Baaghi TV

Author: Ayesha Rehmani

  • سونے کی قیمتوں میں ہزاروں روپے کا  اضافہ

    سونے کی قیمتوں میں ہزاروں روپے کا اضافہ

    ملک بھر میں سونے کی قیمتوں میں ہزاروں روپے کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔

    فی تولہ سونے کی قیمت میں 7 ہزار 500 روپے کا اضافہ ہوا ہے، جس کے بعد فی تولہ سونا 4 لاکھ 89 ہزار 362 روپے کی سطح پر پہنچ گیا ہےاسی طرح 10 گرام سونے کی قیمت میں 6 ہزار 431 روپے اضافہ ہوا، جس کے بعد 10 گرام سونے کی نئی قیمت 4 لاکھ 19 ہزار 549 روپے مقرر کی گئی ہے۔جبکہ بین الاقوامی بلین مارکیٹ میں فی اونس سونے کی قیمت 75ڈالر کے بڑے اضافے سے 4ہزار 670ڈالر کی نئی بلند سطح پر آگئی۔

    دوسری جانب فی تولہ چاندی کی قیمت 300 روپے کے اضافے سے 9ہزار 782 روپے کی نئی بلند سطح پر آگئی جبکہ فی دس گرام چاندی کی قیمت 257روپے کے اضافے سے 8ہزار 386روپے کی سطح پر آگئی۔

    ایران میں قیادت کی تبدیلی کے لیے امریکا کی جانب سے منڈلاتے ہوئے جنگ کے بادل، امریکی فیڈرل ریزرو کی شرح سود میں مزید کمی کی بازگشت اور جیو پولیٹیکل حالات سے عالمی و مقامی سطح پر سونے اور چاندی کی قیمتیں وقفے وقفے سے تاریخ کی نئی بلندیوں کو چھو رہی ہیں۔

    سال 2026 کی سرکاری تعطیلات کا اعلان کر دیاگیا

    ماہرین کے مطابق عالمی مارکیٹ میں سونے کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ، ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں کمی اور معاشی غیر یقینی صورتحال کے باعث مقامی سطح پر سونے کی قیمتوں میں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے، تاجروں کا کہنا ہے کہ اگر عالمی رجحان یہی رہا تو آنے والے دنوں میں سونے کی قیمتوں میں مزید اضافہ بھی ہو سکتا ہے۔

    سعودی شہزادہ بندر بن عبداللہ آل سعود انتقال کرگئے

  • سال 2026 کی سرکاری تعطیلات کا اعلان کر دیاگیا

    سال 2026 کی سرکاری تعطیلات کا اعلان کر دیاگیا

    وفاقی حکومت نے سال 2026 کی سرکاری تعطیلات کا اعلان کر دیا ہے۔

    کابینہ ڈویژن نے سال 2026 کی تعطیلات کا باضابطہ نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے، نوٹیفکیشن کے مطابق کشمیر ڈے 5 فروری، پاکستان ڈے 23 مارچ کو سرکاری تعطیل ہوگی،عیدالفطر کے لیے 21، 22 اور 23 مارچ 2026 کو عام تعطیل ہوگی، یومِ مزدور یکم مئی کو منایا جائے گا جبکہ یومِ تکبیر کی مناسبت سے 28 مئی کو تعطیل ہوگی۔

    کابینہ ڈویژن کے نوٹیفکیشن کے مطابق عیدالاضحیٰ کے لئے عام تعطیل 27، 28 اور 29 مئی 2026 کو ہوگی،یومِ آزادی 14 اگست اور عید میلادالنبی ﷺ کے سلسلے میں 25 اگست کو تعطیل دی جائے گی، علامہ اقبال ڈے 9 نومبر، قائداعظم ڈے اور کرسمس کے موقع پر 25 دسمبر کو عام تعطیل ہوگی۔

    سانحہ گل پلازہ،جس کی غلطی ہوئی،سزائیں ہوں گی،وزیراعلیٰ سندھ

    سعودی شہزادہ بندر بن عبداللہ آل سعود انتقال کرگئے

    جنید صفدر کی شادی، دلہن کے ملبوسات پر سوشل میڈیا پر بحث چھڑ گئی

  • سعودی شہزادہ بندر بن عبداللہ آل سعود انتقال کرگئے

    سعودی شہزادہ بندر بن عبداللہ آل سعود انتقال کرگئے

    سعودی عرب کے ایوانِ شاہی نے شہزادہ بندر بن عبداللہ آل عبدالرحمن آل سعود کے انتقال کی تصدیق کر دی ہے۔

    سعودی خبر رساں ادارے کے مطابق شہزادہ بندر بن عبداللہ آل سعود گزشتہ روز انتقال کرگئےایوان شاہی کے بیان کے مطابق مرحوم کی نمازِ جنازہ بعد از نمازِ عصر ریاض کی جامع مسجد امام ترکی بن عبداللہ میں ادا کی گئی نمازِ جنازہ میں گورنر ریاض فیصل بن بندر بن عبدالعزیز، دیگر شہزادوں، اعلیٰ حکام اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی اہم شخصیات نے شرکت کی،ایوان شاہی کی جانب سے مرحوم شہزادے کے لیے رحمت، مغفرت اور بلند درجات کی دعا کی گئی ہے۔

    واضح رہے کہ اس سے قبل گزشتہ ماہ بھی سعودی عرب کے ایک اور شہزادے، عبد اللہ بن فہد بن عبد اللہ بن عبد العزیز بیرونِ ملک انتقال کرگئے تھے,ایوان شاہی کے مطابق ان کی نمازِ جنازہ بھی ریاض کی جامع امام ترکی بن عبد اللہ میں بعد از نمازِ عصر ادا کی گئی تھی۔

    سانحہ گل پلازہ،جس کی غلطی ہوئی،سزائیں ہوں گی،وزیراعلیٰ سندھ

    سانحہ گل پلازہ،50 سے زائد اموات کا خدشہ،وزیراعلیٰ کا پلازہ کی تعمیر نوکا اعلان

    جنید صفدر کی شادی، دلہن کے ملبوسات پر سوشل میڈیا پر بحث چھڑ گئی

  • ٹرمپ نے ایران پر حملہ اسرائیل کے راکٹس ختم ہونے کی وجہ سے روکا،امریکی میڈیا

    ٹرمپ نے ایران پر حملہ اسرائیل کے راکٹس ختم ہونے کی وجہ سے روکا،امریکی میڈیا

    امریکی میڈیا نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران پر حملہ اسرائیل کے راکٹس ختم ہونے کی وجہ سے روکا۔

    امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ کی رپورٹ کے مطابق گزشتہ بدھ 14 جنوری کی صبح مشرقِ وسطیٰ اور واشنگٹن میں یہ تاثر مضبوط ہو چکا تھا کہ صدر ٹرمپ ایران کے خلاف سخت فضائی حملوں کی منظوری دینے والے ہیں یہ حملہ امریکی فوجی طاقت کے دوسرے بڑے استعمال کے طور پر دیکھا جا رہا تھا، اس سے قبل امریکا کی خصوصی ڈیلٹا فورسز نے وینزویلا میں جرات مندانہ کارروائی کرتے ہوئے صدر نکولس مادورو اور ان کی اہلیہ کو گرفتار کیا تھا۔

    اگرچہ صدر ٹرمپ نے باضابطہ طور پر حملوں کا حکم نہیں دیا تھا، تاہم ان کے اعلیٰ سیکیورٹی مشیروں کو توقع تھی کہ وہ پیش کیے گئے فوجی آپشنز میں سے کسی ایک کی جلد منظوری دے دیں گے، جس کے باعث رات گئے تک سرگرمیوں کے لیے تیاری کی جا رہی تھی۔

    امریکی افواج کا انخلا، عراق نے اپنے اہم فضائی اڈے کا کنٹرول سنبھال لیا

    اسی دوران پینٹاگون نے اعلان کیا کہ گائیڈڈ میزائل ڈسٹرائر یو ایس ایس روزویلٹ خلیج فارس میں داخل ہو چکا ہے معاملے سے واقف ایک شخص کے مطابق امریکی اتحادیوں کو ممکنہ حملے سے آگاہ کر دیا گیا تھا، جبکہ بحری جہاز اور طیارے حرکت میں آ چکے تھ قطر میں واقع وسیع امریکی فضائی اڈے العدید پر موجود عملے کو ممکنہ ایرانی جوابی کارروائی کے خدشے کے پیش نظر انخلا کا مشورہ دیا گیا تھا۔

    واشنگٹن پوسٹ کے مطابق صدر ٹرمپ نے منگل کی صبح سوشل میڈیا پر ایرانی مظاہرین کو مخاطب کرتے ہوئے لکھا تھا کہ مدد راستے میں ہے اور انہیں ریاستی اداروں پر قبضہ کرنے کی ترغیب دی تھی۔ متعدد امریکی اور غیر ملکی حکام نے اس بیان کو فوجی مداخلت کا اشارہ سمجھا، تاہم صدر ٹرمپ ایران پر دباؤ ڈالنے کے دیگر راستوں پر بھی غور کر رہے تھے تاکہ مظاہرین کے قتل کو روکا جا سکے۔

    
انڈونیشیا میں 11 افراد کو لے جانے والے لاپتا طیارے کا ملبہ برآمد

    بدھ کو صدر ٹرمپ کو خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف کے ذریعے اطلاع ملی کہ ایرانی حکومت نے 800 افراد کی مجوزہ پھانسیوں کو منسوخ کر دیا ہےایک سینئر امریکی عہدیدار کے مطابق صدر ٹرمپ نے اوول آفس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا ہم دیکھیں گے اور انتظار کریں گے بعد ازاں جمعرات کو امریکی انٹیلی جنس نے تصدیق کی کہ پھانسیاں عمل میں نہیں آئیں۔

    رپورٹ میں کہا گیا کہ صدر ٹرمپ کے اس اچانک فیصلے نے ان کے کئی مشیروں کو حیران اور ایران مخالف عناصر کو مایوس کیا تھا درجن سے زائد موجودہ اور سابق امریکی و مشرقِ وسطیٰ کے عہدیداروں کے مطابق یہ فیصلہ اندرونی اور بیرونی دباؤ، سفارتی رابطوں اور فوجی تیاریوں کے تناظر میں کیا گیاجبکہ حکام کا کہنا تھا کہ صدر ٹرمپ کو اس حقیقت کا سامنا کرنا پڑا کہ ایک اور مشرقِ وسطیٰ کے ملک کو غیر مستحکم کرنا غیر متوقع نتائج کا باعث بن سکتا ہے، جبکہ امریکی فوجی طا قت کی بھی حدود ہیں۔

    بلاول بھٹو زرداری: وراثت سے ریاستی وژن تک،تجزیہ شہزاد قریشی

    امریکی اخبارمیں لکھا گیا کہ پینٹاگون کے عہدیداروں کو تشویش تھی کہ صدر کے حکم پر کیریبین میں طیارہ بردار بحری بیڑا بھیجنے کے باعث مشرقِ وسطیٰ میں امریکی فائر پاور مطلوبہ حد سے کم ہو چکی ہے، جو ممکنہ بڑے ایرانی جوابی حملے کے لیے ناکافی ہو سکتی ہے۔

    امریکی اخبار کے مطابق ایک موجودہ اور ایک سابق امریکی عہدیدار کے مطابق اس بات پر اسرائیل نے بھی تشویش کا اظہار کیا تھا کیونکہ جون میں ہونے والی 12 روزہ جنگ کے دوران ایران کی جانب سے داغے گئے میزائلوں کو روکنے کے لیے اسرائیل نے بڑی تعداد میں انٹرسیپٹر راکٹ استعمال کیے تھے جبکہ سعودی عرب، قطر اور مصر سمیت اہم امریکی اتحادیوں نے وائٹ ہاؤس سے رابطہ کر کے تحمل اور سفارت کاری پر زور دیا تھا۔

    امریکی اخبار کے مطابق متعدد حکام کا کہنا تھا صدر ٹرمپ نے یہ بھی محسوس کیا تھا کہ ایران پر حملے ایک بار کی کارروائی نہیں ہوں گے بلکہ اس کے نتیجے میں معاشی بحران، وسیع جنگ اور مشرقِ وسطیٰ میں تعینات 30 ہزار امریکی فوجیوں کے لیے خطرات بڑھ سکتے ہیں ایک سینئر یورپی عہدیدار کا کہنا تھا کہ ایرانی حکومت اس مرحلے پر بڑے خطرے سے بچ گئی ہے، تاہم سڑکوں پر نکلنے والے ایرانی مظاہرین صدر ٹرمپ کے پیچھے ہٹنے پر خود کو دھوکا کھایا ہوا محسوس کر رہے ہیں۔

    ناقص ڈیوٹی روسٹر منصوبہ بندی،انڈیگو پر ریکارڈ جرمانہ عائد

    امریکی اخبار کے مطابق اگرچہ حملے مؤخر کر دیے گئے ہیں، تاہم صدر ٹرمپ اور ان کے مشیر تمام آپشنز کھلے رکھے ہوئے ہیں یو ایس ایس ابراہم لنکن طیارہ بردار بحری بیڑا مشرقِ وسطیٰ کی جانب روانہ کر دیا گیا ہے، جو اس وقت بحیرہ جنوبی چین میں موجود ہے اور ایک ہفتے سے زائد وقت میں خطے میں پہنچے گا خطے کے عرب ممالک نے متفقہ طور پر واشنگٹن کو پیغام دیا تھا کہ فوجی کارروائی سے گریز کیا جائے، کیونکہ اس کے اثرات پورے خطے کی سلامتی اور معیشت پر پڑ سکتے ہیں اسرائیل نے بھی اپنی دفاعی تیاریوں کے حوالے سے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے امریکا سے حملے مؤخر کرنے کی درخواست کی تھی،آئندہ دو سے تین ہفتوں میں صدر ٹرمپ کو ایران کے خلاف کارروائی کی دوبارہ منظوری کا موقع مل سکتا ہے۔

  • امریکی افواج کا انخلا، عراق نے اپنے اہم فضائی اڈے کا کنٹرول سنبھال لیا

    امریکی افواج کا انخلا، عراق نے اپنے اہم فضائی اڈے کا کنٹرول سنبھال لیا

    عراق کی وزارتِ دفاع نے اعلان کیا ہے کہ امریکی افواج نے مغربی عراق میں واقع عین الاسد ایئر بیس سے مکمل طور پر انخلا کر لیا ہے، جس کے بعد عراقی فوج نے اس اہم فضائی اڈے کا مکمل کنٹرول سنبھال لیا ہے۔

    وزارتِ دفاع کے مطابق عین الاسد ایئربیس کا مکمل کنٹرول عراقی فوج نے سنبھال لیا ہے یہ اڈہ طویل عرصے سے امریکا کی قیادت میں قائم اتحاد کی افواج کے زیرِ استعمال تھا، تاہم اب تمام عسکری اور انتظامی اختیارات عراقی فورسز کے پاس منتقل ہو چکے ہیں، یہ پیش رفت عراق کی خودمختاری اور سکیورٹی کنٹرول کے عمل کا حصہ ہے یاد رہے کہ 2024 میں واشنگٹن اور بغداد کے درمیان ایک مفاہمت طے پائی تھی ،اب امریکی افواج اپنی توجہ شام میں موجود داعش کے باقی ماندہ عناصر کے خلاف کارروائیوں پر مرکوز کریں گی۔

    عراق کے جوائنٹ آپریشنز کمانڈ کے نائب سربراہ قیس المحمداوی پہلے ہی واضح کر چکے تھے کہ حکومت کی اہم ترجیح ملک سے بین الاقوامی اتحاد کی موجودگی ختم کرنا اور دو طرفہ سکیورٹی معاہدوں کی طرف بڑھنا ہے وزیراعظم محمد شیاع السودانی نے ستمبر میں کہا تھا کہ اب 86 ممالک کی افواج کی عراق میں موجودگی کی ضرورت باقی نہیں رہی کیونکہ اتحاد کے قیام کا مقصد ختم ہو چکا ہے۔

    واضح رہے کہ 2024 میں واشنگٹن اور بغداد کے درمیان امریکی قیادت میں کام کرنے والے اتحاد کے تدریجی انخلا اور دو طرفہ دفاعی تعلقات کے قیام پر مفاہمت ہو چکی تھی ابتدائی منصوبے کے مطابق سیکڑوں فوجیوں نے ستمبر 2025 تک واپس جانا تھا جبکہ مکمل انخلا 2026 کے آخر تک ہونا تھا، تاہم تازہ پیش رفت کے بعد عمل تیز دکھائی دیتا ہے۔

    عین الاسد ایئربیس کئی برسوں سے امریکی اور اتحادی افواج کا اہم مرکز رہی ہے اور اسے ماضی میں ایران نواز مسلح گروہوں کی جانب سے متعدد حملوں کا سامنا بھی رہا، خاص طور پر 2020 میں ایرانی جنرل قاسم سلیمانی کی ہلاکت کے بعد کشیدگی کے دوران۔

    ایک عراقی فوجی کرنل نے بھی تصدیق کی کہ امریکی افواج نے بیس چھوڑ دی ہے، تاہم چند اہلکار لاجسٹک معاملات کی وجہ سے عارضی طور پر موجود ہیں، عراق میں داعش کو 2017 میں شکست دی جا چکی ہے لیکن عراقی فورسز اب بھی اس کے باقی ماندہ عناصر کے خلاف کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔

  • بلاول بھٹو زرداری: وراثت سے ریاستی وژن تک،تجزیہ   شہزاد قریشی

    بلاول بھٹو زرداری: وراثت سے ریاستی وژن تک،تجزیہ شہزاد قریشی

    بلاول بھٹو زرداری: وراثت سے ریاستی وژن تک

    تجزیہ شہزاد قریشی

    ذوالفقار علی بھٹو شہید اور محترمہ بینظیر بھٹو شہید پاکستان کی سیاست کے وہ نام ہیں جنہوں نے صرف اقتدار نہیں کیا بلکہ ایک سیاسی سوچ، ایک نظریہ اور ایک سمت دی۔ ذوالفقار علی بھٹو کو بجا طور پر عالمی سطح کا رہنما اس لیے کہا جاتا ہے کہ انہوں نے قومی خودمختاری، عوامی وقار اور خارجہ پالیسی میں خودداری کو ترجیح دی، جبکہ محترمہ بینظیر بھٹو نے آمریت کے مقابل جمہوریت کو ایک عالمی آواز دی آج بلاول بھٹو زرداری انہی دو فکری روایتوں کے وارث ہیں، مگر اصل سوال یہ ہے کہ وہ اس وراثت کو مستقبل کے پاکستان کے لیے کس وژن میں ڈھالتے ہیں۔ پاکستان اس وقت معاشی کمزوری، ادارہ جاتی عدم توازن، سماجی ناانصافی، اور عوام کا نظام سے اعتماد اٹھ جانا ایسے مسائل ہیں جن کا حل وقتی نعروں سے ممکن نہیں۔ بلاول بھٹو کے لیے یہ موقع بھی ہے اور امتحان بھی کہ وہ خود کو صرف ایک جماعتی لیڈر نہیں بلکہ ریاستی سطح کے سیاستدان کے طور پر پیش کریں۔

    پیپلز پارٹی کا بنیادی نظریہ ہمیشہ ریاست اور عوام کے درمیان ایک مضبوط سماجی معاہدے پر مبنی رہا ہے۔ آج اس معاہدے کو نئے سرے سے ترتیب دینے کی ضرورت ہے، جہاں ریاست شہری کو تعلیم، صحت اور انصاف فراہم کرے اور شہری ریاست پر اعتماد بحال کرے۔ بلاول بھٹو اگر اس سماجی معاہدے کو اپنی سیاست کی بنیاد بنا لیں تو وہ بھٹو ازم کو محض ماضی کی یاد نہیں بلکہ مستقبل کی ضرورت بنا سکتے ہیں۔ سیاسی وژن کا تقاضا یہ بھی ہے کہ معیشت کو محض اعداد و شمار کے بجائے انسانی ترقی سے جوڑا جائے۔ روزگار پر مبنی معیشت، زرعی اصلاحات، مقامی صنعت کی سرپرستی اور کمزور طبقات کے لیے سماجی تحفظ—یہ وہ نکات ہیں جو بلاول بھٹو کو دیگر سیاستدانوں سے ممتاز کر سکتے ہیں۔ ایک واضح معاشی بیانیہ ہی عوام کے اعتماد کو بحال کر سکتا ہے۔

    خارجہ پالیسی کے میدان میں بھی بلاول بھٹو کے پاس یہ موقع ہے کہ وہ ذوالفقار علی بھٹو کی خوددار اور فعال سفارت کاری کو جدید تقاضوں کے مطابق آگے بڑھائیں۔ عالمی طاقتوں سے برابری کی بنیاد پر بات چیت اور کشمیر و فلسطین جیسے اصولی مؤقف یہ سب ایک قومی لیڈر کے وژن کا حصہ ہوتے ہیں۔ آخر میں سوال یہی ہے کہ کیا بلاول بھٹو زرداری سیاست کو صرف اقتدار کی جنگ سمجھتے ہیں یا ریاست کی تعمیر کا عمل؟ اگر وہ وژن، اصول اور عوامی وابستگی کو اپنا راستہ بناتے ہیں تو وہ صرف ایک بڑے نام کے وارث نہیں بلکہ پاکستان کے مستقبل کی سیاست کا ایک سنجیدہ حوالہ بن سکتے ہیں۔ قوم آج بھی ایک ایسے سیاسی وژن کی منتظر ہے جو ماضی کی عظمت سے سبق لے کر مستقبل کی سمت متعین کرے—اور یہ موقع بلاول بھٹو کے سامنے ہے۔

  • رواں مالی سال کی پہلی ششماہی: ملکی برآمدات میں نمایاں کمی ریکارڈ

    رواں مالی سال کی پہلی ششماہی: ملکی برآمدات میں نمایاں کمی ریکارڈ

    کراچی: رواں مالی سال کی پہلی ششماہی کے دوران ملکی برآمدات میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی جس سے ملکی تجارت اور معیشت کو بڑا دھچکا پہنچا۔

    سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ملک کے مختلف شعبوں کی برآمدات میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے غذائی اجناس کی برآمدات میں 40.29 فیصد کمی ہوئی، جس کا حجم 2 ارب 36 کروڑ ڈالرز تک رہ گیا گزشتہ مالی سال کی پہلی ششماہی میں غذائی اجناس کی برآمدات تقریباً 4 ارب ڈالرز تھیں اسی طرح چاول کی برآمدات میں 49.90 فیصد کمی، سبزیوں کی برآمدات میں 36.80 فیصد کمی، مقامی خشک میوہ جات کی برآمدات میں 63.78 فیصد کمی اور پلاسٹک کے سامان کی برآمدات میں 43.66 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔

    فارماسوٹیکل مصنوعات کی برآمدات میں 28.67 فیصد کمی جبکہ ٹرانسپورٹ کے سامان کی برآمدات میں 36.51 فیصد کمی دیکھی گئی اس کے برعکس ٹیکسٹائل شعبہ اپنی برآمدات میں معمولی اضافہ برقرار رکھنے میں کامیاب رہا اور اس دوران ٹیکسٹائل برآمدات کا حجم 9 ارب 16 کروڑ ڈالرز تک پہنچ گی تاہم مجموعی برآمدات میں کمی کے باعث معیشت پر دباؤ برقرار ہے۔

    ماہرین کے مطابق برآمدات میں کمی کی بنیادی وجوہات عالمی طلب میں کمی، برآمدی لاگت میں اضافہ، لاجسٹک اور مارکیٹ رسائی کے مسائل، اور عالمی منڈیوں میں مسابقتی دباؤ ہیں،ماہرین نے اس رجحان کو تشویشناک قرار دیتے ہوئے حکومتی سطح پر فوری اقدامات کی ضرورت پر زور دیا۔

  • انٹارکٹیکا کے نیچے چھپے راز سامنے آ گئے

    انٹارکٹیکا کے نیچے چھپے راز سامنے آ گئے

    سائنسدان یہ جاننے میں کامیاب ہو گئے ہیں کہ انٹارکٹیکا کی سرزمین میں برف کی موٹی تہوں کے نیچے کون سے حیران کن راز پوشیدہ ہیں۔

    ماہرین نے برف سے ڈھکے اس براعظم سے متعلق ایسی غیر معمولی تفصیلات پیش کی ہیں جن کی ماضی میں کوئی مثال نہیں ملتی انٹارکٹیکا میں جمی ہوئی کئی کلومیٹر موٹی برف اب تک سائنس دانوں کے لیے اس کی اصل زمینی ساخت کو جاننے میں سب سے بڑی رکاوٹ بنی رہی تاہم جدید نقشہ سازی کی انتہائی اعلیٰ تکنیک کے استعمال سے یہ مشکل بڑی حد تک حل کر لی گئی ہے۔

    تحقیق میں سیٹلائٹ ڈیٹا، جدید ریڈار سسٹمز اور انٹارکٹیکا میں گلیشیئرز کے سرکنے کی طبیعیات کو استعمال کیا گیا ہے تحقیق کے نتائج کے مطابق انٹارکٹیکا کی برف کے نیچے ہزاروں بلند و بالا چوٹیاں، وسیع و عریض وادیاں اور گہری، تنگ گھاٹیاں دفن ہیں انکشاف ہونے والی یہ جغرافیائی ساخت بڑے پہاڑی سلسلوں، پیچیدہ زمینی نشیب و فراز اور وسیع وادیوں پر مشتمل ہے جو اس خطے سے متعلق اب تک کی سب سے حیران کن اور جامع دریافت سمجھی جا رہی ہے۔

    سائنسدانوں کے مطابق یہ معلومات نہ صرف انٹارکٹیکا کی جغرافیائی تاریخ کو سمجھنے میں مدد فراہم کریں گی بلکہ مستقبل میں برفانی چادروں کے پگھلاؤ اور عالمی سطح سمندر میں ممکنہ اضافے کی پیشگوئی کے لیے بھی انتہائی اہم ثابت ہوں گی۔

  • ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ ، بنگلا دیش نے پاکستان سے رابطہ کر لیا

    ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ ، بنگلا دیش نے پاکستان سے رابطہ کر لیا

    بنگلا دیشی حکومت نے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے معاملے پر پاکستان حکومت سے رابطہ کیا ہے۔

    وفاقی حکومت کے ذرائع کے مطابق اگر بنگلا دیش کا ایشو حل نہ کیا گیا تو پاکستان ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں شرکت کے فیصلے کا جائزہ لے گاپاکستان نے موقف اختیار کیا ہے کہ انڈیا کو کسی ملک کو ڈرانے دھمکانے کی اجازت نہیں دی جا سکتی، بنگلا دیش کی معقول اور درست وجوہات ہیں اور ان پر عمل درآمد ہونا چاہیے پاکستان نے بنگلا دیش کو اس معاملے پر مکمل اسپورٹ کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے-

    واضح رہے کہ بنگلا دیش کرکٹ بورڈ نے آئی سی سی سے سیکیورٹی خدشات کے باعث بھارت سے میچز منتقل کرنے کی درخواست کر رکھی ہے۔

    بھارت:منی پور میں اغوا اور اجتماعی زیادتی کی شکار خاتون انتقال کر گئی

    گل پلازہ آتشزدگی:عوام اور متاثرہ خاندانوں کیلئے ہیلپ لائنز قائم

    امریکی جریدے نے مودی حکومت کے شائننگ انڈیا دعوے بےنقاب کر دیئے

  • بھارت:منی پور میں اغوا اور اجتماعی زیادتی کی شکار خاتون انتقال کر گئی

    بھارت:منی پور میں اغوا اور اجتماعی زیادتی کی شکار خاتون انتقال کر گئی

    منی پور کی کُکی برادری کی ایک 20 سالہ خاتون، جو 2 سال قبل نسلی جھڑپوں کے دوران اغوا اور اجتماعی زیادتی کا شکار ہوئی تھی، شدید صدمے اور جسمانی ز خمیو ں کے باعث جاں بحق ہو گئی-

    میڈیا رپورٹ کے مطابق منی پور کی یہ خاتون مئی 2023 میں مییتی اور کُکی برادری کے درمیان ہونے والی نسلی جھڑپوں کے دوران اغوا ہوئی تھی جولائی 2023 میں بھارتی ٹی وی سے گفتگو میں خاتون نے بتایا کہ اسے سفید بولیرو میں اغوا کیا گیا اور پھر 3 افراد نے باری باری زیادتی کی اس دوران اس نے شدید جسمانی اور نفسیاتی صدمہ برداشت کیا صبح کے وقت اسے موقع ملا اور وہ بینڈ فولڈ ہٹاکر فرار ہونے میں کامیاب ہوئی۔

    میڈیا رپورٹ کے مطابق خاتون شدید زخمی ہونے، نفسیاتی صدمے اور رحم کے مسائل کے باوجود زندہ بچ گئی تھی، مگر علاج کے باوجود اس کی صحت بگڑ گئی اور 10 جنوری 2026 کو اس نے دم توڑ دیا اس کی والدہ نے بتایا کہ بیٹی سانس لینے میں مشکلات کا شکار تھی اور اس نے اپنی مسکراہٹ اور زندگی کی چمک کھو دی تھی۔

    خاتون نے اپنی پہلی پولیس رپورٹ میں الزام لگایا کہ اغوا کرنے والے 4 افراد میں سے 3 نے اسے ہراساں اور زیادتی کا نشانہ بنایا، جبکہ کُکی تنظیموں نے الزام لگایا کہ بعض ’میرا پائی بی‘ افراد نے اسے مییتی افراد کے حوالے کیا یہ واقعہ منی پور میں جاری نسلی کشیدگی اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی ناکامی کی ایک تلخ یاد دہانی ہے، اور اس کا اثر متاثرہ خاندانوں اور کمیونٹی پر آج بھی محسوس کیا جا رہا ہے۔