Baaghi TV

Author: Ayesha Rehmani

  • میونسپل کمشنر کراچی کو بیرون ملک سفر سے روک دیا گیا، پرواز سے آف لوڈ

    میونسپل کمشنر کراچی کو بیرون ملک سفر سے روک دیا گیا، پرواز سے آف لوڈ

    کراچی:وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف آئی اے) امیگریشن نےاسٹاپ لسٹ میں نام شامل ہونے کے سبب میونسپل کمشنر کراچی افضل زیدی کو بیرون ملک سفر سے روک دیا اور ترکیہ جانے والی پرواز سے آف لوڈ کردیا گیا۔

    ذرائع کے مطابق میونسپل کمشنر افضل زیدی گزشتہ شب ترکش ائیرلائن کی پرواز کے ذریعےکراچی سے استنبول جا رہے تھے، تاہم امیگریشن کاونٹر عملے نے اسٹاپ لسٹ میں نام شامل ہونے کی وجہ سے انہیں بیرون ملک سفر کرنے کی اجازت نہیں دی اور انہیں ترکیہ جانے والی پرواز سےآف لوڈ کردیاگیا۔

    ذرائع نے بتایا کہ امیگریشن حکام کی جانب سےانہیں کہا گیا کہ فہرست میں نام شامل ہونے کے سبب فضائی سفر نہیں کرسکتے، پہلے اسٹاپ لسٹ سےنام نکلوائیں یا عدالت سے اجازت لےکر آئیں پھر بیرون ملک سفر کر سکتے ہیں مختلف الزامات کے سبب درجنوں افسران کو خصوصی واچ لسٹ میں شامل کیا گیا ہے۔

  • امریکی ماہرین 2026 میں بین الاقوامی امن و استحکام کیلئے بڑھتے ہوئے خطرات سے پریشان

    امریکی ماہرین 2026 میں بین الاقوامی امن و استحکام کیلئے بڑھتے ہوئے خطرات سے پریشان

    دنیا مزید پرتشدد اور بے ترتیبی کی طرف بڑھ رہی ہے کونسل آن فارن ریلیشن(CFR) کے سالانہ تنازعات کے خطرے کے جائزے کے مطابق، امریکی خارجہ پالیسی کے ماہرین امریکی قومی سلامتی اور بین الاقوامی استحکام کے لیے تنازعات سے متعلق خطرات کے بارے میں سخت فکر مند ہیں جو 2026 میں ابھرنے یا شدت اختیار کر سکتے ہیں۔

    مذکورہ رپورٹ میں، سروے شدہ ماہرین عالمی تنازعات کو ان کے امکانات اور امریکی مفادات کو پہنچنے والے ممکنہ نقصان کے لحاظ سے درجہ بندی کرتے ہیں اور، پہلی بار، روک تھام کے مواقع کی نشاندہی کرتے ہیں۔

    گزشتہ اٹھارہ سالوں سے، سینٹر فار پریوینٹیو ایکشن (CPA) نے امریکی خارجہ پالیسی کے ماہرین کا سروے کیا ہے تاکہ دنیا بھر میں مسلح تصادم کے جاری اور ابھرتے ہوئے ذرائع سے امریکی قومی مفادات کو لاحق خطرات کا اندازہ لگایا جا سکے۔

    امریکی ماہرین 2026 میں بین الاقوامی امن و استحکام کے لیے بڑھتے ہوئے خطرات سے پریشان ہیں وہ اس بات پر فکر مند ہیں کہ کئی علاقوں میں نئے تنازعات شروع ہو سکتے ہیں یا موجودہ تنازعات مزید شدت اختیار کر سکتے ہیں،یہ صورتحال امریکی قومی سلامتی اور بین الاقوامی نظام کے لیے براہ راست خطرات پیدا کرتی ہے یہ رجحان دنیا کے مزید پرتشدد اور بے ترتیب ہونے کی عکاسی کرتا ہے، جس میں مختلف ممالک اور طاقتیں اپنے مفادات کے لیے سرگرم ہیں،یہ صورتحال عالمی سطح پر موجود عدم استحکام کی نشاندہی کرتی ہے، جس میں کئی محاذوں پر کشیدگی بڑھ رہی ہے اور اس کے اثرات عالمی امن پر پڑ سکتے ہیں۔

    رپورٹ میں بتایا گیا کہ امریکی پالیسی ساز اکثر خود کو تنازعات سے متعلق بحرانوں سے غیر متعلق پاتے ہیں جو توجہ اور وسائل کو دوسری ترجیحات سے ہٹا دیتے ہیں اور یہاں تک کہ بڑی فوجی مداخلتوں کا باعث بنتے ہیں جن کی وجہ سے امریکی جانیں ضائع ہوتی ہیں۔ اس میں ملوث افراد اس کے بعد اکثر افسوس کا اظہار کرتے ہیں کہ حکام کو ان بحرانوں کو روکنے یا ان سے نمٹنے کے لیے مزید کچھ کرنا چاہیے تھا۔ اس طرح، احتیاطی ترجیحات کے سروے (پی پی ایس) کا مقصد صرف مصروف امریکی پالیسی سازوں کو اگلے بارہ مہینوں میں عدم استحکام کے ابتدائی ذرائع سے آگاہ کرنا نہیں ہے بلکہ یہ فیصلہ کرنے میں بھی ان کی مدد کرنا ہے کہ کون سے زیادہ دباؤ ہیں۔

    رپورٹ میں کہا گیا کہ امریکی پالیسی سازوں کے لیے آگے دیکھنے اور تنازعات سے متعلقہ خطرات کو فعال طور پر کم کرنے کی ضرورت ہر سال بڑھ رہی ہے دنیا بلاشبہ زیادہ پرتشدد اور بدامنی کا شکار ہو گئی ہے درحقیقت، دوسری جنگ عظیم کے خاتمے کے بعد مسلح تصادم کی تعداد اب سب سے زیادہ ہے ان کا بڑھتا ہوا تناسب، اس کے علاوہ، بین ریاستی تنازعات ہیں، جو سرد جنگ کے بعد کے رجحان کو تبدیل کر رہے ہیں امریکہ مسلح تصادم کے بڑھتے ہوئے خطرے سے منفرد طور پر بے نقاب ہے، کیونکہ کسی اور طاقت کے پاس اتنے اتحادی اور سیکورٹی وعدے نہیں ہیں۔

    دوسری طرف ٹرمپ انتظامیہ نے بہت سے جاری تنازعات کو ختم کرنے کی کوشش کی ہے، جیسے جمہوریہ کانگو، غزہ کی پٹی اور یوکرین کے ساتھ ساتھ ہندوستان اور پاکستان اور کمبوڈیا اور تھائی لینڈ کے درمیان تنازعات وغیرہ م تاہم، اس کے ساتھ ساتھ، اس نے غیر ضروری طور پر غیر مستحکم کرنے والے رویے، خاص طور پر مغربی نصف کرہ میں اتحادیوں سمیت متعدد ممالک کے خلاف خاص طور پر دھمکی آمیز قوت اور دیگر زبردستی اقدامات میں مصروف عمل ہے افسوس کے ساتھ، اس نے امریکی حکومت کے ان عناصر کو بھی منظم طریقے سے ختم کر دیا ہے جو تزویراتی دور اندیشی، تنازعات کی روک تھام، اور قیام امن کے لیے وقف ہیں، بغیر ان کی جگہ کسی بھی بہتر چیز کے۔ اس عمل میں متعلقہ فنڈنگ ​​میں کمی کی گئی ہے، یہ حرکتیں نقصان دہ اور کم نگاہی والی ہیں۔

    رپورٹ میں امید ظاہر کی گئی کہ ٹرمپ انتظامیہ آنے والے مہینوں میں اہم اتحادیوں اور شراکت داروں کو مزید الگ نہ کر کے اپنا راستہ تبدیل کر دے گی، جبکہ امن اور استحکام کو فروغ دینے کے لیے، خاص طور پر ریاست ہائے متحدہ کے لیے اہم علاقوں میں اپ اسٹریم کوششوں پر زیادہ زور دے گی۔ اس سال کے پی پی ایس کے نتائج اس سلسلے میں مدد کر سکتے ہیں۔

    پی پی ایس ماہرین سے کہتا ہے کہ وہ صرف نسبتاً مجرد سیاسی اور عسکری حالات کا جائزہ لیں ، قطعی طور پرجن کا فیصلہ آنے والے بارہ مہینوں میں ممکنہ طور پر کراؤڈ سورسنگ کی ابتدائی کوشش کے دوران کیا گیا ہے۔ اس لیے اسے گلوبل وارمنگ، آبادیاتی تبدیلی، یا تکنیکی ترقی جیسے وسیع رجحانات سے لاحق خطرے کا جائزہ لینے کے لیے ڈیزائن نہیں کیا گیا ہے۔ وہ رجحانات، جو آسانی سے پرتشدد تصادم کو جنم دے سکتے ہیں، مختصر وقت میں فیصلہ کرنا بہت مشکل ہے، اور نہ ہی PPS زلزلے، شدید موسم، صحت عامہ کے بحران، یا کسی مخصوص رہنما کی موت جیسے واقعات سے وابستہ خطرے کا اندازہ لگانے کی کوشش کرتا ہے۔ وہ واقعات عدم استحکام کو جنم دے سکتے ہیں، لیکن ان کا امکان فطری طور پر غیر متوقع ہے، تاہم، جواب دہندگان کو یہ موقع دیا جاتا ہے کہ وہ تنازعات سے متعلق اضافی خدشات کی نشاندہی کریں جو ان کے خیال میں توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ یہ تجاویز "دیگر نوٹ شدہ خدشات” کی فہرست میں ظاہر ہوتی ہیں۔

    آخر میں، نتائج ماہرین کی رائے کی عکاسی کرتے ہیں جب سروے نومبر 2025 میں کیا گیا تھا۔ دنیا ہمیشہ بدل رہی ہے، اس لیے جغرافیائی سیاسی خطرات کے جائزوں کو باقاعدگی سے اپ ڈیٹ کرنے کی ضرورت ہے۔

    طریقہ کار

    سنٹر فار پریوینٹیو ایکشن نے 2026 PPS کو تین مراحل میں انجام دیا:

    1. پی پی ایس کی ہنگامی صورتحال کی درخواست کرنا

    اکتوبر 2025 میں، CPA نے سروے میں شامل کرنے کے لیے ممکنہ تنازعات کے بارے میں تجاویز طلب کرنے کے لیے مختلف سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کا استعمال کیا۔ کونسل آن فارن ریلیشنز کے اندرون ملک علاقائی ماہرین کی مدد سے، CPA نے ممکنہ تنازعات کی فہرست کو 2026 میں ممکنہ طور پر نقصان دہ اور ممکنہ طور پر نقصان دہ سمجھے جانے والے تیس ہنگامی حالات تک محدود کر دیا۔

    2. خارجہ پالیسی کے ماہرین کی پولنگ

    نومبر 2025 میں، یہ سروے تقریباً 15,000 امریکی حکومتی اہلکاروں، خارجہ پالیسی کے ماہرین، اور ماہرین تعلیم کو بھیجا گیا، جن میں سے تقریباً 620 نے جواب دیا۔ ہر ایک سے کہا گیا کہ وہ امریکی مفادات پر پڑنے والے اثرات اور عام رہنما خطوط کے مطابق ہر ہنگامی صورتحال کے امکان کا اندازہ لگائے (خطرے کی تشخیص میٹرکس کی تعریفیں دیکھیں)۔

    3. تنازعات کی درجہ بندی

    اس کے بعد سروے کے نتائج ان کی درجہ بندی کے مطابق اسکور کیے گئے، اور بعد ازاں ہنگامی حالات کو تین احتیاطی ترجیحی درجوں میں سے ایک (I، II، اور III) میں ان کی جگہ کے مطابق خطرے کی تشخیص کے میٹرکس پر ترتیب دیا گیا۔

  • خیبر میں بارودی سرنگ کے دھماکے میں تین سیکیورٹی اہلکار شہید

    خیبر میں بارودی سرنگ کے دھماکے میں تین سیکیورٹی اہلکار شہید

    خیبر میں بارودی سرنگ کے دھماکے میں تین سیکیورٹی اہلکار شہید ہوگئے۔

    اطلاعات کے مطابق، خیبر پختونخوا کے ضلع خیبر کے علاقے برقمبر خیل میں ان کی گاڑی کے قریب بارودی سرنگ کے دھماکے سے تین سیکیورٹی اہلکار شہید اور تین زخمی ہوگئے۔

  • پاکستان اور لیبیا کے درمیان 4.6 بلین ڈالر کے دفاعی معاہدے پر دستخط

    پاکستان اور لیبیا کے درمیان 4.6 بلین ڈالر کے دفاعی معاہدے پر دستخط

    پاکستان اور لیبیا کے درمیان 4.6 بلین ڈالر کے دفاعی معاہدے پر دستخط کئے گئے ہیں-

    دونوں ممالک کے درمیان ہونے والے اس معاہدے میں مبینہ طور پر 16 JF-17 تھنڈر لڑاکا طیارے،12 سپر مشاق ٹرینر ہوائی جہاز، 44 حیدر مین جنگی ٹینک، جدید انفنٹری مارٹر سسٹم، 1 کثیر مقصدی بحری جہاز شامل ہیں،جبکہ لیبیا کی مسلح افواج کے لیے تربیت بھی معاہدے میں شامل ہیں-

    قبل ازیں چیف آف ڈیفنس فورسز ،آرمی چیف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر لیبیا کے سرکاری دورے کے دوران لیبیائی عرب مسلح افواج کے کمانڈر انچیف فیلڈ مارشل خلیفہ بالقاسم حفتر اور لیبیائی عرب مسلح افواج کے ڈپٹی کمانڈر انچیف لیفٹیننٹ جنرل صدام خلیفہ حفتر سے ملاقات کی۔

    آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ فیلڈ مارشل عاصم منیر کی آمد پر لیبیائی مسلح افواج کے ایک چاک و چوبند دستے نے فیلڈ مارشل کو گارڈ آف آنر پیش کیا،فیلڈ مارشل اور خلیفہ حفتر کے درمیان ہونے والی ملاقات میں باہمی دلچسپی کے امور، علاقائی سلامتی کی صورتحال اور دوطرفہ دفاعی و عسکری تعاون کو بڑھانے کے طریقوں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

    دونوں اطراف نے تربیت، استعداد کار میں اضافے اور دہشت گردی کے خاتمے کے شعبوں میں تعاون کی اہمیت پر زور دیا،فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے مشترکہ مفادات کی بنیاد پر لیبیا کے ساتھ دفاعی تعلقات کو مضبوط بنانے کے لیے پاکستان کے عزم کا اعادہ کیا،فیلڈ مارشل خلیفہ حفتر نے پاک مسلح افواج کی پیشہ ورانہ مہارت کو سراہا اور دونوں ممالک کے درمیان دفاعی تعاون کو مزید وسعت دینے کی خواہش کا اظہار کیا۔

  • پی ٹی آئی مزاحمت کیلئے تیار ہے تو ہم سب اس کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں،  ایمان مزاری

    پی ٹی آئی مزاحمت کیلئے تیار ہے تو ہم سب اس کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں، ایمان مزاری

    اسلام آباد:معروف وکیل ایمان مزاری نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی اس وقت پاکستان کی مقبو ل ترین جماعت ہے کیوں کہ عوام نے عمران خان کو مینڈیٹ دیا-

    تحریک تحفظ آئین پاکستان کی قومی کانفرنس میں خطاب کرتے ہوئے وکیل ایمان مزاری نے کہاکہ پی ٹی آئی اس وقت پاکستان کی مقبو ل ترین جماعت ہے کیوں کہ عوام نے عمران خان کو مینڈیٹ دیا، تحریک انصاف اپنی پالیسی واضح طور پر بیان کرے اور فیصلہ کرے کہ کیا آپ سہیل آفریدی والی مزاحمت چاہتے ہیں یا مفاہمت کا راستہ چاہیے؟ مگر یہ واضح رہے کہ ظالم، جابر اور قابض کے سامنے مفا ہمت نہیں مزاحمت ہی کی جاتی ہے۔

    انہوں نے کہا کہ میں پی ٹی آئی کی ووٹر یا سپورٹر نہیں ہوں مگر میری پی ٹی آئی سے درخواست ہے کہ اپنی پالیسی واضح کردے کہ وہ مزاحمت کے لیے تیار ہے تو ہم سب اس کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں، جب میری والدہ شیریں مزاری تحریک انصاف کی حکومت میں وزیر تھیں تو میں خود پی ٹی آئی کی سخت مخالف تھی اور پی ٹی آئی پر شدید تنقید کرتی تھی مگر یہ بات ہے مگر آج یہ بات پی ٹی آئی یا عمران خان کی نہیں ہے پاکستان کے عوام کے اور اس کے مینڈیٹ کی ہے اور کسی کو یہ حق نہیں ہے کہ عوام کے مینڈیٹ پر دن دیہاڑے ڈاکہ ڈالا جائے۔

    انہوں ںے کہا کہ کل جو عمران خان کے پر تنقید کرتے تھے آج وہ عمران خان کے حقوق کی بات کررہے ہیں کیوں کہ ہم اپنے عوام کے حقوق کی بات کررہے ہیں اور آج مجھ سمیت پی ٹی آئی پر تنقید کرنے والے اڈیالہ کے باہر جاکر عمران خان کی بہنوں کے ساتھ کھڑے ہونے کو تیار ہیں جن پر اڈیالہ کے باہر بہیمانہ سلوک کیا جاتا ہے، مل کر ایسے رویے کی مذمت کرنی چاہیے، چاہے وہ ماہ رنگ بلوچ ہو، عمران خان ہو یا علی وزیر ہو، ہم سب کو اس رویے کے خلاف ایک آواز ہوکر سڑکوں پر آنا چاہیے۔

  • کراچی چلتا ہے تو پاکستان پلتا ہے،خالد مقبول صدیقی

    کراچی چلتا ہے تو پاکستان پلتا ہے،خالد مقبول صدیقی

    کراچی:وفاقی وزیر تعلیم و تربیت خالد مقبول صدیقی نے کہا ہے کہ کراچی چلتا ہے تو پاکستان پلتا ہے-

    وفاقی وزیر تعلیم و تربیت خالد مقبول صدیقی نے اپوزیشن لیڈر علی خورشیدی کے ہمراہ کراچی ورلڈ بک فیئر کا دورہ کیا، انہوں نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ 20سال سے دنیا کو بک فیئر کے ذریعے یہ رونق دکھائی جارہی ہے، کراچی ایک چھوٹا پاکستان ہے کراچی چلتا ہے تو پاکستان پلتا ہےپاکستان ہمارا ہے اسے بچانا ہے، 17سال سے قومی اتفاق رائے سے کراچی کے ساتھ جو سلوک کیا جارہا ہے وہ آج شکست کھا گئے ہیں ، کراچی ورلڈ بک فیئر میں آکر ایمان اور یقین تازہ ہوجاتا ہے۔

    جماعت اسلامی کراچی کے امیر منعم ظفر نے میڈیا سے گفتگو کے دوران کہا کہ اس کتب میلہ نے ثابت کردیا ہے کہ یہ شہر علم و کتب سے محبت کرنے والوں کا شہر ہے کتاب سے دوستی کا کوئی نعم البدل نہیں ہے،ٹیکنا لوجی کا استعمال ضروری ہے تاہم اس کے باو جود کتب کی اہمیت کو نظر انداز نہیں کرسکتے، کتابیں فرد کی زندگی کی رہنمائی کرتی ہیں۔

    اپوزیشن لیڈر علی خورشید ی کا کہنا تھا کہ جو لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ آج کے دور میں کتب کی اہمیت ختم ہوگئی ہے وہ کراچی ورلڈ بک فیئر آکر دیکھیں کہ آگاہی اور علم کے پیاسے آج بھی سیراب ہورہے ہیں ،کراچی ورلڈ بک فیئر نے کتابوں سے محبت کا ثبوت دیا ہے آج بھی یہ شہر کتابوں سے محبت کرتا ہے۔

  • بھارت میں مسافر ٹرین نے 7 ہاتھیوں کو کچل ڈالا

    بھارت میں مسافر ٹرین نے 7 ہاتھیوں کو کچل ڈالا

    بھارت کے شمال مشرقی علاقے میں ایک مسافر ٹرین ہاتھیوں کے ایک ریوڑ سے ٹکرا گئی، جس کے نتیجے میں 7 ہاتھی موقع پر ہی ہلاک ہو گئے۔

    آسام ریاست میں پیش آنے والے اس حادثے میں کسی مسافر کو نقصان نہیں پہنچا آسام بھارت میں موجود تقریباً 22 ہزار جنگلی ہاتھیو ں میں سے 4 ہزار سے زائد کا مسکن ہے،آسام پولیس کے سینئر افسر وی وی راکیش ریڈی نے اے ایف پی کو بتایا کہ 7 ہاتھی ہلاک ہوئے جبکہ ایک ہاتھی زخمی ہوا۔

    حادثے کے باعث ٹرین کی 5 بوگیاں پٹڑی سے اتر گئیں یہ ٹرین دور دراز ریاست میزورم سے نئی دہلی جا رہی تھی،انڈین ریلوے کے ترجمان کپل کشن شرما کے مطابق ہاتھیوں کی آمد و رفت کے لیے مختص راہداریوں (ایلیفینٹ کوریڈورز) پر رفتار کی پابندیاں عائد کی گئی ہیں، تاہم تازہ حادثہ ان علاقوں سے باہر پیش آیا،لوکو پائلٹ نے ہاتھیوں کے ریوڑ کو دیکھتے ہی ایمرجنسی بریک لگائے، تاہم ہاتھی ٹرین سے ٹکرا گئے۔

    ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ 2026:بھارت نے اسکواڈ کا اعلان کردیا

    ماہرین کے مطابق جنگلات کی کٹائی اور ہاتھیوں کے قدرتی مسکن کے قریب تعمیراتی سرگرمیوں کے باعث یہ جانور خوراک کی تلاش میں مزید دور نکلنے پر مجبور ہو رہے ہیں، جس سے انسانوں کے ساتھ ان کے تصادم کے واقعات بڑھ رہے ہیں۔

    پارلیمانی اعداد و شمار کے مطابق 2023-2024 کے دوران بھارت بھر میں ہاتھیوں کے حملوں کے نتیجے میں 629 افراد ہلاک ہوئے۔

    ایلون مسک کا معروف ہالی ووڈ اداکارہ کے جسم پر نامناسب تبصرہ

  • ایلون مسک کا معروف  ہالی ووڈ اداکارہ کے جسم پر نامناسب تبصرہ

    ایلون مسک کا معروف ہالی ووڈ اداکارہ کے جسم پر نامناسب تبصرہ

    ایلون مسک ہالی ووڈ اداکارہ سڈنی سوئینی کے بارے میں کیے گئے اپنے تبصرے کی وجہ سے شدید تنقید کی زد میں ہیں۔

    ایلون‌مسک نے اپنی سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اداکارہ کی جسمانی ساخت سے متعلق ایک پوسٹ شیئر کی، جسے صارفین کی بڑی تعداد نے نامناسب اور ’’توہین آمیز‘‘ قرار دیا،یہ معاملہ اس وقت سامنے آیا جب سڈنی سوئینی اپنی نئی سائیکو تھرلر فلم ’’دی ہاؤس میڈ‘‘ کے پریمیئر میں سفید لباس میں ریڈ کارپٹ پر جلوہ گر ہوئیں۔

    اسی دوران مسک نے ایک اے آئی سے تیار کردہ میم شیئر کی، جس میں ایک عورت کے جسمانی خدوخال کو طنزیہ انداز میں دکھایا گیا تھا اور کیپشن میں لکھا گیا تھا کہ ’’یہ آسان نہیں ہو سکتا‘‘ بعد ازاں ایک اور پوسٹ میں بھی اسی نوعیت کا تبصرہ کیا گیا۔

    مسک کی پوسٹس وائرل ہوتے ہی سوشل میڈیا پر ردعمل کی لہر دوڑ گئی متعدد صارفین نے انہیں سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اس طرح کے تبصرے غیر ضروری اور توہین آمیز ہیں کئی صارفین نے انہیں اپنی توجہ ٹیکنالوجی اور خلائی منصوبوں پر مرکوز رکھنے کا مشورہ بھی دیا۔

    ادھر سڈنی سوئینی نے اس معاملے پر براہِ راست کوئی ردِعمل نہیں دیا، تاہم وہ اس سے قبل انٹرویوز میں ہالی ووڈ میں خواتین کو جسمانی بنیاد پر دیکھے جانے کے رجحان پر بات کرچکی ہیں ان کا کہنا ہے کہ انہیں یہ رویہ ’’یوفوریا‘‘ کے بعد سے برداشت کرنا پڑ رہا ہے اور وقت کے ساتھ وہ اس حقیقت کی عادی ہوچکی ہیں کہ لوگ اداکاروں کو ان کے کرداروں سے الگ نہیں کر پاتے۔

    دلچسپ بات یہ ہے کہ حالیہ مہینوں میں سڈنی سوئینی اپنی فلموں اور عوامی تقاریب میں شرکت کے باعث مسلسل خبروں میں رہی ہیں، جب کہ ایلون مسک کے اس تبصرے نے ایک بار پھر سوشل میڈیا پر شائستگی اور حدود پر بحث چھیڑ دی ہے۔

  • ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ 2026:بھارت نے اسکواڈ کا اعلان کردیا

    ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ 2026:بھارت نے اسکواڈ کا اعلان کردیا

    دفاعی چیمپئن اور آئی سی سی مینز ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ 2026کے شریک میزبان بھارت نے میگا ایونٹ کے لیے اپنے 15 رکنی اسکواڈ کا باضابطہ اعلان کر دیا ہے۔

    بھارتی کرکٹ بورڈ کی جانب سے جاری کردہ اسکواڈ کے مطابق اسٹار بیٹر سوریاکمار یادیو کو ٹیم کی قیادت سونپی گئی ہے،آل راؤنڈر اکشر پٹیل کو نائب کپتان مقرر کیا گیا ہے، جو بیٹنگ اور بولنگ دونوں شعبوں میں ٹیم کے لیے اہم کردار ادا کریں گے،اسٹار اوپنر شبھمن گل اس اسکوا ڈ کا حصہ نہیں ہیں، جس پر شائقین اور ماہرین کرکٹ کی جانب سے مختلف آرا سامنے آ رہی ہیں۔

    ابھشیک شرما، تلک ورما اور رنکو سنگھ جیسے نوجوان بیٹرز ٹیم کو جارحانہ آغاز اور مڈل آرڈر میں استحکام فراہم کریں گے وکٹ کیپنگ کے لیے سنجو سیمسن اور ایشان کشن کو شامل کیا گیا ہے،آل راؤنڈرز میں ہاردک پانڈیا، شیوَم دوبے اور واشنگٹن سندر بھی ٹیم کا حصہ ہیں، جبکہ فاسٹ بولنگ اٹیک کی قیادت جسپریت بمراہ کریں گے ان کا ساتھ ارشدیپ سنگھ اور ہرشِت رانا دیں گے اسپن میں کلدیپ یادیو اور ورون چکرورتی شامل ہیں-

    wc

  • ایران میں موساد کیلیے جاسوسی کے الزام میں ایک شخص کو پھانسی

    ایران میں موساد کیلیے جاسوسی کے الزام میں ایک شخص کو پھانسی

    تہران: ایران نے اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد کے لیے جاسوسی کرنے کے الزام میں ایک شخص کو پھانسی دیدی-

    ایرانی میڈیا کے مطابق رواں برس جون سے تاحال جاسوسی کے الزام میں پھانسی پانے والے مجرموں کی تعداد دس ہوگئی ان میں زیادہ تر نے اسرائیل کے لیے جاسوسی کی تھی،آج جس شخص کو اسرائیلی انٹیلی جنس موساد کے لیے جاسوسی کے الزام میں پھانسی دی گئی اس کا نام اغیل کشاورز تھا۔

    سپریم کورٹ نے بھی اغیل کشاورز کی پھانسی کی سزا کو برقرار رکھا تھا جس کے بعد آج سزا پر عمل درآمد کردیا گیا،27 سالہ اغیل کشاورز فنِ تعمیر (آرکیٹیکچر) کا طالب علم تھا اسے رواں سال کے آغاز میں شمال مغربی شہر ارمیہ میں گرفتار کیا گیا تھا۔

    پولیس حکام نے بتایا کہ اغیل کشاورز کو گشت پر مامور فوجیوں نے اُس وقت گرفتار کیا جب وہ ایک فوجی ہیڈکوارٹر کی تصاویر لے رہا تھا،تفتیشی حکام نے بتایا کہ ملزم نے یہ تصاویر اسرائیل کے لیے کھینچنے کا اعتراف کیا تھا۔ جس کے لیے موساد سے رقم بھی وصولی تھی،اغیل کشاورز نے تہران، اصفہان، ارمیہ اور شاہرود سمیت مختلف شہروں میں اسرائیلی انٹیلی جنس کے لیے 200 سے زائد مشن انجام دیے،ان مبینہ سرگرمیوں میں حساس مقامات کی تصاویر لینا، رائے عامہ کے جائزے اور مخصوص علاقوں میں ٹریفک کی نگرانی شامل تھی۔

    اغیل کشاورز کے اسرائیلی فوج اور انٹیلی جنس ادارے موساد کے ساتھ انکرپٹڈ میسجنگ ایپس کے ذریعے کیے گئے میسیجز پکڑے گئےجس کے لیےاغیل کشاورز کو مشن مکمل کرنے کےبعد کرپٹو کرنسی میں ادائیگیاں کی جاتی تھیں،عدلیہ نےکہا کہ اس نے دانستہ طور پر اسرا ئیلی اداروں سے تعاون کیا اور ایران کی اسلامی جمہوریہ کو نقصان پہنچانے کا ارادہ رکھتا تھا۔