Baaghi TV

Author: Ayesha Rehmani

  • 17 سے 18 جنوری کے بعد موسم کی شدت میں اضافے کا امکان

    17 سے 18 جنوری کے بعد موسم کی شدت میں اضافے کا امکان

    محکمہ موسمیات نے 17 سے 18 جنوری کے بعد موسم کی شدت میں اضافے کا امکان ظاہر کیا ہے-

    ڈی جی پی ڈی ایم اے عرفان علی کاٹھیا نے بتایا ہے کہ لاہور میں اس موسم سرما میں برفباری کا کوئی امکان نہیں ہے متعلقہ ادارے موسمیاتی صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہیں گزشتہ سال کے مقابلے میں رواں سال درجہ حرارت میں کمی آئی ہے، تاہم پنجاب میں بارش کا حجم کافی کم رہا ہے۔ رواں سال دسمبر میں پنجاب میں صرف 2.5 ملی میٹر بارش ہوئی جو کہ گزشتہ سال کے 11.2 ملی میٹر کے مقابلے میں 75 فیصد کم ہے۔

    ڈی جی پی ڈی ایم اے کا کہنا ہے کہ پنجاب میں شدید دھند بھی ایک بڑا چیلنج ہے اور جب تک بارش نہیں ہوتی، دھند کی صورتحال میں بہتری نہیں آ سکتی، مری اور گلیات میں 17 اور 18 جنوری کے بعد بارش اور برفباری کا امکان ظاہر کیا گیا ہے گزشتہ سال سردی کا موسم معمول سے طویل رہا تھا اور رواں سال بھی شدید سردی دیر سے شروع ہونے کے باعث طویل رہنے کا امکان ہے، کلائمیٹک پیٹرن تبدیل ہو رہا ہے اور مارچ یا اپریل کے آغاز تک سردی برقرار رہنے کا امکان ہے،17 سے 18 جنوری کے بعد موسم کی شدت میں اضافہ ہو سکتا ہے۔

  • پاکستان اور یو اے ای کے درمیان پری امیگریشن کلیئرنس کے باضابطہ معاہدے پر اتفاق

    پاکستان اور یو اے ای کے درمیان پری امیگریشن کلیئرنس کے باضابطہ معاہدے پر اتفاق

    اسلام آباد میں وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی سے ڈائریکٹر جنرل کسٹمز و پورٹ سیکیورٹی احمد بن لاحج الفلاسی کی قیادت میں متحدہ عرب امارات کے وفد نے ملاقات کی-

    ملاقات میں پاک۔یو اے ای تعلقات، باہمی تعاون اور مسافروں کے لیے امیگریشن کے عمل کو مزید آسان بنانے پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیاملاقات کے دوران پاکستان اور متحدہ عرب امارات کے درمیان “پری امیگریشن کلیئرنس” کے حوالے سے باضابطہ معاہدہ کرنے پر اتفاق کیا گیا اس نئے نظام کا آغاز ابتدائی طور پر پائلٹ بنیادوں پر کیا جائے گا، جس کا پہلا مرحلہ کراچی سے شروع ہوگا۔

    وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی نے بتایا کہ پری امیگریشن کلیئرنس کے تحت مسافروں کی امیگریشن اور متعلقہ کلیئرنس پاکستان ہی میں مکمل کی جائے گی۔ اس نظام کے نفاذ کے بعد مسافروں کو متحدہ عرب امارات پہنچنے پر طویل امیگریشن کارروائی سے نہیں گزرنا پڑے گا اور وہ ڈومیسٹک مسافروں کی طرح سیدھا ایئرپورٹ سے باہر نکل سکیں گے۔

    محسن نقوی کا کہنا تھا کہ اس اقدام سے سفر میں سہولت، وقت کی بچت اور مسافروں کے مجموعی تجربے میں نمایاں بہتری آئے گی۔ یو اے ای وفد نے اس منصوبے کو دونوں ممالک کے عوام کے لیے فائدہ مند قرار دیتے ہوئے مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی۔

    ملاقات میں اس بات پر بھی اتفاق ہوا کہ پائلٹ منصوبے کے انتظامی اور تکنیکی معاملات کو حتمی شکل دینے کے لیے متعلقہ حکام رابطہ کاری جاری رکھیں گے، جبکہ کامیاب پائلٹ کے بعد اس نظام کو مرحلہ وار مزید مقامات تک توسیع دی جائے گی۔

    یو اے ای وفد میں ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن جما عبداللہ القابی، ایگزیکٹو ڈائریکٹر ایئرپورٹس حماد سیف المشغونی اور دیگر اعلیٰ حکام شامل تھے۔ ملاقات میں وزیرِ مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری اور وفاقی سیکرٹری داخلہ خرم آغا بھی موجود تھے۔

  • پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کا امکان

    پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کا امکان

    عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں کمی کے باعث پاکستان میں بھی 16 جنوری سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کا امکان ہے۔

    ذرائع کے مطابق 16 جنوری سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 4 روپے 59 پیسے فی لیٹر تک کمی متوقع ہےپیٹرول کی قیمت میں 4 روپے 59 پیسے فی لیٹر اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 2 روپے 70 پیسے فی لیٹر کمی کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔

    دوسری جانب پیٹرول کی عالمی قیمت میں فی بیرل 2 ڈالر 74 سینٹ کمی ہوئی، جس کے بعد قیمت 69.27 ڈالر سے کم ہو کر 66.54 ڈالر فی بیرل پر آ گئی، پیٹرول پریمیم میں بھی فی بیرل 13 سینٹ کمی ریکارڈ کی گئی، جس کے بعد پریمیم 5 ڈالر 14 سینٹ سے گھٹ کر 5 ڈالر 1 سینٹ ہو گیا پیٹرول پر فی لیٹر کسٹم ڈیوٹی میں 72 پیسے کمی آئی جبکہ ایکسچینج ایڈجسٹمنٹ میں 68 پیسے فی لیٹر کمی ریکارڈ کی گئی، ان عوامل کے باعث پیٹرول کی ایکس ریفائنری قیمت میں 6 روپے 51 پیسے فی لیٹر کمی ہوئی اور نئی قیمت 145 روپے 57 پیسے سے کم ہو کر 139 روپے 6 پیسے فی لیٹر ہو گئی۔

  • آسٹریلیا ویمنز کرکٹ ٹیم کی کپتان کا ریٹائرمنٹ کا اعلان

    آسٹریلیا ویمنز کرکٹ ٹیم کی کپتان کا ریٹائرمنٹ کا اعلان

    آسٹریلیا ویمنز کرکٹ ٹیم کی کپتان اور مایہ ناز وکٹ کیپر بلے باز ایلیسا ہیلی نے بین الاقوامی کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کا اعلان کردیا ہے۔

    35 سالہ ایلیسا ہیلی نے معروف پوڈ کاسٹ ولو کاٹ پر اپنی ریٹائرمنٹ کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ وہ بھارت کے خلاف سیریز کے اختتام پر کرکٹ سے ریٹائر ہو جائیں گی، آئی سی سی ویمنز ٹی20 ورلڈ کپ 2026 سے پہلے فروری تا مارچ بھارت کے خلاف ہونے والی سیریز ان کے کیریئر کی آخری بین الاقوامی سیریز ہوگی، وہ گزشتہ کئی مہینوں سے اس بارے میں سنجیدگی سے غور کر رہی تھیں یہ فیصلہ آسان نہیں تھا، مگر کافی عرصے سے ذہنی تھکن اور مسلسل انجریز کے باعث وہ اس نتیجے پر پہنچی ہیں۔

    ایلیسا ہیلی بھارت کے خلاف ٹی20 انٹرنیشنل میچز میں حصہ نہیں لیں گی ٹیم کو ٹی20 ورلڈ کپ کی تیاری کے لیے کم وقت دستیاب ہے، اسی وجہ سے انہوں نے اس فارمیٹ سے خود کو الگ کرنے کا فیصلہ کیا ہے تاہم وہ ون ڈے سیریز اور پرتھ میں ہونے والے ڈے نائٹ ٹیسٹ میچ میں آسٹریلیا کی قیادت کریں گی۔

    2010 میں نیوزی لینڈ کے خلاف 19 برس کی عمر میں بین الاقوامی کرکٹ میں قدم رکھنے والی ایلیسا ہیلی نے آسٹریلیا کے لیے طویل اور شاندار سفر طے کیا وہ اب تک 162 ٹی20 انٹرنیشنل، 126 ون ڈے اور 11 ٹیسٹ میچز کھیل چکی ہیں۔

    میگ لیننگ کی ریٹائرمنٹ کے بعد 2023 میں ایلیسا ہیلی کو مستقل کپتان مقرر کیا گیا تھا ان کی قیادت میں آسٹریلیا نے انگلینڈ میں کھیلی گئی ملٹی فار میٹ ایشز سیریز میں 16-0 سے تاریخی کامیابی حاصل کی ان کے دورِ کپتانی میں ٹیم 2024 ویمنز ٹی20 ورلڈ کپ اور 2025 ویمنز ون ڈے ورلڈ کپ کے سیمی فائنل تک بھی پہنچی۔

    ایلیسا ہیلی کو خواتین کرکٹ کی خطرناک ترین وکٹ کیپر میں شمار کیا جاتا ہے۔ وہ آٹھ آئی سی سی ورلڈ کپ جیتنے والی آسٹریلوی ٹیموں کا حصہ رہ چکی ہیں، جن میں چھ ٹی20 اور دو ون ڈے ورلڈ کپ شامل ہیں۔ 2022 کامن ویلتھ گیمز میں آسٹریلیا کو گولڈ میڈل دلانے میں بھی انہوں نے اہم کردار ادا کیا۔

    ریٹائرمنٹ کے فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے ایلیسا ہیلی نے کہا کہ یہ فیصلہ جذباتی ضرور ہے، لیکن انہیں لگا کہ اب صحیح وقت آ گیا ہےآخری بین الاقوامی میچ بھارت کے خلاف پرتھ میں 6 سے 9 مارچ کے درمیان کھیلا جانے والا واحد ٹیسٹ میچ ہوگا وہ ہوم گراؤنڈ پر اپنے کیریئر کا اختتام کر نے پر مطمئن اور پُرجوش ہیں۔

  • ٹرمپ نے ایران سے تجارت کرنے والے ممالک پر 25 فی صد ٹیرف نافذ کر دیا

    ٹرمپ نے ایران سے تجارت کرنے والے ممالک پر 25 فی صد ٹیرف نافذ کر دیا

    واشنگٹن:امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران سے لین دین رکھنے والے ممالک کے خلاف سخت معاشی قدم اٹھاتے ہوئے تمام تجارتی سرگرمیوں پر 25 فیصد اضافی ٹیرف ادا کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔

    امریکی صدر کے مطابق ایران کے ساتھ تجارت کرنے والے کسی بھی ملک کو امریکا کے ساتھ ہونے والی تمام تجارتی سرگرمیوں پر 25 فیصد اضافی ٹیرف ادا کرنا ہوگا صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر جاری اپنے بیان میں واضح کیا کہ یہ فیصلہ فوری طور پر نافذ العمل ہوگا اور اس میں کسی قسم کی نرمی نہیں برتی جائے گی –

    رپورٹ کے مطابق امریکی صدر کا حالیہ حکم ایران میں جاری مظاہروں کے خلاف کریک ڈاؤن کے تناظر میں سامنے آیا ہےواضح رہے کہ ایران میں حکومت مخالف مظاہرے جاری ہیں اور امریکی انسانی حقوق تنظیم کے دعوے کے مطابق دو ہفتے سے جاری مظاہروں میں 500 سے زائد افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔

  • اسحاق ڈار اور ایرانی وزیر خارجہ  کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ، کشیدہ صورتِحال پر تفصیلی تبادلہ خیال

    اسحاق ڈار اور ایرانی وزیر خارجہ کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ، کشیدہ صورتِحال پر تفصیلی تبادلہ خیال

    پاکستان کے نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ ہوا ہے، جس میں خطے میں پیدا ہونے والی موجودہ کشیدہ صورتِحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

    اسحاق ڈار نے ایرانی وزیر خارجہ سے رابطہ کر کے ایران کی اندرونی اور علاقائی صورتحال پر گفتگو کی اور باہمی مشاورت جاری رکھنے کی ضرورت پر زور دیا ٹیلیفونک گفتگو کے دوران دونوں وزرائے خارجہ نے اس بات پر اتفاق کیا کہ پاکستان اور ایران ایک دوسرے کے ساتھ قریبی رابطے میں رہیں گےدونوں رہنماؤں نے اس عزم کا بھی اعادہ کیا کہ پاک ایران سفارتی روابط اور بات چیت کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا تاکہ بدلتی ہوئی صورتحال پر بروقت رابطہ ممکن رہے۔

    دوسری جانب ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ امریکا کے ساتھ رابطے کے ذرائع مکمل طور پر بند نہیں ہوئےان کے مطابق ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی اور امریکی نمائندے اسٹیو وٹکوف کے درمیان براہ راست رابطے کھلے ہیں اور ضرورت پڑنے پر دونوں کے درمیان پیغامات کا تبادلہ ہوتا رہتا ہے روایتی ثالث کے طور پر سوئٹزرلینڈ کے ذریعے بھی ایران اور امریکا کے درمیان رابطے برقرار ہیں۔

    ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان کا کہنا تھا کہ امریکا کی جانب سے بعض معاملات پر بات کی گئی اور کچھ عمومی خیالات کا اظہار کیا گیا، تاہم ایران نے کبھی بھی مذاکرات کے عمل سے پیچھے ہٹنے کا مؤقف اختیار نہیں کیا،اس وقت امریکا کی جانب سے سامنے آنے والے متضاد بیانات سنجیدگی کے فقدان کی نشاندہی کرتے ہیں، جس سے بات چیت کے عمل پر سوالات پیدا ہو رہے ہیں۔

  • ایران کے سابق جلاوطن ولی عہد رضا پہلوی کا خاندانی پس منظر

    ایران کے سابق جلاوطن ولی عہد رضا پہلوی کا خاندانی پس منظر

    رضا پہلوی جو سابقہ ایرانی سامراجی ریاست کے ولی عہد اور جلا وطن کیے گئے پہلوی خاندان کے سربراہ ہیں وہ ایران کے آخری بادشاہ محمد رضا پہلوی اور ملکہ فرح دیبا کے سب سے بڑے بیٹے ہیں۔

    رضا نکالے گئے ایک خود ساختہ مخالف گروہ، قومی مجلس ایران کے بانی اور سابق لیڈر اور ایران کی اسلامی جمہوری حکومت کے بڑے حریف ہیں بطور ولی عہد، رضا نے لابوک، ٹیکساس کے نزدیک ریز ایئر فورس بیس میں فضائی فوجی تربیت کے لیے سنہ 1977ء میں انقلاب ایران سے دو سال پہلے ایران چھوڑ دیا وہ اُس وقت کے بعد سے ایران واپس کبھی نہیں آئے۔

    فارسی شاونزم کے سب سے اونچے پیڈلرز کا تعلق ایک ایسے خاندان سے ہے جس کی ابتدا فارسی نہیں تھی رضا شاہ کے والد پالانی قبیلے سے تعلق رکھنے والے مازندرانی تھے، ان کی والدہ ایروملو ترک یریوان کے علاقے سے تھیں محمد رضا شاہ پہلوی کی والدہ، تاج الملوک، دوبارہ ایروملو تھیں، اس بار اس کی جڑیں باکو میں تھیں۔

    لہٰذا نام نہاد فارسی ولی عہد اور ان کا پورا گھر مازندرانی اور کاکیشین ترکوں کے ذخیرے کی پیداوار ہیں، پھر بھی وہ کچھ تخیل شدہ "خالص فارسی” نسب کے سرپرست کے طور پر اپنا روپ دھارتے ہیں ایک قوم پرست افسانہ جو خون کی لکیروں پر بنا ہے جو ہر موڑ پر اس سے متصادم رکھتے ہیں-

    محمد رضا شاہ پہلوی پوری دنیا اسے شاہ ایران کے نام سے جانتی تھی۔ وہ ایشیا میں امریکہ کا سب سے بڑا دوست تھا‘ یورپی پریس اسے ’’امریکن گورنر‘‘ کہتا تھا‘ وہ امریکی وفاداری میں بہت آگے چلا گیا‘ امریکہ نے اسے روشن خیالی اور اعتدال پسندی کا حکم دیا اور اس نے ایران میں داڑھی اور پردہ پر پابندی لگا دی۔ اس کے دور میں کوئی باپردہ عورت گھر سے نکلتی تھی تو پولیس سرے عام اس کا برقع پھاڑ دیتی تھی‘ شاہ ایران نے تمام زنانہ سکولوں‘ کالجوں اور یونیورسٹیوں میں سکرٹ کو یونیفارم بنا دیا‘ شراب نوشی‘ رقص اورزنا فیشن بن گیا۔

    شاہ کے دور میں ایران دنیا کا واحد ملک تھا جس میں کالجوں میں شراب کی دکانیں تھیں‘ یونیورسٹیوں میں خواتین کی سودے بازی ہوتی تھی اور اس مکروہ کاروبار کو قانونی حیثیت حاصل تھی‘ شاہ کے زمانے میں دو جرنیلوں کے ہم جنس پرست بیٹوں نے آپس میں شادی کی‘ سرکاری سطح پر نہ صرف ان کی دعوت ولیمہ ہوئی بلکہ شاہ اور اس کی کابینہ نے خصوصی طور پر اس تقریب میں شرکت کی۔ شاہ نے امریکہ کی محبت میں ایران میں موجود 42ہزار امریکیوں کو سفارتی حیثیت دے دی ‘ امریکہ نے شاہ ایران کے دفتر میں ’’گرین فون‘‘ لگا رکھا تھا اور اسے امریکہ سے جو ہدایات ملتی تھیں ‘ وہ ان پر فوری عملدرآمد کراتا تھا لیکن پھر شاہ کی امریکہ نواز پالیسیوں پر بغاوت ہوئی ‘ یہ بغاوت تین سال تک چلتی رہی‘ شاہ نے 12شہروں میں مارشل لاء لگا دیا‘ عوام نے اسے تسلیم کرنے سے انکار کر دیا-

    شاہ نے حکومت شاہ پور بختیار کے حوالے کی اور ملک سے فرار ہو گیا‘ اس کا خیال تھا امریکہ اب اس کی وفاداریوں کا بدلہ دے گا لیکن جوں ہی شاہ ایران کا طیارہ ایران کی حدود سے نکلا‘ امریکہ نے آنکھیں پھیر لیں‘ شاہ پہلے مصر گیا‘ پھرمراکش‘ پھر بہا ماس اور پھر میکسیکو‘ وہ اس دوران امریکہ سے مسلسل مدد مانگتا رہا لیکن وائٹ ہاؤس اس کا ٹیلی فون تک نہیں سنتا تھا شاہ ایران سواسال تک مارا مارا پھرتا رہا لیکن کسی نے اس کی مدد نہ کی‘ امریکہ نے اس کے اکاؤنٹس تک ’’سیز‘‘ کر دئیے‘آخر میں انورالسادات کام آیا اوراس نے اسے پناہ دے دی ۔

    جولائی 1980ء میں قاہرہ میں اس کاانتقال ہوا‘ انتقال کے وقت اس کے پاس اس کی تیسری بیوی کے سوا کوئی نہ تھا‘لوگ اس کا جنازہ تک پڑھنے نہ آئے چنانچہ اسے اس کے بیڈ روم ہی میں امانتاً دفن کردیا گیا-

    بعدازا ں اس کے بیٹےرضا شاہ پہلوی نے گزشتہ 40 سال سے ایرانی سیاسی منظرنامے میں اپنی جگہ بنانے کی کوشش کی ہے، اور بغیر کسی عوامی حمایت یا قانونی جواز کے بارہا ایران کے دشمن ممالک کا سہارا لیا ہے، جو ان کے عزائم میں موجود مایوسی اور سیاسی موقع پرستی کو ظاہر کرتا ہےحالیہ مظاہروں میں جہاں کچھ اپوزیشن جماعتیں ایران کے اندر سرگرم ہیں جب کہ کئی جلاوطن رہنما بیرونِ ملک سے اپنی آواز ملا رہے ہیں۔

    ایران، یورپ اور امریکا میں مقیم ایرانی تارکینِ وطن نے حالیہ مظاہروں کے حق میں برلن، لندن اور دیگر شہروں میں بھی احتجاجی ریلیاں نکالی جارہی ہیں. ایران کے سابق بادشاہ کے واحد ولی عہد رضا پہلوی اس وقت امریکا میں جلاوطن ہیں وہ ایران کے معزول بادشاہ محمد رضا شاہ پہلوی کے صاحبزادے ہیں۔

    رضا پہلوی ’’ایران نیشنل کونسل‘‘ نامی پلیٹ فارم سے ایک سیکولر اور جمہوری نظام کی حمایت کرتے نظر آتے ہیں اور دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ بادشاہت کی بحالی کے بجائے ریفرنڈم کے ذریعے نظام کے تعین کے حامی ہیں، انھیں ایرانی تارکینِ وطن اور کچھ نوجوانوں کی حمایت حاصل ہے، تاہم بائیں بازو اور جمہوری ریپبلکن حلقے ان کی سخت مخالفت کرتے ہیں۔

    ان کے ناقدین کا کہنا ہے کہ رضا پہلوی کے پاس ایران کے اندر مضبوط تنظیمی ڈھانچہ یا واضح حکمتِ عملی موجود نہیں۔

  • پنجاب میں مریم نواز کی مقبولیت، دعووں سے عمل تک کا سفر،تجزیہ: شہزاد قریشی

    پنجاب میں مریم نواز کی مقبولیت، دعووں سے عمل تک کا سفر،تجزیہ: شہزاد قریشی

    پنجاب میں مریم نواز کی مقبولیت، دعووں سے عمل تک کا سفر

    پنجاب کی سیاست میں اس وقت سب سے زیادہ زیرِ بحث نام وزیرِاعلیٰ مریم نواز شریف کا ہے۔ اقتدار سنبھالنے کے بعد ان کی حکومت کو اگر کسی ایک بنیاد پر پرکھا جائے تو وہ ہے عام آدمی کے مسائل کا براہِ راست نوٹس اور فوری اقدامات۔ یہی وجہ ہے کہ پنجاب کے شہری و دیہی علاقوں میں یہ سوال زور پکڑ رہا ہے کہ مریم نواز کی مقبولیت آخر کہاں تک جا پہنچی ہے؟ گزشتہ چند ماہ میں پنجاب حکومت نے جن شعبوں پر توجہ مرکوز کی، ان میں صحت، تعلیم، تجاوزات کے خلاف کارروائیاں، سرکاری دفاتر میں نظم و ضبط، مہنگائی کنٹرول، اور بیوروکریسی کی جوابدہی نمایاں ہیں۔ خاص طور پر کمشنرز، ڈپٹی کمشنرز اور اسسٹنٹ کمشنرز کو فیلڈ میں متحرک کرنے، کھلی کچہریوں اور عوامی شکایات کے فوری ازالے نے حکومت اور عوام کے درمیان فاصلے کم کیے ہیں۔

    مریم نواز کی سیاست کا ایک نمایاں پہلو یہ ہے کہ وہ کاغذی فائلوں کے بجائے زمینی حقائق پر یقین رکھتی دکھائی دیتی ہیں۔ تجاوزات اور قبضہ مافیا کے خلاف بلا امتیاز کارروائیاں ہوں یا سرکاری ہسپتالوں میں مفت ادویات اور سہولیات کی فراہمی، ان اقدامات نے عام شہری کو یہ احساس دلایا کہ حکومت واقعی اس کی دہلیز تک پہنچی ہے۔

    سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق مریم نواز کی مقبولیت اس وقت پنجاب کے شہری متوسط طبقے، سرکاری ملازمین اور کمزور طبقات میں خاصی مضبوط ہو چکی ہے۔ وہ طبقہ جو ماضی میں حکومتی دعووں سے مایوس تھا، اب عملی اقدامات کی وجہ سے محتاط امید کا اظہار کر رہا ہے۔ البتہ دیہی علاقوں میں یہ مقبولیت بتدریج بڑھ رہی ہے، جہاں مسائل کی نوعیت زیادہ گہری اور دیرینہ ہے۔

    یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ مقبولیت کا اصل امتحان تسلسل میں ہوتا ہے۔ اگر موجودہ اصلاحاتی عمل برقرار رہا، بیوروکریسی کو سیاسی دباؤ کے بغیر عوامی خدمت پر مجبور رکھا گیا اور مہنگائی و روزگار جیسے بنیادی مسائل پر ٹھوس پیش رفت ہوئی تو مریم نواز کی مقبولیت محض وقتی نہیں بلکہ دیرپا سیاسی سرمایہ بن سکتی ہے۔ پنجاب میں مریم نواز کی مقبولیت اس مرحلے پر ہے جہاں اعتماد بنتا ہوا نظر آ رہا ہے، مگر فیصلہ ابھی باقی ہے۔ عوام نے انہیں موقع دیا ہے، اب یہ ان کی حکمرانی کے تسلسل اور نتائج پر منحصر ہے کہ یہ مقبولیت عروج تک پہنچتی ہے یا محض ایک مضبوط آغاز تک محدود رہتی ہے۔

  • قوانین کی خلاف ورزیاں:امریکا میں ایک لاکھ سے زائد افراد کے ویزے منسوخ

    قوانین کی خلاف ورزیاں:امریکا میں ایک لاکھ سے زائد افراد کے ویزے منسوخ

    واشنگٹن: امریکا نے ویزا قوانین کی خلاف ورزیوں کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے ایک لاکھ سے زائد افراد کے ویزے منسوخ کر دیے ہیں، جن میں ہزاروں غیر ملکی طلبہ اور روزگار کے لیے آنے والے افراد بھی شامل ہیں۔

    امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دورِ صدارت کے پہلے سال کے دوران ایک لاکھ سے زیادہ ویزے منسوخ کیے گئے۔ ان میں کاروبار اور سیاحت کے ویزے رکھنے والے وہ افراد بھی شامل تھے جو مقررہ مدت ختم ہونے کے باوجود امریکا میں قیام پذیر رہے،جن افراد کے ویزے منسوخ کیے گئے ان میں 8 ہزار طلبہ اور 2 ہزار 500 روزگار کے لیے آنے والے افراد شامل ہیں-

    محکمہ خارجہ کا کہنا ہے کہ زیادہ تر کیسز میں افراد کے خلاف مجرمانہ ریکارڈ یا قانونی خلاف ورزیوں کے شواہد موجود تھے شراب نوشی کے دوران گاڑی چلانے، تشدد، چوری، بچوں سے بدسلوکی، منشیات کی تقسیم اور مالی بدعنوانی جیسے الزامات کی بنیاد پر بھی ویزے منسوخ کیے گئےامریکا کو محفوظ بنانے کے لیے ویزا منسوخی اور ملک بدری کی کارروائیاں آئندہ بھی جاری رکھی جائیں گی۔

    واضح رہے کہ گزشتہ سال اگست میں ٹرمپ انتظامیہ نے 55 ملین ویزا ہولڈرز کے ریکارڈ کا ازسرِنو جائزہ لینے کا اعلان کیا تھا۔

  • حماس نے غزہ کی انتظامی ذمہ داریوں سے علیحدگی کا اعلان کر دیا

    حماس نے غزہ کی انتظامی ذمہ داریوں سے علیحدگی کا اعلان کر دیا

    غزہ:فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس نے غزہ کی انتظامی ذمہ داریاں ایک آزاد فلسطینی ادارے کے حوالے کرنے کے احکامات جاری کر دیے ہیں۔

    تنظیم کی جانب سے واضح کیا گیا ہے کہ غزہ میں موجود تمام سرکاری و انتظامی ڈھانچے اب ایک خودمختار فلسطینی ٹیکنوکریٹک اتھارٹی کے تحت کام کریں گے حماس کے ترجمان حازم قاسم نے اس فیصلے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ یہ اقدام امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے غزہ امن کونسل کے قیام سے متعلق حالیہ بیان کے بعد اٹھایا گیا ہے،تنظیم نے غزہ کے تمام اداروں کو ہدایت دے دی ہے کہ وہ مکمل اختیارات آزاد فلسطینی ٹیکنوکریٹک باڈی کو منتقل کر دیں۔

    خبر رساں ادارے مڈل ایسٹ مانیٹر کے مطابق حازم قاسم نے دو ٹوک انداز میں کہا کہ غزہ کے انتظامی امور سے دستبردار ہونے کا فیصلہ حتمی اور غیر مبہم ہے، جس کا مقصد یہ ہے کہ نئی اتھارٹی بغیر کسی رکاوٹ کے اپنی ذمہ داریاں انجام دے سکے،اختیارات کی یہ منتقلی اس معاہدے کا حصہ ہے جس کے تحت غزہ میں جنگ بندی ممکن ہوئی تھی اس منصوبے پر شرم الشیخ میں دستخط کیے گئے تھے اور اس میں غزہ کے مستقبل کے انتظامی ڈھانچے سے متعلق واضح نکات شامل ہیں۔

    انہوں نے یاد دلایا کہ فلسطینی سیاسی دھڑوں کے درمیان اس سے قبل بھی اس بات پر اتفاق ہو چکا ہے کہ غزہ کا نظم و نسق ایک عارضی فلسطینی کمیٹی کے سپرد کیا جائے گا، جو آزاد شخصیات اور مقامی ماہرین پر مشتمل ہوگی یہ اتفاق 24 اکتوبر کو قاہرہ میں ہونے والے فلسطینی اجلاس میں طے پایا تھا۔

    واضح رہے کہ چند روز قبل حماس کے سیاسی بیورو کے رکن باسم نعیم نے بھی اس بات کا اعلان کیا تھا کہ غزہ میں ایک بااختیار فلسطینی حکومت کے قیام کے بعد حماس انتظامی کردار سے الگ ہونے کے لیے تیار ہے۔