Baaghi TV

Author: Ayesha Rehmani

  • آئی ایم ایف نے پاکستان کے ساتھ مذاکرات کا اعلامیہ جاری کردیا

    اسلام آباد: عالمی مالیاتی ادارے آئی ایم ایف نے پاکستان کے دورے کے بعد اعلامیہ جاری کردیا۔

    باغی ٹی وی: آئی ایم ایف کی جانب سے جاری اعلامیے میں کہا گیا ہےکہ مسٹر ناتھن پورٹر کی قیادت میں آئی ایم ایف ٹیم نے31 جنوری تا 9 فروری پاکستان کا دورہ کیا جو پروگرام کے نویں جائزے کےلیے تھا جب کہ دورے میں پاکستان سے تعمیری بات چیت ہوئی۔

    پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان مذاکرات کا آج آخری دن، آج معاہدہ ہونے کا امکان

    اعلامیےمیں کہا گیا کہ آئی ایم ایف ٹیم میکرو اکنامک استحکام کے تحفظ کے لیے درکار پالیسیوں پر عمل درآمد کے لیے وزیراعظم کے عزم کا خیرمقدم کرتی ہے اور تعمیری بات چیت کے لیے حکام کا شکریہ ادا کرتی ہے۔

    اعلامیے کے مطابق مذاکرات میں ملکی اور بیرونی عدم توازن کو دور کرنے کے لیے پالیسی اقدامات پر مشن کے دوران خاطر خواہ پیش رفت ہوئی۔ اہم ترجیحات میں مستقل ریونیو اقدامات کے ساتھ مالیاتی پوزیشن کو مضبوط بنانا، دورے میں مستقل ریونیو حصول کے اقدامات، نان ٹارگٹڈ سبسڈی میں کمی، غریب ترین طبقے کے سماجی تحفظ بڑھانے اور سیلاب متاثرین کی مدد کرنے پر بھی بات ہوئی۔

    آئی ایم ایف معاہدہ؛ مثبت اور منفی دونوں اثرات پڑ سکتے. وفاقی وزیر خواجہ آصف

    اعلامیے میں کہا گیا ہےکہ زر مبادلہ کی کمی کو بتدریج ختم کرنے کے لیے زر مبادلہ کی شرح کو مارکیٹ میں طے کرنے کی اجازت دینا مذاکرات میں گردشی قرض میں کمی کرکےتوانائی کے شعبےمیں عملداری یقینی بنانے اور پاکستانی حکام سے توانائی کی فراہمی بہترکرنے پربات ہوئی۔

    اعلامیے میں مزید کہا گیا ہےکہ آئی ایم ایف ٹیم میکرو استحکام کے لیے پالیسیوں پر عمل درآمدکا خیر مقدم کرتا ہے، میکرواستحکام اور پائیدارترقی کےلیے سرکاری شراکت داروں سے مالی مدد پاکستان کے لیےضروری ہے، فیصلہ کن پالیسوں پربروقت عملدرآمد سے پاکستان میں میکرواستحکام آئےگا جب کہ ان پالیسیوں پر عملدر آمد کے لیے ورچوئل مذاکرات جاری رہیں گے۔

    اعلامیے کے مطابق مشن کے دورے پر جاری بیان آئی ایم ایف بورڈ میں زیربحث نہیں آئے گا۔

    آئی ایم ایف کےحکومت کےساتھ معاملات طے پا گئے

  • توشہ خانہ کے بعد احتجاج کیخلاف کیس: آئندہ سماعت پر عمران خان کو حاضری یقینی بنانے کا حکم

    توشہ خانہ کے بعد احتجاج کیخلاف کیس: آئندہ سماعت پر عمران خان کو حاضری یقینی بنانے کا حکم

    سیشن کورٹ اسلام آباد میں عمران خان کی ضمانت قبل از گرفتاری کی درخواست پر سماعت

    باغی ٹی وی: سیشن کورٹ اسلام آبادمیں توشہ خانہ ریفرنس فیصلےکے بعد احتجاج کے خلاف کیس کی سماعت ہوئی جج راجہ جواد عباس حسن نے کیس کی سماعت کی جس میں عمران خان کی جانب سے وکیل بابر اعوان سیشن کورٹ اسلام آباد میں پیش ہوئے ،ن لیگی رہنما اور مقدمہ میں مدعی محسن شاہ نواز رانجھا بھی سیشن کورٹ اسلام آباد میں پیش ہوئے-

    چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی جانب سے طبی بنیادوں پر استثنی ٰکی درخواست دائر کی گئی –

    عدالت نے بابر اعوان سے استفسار کیا کہ ابھی بھی آپ نے لکھا ہے 20،25 روز لگیں گے ، وکیل بابر اعوان نے کہا کہ عمران خان کی میڈیکل رپورٹ ہے وہ یہاں اس لیے پیش نہیں ہو رہے –

    مقدمہ میں مدعی محسن شاہ نواز رانجھا نے کہا کہ عمران خان انصاف کی بات کرتے ہیں لیکن آج تک پیش نہیں ہوئے،مدعی مقدمہ محسن شاہ نواز رانجھا کی عمران خان کے لیے پمز کا بورڈ بنانے کی استدعا کی ہے-

    عمران خان کے وکیل بابر اعوان نے کہا کہ کہاجارہا ہے کہ لمبا ترین پلستر ہے لیکن ڈیڑھ سال سے پلیٹلیٹس سے لمبا نہیں ، عمران خان کی حاضری ویڈیو لنک کے ذریعے بھی ہو سکتی ہے-

    ایڈیشنل سیشن جج نے کہا کہ سول سائیڈ کے کیس میں سپریم کورٹ نے فیصلہ دیا ہے، ہم سول کیسز میں روزانہ بیانات ویڈیو لنک سے لکھتے رہتے ہیں ،ضمانت قبل از گرفتاری کے کیس میں ایسا نہیں ہوتا-

    عمران خان کے وکیل نے طبی بنیادوں پر اپنے مؤکل کی حاضری سے استثنیٰ کی درخواست بھی کی اس پر عدالت نے کہا کہ عمران خان کی زمان پارک سے ایک ویڈیو جاری ہوئی جس میں وہ پیدل چلتے نظر آئے۔

    عدالت نے آئندہ سماعت پر عمران خان کو حاضری یقینی بنانے کا حکم دے دیا عدالت نے کہا کہ عمران خان پیش ہوئے تو ٹھیک نہیں تو ضمانت قبل از گرفتاری پر آرڈر دے دیں گے-

    سیشن کورٹ اسلام آباد نے عمران خان کیخلاف کیس کی سماعت 29 مارچ تک ملتوی کرتے ہوئے عمران خان کو ذاتی حیثیت میں 29 مارچ کو طلب کرلیا-

  • دراز کے بعد  ڈزنی کا بھی 7 ہزار ملازمین کو فارغ کرنے کا فیصلہ

    دراز کے بعد ڈزنی کا بھی 7 ہزار ملازمین کو فارغ کرنے کا فیصلہ

    ای کامرس پلیٹ فارم درازکے بعد معروف انٹرٹینمنٹ کمپنی ڈزنی نے 7 ہزار ملازمتوں کو ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

    باغی ٹی وی: برطانوی خبر رساں ادارے کے مطابق انٹرٹینمنٹ سے بھر پور ڈزنی نے بھی اپنے 7 ہزار ملازمین کو فارغ کرنے کا کہہ دیا ہے ملازمین کی تعداد میں کمی ڈزنی اسٹریمنگ سروس کو منافع بخش بنانے اور بھاری رقم بچانے کے منصوبے کا حصہ ہے۔

    رپورٹس کے مطابق کمپنی کی جانب سے یہ فیصلہ گزشتہ سال کے آخری تین مہینوں میں ہونے والی مالی رپورٹ کو دیکھتے ہوئے کیا گیا ہے، ان برطرفیوں سے دنیا بھر میں ڈزنی کی ورک فورس کا حجم 3.6 فیصد کم ہوگا-

    میڈیا رپورٹس کے مطابق 2019 میں ڈزنی ویڈیو اسٹریمنگ سروس کے لانچ ہونے کے بعد ڈزنی کے سبسکرائبر میں پہلے سے کمی آئی ہے۔

    باب ایگرکا کہنا ہےکہ ہم کمپنی میں تخلیقی صلاحیت کو ابھارنے کے لیےکام کر رہے ہیں، ہمیں یقین ہے کہ ہم اپنے ارادوں میں کامیاب ہوں گے اخراجات کم کرنا ہمارے کاروبار کے لیے پائیدار ترقی اور منافع کا باعث بنے گا، ہمارے لیے بہتر ہے کہ ہم مستقبل کے خلل اور عالمی اقتصادی چیلنجوں سے نمٹنے سکیں اور شیئر ہولڈرز کے لیے ساز گار ماحول پیدا کریں۔

    قبل ازیں ای کامرس پلیٹ فارم دراز نے بھی اپنے ملازمین کی تعداد کم کرتے ہوئے چھانٹی کر دی ہے علی بابا گروپ کے ذیلی ادارے دراز گروپ نے اپنے ملازمین کی تعداد کم کرتے ہوئے 11 فیصد کو فارغ کر دیا۔

    دراز گروپ کے سی ای او بجارک مکلسن نے کہا کہ مارکیٹ کے مشکل ماحول، یورپ میں جنگ، سپلائی چین میں حائل رکاوٹوں، بڑھتی مہنگائی اور بڑھتے ٹیکس کی وجہ سے ملازمین میں کمی کرنے کا فیصلہ کیاانہوں نے کمپنی کی ویب سائٹ پر جاری کردہ خط کے ذریعے ملازمین کو فارغ کرنے کا اعلان کیا۔

    واضح رہے کہ ای کامرس پلیٹ فارم دراز گروپ پاکستان، بنگلہ دیش، سری لنکا اور نیپال میں کام کرتا ہے۔

  • شیخ رشید کی درخواست ضمانت مسترد کیے جانے کا تحریری فیصلہ جاری

    شیخ رشید کی درخواست ضمانت مسترد کیے جانے کا تحریری فیصلہ جاری

    اسلام آباد کی عدالت نے شیخ رشید کی درخواست ضمانت مسترد کیے جانے کا تحریری فیصلہ جاری کردیا۔

    باغی ٹی وی: ایڈیشنل سیشن جج طاہر عباس نے چار صفحات پر مشتمل فیصلہ جاری کیا جس میں کہا گیا ہےکہ آصف زرداری پر عمران خان کے قتل کی سازش سے متعلق بیان پر مقدمہ درج ہوا، شیخ رشید کے مطابق عمران خان کے قتل کی سازش سے متعلق ان کے پاس شواہد موجود ہیں جو شیئر کرنے کیلئے تیار ہیں۔

    تحریری فیصلے میں کہا گیا ہے کہ ہائیکورٹ کے فیصلے کے مطابق پولیس کو شیخ رشید کے خلاف مقدمہ درج کرنے سے نہیں روکا گیا، شیخ رشید کا بیان بیرون ملک بھی نشر ہوا جس سے وہ انکاری نہیں۔

    عدالت کی جانب سے جاری تحریری فیصلے میں کہا گیا کہ ٹرانسکرپٹ کے مطابق ثابت نہیں ہوتاکہ عمران خان نے شیخ رشید سے کوئی معلومات شیئر کی ہوں، شیخ رشیدکی عمران خان سے ملاقات ہوئی، ملاقات کی تفصیل دیے- بغیر آصف زرداری پر الزام لگایاگیا-

    تحریری فیصلے میں مزید کہا گیا کہ شیخ رشید ایک طرف کہتے ہیں قتل کی سازش سے متعلق تمام معلومات ہیں لیکن پولیس سے شیئر نہیں کیں، شیخ رشید کے بیان سے دونوں سیاسی کارکنان میں اشتعال پیدا ہوسکتا ہے۔

    عدالتی فیصلے میں کہا گیا ہےکہ شیخ رشید سینئر سیاستدان ہیں اور ایف آئی آر میں لگائی گئی دفعات سنجیدہ ہیں، شیخ رشید اپنے بیانات کے اثرات سے لاعلم ہیں، وہ ماضی میں بھی اس طرح کے غیرسنجیدہ بیان دے چکے ہیں۔

    عدالتی فیصلے میں شیخ رشید کی جانب سے الزام کو بار بار دہرانا ضمانت کی استدعا مسترد ہونے کی وجہ قرار دیا گیا ہے۔

    واضح رہے کہسابق وزیر داخلہ شیخ رشید کو آصف زرداری پر عمران خان کو قتل کرنے کی سازش سے متعلق بیان پر 2 فروری کو رات گئے گرفتار کیا گیا تھا۔

    رواں ہفتے کے اوائل میں پیپلز پارٹی کے ایک مقامی رہنما راجا عنایت نے شیخ رشید کے خلاف سابق صدر آصف علی زرداری پر عمران خان کے قتل کی سازش کا الزام لگانے پر شکایت درج کرائی تھی۔

    شکایت گزار کی مدعیت میں تھانہ آبپارہ پولیس نے آصف زرداری پر عمران خان کو قتل کرنے کی سازش سے متعلق بیان پر مقدمہ درج کیا تھا، جس میں پاکستان پینل کوڈ کی دفعات 120-بی، 153 اے اور 505 شامل کی گئی تھیں۔

    گرفتاری کے بعد انہیں اسی روز اسلام آباد کی مقامی عدالت میں پیش کیا گیا تھا جہاں عدالت نے ان کا دو روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کیا تھا۔

    دوسری جانب 3 فروری کو وزیر خارجہ اور پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کے خلاف نازیبا زبان استعمال کرنے پر شیخ رشید کے خلاف کراچی میں بھی مقدمہ درج کرلیا گیا تھا۔

    شیخ رشید کے خلاف کراچی کے موچکو، حب کے لسبیلہ اور مری کے تھانوں میں مقدمات درج کیے گئے تھے جس کے بعد ایف آئی آر کو سیل کردیا گیا تھا۔

    علاوہ ازیں ایک اور مقدمہ ہفتے کے روز تھانہ صدر میں پیپلز پارٹی کے کارکن کی مدعیت میں درج کیا گیا جس میں شیخ رشید پر امن و امان کو خراب کرنے اور جان بوجھ کر اشتعال پھیلانے کا الزام عائد کیا گیا۔

  • جڑواں شہروں میں دہشت گردی کا بڑا منصوبہ ناکام،ٹی ٹی پی کے دو انتہائی مطلوب دہشتگرد گرفتار

    جڑواں شہروں میں دہشت گردی کا بڑا منصوبہ ناکام،ٹی ٹی پی کے دو انتہائی مطلوب دہشتگرد گرفتار

    راولپنڈی: سی ٹی ڈی پنجاب اور وفاقی حساس ادارے نے جڑواں شہروں میں دہشت گردی کا بڑا منصوبہ ناکام بناتے ہوئے کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے دو انتہائی مطلوب دہشت گرد گرفتار کرلیے۔

    باغی ٹی وی: نجی خبررساں ادارے کے مطابق سی ٹی ڈی پنجاب کے مطابق دہشت گردوں کا تعلق تحریک طالبان کے حاجی فقیر گروپ سے ہے دہشتگردوں کی شناخت حیات اللہ اور وکیل خان کے نام سے ہوئی-

    سی ٹی ڈی کے مطابق دہشت گردوں نے خودکش حملہ آوروں کے ساتھ راولپنڈی پولیس لائنز پر حملہ آور ہونا تھا، تھانہ صدر بیرونی، ڈسٹرکٹ کورٹس راولپنڈی، سینٹ پال چرچ حاجی فقیر گروپ کا ٹارگٹ تھے۔

    سی ٹی ڈی کے مطابق دہشت گردوں نے بتایا ہے کہ انہوں ںے کانونٹ اسکول راولپنڈی، پولیس لائنز اسلام آباد سمیت دیگر حساس مقامات پر تخریبی کارروائیاں کرنی تھیں، انہوں ںے تمام مقامات کی ریکی کرکے تصاویر ٹی ٹی پی کمانڈر افغانستان کو ارسال کیں۔

    سی ڈی ڈی نے کہا ہے کہ حاجی فقیر گروپ افغانستان سے آپریٹ ہورہا ہے، ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کرکے مزید تفتیش جاری ہے۔

  • ایک غلطی نے گوگل کی  پیرنٹ کمپنی الفابیٹ کو 100 ارب ڈالرز سے محروم کردیا

    ایک غلطی نے گوگل کی پیرنٹ کمپنی الفابیٹ کو 100 ارب ڈالرز سے محروم کردیا

    آرٹی فیشل انٹیلی جنس (اے آئی) ٹیکنالوجی پر مبنی چیٹ بوٹ بارڈ کی ایک غلطی نے گوگل کی سرپرست کمپنی الفابیٹ کو 100 ارب ڈالرز سے محروم کردیا۔

    باغی ٹی وی: غیر ملکی میڈیا کے مطابق گوگل کی جانب سے اس نئی ٹیکنالوجی کی تشہیر کے لیے ٹوئٹر پر ایک ویڈیو پوسٹ کی گئی تھی اس ویڈیو میں چیٹ بوٹ سے کہا گیا کہ وہ ایک 9 سالہ بچے کو جیمز ویب اسپیس ٹیلی اسکوپ کی کامیابیوں کے بارے میں بتائے۔

    بارڈ نے اپنے جواب میں کہا کہ جیمز ویب اسپیس ٹیلی اسکوپ نے سب سے پہلے نظام شمسی سے باہر موجود ایک سیارے کی تصویر کھینچی تھی، مگر یہ جواب غلط تھا کیونکہ ایسا ایک یورپی ٹیلی اسکوپ نے کیا تھا۔


    گوگل کے چیٹ بوٹ کی جانب سے دیا جانے والے غلط جواب اب بھی بلاگ پوسٹ پر موجود ہے اس غلط جواب کے نتیجے میں الفابیٹ کے حصص کی قیمتوں میں 9 فیصد کمی آئی جبکہ مارکیٹ ویلیو سے 100 ارب ڈالرز کم ہوگئے۔

    واضح رہے کہ چیٹ جی پی ٹی کو نومبر 2022 میں متعارف کرایا گیا تھا اور اس کے بعد دنیا بھر میں بہت زیادہ مقبول ہوا اس کی مقبولیت کو دیکھتے ہوئے گوگل نے بارڈ کو 6 فروری کو چیٹ جی پی ٹی کے مقابلے پر متعارف کرایا تھا جبکہ ویب براؤزر ایج میں بھی اسے شامل کیا گیا ہے۔

    گوگل کی اس سروس کا مقصد صارفین کو مختلف موضوعات پر تفصیلات آڈیو، ویڈیو، تصاویر اور دیگر ذرائع سے پیش کرنا ہے اس چیٹ بوٹ کو متعارف کراتے ہوئے گوگل کے سی ای او سندر پچائی نے ایک بلاگ پوسٹ میں جیمز ویب اسپیس ٹیلی اسکوپ سے پوچھے گئے سوال کا حوالہ بھی دیا تھا۔

  • بھارت میں  ویلنٹائنز ڈے "گائے کو گلے لگانے” کے دن کے طور پر منایا جائے گا

    بھارت میں ویلنٹائنز ڈے "گائے کو گلے لگانے” کے دن کے طور پر منایا جائے گا

    ممبئی: بھارتی اینیمل ویلفیئر بورڈ نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ رواں سال 14 فروری (Cow Hug Day) کے طور پر منائیں۔

    باغی ٹی وی:بھارت کے سرکاری ادارے کا خیال ہے کہ گائے سے محبت کرنے والے لوگ 14 فروری کو ویلنٹائن ڈے کے بجائے "کاؤ ہگ ڈے” کے طور پر مناسکتے ہیں۔ اس سے زندگی مزید خوشگوار ہوگی اوراسے مثبت توانائی سے بھرپور بنایا جاسکے گا۔

    بھارتی میڈیا رپورٹ کے مطابق بھارتی اینیمل ویلفیئر بورڈ نے اپنی آفیشل ویب سائٹ پر ایک نوٹیفیکشن جاری کیا ہے جس میں بورڈ نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ رواں سال 14 فروری کو ویلنٹائنز ڈے کے بجائے ’گائے کو گلے لگانے کے دن‘ کے طور پر منائیں۔


    بھارتی اینیمل ویلفیئر بورڈ کے مطابق گائے بھارت کی ثقافت اور دیہی معیشت کا حصہ ہے جبکہ اس دن کو منانے کا مقصد عوام میں گائے کی اہمیت کو اُجاگر کرنا ہے۔

    بھارتی اینیمل ویلفیئر بورڈ کا کہنا ہے کہ 14 فروری گائے کو گلے لگانے کو دن کے طور پر منانے کا ایک مقصد یہ بھی ہے کہ بھارت سے ’لڑکا لڑکی کی محبت کے اظہار‘ کے مغربی کلچر کو کم کیا جائے اور لوگوں کو مقامی ثقافت کی جانب راغب کیا جائے۔

    سوشل میڈیا پر بھارتی اینیمل ویلفیئر بورڈ کی اس اپیل کے خوب چرچے ہورہے ہیں صارفین کی جانب سے طنزو مزاح اور میمز شیئر کرنے کا سلسلہ جاری ہے۔


    ایک ٹوئٹر صارف نے اینیمل ویلفیئر بورڈ پر طنز کرتے ہوئے لکھا کہ اگر آپ اس ویلنٹائنز ڈے پر اکیلے ہیں تو بھارتی حکومت آپ کو گائے کو گلے لگانے کا مشورہ دے رہی ہے۔


    https://twitter.com/gsmadhusudan/status/1623330855270903809?s=20&t=vvAkgoHsNPwoc-6qUsweaw


    واضح رہے کہ اینیمل ویلفیئر بورڈ بھارت کی وزارت برائے فشریز کے تحت کام کرتی ہے جس کی ذمہ داریوں میں جانوروں کا تحفظ اور ان کی اہمیت کے بارے میں شعور اُجاگر کرنا بھی شامل ہے۔

    بھارت میں ویلنٹائن ڈے منانا عام ہے لیکن اکثر قدامت پسند اور سخت گیر ہندو تنظیمیں ان مواقع پر ہنگامہ آرائی کرتی ہیں ، ماضی میں مودی بھی اس دن کو منانے کے خلاف کئی بار بیان دے چکے ہیں۔

    یاد رہے کہ ہندو مذہب میں گائے کو بڑی اہمیت دی جاتی ہے، ہندو مذہب میں گائے ایک مقدس جانور تسلیم کیا جاتا ہے اور اسے ماں سے تشبیہ دی جاتی ہے۔ بھارت میں گائے کو ذبح کرنا بھی گویا گناہ تسلیم کیا جاتا ہے اور اس پر ذبح کرنے والے کو ہی قتل کردیا جاتا ہے۔

    بھارت میں سال 2015 اور 2016 کے درمیانی عرصے میں گائے اسمگل کرنے یا گائے کا گوشت کھانے کے شبے میں ہندو انتہا پسندوں نے بدترین تشدد سے مجموعی طور پر 10 مسلمانوں کو قتل کیا۔

    موجودہ بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی 2001 سے 2014 تک ریاست گجرات کے وزیراعلیٰ رہے، ان کے دور میں گجرات میں گائے ذبح کرنے، گائے کے گوشت کی نقل و حمل اور اس کی فروخت پر مکمل پابندی تھی-

  • پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس :پی ٹی آئی کا  شرکت کا فیصلہ

    پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس :پی ٹی آئی کا شرکت کا فیصلہ

    اسلام آباد: تحریک انصاف نے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں شرکت کا فیصلہ کرلیا۔

    باغی ٹی وی : پاکستان تحریک انصاف کے ارکان کا پارلیمنٹ لاجز میں اجلاس ہوا جس میں پی ٹی آئی نے پیر کو پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں شرکت کا فیصلہ کیا۔

    ذرائع کا کہنا ہےکہ پی ٹی آئی نے 43 ارکان قومی اسمبلی کو ڈی نوٹیفائی کرنے کے الیکشن کمیشن کے فیصلے کی معطلی کےبعد عدالتی حکم موصول ہونے کی صورت میں آئندہ کا لائحہ عمل بنانے کا فیصلہ کیا ہے اس سلسلے میں تمام قانونی تقاضے پورے کیے جائیں گے اور ارکان کا کہنا ہےکہ عدالتی حکم ملنے سے قبل پارلیمنٹ آنے کا کوئی فائدہ نہیں۔

    اس سے قبل قومی اسمبلی سیکرٹریٹ اور اسپیکرکے مؤقف کےبعدپی ٹی آئی ممبران نےاپنا فیصلہ تبدیل کیا تھا اورعدالتی فیصلے کی روشنی میں ہی اسمبلی جانے کا فیصلہ کیا قومی اسمبلی سیکرٹریٹ نے عدالت کے تحریری حکمنامے تک پی ٹی آئی ممبران کو اجلاس میں آنے سے روکنے کا کہا ہےاستعفوں کا معاملہ معطل کے بجائے کالعدم ہوتو ہی پی ٹی آئی ممبران قومی اسمبلی میں واپس آئیں گے۔

    ذرائع کے مطابق قومی اسمبلی سیکرٹریٹ اور اسپیکر کے فیصلے کے بعد پی ٹی آئی کے سابق ممبرانِ اسمبلی پارلیمنٹ لاجز واپس جا رہے ہیں جبکہ 9 ممبران اب بھی مشاورت کے لیے سینیٹر شہزاد وسیم کے چیمبر میں موجود ہیں۔

    اس سے پہلے تحریکِ انصاف کے ارکان پارلیمنٹ ہاؤس میں اکٹھے ہوئے تھے یہ ارکان عدالتی تحریری فیصلہ ملنے اور چیئرمین پی ٹی آئی کی ہدایت پر قومی اسمبلی کے ایوان میں آنے کے لیے اکٹھے ہوئے تھے۔

    واضح رہے کہ گزشتہ روز لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس شاہد کریم نے پاکستان تحریکِ انصاف کے 43 ارکانِ اسمبلی کو ڈی نوٹیفائی کرنے کا الیکشن کمیشن کاحکم معطل کرتے ہوئے 43 حلقوں میں ضمنی الیکشن تاحکم ثانی روک دیا۔

    عدالت نے الیکشن کمیشن سمیت دیگر فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کرلیا پی ٹی آئی کے ریاض فتیانہ سمیت 43 ارکانِ اسمبلی نے اسپیکر راجہ پرویز اشرف اور الیکشن کمیشن کی جانب سے استعفوں کی منظوری کے اقدام کو لاہور ہائی کورٹ میں چیلنج کیا تھا۔

  • عوام کرپشن سے پاک حکومت چاہتے ہیں، تمام مسائل کا حل عوام کے فیصلے ہی سے ممکن ہے،چیف جسٹس

    عوام کرپشن سے پاک حکومت چاہتے ہیں، تمام مسائل کا حل عوام کے فیصلے ہی سے ممکن ہے،چیف جسٹس

    اسلام آباد: سپریم کورٹ میں نیب ترامیم کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس آف پاکستان نے ریمارکس دیئے ہیں کہ ملک میں تمام مسائل کا حل عوام کے فیصلے ہی سے ممکن ہے۔

    باغی ٹی وی: نیب قوانین میں ترامیم کے کیس میں دوران سماعت چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ ملک میں تمام مسائل کا حل عوام کے فیصلے سے ہی ممکن ہے،موجودہ حکومت کے قیام کو 8 ماہ ہو چکے ہیں،موجودہ پارلیمنٹ دانستہ طور پر نامکمل رکھا گیا ہے،موجودہ پارلیمنٹ سے ہونے والی قانون سازی بھی متنازع ہو رہی ہے- الیکشن کمیشن نے اسپیکر رولنگ کیس میں کہا تھا کہ نومبر 2022ء میں عام انتخابات کرانے کے لیے تیار ہوں گے۔

    سماعت کے دوران وفاقی حکومت کے وکیل مخدوم علی خان نے نیب ترامیم پر عمران خان کے حق دعویٰ نہ ہونے پر دلائل دیتے ہوئے کہا کہ عدالت آرٹیکل 184 تھری پر محتاط رہے اس کے تحت کسی بھی درخواست پر قانون سازی کالعدم قرار دے گی تو معیار گر جائے گا۔ آرٹیکل 184 تھری کا اختیار عوامی معاملات میں ہوتا ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ موجودہ کیس کے حقائق مختلف ہیں۔

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ ملک کی سب سے بڑی سیاسی جماعت کے سربراہ نے نیب ترامیم چیلنج کی ہیں۔ ملک میں شدید سیاسی تناؤ اور بحران ہے۔ پاکستان تحریک انصاف نے پہلے پارلیمنٹ چھوڑنے کی حکمت عملی اپنائی۔ پی ٹی آئی نے پتا نہیں کیوں پھر پارلیمنٹ میں واپس آنے کا بھی فیصلہ کر لیا۔

    سپریم کورٹ کے چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ درخواست گزار عمران خان کوئی عام شہری نہیں ہیں۔ عمران خان کے حکومت چھوڑنے کے بعد بھی بڑی تعداد میں عوام کی پشت پناہی حاصل رہی ہے۔ عدالت بھی قانون سازی میں مداخلت نہیں کرنا چاہتی۔ عدالت نے کوئی ازخود نوٹس نہیں لیا بلکہ نیب ترامیم کے خلاف درخواست آئی ہے۔

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ عدالت اس سے پہلے بھی ایک بار اپنے فیصلے پر افسوس کا اظہار کر چکی ہے۔ پاکستان کی تاریخ میں ایک ہی وزیراعظم آئے تھے، جو بہت دیانت دار سمجھے جاتے تھے۔ ایک دیانت دار وزیراعظم کی حکومت 58 ٹو بی کے تحت ختم کی گئی تھی آرٹیکل 58 ٹو بی ڈریکونین لا تھاعدالت نے 1993ء میں قراردیا کہ حکومت غلط طریقےسے گئی لیکن اب انتخابات ہی کرائے جائیں اب عمران خان اسمبلی میں نہیں ہیں اور نیب ترامیم جیسی قانون سازی متنازع ہو رہی ہے۔ اس کیس میں عمران خان کا حق دعویٰ ہونے یا نہ ہونے کا معاملہ نہیں بنتا۔

    وفاقی حکومت کے وکیل مخدوم علی خان نے اپنے دلائل میں کہا کہ تاریخ میں کبھی نہیں ہوا کہ سیاسی بازی ہارنے کے بعد کوئی شخص پارلیمان سے نکل کر عدالت آیا ہو۔اس طرح سیاست کو عدلیہ میں اور عدلیہ کو سیاست میں دھکیلا گیا ہے۔

    جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ ایک شخص جب اقلیت میں ہے اور اس کے حقوق متاثر ہوں گے تو وہ عدالت کے سوا کہاں جائے؟۔ جو بھی ضروری ہے اس کا فیصلہ عوام کو کرنے دیں۔

    وکیل مخدوم علی خان نے کہا کہ انتخابات سے قبل قانون میں وضاحت ضروری ہے۔ پارلیمنٹ چھوڑنے کے بعد ملک میں انتخابات کے لیے ہر کسی کو ایک سے زائد نشست پر انتخابات لڑنے کا حق حاصل ہے۔ بھارت میں ایک شخص کو ایک ہی نشست پر انتخابات میں حصہ لینے کی اجازت ہے۔ ایک سے زیادہ نشست سے انتخابات لڑنے سے ہار یا جیت کی صورت میں عوامی پیسے کا ضیاع ہوتا ہے۔

    چیف جسٹس نے دوران سماعت کہا کہ ذوالفقار بھٹو نے ایک سے زائد سیٹ پر انتخابات لڑے تھے۔ بلا مقابلہ نشست جیتی تو باقی انتخابات معمول کے مطابق ہوئے تھے۔

    وکیل نے کہا کہ یہ 1970ء سے پہلے کا معاملہ تھا۔ عوام نے بھٹو کے بلا مقابلہ جیتنے کی بھاری قیمت ضیا کے 11 سالوں کی صورت میں اتاری تھی۔ ایک عدالت جمہوریت نہیں بچا سکتی۔

    وکیل مخدوم علی خان نے کہا کہ 40 سال پہلے ایک بین الاقوامی اخبار میں آرٹیکل لکھا گیا۔ آرٹیکل کے مطابق لوگ سیاستدانوں کو اپنی پہچان چاہتے ہیں نہ ہی ججز سے حکومت کرانا۔عدالت حکومت نہ کرے۔

    چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ عدالت کوئی حکومت کرنا نہیں چاہتی۔ عدالت ازخود نوٹس کے اختیار میں محتاط رہی ہے۔ سیاسی خلا عوام کے لیے کٹھن ہوتا ہے۔ جب سیاسی بحران پیدا ہوتا ہے تو عدالت کو مداخلت کرنا پڑتی ہے۔ عوام کرپشن سے پاک حکومت چاہتے ہیں۔

  • آئی ایم ایف سے مذاکرات کے حوالے سے آج اچھی خبر دیں گے،اسحاق ڈار

    آئی ایم ایف سے مذاکرات کے حوالے سے آج اچھی خبر دیں گے،اسحاق ڈار

    اسلام آباد: وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے کہا ہےکہ وہ آج آئی ایم ایف سے مذاکرات سے متعلق اچھی خبر دیں گے۔

    اسلام آباد میں ایک تقریب کے بعد میڈیا نمائندوں سے غیر رسمی گفتگو میں اسحاق ڈار نے کہا کہ آئی ایم ایف مشن کے ساتھ ملاقات کررہا ہوں اور ان کے ساتھ مذاکرات آن ٹریک ہیں۔

    وزیر خزانہ نے کہا کہ آئی ایم ایف سے کوئی اختلاف نہیں، ان کے ساتھ آج فائنل راونڈ چل رہا ہے،آئی ایم ایف سے مذاکرات کے حوالے سے آج اچھی خبر دیں گے،آئی ایم ایف سےروزانہ کی بنیادپر میری بات ہورہی ہے-

    اسلام آباد میں روڈ سیفٹی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیرخزانہ اسحاق ڈار نے کہا کہ اس طرح کی تقریب کاانعقاد خوش آئند ہے،روڈ حادثات میں کئی قیمتی جانوں کاضیاع ہوتا ہے،سڑکوں پر ٹریفک کادباودن بدن بڑھ رہا ہے،حکومت رواں سال 50سے زائد سڑکوں کے منصو بوں پر کام کررہی ہےروڈ سیفٹی کانفرنس سے جامع ایکشن پلان بنانے میں مدد ملے گی-