Baaghi TV

Author: Ayesha Rehmani

  • چاند پر نام بھجوانے کے خواہشمند افراد کیلئے ناسا کا پیغام

    چاند پر نام بھجوانے کے خواہشمند افراد کیلئے ناسا کا پیغام

    امریکی خلائی ادارے ناسا نے چاند پر اپنا نام بھجوانے کی خواہش رکھنے والوں کے لیے نام اکٹھے کرنے شروع کردیے۔

    سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں ناسا نے لکھا کہ اپنا نام چاند پر بھیجنے کے موقع کو ضائع نہ کریں،ادارہ ناموں کو اکٹھا کر رہا ہے جن کو ایک ایس ڈی کارڈ میں بھر کر آرٹیمیس دوم مشن کے دوران اورین میں بھیجا جائے گا،اپنے پیارے دوستوں، بچوں اور پیاروں کے لیے بھی بورڈنگ پاس نہ بھولیں۔

    واضح رہے آرٹیمس دوم مشن کے لیے لانچ پیڈ پر راکٹ کو تیار کیا جا رہا ہے جس کی لانچ فروری میں متوقع ہے 10 روزہ مشن میں ناسا کے چار خلانورد چاند کے گرد چکر لگا کر واپس آئیں گے،یہ مشین امریکی خلائی ادارے کی نصف صدی سے زیادہ عرصہ بعد ایک بار پھر انسان کو چاند پر اتارنے کی کوشش کی ایک کڑی ہے۔

    آئل ٹینکر سے نو کروڑ روپے مالیت کی منشیات برآمد، ملزم گرفتار

    وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب کی سعودی ہم منصب سے ملاقات

    افغانستان کے دارالحکومت کابل میں دھماکا، متعدد افراد ہلاک

  • پاکستان کسٹمز  کی کارروائی،38ہزار 265لیٹر  اسمگل شدہ ہائی اسپیڈ ڈیزل  برآمد

    پاکستان کسٹمز کی کارروائی،38ہزار 265لیٹر اسمگل شدہ ہائی اسپیڈ ڈیزل برآمد

    پاکستان کسٹمز انفورسمنٹ میرین یونٹ نے انسداد اسمگلنگ مہم کے تحت کھلے سمندر میں ایک کارروائی میں بڑے پیمانے پر ہائی اسپیڈ ڈیزل اسمگل کرنے کی کوشش ناکام بنادی –

    تفصیلات کے مطابق کلکٹر کسٹمز انفورسمنٹ کراچی معین الدین وانی کے مطابق یہ کارروائی مصدقہ اطلاع پر بلوچستان کے ساحل سے متصل علاقے مالان میں کی گئی طلاع پر بروقت کارروائی سے سمندری راستے ڈیزل اسمگل کرنے کی کوشش ناکام بنادی گئی، انفورسمنٹ میرین یونٹ کی جانب سے الغفوری اور الکبیر نامی لکڑی کی دو لانچوں کو روک کر اسکی تلاشی لی تو دونوں لانچوں سے مجموعی طور پر 38ہزار 265لیٹر اسمگل شدہ ہائی اسپیڈ ڈیزل برآمد ہوا، بر آمدہ اسمگل شدہ ڈیزل اور دونوں لانچوں کی مالیت 4 کروڑ روپے سے زائد ہے حکام نے مقدمہ درج کرکے دونوں لانچیں اور اسمگل شدہ ڈیزل ضبط کرکے کسٹمز گودام منتقل کردیا ہے۔

    
دورہ پاکستان سے قبل آسٹریلیا کو دھچکا، پیٹ کمنز اور کئی اہم کھلاڑی باہر

    ای ٹیگ کے بغیر گاڑیوں کے خلاف کارروائی شروع

    اسحاق ڈار اور سعودی وزیر خارجہ کا ٹیلیفونک رابطہ

  • وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب کی سعودی ہم منصب سے ملاقات

    وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب کی سعودی ہم منصب سے ملاقات

    وفاقی وزیر برائے خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب نے آج ورلڈ اکنامک فورم 2026 کے موقع پر مملکتِ سعودی عرب کے وزیر خزانہ محمد الجدعان سے ملاقات کی۔

    ملاقات میں دونوں رہنماؤں نے پاکستان کی معاشی پیش رفت اور سعودی عرب کے ساتھ دیرینہ اقتصادی شراکت داری کو مزید مستحکم بنانے کے امکانات پر تبادلہ خیال کیاسعودی وزیر خزانہ محمد الجدعان نے پاکستان میں حالیہ معاشی بہتری پر اطمینان کا اظہار کیا، جبکہ وزیر خزانہ نے سعودی قیادت اور مملکت کی مسلسل معاونت پر شکریہ ادا کیا۔

    سینیٹر اورنگزیب نے اہم معاشی اشاریوں سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ پاکستان کی معیشت استحکام اور ترقی کی راہ پر ہے، زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ ہوا ہے اور درآمدات کے لیے قریباً 3 ماہ کا کور موجود ہے، جو معاشی استحکام کی نشاندہی کرتا ہے۔

    وزیر خزانہ نے سرمایہ کاروں کے بڑھتے ہوئے اعتماد کی جانب بھی توجہ دلائی اور بتایا کہ سولہ نئے آئی پی اوز زیرِ غور ہیں جبکہ گزشتہ سال نو آئی پی اوز کامیابی سے مکمل کیے گئے۔ کیپٹل مارکیٹ میں ایک لاکھ 20 ہزار سے زائد نئے سرمایہ کار شامل ہوئے ہیں، جو معیشت پر اعتماد کی علامت ہیں،شرحِ سود میں کمی کا عمل جاری ہے اور مانیٹری پالیسی کے فیصلے اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی خودمختاری کے تحت کیے جاتے ہیں۔

    وزیر خزانہ نے معاشی نمو اور ترسیلاتِ زر میں اضافے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ سال معاشی شرح نمو 3.1 فیصد رہی جبکہ رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں یہ بڑھ کر 3.7 فیصد ہو گئی انہوں نے آئی ٹی سروسز میں اضافے کو معاشی سرگرمیوں کے لیے مثبت قرار دیا اور سعودی عرب کی جانب سے فراہم کردہ معاونت کو سراہا۔

    اس موقع پر وزیر خزانہ نے غیر ملکی سرمایہ کاری کو فروغ دینے کے لیے حکومتی اقدامات کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ معدنیات، زراعت اور دیگر پیداواری شعبے سرمایہ کاری کی ترجیح ہیں، جو برآمدات میں اضافے اور مقامی روزگار کے مواقع پیدا کر سکتے ہیں۔

    انہوں نے نجکاری کے حوالے سے پیش رفت سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ اہم اقدامات میں متحدہ عرب امارات کی ڈیجیٹل شعبے میں سرمایہ کاری اور پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز سے متعلق معاملات شامل ہیں، اور آئندہ دیگر سرکاری اداروں، بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں اور بڑے ہوائی اڈوں کی نجکاری پر بھی کام جاری رہے گا۔

    سعودی وزیر خزانہ نے اپنی گفتگو میں مملکت میں نجکاری کے تجربات اور اصلاحات کی مثالیں دیتے ہوئے بتایا کہ سعودی ہوائی اڈے اصلاحات کے بعد منافع بخش ادارے بن چکے ہیں، ملاقات خوشگوار اور مثبت ماحول میں اختتام پذیر ہوئی، جس میں دونوں وزرائے خزانہ نے پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان اقتصادی تعلقات کو مزید وسعت دینے اور باہمی مفاد پر مبنی تعاون کو فروغ دینے کے عزم کا اعادہ کیا۔

  • افغانستان کے دارالحکومت کابل میں دھماکا، متعدد افراد ہلاک

    افغانستان کے دارالحکومت کابل میں دھماکا، متعدد افراد ہلاک

    افغانستان کے دارالحکومت کابل کے علاقے شہر نو میں ایک دھماکا ہوا ہے، جس کے نتیجے میں متعدد افراد ہلاک اور زخمی ہو گئے،جبکہ افغان حکام نے بھی دھماکے کی تصدیق کرتے ہوئے ہلاکتوں کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔

    طالبان کی وزارتِ داخلہ کے ترجمان عبدالمتین قانی نے روئٹرز کو بتایا کہ ابتدائی اطلاعات کے مطابق جانی نقصان ہوا ہے، تاہم ہلاکتوں اور زخمیوں کی حتمی تعداد بعد میں جاری کی جائے گی،واقعے کی تحقیقات ابھی جاری ہیں اور مزید تفصیلات جلد منظرعام پر آئیں گی-

    عالمی خبررساں ادارے کے مطابق شہرِ نو کا علاقہ زیادہ تر غیر ملکی باشندوں کی رہائش کے لیے جانا جاتا ہے اور اسے کابل کے محفوظ ترین علاقوں میں شمار کیا جاتا ہے۔

    افغان میڈیا کے مطابق طالبان حکومت کی جانب سے ابھی تک دھماکے کی نوعیت اور مزید تفصیلات جاری نہیں کی گئیں۔

    اسحاق ڈار اور سعودی وزیر خارجہ کا ٹیلیفونک رابطہ

    گل پلازہ میں خارجی راستوں پر بھی دکانیں بنانے کا انکشاف

    گل پلازہ متاثرین کو عدالتوں اور متعلقہ فورمز پر مفت قانونی معاونت فراہم کریں گے،کراچی بار

  • اسحاق ڈار اور سعودی وزیر خارجہ کا ٹیلیفونک رابطہ

    اسحاق ڈار اور سعودی وزیر خارجہ کا ٹیلیفونک رابطہ

    نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور سعودی عرب کے وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحانہ کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ ہوا ہے۔

    ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق اسحاق ڈار اور شہزادہ فیصل بن فرحان نے خطے کی موجودہ صورتحال اور دوطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے مواقع پر بات چیت کی، دونوں رہنماؤں نے سوئٹزر لینڈ کے شہر ڈیووس میں ہونے والے عالمی اقتصادی فورم کے موقع پر ملاقات کے دوران بات چیت جاری رکھنے کے عزم کا اظہار بھی کیا۔

    چین پاکستان کو جدید مہارتیں اور ٹیکنالوجی منتقل کر رہا ہے،وزیراعظم

    گل پلازہ متاثرین کو عدالتوں اور متعلقہ فورمز پر مفت قانونی معاونت فراہم کریں گے،کراچی بار

    گل پلازہ میں خارجی راستوں پر بھی دکانیں بنانے کا انکشاف

  • چین پاکستان کو جدید مہارتیں اور ٹیکنالوجی منتقل کر رہا ہے،وزیراعظم

    چین پاکستان کو جدید مہارتیں اور ٹیکنالوجی منتقل کر رہا ہے،وزیراعظم

    وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان کی معیشت استحکام کے مرحلے سے گزر کر اب پائیدار ترقی کی جانب گامزن ہو چکی ہے –

    وزیراعظم نےپیر کے روز پاک چین ایگری انویسٹمنٹ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان چین کے تجربات، مہارت اور جدید ٹیکنالوجی سے استفادہ کرتے ہوئے برسوں کے بجائے مہینوں میں نمایاں ترقی کر سکتا ہے پاکستان کی معیشت استحکام کے مرحلے سے گزر کر اب پائیدار ترقی کی جانب گا مزن ہو چکی ہے اور حکومت سی پیک 2.0 کو عملی حقیقت اور کامیابی میں تبدیل کرنے کے لیے پرعزم ہے۔

    وزیراعظم نے زراعت کو پاکستان کی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس شعبے میں بے پناہ امکانات موجود ہیں، تاہم جدید ٹیکنالوجی، بہتر آبی نظم و نسق، جدید کاشتکاری کے طریقوں، ویلیو چین، کولڈ چین اور ویلیو ایڈیشن کو فروغ دینا ناگزیر ہے حکومت نے اس سمت میں کچھ کامیابیاں حاصل کی ہیں لیکن ابھی بہت کام باقی ہے۔

    گل پلازہ متاثرین کو عدالتوں اور متعلقہ فورمز پر مفت قانونی معاونت فراہم کریں گے،کراچی بار

    انہوں نے بتایا کہ چین پاکستان کو جدید مہارتیں اور ٹیکنالوجی منتقل کر رہا ہے اور 2024 اور 2025 کے دوران بی ٹو بی اور جی ٹو جی سطح پر متعدد مفاہمتی یادد اشتوں پر دستخط ہو چکے ہیں، جنہیں اب عملی معاہدوں میں تبدیل کیا جا رہا ہے ایک ہزار پاکستانی زرعی گریجویٹس کو میرٹ کی بنیاد پر چین کی زرعی جامعات اور تحقیقاتی مراکز میں تربیت کے لیے بھیجا گیا، جو وطن واپس آ کر کسانوں کی رہنمائی کریں گے اور زرعی معیشت کی تقدیر بدلنے میں اہم کردار ادا کریں گے۔

    وزیراعظم نے چین کی زرعی ٹیکنالوجی، آئی ٹی اور مصنوعی ذہانت کے شعبوں میں ترقی کو قابلِ تقلید قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور چین کی دوستی آزمودہ، دیرپا اور فولاد سے مضبوط ہے رواں سال دونوں ممالک اپنے سفارتی تعلقات کی 75ویں سالگرہ منا رہے ہیں، جو اس گہر ے تعلق کی عکاسی ہے۔

    گل پلازہ میں خارجی راستوں پر بھی دکانیں بنانے کا انکشاف

    انہوں نے افراط زر میں کمی، پالیسی ریٹ میں نمایاں کمی، برآمدات میں اضافے اور دیگر معاشی اشاریوں میں بہتری کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی معیشت اب پائیدار ترقی کے راستے پر ہے نوجوان ملک کا سب سے قیمتی اثاثہ ہیں اگر نوجوانوں کی صلاحیتوں کو زرا عت، آئی ٹی اور مصنوعی ذہانت جیسے جدید شعبوں میں بروئے کار لایا جائے تو معیشت میں تیز رفتار تبدیلی ممکن ہے۔

    قبل ازیں چین کے سفیر جیانگ ژائی ڈونگ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان چین زرعی سرمایہ کاری کانفرنس میں شرکت ان کے لیے باعثِ مسرت ہے انہوں نے پاکستان کی معاشی بہتری اور وزیراعظم شہباز شریف کی قیادت میں حاصل ہونے والی کامیابیوں کو سراہتے ہوئے بتایا کہ مالی سال 2026 کی پہلی سہ ماہی میں معاشی ترقی کی شرح 3.71 فیصد تک پہنچ گئی ہے، مہنگائی 4 فیصد پر برقرار ہے، کرنٹ اکاؤنٹ سرپلس 2.1 ارب ڈالر ہو چکا ہے جبکہ زرمبادلہ کے ذخائر بڑھ کر 21.2 ارب ڈالر تک پہنچ گئے ہیں چین زرعی شعبے میں پاکستان کے ساتھ تعاون کو مزید وسعت دینا چاہتا ہے اور دوطرفہ زرعی تجارت کو ایک ارب ڈالر تک لے جانے کا ہدف ہے انہوں نے دہشتگردی کے خلاف پاکستان کی کوششوں کی حمایت جاری رکھنے اور سیکیورٹی تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا بھی اظہار کیا۔

    ہائی اسپیڈ ٹرین کا ٹکراؤ، 39 ہلاک , 100 سے زائد زخمی

    تقریب کے اختتام پر پاکستان اور چین کے درمیان دیرینہ برادرانہ تعلقات پر مبنی ایک دستاویزی فلم بھی دکھائی گئی، جس میں دونوں ممالک کے تجارتی، سفارتی اور ترقیاتی تعاون کو اجاگر کیا گیا تقریب میں وفاقی وزرا رانا تنویر حسین، جام کمال، اویس لغاری، عطا اللہ تارڑ، شزا فاطمہ خواجہ، پاکستان میں چین کے سفیر جیانگ ژائی ڈونگ، بیجنگ میں پاکستان کے سفیر خلیل ہاشمی، پاکستانی و چینی کمپنیوں کے نمائندے اور اعلیٰ سرکاری حکام موجود تھے-

  • گل پلازہ متاثرین کو عدالتوں اور متعلقہ فورمز پر مفت قانونی معاونت فراہم کریں گے،کراچی بار

    گل پلازہ متاثرین کو عدالتوں اور متعلقہ فورمز پر مفت قانونی معاونت فراہم کریں گے،کراچی بار

    کراچی بار کا کہنا ہے کہ کراچی بار گل پلازہ میں پیش آئے افسوسناک آتشزدگی کے واقعے پر گہرے دکھ اور رنج کا اظہار کرتی ہےاور لواحقین اور تاجروں کے شانہ بشانہ کھڑی ہے-

    تفصیلات کے مطابق کراچی بار کا کہنا تھا کہ گل پلازہ محض ایک تجارتی عمارت نہیں تھا بلکہ کراچی کی معاشی اور ثقافتی شناخت کا ایک اہم حصہ تھا گل پلازہ دہائیوں سے ہزاروں خاندانوں کا ذریعہ روزگار رہا، اس سانحے میں جاںبحق افراد کی درست تعداد شاید کبھی معلوم نہ ہو سکے تاہم تباہی کا حجم نا قابل تردید ہے تقریبا 1200 دکانیں مکمل طور پر تباہ ہو چکی ہیں اور 20 سے 25 ملین امریکی ڈالر مالیت کا سامان جل کر راکھ ہو گیامجموعی نقصان تقریبا 100 ملین امریکی ڈالر کے قریب ہے اصل المیہ انسانی جانوں کا نقصان، روز گار کا خاتمہ اور خاندانوں کا بے چینی اور کرب میں مبتلا ہونا ہے۔

    بار نے کہا کہ یہ سانحہ کوئی اچانک حادثہ نہیں بلکہ مسلسل غفلت، کمزور طرز حکمرانی اور انسانی جانوں سے لاپرواہی کا منطقی نتیجہ ہے کراچی بار لواحقین اور تاجروں کے شانہ بشانہ کھڑی ہے سانحہ سے متعلق تمام قانونی کارروائیاں بلا معاوضہ سر انجام دی جائیں گی،سینئر وکلا اور قانونی ماہرین پر مشتمل پروبونو لیگل کمیٹی بنانے کا فیصلہ کیا ہے کمیٹی تمام متاثرین کو عدالتوں اور متعلقہ فورمز پر مفت قانونی معاونت فراہم کرے گی۔

    گل پلازہ میں خارجی راستوں پر بھی دکانیں بنانے کا انکشاف

    واضح رہے کہ ایم اے جناح روڈ پر واقع گل پلازہ کراچی کے چند ان صف اول کے کاروباری مراکز میں شمار کیا جاتا ہے جہاں یومیہ بنیادوں پر سیکڑوں نہیں بلکہ ہزاروں کی تعداد میں لوگ خریداری کے لیے آتے تھے اور یہاں سے تھوک کا کام بھی ہوتا تھا لیکن بد قسمتی سے چند گھنٹوں میں جل کر راکھ کا ڈھیر بن گیا۔

    سانحہ گل پلازہ:جماعت اسلامی نے سندھ اسمبلی میں تحریک التوا جمع کرادی

  • گل پلازہ  میں خارجی راستوں پر بھی دکانیں بنانے کا انکشاف

    گل پلازہ میں خارجی راستوں پر بھی دکانیں بنانے کا انکشاف

    کراچی: گل پلازہ کا کمپلیکس پلان اور تعمیراتی تفصیلات سامنے آگئیں-

    سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی سے تمام اہم دستاویزات میں نقشے کے مطابق جتنی دکانیں بنانے کی اجازت دی گئی اس سے کئی زیادہ دکانیں بنائی گئیں جبکہ خارجی راستوں پر بھی دکانیں بنانے کا انکشاف ہوا ہے،گل پلازہ کی عمارت 1980 کی دہائی میں تعمیر کی گئی تھی۔

    سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے دستاویزات کے مطابق 1998 میں گل پلازہ کی عمارت میں اضافی منزل تعمیر کی گئی تھی، پارکنگ ایریا میں دکانیں بنیں اور چھت کو پارکنگ میں بدلا گیا 2003 میں گل پلازہ کی اضافی منزل کو ریگولائز کیا گیا تھاگل پلازہ کے مالک نے 14 اپریل 2003 کو کمپلیشن حاصل کیا تھا گل پلازہ میں بیسمنٹ سمیت تین منزلوں کی اجازت دی گئی تھی۔

    ہائی اسپیڈ ٹرین کا ٹکراؤ، 39 ہلاک , 100 سے زائد زخمی

    نقشے کے مطابق 1021 دکانوں کی تعمیر کی اجازت تھی لیکن نقشے کے برخلاف گل پلازہ میں 1200 دکانیں تعمیر کی گئی تھیں، گل پلازہ میں 179 دکانیں منظور شدہ نقشے سے زائد تعمیر ہوئیں۔ گل پلازہ میں راہداری اور باہر نکلنے کی جگہوں پر دکانیں بنائی گئیں، ممکنہ طور پر جو غیر قانونی طور پر دکانیں تعمیر کی گئیں اس کے سبب لوگ پلازہ سے باہر نہیں نکل سکے تاہم اس حوالے سے تحقیقاتی ٹیم ہی حتمی رپورٹ دے سکتی ہے-

    سانحہ گل پلازہ:جماعت اسلامی نے سندھ اسمبلی میں تحریک التوا جمع کرادی

  • سانحہ گل پلازہ:جماعت اسلامی نے سندھ اسمبلی میں تحریک التوا جمع کرادی

    سانحہ گل پلازہ:جماعت اسلامی نے سندھ اسمبلی میں تحریک التوا جمع کرادی

    کراچی:سانحہ گل پلازہ پر جماعت اسلامی نے سندھ اسمبلی میں تحریک التوا جمع کرادی۔

    سندھ اسمبلی کا اجلاس ڈپٹی اسپیکر کی زیر صدارت شروع ہوا۔ سانحہ گل پلازہ کے شہداء کے لئے سندھ اسمبلی میں خصوصی دعا کی گئی دعا کے بعد ایم کیو ایم ارکان اسمبلی ایوان میں کھڑے ہوگئے۔ ایم کیو ایم کے اپوزیشن لیڈر علی خورشیدی نے کہا کہ وہ سانحہ گل پلازہ پر بات کرنا چاہتے ہیں اس پر سعید غنی نے کہا کہ آپ بات کرلینا ہم منع کب کررہے ہیں۔ ڈپٹی اسپیکر نے کہا کہ سنجیدگی کا مظاہرہ کریں۔

    بعدازاں ایم کیو ایم کے ارکان اپنی نشستوں پر کھڑے ہوگئے سانحہ گل پلازہ پر احتجاج کیا، انصاف دو انصاف دو، ظالموں جواب دو خون کا حساب دو کے نعرے لگائے۔ ایم کیو ایم نے سندھ اسمبلی اجلاس سے واک آؤٹ کردیاسعید غنی نے کہا کہ معاملے کو سیاسی رنگ دینا مناسب نہیں، ہماری کوتاہیاں اجاگر کریں مگر شور نہ کریں، یہ طے ہوا تھا کہ گل پلازہ واقعہ پر سب بات کریں گے، کراچی کے لوگ اور سانحہ کے متاثرین دیکھ رہے ہیں، ایم کیو ایم والے تماشا لگانا چاہتے ہیں تو ان کی مرضی ہے۔

    سعید غنی نے کہا کہ 17 جنوری کی رات تقریباً سوا دس بجے گل پلازہ کی ایک دکان میں آگ لگی جو پلازہ میں پھیل گئی، پلازہ میں ایک ہزار اکیس دکانیں ہیں اطلاع ملتے ہی گاڑیاں جائے حادثے پر پہنچیں، صورتحال کے مطابق مزید گاڑیاں طلب کی گئیں، آگ بجھانے کے عمل میں 26 فائر ٹینڈر، 6 اسنارکل نے حصہ لیا، 33 ایمبولینس وہاں موجود تھیں، آگ لگنے کے بعد کراچی کی انتظامیہ وہاں موجود تھی، گل پلازہ کا رقبہ آٹھ ہزار گز ہے، جانیں بچاتے ہوئے ایک فائر ٹینڈر فرقان شہید ہوا ابھی تک 70 افراد کے متعلق ہمیں معلومات ملی کہ وہ لاپتہ ہیں ان میں سے آٹھ کی لاشیں مل چکی ہیں اور اب 62 لاپتا ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ وزیر اعلی نے اس حوالے سے اجلاس طلب کیا تھا جہاں تاجروں کے نمائندے بھی موجود تھے، جاں بحق کے عوض فی کس ایک کروڑ روپے معاوضہ دیا جائے گا، ایک کمیٹی قائم کی گئی ہے جس میں تاجر شامل ہیں جو نقصانات کا تخمینہ لگائیں گے،حکومت لوگوں کا کاروبار بحال کرنے میں بھی مدد کرے گی، کمشنر کراچی اور اے آئی جی کی کمیٹی اس واقعے کی مکمل تحقیقات کریں گے، اپوزیشن ممبران کا حق ہے کہ ہم پر تنقید کریں کیوں کہ ایک سانحہ ہوا ہے۔

    سندھ اسمبلی میں جماعت اسلامی کے پارلیمانی لیڈر محمد فاروق تحریک التوا میں کہا ہے کہ سانحہ گل پلازہ نے کراچی کے کرپٹ اور بوسیدہ نظام کو بے نقاب کردیا، فائر بریگیڈ کی کارکردگی پر سنگین سوالات اٹھ گئے ہیں، غفلت کے ذمہ داروں کا تعین کیا جائے۔

    محمد فاروق نے کہا کہ 1200 دکانوں پر مشتمل گل پلازہ میں آتشزدگی اور قیمتی جانوں کے ضیاع پر دکھ میں مبتلا ہوں، کراچی بلڈنگ اینڈ ٹاؤن پلاننگ ریگولیشن پر عملدرآمد نہیں ہورہا جس کے باعث شہر میں مزید مخدوش عمارتیں وجود میں آرہی ہیں۔

  • میڈم نور جہاں کا گانا بھارت میں دہائیوں بعد  مقبول

    میڈم نور جہاں کا گانا بھارت میں دہائیوں بعد مقبول

    بھارت میں میڈیم نور جہاں کا مشہور گیت ٹرینڈ کررہا ہے جو انہوں نے کئی دہائیوں پہلے ریکارڈ کیا تھا۔

    بھارتی ’جین زی‘ کے سوشل میڈیا ٹائم لائن پر پاکستان کی لیجنڈری گلوکاری میڈم نور جہاں کا گیت ’سانوں نہر والے پل تے بلا کے‘ ٹرینڈ کررہا ہے گانا زیادہ تر بھارت کے ’جین زی‘ اکاؤنٹس پر ریل کی صورت میں دکھائی دے رہا ہے اور بھارتی نوجوان اپنی مختلف ریلیز میں اس گانے کا استعمال کر رہے ہیں۔

    یہ گانا تقریباً 5 دہائیاں قبل ریکارڈ کیا گیا تھا لیکن میڈیم نور جہاں کی آواز اور اس گیت کے گہرے الفاظ نے نئی نسل کے دل جیت لیے ہیں اس گانے کی مقبولیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ انسٹاگرام پر محض 43 سیکنڈ کے ایک کلپ پر ایک لاکھ سے زیادہ ریلز بن چکی ہیں۔

    سپریم لیڈر پر حملہ ایران کے خلاف ہمہ گیر جنگ کا اعلان ہوگا،ایرانی صدر

    ’پٹیالہ محفل‘ نامی ایک گروپ کی جانب سے اس گانے کی ویڈیو پوسٹ کیے جانے کے بعد اسے کروڑوں ویوز ملے جب کہ نوجوان نسل اس گانے کے بول کو اپنے زندگی سے جوڑ رہی ہے جہاں انہیں اپنی ساتھی کو ڈیٹ کرنے کے مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہےصارفین نے اس کی وضاحت کی کہ آج جب ہم سے کوئی وعدہ کرکے غائب ہوجاتا ہے یا ہمیں اگنور کررہا ہوتا ہے۔

    ’دی لائن کنگ‘ اور ’الہٰ دین‘ کے تخیلق کار انتقال کر گئے

    واضح رہے کہ یہ گانا پہلی مرتبہ 14 ستمبر 1973 کو ریلیز ہونے والی پاکستانی پنجابی فلم ’دکھ سجناں دے‘ میں شامل کیا گیا تھا جب کہ یہ گیت میڈم نور جہاں کے البم ’سیونی میرا ماہی‘ میں بھی شامل ہوا جو ان کی وفات کے ایک سال بعد ریلیز ہوا تھا۔