Baaghi TV

Author: Ayesha Rehmani

  • ن لیگ کا نگراں وزیراعلیٰ پنجاب کیلئے تین ناموں پر غور شروع

    ن لیگ کا نگراں وزیراعلیٰ پنجاب کیلئے تین ناموں پر غور شروع

    لاہور: نگراں وزیراعلیٰ پنجاب کے لیے مسلم لیگ (ن) نے تین ناموں پر غور شروع کردیا ہے-

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق پنجاب اسمبلی کی تحلیل کے بعد اب نگراں وزیراعلٰی کے تقرر کے لیے ن لیگ نے مختلف ناموں پر غور شروع کردیا۔

    مسلم لیگ ن کا پنجاب اور خیبرپختونخوا میں بھرپور الیکشن لڑنے کا فیصلہ

    پارٹی ذرائع کے مطابق پارٹی کی جانب سے جسٹس (ر) خلیل الرحمان رمدے، سابق بیورو کریٹ ناصر مسعود کھوسہ اور جسٹس جواد ایس خواجہ کے ناموں پر غور ہوگا جبکہ قیادت نے سینئر رہنماؤں سے نگراں وزیراعلی کے لیے مزید نام بھی طلب کئے ہیں-

    واضح رہے کہ گورنر پنجاب نے قائم مقام وزیراعلی چوہدری پرویز الہی اور پنجاب اسمبلی میں قائد حزب اختلاف حمزہ شہباز کو نگراں وزیراعلی کی تقرری کے لیے خط لکھ رکھا ہے، حمزہ شہباز اس وقت بیرون ملک موجود ہیں۔

    واضح رہے کہ گورنر پنجاب نے صوبائی اسمبلی کی تحلیل پر دستخط کرنے سے انکار کردیا تھا ، سمری کے 48 گھنٹے پورے ہونے پر اسمبلی اور کابینہ خود بخود تحلیل ہوگئی تھی اب حکومت اور اپوزیشن مل کر 7 روز میں نگراں وزیراعلیٰ کا مقرر کریں گے۔

    گورنرپنجاب کا اسمبلی تحلیل کرنےسےانکار:اسمبلی پھربھی تحلیل ہوگئی

    گورنر پنجاب بلیغ الرحمان نے صوبائی اسمبلی کی تحلیل کی سمری پر دستخط کرنے سے انکار کردیا تھا ۔گورنر پنجاب بلیغ الرحمان کا کہنا تھا کہ صوبائی اسمبلی کی تحلیل کے عمل کا حصہ نہیں بنوں گا، سمری پر دستخط نہ کرنے سے آئینی عمل میں رکاوٹ کا اندیشہ نہیں، آئین و قانون میں آگے بڑھنے کا راستہ موجود ہے۔

    قبل ازیں واضح رہے کہ چوہدری پرویز الٰہی نے پنجاب اسملبی کی تحلیل کی دستخط شدہ سمری 12 جنوری کو گورنر پنجاب کو بھجوائی تھی۔اس سے قبل انہوں نے عدالتی حکم کی روشنی میں پنجاب اسمبلی سے اعتماد کا ووٹ حاصل کیا تھا، اعتماد کے ووٹ کی قرار داد کے حق میں 186 اراکین نے ووٹ دیا تھا تاہم اپوزیشن نے اس عمل کا بائیکاٹ کرتے ہوئے ایوان سے واک آؤٹ کیا۔

    ایم کیو ایم نے الیکشن کمیشن کے خلاف چیف جسٹس کو خط لکھ دیا

    وزیراعظم شہباز شریف نے پنجاب اسمبلی کی تحلیل میں رکاوٹ نہ بننے کا اعلان کیا تھا جبکہ مسلم لیگ ن نے پنجاب اور خیبرپختونخوا کے صوبائی انتخابات میں بھرپور طریقے سے حصہ لینے کا اعلان کیا ہے۔پاکستان تحریک انصاف پنجاب اسمبلی کے بعد خیبرپختونخوا اسمبلی بھی تحلیل کرنے کا اعلان کرچکی ہے۔

  • ڈولفن پولیس نے ریکارڈ یافتہ دو رکنی ڈکیت گینگ گرفتار کر لیا

    ڈولفن پولیس نے ریکارڈ یافتہ دو رکنی ڈکیت گینگ گرفتار کر لیا

    لاہور: ڈولفن اسکواڈ نے شفیق آباد کے علاقے سے 2 رکنی ڈکیت گینگ کو گرفتار کرلیا۔

    باغی ٹی وی: ڈولفن ٹیم نے دوران پٹرولنگ 2 مشکوک موٹر سائیکل سواروں کو رکنے کا اشارہ کیا، ملزمان نے فرار ہونے کی کوشش کی لیکن تعاقب کے بعد راؤنڈ اپ کرلیا۔

    داماد نے سسرال میں کیا گھناؤنا کام ،سن کر ساس بھی دنگ رہ گئی

    ترجمان کے مطابق ملزمان کے قبضہ سے پستول، موبائل و موٹر سائیکل برآمد کرلی۔ ملزمان نے راوی روڈ، اسلامپورہ، شفیق آباد اور دیگر علاقوں میں وارداتوں کا انکشاف کیا،ملزمان سفیان اور ذوالفقار ریکارڈ یافتہ ہیں، ڈولفن نے تھانہ شفیق آباد کے حوالے کر دیا۔

    قبل ازیں اسلام آباد کیپیٹل پولیس رورل زون نے گزشتہ سات ماہ کے دوران سنگین و دیگر جر ائم میں ملوث 62 گینگ کے180 ارکان سمیت 1332 کو گرفتار کرکے9 کروڑ 98 لاکھ روپے سے زائد کا ما ل مسروقہ برآمد کیا ،،جس میں7 مجرمان اشتہا ری اور عدالتی مفروران بھی شامل ہیں ، قتل اوراندھے قتل میں ملوث 76ملزمان کو ٹر یس کرکے گرفتار کیا گیا –

    ٹھٹھہ: بائی پاس پر ڈمپر اور کار میں تصادم 2 بچوں سمیت 4 زخمی

    اغو اء کے مقدما ت میں ملوث 63 ملزمان کو گرفتار کیا گیا ، جبکہ اغو اءبر ائے تا وان کے ایک مقدمہ میں ملوث پا نچ اغو اءکا روں کو گرفتار کرکے مغوی کو بغیر تا وان دئیے بحفاظت با زیا ب کر الیا، ڈکیتی ، ڈکیتی معہ قتل، رابری، نقب زنی اور سٹریٹ کرائم کی وارداتوں میں ملوث 459ملزمان کو گرفتار کیاگیا-

    اسی طرح منشیات فروشی اور ناجائز اسلحہ میں ملوث 547 ملزمان سے 134کلوگر ام چرس، 75کلو ہیرو ئن گرام ہیروئن، 2383 گرام افیون، 4619 گرام آئس ،1961 بوتلیں ،2785 لیٹر شراب برآمد کرلی، اسی طرح ملزمان سے 294 پسٹل،15عدد رائفلیں/کا ربین اور18 کلا شنکوفیں معہ ایمو نیشن برآمد کیا گیا،اسی عر صہ کے دوران پیشہ ور بھکاریوں اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف موثر کارروائیاں عمل میں لاتے ہوئے 288 پیشہ ور بھکا ریو ںکو گرفتار کرلیاگیا-

    62 گینگ کے180 ارکان سمیت 1332 ملزم گرفتار

  • شُترمُرغ کے 4000 سال  قدیم انڈے دریافت

    شُترمُرغ کے 4000 سال قدیم انڈے دریافت

    تل ابیب: ماہرین کو 4000 سال سے زائد پُرانا شترمرغ کا انڈہ ملا ہے-

    باغی ٹی وی : اسرائیل کے محکمہ آثار کے مطابق ریگستانی علاقے نگیوو میں ایک مقام پر شترمرغ کے ہزاروں برس قدیم انڈوں کی باقیات ملی ہیں اور اس کے پاس ہی آگ لگانے کے لیے بنایا جانے والا ایک گڑھا بھی ملا ہے۔

    ایمیزون جنگلات کی تباہی سے ہمالیہ اورانٹارکٹک کی برف میں بھی کمی ہوسکتی ہے

    ماہرین کا خیال ہے کہ یہاں انسانوں نے عارضی پڑاؤ کیا تھا جو 200 مربع میٹر وسیع تھا یہاں سے گزرنے والے خانہ بدوشوں نے شترمرغ کے انڈوں کو پکا کر کھایا ہوگا کیونکہ ساتھ ہی آگ سے جھلسے ہوئے چھوٹے بڑے پتھر بھی ملے ہیں علاوہ ازیں شترمرغ کےشکستہ انڈے بھی پائے گئے ہیں جو سب سے اہم دریافت ہے انسانی تاریخ میں شترمرغ کے انڈے کے یہ قدیم ترین آثار ہیں۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ یہاں سے کوچ کرنے کے بعد ریگستانی مٹی نے تھوڑے ہی عرصے میں پوری جگہ پرایک دبیز چادر کی شکل اختیار کرلی تھی اور اب ہزاروں سال بعد اسے ماہرین نے دوبارہ دریافت کیا ہے-

    جنوب مغربی امریکہ کی آب و ہوا مسلسل گرم اور خشک،بوٹانیکل گارڈن تتلیوں کے لیےبہترین…

    کھدائی کے ڈائریکٹر لارین ڈیوس نے کہا کہ ماہرین آثار قدیمہ نے پتھر کے اوزار اور مٹی کے برتنوں کے ٹکڑوں کا بھی پتہ لگایا، لیکن یہ کہ انڈے "واقعی خاص تلاش” تھے،19ویں صدی تک اس علاقے میں جنگلی شتر مرغ عام تھے۔

    ماہرین کا خیال ہے کہ اس خطے میں شترمرغ اسی طرح عام تھے جیسے آج گائے اور دیگر جانور پائے جاتے ہیں انیسویں صدی کے اوائل میں شترمرغ یہاں سے غائب ہوگئے تھے بعض انڈے بہت اچھی حالت میں ہیں جن کا بغورمطالعہ کیا جائے گا۔

    دوسری جانب قدیم انسانی حیات میں شترمرغ اور ان کے انڈوں کی اہمیت بھی سامنے آئی ہے۔ شترمرغ کے ایک انڈے میں مرغی کے 25 انڈوں کے برابر غذائیت ہوتی ہے پھر اس میں زائد سفیدی اور زردی کی وجہ سے لوگ اسے پسند کیا کرتےہوں گے علاوہ ازیں انڈے کے خول کو آرائش اور دیگر امور میں بھی استعمال کیا جاتا تھا۔


    واضح رہے کہ عموماً آثارِ قدیمہ سے انڈے نہیں ملتے اور یوں یہ ایک اہم دریافت ہے۔

    ماہرین فلکیات کا زمین کےمدارمیں گردش کرتےسیٹلائٹس پرگہری تشویش کا اظہار

  • ایم کیو ایم نے الیکشن کمیشن کے خلاف چیف جسٹس کو خط لکھ دیا

    ایم کیو ایم نے الیکشن کمیشن کے خلاف چیف جسٹس کو خط لکھ دیا

    کراچی: متحدہ قومی موومنٹ پاکستان (ایم کیو ایم) کے کنوینئر ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے الیکشن کمیشن کی جانب سے آئین کی ترمیم اور آرٹیکل کی خلاف ورزی کرنے پر چیف جسٹس آف پاکستان سے از خود نوٹس لینے کی اپیل کردی۔

    باغی ٹی وی : نجی خبررساں ادارے کے مطابق ایم کیو ایم کے وکیل طارق منصور ایڈوکیٹ نے کہا ہے کہ متحدہ قومی موومنٹ کے کنوینئر ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے چیف جسٹس آف پاکستان کو خط لکھا ہے،مجوزہ خط اور دستاویزات الیکشن کمیشن آف پاکستان اسلام آباد کو 9 جنوری کو ارسال کیا تھا جبکہ 11 جنوری کو یاد داشت کے طور پر صوبائی الیکشن کمشنر کو جمع کروایا تھا۔ جمع کروانے والے ایم کیو ایم کے رہنماؤں میں ڈاکٹر فاروق ستار اور مصطفیٰ کمال و دیگر شامل تھے۔

    بلدیاتی انتخابات: پی ٹی آئی رہنما کی پولنگ کا عمل متاثر کرنے کی کوشش، بیلٹ باکس کی…

    الیکشن کمیشن کو آئینی خط اس لیے بھیجا گیا تھا تاکہ وہ متنازعہ ڈی لیمیٹیشن اور الیکشن شیڈول کو آئین سےمتصادم ہونے کی بنیاد پر کالعدم قرار دے۔ الیکشن کمیشن نے 28 دسمبر 2021 کو ڈی لیمیٹیشن جبکہ 29 اپریل 2022 کے الیکشن شیڈیول کے نوٹیفیکیشن جاری کیے تھے۔

    خط میں کہا گیا ہے کہ الیکشن کمیشن آف پاکستان نے آئین کی 22 ویں ترمیم 2016 اور آرٹیکل 218(2)، 219 کی بادالنظر خلاف ورزی کی ہےچیف جسٹس آف پاکستان سے اس ضمن میں الیکشن کمیشن آف پاکستان کیجانب سےکیے جانے والے غیر آئینی اقدامات پر آئین کے آرٹیکل 184(3) کے تحت مفاد عامہ اور بنیادی آئینی حقوق کی خلاف ورزی پر ازخود نوٹس لینے کی اپیل گئی ہے۔

    کراچی:بلدیاتی انتخابات میں چند گھنٹےباقی:کئی پریذائیڈنگ افسرلاپتہ

    طارق منصور ایڈوکیٹ کے مطابق خط کا مقصد یہ تھا کہ ای سی پی 15 جنوری سےپہلےنئےڈی لیمیٹیشن اور الیکشن شیڈول جاری کرے تاہم الیکشن کمیشن نے 6 دن گزر جانے کے باوجود کوئی جواب نہیں دیا۔ سپریم کورٹ کو خط جمعے کے روز ارسال کیا گیا تھا۔

    واضح رہے کہ ایم کیو ایم پاکستان نے حلقہ بندیوں پر شدید اعتراض کرتے ہوئے سندھ میں بلدیاتی انتخابات کے دوسرے مرحلے میں کراچی، حیدرآباد سمیت دیگر حصوں میں پولنگ رکوانے کا مطالبہ کیا تھا۔ سندھ حکومت نے ایم کیو ایم پاکستان کے تحفظات کو بنیاد بناکر الیکشن کمیشن آف پاکستان کو خط لکھ کر الیکشن ملتوی کرنے کا کہا تھا تاہم ای سی پی نے کراچی اور حیدرآباد میں مقرری وقت 15 جنوری کو ہی الیکشن کرانے کا اعلان کیا تھا۔

    تمام تر تحفظات کے باوجود بلدیاتی انتخابات میں حصہ لیں گے:ایم کیو ایم

  • چین: لامحدود وقت تک ہوا میں رہنے والے لیزرڈرون کا تجربہ کامیاب

    چین: لامحدود وقت تک ہوا میں رہنے والے لیزرڈرون کا تجربہ کامیاب

    چینی انجینیئروں نےڈرون ٹیکنالوجی میں ایک حیرت انگیز خاصیت پیدا کی ہے کہ وہ زمین سے پھینکی گئی لیزر سے توانائی بنا کر کئی ہفتے بلکہ کئی ماہ تک زمین پر اترے بغیر ہوا میں سفر کرسکتے ہیں۔

    باغی ٹی وی: شمال مغربی چین میں محققین کی ایک ٹیم کا کہنا ہے کہ اس نے ہائی انرجی لیزر بیم استعمال کرنے کا ایک طریقہ تیار کیا ہے، ڈرون کو تباہ کرنے کے لیے نہیں بلکہ انھیں ہمیشہ کے لیے ہوا میں رکھنے کے لیے۔

    تین سیکنڈ میں آواز نقل کرنے ولا سوفٹ ویئر

    چین سمیت کئی ممالک ڈرون مخالف ہتھیاروں کے طور پر طاقتور لیزر سسٹم تیار کر رہے ہیں۔ لیکن چیان یانگ میں واقع نارتھ ویسٹرن پولی ٹیکنیکل یونیورسٹی (این پی یو) کے پروفیسر لی زیلونگ اور ان کے ساتھیوں نے ڈرون لیزر تعلقات کو دوسرے زاویے سے دیکھا۔

    نارتھ ویسٹرن پولی ٹیکنکل کالج سے وابستہ ماہرین نے ریموٹ چارجنگ پر مبنی ڈرون بنائے ہیں جو لیزر سے چارج ہوتے رہیں گے اور ان میں بیٹری بدلنے یا چارج کرنےکی ضرورت نہیں پڑے گی۔

    اس کے لیے ہر ڈرون کے نیچے فوٹولیکٹرک کنورٹرلگایا گیا ہے جو لیزر کی مدد سے قوت لیں گے اوربےتار انداز میں اپنےاندربجلی بھریں گے۔ تاہم اب بھی اس میں توانائی ضائع ہورہی ہے۔ لیزر سے بجلی بنانے کا عمل 50 سے 85 فیصد تک ہی مؤثر ہوتا ہ یعنی 100 فیصد میں سے اتنے فیصد بجلی ہی بنائی جاسکتی ہے۔ پھر جب یہ لیزر (ڈرون کے) کنورٹرپرپڑتی ہے تو اس میں مزید 50 فیصد کمی ہوسکتی ہے۔

    2022 میں سمندروں نے لگاتار چوتھے سال درجہ حرارت کا ریکارڈ توڑدیا

    تاہم 24 گھنٹے نگرانی کرنے والے ڈرون کے لیے یہ عمل قابلِ قبول ہے ہوسکتا ہے۔ لیزر شعاع کو ٹھیک فوٹوالیکٹرک کنورٹر پر مرکوز رکھنے کے لیے سائنسدانوں نے ’انٹیلی جنٹ وژول ٹریکنگ الگورتھم‘ بنایا ہے جو ہوا، دھند اور دیگر رکاوٹوں کا خیال بھی رکھتا ہے۔ یہ الگورتھم لیزر کو اپنے ہدف تک پھینکتا ہے۔

    نارتھ ویسٹرن پولی ٹیکنکل کالج کے سائنسدانوں نے ایک چھوٹا کواڈکاپٹرآزمایا ہے انہوں نے دن، رات، ایک ہال کے اندر اور کھلی فضا میں لیزر سے ڈرون اڑایا ہے جو لگ بھگ 10 میٹر کی بلندی تک گیا۔ اس پر فرش پر لگے ایک متحرک اسٹیشن سے لیزر ڈالی گئی تھی۔ تاہم ڈیزائن بہتر کرکے ڈرون کو مزید بلندی پر بھی لیزر سے چلایا جاسکتا ہے۔

    چینی سائنسدانوں کے مطابق اس کے عسکری اور شہری دونوں طرح کے لاتعداد استعمالات ہوسکتے ہیں۔

    جیمز ویب ٹیلی سکوپ نے کائنات کے ابتدائی دور میں بنتے ستاروں کی تصویر جاری کردی

  • دورانِ حمل خطرناک پیچیدگیوں کی نشاندہی کرنے والا خون کا ٹیسٹ

    دورانِ حمل خطرناک پیچیدگیوں کی نشاندہی کرنے والا خون کا ٹیسٹ

    بیجنگ: ماہرین کے مطابق حمل کی مہلک پیچیدگیوں کے ابتدائی اشاروں کی پیٹ میں ہوتی تبدیلیوں اور ایک خون کے ٹیسٹ کے ذریعے نشاندہی کی جاسکتی ہے۔

    باغی ٹی وی:اسکریننگ ٹیسٹ کا نتیجہ نارمل ہو سکتا ہے اور اس مسئلے سے محروم ہو سکتا ہے جو موجود ہے۔ حمل کے دوران، خواتین کو عموماً یہ اسکریننگ ٹیسٹ پیش کیے جاتے ہیں تاکہ عورت یا اس کے بچے کے لیے پیدائشی نقائص یا دیگر مسائل کی جانچ کی جا سکے۔ قبل از پیدائش کی جانچ کے بارے میں آپ کو جو بھی خدشات ہیں اس کے بارے میں اپنے ڈاکٹر سے بات کریں۔

    یو اے ای کی پہلی چاند گاڑی نےخلا میں ایک ماہ کامیابی سے مکمل کرلیا

    چین کی نِنگبو یونیورسٹی کی جانب سے ایک نیا ٹیسٹ تیار کیا گیا ہے جس کی مدد سے پری ایکلیمپسیا (دورانِ حمل بلند فشار خون ہونا)، جیسٹیشنل ڈائبیٹیز (دورانِ حمل ہونے والی ذیابیطس) اور انٹرا ہیپٹک کولیسٹیسِس (دورانِ حمل ہونے والا جگر کا ممکنہ طورپرمہلک عارضہ) جیسی صورتوں کا پتہ لگایا جاسکتا ہے۔

    نامعلوم وجوہات کے سبب حمل پیٹ کے بیکٹیریا کو متاثر کرتا ہے اور سائنس دانوں نے اس بات کو مزکورہ بالا حمل کی تینوں پیچیدگیوں کی نشاندہی کرنے کے لیے استعمال کیا ہے پری ایکلیمپسیا ہر سال تقریباً سات فی صد حاملہ خواتین کو متاثر کرتی ہے اور رحمِ مادر میں 5 لاکھ سے زائد بچوں کی اموات کا سبب بنتی ہے۔

    جیسٹیشنل ڈائیبیٹیز تقریباً 10 فی صد حاملہ خواتین کو متاثر کرتی ہے اور بچوں کو ٹائپ 2 ذیا بیطس کے خطرے سے دوچار کرتی ہے۔ جبکہ انٹرا ہیپٹِک کولیسٹیسِس تقریباً سات فی صد بچوں کی قبل از پیدائش اموات کا سبب بنتی ہے۔

    اگرچہ ان اسباب کے متعلق مکمل معلومات نہیں ہے لیکن مرض کی جلدی تشخیص اور علاج ان تینوں پیچیدگیوں کے زندگی بھر رہنے والے اثرات یا ماں یا بچے کو موت سے بچانے کے لیے اہم ہوسکتے ہیں۔

    تحقیق کے سینئر مصنف ڈاکٹر رونگ رونگ شوان کا کہنا تھا کہ محققین نے دورانِ حمل چھوٹی چین کے فیٹی ایسڈ کی تقسیم اور ان کا تین مخصوص حمل کی پیچیدگیوں کے درمیان تعلق دیکھا اور ان کا تجزیہ کیا۔

    انہوں نے بتایا کہ یہ فیٹی ایسڈ پیٹ میں قدرتی طور پر موجود بیکٹیریا کا ’میٹابولک پروڈکٹ‘ ہوتے ہیں اور ان کو حمل کی پیچیدگیوں کے ممکنہ اشاروں کے طور پر استعمال کیا جاسکتا ہے۔

  • شاہد آفریدی کابطور چیف سلیکٹر کی ذمہ داری پوری ہونے پر پیغام

    شاہد آفریدی کابطور چیف سلیکٹر کی ذمہ داری پوری ہونے پر پیغام

    لاہور: قومی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان اور آل راؤنڈر شاہد آفریدی کی بطور چیف سلیکٹر کی مدت ختم ہو گئی-

    باغی ٹی وی:گزشتہ سال 24 دسمبر کو شاہد آفریدی کو نیوزی لینڈ کیخلاف ہوم سیریز کیلئے عبوری سلیکشن کمیٹی کاچیئرمین مقررکیا گیا تھا، عبد الرزاق، راؤ افتخار انجم رکن اور ہارون رشید کنوینر کے طور پر شامل تھے،سلیکشن کمیٹی نے ٹیسٹ اور ون ڈے اسکواڈز منتخب کئے۔

    سیریز کے اختتام پر سوشل میڈیا پر اپنے پیغام میں شاہد آفریدی نے پی سی بی کا شکریہ ادا کرتے ہوئے لکھا کہ عبوری چیف سلیکٹر کے طور پر کردار ادا کرنے کا موقع دینے پر پی سی بی کا شکریہ، میں نے اس ذمہ داری کا بھرپور لطف اٹھایا-

    انہوں نے کہا کہ امید ہے کہ میں اپنے دلیرانہ فیصلوں کے باعث مداحوں کی امیدوں پر پورا اترا ہوں گا، میں ہمیشہ کسی بھی طور پر پاکستان کی خدمت کیلیے دستیاب رہوں گا۔

    شاہین آفریدی کابنگلہ دیش پریمیئر لیگ سے دستبردار ہونے کا اعلان

    سابق کپتان نے نیوزی لینڈ کو ون ڈے سیریز میں فتح پر مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ میں پرُ اعتماد ہوں کہ قومی ٹیم جلد فارم میں واپس آئے گی۔

    واضح رہے کہ پی سی بی کی مینجمنٹ کمیٹی نے چارج سنبھالنے کے بعد محمد وسیم کی سربراہی میں کام کرنے والی سلیکشن کمیٹی کو تحلیل کردیا تھا۔

  • ای پاسپورٹس اجرا کے لیے فیس شیڈول جاری

    ای پاسپورٹس اجرا کے لیے فیس شیڈول جاری

    اسلام آباد : ای پاسپورٹس اجرا کے لیے فیس شیڈول جاری کردیا گیا۔

    باغی ٹی وی:وفاقی حکومت کی منظوری سے ای پاسپورٹس اجرا کے لیے فیس شیڈول کا اعلان کر دیا گیا، ای پاسپورٹس اجرا کے لیے فیس شیڈول کا اطلاق ڈپلومیٹیک، آفیشل اورعام کیٹیگری کے لیے کیا گیا-

    بلدیاتی انتخابات:دوسرے مرحلے میں کراچی اور حیدرآباد ڈویژن میں پولنگ کا عمل شروع

    عام شہریوں کوای پاسپورٹ کا اجرا موجودہ پاسپورٹ کی مدت کے اختتام پرکیا جائے گا ابتدائی طور پرای پاسپورٹس اجرا کا آغاز صرف اسلام آباد سے کیا جا رہا ہے، ملک کے باقی شہروں میں بتدریج ای پاسپورٹ اجرا کی تاریخ کا جلد اعلان کیا جائے گا۔

    36 صفحات کے 5 سالہ ای پاسپورٹ کے لیے نارمل فیس9 ہزار، ارجنٹ فیس 15ہزار، 36 صفحات کے لیے10سالہ پاسپورٹ کی نارمل فیس 13ہزار500 ، ارجنٹ 22 ہزار500 ، 72صفحات کے 5سالہ ای پاسپورٹ کی نارمل فیس 16ہزار500، ارجنٹ 27 ہزار500، 72 صفحات کے 10سالہ ای پاسپورٹ کی نارمل فیس 24 ہزار 750 ، ارجنٹ فیس 40ہزار500روپے ہوگی۔

    فیس کی ادائیگی نیشنل بینک، موبائل ایپ ، موبی کیش اورایزی پیسہ سے بھی کی جاسکے گی۔

  • چین سے مال گاڑیوں کی 70 بوگیاں کل پاکستان پہنچیں گی

    چین سے مال گاڑیوں کی 70 بوگیاں کل پاکستان پہنچیں گی

    کراچی: چین سے مال گاڑیوں کی 70 بوگیاں کل پاکستان پہنچیں گی-

    باغی ٹی وی :پاکستان ریلویز ہیڈ کوارٹرز کی طرف سے جاری بیان کے مطابق مال گاڑیوں کے ساتھ لگنے والی70 اسٹیٹ آف دی آرٹ بوگیاں چین سے پاکستان کیلیے روانہ ہو گئیں جو کل 16جنوری پیرکو کراچی پہنچیں گی۔

    ریلوے حکام کے مطابق رواں سال مارچ میں ایسی مزید130 بوگیاں ریلوے سسٹم میں شامل ہو جائیں گی یہ 820 بوگیوں کا منصوبہ ہے۔ ٹرانسفر آف ٹیکنالوجی معاہدے کے تحت باقی ماندہ 620 بوگیاں پاکستان میں بنیں گی۔

    گورنرپنجاب نےچوہدری پرویزالٰہی اورحمزہ شہبازکو3دن کی مہلت دے دی

    ملک میں مینوفیکچرنگ سے قومی خزانے کا پیسہ بچے گا اور روزگار کے مواقع بڑھیں گے۔ نئی بوگیوں سے ریلوے آمدن میں سالانہ ڈیڑھ ارب روپے سے زائد کا اضافہ ہو گا۔

    موجودہ بوگیاں60 ٹن وزن کے ساتھ 80 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے دوڑ سکتی ہیں۔ نئی بوگیوں میں70 ٹن وزن کے ساتھ 100کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چلنے کی صلاحیت ہے۔ جدید بوگیوں کی سسٹم میں شمولیت سے ریلوے کے ذریعہ مال کی ترسیل کے رجحان میں اضافہ ہو گا۔

  • اردو کے معروف شاعرسید محسن نقوی کا یوم وفات

    اردو کے معروف شاعرسید محسن نقوی کا یوم وفات

    یہ کس نے ہم سے لہو کا خراج پھر مانگا
    ابھی تو سوئے تھے مقتل کو سرخرو کر کے

    محسن نقوی

    پیدائش:سید غلام عباس نقوی 05 مئی 1947ء ڈیرہ غازی خان، برطانوی ہند، وفات:15 جنوری 1996ءسادات گاؤں، ڈیرہ غازی خان

    سید محسن نقوی اردو کے مشہور شاعر تھے۔ ان کا مکمل نام سید غلام عباس تھا۔ لفظ محسن اُن کا تخلص تھا اور لفظ نقوی کو وہ تخلص کے ساتھ استعمال کرتے تھے۔ لہٰذا بحیثیت ایک شاعر انہوں نے اپنے نام کو محسن نقوی میں تبدیل کر لیا اور اِسی نام سے مشہور ہو گئے۔ محسن نقوی 5، مئی 1947ء کو محلہ سادات، ڈیرہ غازی خان میں پیدا ہوئے- انہوں نے گورنمنٹ کالج بوسن روڈ ملتان سے گریجویشن اور پھر جامعہ پنجاب سے ایم اے اردو کیا تھا۔ گورنمنٹ کالج بوسن روڈ ملتان سے گریجویشن کرنے کے بعد جب یہ نوجوان جامعہ پنجاب کے اردو ڈیپارٹمنت میں داخل ہوا تو دنیا نے اسے محسنؔ نقوی کے نام سے جانا۔ اس دوران ان کا پہلا مجموعۂ کلام چھپا۔ بعد میں وہ لاہور منتقل ہو گئے۔ اور لاہور کی ادبی سرگرمیوں میں حصہ لیتے رہے جہاں انہیں بے پناہ شہرت حاصل ہوئی۔ بعد میں محسن نقوی ایک خطیب کے روپ میں سامنے آئے مجالس میں ذکرِ اہل بیت اور واقعاتِ کربلا کے ساتھ ساتھ اہلبیت پہ لکھی ہوئی شاعری بیان کیا کرتے تھے۔

    شاعری
    ۔۔۔۔۔
    محسن نقوی شاعری کے علاوہ مرثیہ نگاری میں بھی مہارت رکھتے تھے۔ انہوں نے اپنی شاعری میں واقعہ کربلا کے استعارے جابجا استعمال کیے۔ ان کی تصانیف میں بند قبا،عذاب دید، خیمہ جان، برگ صحرا، طلوع اشک، حق ایلیا، رخت شب ،ریزہ حرف ، موج ادراک اور دیگر شامل ہیں۔ محسن نقوی کی شاعری میں رومان اور درد کا عنصر نمایاں تھا۔ ان کی رومانوی شاعری نوجوانوں میں بھی خاصی مقبول تھی۔ ان کی کئی غزلیں اور نظمیں آج بھی زبان زد عام ہیں اور اردو ادب کا سرمایہ سمجھی جاتی ہیں۔ محسن نے بڑے نادر اور نایاب خیالات کو اشعار کا لباس اس طرح پہنایا ہے کہ شاعری کی سمجھ رکھنے والا دنگ رہ جاتا ہے۔

    اِک ”جلوہ“ تھا، سو گُم تھا حجاباتِ عدم میں
    اِک ”عکس“ تھا، سو منتظرِ چشمِ یقیں تھا

    محسن نقوی کے غزل اور نظم کے قادر الکلام شاعر ہونے کے بارے میں دو آراء نہیں ہو سکتیں۔ محسن کی نثر جو اُن کے شعری مجموعوں کے دیباچوں کی شکل میں محفوظ ہو چکی ہے بلا شبہ تخلیق تحریروں کی صفِ اوّل میں شمار کی جا سکتی ہے۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ وہ ایک اور صنفِ سخن یعنی قطعہ نگاری کے بھی بادشاہ ہیں۔ اِن کے قطعا ت کے مجموعے ” ردائے خواب” کو ان کے دیگر شعری مجموعوں کی طرح بے حد پزیرائی حاصل ہوئی۔ نقادانِ فن نے اسے قطعہ نگاری میں ایک نئے باب کا اِضافہ قرار دیا۔ مذہبی نوعیت کے قطعات ” میراثِ محسن ” میں پہلے ہی درج کیے جا چکے ہیں۔ محسن نے اخبارات کے لیے جو قطعات لکھے ان کی زیادہ تر نوعیت سیاسی تھی لیکن ان کا لکھنے والا بہر حال محسن تھا – 1994ء میں حکومت پاکستان نے انہیں صدارتی تمغا برائے حسن کارکردگی عطا کیا تھا۔ محسن نقوی شاعر اہلِ بیت کے طور پر بھی جانے جاتے تھے ۔

    اردو غزل کو ہر دور کے شعرا نے نیا رنگ اور نئے رجحانات عطا کیے۔ محسن نقوی کا شمار بھی انہی شعرا میں ہوتا ہے جنہوں نے غزل کی کلاسیکی اٹھان کا دامن تو نہیں چھوڑا تاہم اسے نئی شگفتگی عطا کی۔ محسن نقوی کے کلام میں صرف موضوعات کا تنوع ہی موجود نہیں بلکہ زندگی کی تمام کیفیتوں کو انہوں نے جدید طرز احساس عطا کیا۔ محسن نقوی کی شاعری کا ایک بڑا حصہ اہل بیت سے منسوب ہے۔ انہوں نے کربلا پر جو شاعری لکھی وہ دنیا بھر میں پڑھی اور پسند کی جاتی ہے۔ ان کے مذہبی کلام کے بھی کئی مجموعے ہیں جن میں بندِ قبا، برگِ صحرا، ریزہ حرف، عذابِ دید، طلوعِ اشک، رختِ شب، خیمہ جاں، موجِ ادراک اور فراتِ فکر زیادہ مقبول ہیں۔

    محسن نقوی نے شاعری کا آغاز زمانہ طالب علمی سے کیا ان کا سب سے اہم حوالہ تو شاعری ہے۔ لیکن ان کی شخصیت کی اور بھی بہت سی جہتیں ہیں۔ انہوں نے اپنی شاعری صرف الف- لیلٰی کے موضوع تک ہی محدود نہ رکھی بلکہ انہوں نے دینا کے حکمرانوں کے بارے میں بھی بہت کچھ لکھا جنہیں اپنے لوگوں کی کوئی فکر نہ تھی۔ ان کی شاعری کا محور معاشرہ، انسانی نفسیات، رویے، واقعۂ کربلا اور دنیا میں ازل سے جاری معرکہ حق و باطل ہے۔ اپنے عروج کی انتہا کو پہنچ کر محسن نقوی نے کالعدم تحریکِ طالبان،سپاہ صحابہ اور اس کی ذیلی شاخوں کو اپنی شاعری کے ذریعے بے نقاب کرناشروع کیا تو پھر وہی ہوا جو اس ملک میں ہر حق گو کا مقدر ہے۔ اردو ادب کا یہ دمکتا چراغ 15 جنوری 1996ء کو مون مارکیٹ لاہور میں اپنے دفتر کے باہر دہشت گردوں کی فائرنگ سے بجھ گیا تھا تاہم اس کی روشنی ان کی شاعری کی صورت میں ہمیشہ زندہ رہے گی۔ پوسٹ مارٹم کی رپورٹ کے مطابق 45 گولیاں محسنؔ کے جسم میں لگیں
    یہ جاں گنوانے کی رُت یونہی رائیگاں نہ جائے –

    سر سناں، کوئی سر سجاؤ ! اُداس لوگو
    شہادت سے چند لمحے قبل محسن نقوی نے ایک لازوال شعر کہا تھا کہ
    سفر تو خیر کٹ گیا
    میں کرچیوں میں بٹ گیا

    محسنؔ نے بے انتہا شاعری کی جس میں حقیقی اور مجازی دونوں پہلو شامل تھے۔ ان کی پہچان اہلبیتِ محمدؐکی شان میں کی گئی شاعری بنی۔

    مجموعۂ کلام
    ۔۔۔۔۔
    ان کے کئی مجموعہ کلام چھپ چکے ہیں جن میں سے کچھ درج ذیل ہیں
    ٭ بندِ قبا۔ 1969ء
    ٭ برگِ صحرا۔ 1978ء
    ٭ ریزہ حرف۔ 1985ء
    ٭ عذابِ دید۔ 1990ء
    ٭ طلوعِ اشک۔ 1992ء
    ٭ رختِ شب۔ 1994ء
    ٭ خیمہ جاں۔ 1996ء
    ٭ موجِ ادراک
    ٭ فراتِ فکر

    اشعار
    ۔۔۔۔۔
    ہر وقت کا ہنسنا تجھے برباد نہ کر دے
    تنہائی کے لمحوں میں کبھی رو بھی لیا کر

    تمہیں جب روبرو دیکھا کریں گے
    یہ سوچا ہے بہت سوچا کریں گے

    اب تک مری یادوں سے مٹائے نہیں مٹتا
    بھیگی ہوئی اک شام کا منظر تری آنکھیں

    وفا کی کون سی منزل پہ اس نے چھوڑا تھا
    کہ وہ تو یاد ہمیں بھول کر بھی آتا ہے

    صرف ہاتھوں کو نہ دیکھو کبھی آنکھیں بھی پڑھو
    کچھ سوالی بڑے خوددار ہوا کرتے ہیں

    ذکر شب فراق سے وحشت اسے بھی تھی
    میری طرح کسی سے محبت اسے بھی تھی

    کل تھکے ہارے پرندوں نے نصیحت کی مجھے
    شام ڈھل جائے تو محسنؔ تم بھی گھر جایا کرو

    یوں دیکھتے رہنا اسے اچھا نہیں محسنؔ
    وہ کانچ کا پیکر ہے تو پتھر تری آنکھیں

    وہ اکثر دن میں بچوں کو سلا دیتی ہے اس ڈر سے
    گلی میں پھر کھلونے بیچنے والا نہ آ جائے

    جب سے اس نے شہر کو چھوڑا ہر رستہ سنسان ہوا
    اپنا کیا ہے سارے شہر کا اک جیسا نقصان ہوا

    کہاں ملے گی مثال میری ستم گری کی
    کہ میں گلابوں کے زخم کانٹوں سے سی رہا ہوں

    کتنے لہجوں کے غلافوں میں چھپاؤں تجھ کو
    شہر والے مرا موضوع سخن جانتے ہیں

    اب کے بارش میں تو یہ کار زیاں ہونا ہی تھا
    اپنی کچی بستیوں کو بے نشاں ہونا ہی تھا

    یہ کس نے ہم سے لہو کا خراج پھر مانگا
    ابھی تو سوئے تھے مقتل کو سرخ رو کر کے

    گہری خموش جھیل کے پانی کو یوں نہ چھیڑ
    چھینٹے اڑے تو تیری قبا پر بھی آئیں گے

    ازل سے قائم ہیں دونوں اپنی ضدوں پہ محسنؔ
    چلے گا پانی مگر کنارہ نہیں چلے گا

    لوگو بھلا اس شہر میں کیسے جئیں گے ہم جہاں
    ہو جرم تنہا سوچنا لیکن سزا آوارگی

    موسم زرد میں ایک دل کو بچاؤں کیسے
    ایسی رت میں تو گھنے پیڑ بھی جھڑ جاتے ہیں

    کیوں ترے درد کو دیں تہمت ویرانیٔ دل
    زلزلوں میں تو بھرے شہر اجڑ جاتے ہیں

    جن اشکوں کی پھیکی لو کو ہم بے کار سمجھتے تھے
    ان اشکوں سے کتنا روشن اک تاریک مکان ہوا

    ہم اپنی دھرتی سے اپنی ہر سمت خود تلاشیں
    ہماری خاطر کوئی ستارہ نہیں چلے گا

    جو دے سکا نہ پہاڑوں کو برف کی چادر
    وہ میری بانجھ زمیں کو کپاس کیا دے گا

    وہ لمحہ بھر کی کہانی کہ عمر بھر میں کہی
    ابھی تو خود سے تقاضے تھے اختصار کے بھی

    شاخ عریاں پر کھلا اک پھول اس انداز سے
    جس طرح تازہ لہو چمکے نئی تلوار پر

    پلٹ کے آ گئی خیمے کی سمت پیاس مری
    پھٹے ہوئے تھے سبھی بادلوں کے مشکیزے

    دشت ہستی میں شب غم کی سحر کرنے کو
    ہجر والوں نے لیا رخت سفر سناٹا

    چنتی ہیں میرے اشک رتوں کی بھکارنیں
    محسنؔ لٹا رہا ہوں سر عام چاندنی