Baaghi TV

Author: Ayesha Rehmani

  • آج شام عمران خان کی کال پر لبرٹی چوک لاہور میں جلسہ ہوگا،ترجمان پنجاب حکومت

    آج شام عمران خان کی کال پر لبرٹی چوک لاہور میں جلسہ ہوگا،ترجمان پنجاب حکومت

    ترجمان پنجاب حکومت مسرت جمشید نے کہا ہے کہ آج شام عمران خان کی کال پر لبرٹی چوک لاہور میں جلسہ ہوگا-

    باغی ٹی وی : ترجمان پنجاب حکومت مسرت جمشید کے مطابق چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان 8 بجے جلسے سے خطا ب کریں گے جس میں عمران خان خطاب میں ملکی سیاسی مستقبل سے متعلق اعلان کریں گے،عمران خان کے خطاب کو مختلف شہروں میں بڑی اسکرین پر بھی دکھایا جائے گا-

    ہتک عزت کیس: عمران خان کا دفاع کا حق ختم کرنے کا فیصلہ درست تھا،لاہور ہائیکورٹ

    ترجمان پنجاب حکومت نے کہا کہ پاکستان کی معاشی حالت بگڑتی جا رہی ہے،سیاسی استحکام کے بغیر کوئی بہتری ممکن نہیں،موجودہ صورتحال میں فوری الیکشن ہی واحد حل ہیں،شریف خاندان کے اکاؤنٹس میں کروڑوں روپوں کی ٹی ٹیاں آتی رہیں،عدالت کے پوچھنے پر جواب میں یہی کہتے رہے کہ پتہ نہیں، پیسے کہاں سے آرہے تھے-

    اسلام آباد ایئرپورٹ سے ڈیوٹی ٹیکس کے بغیر موبائل فونز کلیئرکرانے کا انکشاف

    مسرت جمشید نے کہا کہ پنجاب ، خیبر پختونخوا ، کشمیر اور گلگت بلتستان کی رقوم وفاق نے ضبط کرلیں،فارن ریزرو 7 ارب ڈالر سے بھی کم رہ گئے وہ بھی دوست ممالک کے ہیں،جب عمران خان کو ہٹایا گیا اس وقت خزانے میں 22 ارب ڈالر تھے،سفارت خانوں کے پاس تنخواہوں کے پیسے نہیں ہیں جبکہ وزیر خارجہ بلاول کے دوروں پر 2 ارب روپے خرچ ہوچکے ہیں-

    مصطفیٰ نواز کھوکھر کا پیپلزپارٹی چھوڑنےکا اعلان

  • ہتک عزت کیس: عمران خان کا دفاع کا حق ختم کرنے کا فیصلہ درست تھا،لاہور ہائیکورٹ

    ہتک عزت کیس: عمران خان کا دفاع کا حق ختم کرنے کا فیصلہ درست تھا،لاہور ہائیکورٹ

    لاہور ہائیکورٹ میں شہباز شریف کی جانب سے عمران خان کے خلاف 10 ارب روپے کے ہتکِ عزت کے دعوے پر سماعت ہوئی-

    باغی ٹی وی : لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس چوہدری محمد اقبال نے فیصلے میں لکھا کہ 7 دن میں جواب داخل نہ کرنے پر دفاع کا حق ختم ہوجاتا ہے۔

    ملکہ نورجہاں کا یوم وفات

    فیصلے میں کہا گیا کہ شہباز شریف کی جانب سے عمران خان کے خلاف 10 ارب روپے کے ہتکِ عزت کے دعوے پر عمران خان کا دفاع کا حق ختم کرنے کا فیصلہ درست تھا۔

    جسٹس چوہدری اقبال نے اپنے فیصلے میں کہا کہ ٹرائل کورٹ نے عمران خان کو شہباز شریف کے سوالات کے جواب کے لیے نقول دیں، جوابات دینے کے بجائے عمران خان نے اعتراضات داخل کردیے جس پر ٹرائل کورٹ نے اعتراضات مسترد کرکے عمران خان کو جواب دینے کی ہدایت کی۔

    عدالت اپنے فیصلے میں مزید کہا کہ عمران خان نے پھر بھی جواب داخل نہیں کیا جس پر ٹرائل کورٹ نے ان کا حقِ دفاع ختم کر دیا، ٹرائل کورٹ کا فیصلہ درست تھا۔

    بلاول بھٹو کے مودی کو ‘قصائی’ کہنے پر بی جے پی مشتعل، احتجاج کی کال…

    عمران خان نے شہباز شریف پر پانامہ میں رشوت کی پیشکش کا الزام لگایا تھا جس پر شہباز شریف نےعمران خان کیخلاف 10 ارب ہرجانے کادعویٰ سیشن کورٹ میں دائر کیا تھا،سیشن عدالت نے عمران خان کا حق دفاع کا دعویٰ خارج کر دیا تھاجس پر عمران خان نےسیشن عدالت کا فیصلہ لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج کیا تھا۔

    ٹرائل کورٹ نے شہباز شریف کے سوالات کے جواب نہ دینے پر عمران خان کا دفاع کا حق ختم کردیا تھا،اپیل میں استدعا کی گئی کہ عمران خان کیخلاف 10 ارب روپے ہرجانے کے دعویٰ میں دفاع کا حق ختم کرنے کا فیصلہ کالعدم قرار دیا جائے۔

    قبل ازیں شہباز شریف کے ہتکِ عزت کے دعوے کا وزیرِ اعظم عمران خان نے عدالت میں جواب جمع کرایا تھا۔عمران خان نے عدالت سے شہباز شریف کا ہتکِ عزت کا دعویٰ جرمانے کے ساتھ خارج کرنے کی استدعا کی تھی-

    عمران خان کے جمع کرائے گئے جواب میں کہا گیا تھا کہ عمر فاروق نامی شخص نے بتایا کہ آفر ہے،بتایا کہ اگر عمران خان پاناما لیکس کی پیروی چھوڑ دیں تو وہ بھاری رقم دینے کو تیار ہے۔رقم کی پیشکش نواز شریف یا شہباز شریف کی طرف سے ڈائریکٹ نہیں بلکہ کسی کے ذریعے آئی تھی نواز شریف اور شہباز شریف نے ماضی میں ادارے کے اعلٰی افسر کو بی ایم ڈبلیو گاڑی دینے کی کوشش بھی کی تھی۔

    خود کو پولیس اہلکار ظاہرکر کےکار سوارمسلح ملزمان بزرگ شہری کو لوٹ کر فرارہو گئے

  • خود کو پولیس اہلکار ظاہرکر کےکار سوارمسلح ملزمان بزرگ شہری کو لوٹ کر فرارہو گئے

    خود کو پولیس اہلکار ظاہرکر کےکار سوارمسلح ملزمان بزرگ شہری کو لوٹ کر فرارہو گئے

    کراچی میں خود کو پولیس اہلکار ظاہر کرنے والے کار سوار مسلح ملزمان بزرگ شہری سے ساڑھے 3 لاکھ روپے چھین کر فرار ہوگئے-

    باغی ٹی وی : پولیس کے مطابق نیوکراچی صنعتی ایریا سیکٹر 12 بی میں کار سوار مسلح ملزمان بزرگ شہری سے ساڑھے 3 لاکھ روپے چھین کر فرار ہو گئے،پولیس نے واردات کا مقدمہ درج کر کے تفتیش شروع کردی ہے-

    گوجرہ:مسلح ڈا کو ؤ ں نے شہر سے خریداری کرکے آ نے وا لی خواتین سمیت تین افراد کو…

    سی سی ویڈیو میں واردات کے وقت سفید رنگ کی گاڑی میں سوار ملزمان کو متاثرہ شخص ذوالفقار کو اپنے پاس بلاتے دیکھا جاسکتا ہے گاڑی میں بیٹھے مسلح افراد نے قریب آتے ہی بزرگ شہری کی تلاشی لی اور جیب سے نکلنے والے پیسے چھین کر اپنے پاس رکھ لیے-

    متاثرہ شخص نے بتایا کہ ملزمان کے پاس واکی ٹاکی (وائرلیس سیٹ) بھی موجود تھا جبکہ انہوں نے خود کو پولیس اہلکار ظاہر کیا پولیس نے متاثرہ بزرک ذوالفقار علی محمد اکرم کی مدعیت میں مقدمہ درج کر کے کار سوار ملزمان کی تلاش شروع کردی۔

    جبکہ کورنگی زمان ٹاؤن میں ڈکیتی کی واردات کے دوران مزاحمت پر فائرنگ سے ایک شخص زخمی ہو گیا جسے فوری طورپرجناح اسپتال منتقل کردیا گیا جہاں زخمی کی شناخت 30 سالہ محمد عدنان ولد راجہ محمد ایوب کے نام سے کی گئی۔

    کندھ کوٹ: شھرمیں ڈاکوؤں کا راج ,غوث پور کے قریب لاڑکانہ کے رہائشی سمیت 5 افراد…

    پولیس کے مطابق فائرنگ کا واقعہ ڈکیتی کی واردات کے دوران نامعلوم مسلح ملزمان کی جانب سے فائرنگ کے باعث پیش آیا ہے اوراس حوالے سے مزید تفتیش کی جا رہی ہے –

    قبل ازیں کراچی یونیورسٹی روڈ پر ڈکیتی مزاحمت پر طالب علم کا قتل کر دیا گیا تھا قتل ہونے والے طالب علم بلال ناصرکے قتل کا مقدمہ درج کرلیا گیا، پولیس نے ایک ملزمان کی گرفتاری کا بھی دعویٰ کیا ہے۔

    15 دسمبر کو این ای ڈی یونیورسٹی کے سامنے چائے خانے پر ڈکیتوں نے دھاوا بولا تھا، اس موقع پر چائے کے ہوٹل پر بیٹھے این ای ڈی کے طالبعلم بلال ناصر نے ایک ڈکیت کو دبوچنے کی کوشش کی جس پر ملزم کے ساتھی کی فائرنگ سے بلال زندگی کی بازی ہارگیا تھا۔

    پولیس کے مطابق بلال ناصر کے قتل کا مقدمہ سرکاری مدعیت میں مبینہ ٹاؤن تھانے میں درج کیا گیا ہے جس میں 2 نامعلوم افراد کو نامزد کیا گیا –

    کراچی؛ ڈکیتی مزاحمت پر طالبعلم کے قتل کا مقدمہ درج، ملزم گرفتار

  • مولانا جلال الدین رومیؒ  کا یوم وفات

    مولانا جلال الدین رومیؒ کا یوم وفات

    محمد جلال الدین رومیؒ (پیدائش:1207ء میں پیدا ہوئے، مشہور فارسی شاعر تھے۔ مثنوی، فیہ ما فیہ اور دیوان شمس تبریز آپ کی معروف کتب ہے، آپ دنیا بھر میں اپنی لازاول تصنیف مثنوی کی بدولت جانے جاتے ہیں، آپ کا مزار ترکی میں واقع ہے۔

    پیدائش اور نام و نسب
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    اصل نام محمد ابن محمد ابن حسین حسینی خطیبی بکری بلخی تھا۔ اور آپ جلال الدین، خداوندگار اور مولانا خداوندگار کے القاب سے نوازے گئے۔ لیکن مولانا رومی کے نام سے مشہور ہوئے۔ جواہر مضئیہ میں سلسلہ نسب اس طرح بیان کیا ہے :

    محمد بن محمد بن محمد بن حسین بن احمد بن قاسم بن مسیب بن عبد اللہ بن عبد الرحمن بن ابی بکرن الصدیق۔ اس روایت سےحسین بلخی مولانا کے پردادا ہوتے ہیں لیکن سپہ سالار نے انہیں دادا لکھا ہے اور یہی روایت صحیح ہےکیونکہ وہ سلجوقی سلطان کے کہنے پر اناطولیہ چلے گئے تھے جو اس زمانے میں روم کہلاتا تھا۔ ان کے والد بہاؤ الدین بڑے صاحب علم و فضل بزرگ تھے۔ ان کا وطن بلخ تھا اور یہیں مولانا رومی 1207ء بمطابق 6 ربیع الاول 604ھ میں پیدا ہوئے۔

    ابتدائی تعلیم
    ۔۔۔۔۔۔
    ابتدائی تعلیم کے مراحل شیخ بہاؤلدین نے طے کرادیے اور پھر اپنے مرید سید ب رہان الدین کو جو اپنے زمانے کے فاضل علما میں شمار کیے جاتے تھے مولاناکا معلم اور اتالیق بنادیا۔ اکثر علوم مولانا کو انہی سے حاصل ہوئے۔ اپنے والد کی حیات تک ان ہی کی خدمت میں رہے۔ والد کے انتقال کے بعد 639ھ میں شام کا قصد کیا۔ ابتدا میں حلب کے مدرسہ حلاویہ میں رہ کر مولاناکمال الدین سے شرف تلمذ حاصل کیا۔

    علم و فضل
    ۔۔۔۔۔۔
    مولانا رومیؒ اپنے دور کے اکابر علما میں سے تھے۔ فقہ اور مذاہب کے بہت بڑے عالم تھے۔ لیکن آپ کی شہرت بطور ایک صوفی شاعر کے ہوئی۔ دیگرعلوم میں بھی آپ کو پوری دستگاہ حاصل تھی۔ دوران طالب علمی میں ہی پیچیدہ مسائل میں علمائے وقت مولانا کی طرف رجوع کرتے تھے۔ شمس تبریز مولانا کے پیر و مرشد تھے۔ مولانا کی شہرت سن کر سلجوقی سلطان نے انھیں اپنے پاس بلوایا۔ مولانا نے درخواست قبول کی اور قونیہ چلے گئے۔ وہ تقریباً 30 سال تک تعلیم و تربیت میں مشغول رہے۔ جلال الدین رومی ؒ نے 3500 غزلیں 2000 رباعیات اور رزمیہ نظمیں لکھیں۔

    اولاد
    ۔۔۔۔۔۔
    مولانا کے دو فرزند تھے، علاؤ الدین محمد، سلطان ولد۔ علاؤ الدین محمد کا نام صرف اس کارنامے سے زندہ ہے کہ انہوں نے شمس تبریز کو شہید کیا تھا۔ سلطان ولد جو فرزند اکبر تھے، خلف الرشید تھے، گو مولانا کی شہرت کے آگے ان کا نام روشن نہ ہو سکا لیکن علوم ظاہری و باطنی میں وہ یگانہ روزگار تھے۔ ان کی تصانیف میں سے خاص قابل ذکر ایک مثنوی ہے، جس میں مولانا کے حالات اور واردات لکھے ہیں اور اس لحاظ سے وہ گویا مولانا کی مختصر سوانح عمری ہے۔

    سلسلہ باطنی
    ۔۔۔۔۔۔
    مولانا کا سلسلہ اب تک قائم ہے۔ ابن بطوطہ نے اپنے سفرنامے میں لکھا ہے کہ ان کے فرقے کے لوگ جلالیہ کہلاتے ہیں۔ چونکہ مولانا کا لقب جلال الدین تھا اس لیے ان کے انتساب کی وجہ سے یہ نام مشہور ہوا ہوگا۔ لیکن آج کل ایشیائے کوچک، شام، مصر اور قسطنطنیہ میں اس فرقے کو لوگ مولویہ کہتے ہیں۔ دوسری جنگ عظیم سے قبل بلقان، افریقہ اور ایشیا میں مولوی طریقت کے پیروکاروں کی تعداد ایک لاکھ سے زائد تھی۔ یہ لوگ نمد کی ٹوپی پہنتے ہیں جس میں جوڑ یا درز نہیں ہوتی، مشائخ اس ٹوپی پر عمامہ باندھتے ہیں۔ خرقہ یا کرتا کی بجائے ایک چنٹ دار پاجامہ ہوتاہے۔ ذکر و شغل کا یہ طریقہ ہے کہ حلقہ باندھ کر بیٹھتے ہیں۔ ایک شخص کھڑا ہو کر ایک ہاتھ سینے پر اور ایک ہاتھ پھیلائے ہوئے رقص شروع کرتا ہے۔ رقص میں آگے پیچھے بڑھنا یا ہٹنا نہیں ہوتا بلکہ ایک جگہ جم کر متصل چکر لگاتے ہیں۔ سماع کے وقت دف اور نے بھی بجاتے ہیں۔

    وفات
    ۔۔۔۔۔۔
    بقیہ زندگی وہیں گزار کر تقریباً 66 سال کی عمر میں سن 1273ء بمطابق 672ھ میں انتقال کر گئے۔ قونیہ میں ان کا مزار آج بھی عقیدت مندوں کا مرکز ہے۔

    مثنوی رومی
    ۔۔۔۔۔۔
    ان کی سب سے مشہور تصنیف ’’مثنوی مولانا روم‘‘ ہے۔ اس کے علاوہ ان کی ایک مشہور کتاب ’’فیہ مافیہ‘‘ بھی ہے۔

    ”باقی ایں گفتہ آید بے زباں
    در دل ہر کس کہ دارد نورِ جان

    ترجمہ: ’’جس شخص کی جان میں نورہوگا اس مثنوی کا بقیہ حصہ اس کے دل میں خودبخود اتر جائے گا‘‘

    اقبال اور رومیؒ
    ۔۔۔۔۔۔۔۔
    علامہ محمد اقبال مولانا رومی کو اپنا روحانی پیر مانتے تھے۔ کشف اور وجدان کے ذریعے ادراک حقیقت کے بعد صوفی صحیح معنوں میں عاشق ہو جاتا ہے کہ بہ رغبت تمام محبوب حقیقی کے تمام احکام کی پیروی کرتا ہے۔ رومی نے جوہر عشق کی تعریف اور اس کی ماہیت کی طرف معنی خیز اشارے کیے ہیں۔ صوفی کی ذہنی تکمیل کا مقام کیا ہے اس کے متعلق دو شعر نہایت دل نشیں ہیں:

    آدمی دید است باقی پوست است
    دید آں باشد کہ دید دوست است
    جملہ تن را در گداز اندر بصر
    در نظر رو در نظر رو در نظر
    علامہ اقبال نے اس کی یوں تشریح کی ہے:
    خرد کے پاس خبر کے سوا کچھ اور نہیں
    ترا علاج نظر کے سوا کچھ اور نہیں

    رومی بین الاقوامی سال
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ان کے 800 ویں جشن پیدائش پر ترکی کی درخواست پر اقوام متحدہ کے ادارہ برائے تعلیم، ثقافت و سائنس یونیسکو نے 2007ء کو بین الاقوامی سالِ رومی قرار دیا۔ اس موقع پر یونیسکو تمغا بھی جاری کیا۔

  • ملکہ نورجہاں کا یوم وفات

    ملکہ نورجہاں کا یوم وفات

    لاہور کی ایک وجہ شہرت یہ بھی ہے کہ یہ شہر مغل عمارات کا ایک بڑا تاریخی ورثہ رکھتا ہے۔ ان میں قلعہ لاہور، بادشاہی مسجد، شالامار باغ اور متعدد مقابر شامل ہیں۔

    لاہور شہر سے باہر مغلوں کے شاہی ذوق کی عکاسی کرنے والی ایک جگہ اور بھی ہے، جسے اس حوالے سے نظر انداز کیا جاتا رہا ہے، یہ ہےدریائے راوی کے کنارے وہ مقام جسے مغلیہ دَور میں دریا پار کرکے کشمیر یا کابل جانے یا قریبی شیخوپورہ میں ہرن کی شکار گاہ پہنچنے سے قبل سستانے کے مقام یا پڑاؤ کے لیے استعمال کیا جاتا تھا۔

    کسی زمانے میں یہ شاہدرہ سایہ دار گھنے درختوں اور سرسبز روشوں والا باغ، ”باغِ دل کشا“ تھا، جہاں شاہی ہاتھی، گھوڑے دکھائی دیتے اور شاہی خاندان کے افراد سیر کیا کرتے تھے۔ البتہ اب یہاں صرف تین مقابر باقی ہیں، جن میں سے دو مقبرے مغل بادشاہ نورالدین جہانگیر اور آصف جاہ کے ہیں۔ پہلوئے شاہ میں تیسرا مقبرہ وہ ہے، جس کے لیے کبھی ساحر لدھیانوی نے لکھا تھا:

    پہلوئے شاہ میں دختر جمہور کی قبر
    کتنے گم گشتہ فسانوں کا پتہ دیتی ہے
    کتنے خوں ریز حقائق سے اٹھاتی ہے نقاب
    کتنی کچلی ہوئی جانوں کا پتہ دیتی ہے

    اداس فضاؤں میں اس ویراں اور خاموش مرقد میں مدفون ہستی جسے ساحر لدھیانوی نے ”دختر جمہور“ قرار دیا کوئی بے بس و لاچار خاتون نہیں بلکہ سلطنت مغلیہ کی اپنے وقت کی طاقتور ترین خاتون تھی، جس نے اپنی ذہانت اور ذکاوت سے مغل سلطنت پر کئی عشرے حکومت کی۔

    اس خاتون کی طاقت و اختیارات کا اس سے بڑا ثبوت کیا ہوگا کہ یہ واحد خاتون تھی ،جن کے نام کا سکّہ مغلیہ دَور میں جاری ہوا اور شاہی مہر پر، جس کا نام کندہ تھا۔ یہ ملکہ ہندوستان نورجہاں کا مقبرہ ہے، جس کے بارے میں سٹینلے لین پول نے History of India میں تبصرہ کرتے ہوئے لکھا کہ ”یہ ایرانی شہزادی، بادشاہ جہانگیر پر بے پناہ اثر انداز رہی، یہاں تک کہ جہانگیر کے ساتھ اس کا نام سکّوں پر جاری ہوابیشتر عہد جہانگیری میں اصل حکومت ملکہ نور جہاں کی رہی۔ اُس نے جہانگیر کے دل پر ہی نہیں بلکہ اصل تاج و تخت پر بھی حکومت کی اور جہانگیر کی سیاسی و سماجی زندگی پر اثر انداز رہی۔

    قندھار میں پیدا ہونے والی ایرانی النسل مہر النسا، جسے شہنشاہ جہانگیر نے شادی کے بعد ”نورِ محل“ اور پھر ” نورِجہاں“ کا خطاب دیا ملکہ ہندوستان بنی اور مغل سلطنت کی باگ ڈور سنبھالی۔ لاہور ہی وہ شہر ہے ،جہاں مہر النسا اور جہانگیر کی شادی ہوئی، یہیں ملکہ نے اپنے شوہر کا مقبرہ تعمیر کروایا، قریبی باغات بنوائے، قلعہ لاہور میں اضافے کیے اور زنانہ کوارٹرز تعمیر کروائے۔ نورجہاں دَورِ مغلیہ کی واحد ملکہ تھی ،جس نے اپنی بیشتر زندگی لاہور میں گزاری ،جب کہ باقی تمام زیادہ تر مغل دارالسلطنت آگرہ اور دہلی میں مقیم رہیں۔

    مہر النساکے دادا ایرانی شاہ کے دربار میں ملازم تھے جب کہ اس کے والد غیاث بیگ، مغل بادشاہ اکبر کے دَور میں ایران سے ہجرت کر کے ہندوستان آئے اور شاہی دربار میں ملازمت اختیار کی۔ یہاں میں مہر النسا کی شادی ترک النسل علی قلی بیگ سے انجام پائی، جسے بعد ازاں شیر افگن کا خطاب دے کر بنگال میں جاگیردار تعینات کر دیا گیا۔ گورنر بنگال اور جہانگیر کے رضاعی بھائی قطب الدین کو ایک تنازع میں شیر افگن کے ہاتھوں قتل ہوئے، جس کے نتیجے میں گورنر کے محافظوں نے شیر افگن کو ہلاک کر دیا۔

    مہر النسا اور اس کی بیٹی کو آگرہ کے شاہی حرم میں بھجوا دیا گیا، جہاں وہ مغل شہنشاہ اکبر کی بیوہ رقیہ سلطان بیگم (جو مرزا ہندال کی بیٹی تھی) کی خدمت پر مامور ہوئیں۔ یہیں نو روز کے تہوار پر مہر النسا کا سامنا بادشاہ جہانگیر سے ہوا اور بادشاہ نے اس 35 سالہ حسین، برجستہ گو اور ذہین بیوہ سے شادی کر لی جو مستقبل میں جھانکنے کی صلاحیت رکھتی تھی۔

    رفتہ رفتہ جہانگیر کو ملکہ نورجہاں پر اس قدر بھروسہ ہو گیا کہ وہ حکومتی معاملات میں اس سے مشورہ لینے لگا جو سیاست، معیشت، ثقافت اور انتظام میں مہارت رکھتی تھی۔ وہ جہانگیر کی بیسویں، مگر سب سے محبوب اور پسندیدہ بیوی تھی۔ وہ غیر معمولی قابلیت، ذہانت اور حوصلے کے ساتھ سیاسی اختیارات کو استعمال کرتی رہی۔ اختیارات حاصل کرنے کے بعد اُس نے ایران سے ذہین سپاہی، علما اور شعرا ہندوستان بلوائے، جنہوں نے انتظامیہ اور مغل سلطنت کی ثقافتی زندگی کی ترقی میں اہم کردار ادا کیا۔ ان ہی کے باعث ملکہ کا دربار میں اثر و رسوخ بھی بڑھ گیا۔

    ملکہ نور جہاں کے والد غیاث بیگ اور بھائی عبدالحسن آصف خان کو دربار میں اہم عہدے دیے گئے جنہیں بالترتیب اعتماد لدولہ اور آصف جاہ کے خطابات سے نوازا گیا۔ نورجہاں کا خاندان اُس دَور کا طاقت ور ترین خاندان تھا۔ اعتماد الدولہ، جہانگیر کا وزیراعظم اور آرمی چیف بنا۔ آصف جاہ کو دربار میں اس وقت زیادہ اثر و رسوخ حاصل ہو گئےجب ملکہ نے اپنی بھانجی ارجمند بانو بیگم (ممتاز محل) کی شادی اپنے سوتیلے بیٹے خرم سےکروا دی بعد ازاں ملکہ نورجہاں نے اپنےپہلے شوہرکی بیٹی، جس کا نام لاڈلی بیگم تھا،کی شادی جہانگیر کے چوتھے بیٹے شہریار سے کروا دی۔ یوں مستقبل میں دونوں شہزادوں خرم اور شہریار میں سے جو بھی شہنشائے ہند بنتا ملکہ نورجہاں کو مزید اگلی ایک نسل تک طاقت و اختیارات حاصل رہتے۔

    شہنشاہ جہانگیر کے بڑے بیٹے خسرو نے جہانگیر کے خلاف بغاوت کر دی تو بادشاہ نے اسے اندھا کروا دیا تھا۔ خسرو کی مدد کرنے کے جرم میں مہرالنسا کے ایک بھائی کو بھی اپنی جان گنوانی پڑی تھی۔ جہانگیر کا دوسرا بیٹا پرویز مے نوشی کا عادی تھا۔ جہانگیر کی ناسازی طبیعت اور بڑھاپے کے باعث ہندوستان پر عملاً مرزا غیاث، نورِجہاں، آصف جاہ اور شہزادہ خرم کی حکومت تھی۔

    شہنشاہ جہانگیر تمام حکومتی اور محلاتی معاملات میں ملکہ نورجہاں پر بھروسا کرتا تھا، ملکہ دربار میں بادشاہ کے ساتھ موجود رہتی اور اسے جہانگیر کی طرف سے فیصلے کرنے کی آزادی حاصل تھی۔ شہزادہ خرم کی من مانی کی عادات کے باعث ملکہ اپنے داماد شہریار کو شہزادہ خرم پر فوقیت دینے لگی، جس پر خرم، ملکہ سے برافروختہ ہوگیا۔ خرم کے ملکہ کے احکامات ماننے سے انکار پر ہی قندھار سے بھی ہاتھ دھونے پڑے کہ اُس نے نورجہاں کے احکامات کے برعکس قندھار جانے سے انکار کردیا تھا۔

    خرم کو شبہ تھا کہ اُس کی غیر موجودگی میں شہریار کو ولی عہد بنا دیا جائے گا یا ہو سکتا تھا کہ وہ میدانِ جنگ میں مارا جائے۔ اسی کے باعث، شہزادہ خرم نے جنگ لڑنے اور قندھار جانے کی بجائے باپ کے خلاف بغاوت کر دی اور قندھار پر ایرانیوں کا قبضہ ہو گیا۔ اس بغاوت کے وقت جہانگیر، کشمیر کے راستے میں تھا کہ شہزادہ خرم نے اُسے گرفتار کروا لیا۔ ملکہ نور جہاں نے مداخلت کی اور مذاکرات کے ذریعے جہانگیر کو رِہا کروایا۔ اس کشمکش میں فتح خرم کی ہوئی ،جسے بغاوت میں مغل افواج کے جرنیل مہابت خان نے بھی مدد دی تھی جو ایک عورت یعنی ملکہ نورجہاں کے اقتدار اور درباری سیاست سے متنفر تھا۔

    اس واقعے کے بعد جہانگیر ایک برس ہی زندہ رہا اور کشمیر سے واپسی پر راستے میں وفات پائی۔ جہانگیر کو لاہور میں ملکہ نورجہاں کے ملکیتی وسیع و عریض باغ، باغِ دل کشا میں دفن کیا گیا۔شہنشاہ کی وفات کے بعد شہریار اپنی سوتیلی والدہ اور ساس ملکہ نورجہاں کی مدد سے تخت پر قابض ہو گیا۔ لیکن ملکہ نورجہاں کی ذہانت بھی اس کا اقتدار بچا نہ پائی، کیوںکہ اس موقع پر آصف جاہ نے بہن کی بجائے داماد کی حمایت کی۔ آصف جاہ کی افواج قلعہ کے اندر داخل ہو گئی اور اس جنگ میں شہریار مارا گیا۔

    آصف جاہ کی فتح کے بعد شہزادہ خرم، ”شاہ جہاں“ کے لقب سے لاہور میں تخت نشیں ہوا۔ شاہ جہاں نے اپنے سارے بھائیوں کو آصف جاہ کے ذریعے قتل اور ملکہ نورجہاں کو ایک طرح سے نظربند کروا دیا۔ البتہ شاہی دربار کی مداخلت سے ملکہ کو رِہا کیا گیا اور اس کا سالانہ وظیفہ مقرر ہوا۔

    شہنشاؤں کی طرح ملکہ پر بھی اقربا پروری، بداعمالی، بدعنوانی کے الزامات لگائے گئے، درباری سازشیں بھی اس سے منسوب کی گئیں لیکن اس کے باوجود مغل دربار کو جو کچھ ملکہ نورجہاں نے دیا۔مثلاََکھانے، طرزِ لباس، طرزِ زندگی، تہذیب…. وہ سب بے مثل ہے۔

    ملکہ نورجہاں مغل خواتین سے مختلف تھیں۔ وہ شاعرہ، زیورات اور لباس کی ڈیزائنر اور آرٹ سے شغف رکھنے والی ایک غیرمعمولی عورت جو عمر بھر تعمیرات و فنون کی سرپرستی کرتی رہیں۔ وہ جہانگیری عہد کی کئی فنی، تعمیری اور ثقافتی کامیابیوں کی تنہا ذمے دار تھیں۔ اس کی ڈیزائن کردہ تعمیرات میں کشمیر و آگرہ کے باغات، باغ ِدل کشا، اپنے والد اعتماد الدولہ، بادشاہ جہانگیر اور اپنے مقبرے شامل ہیں۔

    اعتماد الدولہ کا مقبرہ مغلیہ عہد کی تعمیرات میں ایسی پہلی مثال ہے جس میں سفید سنگمرمر اور قیمتی پتھروں کا استعمال کیا گیا تھا۔اس سے قبل مغل عمارات میں سنگ سرخ کا استعمال کیا جاتا تھا جیسا کہ شہنشاہ ہمایوں اور جلال الدین اکبر کے مقبروں میں دکھائی دیتا ہے، بعد میں شاہ جہاں نے اسی تکنیک کا استعمال کرتے ہوئے آگرہ میں اپنی محبوب ملکہ اور ملکہ نورجہاں کی بھانجی ارجمند بانو (ممتازمحل) کا مقبرہ، تاج محل تعمیر کروایا۔

    ملکہ کے بنوائے گئے باغات میں سے کچھ سرکاری شاہی تقریبات کے لیے مخصوص تھے، جب کہ دیگر عوام کے استعمال میں بھی آتے تھے۔ زنانہ حرم پر بھی ملکہ کا ہی حکم چلتا تھا، جس میں بیگمات، کنیزیں، بچے، خدّام، غلام، خواتین محافظات، خواجہ سرا وغیرہ شامل تھے۔ وہ زنانہ حرم کی زیبائش و آرائش کے ذوق، فیشن، زیورات،کھانوں پر اثر انداز رہی۔ نئی خوشبویات میں تجربات کیے گئے۔ نورجہاں ہی نے گلاب کا عطر ایجاد کیا۔\”چاندنی\” ملکہ نورجہاں کی اختراع ہے۔ دوسرے ممالک سے زیورات، ریشم، پورسلین درآمد کیے گئے۔

    ملکہ نورجہاں نے ہی خواتین کے لباس کو برصغیر کے گرم موسم سے ہم آہنگ کیا، نہ صرف یہ بلکہ ،جہانگیر کے شانہ بہ شانہ شیر، چیتے اور دیگر جانوروں کا شکار کھیلا کرتی تھیں۔ ان کا نشانہ بے مثال تھا۔ شکار کا یہذکر \”تزک جہانگیری\” میں بھی ملتا ہے۔ ملکہ نورجہاں اور بادشاہ جہانگیر دونوں کو مصوری سے شغف تھا۔ جہانگیر کے پاس منی ایچر پینٹنگز کا ایک بڑا خزانہ موجود تھا ،جن میں دربار کی زندگی کی عکاسی کی گئی تھی اور شاہی مرد و خواتین اور باغات اور پرندوں کی تصاویر شامل تھیں۔دَورِ اکبری میں داستانِ امیر حمزہ، اکبر نامہ اور ہندو اساطیر کی تصویرکشی پر کام کا آغاز ہوا تھا اور ایرانی مصوروں کی بدولت برصغیر میں فن مصوری کو فروغ ملا۔

    یورپیوں سے تجارت کا آغاز بھی ملکہ نور جہاں کے دَور میں ہوا۔ انہوں نے آنے والے تاجروں سے محصولات لینے کا آغاز کیا۔ داخلی اور خارجی تجارت میں دخل اندازی اور رکاوٹ سے بچنے اور سہولیات کے حصول کے لیے مغل حکومت کو ادائیگی کی جانے لگی۔ وہ بحری جہازوں کی مالک تھیں جو نہ صرف حج کے سفر بلکہ تجارت کے لیے بھی استعمال ہوتے تھے۔ تجارتی تعلقات سے مغل سلطنت کی دولت و آمدنی میں اضافہ ہوا۔ مغل دارالسلطنت آگرہ، ملکہ نور جہاں کے ان اقدامات کے باعث ایک کاسموپولیٹن شہر اور تجارتی مرکز بن گیا تھا۔

    اپنی گوشہ نشینی کے دَور میں بھی ملکہ نور جہاں فلاحی کاموں اور خواتین کی تعلیم اور دیگر معاملات میں دلچسپی لیتی اور یتیم لڑکیوں کو زمینیں اور جہیز عطا کرتی رہیں۔ شہریار کی بیوہ اور ملکہ کی واحد اولاد لاڈلی بیگم اس گوشہ نشینی میں ملکہ نورجہاں کے ساتھ رہتی تھی۔ ملکہ نے یہ وقت اپنے والد اور شوہر کے مقابر بنواتے ہوئے گزارا۔

    ملکہ نورجہاں نے 68 سال کی عمر میں شہنشاہ جہانگیر کے دنیا سے گزرنے کے 16 برس بعد گوشہ نشینی اور تنہائی کے عالم میں وفات پائی اور اپنے تعمیر کروائے گئے مقبرے میں دفن ہوئیں۔ ملکہ کی واحد اولاد لاڈلی بیگم کی قبر بھی ان ہی کے پہلو میں ہے۔

    ملکہ کا یہ مقبرہ کئی بار اُجڑا، اٹھارہویں صدی میں رنجیت سنگھ کے دَور میں سکھ گولڈن ٹیمپل کی تعمیر کے لیے نورجہاں اور جہانگیر کے مقبروں سے قیمتی پتھر اکھاڑ کر لے گئے۔ بعد ازاں انگریزوں نے مقبرے کے باغ سے ریلوے لائن گزاری اور انیسویں صدی میں اس مقبرے کے حصوں کو کوئلے کے گودام کے طور پر بھی استعمال کیا جاتا رہا۔ محکمہ آثارِقدیمہ کی غفلت کے باعث اب اس مقبرے کا قیمتی پتھر مخدوش و بوسیدہ حالت میں ہے۔

    ملکہ نور جہاں فارسی زبان کی شاعرہ تھیں اور مخفی تخلص تھا، ان کا مزار اسی کے فارسی شعر کی تفسیر ہے جو ان کی لوحِ مزار پر رقم ہے۔
    برمزارِ ما غریباں، نے چراغِ نے گلے
    نے پر پروانہ سوزد، نے صدائے بلبلے

    مجھ اجڑے ہوئے کے مزار پر چراغ (روشن) ہے نہ کوئی پھول (کھلے) ہیں۔ (اسی لیے) نہ یہاں پروانے کے پر جلتے ہیں نہ بلبل کی صدا سنائی دیتی ہے۔

  • 3 ماہ سے کوما میں گئی خاتون بچی کو جنم دینے کے بعد ہوش میں آگئی

    3 ماہ سے کوما میں گئی خاتون بچی کو جنم دینے کے بعد ہوش میں آگئی

    برطانیہ :حالت کوما میں بچی کو جنم دینے والی خاتون بیہوشی کے تین ماہ بعد ہوش میں آ گئی۔

    باغی ٹی وی :غیر ملکی میڈیا کے مطابق 33 سالہ حاملہ خاتون لارا وارڈ کو 3 مہینے قبل سانس لینے میں تکلیف کے باعث اسپتال داخل کیا گیا تھا جہاں ان کی حالت مزید بگڑنے کے بعد وہ کوما میں چلی گئی تھیں۔

    کیمبرج ڈکشنری نے "مرد” اور "عورت” کی تعریف بدل دی

    ڈاکٹرز کا کہنا ہے کہ لارا وارڈ کو جب لیبر روم لے جایا گیا تھا جہاں انہوں نے ایک خوبصورت بچی کو جنم دیا اس وقت وہ اپنے ہوش ہواس میں نہیں تھیں اور گزشتہ 7 ہفتوں سے کوما کی حالت میں تھیں لارا وارڈ نےطبیعت کی خرابی کے باعث ایمرجنسی کی حالت میں بچی کی پیدائش مقررہ تاریخ 15 اکتوبر سے کم از کم دو ماہ قبل سی سیکشن سے بچی کو جنم دیا ہے۔

    لارا وارڈ کے شوہر 37 سالہ جان نے اپنی اہلیہ کے ہوش میں آنے کے بعد صحتیاب ہوکر گھر پہنچنے سے قبل اپنی نوزائیدہ بچی کا نام رکھنے سے انکار کر دیا تھا۔

    لارا وارڈ کا کہنا تھا کہ ہوش میں آنے کے بعد جب ان کے شوہر نے ان کی نوزائیدہ بچی ان کے سامنے کرتے ہوئے بتایا کہ میں نے اسے جنم دیا ہے تو میری حیرت اور خوشی کی انتہا نہ رہی، یہ احساس ناقابل بیان تھا۔

    انہوں نے بتایا کہ جب میں گھر پہنچی تو میرے شوہر نے دوستوں کے ساتھ مل کر مجھے پرپوز کرنے کا ایک رومانوی منصوبہ بنایا ہوا تھا بیٹی کی پیدائش کے بعد یہ موقع بھی میرے لیے سحر انگیز بن گیا ہے۔

    امریکا کی شہریت لینے کے امتحان کا طریقہ تبدیل کرنے کا منصوبہ

    قبل ازیں بھارت میں ایک 23 سالہ خاتون سڑک حادثے میں سر کے متعدد آپریشنوں کے بعد 7 ماہ تک بےہوش پڑی رہی،اسی دوران ایک صحت مند بچی کو جنم دیا۔

    نیورو سرجن ڈاکٹر دیپک گپتا کا کہنا تھا کہ ایک 23 سالہ نوجوان خاتون 1 اپریل 2022 کو صبح 4.30 بجے ایمس کے ٹراما سینٹر میں آئی جب وہ گزشتہ رات اپنے شوہر کے ساتھ 2 وہیلر پر سفر کر رہی تھی،حادثے کے وقت دونوں میاں بیوی نے ہیلمٹ نہیں پہنا ہوا تھا۔شوہر کے سر پر کوئی چوٹ نہیں آئی جبکہ بیوی کے سر پر شدید چوٹ آئی تھی-

    خاتون کا ابتدائی طور پر عبداللہ ہسپتال، بلندشر میں علاج کیا گیا اور بعد میں اسے ایمس ٹراما سینٹر ریفر کر دیا گیا۔ اس کی شادی چھ ہفتے قبل ہوئی تھی اور حادثے کے وقت وہ 40 دن کی حاملہ تھی وہ بے ہوش تھی اس کے دماغ کے اندر شدید subdural hematoma کے ساتھ اسے فوری طور پر وینٹی لیٹر پر رکھا گیا اور ہنگامی سرجری کے لیے لے جایا گیا (ڈیکمپریسیو کرینییکٹومی جہاں اس کی کھوپڑی کی ہڈی کا کچھ حصہ اس کے سوجے ہوئے دماغ کے اندر دباؤ کو کم کرنے کے لیے ہٹا دیا گیا)۔ ہسپتال میں داخل ہونے کے دوران 7 مہینوں میں 5 نیورو سرجیکل آپریشنزہوئے-

    نابینا خاتون نجومی بابا وانگا کی 2023 کیلئے پیش گوئیاں

    چونکہ داخلے کے وقت خاتون حاملہ تھی کافی بحث کے بعد گھر والوں نے حمل جاری رکھنے کا فیصلہ کیا "اس کے حمل کے پہلے اور دوسرے سہ ماہی میں بہت سی بات چیت کی گئی کہ آیا ہمیں اس کا حمل ختم کرنا چاہئے یا حمل جاری رکھنا چاہئے کیونکہ ماں ابھی بے ہوش تھی۔ چونکہ سیریل لیول کے دو الٹراساؤنڈ امتحانات میں جنین میں کوئی پیدائشی بے ضابطگی نہیں پائی گئی، طبی ٹیم نے خاندان کو حمل جاری رکھنے کا آپشن تجویز کیا۔ ماں کی حالت کو دیکھتے ہوئے حمل ختم کرنے کا فیصلہ خاندان پر چھوڑ دیا گیا۔ خاندان نے بعد میں حمل جاری رکھنے کا فیصلہ کیا-

    اس نے 22 اکتوبر کو ایمس کے ٹراما سینٹر میں نارمل ڈیلیوری سے ایک صحت مند بچی کو جنم دیا جس کا وزن 2.5 کلوگرام تھا ڈیلیوری AIIMS، دہلی کے شعبہ امراض نسواں اور امراض نسواں کی ایک ٹیم کے ذریعہ کی گئی۔

    جوہری فیوژن توانائی کے حصول میں انتہائی اہم پیشرفت

  • چین اور شمالی کوریا کی دھمکیوں کے پیش نظر جاپان کی دفاعی اورسیکورٹی پالیسی میں بڑی تبدیلی

    چین اور شمالی کوریا کی دھمکیوں کے پیش نظر جاپان کی دفاعی اورسیکورٹی پالیسی میں بڑی تبدیلی

    جاپان کی دفاعی اور سیکورٹی پالیسی میں بڑی تبدیلی کرلی گئی ہے-

    باغی ٹی وی : میڈیا رپورٹس کےمطابق ہمسایہ ممالک شمالی کوریا ،روس اور چین کی جانب سے مسلسل فوجی خطرے کے مد نظر جاپان نے دوسری عالم جنگ کے بعد والی اپنی دفاعی پالیسی میں تبدیلی کر دیا ہے اور وہ امریکا اور اپنے مغربی اتحادیوں کے ساتھ مل کر نئے ہتھیاروں کی تعمیر کا منصوبہ بنا رہا ہےجاپانی وزیراعظم کا کہنا ہے کہ نئی سیکورٹی پالیسی آئین کے مطابق اور دفاعی نوعیت کی ہے۔

    پیرو میں صدر کی معزولی کے بعد پرتشدد مظاہرے،نئی حکومت کا 30 روزہ ہنگامی حالت نافذ کر نے کا اعلان

    سیکورٹی دستاویز میں کہا گیا ہے کہ جاپان کے اطراف نظر ڈالیں تو جنگ عظیم دوئم کے بعد سب سے سنگین ماحول ہے طاقت کے ذریعے اسٹیٹس کو یک طرفہ تبدیل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

    رپورٹ کے مطابق اب جارحیت کی صورت میں جاپان دشمن کے اڈوں اور کمان مراکز پر دور تک مار کرنے والے میزائلوں سے حملہ کر سکے گا۔

    جاپان اپنے ٹائپ 12 میزائلوں کی رینج میں اضافہ کرے گا اور 16 سو کلومیٹر تک مارکرنے والے امریکی ٹام ہاک میزائل خریدے گا تاہم خطرے کی صورت میں جاپان پیشگی حملہ نہ کرنے کی پالیسی برقرار رہے گی۔

    میڈیا رپورٹس کے مطابق جاپان ملک دو یورپی ممالک برطانیہ اور اٹلی کے ساتھ مل کر پیشرفتہ جیٹ فائٹر کو اپ گریڈ کر رہا ہےجاپان اپنی خارجہ پالیسی میں تبدیلی کرتے ہوئے اگلے پانچ سال کے دوران دفاعی شعبے میں جاپان دفاعی صلاحیت میں اضافے کیلئے 5 کھرب ین خرچ کرے گا، اس مقصد کیلئے جاپانی حکومت دفاعی بجٹ میں پہلے ہی غیرمعمولی اضافہ کر چکی ہے۔

    ایران اور روس کے درمیان خلائی تعاون کے معاہدوں پر دستخط

    اپنی نئی دفاعی پالیسی کے تحت جاپان نے اٹلی اور برطانیہ کے ساتھ ایک مشترکہ معاہدہ کیا ہے جس کے مطابق یہ دونوں ممالک جاپان کے جنگی طیاروں کی پیشرفت اور ترقی میں تعاون کریں گے۔

    اٹلی اور برطانیہ کے ساتھ مل کر جاپان جو جنگی طیارے بنا رہا ہے وہ اس ملک کے قدیمی ایف-2 طیاروں کی جگہ لے گا جسے جاپان نے امریکا کے ساتھ مشترکہ طور پر اپ گریڈ کیا تھا۔

    تبدیلیاں فوجی تنظیم پر بھی اثر انداز ہوں گی، نکی اخبار کی رپورٹ کے ساتھ کہ سیلف ڈیفنس فورسز کی تینوں شاخوں کو پانچ سال کے اندر ایک ہی کمان کے تحت لایا جائے گا۔

    میڈیا رپورٹس کے مطابق نئی پالیسیوں میں ایک وعدہ ہے کہ 2027 تک اخراجات کو جی ڈی پی کے دو فیصد تک بڑھایا جائے تاکہ جاپان کو نیٹو کے ارکان کے برابر لایا جا سکے۔

    ایسے منصوبوں کے لیے فنڈ فراہم کیئے جائیں گے، جس کو جاپان کاؤنٹر اسٹرائیک کی صلاحیت کہتا ہے۔ خیال رہے کہ جاپان کا آئین جنگ عظیم کے بعد سرکاری طور پر فوج کو بھی تسلیم نہیں کرتا ہے۔

    ایلون مسک کے پرائیوٹ جہاز کو آن لائن ٹریک کرنے والا ٹوئٹر اکاؤنٹ معطل

    اگست میں بیجنگ کی جانب سے تائیوان کے گرد بڑی فوجی مشقیں کرنے کے بعد سے چین کے خدشات مزید گہرے ہو گئے ہیں، جس کے دوران میزائل جاپانی اقتصادی پانیوں میں گرے تھے۔

    چین نے کہا تھا کہ وہ مجوزہ دستاویزات کی “سخت مخالفت” کرتا ہے چینی وزارت خارجہ کے ترجمان وانگ وین بن نے کہا تھا کہ وہ جاپان کے دوطرفہ تعلقات کے عزم اور چین اور جاپان کے درمیان اتفاق رائے سے انحراف کرتے ہیں اور چین پر بے بنیاد الزامات لگاتے ہیں۔

    جاپان سے بھی توقع کی جاتی ہے کہ وہ روس کو ایک چیلنجر کے طور پر دیکھے گا جو اس کے 2013 کے تعاون اور “پیمانہ بڑھانے” کے وعدے کے مقابلے میں ہے۔

    جاپان نے یوکرین کے معاملے پر ماسکو پر پابندیاں عائد کرنے میں مغربی اتحادیوں کے ساتھ مل کر پہلے سے ہی سرد تعلقات کو مزید گہرا کیا ہے۔

    چینی حکومت نے مانچسٹر قونصل جنرل سمیت 6 اہلکاروں کو ہٹا دیا

  • شہری نے ایلون مسک کے بیٹے کی گاڑی کا پیچھا کر کے گاڑی روک لی

    شہری نے ایلون مسک کے بیٹے کی گاڑی کا پیچھا کر کے گاڑی روک لی

    لاس اینجلس: ایک ‘دیوانہ شخص’ اس گاڑی کے بونٹ پر کھڑا ہوگیا جو ایلون مسک کے بیٹے کو لے کر جا رہی تھی اس واقعے نے ایلون مسک رئیل ٹائم لوکیشن تفصیلات فراہم کرنے والے ٹوئٹر اکاؤنٹس کے حوالے سے نئی پالیسی کے اعلان پر مجبور کردیا۔

    باغی ٹی وی : ٹوئٹر کے نئے مالک ایلون مسک نے اپنی ٹوئٹ میں بتایا کہ ایک ‘دیوانہ شخص’ اس گاڑی کے بونٹ پر کھڑا ہوگیا جو ان کے بیٹے کو لے کر جارہی تھی۔

    ایلون مسک کے پرائیوٹ جہاز کو آن لائن ٹریک کرنے والا ٹوئٹر اکاؤنٹ معطل


    ایلون مسک کی جانب سے یہ بات ایک ٹوئٹ میں اس وقت بتائی گئی جب 14 دسمبر کو ٹیسلا کے بانی کے پرائیوٹ جہاز کو آن لائن ٹریک کرنے والا ٹوئٹر اکاؤنٹ معطل کیا گیا۔

    ایلون مسک نے ٹوئٹ میں بتایا کہ اس شخص نے گاڑی کا پیچھا اس لیے کیا کیونکہ اس کا خیال تھا کہ وہ (ایلون مسک) گاڑی میں موجود ہیں۔


    ٹوئٹر کے سی ای او نے بتایا کہ گاڑی میں ایلون مسک کا بیٹا X سفر کررہا تھا جس کا پورا نام X Æ A-12 ہے X لاس اینجلس میں سفر کررہا تھا جب اس شخص نے گاڑی کو بلاک کیا اور پھر اس کے اوپر چڑھ گیا مسک نے کہا کہ میرے خاندان کو نقصان پہنچانے والے سوینی اور تنظیموں کے خلاف قانونی کارروائی کی جا رہی ہے۔

    کیمبرج ڈکشنری نے "مرد” اور "عورت” کی تعریف بدل دی

    اس واقعے کے بعد ایلون مسک نے اعلان کیا کہ جو اکاؤنٹ رئیل ٹائم لوکیشن تفصیلات شیئر کرے گا اسے معطل کردیا جائے گا کیونکہ یہ سکیورٹی کے لیے خطرہ ہے، البتہ کچھ تاخیر سے تفصیلات پوسٹ کرنے پر ایکشن نہیں لیا جائے گا۔


    انہوں نے یہ وضاحت نہیں کی کہ ان کے جہاز کو ٹریک کرنے والے اکاؤنٹ نے گاڑی روکنے والے شخص کو لوکیشن تفصیلات فراہم کی تھیں یا نہیں۔

    خیال رہے کہ نوجوان پروگرامر جیک سوینے نے ایک سافٹ ویئر بنارکھا ہے جو خودکار طریقے سے دنیا کے دوسرے امیر ترین شخص ایلون مسک کے ذاتی جہاز کی نقل و حرکت کو ٹریک کرتا ہے اور اس کے ٹوئٹر اکاؤنٹ کو معطل کیا گیا تھا۔

    گزشتہ ماہ ایک ٹوئٹ میں ایلون مسک نے کہا تھا کہ آزادی اظہار کے لیے وہ اپنے طیارے کی معلومات بتانے والے اکاؤنٹ کو بھی بند نہیں کریں گے حالانکہ یہ ذاتی طور پر ان کی حفاظت کے لیے خطرہ ہے۔

    پیرو میں صدر کی معزولی کے بعد پرتشدد مظاہرے،نئی حکومت کا 30 روزہ ہنگامی حالت نافذ کر نے کا اعلان

  • پاک افغان بارڈرپرپاکستانی اورافغان فورسز کے درمیان جھڑپیں،8 افراد زخمی

    پاک افغان بارڈرپرپاکستانی اورافغان فورسز کے درمیان جھڑپیں،8 افراد زخمی

    پاک افغان بارڈر پر پاکستانی اور افغان فورسز کے درمیان جھڑپوں میں خواتین سمیت 8 افراد زخمی ہوگئے۔

    باغی ٹی وی :سکیورٹی حکام کے مطابق پاک افغان بارڈرکلی شیخ لعل محمد میں پاکستانی اورافغان بارڈرفورسز کےدرمیان جھڑپیں ہوئی ہیں جس میں افغان فورسز کی جانب سے شہری آبادی کو دوبارہ نشانہ بنایا گیا ہے۔

    پی ایس ایل8: پشاورمیں انٹرنیشنل کرکٹ کی میزبانی کے حوالے سے پی سی بی حکام کے فیصلے پر جاوید آفریدی…

    لیویز حکام نے بتایا کہ بوغرا اورکسٹم ہاؤس کے علاقے میں آرٹلری کے متعدد گولےگرے جس کے بعد شہریوں کو مال روڈ، بوغرا روڈ، بائی پاس اوربارڈر روڈ خالی کرنےکی ہدایت کی گئی ہے جبکہ ڈی ایچ کیو اسپتال چمن میں ہنگامی حالت نافذ کردی گئی ہے افغان فورسز کی جارحیت پر پاکستانی فورسز نے بھی بھرپور جوابی کارروائی کی اور بھاری توپ خانےکا استعمال کیا۔

    حکام کے مطابق شیخ لعل محمد سیکٹرمیں باڑکی مرمت پر افغان فورسز کی مداخلت پر تصادم شروع ہوا جس دوران بارڈر شاہراہ کے قریب گولا گرنے سے ایک موٹرسائیکل سوار زخمی ہوا ہے جب کہ گھروں میں متعدد گولے گرنے سے 2 خواتین سمیت 8 افراد زخمی ہوئے۔

    پاکستانی تارکین وطن نے نومبرمیں 2 ارب 10 کروڑ ڈالرز کی ترسیلات زر کیں؛ سٹیٹ بینک

    پولیس کے مطابق علاقے میں کشیدگی کے باعث بارڈر روڈ، مال روڈ اور بوغرا روڈ پرشدید ٹریفک جام ہے جب کہ کسٹم ہاؤس اور کراچی کوچ ٹرمینل خالی کرالیا گیا ہے۔

    واضح رہے کہ چند روز قبل بھی افغان فورسز نے چمن میں بارڈر کے قریب واقع شہری آبادی پر فائرنگ کی تھی جس کے نتیجے میں 6 پاکستانی شہری شہید ہوئے۔

    پاکستانی ناظم الامور سکیورٹی کی یقین دہانے ہونے تک افغانستان نہیں جائیں گے.ترجمان دفتر خارجہ

  • پی ایس ایل8: پشاورمیں انٹرنیشنل کرکٹ کی میزبانی کے حوالے سے پی سی بی حکام کے فیصلے پر جاوید آفریدی کا خاموش احتجاج کا فیصلہ

    پی ایس ایل8: پشاورمیں انٹرنیشنل کرکٹ کی میزبانی کے حوالے سے پی سی بی حکام کے فیصلے پر جاوید آفریدی کا خاموش احتجاج کا فیصلہ

    کراچی: پشاور میں انٹرنیشنل کرکٹ کی میزبانی کے حوالے سے پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) حکام کے فیصلے پر پشاور زلمی کے کے چئیرمین جاوید آفریدی نے خاموش احتجاج کا فیصلہ کیا ہے-

    باغی ٹی وی : اس حوالے سے باخبر ذرائع کا کہنا ہے کہ پی ایس ایل کی فرنچائز پشاور زلمی کے مالک جاوید آفریدی پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کے آٹھویں سیزن کیلئے کراچی میں شیڈول ڈرافٹ میں شرکت نہیں کریں گے۔

    واضح رہے کہ پشاور کے حیات آباد کرکٹ اسٹیڈیم کو پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کی تحویل میں دینے کا فیصلہ کیا گیا تھا، گزشتہ دنوں میڈیا سے گفتگو میں پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین رمیز راجا اور سی ای او فیصل حسنین نے اشارہ دیا تھا کہ شہر اور صوبے خیبر پختونخوا کی سیکیورٹی صورتحال سے غیر ملکی کرکٹرز مطمئن نہیں اور وہاں کھیلنا نہیں چاہتے اس پر پشاور میں شدید ردعمل سامنے آیا ہے اور صوبائی اپوزیشن پارٹیز نے بھی رمیز راجا کے بیان کی مذمت کی تھی۔

    دوسری جانب پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) 8 کیلئے پلیئرز ڈرافٹنگ آج کراچی میں ہوگی جس میں ٹیمیں ملکی اور غیر ملکی کھلاڑیوں کا انتخاب کرتے ہوئے اپنے 18 رکنی اسکواڈ کو مکمل کریں گی پاکستان کرکٹ بورڈ کیجانب سےپہلی بار پی ایس ایل کی ڈرافٹنگ کراچی میں منعقد کروائی جارہی ہے۔

    ڈرافٹ میں 517 غیر ملکی اور 491 پاکستانی پلیئرز رجسٹرڈ ہوئے ہیں ایکشن سے بھرپور پاکستان سپر لیگ کے آٹھویں ایڈیشن سے قبل ٹیمیں جمعرات کو کراچی میں اپنے اسکواڈ کو مکمل کریں گی۔

    پاکستان سپر لیگ کے آٹھویں سیزن کیلئے ہالینڈ کے 15 ، اسکاٹ لینڈ کے 10، متحدہ عرب امارات کے 25 اور کینیڈا کے 10 کرکٹرز بھی دلچسپی ظاہر کر چکے ہیں جب کہ افغانستان کے 43، آسٹریلیا کے 14، بنگلہ دیش کے 28، انگلینڈ کے 139، آئرلینڈ کے 9، نیوزی لینڈ کے 6، جنوبی افریقہ کے 25، سری لنکا کے 60، ویسٹ انڈیر کے 38 اور زمبابوے کے 11 کھلاڑی بھی چناؤ کے خواہش مند ہیں۔

    پی ایس ایل ڈرافٹ میں ملکی و غیر ملکی ایک ہزار کے لگ بھگ کرکٹرز میں سے 6 فرنچائزیں مجموعی طور پر 61 پلیئرز کا چناؤ کریں گی۔

    ڈارفٹنگ میں تمام چھ فرنچائز کے ذمہ داران اور ان کے نامزد کھلاڑی چناؤ کے عمل میں شریک ہوں گے، اسلام آباد یونائیٹڈ، کراچی کنگز، لاہور قلندرز، شاور زلمی، ملتان سلطانز اور کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کو اپنے 8 کھلاڑی برقرار رکھنے کا استحقاق حاصل ہوگا جب کہ کھلاڑیوں کو دوسری ٹیموں کے کھلاڑی سے تبدیل کا حق بھی میسر آئے گی۔

    پلاٹینم کیٹیگری

    پلاٹینم کے پہلے راؤنڈ کی پہلی پِک لاہور قلندرز کی ہوگی، جس کے بعد اس راؤنڈ میں کوئٹہ، ملتان، کراچی کنگز، اسلام آباد اور پشاور زلمی اپنے پلیئرز کا انتخاب کریں گی لاہور قلندرز پلاٹینم میں شاہین شاہ آفریدی اور راشد خان کو ری ٹین کرچکا ہے جس کے بعد وہ مزید ایک پلاٹینم پلیئر کا انتخاب کرے گا دیگر ٹیمیں پلاٹینم میں دو، دو پلیئرز منتخب کریں گی۔

    ڈائمنڈ کیٹیگری
    کراچی کنگز اور ملتان سلطانز ڈائمنڈ راؤنڈ میں کوئی پِک نہیں کریں گے۔ دیگر ٹیمیں اس کیٹیگری میں ایک ایک پلیئر پِک کریں گی۔

    گولڈ پِک
    گولڈ میں کراچی کنگز تین، پشاور اور لاہور دو، دو جبکہ ملتان اور کوئٹہ ایک ایک پلیئر پِک کریں گی۔ اسلام آباد نے اپنے تینوں گولڈ پلیئرز ری ٹین رکھے ہیں۔

    سلور
    سلور کیٹیگری میں ملتان پانچ، لاہور قلندرز اور اسلام آباد یونائیٹڈ تین ، تین جبکہ کراچی کنگز، کوئٹہ گلیڈی ایٹرز اور پشاور زلمی دو، دو پلیئرز پِک کریں گے۔

    ایمرجنگ کیٹیگری
    ایمرجنگ راؤنڈ میں ملتان نے اپنے دونوں پلیئرز برقرار رکھے ہیں، لاہور اور کراچی اس کیٹیگری میں مزید ایک پلیئر ڈرافٹ کرسکتی ہے جبکہ دیگر ٹیمیں دو، دو پلیئرز ڈرافٹ کریں گی۔

    تمام ٹیمیں دو دو سپلیمنٹری پلیئر بھی ڈرافٹ کرسکتی ہیں۔

    ڈرافٹ میں شامل پاکستانی کھلاڑیوں میں فخر زمان پلاٹینم جبکہ محمد حفیظ اور نسیم شاہ ڈائمنڈ کیٹیگری میں دستیاب ہیں احمد شہزاد، عابد علی، احسن علی، انور علی، فواد عالم ، سہیل تنویر، موسیٰ خان، محمد عرفان ، عثمان قادر اور ظفر گوہر گولڈ کیٹیگری میں ہیں۔

    پلاٹینم غیر ملکی پلیئرز میں ایرون فنچ، میتھیو ویڈ، شکیب الحسن، ایلیکس ہیلز، ڈیوڈ ولی، ڈاوڈ ملان، معین علی، تیمال ملز، روسی ون ڈر ڈوسن، راجا پکسا، ڈاسن شناکا، ہسارنگا، کیرون پولارڈ، ایوین لیوز، عادل رشید، ریس ٹوپلی، مارٹن گپٹل، جمی نیشم، تبریز شمسی اور کولن انگرم جیسے پلیئرز شامل ہیں۔

    ڈرافٹ سے قبل کرکٹرز کی ٹریڈنگ، ٹرانسفر اور برقرار رکھنے کی ونڈوز بند کر دی گئیں ہیں اسلام آباد یونائیٹڈ میں شاداب خان، آصف علی، محمد وسیم جونیئر، حسن علی، اعظم خان، فہیم اشرف، پائول اسٹیرلینگ، کولین منروو شامل ہوں گے-

    کراچی کنگز میں حیدرعلی، شعیب ملک، عماد وسیم، محمد عامر، شرجیل خان، عامر یاسین، قاسم اکرم شامل ہوں گے-

    لاہور قلندرز میں شاہین شاہ آفریدی، راشد خان، حارث رؤف، ڈیوڈ وائس، عبداللہ شفیق، کامران غلام، ہیری بروک، زمان خان شامل ہوں گے-

    ملتان سلطانز میں محمد رضوان، شان مسعود، خوشدل شاہ، ریلی روسو، شاہنواز دھانی، ٹم ڈیوڈ، احسان اللہ، عباس آفریدی شامل ہوں گے-

    پشاور زلمی میں بابراعظم، وہاب ریاض، روتھ فورڈ، محمد حارث، عامر جمیل، ٹام کوہلر، سلمان ارشد شامل ہوں گے –

    کوئٹہ گلیڈی ایٹرز میں محمد نواز، جوسن رائے، افتخار احمد، محمد حسنین، سرفراز احمد، عامر اکمل، نوین الحق، ویل صمد شامل ہوں گے۔

    واضح رہے کہ پی ایس ایل کا آٹھواں ایڈیشن 9 فروری سے 19 مارچ تک لاہور، ملتان، کراچی اور راولپنڈی میں کھیلا جائے گا۔