Baaghi TV

Author: Ayesha Rehmani

  • صدر مملکت 4 روزہ دورے پر ابوظہبی پہنچ گئے

    صدر مملکت 4 روزہ دورے پر ابوظہبی پہنچ گئے

    ابوظہبی: صدر مملکت آصف علی زرداری چار روزہ سرکاری دورے پر متحدہ عرب امارات پہنچ گئے۔

    صدرِ مملکت آصف علی زرداری چار روزہ سرکاری دورے پر متحدہ عرب امارات کے دارالحکومت ابوظہبی پہنچے جہاں شیخ زاید انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر متحدہ عرب امارات کے وزیر انصاف نے ان کا پرتپاک استقبال کیا آصف علی زرداری کے ہمراہ خاتون اوّل آصفہ بھٹو زرداری اور وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی بھی موجود تھے صدر آصف علی زرداری کا یہ دورہ 29 جنوری تک جاری رہے گا۔

    دورے کے دوران صدر مملکت متحدہ عرب امارات کی اعلیٰ قیادت سے ملاقاتیں کریں گے۔ جن میں پاکستان اور یو اے ای کے درمیان دوطرفہ تعلقات کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لیا جائے گاملاقاتوں میں تجارت، اقتصادی شراکت داری، دفاع، سلامتی اور عوامی روابط کے فروغ پر تفصیلی تبادلہ خیال متوقع ہے۔

  • بی سی بی نے نظم الاسلام کو چیئر مین فنانس کمیٹی کے عہدے پر بحال کر دیا

    بی سی بی نے نظم الاسلام کو چیئر مین فنانس کمیٹی کے عہدے پر بحال کر دیا

    بنگلادیش کرکٹ بورڈ (بی سی بی) نے نظم الاسلام کو فنانس کمیٹی کے چیئرمین کے عہدے پر بحال کر دیا ہے۔

    بنگلادیشی میڈیا کے مطابق بی سی بی نے 15 جنوری کو نظم الاسلام کو عہدے سے ہٹا دیا تھا، جس کی وجہ کھلاڑیوں پر نظم الاسلام کی تنقید بتائی گئی تھی اس واقعے کے بعد بنگلہ دیش پریمیئر لیگ (بی پی ایل) کے کچھ میچز کے بائیکاٹ کی خبریں سامنے آئی تھیں بی سی بی نے انضباطی جائزے کے بعد نظم الاسلام کے وضاحتی بیان کو مثبت اور تسلی بخش قراردیا اورانہیں دوبارہ عہدے پر بحال کیا اس فیصلے کے بعد بورڈ اور کرکٹ کمیونٹی میں یہ صورتحال معمول پر آ گئی ہے۔

    بنگلادیشی میڈیا کے مطابق بی سی بی نے فنانس کمیٹی کے چیئرمین کے وضاحتی بیان کی تفصیلات جاری نہیں کی ہیں، تاہم بورڈ نے یہ واضح کیا کہ نظم الاسلام کی بحالی بورڈ کی پالیسیز اور ضابطہ اخلاق کے مطابق کی گئی ہےاس فیصلے سے بورڈ کی مالیاتی اور انتظامی امور میں استحکام برقرار رکھنے کی کوشش کی گئی ہے، تاکہ کرکٹ کے اندرونی معاملات میں توازن قائم رہے۔

  • ہماری سرزمین ایران پر حملے کیلیے  کسی کو بھی استعمال کرنے نہیں دیں گے،متحدہ عرب امارات

    ہماری سرزمین ایران پر حملے کیلیے کسی کو بھی استعمال کرنے نہیں دیں گے،متحدہ عرب امارات

    مریکا کی جانب سے ایران پر بڑے فوجی حملے کے لیے کسی خلیجی ملک کی سرزمین کے استعمال کے امکان پر متحدہ عرب امارات نے کہا ہے کہ ایران پر حملے کی صورت میں کسی کو بھی لاجسٹیکل سپورٹ یعنی فوجی سامان، سہولت یا مدد بھی فراہم نہیں کی جائے گی۔

    عالمی میڈیا کے مطابق متحدہ عرب امارات نے ایک بیان میں واضح کیا ہے کہ ہماری فضائی حدود، زمینی علاقے یا سمندری پانیوں کو ایران پر فوجی کارروائی کے لیے استعمال نہیں ہونے دیں گے، ایران پر حملے کی صورت میں کسی کو بھی لاجسٹیکل سپورٹ یعنی فوجی سامان، سہولت یا مدد بھی فراہم نہیں کی جائے گی،موجودہ بحران کا حل صرف اور صرف کشیدگی میں کمی، مذاکرات، بین الاقوامی قانون کی پابندی اور ریاستوں کی خودمختاری کے احترام میں ہے۔

    یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکا نے جنگی جہاز بردار طیارہ بردار بحری بیڑے یو ایس ایس ابراہم لنکن کو خلیجی پانیوں میں بھیجا ہے، جس کے بارے میں امریکی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ بحری بیڑہ خلیج عمان کے قریب پہنچ گیا ہے جو ممکنہ طور پر ایران کے خلاف فوجی آپریشن میں استعمال ہوگا،قبل ازیں امریکی صدر نے خطے میں آرمیڈا بھیجے جانے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا تھا کہ ہم ایران کی صورتحال پر قریب سے نظر رکھے ہوئے ہے۔

    دوسری جانب ایرانی فوج نے متنبہ کیا ہے کہ ہماری نگاہیں ہدف اور انگلیاں ٹرگر پر ہیں، بس روحانی پیشوا آیت اللہ خامنہ ای کے ایک اشارے کا انتظار ہے۔

  • سانحہ گل پلازہ:ناقابل شناخت شخص کا ڈی این اے موصول، ہلاکتوں کی تعداد 74 ہوگئی

    سانحہ گل پلازہ:ناقابل شناخت شخص کا ڈی این اے موصول، ہلاکتوں کی تعداد 74 ہوگئی

    کراچی:پولیس سرجن کراچی کو ناقابل شناخت شخص کا ڈی این اے رزلٹ موصول ہوگیا جس کے بعد سانحہ میں ہلاکتوں کی تعداد 74 ہوگئی۔

    پولیس سرجن کراچی ڈاکٹر سمیعہ سید کا کہنا ہے کہ مرنے والے ایسے لوگ بھی موجود تھے جن کا کوئی ڈیٹا ہی موجود نہیں، سندھ فارنزک ڈی این اے لیب سےایک پازیٹیو ڈی این اے رزلٹ ملا ہے، ملنے والے ڈی این اے کا کوئی بھی ریفرنس سیمپل جمع نہیں کروایا گیا،اس کا مطلب ایسے بھی لوگ گل پلازہ میں جاں بحق ہوئے جن کا کچھ پتہ نہیں، ممکن ہے ملنے والا ڈی این اے شہر سے باہر کے کسی شخص کا ہو۔

    پولیس سرجن نے کہا ہے کہ پولیس سرجن کراچی آفس میں کل صبح 9 سے شام 5 بجے تک ڈی این اے کے لیے سیمپل جمع کروایا جاسکتا ہے، ڈی این اے سے کوئی پہچان عمر یا جنس نہیں بتائی جاسکتی، وہ لوگ جنہوں نے اپنے سیمپل جمع نہیں کروائے جلد جمع کروادیں۔

  • 2026 کے اختتام تک سونے کی قیمت کہاں تک جا سکتی ہے؟عالمی مالیاتی ادارے کی پیشگوئی جاری

    2026 کے اختتام تک سونے کی قیمت کہاں تک جا سکتی ہے؟عالمی مالیاتی ادارے کی پیشگوئی جاری

    عالمی مالیاتی ادارے گولڈ مین سیچز کے مطابق 2026 کے اختتام تک فی اونس سونے کی قیمت 5,400 ڈالر تک جاسکتی ہے۔

    بروکریج ہاؤس کے مطابق اس اضافے کی بڑی وجہ نجی شعبے اور ابھرتی ہوئی معیشتوں کے مرکزی بینکوں کی جانب سے سونے میں بڑھتی ہوئی سرمایہ کاری ہے، جو عالمی پالیسی خدشات کے خلاف ایک مؤثر تحفظ سمجھی جا رہی ہے،پیر کے روز اسپاٹ گولڈ کی قیمت 5097 ڈالر فی اونس کی بلند ترین سطح تک پہنچ گئی رواں سال 2026 کے آغاز سے اب تک سونے کی قیمت میں 13 فیصد سے زائد اضافہ ریکارڈ کیا جا چکا ہے، جبکہ گزشتہ سال سونے کی قیمت میں 64 فیصد کا غیر معمولی اضافہ دیکھا گیا تھا۔

    گولڈمین سیچز نے اپنی رپورٹ میں کہا کہ ادارہ یہ فرض کر رہا ہے کہ نجی شعبے کے وہ سرمایہ کار جو عالمی پالیسی اور جغرافیائی خدشات کے پیش نظر سونے کو بطور ہیج استعمال کر رہے ہیں، وہ 2026 کے دوران اپنے سونے کے ذخائر فروخت نہیں کریں گے، اس رویے کے باعث سونے کی قیمت کے لیے ابتدائی سطح پہلے سے کہیں زیادہ مضبوط ہو گئی ہے، جس نے قیمتوں کے اندازے کو اوپر کی جانب دھکیل دیا ہے۔

    رپورٹ کے مطابق، ابھرتی ہوئی معیشتوں کے مرکزی بینک بھی اپنے زرمبادلہ کے ذخائر میں تنوع لانے کے لیے تیزی سے سونے کی خریداری کر رہے ہیں، تاکہ ڈالر اور دیگر کرنسیوں پر انحصار کم کیا جا سکے۔ یہی رجحان عالمی منڈی میں سونے کی طلب کو مزید تقویت دے رہا ہے۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر عالمی معاشی غیر یقینی صورتحال، جغرافیائی کشیدگیاں اور مالیاتی پالیسیوں میں اتار چڑھاؤ برقرار رہا تو سونا آئندہ بھی سرمایہ کاروں کے لیے ایک مضبوط محفوظ سرمایہ کاری بنا رہے گا، اور گولڈمین سیچز کی پیش گوئی حقیقت کا روپ دھار سکتی ہے۔

  • امریکا میں شدید ترین برفانی طوفان،11 افراد ہلاک،ہزاروں پروازیں منسوخ،لاکھوں صارفین بجلی سے محروم

    امریکا میں شدید ترین برفانی طوفان،11 افراد ہلاک،ہزاروں پروازیں منسوخ،لاکھوں صارفین بجلی سے محروم

    امریکا میں شدید ترین برفانی طوفان کے نتیجے میں کم از کم 11 افراد ہلاک ہو گئے جبکہ ہفتے کے روز سے اب تک 19 ہزار پروازیں بھی منسوخ کی جاچکی ہیں۔

    غیر ملکی خبررساں ایجنسی کے مطابق خراب موسمی حالات کے باعث سڑکوں پر سفر سے گریز کی ہدایات جاری کی گئیں ہیں،طوفان کے باعث ٹیکساس سے نیو انگلینڈ تک وسیع علاقے میں برف باری، ژالہ باری اور بارش ہورہی ہے جبکہ آئندہ دنوں میں درجہ حرارت خطرناک حد تک کم ہونے کی پیش گوئی کی گئی ہے۔

    نیویارک کے میئر زہران ممدانی نے بتایا کہ اتوار کے روز 5 افراد کھلے آسمان تلے مردہ پائے گئےٹیکساس میں حکام نے 3 ہلاکتوں کی تصدیق کی ہے، ریاست لوویزیانا میں 2 افراد ہائپوتھرمیا کے باعث ہلاک ہوئے۔ریاست آئیووا کے جنوب مشرقی علاقے میں سخت موسم کے باعث ٹریفک حادثے میں ایک شخص ہلاک اور دو زخمی ہوئے۔

    خبررساں ایجنسی کے مطابق برفانی طوفان کے باعث پیر تک 8 لاکھ 20 ہزار سے زائد صارفین بجلی سے محروم رہے جن میں زیادہ تر جنوبی ریاستوں سے تعلق رکھتے ہیں جہاں طوفان ہفتے کے روز شدید ہواٹیکساس سے لے کر نارتھ کیرولائنا اور نیویارک تک حکام نے شہریوں کو خطرناک حالات کے باعث گھروں میں رہنے کی ہدایت کی ہے۔

    طوفان کے باعث کم از کم 20 امریکی ریاستوں اور وفاقی دارالحکومت واشنگٹن میں ہنگامی حالت نافذ کر دی گئی ہےواشنگٹن، فلاڈیلفیا اور نیویارک کے بڑے ہوائی اڈوں پر تقریباً تمام پروازیں منسوخ کر دی گئی ہیں، فلائٹ ٹریکنگ ویب سائٹ کے مطابق ہفتے سے اب تک اندرون اور بیرون ملک آنے جانے والی 19 ہزار سے زائد پروازیں منسوخ کی جا چکی ہیں۔

    امریکی میڈیا کے مطابق منی سوٹا میں درجہ حرارت منفی 27 ڈگری ریکارڈ کیا گیا جبکہ شکاگو میں درجہ حرارت منفی 14 ڈگری تک گر گیا ہے، جس سے شہریوں کو سخت سردی اور زندگی کے معمولات متاثر ہونے کا سامنا ہے۔

    امریکہ کے مشرقی حصے میں برفباری بھی شدید رہی فلاڈیلفیا میں 9 انچ سے زائد برفباری ریکارڈ کی گئی، نیویارک سٹی کے سنٹرل پارک میں 11 انچ اور بوسٹن میں 16 انچ سے زائد برفباری نوٹ کی گئی ہےبرفباری کے باعث نقل و حمل متاثر ہوئی اور شہریوں کو محتاط رہنے کی ہدایات جاری کی گئی ہیں۔

    حکام نے خبردار کیا ہے کہ شدید سردی اور برفباری کے دوران بیرونی سرگرمیوں میں احتیاط برتی جائے تاکہ حادثات سے بچا جا سکے۔

  • لینڈ سلائیڈنگ کا خطرہ، پیشگی الرٹ جاری

    لینڈ سلائیڈنگ کا خطرہ، پیشگی الرٹ جاری

    این ڈی ایم اے نے ملک کے مختلف علاقوں کیلئے لینڈ سلائیڈنگ کا پیشگی الرٹ جاری کردیا ہے۔

    این ڈی ایم اے کی جانب سے آئندہ 2روز تک متوقع بارش اور برفباری کے باعث لینڈ سلائیڈنگ کا الرٹ جاری کیا گیا ہے ،جس میں کہا گیا ہے کہ خیبر پختونخوا اور بلوچستان کے پہاڑی علاقوں میں ممکنہ لینڈ سلائیڈنگ کا خطرہ ہے، 26 سے 27 جنوری کے پی ،گلگت بلتستان اور آزاد کشمیرکے پہاڑی علاقوں میں بھی لینڈ سلائیڈنگ کا خطرہ ہے،دیر، سوات، کالام، کاغان، چترال، کوہستان، شانگلہ ، ایبٹ آ باداور مانسہرہ میں لینڈ سلائیڈ نگ کا خطرہ ظاہر کیا گیا ہے۔مری، گلیات، استور، سکردو، گلگت، ہنزہ، غزر، شگر، باغ، مظفرآباد میں بھی لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ ہے۔

    ترجمان این ڈی ایم اے کا کہنا ہے کہ بلوچستان کے متعدد اضلاع میں بھی بارش اور برفباری کے باعث لینڈ سلائیڈ نگ کا خدشہ ہے،کوئٹہ، زیارت،پشین، چمن،قلعہ عبداللہ، نوشکی ،ہرنائی، اور ژوب میں لینڈ سلائیڈ نگ کا خطرہ ہےقلعہ سیف اللہ، قلات، مستونگ، آواران، پنجگوراور خضدار میں بھی لینڈ سلائیڈ نگ کا خطرہ ہے،قراقرم ہائی وے اور بابوسر روڈ پر لینڈ سلائیڈنگ کے باعث ٹریفک روانی متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔

    کاغان ناران رابطہ سڑک پر بھی لینڈ سلائیڈنگ کے باعث ٹریفک روانی متاثر ہونے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے پہاڑی علاقوں میں برفباری اور لینڈ سلائیڈنگ کے باعث سڑکوں پر ٹریفک کی روانی متا ثر ہونے کا خدشہ ہےعوام برفباری اور بارش کے دوران غیر ضروری سفر سے گریز کریں،سڑکوں کی بندش کی صور ت میں ملبہ ہٹانے والی مشینری اور ریسپانس ٹیموں کو الرٹ رہنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

  • دنیا کے مشہور کھلاڑیوں کی عالمی رینکنگ جاری ،عمران خان  پاکستان کے مشہور کھلاڑی قرار

    دنیا کے مشہور کھلاڑیوں کی عالمی رینکنگ جاری ،عمران خان پاکستان کے مشہور کھلاڑی قرار

    دنیا کے مختلف ممالک کے سب سے مشہور کھلاڑیوں کی عالمی رینکنگ جاری کی گئی ہے-

    کھلاڑیوں کی فہرست معروف شماریاتی پلیٹ فارم ورلڈ آف اسٹیٹسٹکس کی جانب سے شیئر کی گئی جس میں دنیا بھر کے عظیم اور بااثر اسپورٹس اسٹارز کو شامل کیا گیا ہے۔ فہرست میں پاکستان سے شامل نام نے خاص طور پر صارفین کی توجہ حاصل کر لی۔

    رینکنگ کے مطابق سابق کپتان اور عالمی شہرت یافتہ کرکٹر عمران خان کو پاکستان کا سب سے مشہور کھلاڑی قرار دیا گیا ہے۔ فہرست میں ان کا نام امریکا کے مائیکل جارڈن، ارجنٹائن کے لیونل میسی، پرتگال کے کرسٹیانو رونالڈو، بھارت کے سچن ٹنڈولکر اور سوئٹزرلینڈ کے راجر فیڈرر جیسے عالمی اسپورٹس آئیکونز کے ساتھ شامل کیا گیا۔

    عمران خان کی اس فہرست میں شمولیت ان کے کھیلوں میں دیرپا اثرات اور عالمی پہچان کی عکاس ہے انہوں نے 1992 کے کرکٹ ورلڈ کپ میں پاکستان کی قیادت کرتے ہوئے تاریخی فتح دلائی اور انہیں ملک کے عظیم ترین کرکٹرز میں شمار کیا جاتا ہےکھیل کے بعد سیاست میں ان کا نمایاں کردار بھی ان کی عالمی شناخت کو مزید تقویت دیتا ہے۔

    یہ فہرست مختلف براعظموں اور کھیلوں پر مشتمل ہے جس میں ایسے کھلاڑی شامل کیے گئے ہیں جن کا اثر محض اعداد و شمار تک محدود نہیں بلکہ ثقافتی اثرات اور عالمی شہرت تک پھیلا ہوا ہےبرازیل کے لیجنڈ پیلے سے لے کر جدید دور کے ٹینس اور فٹبال اسٹارز تک، رینکنگ نے مقبولیت، کامیابیوں اور عالمی رسائی جیسے معیارات پر نئی بحث چھیڑ دی۔

  • پی ٹی آئی کے کسی بھی ممکنہ احتجاج سے حکومت کو کوئی خطرہ نہیں ہے،خواجہ آصف

    پی ٹی آئی کے کسی بھی ممکنہ احتجاج سے حکومت کو کوئی خطرہ نہیں ہے،خواجہ آصف

    اسلام آباد: وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) پی ٹی آئی کے اندر 5 سے 6 چھوٹے چھوٹے گروپس بن چکے ہیں-

    وزیر دفاع خواجہ آصف نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پی ٹی آئی اس وقت شدید اندرونی تقسیم کا شکار ہو چکی ہے اور اس کے کسی بھی ممکنہ احتجاج سے حکومت کو کوئی خطرہ نہیں ہے جماعت کے اندر 5 سے 6 چھوٹے چھوٹے گروپس بن چکے ہیں اور ایسے میں 8 فروری کو ان کا احتجاج مؤثر نہیں ہو سکتا۔

    انہوں نے کہا کہ گزشتہ ڈیڑھ سال کے دوران پی ٹی آئی نے بہت شور مچایا لیکن اب ان کی سیاسی طاقت بتدریج کم ہوتی جا رہی ہے تحریک انصاف کو سب سے زیادہ نقصان خیبر پختونخوا میں اپنی حکومت کی ناقص کارکردگی کے باعث اٹھانا پڑا ہےجس کا خمیازہ پارٹی کو عوامی سطح پر بھگتنا پڑ رہا ہے۔

    خواجہ آصف نے کہا کہ مذاکرات کے حوالے سے پی ٹی آئی کی جانب سے اب تک کسی قسم کا سنجیدہ جواب سامنے نہیں آیا اپوزیشن لیڈر کا عہدہ خود نہ لینا ہی پی ٹی آئی کی بددیانتی کو ظاہر کرتا ہے تحریک انصاف سیاسی فائدہ تو اٹھانا چاہتی ہے مگر ذمہ داری لینے سے گریزاں ہےمحمود خان اچکزئی کے ساتھ ان کا اتحاد کسی بھی وقت ختم ہو سکتا ہے۔

    واضح رہے کہ پاکستان تحریکِ انصاف نے 8 فروری کو عام انتخابات کے دو سال مکمل ہونے پر ملک گیر احتجاج کی کال دے رکھی ہے اور قوم سے شٹر ڈاؤن اور پہیہ جام کرنے کی اپیل کی ہے۔

  • سوئس رپورٹ نے ’آپریشن سندور‘ میں بھارت کے کھوکھلے دعووں کا بھانڈا پھوڑ دیا

    سوئس رپورٹ نے ’آپریشن سندور‘ میں بھارت کے کھوکھلے دعووں کا بھانڈا پھوڑ دیا

    سوئس رپورٹ کے مطابق بھارت کے میڈیا میں دعوے کے برعکس، ابتدائی مرحلے میں بھارتی فضائیہ کو پاکستان کی طرف سے اہم حکمت عملی ناکامی کا سامنا کرنا پڑا –

    سوئس عسکری مورخ ادریئن فونٹانیلاز کی تحقیق ’آپریشن سندور انڈیا –پاکستان ایئر وار (7–10 مئی 2025)‘ میں بھارت اور پاکستان کے مئی 2025 کے فضائی تصادم کا تفصیلی تجزیہ پیش کیا گیا ہے رپورٹ میں 7 مئی 2025 کی ابتدائی رات کی فضائی لڑائی میں بھارت کو ٹیکٹیکل نقصان کا سامنا قرار دیا گیا۔

    رپورٹ میں کہا گیا کہ پاکستان نے J-10C اورJF-17 طیاروں کے ساتھ PL-15 میزائل اور ممکنہ طور پر HQ-9/16 SAMs کے استعمال سے متعدد بھارتی طیارے مار گرائے، جن میں کم از کم ایک رافیل، ایک میرِایج 2000 اور ایک MiG-29UPG یا Su-30MKI شامل ہےپاکستانی فضائیہ نے اپنی مہارت سے بھارتی طیاروں کو ہتھیار گرانے پر مجبور کیا، جس میں ایک براہموس میزائل بھی سالم زمین پر ملا۔ بھارتی طیارے کم ارتفاع پر اور اچانک حملے کرکے خود کو خطرے میں ڈالتے رہے، جس سے نقصان ہوا۔ پاکستان کو بھارت کی حملوں پر حیرت نہیں ہوئی، کیونکہ فضائی دفاعی مشقیں پہلے ہی کی گئی تھیں۔

    رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بھارت نے PL-15 میزائل کی رینج اور صلاحیت کو کم تر اندازہ کیا، اور 2019 کے تجربات (بالاکوٹ) پر زیادہ اعتماد کیا رپورٹ میں کہا گیا کہ بھارت کی ابتدائی اطلاعات اور عالمی ذرائع میں معلومات کی کمزوری نے پاکستان کو ابتدائی مرحلے میں سبقت دیبھارت کی کارروائیوں نے 2 ایٹمی طاقتوں کے درمیان کشیدگی کے خطرات کو بڑھایا۔ پاکستان نے مؤثر اسٹریٹجک کمیونیکیشن کے ذریعے عالمی سطح پر اپنی پوزیشن مضبوط کی، جبکہ بھارت ابتدائی طور پر اطلاعاتی میدان میں پیچھے رہا۔

    رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ رافیل کے نقصان کی علامتی اہمیت نے بھارت کے دعوؤں پر سوالیہ نشان لگایا، اور پاکستان کو پبلک ریلیشن میں اہم فائدہ حاصل ہوا۔ رپورٹ میں واضح کیا گیا کہ بھارت کی کارروائیوں نے پاکستان کی فوجی صلاحیت، سفارتی تعلقات اور عالمی اثر و رسوخ کو متاثر نہیں کیا۔

    سوئس تجزیہ کار نے رپورٹ میں بتایا کہ بھارت کی جانب سے آپریشن سندور کو بڑھا چڑھا کر پیش کرنا زیادہ تر میڈیا اور سیاسی تاثر پر مبنی تھا، جبکہ عملی میدان میں پاکستان کی حکمت عملی، پیشگی تیاری اور مؤثر دفاعی اقدامات نے ابتدائی نقصان کا تدارک کیا اور علاقائی توازن قائم رکھا، ایٹمی ریاستوں کے درمیان کاررو ائیوں کے اثرات کا جائزہ لینے اور محتاط رویہ اختیار کرنے کی ضرورت ہے، اور اس ضمن میں پاکستان کی حکمت عملی عالمی نقطہ نظر سے قابل ذکر رہی۔