Baaghi TV

Author: Ayesha Rehmani

  • پاکستان پر پابندیوں کے بعد سعودی عرب کی حمایت بڑی اہم تھی،اسحاق ڈار

    پاکستان پر پابندیوں کے بعد سعودی عرب کی حمایت بڑی اہم تھی،اسحاق ڈار

    نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار نے پاکستان اور سعودی عرب میں ہونے والا معاہدے کو تاریخی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ دیگر ملک بھی اس طرح کے معاہدے کا حصہ بننے کی خواہش رکھتے ہیں۔

    لندن میں جمعہ کے روز صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئےاسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ پاکستان اورسعودی عرب کے درمیان ہونے والا معاہدہ ہمیشہ سے موجود ہے،سعودی عرب سے معاہدہ ایک رات میں طے نہیں پایا گیا اور اسکی تفصیلات طے کرنے میں کئی ماہ لگے ہیں، سعودی عرب نے ہمیشہ مشکل وقت میں پاکستان کاساتھ دیا اس سلسسلے میں انہوں نے ایٹمی دھماکوں کے بعد پاکستان پر لگنے والی پابندیوں اور اس موقع پر سعودی کردار کی مثال،دی،پاکستان پر پابندیوں کے بعد سعودی عرب کی حمایت بڑی اہم تھی۔

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے پانچ ججز کا چیف جسٹس کے اختیارات اور اقدامات کیخلاف سپریم کورٹ سے رجوع

    واضح رہے کہ وزیراعظم شہباز شریف کے حالیہ دورۂ سعودی عرب کے موقع پر دونوں ممالک کے درمیان تاریخی دفاعی معاہدہ ہوا، معاہدے کے مطابق، اگر پاکستان یا سعودی عرب میں سے کسی ایک ملک پر حملہ ہوتا ہے تو اسے دونوں ممالک پر حملہ تصور کیا جائے گا،معاہدے کے تحت دونوں ممالک دفاع، انٹیلیجنس، ٹریننگ، اور ٹیکنالوجی کے شعبوں میں قریبی تعاون کریں گے، جبکہ پاکستان کو حرمین شریفین کے دفاع میں اہم کردار دیا گیا ہے۔

    پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دفاعی معاہدے نے دنیا بھر میں ہلچل مچا دی ہے، بین القوامی امورکی ایک یورپی ماہر نے تو اسے آسمانی بجلی سے تعبیر کیا ہے تو ایک دوسرے نے گیم چنیجر قرار دے دیا۔

    اُرمچی میں پاکستان اور چین کے درمیان 3 مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط

  • اسلام آباد ہائیکورٹ کے پانچ ججز کا چیف جسٹس کے اختیارات اور اقدامات کیخلاف سپریم کورٹ سے رجوع

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے پانچ ججز کا چیف جسٹس کے اختیارات اور اقدامات کیخلاف سپریم کورٹ سے رجوع

    اسلام آباد ہائی کورٹ کے پانچ ججز نے چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ کے اختیارات اور اقدامات کے خلاف سپریم کورٹ سے رجوع کر لیا۔

    جسٹس محسن اختر کیانی، جسٹس بابر ستار، جسٹس طارق محمود جہانگیری، جسٹس ثمن رفعت اور جسٹس اعجاز اسحٰق خان نے علیحدہ علیحدہ درخواستیں سپریم کورٹ میں دائر کیں،درخواستوں میں ججوں نے سپریم کورٹ سے استدعا کی ہے کہ انتظامی اختیارات کو ہائی کورٹ کے ججوں کے عدالتی اختیارات کو کمزور کرنے یا ان پر غالب آنے کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکتا،چیف جسٹس ہائی کورٹ اس وقت جب کسی بینچ کو مقدمہ دیا جا چکا ہو، نئے بینچ تشکیل دینے یا مقدمات منتقل کرنے کا مجاز نہیں ہے۔

    درخواستوں میں کہا گیا کہ چیف جسٹس اپنی مرضی سے دستیاب ججوں کو فہرست سے خارج نہیں کر سکتا اور نہ ہی اس اختیار کو ججوں کو عدالتی ذمہ داریوں سے ہٹانے کے لیے استعمال کر سکتا ہے،بینچوں کی تشکیل، مقدمات کی منتقلی اور فہرست جاری کرنا صرف ہائی کورٹ کے تمام ججوں کی منظوری سے بنائے گئے قواعد کے مطابق کیا جا سکتا ہے، جو آئین کے آرٹیکل 202 اور 192(1) کے تحت اختیار کیے گئے ہیں۔

    گوجرانوالہ: اساتذہ میں ٹیبلٹس، طلبہ میں تعلیمی سامان تقسیم

    درخواست گزاروں نے مزیدکہا کہ بینچوں کی تشکیل، روسٹر ہائی کورٹ رولز اور مقدمات کی منتقلی سے متعلق فیصلہ سازی صرف چیف جسٹس کے اختیار میں نہیں ہو سکتی اور ماسٹر آف دی روسٹر کے اصول کو سپریم کورٹ کے فیصلوں میں ختم کر دیا گیا ہے، 3 فروری اور 15 جولائی کو جاری ہونے والے نوٹی فکیشنز کے ذریعے بنائی گئی انتظامی کمیٹیاں اور ان کے اقدامات قانونی بدنیتی پر مبنی، غیر قانونی اور کالعدم ہیں۔

    عدالت سے استدعا کی گئی کہ ان نوٹی فکیشنز اور کمیٹیوں کے تمام اقدامات کو غیر قانونی قرار دیا جائے،غیر قانونی طور پر تشکیل دی گئی انتظامی کمیٹی کے ذریعے اسلام آباد ہائی کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر رولز 2025 کی منظوری اور ہائی کورٹ کی پیشگی منظوری کے بغیر نوٹیفکیشن جاری کرنا آئین کے آرٹیکل 192(1) اور 202 کی خلاف ورزی ہے، اور ستمبر میں اس کی توثیق بھی غیر قانونی اور بے اثر ہےسپریم کورٹ اسلام آباد ہائی کورٹ کو ہدایت دے کہ وہ ڈسٹرکٹ جوڈیشری پر مؤثر نگرانی اور نگران عمل کرے، جیسا کہ آئین کے آرٹیکل 203 میں درج ہے، تاکہ ہر ہائی کورٹ اپنے ماتحت عدالتوں کی نگرانی اور کنٹرول کر سکے۔

    امریکا نے بھارت کو ایک اور جھٹکا دے دیا

    درخواست گزار نے سپریم کورٹ سے استدعا کی کہ وہ یہ اعلان کرے کہ ہائی کورٹ اپنے لیے آئین کے آرٹیکل 199 کے تحت کوئی رٹ جاری نہیں کر سکتی، آرٹیکل 199 ہائی کورٹ کے دائرہ اختیار سے متعلق ہے ہائی کورٹ کا ڈویژن بینچ نہ تو کسی سنگل بینچ کے عبوری فیصلوں پر اپیل کے لیے اختیار رکھتا ہے اور نہ ہی یہ کسی سنگل بینچ کے کارروائیوں پر ایسا کنٹرول اختیار کر سکتا ہے جیسے وہ کوئی زیریں عدالت یا ٹریبونل ہو،عبوری حکم سے مراد ایک جاری مقدمے میں دیا گیا عارضی فیصلہ ہے۔

    درخواست گزاروں نے سپریم کورٹ سے کہا کہ ہائی کورٹ کے جج کوصرف آرٹیکل 209 کے تحت عدالتی کام کرنے سے روکا جا سکتا ہے اور کسی جج کو عہدے سے ہٹانے کے لیے رٹِ قو وارانٹو دائر کرنا درست نہیں ہےآرٹیکل 209 آئین کے تحت سپریم جوڈیشل کونسل کو سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ کے ججوں کی صلاحیت اور رویے کی تحقیقات کرنے کا اختیار دیتا ہے،درخواست گزاروں نےسپریم کورٹ سے استدعا کی کہ وہ اس کیس کے حالات کے مطابق کوئی اور ریلیف بھی دے جو مناسب سمجھا جائے۔

    پاکستان میں انٹرنیٹ بحالی میں 4 سے 5 ہفتے لگ سکتے ہیں

  • سونے کی قیمت میں کمی ریکارڈ

    سونے کی قیمت میں کمی ریکارڈ

    سونے کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤکا سلسلہ جاری ، عالمی اور مقامی مارکیٹوں میں سونے کی قیمت میں کمی ریکارڈ کی گئی۔

    آل پاکستان صرافہ جیولرز ایسوسی ایشن کے مطابق جمعہ کو 24 قیراط سونا 1100 روپے سستا ہو کر 3 لاکھ 87 ہزار 500 روپے فی تولہ ہو گیا ،24 قیراط کے 10 گرام سونے کی قیمت 943 روپے کمی کے بعد 3 لاکھ 32 ہزار 218 روپے رہی جو ایک روز پہلے 3 لاکھ 33 ہزار 161 روپے تھی، جبکہ 22 قیراط کا 10 گرام سونا 864 روپے روپے کمی کے بعد 3 لاکھ 4 ہزار 544 روپے پر آ گیا،عالمی مارکیٹ میں بھی سونے کی قیمت 11 ڈالر کم ہو کر 3 ہزار 657 ڈالر فی اونس پر آ گئی، جو ایک روز پہلے 3 ہزار 668 ڈالر تھی۔

    اس کے برعکس چاندی کی قیمت میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا، 24 قیراط چاندی کی قیمت 29 روپے اضافے کے ساتھ 4 ہزار 447 روپے فی تولہ ہو گئی جو ایک روز قبل 4 ہزار 418 روپے تھی،اسی طرح 10 گرام 24 قیراط چاندی 25 روپے مہنگی ہو کر 3 ہزار 812 روپے پر پہنچ گئی جو گزشتہ روز 3 ہزار 787 روپے تھی،عالمی مارکیٹ میں بھی چاندی کی قیمت 0.29 ڈالر بڑھ کر 42.20 ڈالر فی اونس ہو گئی، جو گزشتہ روز 41.91 ڈالر تھی۔

  • پاک سعودی دفاعی معاہدہ، آج یوم تشکر منایا گیا

    پاک سعودی دفاعی معاہدہ، آج یوم تشکر منایا گیا

    پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان تاریخی دفاعی معاہدے کے تناظر میں پاکستان علما کونسل کی اپیل پر ملک بھر میں آج یومِ تشکر منایا گیا۔

    پاکستان علما کونسل کی اپیل پر ملک بھر کی مساجد میں جمعے کے خطبات میں پاک-سعودی معاہدے پر اللہ کا شکر ادا کیا گیا اور مسلم اُمّہ کے اتحاد و امن کے لیے خصوصی دعائیں کی گئیں،پاکستان علما کونسل کے چیئرمین حافظ طاہر محمود اشرفی نے اس موقع پر کہا کہ یہ دن صرف پاکستان یا سعودی عرب کے لیے نہیں، بلکہ پوری اُمتِ مسلمہ کے اتحاد اور سلامتی کے لیے باعثِ شکر ہے،انہوں نے معاہدے کو اُمت کے لیے نئی طاقت قرار دیا۔

    واضح رہے کہ وزیراعظم شہباز شریف کے حالیہ دورۂ سعودی عرب کے موقع پر دونوں ممالک کے درمیان تاریخی دفاعی معاہدہ ہوا، معاہدے کے مطابق، اگر پاکستان یا سعودی عرب میں سے کسی ایک ملک پر حملہ ہوتا ہے تو اسے دونوں ممالک پر حملہ تصور کیا جائے گا،معاہدے کے تحت دونوں ممالک دفاع، انٹیلیجنس، ٹریننگ، اور ٹیکنالوجی کے شعبوں میں قریبی تعاون کریں گے، جبکہ پاکستان کو حرمین شریفین کے دفاع میں اہم کردار دیا گیا ہے۔

    افغان طالبان نے برطانوی جوڑے کو رہا کردیا

    پاک سعودی تزویراتی دفاعی معاہدےکا مقصد صرف استحکام ہے،دفتر خارجہ

    سعودیہ سے معاہدہ،پاکستان نے بیرونی طاقتوں کو ورطہ حیرت میں ڈال دیا،تجزیہ:شہزاد قریشی

  • افغان طالبان نے برطانوی جوڑے کو رہا کردیا

    افغان طالبان نے برطانوی جوڑے کو رہا کردیا

    طالبان کی قید میں آٹھ ماہ گزارنے کے بعد ایک سینیئر برطانوی جوڑے اربی اور پیٹر رینولڈز کو بالآخر رہا کر دیا گیا ہے-

    جوڑےکو افغان طالبان کے انٹیریئر منسٹری نے حراست میں لیا تھا۔ جوڑے کی رہائی قطر کی کامیاب ثالثی کے بعد عمل میں آئی، رہائی کے بعد جوڑے کو دوحہ منتقل کردیا گیا ہے،طالبان وزارت داخلہ کے ایک ترجمان کے مطابق رواں سال فروری میں مجموعی طور پر 4 افراد کو گرفتار کیا گیا تھا، جن میں 2 برطانوی شہری، ایک چینی نژاد امریکی شہری اور ان کا مقامی مترجم شامل تھے۔یہ جوڑا اپنے چینی-امریکی دوست “فائے ہال” اور ایک مقامی مترجم کے ہمراہ ایک تربیتی ادارے کے لیے کام کر رہا تھا جب انہیں گرفتار کیا گیا۔

    بی بی سی نے اپنی ایک رپورٹ میں انکشاف کیا تھا کہ یہ دونوں برطانوی شہری وسطی افغان صوبے بامیان میں ایک غیر سرکاری تنظیم (NGO) کے لیے کام کر رہے تھے طالبان کے ایک ذریعے کا کہنا تھا کہ انہیں بغیر اجازت طیارہ استعمال کرنے پر گرفتار کیا گیا۔

    ذرائع کے مطابق، قطر نے برطانوی حکومت اور متاثرہ جوڑے کے خاندان کے تعاون سے طالبان حکام سے کئی مہینوں تک مذاکرات کیے تاکہ ان کی رہائی ممکن ہو سکےقطری سفارت خانے نے دورانِ قید دونوں افراد کو اہم سہولیات فراہم کیں، جن میں ان کے ذاتی معالج تک رسائی، ادویات کی ترسیل، اور خاندان سے رابطے کی سہولت شامل ہے قید کے دوران دونوں کو اکثر اوقات الگ الگ رکھا گیا۔

    باربی اور پیٹر رینولڈز نے افغانستان میں اسکولوں اور تعلیمی اداروں میں مختلف پراجیکٹس پر 18 سال تک کام کیا، اور 2021 میں طالبان کے اقتدار سنبھالنے کے بعد بھی وہ ملک میں قیام پذیر رہےقطر نے 2021 میں طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد افغانستان میں گرفتار غیر ملکیوں کی رہائی میں کلیدی کردار ادا کیا ہے صرف 2025 میں اب تک قطر نے کم از کم 3 امریکی شہریوں کی رہائی میں مدد کی ہے۔

  • پاک سعودی تزویراتی دفاعی معاہدےکا مقصد صرف استحکام ہے،دفتر خارجہ

    پاک سعودی تزویراتی دفاعی معاہدےکا مقصد صرف استحکام ہے،دفتر خارجہ

    دفتر خارجہ نے کہاہے کہ پاک سعودیہ باہمی تزویراتی دفاعی معاہدہ کسی تیسرے ملک کے خلاف خطرے کے طور پر استعمال نہیں ہوگا۔

    ترجمان دفتر خارجہ شفقت علی خان نے ہفتہ وار بریفنگ کے دوران ایک سوال کے جواب میں کہا کہ آیا پاک سعودی تزویراتی دفاعی معاہدہ صرف اسرائیل کو نشانہ بنانے کے لیے ہے یا اس کا وسیع تر ایجنڈا ہے، اور کیا پاکستان اپنے جوہری ہتھیار اب تیسرے ملک کو پیشکش کر رہا ہے؟ اس پر ترجمان نے کہا کہ ’پاکستان اور سعودی عرب کا تاریخی برادرانہ تعلق ہے جسے اب نئی بلندیوں پر لے جایا جا رہا ہے، معاہدے کا مقصد صرف استحکام ہے۔

    انہوں نے کہا کہ پاکستان اور سعودی عرب کے باہمی تعلقات منفرد اور دیرینہ ہیں، دونوں ممالک کی قیادت ان تعلقات کو نئی بلندیوں پر لے جانا چاہتی ہے پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دفاعی تعلقات 1960 سے جاری ہیں، موجودہ باہمی تزویراتی دفاعی معاہدہ کسی تیسرے ملک کے خلاف خطرے کے طور پر استعمال نہیں ہوگا۔

    فتنہ الخوارج سے متعلق وزیر اعظم کے بیان پر ایک سوال کے جواب میں ترجمان نے کہا کہ وزیر اعظم کا بیان نہایت واضح ہے افغانستان کے ساتھ اچھے ہمسائیگی والے تعلقات چاہتے ہیں یہ بیان افغانستان کو سفارتی ذرائع سے بھجوایا گیا ہے نمائندہ خصوصی صادق خان کا دورہ معمول کا ہے، جونہی ان کا نیا دورہ افغانستان طے ہوگا، میڈیا کو آگاہ کیا جائے گا۔

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ بگرام ایئربیس سے متعلق بیانات پر ردعمل دیتے ہوئے ترجمان نے کہا کہ بگرام کا معاملہ کابل میں افغان حکومت اور امریکی حکومت کا باہمی معاملہ ہے، ہم اُن ملکوں کی خودمختاری کا احترام کرتے ہیں۔

    ترجمان دفتر خارجہ شفقت علی خان نےکہاکہ، صدر آصف علی زرداری اس وقت چین کے دورے پر ہیں جہاں انہوں نے اعلیٰ چینی حکام سے ملاقاتیں کیں۔ صدر زرداری نے چین کی لڑاکا طیارے بنانے والی فیکٹری کا دورہ بھی کیا اور پاکستان کے فضائی دفاع میں جے ایف-17 اور جے-10C طیاروں کے کردار کو سراہا۔

    پاکستان میں دہشتگردوں کی بھارتی سرپرستی کے حوالے سے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے ترجمان دفترِ خارجہ نے کہا کہ بھارت کو چاہیے کہ بیرونی سرزمین سے بدامنی پھیلانے سے باز رہے اور اپنے ہاں انسانی حقوق کی حالت بہتر بنائے۔ بھارتی پراپیگنڈا اور اشتعال انگیز بیانات خطے کے امن و استحکام کے لیے خطرہ ہیں، بھارتی میڈیا کو الزامات کی بجائے بھارت کی طرف سے ہونے والے قتل و غارت اور دہشت گردی کی مہمات پر غور کرنا چاہیے۔ پاکستان نے ہمیشہ بھارتی روایتی قوت کو تحمل اور ذمہ داری کے ساتھ روکا ہے۔

    اُنہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کے خلاف ایٹمی الزامات بھارت کا خودساختہ اور گمراہ کن بیانیہ ہے پاکستان جموں و کشمیر سمیت تمام مسائل کے پرامن حل پر یقین رکھتا ہے۔ پاکستان ایک ذمہ دار ملک کے طور پر خطے میں امن، استحکام اور بامقصد مذاکرات کا خواہاں ہے۔

    پاکستان کی جانب سے سکھ یاتریوں کو ویزوں کے اجرا سے متعلق سوال کا جواب دیتے ہوئے شفقت علی خان نے کہا کہ پاکستان سکھوں کے مذہبی مقامات کا کسٹوڈین ہے پاکستان ہر سال دنیا بھر سے آنے والے سکھ یاتریوں کو خوش آمدید کہتا ہے بھارت کی جانب سے یاتریوں کو کرتارپور راہداری کے استعمال سے روکنا افسوسناک ہے۔

    انہوں نے کہا کہ 1974 کے مذہبی مقامات کے پروٹوکول کے تحت پاکستان یاتریوں کو خوش آمدید کہنے کے لیے ہمیشہ تیار ہے۔ پاکستان نے کرتارپور راہداری کبھی بند نہیں کی۔ بھارتی رویہ یاتریوں کے لیے رکاوٹ ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ سیلاب سے متاثرہ گردوارہ کرتارپور صاحب مکمل طور پر بحال اور فعال ہے۔

    وزیراعظم شہباز شریف کی 26 ستمبر کو اقوام متحدہ جنرل اسمبلی میں تقریر کے حوالے سے سوال کا جواب دیتے ہوئے ترجمان دفترِ خارجہ نے کہا کہ وزیراعظم کی تقریر 26 ستمبر کو متوقع ہے، جس کی تفصیلات جلد جاری کی جائیں گی۔

    جنرل اسمبلی سیشن کے حاشیے پر وزیراعظم کی ملاقاتوں سے متعلق ایک سوال پر ترجمان نے کہا کہ وزیراعظم کی ملاقاتوں کا شیڈول ابھی طے کیا جا رہا ہے اور جیسے ہی وہ حتمی ہوگا، میڈیا کو آگاہ کیا جائے گا۔

  • اُرمچی میں پاکستان اور چین کے درمیان 3 مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط

    اُرمچی میں پاکستان اور چین کے درمیان 3 مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط

    پاکستان اور چین کے درمیان 3 اہم مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کیے گئے، جن کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان صنعتی تعاون، زرعی جدت اور عوامی تحفظ کو فروغ دینا ہے۔

    دستخط صدر آصف علی زرداری کی موجودگی میں،کئےگئے،معاہدوں میں لائیو اسٹاک انڈسٹری میں جدت، پاکستان میں جدید ٹیکسٹائل انڈسٹریل پارک کے قیام اور فائر ٹرکس و ایمرجنسی آلات کی فراہمی شامل ہیں،صدر آصف علی زرداری نے اس موقع پر کہا کہ یہ یادداشتیں خوراک کے تحفظ، صنعتی ترقی، برآمدات میں اضافے اور آفات سے نمٹنے کی قومی صلاحیت کو بہتر بنائیں گی،لائیو اسٹاک سیکٹر کی بہتری دیہی علاقوں میں روزگار کے مواقع بڑھائے گی جبکہ جدید ٹیکسٹائل پارک کا قیام برآمدات اور صنعتی ترقی کو نئی جہت دے گا، فائر ٹرکس اور جدید ایمرجنسی آلات کی فراہمی عوامی تحفظ اور ریسکیو آپریشنز کو مضبوط کرے گی-

    تقریب میں سینیٹر سلیم مانڈوی والا، پاکستان کے سفیر برائے چین اور چین کے سفیر برائے پاکستان بھی شریک تھے،بعد ازاں صدر آصف علی زرداری اُرمچی سے کاشغر روانہ ہو گئے، سنکیانگ کے نائب گورنر نے صدر آصف علی زرداری کو رخصت کیا، اس موقع پرچینی اور پاکستانی اہلکار بھی موجود تھے۔

    سعودیہ سے معاہدہ،پاکستان نے بیرونی طاقتوں کو ورطہ حیرت میں ڈال دیا،تجزیہ:شہزاد قریشی

    امریکا نے بھارت کو ایک اور جھٹکا دے دیا

    پرائیویٹ حج اسکیم کے تحت درخواستوں کی وصولی کا آج سے آغاز

  • امریکا نے بھارت کو ایک اور جھٹکا دے دیا

    امریکا نے بھارت کو ایک اور جھٹکا دے دیا

    امریکا نے بھاری بھرکم ٹیرف اور تجارتی پابندیاں عائد کرنے کے بعد ایران کی چاہ بہار بندرگاہ کو دی گئی چھوٹ واپس لے کر بھارت کو ایک اور جھٹکا دے دیا۔

    امریکی محکمہ خارجہ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ایرانی حکومت کو تنہا کرنے کے لیے صدر ٹرمپ کی زیادہ سے زیادہ دباؤ کی پالیسی کے تحت امریکی وزیر خارجہ نے ایران فریڈم اینڈ کاؤنٹر پرافیلیریشن ایکٹ (آئی ایف سی اے) کے تحت افغانستان کی تعمیرِ نو اور اقتصادی ترقی کے لیے 2018 میں دیا گیا پابندیوں سے استثنیٰ ختم کر دیا ہے، جو 29 ستمبر 2025 سے مؤثر ہوگا،اس استثنیٰ کے خاتمے کے بعد، جو افراد چاہ بہار بندرگاہ کے آپریشن یا آئی ایف سی اے میں بیان کردہ دیگر سرگرمیوں میں شامل ہوں گے، وہ اس قانون کے تحت پابندیوں کی زد میں آسکتے ہیں۔

    رپورٹس کے مطابق امریکی حکومت کے فیصلے کا اثر بھارت پر بھی پڑ سکتا ہے، جو خلیج عمان پر واقع چاہ بہار بندرگاہ میں ایک ٹرمینل تیار کر رہا ہے۔

    پرائیویٹ حج اسکیم کے تحت درخواستوں کی وصولی کا آج سے آغاز

    13 مئی 2024 کو انڈین پورٹس گلوبل لمیٹڈ اور ایران کی پورٹ اینڈ میری ٹائم آرگنائزیشن نے ایک طویل المدتی معاہدے پر دستخط کیے تھے، جس نے 2016 کے ابتدائی معاہدے کی جگہ لی تھی،یہ معاہدہ چاہ بہار بندرگاہ کے شاہد بہشتی ٹرمینل پر بھارت کے آپریشنز سے متعلق ہے اور اسے ہر سال تجدید کیا جاتا رہا ہے، ایران کے مبینہ ایٹمی پروگرام کی وجہ سے اس پر عائد امریکی پابندیوں نے بندرگاہ کی ترقی کی رفتار کو سست کر دیا تھا۔

    پاکستان میں انٹرنیٹ بحالی میں 4 سے 5 ہفتے لگ سکتے ہیں

  • پرائیویٹ حج اسکیم کے تحت درخواستوں کی وصولی کا آج سے آغاز

    پرائیویٹ حج اسکیم کے تحت درخواستوں کی وصولی کا آج سے آغاز

    پرائیویٹ حج اسکیم کے تحت درخواستوں کی وصولی کا آج سے آغاز ہو گیا ہے۔

    اسکیم کے تحت 37 ہزار 900 عازمین درخواستیں جمع کروا سکیں گے، وزارت مذہبی امور کا کہنا ہے کہ گزشتہ سال رہ جانے والے عازمین کو پرائیویٹ حج آپریٹرز پہلے موقع دیں گےگزشتہ سال حج پر نہ جانے والے 22 ہزار 97 عازمین نے رجسٹریشن کروائی ہے، گزشتہ سال حج سے رہ جانے والے عازمین کی رجسٹریشن مکمل ہونے کا پرائیویٹ حج آپریٹرز بیان حلفی دیں گے۔

    وزارت مذہبی امور کا کہنا ہے کہ اس سال پرائیویٹ حج آپریٹرزکا کوٹہ 60 ہزارمقررکیا گیا ہے،22 ہزار 97 عازمین گزشتہ برس حج سے محروم رہ جانے والے اور 37 ہزار903 نئے درخواست گزارحج پر اس اسکیم کے تحت جاسکیں گے۔

    پاکستان میں انٹرنیٹ بحالی میں 4 سے 5 ہفتے لگ سکتے ہیں

    اٹک میں گیس اور کنڈینسیٹ کی پیداوار شروع

    کامن ویلتھ بیچ ہینڈ بال چیمپین شپ: پاکستان کی سری لنکا کو شکست

  • پاکستان میں انٹرنیٹ بحالی میں 4 سے 5 ہفتے لگ سکتے ہیں

    پاکستان میں انٹرنیٹ بحالی میں 4 سے 5 ہفتے لگ سکتے ہیں

    سب میرین کیبل کٹنے سے پاکستان میں انٹرنیٹ سست ہے، بحالی میں 4 سے 5 ہفتے لگ سکتے ہیں۔

    ممبر کمیٹی صادق علی خان نے قائمہ کمیٹی کے اجلاس کے دوران انٹرنیٹ کی سست روی پر بات کرتے ہوئے کہا کہ تین نئی کیبلز آرہی ہیں اگر 3 نئی کیبلز آ رہی ہیں تو انٹرنیٹ کے مسائل کیوں آرہے ہیں؟-

    قائمہ کمیٹی کو اس کا جواب دیتے ہوئے وفاقی سیکرٹری آئی ٹی و ٹیلی کام ضرار ہاشم نے کہا کہ پاکستان آنے والی 2 متاثرہ کیبلز کی بحالی میں مزید چار سے پانچ ہفتے لگ سکتے ہیں،یمن کے حالات کی وجہ سے صورتحال گھمبیر ہے چار سے پانچ کیبلز کٹی ہوئی ہیں،یمن کے ساحل پر بہت ساری سب میرین کیبل کٹی ہوئی ہیں پاکستان کو آنے والی 2 کیبلز متاثر ہوئی ہیں، متاثرہ کیبلز کی بحالی میں 4 سے5 ہفتے کا وقت لگ سکتا ہے۔

    اٹک میں گیس اور کنڈینسیٹ کی پیداوار شروع

    کامن ویلتھ بیچ ہینڈ بال چیمپین شپ: پاکستان کی سری لنکا کو شکست

    9 مئی کے دو مقدمات میں خدیجہ شاہ کے وارنٹ گرفتاری جاری