Baaghi TV

Author: Ayesha Rehmani

  • عوامی فیصلوں کو تسلیم کرنا جمہوری نظام کی بنیاد ہے، رانا ثنا اللہ

    عوامی فیصلوں کو تسلیم کرنا جمہوری نظام کی بنیاد ہے، رانا ثنا اللہ

    وزیراعظم کے مشیر رانا ثنا اللہ نے کہا ہے کہ اختلافِ رائے جمہوریت کا حسن ہے، تاہم پارلیمانی روایات اور باہمی احترام کے دائرے میں رہتے ہوئے ہی ایوان کی کارروائی کو مؤثر بنایا جا سکتا ہے۔

    سینیٹ کے اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے رانا ثنا اللہ نے کہا کہ چیئرمین سینیٹ کے دفتر میں ملاقاتوں اور مشاورت کے دوران جو سنجیدہ اور خوشگوار ماحول قائم ہوا، اسی جذبے کو ایوان کے اندر بھی برقرار رکھا جانا چاہیےاختلافِ رائے جمہوریت کا حسن ہے، تاہم پارلیمانی روایات اور باہمی احترام کے دائرے میں رہتے ہوئے ہی ایوان کی کارروائی کو مؤثر بنایا جا سکتا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ ووٹ کے احترام اور عوامی فیصلوں کو تسلیم کرنا جمہوری نظام کی بنیاد ہے، کیونکہ اگر عوام کے فیصلے کو مؤثر نہ مانا جائے تو جمہوری عمل آگے نہیں بڑھ سکتا، انتخابی نتائج پر اعتراض اور ہار تسلیم نہ کرنے کا رویہ کوئی نئی بات نہیں،2018 کے انتخابات میں بھی ایسی ہی صورتحال پیدا ہوئی تھی، جب ان کی جماعت اپوزیشن میں تھی اور انتخابی عمل پر شدید اعتراضات کیے گئے تھے۔

    جمہوری اداروں میں شفافیت اور نظم و ضبط کو فروغ دینا ضروری ہے،عطا تارڑ

    انہوں نے کہا کہ 25 جولائی 2018 کے انتخابات سے قبل جنوبی پنجاب میں سیاسی جوڑ توڑ، نئی صف بندیاں اور مخصوص گروہوں کی تشکیل سب کے سا منے تھی، جس کا مقصد انتخابی نتائج پر اثرانداز ہونا تھا اس دور میں بعض عناصر کو اکٹھا کر کے اسلام آباد لایا گیا اور انہیں سیاسی شناخت دی گئی، جو انتخابی عمل میں مداخلت کی واضح مثال تھی اس وقت کی اپوزیشن کا بھی یہی مؤقف تھا کہ متعدد نشستوں پر نتائج تبدیل کر کے ایک جماعت کو اکثریت دلائی گئی۔

    پی ٹی آئی کی نیت ہو تو مذاکرات بھی ہوسکتے ہیں اور زرلٹ بھی نکل سکتاہے،خواجہ آصف

    رانا ثنا اللہ نے کہا کہ اگر ہم صرف مخصوص تاریخوں یا واقعات پر اٹکے رہیں گے تو آگے نہیں بڑھ سکیں گے انہوں نے اپوزیشن ارکان کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ نہ تو آج کی اپوزیشن 2018 کے مؤقف کی تائید کر سکتی ہے اور نہ ہی موجودہ حالات میں صرف ایک نکتے پر اصرار مسئلے کا حل ہے،اس حقیقت پر متفق ہونا ہوگا کہ پاکستان میں انتخابی نظام پر مکمل اعتماد موجود نہیں، جس کے باعث ہر الیکشن کے بعد الزامات اور جوابی بیانات کا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے، جس میں نہ کوئی واضح جیتنے والا ہوتا ہے اور نہ ہارنے والا۔

    پاکستان اور اسلامی ترقیاتی بینک کے درمیان 3 اہم معاہدوں پر دستخط

    انہوں نے کہا کہ 2018 کے انتخابات کے بعد ان کی جماعت نے بھی پارلیمان میں آ کر دھاندلی کے الزامات لگائے اور تحقیقات کا مطالبہ کیا، مگر اس وقت جو جواب دیا گیا وہ سب کے سامنے ہے اب جبکہ اپوزیشن خود پارلیمان کا حصہ ہے اور اس کی ذمہ داریاں سنبھال چکی ہے تو اس پر بھی لازم ہے کہ نظام کی بہتری کے لیے تعمیری کردار ادا کرے۔

  • جمہوری اداروں میں شفافیت اور نظم و ضبط کو فروغ دینا ضروری ہے،عطا تارڑ

    جمہوری اداروں میں شفافیت اور نظم و ضبط کو فروغ دینا ضروری ہے،عطا تارڑ

    وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے کہا ہے کہ سیاستدانوں کو تنقید برداشت کرنے کی عادت اپنانا ہوگی اور جمہوری اداروں میں شفافیت اور نظم و ضبط کو فروغ دینا ضروری ہے۔

    وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے پاکستان فیڈرل کالمسٹ اینڈ کری ایٹر کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے میڈیا، صحافت اور سیاسی تجربات پر بات کی انہوں نے کہا کہ ریل اسٹیٹ سیکٹر نے اخبارات اور میڈیا ہاؤسز میں اپنا کردار ادا کیا، مگر اب بھی وقت موجود ہے کہ تمام اسٹیک ہولڈرز مل کر نظام کو بہتر بنائیں،ریل اسٹیٹ سیکٹر نے اس وقت میڈیا ہاؤسز کا کردار ادا کیا جب اخبارات نے خود کو کمزور محسوس کیا، اور یہ خلا بھر دیا۔

    تاہم انہوں نے واضح کیا کہ ابھی بھی نظام کو بہتر بنانے کے لیے وقت موجود ہے، اور مختلف اداروں جیسے وزارتِ داخلہ اور وزارتِ اطلاعات کے کردار کو الگ رکھا گیا تاکہ صحافت کو فروغ دیا جا سکے قوانین کے نفاذ میں شفافیت اور اختیار کو یقینی بنایا جانا چاہیے اور ملک میں اختلاف رائے کے لیے کافی گنجا ئش موجود ہے انہوں نے بتایا کہ کس طرح انہوں نے اسٹوڈنٹ سیاست سے شروعات کی، عملی سیاست کا تجربہ حاصل کیا اور پھر بیوروکریسی میں خدمات انجام دی۔

    پاکستان اور اسلامی ترقیاتی بینک کے درمیان 3 اہم معاہدوں پر دستخط

    عطا تارڑ نے کہا کہ سیاستدانوں کو تنقید برداشت کرنے کی عادت اپنانا ہوگی اور جمہوری اداروں میں شفافیت اور نظم و ضبط کو فروغ دینا ضروری ہے تیسری قوت نے معاشرتی مسائل کو سامنے لانے میں اہم کردار ادا کیا اور یہ قوت اب بھی ملک کے اندر مثبت تبدیلی لا سکتی ہے۔

    پی ٹی آئی کی نیت ہو تو مذاکرات بھی ہوسکتے ہیں اور زرلٹ بھی نکل سکتاہے،خواجہ آصف

  • پاکستان اور اسلامی ترقیاتی بینک کے درمیان 3 اہم معاہدوں پر دستخط

    پاکستان اور اسلامی ترقیاتی بینک کے درمیان 3 اہم معاہدوں پر دستخط

    پاکستان اور اسلامی ترقیاتی بینک کے مابین اسلام آباد میں 60 کروڑ 34 لاکھ ڈالر مالیت کے3 معاہدوں پر دستخط کیے ہیں۔

    تفصیلات کے مطابق معاہدے پر دستخط پاکستان کے وزیر ِاقتصادی امور احد خان چیمہ اور اسلامی ترقیاتی بینک کے نائب صدر ڈاکٹر رامی احمد کے درمیان ملاقات کے بعد کیے گئےمعاہدوں پر اسلامی ترقیاتی بینک کے نائب صدر ڈاکٹر رامی احمد اور اقتصادی امور ڈویژن کے سیکرٹری محمد حمیر کریم نے دستخط کیے۔

    تقریب میں وفاقی وزیر اقتصادی امور احد خان چیمہ، وفاقی وزیر برائے تخفیف ِغربت و سماجی تحفظ سید عمران احمد شاہ اور دیگر اعلیٰ حکام بھی موجود تھے،اعلامیے کے مطابق غربت کے خاتمے کے منصوبے کے تحت 118.4 ملین ڈالر فراہم کیے جائیں گے۔ اس منصوبے کے ذریعے 68,500 خاندانوں کو روزگار کے مواقع پیدا کرنے اور انسانی وسائل کی ترقی (ہیومن کیپیٹل ڈولپمنٹ) میں اہم کردار ادا کرتے ہوئے اپنے ذرائع معاش کو بہتر بنانے کے قابل بنایا جائے گا۔

    475 ملین ڈالر (47 کروڑ 50 لاکھ ڈالر) ایم-6 موٹر وے منصوبے کے لیے فراہم کیے جائیں گے یہ پشاورکراچی موٹر وے کا 120.8 کلومیٹر طویل ایک اہم سیکشن ہے، جو ملک کے شمال،جنوب راہداری (نارتھ ساؤتھ کوریڈور) کے درمیان موجود ادھورے لنک کو جوڑنے میں معاون ثابت ہوگا۔

    1 کروڑ ڈالر (10 ملین ڈالر) آزاد جموں و کشمیر میں اسکولوں سے باہر بچوں کے منصوبے کے لیے جاری کیے جائیں گے اس اقدام کے تحت 60,000 ایسے بچوں کو غیر رسمی تعلیمی ذرائع سے مدد فراہم کی جائے گی جو اسکولوں سے باہر ہیں، جبکہ 135 اسکولوں کو اپ گریڈ کیا جائے گا، 250 تعلیمی مراکز قائم ہوں گے، 4,000 اساتذہ کو تربیت دی جائے گی، اور موسمیاتی تبدیلیوں کے خلاف مزاحمت رکھنے والی (کلائمیٹ ریزیلیئنٹ) تدریسی سہولیات تعمیر کی جائیں گی۔

    اسلامی ترقیاتی بینک کے وائس پریزیڈنٹ آپریشنز، ڈاکٹر رامی احمد اسلامی جمہوریہ پاکستان کے سرکاری دورے پر اتوار کو اسلام آباد پہنچےبیان کے مطابق ڈاکٹر رامی احمد کا اسلام آباد کا سرکاری دورہ، جو 18 تا 21 جنوری 2026 تک جاری رہے گا، پاکستان کے ساتھ اسٹریٹجک تعلقات کو جاری رکھنے، پائیدار ترقی کے تعاون کو مضبوط بنانے، اسلامی ترقیاتی بینک کی مالی معاونت سے چلنے والے بڑے منصوبوں کو آگے بڑھانے اور قومی ترجیحات اور بینک کے 2026 کے ورک پروگرام پر اعلیٰ حکومتی قیادت سے مشاورت کرنے کے لیے کیا گیا ہے۔

  • پی ٹی آئی کی نیت ہو تو مذاکرات بھی ہوسکتے ہیں اور زرلٹ بھی نکل سکتاہے،خواجہ آصف

    پی ٹی آئی کی نیت ہو تو مذاکرات بھی ہوسکتے ہیں اور زرلٹ بھی نکل سکتاہے،خواجہ آصف

    اسلام آباد: وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہےکہ پی ٹی آئی کی نیت ہو تو مذاکرات بھی ہوسکتے ہیں اور ان کا زرلٹ بھی نکل سکتاہے، تحریک انصاف کی بدنیتی ختم نہیں ہو رہی-

    پارلیمنٹ ہاؤس میں میڈیا سے گفتگو میں خواجہ آصف نے کہا کہ حکومت تحریک انصاف سے مذاکرات میں سنجیدہ ہے لیکن میں نہیں سمجھتا کہ پی ٹی آئی مذاکرات میں سنجیدہ ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ پی ٹی آئی چار پانچ زبانیں بولتی ہے،ہم ان کی کون سی زبان سمجھیں، ہمیں بتائیں ہم ان کی کون سی زبان پر اعتبار کریں، خیبرپختونخواحکومت الگ اوراسمبلی میں بیٹھنے والے الگ زبان بول رہے ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ جولوگ باہربیٹھ کر گالم گلوچ کرتے ہیں سب سے پہلے ان کی زبان بندی ضروری ہے، باہربیٹھ کر جولوگ پاکستان کےخلاف بولتے ہیں یہ ان کی مرضی سے بول رہے ہیں، باقاعدہ ایک حکمت عملی کے تحت باہر سے لوگ بیٹھ کر لوگوں کو گالیاں دے رہے ہیں پی ٹی آئی بیک ٹریک کرنے کے لیے اور دو نمبری کرنے کے لیے اپنی اسپیس رکھنا چاہتی ہے، یہ صرف پی ٹی آئی کی نیت کا فتور ہے، پی ٹی آئی کی نیت ہو تو مذاکرات بھی ہوسکتے ہیں اور ان کا زرلٹ بھی نکل سکتاہے، تحریک انصاف کی بدنیتی ختم نہیں ہو رہی، یہ تاش کی بازی لگی ہوئی ہے اور سارے مل کر کھیل رہے ہیں۔

    خواجہ آصف نے کہا کہ مجھے یہ بتائیں ایک اکثریتی پارٹی نے اپنا لیڈر آف اپوزیشن کیوں نہیں بنایا؟ محمودخان اچکزئی کو اپوزیشن لیڈر بنایاگیا ہے وہ بھائی ہے اپنا اور میں محمود اچکزئی کا بڑا احترام کرتا ہوں، میرا ان کی سیاست سے اختلاف ضرور ہوسکتا ہے لیکن میرا ان سے بڑا برادرانہ تعلق ہے، بہت اچھی بات ہےکہ وہ اپوزیشن لیڈر بنےہیں میں ان کو ویلکم کرتا ہوں، نواز شریف اور شہباز شریف مجھےحق دیتے ہیں کہ میں ان سے اختلاف کرسکتا ہوں حالانکہ کوئی وزیر اعظم اپنے وزرا کو یا ورکرز کو اتنی اسپیس نہیں دیتاجتنی شہبازشریف دیتے ہیں، پاکستان کی سیاست میں یہ لوگ ایک رول ماڈل ہیں۔

    دریں اثنا قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے وزیر دفاع نے کہا کہ 18ویں ترمیم ایک ڈھکوسلہ ثابت ہوئی کیونکہ اس کے نتیجے میں زیادہ تر اختیارات صوبائی دارالحکومت میں جمع ہو گئے ہیں کراچی میں جو واقعات ہو رہے ہیں، وہ اس بات کے متقاضی ہیں کہ کراچی، لاہور، پشاور اور کوئٹہ میں ایک موثر نظام ہونا چاہیے جس کے ذریعے اختیارات صوبائی دارالحکومتوں سے ضلع، تحصیل اور وارڈ کی سطح پر منتقل ہوں۔

    خواجہ آصف کے مطابق نہ تو کہیں مؤثر لوکل گورنمنٹ ہے، اور جہاں ہے وہاں بھی اختیارات نہیں ہیں۔ پاکستانی عوام کو حقیقی معنوں میں بااختیار بنانے کے لیے ملک میں ایک مضبوط اور مؤثر لوکل گورنمنٹ سسٹم لانا ضروری ہے،جب تک آپ پاکستان کے 25 کروڑ عوام کو بااختیار نہیں بنائیں گے تب تک یہ ہاؤس بے معنی ہوگا۔ اگر ہم نے واقعی پاکستان کے عوام کی نمائندگی کرنی ہے تو پہلے عوام کو گلی محلے میں نمائندگی دیں۔ جب تک گلی محلے والوں کی نمائندگی نہیں ہوگی تو وہاں کوئی فائربریگیڈ نہیں ہوگا۔ پھر وزارت دفاع کا فائر بریگیڈ آ کر آگ بجھائے گا۔‘

    وزیر دفاع نے واضح کیا کہ 28ویں ترمیم میں لوکل گورنمنٹ کو بااختیار بنانے اور اس کے مؤثر نظام کے قیام کی تجویز دی گئی تھی، اور اس پر اتفاق رائے بھی موجود تھا۔ تاہم حکومت کو اس سے پیچھے ہٹنا پڑاستم ظریفی یہ ہے کہ پاکستان میں جب بھی فوجی ڈکٹیٹرز آئے تو انہوں نے بااختیار لوکل گورنمنٹ سسٹم متعارف کرایا۔ جنرل ایوب خان، جنرل ضیا الحق اور جنرل مشرف تینوں نے یہ نظام متعارف کرایا۔ ہر 5 سال بعد باقاعدگی سے انتخابات ہوتے رہے ہم لوگ الیکشن ہی نہیں کرواتے اگر شیڈول آ جائے تو ہمارے صوبائی دارالحکومت کسی نہ کسی حیلے بہانے سے اختیارات نیچے منتقل کرنے سے ہچکچاتے رہتے ہیں بلکہ ایڑی چوٹی کا زور لگاتے ہیں کہ یہ پاور گراس روٹ لیول پر نہ جائے۔

    خواجہ آصف نے کہا کہ چینی صدر شی جن پنگ لوکل گورنمنٹ سے اوپر آئے اور ملک کے صدر بنے ایک پراسیس سے گزر کر چینی قیادت سامنے آئی وہ پیرا شوٹ کے ذریعے نہیں اتری،کراچی میں آگ بجھانے میں ناکامی اس بات کا ثبوت ہے کہ اس ملک کو ایک ایسے سسٹم کی ضرورت ہے تمام ضلعو ں، تحصیلوں، محلوں میں لوکل گورنمنٹ کا نمائندہ ہو اور لوگوں کو شکایت ہو تو وہ اس کے گریبان پر ہاتھ ڈال سکیں اس طرح لوگوں کے مسائل حل ہوں گے، لوگ بااختیار ہوں گے انہیں حقوق ملیں گے کراچی کا واقعہ خطرے کی گھنٹی ہے ہمیں کچھ ہوش کے ناخن لینے چاہئیں بامعنی آئینی ترمیم منظور کرکے پوری قوم کو بااختیار کرنے کے لیے لوکل گورنمنٹ سسٹم متعارف کرائیں۔

    خواجہ محمد آصف نے کہا کہ ہم چاہتے تھے کہ گوادر سے گلگت تک یکساں نصاب تعلیم ہو، تاکہ ہماری نئی نسل پاکستانیت کے ساتھ ساتھ اپنی صوبائیت کو بھی پہچانے۔ اس میں کوئی مفادات کا تصادم نہیں تھا۔ نصاب تعلیم ایک قومی شناخت دیتا ہے۔ لیکن اسے بھی ہمیں ڈراپ کرنا پڑا کیونکہ اس پر اتفاق رائے نہ ہوسکا۔

  • ٹرمپ نے گرین لینڈ پر امریکی قبضے اور پرچم لہرانے کی اے آئی تصویر جاری کردی

    ٹرمپ نے گرین لینڈ پر امریکی قبضے اور پرچم لہرانے کی اے آئی تصویر جاری کردی

    ٹرمپ نے گرین لینڈ پر امریکی قبضے اور پرچم لہرانے کی اے آئی تصویر جاری کردی-

    سوشل ٹرتھ پر اپنے اکاؤنٹ میں ٹرمپ مصنوعی ذہانت سے بنی ہوئی ایک تصویر لگائی ہے جس میں گرین لینڈ کو امریکی حصہ بتایا گیا ہے اور ٹرمپ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو اور دیگر کے ساتھ فتح کا جھنڈا لہرا رہے ہیں،ٹرمپ نے حال ہی میں یورپی ممالک کو گرین لینڈ نہ دینے پر ٹیرف کی دھمکی بھی دی جس پر یورپی ممالک کی طرف سے سخت ردعمل بھی آیا ہے۔

    دوسری جانب امریکا کے جنگی طیارے گرین لینڈ پہنچنا شروع ہوگئےامریکی اور کینیڈین دفاعی ادارے نوراڈ نے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں بتایا کہ امریکی جنگی طیارے جلد گرین لینڈ میں قائم امریکی فوجی اڈے پر پہنچیں گےگرین لینڈ کی حکومت کو بھی منصوبہ بندی سے آگاہ کر دیا گیا ہےامریکی طیاروں کی نئی کھیپ پہنچانے میں ڈنمارک حکومت سے ہم آہنگی ہے، امریکی فورسز کو ضروری سفارتی اجازت نامے حاصل ہیں۔

    واضح رہے کہ گرین لینڈ دراصل ڈنمارک کا ایک خود مختار علاقہ ہے، 1951 میں امریکا اور ڈنمارک نے گرین لینڈ دفاعی معاہدے پر دستخط کیے تھےمعاہدے کے تحت امریکا نے گرین لینڈ کو ممکنہ جارحیت سے بچانے کا عزم کیا تھا جب کہ امریکا اور کینیڈا نے 1958 میں سرد جنگ کے آغاز پر دفاعی معاہدے نوراڈ پر دستخط کیے تھے، نوراڈ کا بنیادی مقصد بیلسٹک میزائلوں کی لانچنگ کی بروقت اطلاع دینا ہے۔

  • چاند پر رہائش کیلئے بُکنگ شروع

    چاند پر رہائش کیلئے بُکنگ شروع

    جی آر یو اسپیس کمپنی نے 10 لاکھ ڈالر پیشگی پر چاند پر کمرا بُک کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔

    خلائی سیاحت اور مستقبل کی رہائش کے شعبے میں سرگرم ادارے جی آر یو اسپیس نے ایک غیر معمولی اعلان کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ اب عام افراد بھی چاند پر اپنا کمرہ بُک کرا سکتے ہیںاس مقصد کے لیے 10 لاکھ امریکی ڈالر بطور پیشگی ادائیگی درکار ہوں گے۔

    جی آر یو اسپیس کے ترجمان کا کہنا ہے کہ یہ منصوبہ مستقبل کی خلائی رہائش کے تصور کے تحت متعارف کرایا گیا ہے، جس میں چاند پر جدید سہولیات سے آراستہ کمروں کی تعمیر شامل ہے،ابتدائی بکنگ کا مقصد ممکنہ صارفین کی دلچسپی اور سرمایہ کاری کا جائزہ لینا ہے، منصوبے کی مزید تفصیلات اور عملی پیش رفت آنے والے مہینوں میں سامنے لائی جائیں گی۔

    ماہرین کے مطابق اگرچہ خلائی سیاحت تیزی سے ترقی کر رہی ہے، تاہم چاند پر نجی رہائش اور ملکیت سے متعلق بین الاقوامی قوانین اور تکنیکی چیلنجز تاحال ایک بڑا سوال ہیں، بیرونی خلائی معاہدوں کے تحت کسی بھی آسمانی جسم پر نجی ملکیت کی اجازت نہیں، اس لیے ایسے اعلانات کو مستقبل کے منصوبوں یا تصوراتی پیشکش کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔

  • عالمی مارکیٹ میں سونے کی قیمت بلند ترین سطح پر پہنچ گئی

    عالمی مارکیٹ میں سونے کی قیمت بلند ترین سطح پر پہنچ گئی

    عالمی مارکیٹ میں سونے کی قیمت بلند ترین سطح پر پہنچ گئی-

    بین الاقوامی میڈیا کے مطابق سونے کی فی اونس قیمت 4 ہزار 700 ڈالر کی سطح تک پہنچ گئی ہے جو بلند ترین سطح ہے گزشتہ روز سونے کے فی اونس نرخ 4 ہزار 689 ڈالر کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئے تھے، قیمت میں مزید اضافہ دیکھنے میں آیا ہےعالمی مارکیٹ میں ایک سال کے دوران سونے کے نرخ میں تقریباً 70 فیصد تک اضافہ ہو گیا ہے۔

    اسی طرح مقامی صرافہ بازاروں میں 24 قیراط کے حامل فی تولہ سونے کی قیمت میں بھی 4ہزار 300روپے کے بڑے اضافے سے نئی قیمت 4لاکھ 93ہزار 662روپے کی نئی بلند سطح پر آگئی جب کہ فی 10 گرام سونے کی قیمت 3ہزار 686روپے بڑھ کر 4لاکھ 23ہزار 235روپے کی سطح پر آگئی۔

    ملک میں فی تولہ چاندی کی قیمت بھی 87 روپے کے اضافے سے 9ہزار 869 روپے کی نئی بلند سطح پر پہنچ گئی جب کہ فی 10 گرام چاندی کے نرخ 76روپے کے اضافے سے 8ہزار 461روپے کی سطح پر آ گئے۔

    گزشتہ روز پاکستان کی صرافہ مارکیٹوں میں سونے کے نرخ میں 7500 روپے کا اضافہ ہوا تھا جس کے بعد فی تولہ قیمت 4 لاکھ 89 ہزار 362 روپے کی بلند سطح پر پہنچ گئی تھی،جبکہ فی تولہ چاندی کی قیمت 300 روپے کے اضافے سے 9ہزار 782 روپے کی نئی بلند سطح پر آگئی جبکہ فی دس گرام چاندی کی قیمت 257روپے کے اضافے سے 8ہزار 386روپے کی سطح پر آگئی۔

    واضح رہے کہ ایران میں قیادت کی تبدیلی کے لیے امریکا کی جانب سے منڈلاتے ہوئے جنگ کے بادل، امریکی فیڈرل ریزرو کی شرح سود میں مزید کمی کی بازگشت اور جیو پولیٹیکل حالات سے عالمی و مقامی سطح پر سونے اور چاندی کی قیمتیں وقفے وقفے سے تاریخ کی نئی بلندیوں کو چھو رہی ہیں۔

  • امریکا کے جنگی طیارے گرین لینڈ پہنچنا شروع

    امریکا کے جنگی طیارے گرین لینڈ پہنچنا شروع

    امریکا کے جنگی طیارے گرین لینڈ پہنچنا شروع ہو گئے ہیں-

    امریکی اور کینیڈین دفاعی ادارے نوراڈ نے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں کہا ہے کہ امریکی فضائیہ کے جنگی طیارے جلد گرین لینڈ میں قائم امریکی فوجی اڈے پر پہنچیں گے اس عمل میں ڈنمارک کی حکومت کے ساتھ مکمل ہم آہنگی موجود ہے اور امریکی فورسز کو تمام ضروری سفارتی اجازت نامے حاصل ہیں، تعیناتی دفاعی منصوبہ بندی کا حصہ ہے اور اس کا مقصد خطے میں فضائی نگرانی اور دفاعی صلاحیت کو مضبوط بنانا ہے۔

    واضح رہے کہ گرین لینڈ ڈنمارک کا ایک خودمختار علاقہ ہے۔ امریکا اور ڈنمارک کے درمیان 1951 میں گرین لینڈ کے دفاع سے متعلق ایک معاہدہ طے پایا تھا، جس کے تحت امریکا نے ممکنہ بیرونی جارحیت کی صورت میں گرین لینڈ کے دفاع کا عزم کیا تھابعد ازاں 1958 میں امریکا اور کینیڈا نے سرد جنگ کے دوران نوراڈ معاہدے پر دستخط کیے تھے، جس کا بنیادی مقصد شمالی امریکا کو درپیش فضائی خطرات اور بیلسٹک میزائل لانچنگ کی بروقت نگرانی اور اطلاع فراہم کرنا ہے۔

  • ڈیووس:وزیراعظم  عالمی اقتصادی فورم کے اجلاس میں شرکت کریں گے

    ڈیووس:وزیراعظم عالمی اقتصادی فورم کے اجلاس میں شرکت کریں گے

    وزیراعظم شہباز شریف ڈیووس میں عالمی اقتصادی فورم کے اجلاس میں شرکت کریں گے-

    وزیر اعظم محمد شہباز شریف 20 سے 22 جنوری تک سویٹزرلینڈ کے ڈیووس میں منعقدہ ورلڈ اکنامک فورم کے سالانہ اجلاس میں شریک ہوں گے۔ اجلاس میں سیاسی رہنما، کاروباری شخصیات اور بین الاقوامی اداروں کے سربراہان شرکت کریں گے، جہاں وزیراعظم پاکستان کے مؤقف، معیشت، سرمایہ کاری اور ترقی کے مواقع اجاگر کریں گے۔

    اجلاس میں وزیراعظم ’منقسم دنیا میں مکالمے کی روح کی بحالی‘ کے موضوع پر خطاب کریں گے اور مختلف بین الاقوامی رہنماؤں کے ساتھ پاکستان کے حوالے سے اعلیٰ سطحی ’بزنس راؤنڈ ٹیبل‘ کی صدارت بھی کریں گےدورے کے دوران وزیراعظم مختلف عالمی رہنماؤں اور کاروباری شخصیات سے ملاقاتیں کریں گے اور پاکستان کی معیشت، تجارت، سرمایہ کاری کے شعبے اور حکومت کے وژن و کامیابیوں کو اجاگر کریں گے۔

    ورلڈ اکنامک فورم کے سالانہ اجلاس میں سیاسی قائدین، کاروباری رہنما، بین الاقوامی اداروں کے سربراہان اور سول سوسائٹی کے نمائندے ایک جگہ جمع ہوتے ہیں اور یہ فورم جغرافیائی سیاسی، معاشی، سماجی اور ماحولیاتی امور پر غور و خوض کے لیے انتہائی اہم سمجھا جاتا ہے۔

  • جعلی مقدمات کی روک تھام کے لیے تیار کردہ منصوبے پر عملدرآمد شروع

    جعلی مقدمات کی روک تھام کے لیے تیار کردہ منصوبے پر عملدرآمد شروع

    چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ عالیہ نیلم کے جعلی مقدمات کی روک تھام کے لیے تیار کردہ منصوبے پر عملدرآمد شروع کر دیا گیا-

    نوٹی فکیشن کے مطابق لاہور ہائیکورٹ اور پنجاب بھر کی ضلعی عدلیہ میں بائیو میٹرک تصدیق کے بعد ہی درخواستیں اور پٹیشنز دائر کی جا سکیں گی پنجاب بھر کی ضلعی عدالتوں میں مقدمات دائر کرنے سے قبل بائیو میٹرک تصدیق کو لازم قرار دے دیا گیا ہے، اس فیصلے کے تحت درخواست گزار، مدعا علیہان اور دیگر تمام فریقین کے لیے بائیو میٹرک تصدیق ضروری ہوگی تاکہ جعلی اور بوگس مقدمات کا راستہ روکا جا سکے۔

    عدالتی نظام میں شفافیت کو مزید بہتر بنانے کے لیے ضمانتی بانڈ جمع کرانے والوں اور عدالت میں بیانات دینے والوں پر بھی بائیو میٹرک تصدیق لاگو کر دی گئی ہے اس اقدام کا بنیادی مقصد نقالی کی روک تھام اور عدالتی کارروائی میں شفافیت کو یقینی بنانا بتایا گیا ہے۔

    واضح رہے کہ چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ عالیہ نیلم کی منظوری کے بعد اس حوالے سے باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری کیا گیا تھا، جس کی نقول صوبہ بھر کے سیشن ججز سمیت دیگر متعلقہ حکام کو بھجوا دی گئی تھیں۔

    کوہاٹ میں تیل اور گیس کے ذخائر دریافت

    گل پلازہ آتشزدگی ،مفتی تقی عثمانی کا سخت ردعمل، فوری اور شفاف تحقیقات کا مطالبہ

    الیکشن کمیشن میں سہیل آفریدی کے ضابطہ اخلاق خلاف ورزی کیس کی سماعت

    پاکستان کی ترقی تب ممکن ، جب چاروں صوبے ترقی کی دوڑ میں برابر شریک ہوں، وزیراعظم شہباز شریف