھر نہیں آتی

    یہ کہاں کی دوستی ہے کہ بنے ہیں دوست ناصح
    کوئی چارہ ساز ہوتا کوئی غم گسار ہوتا

    ہم نے مانا کہ تغافل نہ کرو گے لیکن
    خاک ہو جائیں گے ہم تم کو خبر ہوتے تک

    بازیچۂ اطفال ہے دنیا مرے آگے
    ہوتا ہے شب و روز تماشا مرے آگے

    پوچھتے ہیں وہ کہ غالبؔ کون ہے
    کوئی بتلاؤ کہ ہم بتلائیں کیا

    میری قسمت میں غم گر اتنا تھا
    دل بھی یارب کئی دیے ہوتے

    کعبہ کس منہ سے جاؤگے غالبؔ
    شرم تم کو مگر نہیں آتی

    آگے آتی تھی حال دل پہ ہنسی
    اب کسی بات پر نہیں آتی

    کہوں کس سے میں کہ کیا ہے شب غم بری بلا ہے
    مجھے کیا برا تھا مرنا اگر ایک بار ہوتا

    درد منت کش دوا نہ ہوا
    میں نہ اچھا ہوا برا نہ ہوا

    کب وہ سنتا ہے کہانی میری
    اور پھر وہ بھی زبانی میری

    کرنے گئے تھے اس سے تغافل کا ہم گلہ
    کی ایک ہی نگاہ کہ بس خاک ہو گئے

    جی ڈھونڈتا ہے پھر وہی فرصت کہ رات دن
    بیٹھے رہیں تصور جاناں کیے ہوئے

    مرتے ہیں آرزو میں مرنے کی
    موت آتی ہے پر نہیں آتی

    ہم وہاں ہیں جہاں سے ہم کو بھی
    کچھ ہماری خبر نہیں آتی

    آئینہ دیکھ اپنا سا منہ لے کے رہ گئے
    صاحب کو دل نہ دینے پہ کتنا غرور تھا

    ہر ایک بات پہ کہتے ہو تم کہ تو کیا ہے
    تمہیں کہو کہ یہ انداز گفتگو کیا ہے

    پھر اسی بے وفا پہ مرتے ہیں
    پھر وہی زندگی ہماری ہے

    کوئی میرے دل سے پوچھے ترے تیر نیم کش کو
    یہ خلش کہاں سے ہوتی جو جگر کے پار ہوتا

    کہاں مے خانہ کا دروازہ غالبؔ اور کہاں واعظ
    پر اتنا جانتے ہیں کل وہ جاتا تھا کہ ہم نکلے

    کہتے ہیں جیتے ہیں امید پہ لوگ
    ہم کو جینے کی بھی امید نہیں

    ہوگا کوئی ایسا بھی کہ غالبؔ کو نہ جانے
    شاعر تو وہ اچھا ہے پہ بدنام بہت ہے

    صادق ہوں اپنے قول کا غالبؔ خدا گواہ
    کہتا ہوں سچ کہ جھوٹ کی عادت نہیں مجھے

    غالبؔ برا نہ مان جو واعظ برا کہے
    ایسا بھی کوئی ہے کہ سب اچھا کہیں جسے

    کی مرے قتل کے بعد اس نے جفا سے توبہ
    ہائے اس زود پشیماں کا پشیماں ہونا

    قرض کی پیتے تھے مے لیکن سمجھتے تھے کہ ہاں
    رنگ لاوے گی ہماری فاقہ مستی ایک دن

    کتنے شیریں ہیں تیرے لب کہ رقیب
    گالیاں کھا کے بے مزا نہ ہوا

  • ہم کو معلوم ہے جنت کی حقیقت لیکن

    ہوگا کوئی ایسا بھی کہ غالب کو نہ جانے
    شاعر تو وہ اچھا ہے پر بدنام بہت ہے

    مرزا غالب

    نجم الدولہ، دبیر الملک، مرزا نوشہ اسد اللہ خان غالب بہادر نظام جنگ (27دسمبر 1797ء – 15 فروری 1869ء) اردو زبان کے سب سے بڑے شاعروں میں ایک ہیں۔ غالب کی عظمت کا راز صرف ان کی شاعری کے حسن اور بیان کی خوبی ہی میں نہیں ہے۔ ان کاا صل کمال یہ ہے کہ وہ ز ندگی کے حقائق اور انسانی نفسیات کو گہرائی میں جاکر سمجھتے تھے اور بڑی سادگی سے عام لوگوں کے لیے بیان کردیتے تھے۔ غالب جس پر آشوب دور میں پیدا ہوئے، اس میں انھوں نے مسلمانوں کی ایک عظیم سلطنت کو برباد ہوتے ہوئے اور باہر سے آئی ہوئی انگریز قوم کو ملک کے اقتدار پر چھاتے ہوئے دیکھا۔ غالباً یہی وہ پس منظر ہے جس نے ان کی نظر میں گہرائی اور فکر میں وسعت پیدا کی۔

    مرزا غالب کا نام اسد اللہ بیگ خاں تھا۔ باپ کا نام عبداللہ بیگ تھا ۔ آپ 27 دسمبر 1797ء میں آگرہ میں پیدا ہوئے۔ غالب بچپن ہی میں یتیم ہو گئے تھے ان کی پرورش ان کے چچا مرزا نصر اللہ بیگ نے کی لیکن آٹھ سال کی عمر میں ان کے چچا بھی فوت ہوگئے۔ نواب احمد بخش خاں نے مرزا کے خاندان کا انگریزوں سے وظیفہ مقرر کرا دیا۔ 1810ء میں تیرہ سال کی عمر میں ان کی شادی نواب احمد بخش کے چھوٹے بھائی مرزا الہٰی بخش خاں معروف کی بیٹی امراءبیگم سے ہو گئی شادی کے بعد انھوں نے اپنے آبائی وطن کو خیر باد کہہ کر دہلی میں مستقل سکونت اختیار کرلی۔

    شادی کے بعد مرزا کے اخراجات بڑھ گئے اور مقروض ہوگئے۔ اس دوران میں انہیں مالی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ور قرض کا بوجھ مزید بڑھنے لگا۔ آخر مالی پریشانیوں سے مجبور ہو کر غالب نے قلعہ کی ملازمت اختیار کر لی اور 1850ء میں بہادر شاہ ظفر نے مرزا غالب کو نجم الدولہ دبیر الملک نظام جنگ کا خطاب عطا فرمایا اور خاندان تیموری کی تاریخ لکھنے پر مامور کر دیا اور 50 روپے ماہور مرزا کا وظیفہ مقرر ہوا۔

    غدر کے بعد مرزا کی سرکاری پنشن بھی بند ہو گئی ۔ چنانچہ انقلاب 1857ء کے بعد مرزا نے نواب یوسف علی خاں والی رامپور کو امداد کے لیے لکھا انہوں نے سو روپے ماہوار وظیفہ مقرر کر دیا جو مرزا کو تادم حیات ملتا رہا۔ کثرتِ شراب نوشی کی بدولت ان کی صحت بالکل تباہ ہو گئی مرنے سے پہلے بے ہوشی طاری رہی اور اسی حالت میں 15 فروری 1869ء کو ان کی وفات ہوئی۔

    مرزا اسد اللہ خان غالب کی شاعری سے انتخاب

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    ہم کو معلوم ہے جنت کی حقیقت لیکن
    دل کے خوش رکھنے کو غالبؔ یہ خیال اچھا ہے

    عشق نے غالبؔ نکما کر دیا
    ورنہ ہم بھی آدمی تھے کام کے

    محبت میں نہیں ہے فرق جینے اور مرنے کا
    اسی کو دیکھ کر جیتے ہیں جس کافر پہ دم نکلے

    اس سادگی پہ کون نہ مر جائے اے خدا
    لڑتے ہیں اور ہاتھ میں تلوار بھی نہیں

    ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پہ دم نکلے
    بہت نکلے مرے ارمان لیکن پھر بھی کم نکلے

    ان کے دیکھے سے جو آ جاتی ہے منہ پر رونق
    وہ سمجھتے ہیں کہ بیمار کا حال اچھا ہے

    یہ نہ تھی ہماری قسمت کہ وصال یار ہوتا
    اگر اور جیتے رہتے یہی انتظار ہوتا

    رگوں میں دوڑتے پھرنے کے ہم نہیں قائل
    جب آنکھ ہی سے نہ ٹپکا تو پھر لہو کیا ہے

    عشق پر زور نہیں ہے یہ وہ آتش غالبؔ
    کہ لگائے نہ لگے اور بجھائے نہ بنے

    عشرت قطرہ ہے دریا میں فنا ہو جانا
    درد کا حد سے گزرنا ہے دوا ہو جانا

    وہ آئے گھر میں ہمارے خدا کی قدرت ہے
    کبھی ہم ان کو کبھی اپنے گھر کو دیکھتے ہیں

    نہ تھا کچھ تو خدا تھا کچھ نہ ہوتا تو خدا ہوتا
    ڈبویا مجھ کو ہونے نے نہ ہوتا میں تو کیا ہوتا

    بے خودی بے سبب نہیں غالبؔ
    کچھ تو ہے، جس کی پردہ داری ہے

    ہم کو ان سے وفا کی ہے امید
    جو نہیں جانتے وفا کیا ہے

    رنج سے خوگر ہوا انساں تو مٹ جاتا ہے رنج
    مشکلیں مجھ پر پڑیں اتنی کہ آساں ہو گئیں

    آئینہ کیوں نہ دوں کہ تماشا کہیں جسے
    ایسا کہاں سے لاؤں کہ تجھ سا کہیں جسے

    ریختے کے تمہیں استاد نہیں ہو غالبؔ
    کہتے ہیں اگلے زمانے میں کوئی میرؔ بھی تھا

    ہیں اور بھی دنیا میں سخن ور بہت اچھے
    کہتے ہیں کہ غالبؔ کا ہے انداز بیاں اور

    آہ کو چاہیے اک عمر اثر ہوتے تک
    کون جیتا ہے تری زلف کے سر ہوتے تک

    بسکہ دشوار ہے ہر کام کا آساں ہونا
    آدمی کو بھی میسر نہیں انساں ہونا

    دل ہی تو ہے نہ سنگ و خشت درد سے بھر نہ آئے کیوں
    روئیں گے ہم ہزار بار کوئی ہمیں ستاے کیوں

    عشق سے طبیعت نے زیست کا مزا پایا
    درد کی دوا پائی درد بے دوا پایا

    موت کا ایک دن معین ہے
    نیند کیوں رات بھر نہیں آتی

    یہ کہاں کی دوستی ہے کہ بنے ہیں دوست ناصح
    کوئی چارہ ساز ہوتا کوئی غم گسار ہوتا

    ہم نے مانا کہ تغافل نہ کرو گے لیکن
    خاک ہو جائیں گے ہم تم کو خبر ہوتے تک

    بازیچۂ اطفال ہے دنیا مرے آگے
    ہوتا ہے شب و روز تماشا مرے آگے

    پوچھتے ہیں وہ کہ غالبؔ کون ہے
    کوئی بتلاؤ کہ ہم بتلائیں کیا

    میری قسمت میں غم گر اتنا تھا
    دل بھی یارب کئی دیے ہوتے

    کعبہ کس منہ سے جاؤگے غالبؔ
    شرم تم کو مگر نہیں آتی

    آگے آتی تھی حال دل پہ ہنسی
    اب کسی بات پر نہیں آتی

    کہوں کس سے میں کہ کیا ہے شب غم بری بلا ہے
    مجھے کیا برا تھا مرنا اگر ایک بار ہوتا

    درد منت کش دوا نہ ہوا
    میں نہ اچھا ہوا برا نہ ہوا

    کب وہ سنتا ہے کہانی میری
    اور پھر وہ بھی زبانی میری

    کرنے گئے تھے اس سے تغافل کا ہم گلہ
    کی ایک ہی نگاہ کہ بس خاک ہو گئے

    جی ڈھونڈتا ہے پھر وہی فرصت کہ رات دن
    بیٹھے رہیں تصور جاناں کیے ہوئے

    مرتے ہیں آرزو میں مرنے کی
    موت آتی ہے پر نہیں آتی

    ہم وہاں ہیں جہاں سے ہم کو بھی
    کچھ ہماری خبر نہیں آتی

    آئینہ دیکھ اپنا سا منہ لے کے رہ گئے
    صاحب کو دل نہ دینے پہ کتنا غرور تھا

    ہر ایک بات پہ کہتے ہو تم کہ تو کیا ہے
    تمہیں کہو کہ یہ انداز گفتگو کیا ہے

    پھر اسی بے وفا پہ مرتے ہیں
    پھر وہی زندگی ہماری ہے

    کوئی میرے دل سے پوچھے ترے تیر نیم کش کو
    یہ خلش کہاں سے ہوتی جو جگر کے پار ہوتا

    کہاں مے خانہ کا دروازہ غالبؔ اور کہاں واعظ
    پر اتنا جانتے ہیں کل وہ جاتا تھا کہ ہم نکلے

    کہتے ہیں جیتے ہیں امید پہ لوگ
    ہم کو جینے کی بھی امید نہیں

    ہوگا کوئی ایسا بھی کہ غالبؔ کو نہ جانے
    شاعر تو وہ اچھا ہے پہ بدنام بہت ہے

    صادق ہوں اپنے قول کا غالبؔ خدا گواہ
    کہتا ہوں سچ کہ جھوٹ کی عادت نہیں مجھے

    غالبؔ برا نہ مان جو واعظ برا کہے
    ایسا بھی کوئی ہے کہ سب اچھا کہیں جسے

    کی مرے قتل کے بعد اس نے جفا سے توبہ
    ہائے اس زود پشیماں کا پشیماں ہونا

    قرض کی پیتے تھے مے لیکن سمجھتے تھے کہ ہاں
    رنگ لاوے گی ہماری فاقہ مستی ایک دن

    کتنے شیریں ہیں تیرے لب کہ رقیب
    گالیاں کھا کے بے مزا نہ ہوا

  • جو کچھ رپورٹ ہوا اس پر تحمل اور برداشت کا مظاہرہ کر رہے ہیں، چیف جسٹس

    جو کچھ رپورٹ ہوا اس پر تحمل اور برداشت کا مظاہرہ کر رہے ہیں، چیف جسٹس

    اسلام آباد: چیف جسٹس پاکستان عمر عطا بندیال نے کیس کی سماعت میں ریمارکس دیے کہ جو رپورٹ ہوا اس پر تحمل اور برداشت کا مظاہرہ کررہے ہیں اور جو رپورٹ ہوا وہ ناصرف سیاق و سباق سے ہٹ کر تھا بلکہ جانبدارانہ بھی تھا۔

    باغی ٹی وی : سپریم کورٹ میں چیف جسٹس کی سربراہی میں تین رکنی خصوصی بینچ نے نیب ترامیم کے خلاف عمران خان کی درخواست پر سماعت کی –

    صدر مملکت سے اسحاق ڈارکی ملاقات،منی بجٹ آرڈیننس پر تبادلہ خیال

    اٹارنی جنرل نے کہا کہ عدالت نے پی ٹی آئی ارکان اسمبلی کی تنخواہوں سے متعلق سوال کیا تھا، قومی اسمبلی کے ایک ممبر کی مجموعی تنخواہ ایک لاکھ 88 ہزار روپے ہے، پی ٹی آئی کے ممبران قومی اسمبلی نے اپریل سے کوئی تنخواہ وصول نہیں کی، پی ٹی آئی کے ممبران نے سفری اخراجات اور لاجز سمیت دیگر مراعات لیں، قومی اسمبلی ان معاملات کو دیکھ رہی ہے۔

    اٹارنی جنرل نے کہا کہ سوشل میڈیا پر عدالتی ریمارکس کے متعلق ایک خط لکھا ہے، سوشل میڈیا پر ہونے والی غلط رپورٹنگ پر بات کرنا چاہتا ہوں، اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ میں نے آپ کا خط پڑھا ہے اور آپ کی کاوش کو سراہتے ہیں۔

    اس پر اٹارنی جنرل نے کہا کہ یہ جانتے ہوئے کہ تنقید کا اگلا ہدف بن سکتے ہیں جو مناسب لگا وہ کیا جب کہ مسئلہ الیکٹرانک یا پرنٹ میڈیا کا نہیں ہے بلکہ سوشل میڈیا پر کوئی قوانین لاگو نہیں ہوتے۔

    چیف جسٹس نے کہا کہ آپ نے سمجھ داری اور ذمہ داری کا ثبوت دیا ہے، عدالتی کارروائی سے کچھ غلط معلومات منسوب کی گئیں، جو رپورٹ ہوا وہ نہ صرف سیاق و سباق سے ہٹ کر تھا بلکہ جانب دارانہ بھی تھا، جو رپورٹ ہوا اس پر تحمل اور برداشت کا مظاہرہ کر رہا ہوں میڈیا کے دوستوں کو عدالتی ردعمل نہ آنے کو احترام سے دیکھنا چاہیے، سپریم کورٹ کا 2019ء کا فیصلہ میڈیا کنٹرول کی بات کرتا ہے، میں میڈیا کنٹرول پر نہیں، باہمی احترام پر یقین رکھتا ہوں۔

    پنجاب الیکشن: لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے کی تشریح کیلئےعدالت سے رجوع کرنےکا فیصلہ

    بعدازاں وفاقی حکومت کے وکیل مخدوم علی خان روسٹرم پر آ گئےچیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ مخدوم صاحب یاددہانی کے لیے کہہ رہا ہوں کہ آپ کے دلائل میں 11 سماعتیں گزر گئیں۔ اس پر مخدوم علی خان بولے کہ دوسرے جانب کے دلائل میں 6 ماہ لگے تھے اس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ دوسری طرف کا ریکارڈ مت توڑیے گا۔

    مخدوم علی خان نے کہا کہ سیاسی معاملات میں برطانیہ سمیت ملکوں میں عدالتی کارروائی لائیو کیمروں میں ریکارڈ ہوتی ہے، لائیو اسٹریمنگ سے آفیشل ریکارڈ رہتا ہے اور ابہام کی کوئی گنجائش نہیں بچتی۔

    چیف جسٹس نے کہا کہ عدالتی کارروائی کی براہ راست نشریات کا معاملہ ہمارے پاس زیر التوا ہے، جلد ہی فل کورٹ میں عدالتی کارروائی براہ راست دیکھانے کا معاملہ رکھیں گے۔

    وکیل وفاقی حکومت مخدوم علی خان نے کہا کہ اگر 51 فیصد لوگ ووٹ ہی نہ ڈالیں تو بھی اسمبلی میں عوامی نمائندگی ہوگی، جمہوریت ہے ہی نمبرز گیم۔

    گورنر پنجاب نےانتخابات کی تاریخ دینے کے حوالے سے آج اجلاس طلب کرلیا

    اس پر جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ پی ٹی آئی نے قومی اسمبلی سے استعفے کب دیے تھے؟ مخدوم علی خان نے کہا کہ تحریک انصاف کے ایم این ایز نے 11 اپریل کو استعفے دیے تھے۔

    چیف جسٹس نے کہا کہ پی ٹی آئی کے استعفے قسطوں میں منظور کیے گئے، استعفوں کی تصدیق کے حوالے سے عدالتی فیصلے موجود ہیں –

    اس پر مخدوم علی خان نے کہا کہ استعفے منظور ہوچکے تو منظوری کے خلاف پی ٹی آئی عدالت چلی گئی، لاہور ہائی کورٹ نے 44 استعفوں کی منظوری پر حکم امتناع دیا ہے۔

    اٹارنی جنرل نے کہا کہ لاہور ہائی کورٹ نے استعفوں کی منظوری کا اسپیکر کا حکم معطل نہیں کیا، ہائی کورٹ کے مطابق اسپیکر کا فیصلہ درخواست کے ساتھ لگایا ہی نہیں گیا تھا۔

    ویڈیو لیک کیس:سندھ ہائی کورٹ نےدانیہ شاہ کی ضمانت منظور کرلی

    مخدوم علی خان نے کہا کہ تحریک انصاف کے 20 ارکان نے استعفے نہیں دیے تھے وہ اسمبلی کا حصہ ہیں، امریکی تاریخ دان نے کہا تھا کہ سیاسی سوال کبھی قانونی سوال نہیں بن سکتا، امریکا تاریخ دان کی بات پاکستان کے حوالے سے درست نہیں لگتی، امریکی سپریم کورٹ بھی کہہ چکی کہ عدالت سیاسی سوالات میں نہیں پڑے گی۔

    چیف جسٹس نے کہا کہ پاکستان میں بنیادی حقوق اور آئینی سوالات پر فیصلے ہوتے رہے، سیاسی سوال قانونی تب بنتا ہے جب سیاسی ادارے کمزور ہوجائیں۔

    اس پر مخدوم علی خان نے کہا کہ پی ٹی آئی نے خود ہی آرڈیننس لاکر نیب ترامیم ڈیزائن کی تھیں، اپنی ہی ڈیزائن کردہ ترامیم چیلنج کرنا بدنیتی ہے، سپریم کورٹ وطن پارٹی اور طاہرالقادری کیس نیت اچھی نہ ہونے پر خارج کر چکی۔

    چیف جسٹس نے کہا کہ تفصیل دیں آئینی خلاف ورزیوں پر نیب قانون کی شقوں کو سپریم کورٹ نے کب کب کالعدم قرار دیا؟ بعدازاں عدالت نے کیس کی سماعت 15 فروری تک ملتوی کردی۔

    شہبازگل نےٹرائل کورٹ سے درخواست بریت مسترد ہونےکا فیصلہ ہائیکورٹ میں چیلنج کردیا

  • صدر مملکت سے اسحاق ڈارکی ملاقات،منی بجٹ  آرڈیننس پر تبادلہ خیال

    صدر مملکت سے اسحاق ڈارکی ملاقات،منی بجٹ آرڈیننس پر تبادلہ خیال

    اسلام آباد: صدر مملکت عارف علوی سے وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے ملاقات کی اور منی بجٹ آرڈیننس کی صورت میں نافذ کرنے پرگفتگو کی۔

    باغی ٹی وی: ذرائع کے مطابق صدر مملکت عارف علوی سے ملاقات میں اسحاق ڈار نے مختلف امور پر تبادلہ خیال کیا،ذرائع کا کہنا ہےکہ ملاقات میں اسحاق ڈار نے آئی ایم ایف سے مذاکرات کے بارے میں صدر مملکت کو آگاہ کیا اور آئی ایم ایف کے مطالبات سے متعلق بھی گفتگو کی۔

    اسحاق ڈار نے صدر مملکت کو میثاق معیشت کی تجویز پیش کرتے ہوئے کہا کہ میثاق معیشت ملک کی معیشت کی بہتری کے لیے ضروری ہے۔ ذرائع نے وزیرخزانہ کی کچھ تعطل کے بعد صدرعلوی سے ملاقات کو غیر معمولی قراردیا۔

    بعدازاں صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے عمران خان سے رابطہ کیا اور ملکی سیاسی و معاشی صورتحال پر اہم گفتگو کی,انہوں نے عمران خان سے وزیر خزانہ اسحاق ڈار سے حالیہ ملاقات اور ملک میں عام انتخابات کی ٹائم لائن سے متعلق بھی گفتگو کی

    ذرائع نے بتایا ہےکہ ملاقات میں حکومت کی طرف سے منی بجٹ آرڈیننس کی صورت میں نافذ کرنے پر بھی گفتگو ہوئی منی بجٹ تجاویز آج ہونے والے وفاقی کابینہ کے اجلاس میں منظورکیے جانےکا امکان ہے۔

    واضح رہے کہ وزیراعظم شہباز شریف نے وفاقی کابینہ کا اجلاس بھی آج شام 6 بجے طلب کر رکھا ہے ذرائع کے مطابق کابینہ اجلا س میں کورونا بچاؤ انجکشن کی قیمت کا بھی فیصلہ کیا جائے گا-

  • نومولود بچی کے پیٹ پر "لال رنگ کا دل والا پیدائشی نشان”

    نومولود بچی کے پیٹ پر "لال رنگ کا دل والا پیدائشی نشان”

    نومولود بچی کے پیٹ پر ‘لال رنگ کا دل والا پیدائشی نشان جسے دیکھ کر والدین اور ڈاکٹرز بھی حیران رہ گئے-

    باغی ٹی وی :فروری میں پیدا ہونے والے بچے کے لیے شاید یہ سب سے موزوں علامت ہےاس لیے یہ کوئی تعجب کی بات نہیں ہے کہ جب جورجیا ویلچ کو دل کے سائز کے پیدائشی نشان کے ساتھ جنم دیا گیا توڈاکٹرز کو اپنی آنکھوں پر یقین نہیں آیا۔


    طبی ماہرین نے سٹوک آن ٹرینٹ سے تعلق رکھنے والی 37 سالہ ماں جین اور اس کے ساتھی جو کو بتایا کہ عمر کے ساتھ ساتھ دل غائب ہو جائے گا ا لیکن ایسا نہ ہوا، یہ نشان اسی سائز کا اب تک موجود ہے، نا ہی اس کا رنگ ماند پڑا-

    برطانوی میڈیا رپورٹس کے مطابق گزشتہ برس فروری کی 22 تاریخ کو ایک بچی کی پیدائش ہوئی جس کا نام جورجیا رکھا گیا، جورجیا کی پیدائش پر ڈاکٹرز سمیت اس کی والدہ حیران رہ گئیں حیرانی کی وجہ یہ تھی کہ اس کے پیٹ کے ایک طرف ایک مخصوص نشان تھا جس کی شکل دل جیسی تھی، عجیب بات یہ تھی کہ اس نشان کا رنگ بھی سرخ تھا۔

    جورجیا کی ماں 37 سالہ جین ویلچ نے بتایا کہ جب ڈاکٹرز اور نرسوں نے اس کے جسم پر یہ نشان دیکھا تو وہ پہلے یقین ہی نہیں کرسکے، جورجیا میری پہلی اولاد ہے جس کے اوپر یہ انوکھا پیدائشی نشان اس کو دوسروں سے مخصوص کرتا ہے۔