Baaghi TV

Author: Ayesha Rehmani

  • اسحاق ڈار  کل دورے پر چین جائیں گے

    اسحاق ڈار کل دورے پر چین جائیں گے

    وزیر خارجہ و نائب وزیراعظم محمد اسحاق ڈار 31 مارچ 2026 کو چین کا اہم دورہ کریں گے-

    دفتر خارجہ کے مطابق محمد اسحاق ڈار 31 مارچ 2026 کو چین کا اہم دورہ کریں گے، جہاں وہ اپنے چینی ہم منصب (Wang Yi) کی دعوت پر اعلیٰ سطح ملاقاتیں کریں گے،پاکستان اور چین کے درمیان دیرینہ اسٹریٹجک شراکت داری کے تناظر میں اس دورے کے دوران علاقائی صورتحال، دوطرفہ تعلقات اور عالمی امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا جائے گا۔

    دفتر خارجہ کے مطابق یہ دورہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب اسحاق ڈار کو حالیہ معمولی کندھے کی چوٹ کے باعث آرام کا مشورہ دیا گیا تھا، تاہم اس کے باوجود دورہ چین اس بات کا مظہر ہے کہ پاکستان اپنی چین کے ساتھ شراکت داری کو کس قدر اہمیت دیتا ہے۔

  • امریکا اور اسرائیل نے ایران کے خلاف آٹھ نکاتی جنگی منصوبہ تیار  کیا ہے،ایرانی میڈیا

    امریکا اور اسرائیل نے ایران کے خلاف آٹھ نکاتی جنگی منصوبہ تیار کیا ہے،ایرانی میڈیا

    ایرانی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا اور اسرائیل نے ایران کے خلاف آٹھ نکاتی جنگی منصوبہ تیار کیا ہے-

    ایران کے سرکاری انگریزی اخبار تہران ٹائمز نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا اور اسرائیل نے ایران کے خلاف آٹھ نکاتی جنگی منصوبہ تیار کیا ہے، جس میں اہم ایرانی قیادت کو ہدف بنانے، بڑے شہروں اور ایٹمی تنصیبات پر حملے کرنے، اور ممکنہ زمینی و محدود ایٹمی کارروائیاں شامل ہیں، جبکہ ایران کے شمال مغر ب سے 4 ہزار افراد پر مشتمل اپوزیشن فورسز کے ساتھ زمینی حملہ کیا جائے گا، ایران کے جنوب مشرق سے 2 ہزار 500 امریکی فوجی داخل ہوں گے، فوجی اتا رنے کے لیے بندر عباس، کرمانشاہ، ارمیہ اور تبریز کے ہوائی اڈوں کا استعمال کیا جائے گا میزائل حملوں کے لیے 5 سے 15 فوجیوں پر مشتمل جنگی یونٹس پیرا شوٹ کے ذریعے شہری اور ایٹمی تنصیبات میں اتارے جائیں گے بعض فوجی اور ایٹمی مقامات پر محدود ایٹمی حملوں کی تیاری بھی شامل ہے۔

    واضح رہے کہ ایران میں جاری جنگ اپنے دوسرے مہینے میں داخل ہو چکی ہ۔ اتوار کو بھی ایرانی شہروں پر بمباری جاری رہی اور اسرائیلی فوج نے ایران سے فائر کیے گئے راکٹوں کا سراغ لگایا۔

    امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ کے مطابق پینٹاگون ایران میں ہفتوں طویل زمینی کارروائی کی تیاری کر رہا ہے وائٹ ہاؤس نے تصدیق کی ہے کہ پینٹاگون صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو تمام ضروری آپشنز فراہم کرنے کی تیاری میں ہے، امریکی انتظامیہ نے ایرانی جزیرے خارگ پر کنٹرول اور آبنائے ہرمز کے قریب ساحلی علاقو ں پر حملوں کے امکانات پر بھی غور کیا ہے۔

    اخبار کے مطابق زمینی کارروائی کے لیے پینٹاگون کی تیاری کا مطلب یہ نہیں کہ صدر ٹرمپ نے فیصلہ کر لیا ہے تاہم ایک امریکی ذرائع نے بتایا کہ ممکنہ زمینی کارروائی کی مدت دو ماہ ہو سکتی ہے امریکی منصوبوں میں سپیشل آپریشنز اور روایتی پیادہ فوج کے حملے شامل ہو سکتے ہیں، ایران میں جنگ کے پانچویں ہفتے میں داخل ہوتے ہی مشرقِ وسطیٰ میں امریکی میرینز تعینات کر دیے گئے ہیں، اور امریکی فوج کی 82 ویں ایئر بورن ڈویژن کے ہزاروں فوجیوں کو خطے میں بھیجنے کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے۔

  • ایرانی حملوں میں 261 فوجی اور 6000 شہری زخمی ہوئے،اسرائیلی فوج

    ایرانی حملوں میں 261 فوجی اور 6000 شہری زخمی ہوئے،اسرائیلی فوج

    اسرائیل اور ایران کے درمیان جاری حالیہ جنگ کے دوران اسرائیلی فوج نے اپنے جانی نقصان کے اعداد و شمار جاری کیے ہیں۔

    اسرائیل کی جانب سے جاری سرکاری بیان کے مطابق جنگ کے آغاز سے اب تک 261 اسرائیلی فوجی اور6000 سے زائد سویلین زخمی ہوئے ہیں جن میں سے121 افراد اب بھی زیر علاج ہیں،اسرائیلی وزارت صحت کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں میں 232 افراد زخمی ہونے کے باعث اسپتال منتقل کیے گئے، جس کے بعد جنگ کے دوران ہسپتالوں میں داخل شدگان کی تعداد 6000 سے تجاوز کر گئی ہے۔

    ان زخمیوں میں سے 2 افراد کی حالت تشویشناک،8افراد کی حالت تسلی بخش اور 215 افراد کی حالت بہتر بتائی گئی ہےجبکہ 7 افراد کو گھبراہٹ کے علاج کے لیے اسپتال لایا گیاوزارت صحت نے زخمی ہونے کی وجوہات کی تفصیل نہیں بتائی، تاہم کہا گیا ہے کہ بعض افراد کو پناہ گاہ تک پہنچنے کی کوشش کے دوران بھی چوٹیں لگی ہیں۔

    علاوہ ازیں، اسرائیل نے بتایا ہے کہ ایران کے ساتھ جنگ میں اس کے 261 اسرائیلی فوجی زخمی ہو چکے ہیں، تاہم فوج نے اب تک ہلاک ہونے والے اہلکاروں کی تعداد ظاہر نہیں کی ہےدوسری جانب اسرائیل نے اپنے ملک کی تاریخ کا سب سے بڑا دفاعی بجٹ منظور کیا ہے جو 271 ارب ڈالر پر مشتمل ہےماہرین کا خیال ہے کہ اتنا بڑا بجٹ اس بات کی علامت ہے کہ اسرائیل خود کو کسی ایک مختصر کارروائی کے بجائے ایک طویل اور کثیر الجہتی جنگ کے لیے تیار کر رہا ہے۔

    دوحہ انسٹی ٹیوٹ فار گریجویٹ اسٹڈیز کے ماہر محمد المصری نے الجزیرہ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں اس صورتحال کا تفصیلی تجزیہ پیش کیا کہا کہ اسرائیل کا یہ تاریخی بجٹ اُس کی اِس نیت کو ظاہر کرتا ہے کہ وہ مختلف محاذوں پر کئی جنگیں لڑنے کا ارادہ رکھتا ہے تاریخی طور پر امریکا اسرائیل کو ہر سال 3.8 ارب ڈالر کی فوجی امداد فراہم کرتا رہا ہے اور جنگ کے دوران یہ رقم مزید بڑھ جاتی ہے، لیکن اب اسرائیل کے اندر یہ احساس پیدا ہو رہا ہے کہ شاید حالات ہمیشہ ایسے نہ رہیں۔

    انہوں نے کہا کہ امریکا کا سیاسی منظرنامہ بدل رہا ہے اور وہاں کے عوام نہ صرف اسرائیل بلکہ اسے ملنے والی امریکی امداد پر بھی تنقید کر رہے ہیں اس بجٹ سے یہ پیغام ملتا ہے کہ اسرائیل خود کو جنگ کے خاتمے پر نہیں دیکھ رہا، بلکہ وہ شاید ابھی جنگ کے وسط یا محض آغاز میں ہے سرائیلی قیادت یہ سمجھ چکی ہے کہ شام، لبنان، فلسطینی علاقوں اور ایران کے ساتھ ایک طویل المدتی جنگ کی ضرورت ہوگی تاکہ وہ اپنے ’گریٹر اسرائیل‘ کے خواب کو حقیقت بنا سکیں۔

  • کراچی  ڈیفنس فیز فائیو: سپر اسٹور میں آ تشزدگی،واٹرہائیڈرنٹس پر ایمرجنسی نافذ

    کراچی ڈیفنس فیز فائیو: سپر اسٹور میں آ تشزدگی،واٹرہائیڈرنٹس پر ایمرجنسی نافذ

    کراچی کے علاقے ڈیفنس فیز فائیو میں واقع سپر اسٹور میں آ گ بھڑک اٹھی-

    سپر اسٹور میں آتشزدگی کے واقعے کے بعد فائر بریگیڈ اور ریسکیو 1122 نے فوری طور پر واٹر کارپوریشن سے مدد طلب کر لی،ترجمان فائر بریگیڈ کے مطابق ک سی ای او احمد علی صدیقی کی ہدایت پر نیپا، صفورا، لانڈھی اور شیرپاؤ ہائیڈرنٹس پر ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے، جبکہ واٹر ٹینکرز فوری طور پر جائے وقوعہ پر روانہ کر دیے گئے ہیں۔

    ترجمان کے مطابق انچارج ہائیڈرنٹس سیل فائر بریگیڈ اور ریسکیو حکام سے مسلسل رابطے میں ہیں، جبکہ فوکل پرسن خود آپریشن کی نگرانی کر رہے ہیں آگ بجھانے کے دوران فائر بریگیڈ کو بلا تعطل پانی کی فراہمی یقینی بنائی جا رہی ہے،آتشزدگی پر مکمل قابو پانے تک واٹر ٹینکرز کی فراہمی جاری رہے گی اور شہریوں کے جان و مال کے تحفظ کے لیے ریسکیو اداروں کے ساتھ بھرپور تعاون کیا جا رہا ہے۔

  • نرگس کا ڈانس دیکھ کر آنکھ میں آنسو آ جاتے تھے،ڈاکٹر عمر عادل

    نرگس کا ڈانس دیکھ کر آنکھ میں آنسو آ جاتے تھے،ڈاکٹر عمر عادل

    ڈاکٹر عمر عادل کا کہنا ہے کہ اداکارہ و اسٹیج ڈانسر نرگس کا ڈانس دیکھ کر آنکھ میں آنس آ جاتے تھے-

    ڈاکٹر عمر عادل جو اکثر اپنے بیانات کی وجہ سے سوشل میڈیا پر تنقید کی زد میں ر ہتے ہیں ان کی ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہی ہے جس میں انہوں نے خاص طور پر نرگس کی پرفارمنس کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ کہتے ہیں ڈانس میں فحاشی نہیں ہوتی آپ کی نظر میں فحاشی ہو گی، میں بہت گناہ گار انسان ہوں لیکن نرگس کا ڈانس دیکھ کر آنسو آ جاتے تھے وہ پرفارمنس ہی اس قسم کی دیتی تھیں۔

    انہوں نے کہا کہ ہر حسین چیز میں رب دکھنا چاہیے ان کے گیتوں کے بول جو ہمیں سمجھ آتے ہیں آپ اپنی توجہ درست سمت میں رکھیں کئی صارفین نے ڈاکٹر عمر عادل کے بیان پر شدید تنقید کی تو کسی نے سوال کیا کہ یہ کون سی نرگس کی بات کر رہے ہیں؟،کچھ نے پیمرا کو بھی نشانے پر رکھا-

  • اسحاق ڈار کے پھسلنے کا واقعہ ، سوشل میڈیا صارفین پاکستانی میڈیا کی ذمہ دارنہ رپورٹنگ کے معترف

    اسحاق ڈار کے پھسلنے کا واقعہ ، سوشل میڈیا صارفین پاکستانی میڈیا کی ذمہ دارنہ رپورٹنگ کے معترف

    نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار ایک اہم سفارتی تقریب کے دوران گر کر زخمی ہو گئے تاہم انہوں نے دن بھر اپنی سرکاری ذمہ داریاں جاری رکھیں جس پر حکومتی حلقوں کا کہنا ہے کہ یہ ذمہ داری کی اعلیٰ مثال ہے۔

    دوسری جانب سوشل میڈیا پر پاکستانی میڈیا کے کردار کو بھی سراہا جا رہا ہے کہ اس نے ریٹنگ کے لیے واقعے کو بار بار نشر کرنے سے گریز کیا اور خبروں کا مرکز مذاکرات اور سفارتی اجلاس کو رکھا صارفین نے کہا کہ یہ عمل قابل تعریف ہے اور میڈیا کے اس ذمہ دار رویے کی تعریف کی جانی چاہیے کیونکہ یہ دن پاکستان کے لیے اہم تھا اور عالمی نظریں ملک پر مرکوز تھیں۔

    ایکصارف کا کہنا تھا کہ ہم پاکستانی میڈیا پر بہت تنقید کرتے ہیں مگر یہی میڈیا اس حوالے سے قابل تعریف ہے کہ کل جب اسحاق ڈار کے گرنے کا واقعہ ہوا تو میڈیا نے اسے ریٹنگ کے لیے بار بار نہیں چلایا، یہ عمل قابل تعریف ہے ایک صارف نے کہا کہ کل کے واقعے میں میڈیا نے ریٹنگ کے بجائے ذمہ داری کو ترجیح دی، اسحاق ڈار کے گرنے کو بار بار نشر نہ کرنا واقعی سراہنے کے قابل ہے۔

    علاوہ ازیں سینئیر صحافیوں نے بھی میڈیا کے اس عمل کی تعریف کی سینیئر صحافیوں کا کہنا تھا کہ یہ عمل قابلِ تعریف ہے اور میڈیا کے اس ذمہ دارانہ رویے کی تعریف کی جانی چاہیے کیونکہ یہ دن پاکستان کے لیے اہم تھا اور عالمی نظریں ملک پر مرکوز تھیں۔

    سابق چیئرمین پیمرا و سینیئر صحافی ابصار عالم نے کہا کہ میڈیا نے اس معاملے میں غیر ضروری سنسنی اور تضحیک سے گریز کرتے ہوئے ایک حد تک پیشہ ورانہ بلوغت کا مظاہرہ کیا، ماضی میں اکثر ایسے واقعات کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا جاتا رہا، تاہم اس بار میڈیا نے نسبتاً ذمہ داری دکھائی کیونکہ اب میڈیا پر پیچھے سے ہدایات دینے والے عناصر کی گرفت پہلے کی نسبت کم دکھائی دیتی ہے جب میڈیا پر دباؤ کم ہوتا ہے تو ادارے خود اپنے ادارتی فیصلے کرنے کے قابل ہوتے ہیں، جس سے پیشہ ورانہ معیار بہتر ہوتا ہے ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ میڈیا کی ساکھ، جو ماضی میں مختلف اثر و رسوخ کے باعث متاثر ہوئی، اس کی مکمل بحالی میں وقت درکار ہوگا اور مزید میچورٹی کی ضرورت ہے۔

  • مشکل کی اس گھڑی میں معاشی طور پر کمزور طبقے کو اکیلا نہیں چھوڑیں گے،وزیراعظم

    مشکل کی اس گھڑی میں معاشی طور پر کمزور طبقے کو اکیلا نہیں چھوڑیں گے،وزیراعظم

    وزیراعظم کی زیر صدارت خلیجی بحران کے پیٹرولیم مصنوعات پر اثر، پاکستان میں موجودہ ذخائر اور عوامی ریلیف کے اقدامات پر جائزہ اجلاس آج اسلام آباد میں منعقد ہوا.

    وزیر اعظم آفس کے مطابق اجلاس میں گفتگو کرتے ہوئے وزیرِ اعظم نے کہا کہ کمزور اور متوسط طبقے کے لوگوں کو مزید ریلیف فراہم کرنے کیلئے کوشاں ہیں، مشکل کی اس گھڑی میں معاشی طور پر کمزور طبقے کو اکیلا نہیں چھوڑیں گےاجلاس کو بتایا گیا کہ صوبائی حکومتوں کے ساتھ مل کر ممکنہ ریلیف سے استفادے کیلئے موٹرسائیکل اور رکشوں کے حامل افراد کی ملکیتی رجسٹریشن کو جلد از جلد مکمل کرنے کیلئے روابط مربوط کئے جار ہے ہیں.

    وزیرِ اعظم نے کہا کہ سرکاری اخراجات میں کمی، ترقیاتی بجٹ میں کٹوتی اور 60 فیصد سرکاری گاڑیوں کو فی الفور بند کیا موجودہ حالات میں قربانی کا سلسلہ حکومتی اخراجات میں کٹوتی سے شروع کیا. تیل کی قیمتوں میں اضافے کی تجاویز کو بارہا مسترد کرکے، بچت کے اقدمات سے حاصل شدہ رقم عوامی ریلیف کیلئے بروئے کار لائی گئی. ڈیجیٹل نظام کو بروئے کار لاتے ہوئے عوامی ریلیف کے اقدامات عام آدمی تک پہنچائیں گے. عالمی سطح پر بحران کے باوجود بروقت فیصلوں کی بدولت اللہ کے فضل و کرم سے ایندھن کی فراہمی میں کسی قسم کا تعطل نہیں آنے دیا گیا. پاکستان خطے میں امن کے حوالے سے سفارتی محاذ پر بھرپور کوششیں کر رہا ہے.

    اجلاس کو ایندھن کی بچت کیلئے حکومتی اقدامات پر عملدرآمد، آئندہ کے لائحہ عمل پر تجاویز اور موجودہ اسٹاک پر تفصیلی بریفنگ دی گئی. اجلاس کو وزیرِ اعظم کے ایندھن کی بچت کے اقدامات پر عملدرآمد اور سادگی مہم پر پیش رفت پر انٹیلیجینس بیورو کی آڈٹ رپورٹ بھی پیش کی گئی.

    اجلاس کو بتایا گیا کہ وزیرِ اعظم کی بچت و سادگی مہم پر عملدرآمد یقینی بنایا جارہا ہے. ملکی ضروریات کو پورا کرنے کیلئے ایندھن کے مناسب ذخائر موجود اور آئندہ کیلئے بھی انتظامات کئے جا رہے ہیں. اشرافیہ کی بڑی گاڑیوں میں استعمال ہونے والے ہائی آکٹین ایندھن پر لیوی میں اضافے سے جیٹ فیول کی قیمتو ں میں کسی قسم کی تبدیلی نہیں آئی. بریفنگ. وزیرِ اعظم کی بچت مہم کے اقدامات پر عملدرآمد یقینی بنایا جا رہا ہے ملکی ضروریات کو پورا کرنے کیلئے ادویا ت کا وافر ذخیرہ موجود ہے،اجلاس کو آئندہ کے لائحہ عمل کے حوالے سے تجاویز بھی پیش کی گئیں.

    اجلاس میں نائب وزیرِ اعظم و وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار، وفاقی وزراء محمد آصف، احسن اقبال، ڈاکٹر مصدق ملک، احد خان چیمہ، سید مصطفی کمال، محمد اورنگزیب، عطاء اللہ تارڑ، علی پرویز ملک، شزہ فاطمہ خواجہ، رانا مبشر اقبال، سردار اویس خان لغاری، مشیر وزیرِ اعظم رانا ثناء اللہ، وزیرِ مملکت بلال اظہر کیانی، معاونین خصوصی طارق فاطمی، طلحہ برکی، ارکان قومی اسمبلی انجینئیر قمر الاسلام، ریاض الحق، حافظ محمد نعمان اور متعلقہ اعلی حکام نے شرکت کی.

  • یورینیم نکالنے کیلئے  ٹرمپ کی  اپنے قریبی مشیروں کو ایران پر دباؤ ڈالنے کی ہدایت،وال اسٹریٹ جرنل

    یورینیم نکالنے کیلئے ٹرمپ کی اپنے قریبی مشیروں کو ایران پر دباؤ ڈالنے کی ہدایت،وال اسٹریٹ جرنل

    امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل کی ایک رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران سے افزودہ یورینیم نکالنے کے لیے ممکنہ فوجی آپریشن پر غور کر رہے ہیں۔

    اخبار کے مطابق امریکی حکام کا کہنا ہے کہ ایران سے تقریباً ایک ہزار پاؤنڈ یورینیم نکالنے کا یہ مشن نہایت پیچیدہ اور خطرناک ہو سکتا ہے، جس کے لیے امریکی فوج کو کئی دن تک ایران کے اندر موجود رہنا پڑ سکتا ہے تاہم صدر ٹرمپ نے ابھی تک اس آپریشن کا حتمی فیصلہ نہیں کیا، لیکن اسے ایک ممکنہ آپشن کے طور پر زیر غور رکھا گیا ہےصدر ٹرمپ نے اپنے قریبی مشیروں کو ہدایت دی ہے کہ وہ ایران پر دباؤ بڑھائیں تاکہ وہ جنگ کے خاتمے کی شرط کے طور پر یورینیم حوالے کرے ،اگر ایران مذاکرات کے دوران یورینیم حوالے کرنے پر آمادہ نہ ہوا تو طاقت کے استعمال کا امکان بھی موجود ہے،یورینیم پر قبضہ حاصل کرنے کے لیے محدود اور ہدفی فوجی کارروائی جنگ کے دورانیے کو زیادہ طویل نہیں کرے گی، تاہم اس کے خطرات اور نتائج انتہائی حساس ہو سکتے ہیں۔

    رپورٹ میں یہ بھی یاد دلایا گیا ہے کہ امریکا ماضی میں بھی ایسے حساس مشنز کر چکا ہے، جن میں 1994 میں قزاقستان اور 1998 میں جارجیا سے یورینیم منتقل کرنے کے آپریشنز شامل ہیں تجزیہ کاروں کے مطابق اگر اس نوعیت کا کوئی آپریشن کیا گیا تو اس کے خطے کی سکیورٹی صورتحال اور عالمی سیاست پر گہرے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

    دوسری جانب وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ پینٹاگون کا کام صدر کو مختلف آپشنز فراہم کرنا ہے اور مختلف آپشنز کی موجودگی کا مطلب یہ نہیں کہ کوئی حتمی فیصلہ کر لیا گیا ہے اس معاملے پر پینٹاگون اور سینٹرل کمانڈ کے ترجمانوں نے فی الحال کوئی تبصرہ نہیں کیا۔

  • ٹرمپ کے مذاکرات جنگ کا اشارہ ہیں،ایران

    ٹرمپ کے مذاکرات جنگ کا اشارہ ہیں،ایران

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ممکنہ امن مذاکرات کے دعوؤں پر ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ جب بھی امریکی صدر قریب الوقوع امن کی بات کرتے ہیں، تو اس کا مطلب درحقیقت جنگ کے مزید قریب ہونے سے لیا جاتا ہے۔

    الجزیرہ کے مطابق ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ اگرچہ لڑائی پہلے ہی جاری ہے، تاہم ٹرمپ کی جانب سے ایران کو معقول قرار دینے اور مذاکرات کے قریب ہونے کے بیانات کے بعد انہیں خدشہ ہے کہ جنگ مزید شدت اختیار کر سکتی ہے، یہ امریکی پالیسی، خصوصاً ٹرمپ کے دور میں، ایک مخصوص طرزِ عمل کی عکاسی کرتی ہے۔

    ایرانی حکام اس وقت اسلام آباد میں ہونے والی سرگرمیوں کے بجائے ممکنہ زمینی حملے کے خدشے پر زیادہ توجہ مرکوز کیے ہوئے ہیں، ان کے بیانات کا مرکز بھی زیادہ تر ایران کی دفاعی تیاریوں اور زمینی جنگ کے لیے آمادگی پر ہے، کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ امن معاہدے کے بجائے یہی صورتحال زیادہ متوقع ہے۔

    ایران کی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے امریکا کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر امریکی افواج نے زمینی کارروائی کی تو یہ ایک طویل اور پیچیدہ جنگ میں بدل جائے گی،صورتحال ٹرمپ کے لیے بدترین ثابت ہو سکتی ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب وسط مدتی انتخابات قریب ہیں اور جنگ پہلے ہی امریکی عوام میں غیر مقبول ہو چکی ہے۔ مزید یہ کہ امریکی کانگریس نے بھی تاحال اس جنگ کی باقاعدہ منظوری نہیں دی۔

    ایرانی حکام اس صورتحال سے بخوبی آگاہ ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ اگر امریکی افواج ایران میں داخل ہوئیں تو یہ ایک براہِ راست اور برابر کی لڑائی ہوگی ایران کے پاس لاکھوں کی تعداد میں فوجی اہلکار اور بڑی تعداد میں بسیج نیم فوجی فورس موجود ہے، جو ملک کے دفاع کے لیے تیار ہیں، ایسی کسی بھی زمینی جنگ کی صورت میں امریکی فوج کو بھاری جانی نقصان اٹھانا پڑ سکتا ہے، جو نہ صرف جنگ کو طول دے گا بلکہ اسے امریکی قیادت، خصوصاً ٹرمپ کے لیے سیا سی طور پر نقصان دہ بھی بنا دے گا۔

  • اسحاق ڈار غیر ملکی مہمان کے استقبال میں گر کر زخمی، کندھے میں فریکچر

    اسحاق ڈار غیر ملکی مہمان کے استقبال میں گر کر زخمی، کندھے میں فریکچر

    اسحاق ڈار مصری وزیر خارجہ بدر عبدالعاطی کے استقبال کے دوران پھسل کر گر گئے تھے، جس کے نتیجے میں ان کے کندھے پر چوٹ آئی۔

    اسلام آباد میں ایک اہم سفارتی تقریب کے دوران نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار گر کر زخمی ہو گئے، تاہم انہوں نے تکلیف کے باوجود دن بھر کی تمام سرکاری ذمہ داریاں جاری رکھیں،نائب وزیر اعظم کے صاحبزادے علی ڈار نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ’ایکس‘ پر جاری بیان میں بتایا کہ چوٹ کے باوجود اسحاق ڈار نے پورا دن درد کش ادویات لے کر اہم سفارتی ملاقاتیں مکمل کیں۔

    علی ڈار کے مطابق رات تقریباً 9 بجے سرکاری بیان کی ریکارڈنگ کے بعد اہل خانہ کے اصرار پر ان کا طبی معائنہ کروایا گیا، جس میں ایکس رے مجموعی طور پر تسلی بخش قرار دیے گئے، تاہم کندھے میں ہئیر لائن فریکچر کی تصدیق ہوئی ہے آئندہ چند روز تک درد کو ادویات اور احتیاطی تدابیر کے ذریعے کنٹرول کی جائے گا انہوں نے عوام کی جانب سے موصول ہونے والی دعاؤں اور نیک تمناؤں پر شکریہ بھی ادا کیا۔