Baaghi TV

Author: Ayesha Rehmani

  • پمز اسپتال سے ڈاکٹرز کی 10رکنی ٹیم ادویات کیساتھ ترکیہ روانہ

    ترکیہ میں زلزلہ متاثرین کی مدد کیلئے پمز اسپتال سے ڈاکٹرز کی 10رکنی ٹیم ادویات کیساتھ روانہ ہو گئی-

    باغی ٹی وی: وفاقی وزیرصحت عبدالقادرپٹیل کے مطابق مصیبت کی گھڑی میں ترک بھائیوں کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں،ترکیہ اور شام میں زلزلے سے جانی و مالی نقصان پر بہت افسوس ہوا،ترکیہ نے ہر مشکل میں ہمیشہ پاکستان کاساتھ دیا ہے-

    وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان اپنے برادرملک ترکیہ کے عوام اورحکومت کی ہرممکن مدد کریں گا،10رکنی ٹیم شام میں زلزلےسے متاثرہ کی عوام کی خدمت کے جذبےسے سرشار ہے-

    دوسری جانب پاکستان کی جانب سے ترکیہ میں زلزلے سے متاثرہ علاقوں میں بھیجی گئی UN-INSARAG کی سند یافتہ پاکستان ریسکیو ٹیم نے ترکیہ کے صوبہ ادیامان میں اپنا ریسکیو اور ریلیف آپریشن کامیابی سے مکمل کر لیا ہے جو کہ زلزلے سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے 10 صوبوں میں سے ایک ہے، ریسکیو آپریشن 5 روز تک جاری رہا اور ترک حکومت نے اب ملبہ ہٹانے اور بچ جانے والوں کو ملک کے مختلف حصوں میں منتقل کرنا شروع کر دیا ہے۔

    ابھی تک شامی زلزلہ متاثرین کیلئے بھیجی گئی امداد کافی نہیں. اقوام متحدہ

  • ترکیہ اور شام زلزلہ: اموات 25 ہزار 800 سے متجاوز

    ترکیہ اور شام زلزلہ: اموات 25 ہزار 800 سے متجاوز

    ترکیہ اور شام میں زلزلے سے اموات کی تعداد 25 ہزار 800 سے تجاوز کر گئی ہے۔

    باغی ٹی وی: رپورٹس کے مطابق ترکیہ میں زلزلے سے اموات کی تعداد 22 ہزار 327 تک جا پہنچی جبکہ شام میں زلزلے سے اب تک 3 ہزار 553 افراد جان سے جا چکے ہیں۔

    ابھی تک شامی زلزلہ متاثرین کیلئے بھیجی گئی امداد کافی نہیں. اقوام متحدہ

    امریکی جیولوجیکل سروے کے مطابق پیر کو آنے والے 7.8 شدت کے زلزلے کے بعد 7.6 شدت کا ایک اور زلزلہ آیا، جس نے مزید تباہی پھیلائی۔

    زلزلے کے جھٹکے قبرص، یونان، شام، اردن، لبنان اور فلسطین میں بھی محسوس کیے گئے جب کہ قیامت خیز تباہی کے بعد 300 سے زیادہ آفٹر شاکس آچکے ہیں۔

    ترک وزیر صحت کے مطابق زلزلے سے ترکیہ میں 22 ہزار 327 افراد ہلاک ہوگئے ہیں جبکہ 80 ہزار سے زائد زخمی ہیں ۔اسی طرح شام میں زلزلے سے ہلاکتوں کی تعداد 3 ہزار 553 ہوگئی ہے۔

    ملبے تلے اب بھی متعدد افراد کے پھنسے ہونےکا خدشہ ہے، انہیں نکالنےکے لیے دن رات ریسکیو آپریشن جاری ہے تاہم شدید سردی اور بعض علاقوں میں برفباری کے باعث متاثرین کو کٹھن حالات کا سامنا ہے اور امدادی کارروائیوں میں بھی مشکلات پیش آرہی ہیں۔

    ادھر ترکیہ میں 104 گھنٹے بعد زلزلے کے باعث منہدم عمارت کے ملبے سے نکالی گئی ترک خاتون دم توڑ گئی ریسکیو اہلکاروں نے بتایا کہ جنوبی ترکیہ میں ایک منہدم عمارت کے ملبے سے نکالے جانے کے ایک دن بعد ایک خاتون اسپتال میں دم توڑ گئی، وہ پیر کے روز آنے والے تباہ کن زلزلے کے بعد سے 104 گھنٹے تک ملبے تلے پھنسی ہوئی تھی۔

    ترکیہ، شام زلزلہ؛ اموات 25 ہزار سے بھی تجاوز کرگئیں

    جرمن ریسکیو اہلکار نے جمعہ کے روز جنوبی ترکیہ کے قصبے کیریخان میں 40 سالہ زینب کہرامن کو ملبے سے باہر نکالا، انہوں نے اس کے زندہ رہنے کو ایک “معجزہ” قرار دیا کیونکہ دہائیوں میں خطے کے سب سے خطرناک زلزلے کے بعد تلاش اور ریسکیو کی کوششوں سے مزید لاشیں نکلتی رہیں۔

    جرمن انٹرنیشنل سرچ اینڈ ریسکیو ٹیم کے لیڈر اسٹیون بائر نے کہا کہ مذکورہ خاتوں کے بھائی اور بہن سے اطلاع ملی کہ زینب کا اسپتال میں انتقال ہو گیا۔ انہوں نے ٹیم کو مطلع کیا کہ وہ خاتون بدقسمتی سے انتقال کر گئی ہیں۔

    ٹیم کے ڈاکٹر نے کہا کہ اس طرح کے پیچیدہ ریسکیو آپریشن کے بعد پہلے 48 گھنٹوں کے دوران خطرات خاص طور پر زیادہ تھے جب کہ کچھ ریسکیور اہلکار ایک دوسرے کو تسلی دیتے اور آنسو روکتے رہےوہ خاتون واقعی 100 گھنٹے سے زیادہ کے لیے ملبے تلے دفن رہی، پھنسی نہیں بلکہ دفن رہی۔ انہوں نے مزید کہا کہ ریسکیو والوں کی کوششیں رائیگاں نہیں گئیں۔

    دوسری جانب ترک وزارت انصاف نے ناقص تعمیرات میں ملوث افراد کے وارنٹ گرفتاری جاری کر دیے جبکہ 12 افراد کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔

    خبر رساں اداروں کے مطابق زلزلے کے باعث ترکیہ میں چھ ہزار عمارتیں تباہ ہوئی ہیں جبکہ ہزاروں افراد زخمی ہوئے ہیں۔

    اسمارٹ فون ملبے تلے دبے درجنوں افراد کو زندہ بچانے میں مدد گار

    ادھر زلزلے سے متاثرہ علاقوں کے دورے پر گفتگو کے دوران ترک صدر کا کہنا تھا کہ ترکیہ میں زلزلے سے متاثرہ علاقوں میں لاکھوں عمارتیں ناقابل رہائش ہوچکی ہیں، چند ہفتوں میں تباہ شدہ شہروں کی تعمیر نو شروع کرنے کے اقدامات کریں گے۔

    اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیوگوتیریس کا کہنا ہےکہ امدادی پروگرام کےسربراہ ترکیہ، شام کا دورہ کریں گے، زلزلہ زدہ علاقوں میں لوگوں کومرنےسےبچانے کے لیے ہرممکن مدد کی ضرورت ہے۔

    پاکستان کی جانب سے ترکیہ میں زلزلے سے متاثرہ علاقوں میں بھیجی گئی UN-INSARAG کی سند یافتہ پاکستان ریسکیو ٹیم نے ترکیہ کے صوبہ ادیامان میں اپنا ریسکیو اور ریلیف آپریشن کامیابی سے مکمل کر لیا ہے جو کہ زلزلے سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے 10 صوبوں میں سے ایک ہے۔

    شام زلزلہ:ملبے تلے پیدا ہونیوالی نومولود بچی کو اسے بچانے والے نے گود لے لیا

    52 رکنی ٹیم کے کمانڈر رضوان نصیر نے نجی‌ خبررساں ادارے سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اربن سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن اختتام کو پہنچ گیا اور ٹیم پیر کے روز پاکستان کے لیے روانہ ہوگی۔

    رضوان نصیر کے مطابق پاکستان ریسکیو ٹیم (پی آر ٹی) پہلی بین الاقوامی ٹیم تھی جو امدادی کاموں کے لیے ترکیہ پہنچی، ریسکیو آپریشن 5 روز تک جاری رہا اور ترک حکومت نے اب ملبہ ہٹانے اور بچ جانے والوں کو ملک کے مختلف حصوں میں منتقل کرنا شروع کر دیا ہے۔

    انہوں نے بتایا کہ زلزلے کے بعد تقریباً 6 دن گزر چکے ہیں، ملبے کے نیچے پھنسے ہوئے لوگوں کا زندہ بچنے کا امکان کم ہے جب کہ ٹیم نے لوکیٹرز کا استعمال کرتے ہوئے کم از کم 59 عمارتوں میں زندہ بچ جانے والوں کی تلاش کی اور جو زندہ مل گئے انہیں بچایا۔

    ترکیہ اور شام میں تباہ کن زلزلے سے اموات کی تعداد 15 ہزار سے تجاوز

  • معروف شاعر سید اعجاز علی رحمانی

    معروف شاعر سید اعجاز علی رحمانی

    کبھی نصیب ہو فرصت تو اس کو پڑھ لینا
    وہ ایک خط جو ترے نام چھوڑ آیا ہوں

    نام سید اعجاز علی رحمانی اور تخلص اعجاز ہے۔ 12 فروری 1940ء کو علی گڑھ میں پید اہوئے۔ آپ کے والدہ اور والد کا کم عمری میں انتقال ہوگیا ، اس وجہ سے پرائمری اور دینی تعلیم علی گڑھ میں حاصل کرسکے۔ 1954ء میں پاکستان آگئے۔ کراچی آنے کے بعد ادیب اور ادیب فاضل کے امتحانات پاس کیے اور ابراہیم انڈسٹری ، عثمان آباد کراچی میں ملازم ہوگئے۔

    اپنے ایک عزیز فضا جلالوی کے ایما پر قمر جلالوی کے شاگرد ہوگئے۔ مقامی روزنامے میں روزانہ قطعات لکھتے رہے۔ ایک نعت گو کی حیثیت سے انھیں نمایاں مقام حاصل ہے۔ ان کی تصانیف کے نام یہ ہیں:’’اعجاز مصطفی‘‘، ’’پہلی کرن آخری روشنی‘‘(نعتیہ مجموعے)، ’’کاغذ کے سفینے‘‘، ’’افکار کی خوشبو‘‘، ’’غبار انا‘‘، ’’لہو کا آبشار‘‘، ’’لمحوں کی زنجیر‘‘(غزلوں کے مجموعے)، ’’چراغ مدحت‘‘، ’’جذبوں کی زبان‘‘، ’’خوشبو کا سفر‘‘۔ بحوالۂ:پیمانۂ غزل(جلد دوم)،محمد شمس الحق،صفحہ:311،26 اکتوبر 2019ء کو کراچی میں وفات پا گئے-

    غزل
    ۔۔۔۔۔
    اب کرب کے طوفاں سے گزرنا ہی پڑے گا
    سورج کو سمندر میں اترنا ہی پڑے گا
    فطرت کے تقاضے کبھی بدلے نہیں جاتے
    خوشبو ہے اگر وہ تو بکھرنا ہی پڑے گا
    پڑتی ہے تو پڑ جائے شکن اس کی جبیں پر
    سچائی کا اظہار تو کرنا ہی پڑے گا
    ہر شخص کو آئیں گے نظر رنگ سحر کے
    خورشید کی کرنوں کو بکھرنا ہی پڑے گا
    میں سوچ رہا ہوں یہ سر شہرِ نگاراں
    یہ اس کی گلی ہے تو ٹھہرنا ہی پڑے گا
    اب شانۂ تدبیر ہے ہاتھوں میں ہمارے
    حالات کی زلفوں کو سنورنا ہی پڑے گا
    اک عمر سے بے نور ہے یہ محفلِ ہستی
    اعجازؔ کوئی رنگ تو بھرنا ہی پڑے گا

    غزل
    ۔۔۔۔۔
    ہوا کے واسطے اک کام چھوڑ آیا ہوں
    دیا جلا کے سر شام چھوڑ آیا ہوں
    کبھی نصیب ہو فرصت تو اس کو پڑھ لینا
    وہ ایک خط جو ترے نام چھوڑ آیا ہوں
    ہوائے دشت و بیاباں بھی مجھ سے برہم ہے
    میں اپنے گھر کے در و بام چھوڑ آیا ہوں
    کوئی چراغ سر رہ گزر نہیں نہ سہی
    میں نقش پا کو بہر گام چھوڑ آیا ہوں
    ابھی تو اور بہت اس پہ تبصرے ہوں گے
    میں گفتگو میں جو ابہام چھوڑ آیا ہوں
    یہ کم نہیں ہے وضاحت مری اسیری کی
    پروں کے رنگ تہہ دام چھوڑ آیا ہوں
    وہاں سے ایک قدم بھی نہ جا سکی آگے
    جہاں پہ گردشِ ایام چھوڑ آیا ہوں
    مجھے جو ڈھونڈھنا چاہے وہ ڈھونڈھ لے اعجازؔ
    کہ اب میں کوچۂ گمنام چھوڑ آیا ہوں

    اشعار
    ۔۔۔۔۔
    ابھی سے پاؤں کے چھالے نہ دیکھو
    ابھی یارو سفر کی ابتدا ہے

    تالاب تو برسات میں ہو جاتے ہیں کم ظرف
    باہر کبھی آپے سے سمندر نہیں ہوتا

    وہ ایک پل کی رفاقت بھی کیا رفاقت تھی
    جو دے گئی ہے مجھے عمر بھر کی تنہائی

    گزر رہا ہوں میں سودا گروں کی بستی سے
    بدن پہ دیکھیے کب تک لباس رہتا ہے

    فطرت کے تقاضے کبھی بدلے نہیں جاتے
    خوشبو ہے اگر وہ تو بکھرنا ہی پڑے گا

    جہاں پہ ڈوب گیا میری آس کا سورج
    اسی جگہ وہ ستارہ شناس رہتا ہے

  • خواتین کے قومی دن پر وفاقی وزیرشیری رحمان کا پیغام

    خواتین کے قومی دن پر وفاقی وزیرشیری رحمان کا پیغام

    خواتین کے قومی دن پر وفاقی وزیرشیری رحمان نے خواتین کو خراج تحسین پیش کیا ہے-

    باغی ٹی وی:ہر سال 12 فروری کو پاکستانی خواتین کاقومی دن منایا جاتا ہے اسی مناسبت سے وفاقی وزیر ماحولیاتی تبدیلی اور سینیٹر شیری رحمان نے جاری پیغام میں کہا کہ ملک کی تمام باہمت، محنتی اور بہادر خواتین کو خراج تحسین پیش کرتی ہوں، ملک کی 49 فیصد آبادی عورتوں پر مشتمل ہے-

    وزیر اعلی بلوچستان کے استعفی بارے بیان کو سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کیا گیا

    رہنما پیپلز پارٹی نے کہا کہ ہماری جرات مند عورتیں ہی پاکستان کی دستاویزی اور غیر دستاویزی معیشت کا پہیہ چلاتی ہیں،ہماری عورتیں ملک کا سرمایہ ہی نہیں سہارا بھی ہیں، لیڈی ہیلتھ ورکرز ہو یا بی آئی ایس پی ، پیپلز پارٹی نے ہمیشہ عوامی اور انقلابی منصوبوں کا آغاز کیا-

    شیری رحمان نے کہا کہ پیپلز پاورٹی رڈکشن پروگرام کے ذریعے صوبہ سندھ کی خواتین ترقی کی نئی مثال قائم کر رہی ہیں،ہماری خواتین ایک خود کفیل معاشرے کی بنیاد ڈال رہی ہیں-

    واضح رہے کہ 12 فروری 1983 کو لاہور ہائیکورٹ کے سامنے خواتین، وکلا، اساتذہ، ادیب، شعرا اور انسانی حقوق کے کارکنوں اور خواتین کے حقوق کی تنظیموں نے ضیا الحق کے نافذ کر دہ مار شل لا کے خلاف جلوس نکالا۔ یہ احتجاجی جلوس اس وقت پاکستان میں لگی ہوئی جبری پابندیوں، حدود آرڈیننس اور عورتوں کے خلاف امتیازی قوانین مثلاً قانون شہادت کے خلاف نکالا گیا۔ اس پُر امن مظاہرے پر پنجاب پولیس اور خفیہ اہلکاروں نے بھرپور تشدد کیا اور نہتے عوام پر لاٹھی چارج اور آنسو گیس کا استعمال کیا گیا۔ خواتین کو متحد ہونے کے لیے پلیٹ فارم مہیا کیا تاکہ وہ اپنے حقوق کی بازیابی کے لیے جدو جہد کر سکیں۔

    سندھ اسمبلی میں نجی طور پر سود کے کاروبار کیخلاف بل پیش کردیا گیا

    عورتوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیم ویمن ایکشن فورم نے قانون شہادت میں ترمیم کے خلاف 12 فروری 1983 کو جلوس نکالنے کا اعلان کیا۔ لاہور کی عورتوں نے پنجاب اسمبلی کے مقابل فری میسن بلڈنگ کے سامنے جمع ہونا تھا۔ یہاں سے انہیں چند سو گز کے فاصلے پر لاہور ہائی کورٹ جا کر چیف جسٹس کو ایک یاد داشت پیش کرنا تھی۔ اس مظاہرے پر حکومتی اہلکاروں کی طرف سے لاٹھی چارج اور آنسو گیس کا استعمال کیا گیا۔ عوامی شاعر حبیب جالب بھی ان کےساتھ تھے، جنہوں نے اس موقع پر خواتین کےلیے ایک نظم بھی پڑھ کر سنائی۔ پولیس نے ان خواتین پر لاٹھی چارج کر دیا، حبیب جالب کا سر پھٹ گیا۔ تقریباً پچاس خواتین کو گرفتار کر لیا گیا۔ اب اس واقعہ کی یاد میں ہر سال 12 فروری کو پاکستانی عورتوں کا قومی دن منایا جاتا ہے۔

    پاکستان پہلا ملک ہے جس نے اسلامی انقلاب کی کامیابی کو سب سے پہلے تسلیم کیا۔ وزیر…

  • ٹانک میں تھانہ گومل پر دہشتگردوں کا حملہ،بنوں میں سی ٹی ڈی نے کارروائی تین دہشتگرد گرفتار

    ٹانک میں تھانہ گومل پر دہشتگردوں کا حملہ،بنوں میں سی ٹی ڈی نے کارروائی تین دہشتگرد گرفتار

    خیبر پختونخوا کے ضلع ٹانک میں تھانہ گومل پر دہشت گردوں کا حملہ ناکام بنا دیا گیا۔

    باغی ٹی وی: ڈسٹرکٹ ٹانک کے تھانہ گومل پر ہفتے کی شب دس بجے 10 سے 15 دہشت گردوں نے حملے کی نیت سے پیش قدمی کی، جوابی فائرنگ سے حملہ آور فرار ہوگئے-

    گوجرہ:مسلح ڈاکوؤں نے دو مختلف وارداتوں میں شہریوں کو لوٹ لیا

    حکام کے مطابق پولیس نے دہشت گردوں کی مشکوک نقل و حرکت کا جدید ٹیکنالوجی سے مشاہدہ کیا اور بھرپور ردعمل دیا۔ جس کے بعد دہشت گردوں سے تقریباً 15 منٹ تک شدید فائرنگ کا تبادلہ ہوا اور انہوں نے پیش قدمی روک دی اس دوران کوئی جانی نقصان ہوا اور نہ ہی کوئی اہلکار زخمی ہوا۔

    آئی جی خیبرپختونخوا حیات خان نے ایس ایچ او گومل سے ٹیلی فون پر رابطہ کیا اور بہادری کے ساتھ دہشت گردوں کے حملے کو ناکام بنانے پر اہلکاروں کی تعریف کی اور انہیں پچاس ہزار روپے نقد جبکہ تعریفی اسناد دینے کا اعلان بھی کیا۔

    ادھر بنوں میں سی ٹی ڈی نے کارروائی کرتے ہوئے تین دہشت گردوں کو گرفتار کرلیا سی ٹی ڈی کا کہنا ہے کہ دہشت گردوں کا تعلق کالعدم ٹی ٹی پی سے ہے، تینوں دہشت گرد لکی مروت سے پشاور جا رہے تھے ملزمان لکی مروت، ڈی آئی خان اور بنوں میں حملوں میں ملوث تھے۔

    سی ٹی ڈی کا کہنا ہے کہ گرفتار دہشت گردوں میں عمر زمان، سلیم عرف ملنگ اور احمد نبی شامل ہیں۔ تینوں گرفتار دہشتگرد ٹارگٹ کلرز ہیں۔

    کراچی : پولیس افسر اور اہلکار اغوا برائے تاوان میں ملوث نکلے، اغوا شدہ شہری بازیاب

  • اے این ایف کی منشیات کیخلاف مختلف شہروں میں  کارروائیاں

    اے این ایف کی منشیات کیخلاف مختلف شہروں میں کارروائیاں

    کراچی:اے این ایف نے منشیات کیخلاف مختلف شہروں میں کارروائیاں کیں-

    باغی ٹی وی: ترجمان اے این ایف کے مطابق راولپنڈی کوریئرآفس سے لندن بھیجے جانیوالے پارسل سے 386 نشہ آور گولیاں برآمد کیں،پشاور کارخانو مارکیٹ کے قریب خیبر کے رہائشی ملزم سے 1 کلو آئس برآمد کی-

    علاوہ ازیں اے این ایف اور ایف سی نے خیبر میں مشترکہ کارروائی میں پاک افغان بارڈر پر 33 کلو چرس برآمد کی،ایک اور کارروائی میں نوکنڈی کے صحرائی علاقے میں زمین کے اندر چھپائی گئی 91 کلو چرس برآمد ہوئی،وندر لسبیلہ کے قریب دوران کارروائی 9 کلو 20 گرام آئس برآمد کی-

    ترجمان اے این ایف کے مطابق گرفتار مُلزمان کیخلاف انسدادِ منشیات ایکٹ کے تحت مقدمات درج کر کے انکوائری کا آغاز کر دیا گیا ہے-

  • برصغیر کی نامور شاعر پنڈت برج نارائن چکبست

    برصغیر کی نامور شاعر پنڈت برج نارائن چکبست

    زندگی کیا ہے عناصر میں ظہورِ ترتیب
    موت کیا ہے، انہیں اجزا کا پریشاں ہونا

    برج نارائن چکبست 19 جنوری 1882 کو فیض آباد میں پیدا ہوئے ۔ اصل نام پنڈت برج نارائن چکبست تھا لکھنؤ میں تعلیم حاصل کی. 1908ء میں قانون کا امتحان پاس کرکے وکالت کرنے لگے۔

    9 برس کی عمر سے شعر کہنا شروع کردیا تھا۔ کسی استاد کو کلام دکھایا نہ کوئی تخلص رکھا. چکبست اُن کی گوت تھی، کہیں کہیں اس کا استعمال کیا ہے۔ غالب ؔ، انیسؔ اور آتش ؔسے متاثر تھے۔ شاعری کی ابتداء غزل سے کی۔ بعد میں قومی نظمیں لکھنے لگے۔ایک رسالہ ’ستارۂ صبح‘ بھی جاری کیا تھا۔ چکبست کا مجموعہ کلام ‘‘صبح وطن ‘‘ کے نام سے شائع ہوا۔

    12 فروری1926ء کو ایک مقدمے کی پیروی کیلئے بریلی گئے. لکھنؤ واپسی آنے کیلئے بریلی ریلوے سٹیشن پر فالج کا حملہ ہوا اور چند ہی گھنٹوں بعد سٹیشن پر ہی انتقال ہوگیا۔

    ان کے کچھ اور اشعار :

    دردِ دل، پاسِ وفا، جذبۂ ایماں ہونا
    آدمیّت ہے یہی اور یہی انساں ہونا

    ﺍﺱ ﮐﻮ ﻧﺎﻗﺪﺭﯼٔ ﻋﺎﻟﻢ ﮐﺎ ﺻﻠﮧ ﮐﮩﺘﮯ ﮨﯿﮟ
    ﻣﺮ ﭼﮑﮯ ﮨﻢ ﺗﻮ ﺯﻣﺎﻧﮯ ﻧﮯ ﺑﮩﺖ ﯾﺎﺩ ﮐﯿﺎ

    دنیا سے لے چلا ہے جو تو حسرتوں کا بوجھ
    کافی نہیں ہے سر پہ گناہوں کا بار کیا

    چھٹکی ہوئی ہے گورغریباں پہ چاندنی
    ہے بیکسوں کو فکر چراغ مزار کیا

    سر میں سودا نہ رہا پاؤں میں بیڑی نہ رہی
    میری تقدیر میں تھا بے سر و ساماں ہونا

    ہے مرا ضبطِ جنوں، جوشِ جنوں سے بڑھ کر
    تنگ ہے میرے لیے چاک گریباں ہونا

    ہم اسیروں کی دعا ہے کہ چمن سے اک دن
    دیکھتے خانہ صیّاد کا ویراں ہونا

    ﺍﮔﺮ ﺩﺭﺩ ﻣﺤﺒﺖ ﺳﮯ ﻧﮧ ﺍﻧﺴﺎﮞ ﺁﺷﻨﺎ ﮨﻮﺗﺎ
    ﻧﮧ ﮐﭽﮫ ﻣﺮﻧﮯ ﮐﺎ ﻏﻢ ﮨﻮﺗﺎ ﻧﮧ ﺟﯿﻨﮯ ﮐﺎ ﻣﺰﺍ ﮨﻮﺗﺎ

  • عثمانی شہزادی، ایک خاتون دیوان شاعرہ عدیلہ سلطان

    عثمانی شہزادی، ایک خاتون دیوان شاعرہ عدیلہ سلطان

    عدیلہ سلطان (عثمانی ترکی زبان: عدیلہ سلطان ; 23 مئی 1826 – 12 فروری 1899) ایک عثمانی شہزادی، ایک خاتون دیوان شاعرہ اور مخیر حضرات تھیں۔ وہ سلطان محمود دوم کی بیٹی اور سلطان عبدالمجید اول اور عبدالعزیز کی بہن تھیں۔

    ابتدائی زندگی
    ۔۔۔۔۔۔۔
    عدیلہ سلطان 23 مئی 1826 کو پیدا ہوئے۔ اس کے والد کا نام سلطان محمود دوم تھا اور اس کی والدہ زرنیگر حنیم تھیں۔ 1830 میں اپنی والدہ کی موت کے بعد، جب وہ چار سال کی تھیں، انہیں اپنے والد کی سینئر ساتھی، نیوفیدان کدن کی دیکھ بھال سونپ دی گئی۔

    عدیلہ کی تعلیم محل میں ہوئی تھی۔ اس نے قرآن، عربی، فارسی، موسیقی اور خطاطی کے اسباق لیے۔ اس نے خطاطی کے اسباق ابوبکر ممتاز افندی کے ساتھ حاصل کیے، جو اس دور کے سب سے مشہور خطاط تھے۔ اس نے حاصل کردہ تعلیم کے ساتھ، اپنی حساس شخصیت کے ساتھ مل کر، اس نے نظمیں لکھیں، ایسا کرنے والی واحد شہزادی بن گئی۔

    1839ء میں اس کے والد کی وفات کے بعد، جب وہ تیرہ سال کی تھیں، اس کے بڑے سوتیلے بھائی، نئے سلطان عبدالمجید اول نے اسے اپنی سرپرستی میں لے لیا۔

    شادی
    ۔۔۔۔۔
    1845ء میں، اس کے بھائی سلطان عبدالمجید نے اس کی شادی دامت مہمت علی پاشا سے کرائی، جو شاہی اسلحہ خانے میں بطور مشیر خدمات انجام دے رہے تھے۔ ہیمسین میں پیدا ہوا، وہ گلتا کے چیف آغا، ہاکی عمر آغا کا بیٹا تھا۔ وہ بہت چھوٹی عمر میں استنبول آیا، جہاں اس نے اپنا بچپن اینڈرون میں گزارا۔

    شادی کی تیاریاں 24 مارچ 1845ء کو شروع ہوئیںاور شادی کا معاہدہ 28 اپریل کو مقدس آثار کے اپارٹمنٹ، توپکاپی پیلس میں مکمل ہوا۔ تقریب کی انجام دہی کے بعد، طوطے کو دارصاد آغا لایا گیا جہاں سے اسے توفانی گلی سے کران محل لے جایا گیا۔ شادی کی تقریبات اگلی گرمیوں تک موخر کر دی گئیں۔ یہ شادی فروری 1846ء میں ہوئی اور پورا ہفتہ چلی۔ تقریبات کے آخری دن، عدیلہ کو دفتردربار میں واقع نیستا آباد محل لے جایا گیا۔ یہ محل کسی زمانے میں سلطان مصطفٰی ثالث کی بیٹی ہاتیس سلطان کا تھا۔

    شادی کے بعد، محمد علی پاشا بحری بیڑے کا کمانڈر بن گیا، اور پانچ مرتبہ اس عہدے پر فائز رہا، اور اس کے بعد ایک مختصر عرصہ تک اس عہدے پر فائز رہا۔ گرینڈ وزیر اپنے بھائی سلطان عبدالمجید کو۔ دونوں کے ایک ساتھ چار بچے تھے، ایک بیٹا سلطان زادے اسماعیل بے، اور تین بیٹیاں، حیریئے حنِمسلطان، سِدیکا حنِمسلطان، اور ع لیے حنِمسلطان۔ اس کا انتقال 1868 میں اپنے چھوٹے سوتیلے بھائی سلطان عبدالعزیز کے دور حکومت میں ہوا۔ ان کی زندہ بچ جانے والی اکلوتی بیٹی، ہیری 1846 میں پیدا ہوئی، جو اپنے والد کے ایک سال بعد 1869 میں انتقال کر گئی۔
    مذہب
    ۔۔۔۔۔۔۔
    عدیلہ سلطان ایک مذہبی خاتون تھیں۔ تقریباً 1845ء میں، وہ شیخ شمنولو علی آفندی کی پیروکار بن گئیں اور نقشبندی صوفی حکم کی رکن بن گئیں۔ اس نے نیست آباد محل میں شیخوں اور درویشوں کی میٹنگیں منعقد کیں، جو غریب لوگوں کے لیے ایک قسم کے ایپلیکیشن بیورو کے طور پر کام کرتی تھیں جو ان کی ضروریات شہزادی کو بتاتی تھیں۔
    موت
    ۔۔۔۔۔
    عدیلہ سلطان کا انتقال 12 فروری 1899 کو تریپن سال کی عمر میں ہوا، جو محمود کا آخری زندہ بچ جانے والا بچہ تھا۔ انہیں ایوپ، استنبول میں اپنے شوہر کے مقبرے میں سپرد خاک کیا گیا۔

  • سابق سیکرٹری پنجاب کی اہلیہ کا شوہر کی گمشدگی پرچیف جسٹس سےازخود نوٹس کا مطالبہ

    سابق سیکرٹری پنجاب کی اہلیہ کا شوہر کی گمشدگی پرچیف جسٹس سےازخود نوٹس کا مطالبہ

    لاہور:سابق سیکرٹری پنجاب اسمبلی محمد خان بھٹی کی اہلیہ نے شوہر کی گمشدگی پر چیف جسٹس پاکستان سےازخود نوٹس کا مطالبہ کردیا۔

    باغی ٹی وی: لاہورمیں چوہدری پرویزالہٰی نے سیکرٹری پنجاب اسمبلی محمدخان بھٹی کی اہلیہ اوربچوں سےملاقات کی، اس موقع پر محمد خان بھٹی کی اہلیہ کاکہنا تھاکہ ان کےشوہر کو سندھ ہائیکورٹ جاتے ہوئےمٹیاری سے گرفتارکیا گیا 3 دن گزرنےکے بعد بھی ان کے شوہرکا کوئی پتا نہیں، شوہرکی زندگی کوخطرہ ہے، چیف جسٹس ازخود نوٹس لیں۔

    واضح رہے کہ 6 فروری کو سابق وزیر اعلیٰ پنجاب چوہدری پرویز الہٰی کا کہنا تھا کہ سیکرٹری پنجاب اسمبلی محمد خان بھٹی کو سندھ کے علاقے مٹیاری سے حراست میں لے لیا گیا ہے۔

    پرویز الہیٰ نے بتایا تھا کہ محمد خان بھٹی کو اس وقت حراست میں لیا گیا جب وہ حفاظتی ضمانت کے لیے سندھ ہائی کورٹ جا رہے تھے، خدشہ ہے کہ محمد خان بھٹی کو ویسے ہی لاپتہ کردیا جائےگادوسری جانب ایس ایس پی مٹیاری کلیم ملک کا کہنا تھا کہ پولیس نے محمد خان بھٹی کو حراست میں نہیں لیا۔

    حالیہ ہفتے کے دوران ملک میں 29 اشیائے ضروریہ مہنگی ہوئیں

  • شام زلزلہ:ملبے تلے پیدا ہونیوالی نومولود بچی کو اسے بچانے والے نے گود لے لیا

    شام زلزلہ:ملبے تلے پیدا ہونیوالی نومولود بچی کو اسے بچانے والے نے گود لے لیا

    شام میں پیر کے روز آنے والے خوفناک زلزلے کے بعد ملبے تلے معجزانہ طور پر پیدا ہونے والی بچی کو ملبے سے نکالنے والے شامی شخص نے گود لے لیا۔

    باغی ٹی وی:"بی بی سی” کے مطابق معجزاتی طور پر شامی نومولود بچی کو اس کے رشتہ دار نے ملبے کے نیچے سے زندہ نکال لیا تھا۔ بچی کے والدین اور چار بہن بھائی زلزلہ میں جاں بحق ہوچکے ہیں-

    ترکیہ اور شام میں تباہ کن زلزلے سے اموات کی تعداد 20 ہزار سے تجاوز کرگئی

    ہزاروں افراد نے اس بچی کو گود لینے کی پیشکش کی ہے جو پیر کے زلزلے کے بعد شمال مغربی شام میں منہدم ہونے والی عمارت کے ملبے تلے پیدا ہوئی تھی اس کی ماں، باپ اور اس کے چاروں بہن بھائیوں کی موت زلزلے کے بعد جنڈیریس قصبے میں ہوئی تھی۔

    بچی کو ملبے سے نکالنے والے صلاح البدران نامی شخص نے گود لیا ہے جو بچی کو اسپتال سے ڈسچارج ہونے کے بعد اپنے ساتھ لے جاسکیں گے۔

    اس کی دیکھ بھال کرنے والی ماہر اطفال ہانی معروف نے کہا، "وہ پیر کو اتنی بری حالت میں پہنچی، اس کے گلے پر زخم تھے، وہ ٹھنڈی تھی اور بمشکل سانس لے رہی تھی وہ اب مستحکم حالت میں ہے۔

    آیا کے بچاؤ کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئیں۔ فوٹیج میں ایک شخص کو عمارت کے منہدم ہونے والے ملبے سے دوڑتے ہوئے دکھایا گیا، جس میں ایک بچے کو مٹی میں لپٹا ہوا تھا۔

    حکومتی امدادی کارروائیوں پر تنقید، ترکیہ میں ٹوئٹر سروس بند

    اس بچی کو زندہ نکالنے والے شامی نے بتایا کہ انہوں نے بچی کا نام ‘آیاہ’ رکھا ہے جس کے معنی ہیں ‘اللہ کی جانب سے بھیجی گئی نشانی’-

    بچی کو نکالنے والے اس کے رشتہ دار نے کہا کہ وہ اسے گود لے گا اور اپنے بچوں کے ساتھ اس کی پرورش کرے گا یہ بچی ابھی ہسپتال میں داخل ہے اور صحت یاب ہو رہی ہے میں نے اسے اپنی والدہ عفرا کا نام دیا ہے تاکہ یہ مرحوم کے خاندان کے لیے یادگار رہے۔

    مذکورہ شخص نے مزید بتایا کہ زلزلے کے نتیجے میں ان کا گھر بار سب تباہ ہوگیا، وہ اپنے اہلخانہ کے ہمراہ ایک ٹینٹ میں فی الحال رہ رہے ہیں۔

    قبل ازیں خاندان کے ایک رشتہ دار خلیل السواد نےکہا تھا کہ وہ ابو ردینہ اور اس کے اہلخانہ کو تلاش کر رہے تھے، انہوں نے پہلے ابو ردینہ کی بہن کو تلاش کیا، پھر ام ردینہ کو تلاش کیا اور اس کے قریب ہی اس کی نومولود بچی مل گئی ۔

    ترکیہ اور شام میں تباہ کن زلزلے سے اموات کی تعداد 15 ہزار سے تجاوز