Baaghi TV

Author: Ayesha Rehmani

  • لندن:دوافغان پناہ گز ین  12 سالہ لڑکی کے ساتھ زیادتی اور اغوا کے الزام میں  گرفتار

    لندن:دوافغان پناہ گز ین 12 سالہ لڑکی کے ساتھ زیادتی اور اغوا کے الزام میں گرفتار

    افغان "پناہ کے متلاشیوں” کے ایک جوڑے پر نیویٹن میں ایک 12 سالہ لڑکی کے ساتھ زیادتی اور اغوا کا الزام عائد کیا گیا ہے۔

    23 سالہ احمد ملاخیل نے 22 جولائی کی شام کو قصبے کی شیورل اسٹریٹ پر مبینہ طور پر بچے کے ساتھ زیادتی کی۔ اسے 26 جولائی کو گرفتار کیا گیا تھا اور اگلے دن اس پر فرد جرم عائد کی گئی تھی۔ 23 سالہ محمد کبیر کو بھی گرفتار کیا گیا تھا اور اس پر 31 جولائی کو 13 سال سے کم عمر لڑکی کے اغوا، گلا گھونٹنے ا اور عصمت دری کرنے کا الزام لگایا گیا تھا۔

    کوونٹری مجسٹریٹس کی عدالت میں پیش ہونے کے بعد اس جوڑے کو حراست میں لے لیا گیا ہے – ان کے کیس کی سماعت 26 اگست کو وارک کراؤن کورٹ میں ہوگی،ہفتہ کی سہ پہر کو پولیس کے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ فورس ابھی بھی واقعے کے گواہوں کی اپیل کر رہی ہے ، لیکن اس نے ان کے پس منظر کا ذکر نہیں کیا۔

    راہول گاندھی کا بی جے پی پر الیکشن چوری کا الزام ،بھارتی انتخابی نظام بے نقاب

    اس کے بعد نامعلوم ذرائع نے میل کو بتایا کہ واروکشائر پولیس نے کونسلرز اور مقامی حکام پر زور دیا کہ وہ یہ ظاہر نہ کریں کہ یہ جوڑا "کمیونٹی تناؤ” کو ہوا دینے کے خوف سے پناہ کے متلاشی کیسے تھے،اخبار نے شیورل روڈ کے قریب ایک گھر سے سی سی ٹی وی کی تصویریں شائع کیں جن میں 22 جولائی کی رات 8 بجے کے قریب ایک شخص کو ایک سفید فام لڑکی کے ساتھ چلتے ہوئے دکھایا گیا ہے-

    اسحٰاق ڈارسے ایران کے صدر کی ملاقات

  • راہول گاندھی کا بی جے پی پر الیکشن چوری کا الزام ،بھارتی انتخابی نظام بے نقاب

    راہول گاندھی کا بی جے پی پر الیکشن چوری کا الزام ،بھارتی انتخابی نظام بے نقاب

    بھارتی اپوزیشن لیڈر راہول گاندھی کے بی جے پی پر الیکشن چوری کے الزام نے بھارتی انتخابی نظام کا راز فاش کردیا ۔

    راہول گاندھی نے مودی سرکار پر لوک سبھا انتخابات میں 100 نشستوں پر دھاندلی کا الزام لگایا، اپوزیشن لیڈر راہول گاندھی نے مودی سرکار پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ انتخابی نظام کے بارے میں جب ڈیٹا جاری کریں گے تو یہ ایٹم بم ثابت ہوگا، بھارت کا انتخابی نظام پہلے ہی مر چکا ہے۔

    انہوں نے کہاکہ اگر نشستیں دھاندلی سے نہ جیتی گئی ہوتیں تو مودی بھارت کا وزیراعظم نہ ہوتا، راہول گاندھی نے دعویٰ کیا کہ ہم ثابت کریں گے کہ لوک سبھا کا الیکشن کیسے چوری کیا گیا، جس ادارے نے جمہوریت کا دفاع کرنا تھا، وہ خود مودی کے قبضے میں چلا گیا، مودی نے ووٹ کے ساتھ ساتھ بھارتی عوام کا اعتماد بھی چھین لیا، جو ووٹ بھارتی عوام کا حق تھا، وہ مودی کی ہوسِ اقتدار کی بھینٹ چڑھ گیا،جمہوریت کی قاتل، بی جے پی سرکار صرف چوری شدہ مینڈیٹ سے اقتدار پر قابض ہے۔

  • غیر رجسٹرڈ عازمین سے بھی حج درخواستیں وصول کرنے کا فیصلہ

    غیر رجسٹرڈ عازمین سے بھی حج درخواستیں وصول کرنے کا فیصلہ

    وفاقی حکومت نے حج کوٹہ مکمل نہ ہونے کے خدشے کے پیش نظر غیررجسٹرڈ عازمین سے بھی حج درخواستیں وصول کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

    ذرائع کے مطابق ساڑھے 4 لاکھ رجسٹرڈ عازمین سے سوا لاکھ کا حج کوٹہ مکمل نہ ہونے کا خدشہ ہے اس لیے وزارت مذہبی امورنےکم درخواستوں کے خدشے پر غیر رجسٹرڈ عازمین کو موقع دینےکا فیصلہ کیا ہے،رجسٹرڈ عازمین سے حج درخواستوں کی وصولی کل پیرسےشروع کی جائےگی، رجسٹرڈ عازمین سرکاری اسکیم کے تحت درخواستیں 4 سے 9 اگست تک جمع کرا سکتے ہیں۔

    ذرائع کے مطابق، غیر رجسٹرڈ عازمین سے درخواستوں کی وصولی 11 سے 16اگست تک جاری رہے گی، درخواستیں پہلے آئیے پہلے پائیےکی بنیاد پر وصول کی جائیں گی، حج درخواستوں کے لیے موقع رجسٹرڈ عازمین کو دیا جائے گا، 38 سے 42 روزہ حج کے لیے 5 لاکھ روپے جمع کرانا ہوں گے جبکہ 20 سے 25 روزہ مختصر حج کی پہلی قسط کے طور پر ساڑھے 5 لاکھ روپے جمع کرانا ہوں گے۔

  • اسحٰاق ڈارسے ایران کے صدر کی ملاقات

    اسحٰاق ڈارسے ایران کے صدر کی ملاقات

    نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحٰاق ڈار نے اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان سے ملاقات کی ہے۔

    ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ نے ایرانی صدر کا خیرمقدم کرتے ہوئے ایران کے ساتھ تاریخی اور برادرانہ تعلقات کے لیے پاکستان کے گہرے عزم کا اعادہ کیا اور زور دیا کہ یہ تعلقات مشترکہ تاریخ، ثقافتی ورثے، مذہب اور باہمی احترام کی مضبوط بنیادوں پر قائم ہیں۔

    صدر پزشکیان نے پاکستان کی حمایت کو سراہا اور مختلف شعبوں میں باہمی دلچسپی کے امور پر دوطرفہ تعاون کو فروغ دینے کے ایران کے عزم کو دہرایا،انہوں نے پاکستانی قیادت کے ساتھ بامعنی گفتگو کی خواہش کا بھی اظہار کیا تاکہ دونوں دوست ممالک کے سیاسی اور اقتصادی تعلقات کو مزید مستحکم بنایا جا سکے۔

    بعد ازاں میڈیا سے گفتگو میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحٰاق ڈار نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان اپنے برادر ملک ایران کے ساتھ کھڑا ہے اور تجارت، معیشت اور دیگر شعبوں میں اس کی حمایت جاری رکھے گا۔

    انہوں نے ایرانی صدر کے اس بیان کا بھی خیرمقدم کیا جو وزیراعظم کے اس وژن سے ہم آہنگ ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان تجارتی حجم کو 10 ارب ڈالر تک پہنچایا جائے،معاشی سرگرمیوں کو بڑھانے کے لیے باہمی اقتصادی ہم آہنگی قائم کرنا نہایت خوش آئند اور وقت کی ضرورت ہے۔

  • پاکستان اور ایران کا موجودہ تجارتی راہداریوں اور سرحدی سہولتوں کے مؤثر استعمال پر اتفاق

    پاکستان اور ایران نے اتوار کے روز دو طرفہ تجارت کو فروغ دینے اور سالانہ تجارتی حجم کو 8 ارب ڈالر تک پہنچانے پر اتفاق کیا ہے-

    وفاقی وزیر تجارت جام کمال اور ایرانی وزیر برائے صنعت، کان کنی اور تجارت، محمد اتابک کے درمیان ایرانی صدر مسعود پزشکیان کے پاکستان کے 2 روزہ سرکاری دورے کے موقع پر ہونے والی ملاقات میں یہ،فیصلہ،کیا گیا۔

    وزارتِ تجارت کے بیان کے مطابق،اعلیٰ سطح کی ملاقات نے دونوں ممالک کے اس نئی عزم کی عکاسی کی کہ وہ تجارت کو تیز کریں، سرحدی رکاوٹوں کو ختم کریں، اور ترجیحی شعبوں میں اعتماد پر مبنی شراکت داری قائم کریں، ملاقات کے دوران وفاقی وزیر جام کمال نے تصور پیش کیا کہ اگر مواقع سے بھرپور فائدہ اٹھایا جائے تو پاکستان اور ایران کے درمیان دو طرفہ تجارت آئندہ برسوں میں با آسانی 5 سے 8 ارب ڈالر سالانہ کی حد عبور کر سکتی ہے۔

    انہوں نے تجویز دی کہ ٹارگٹڈ تجارتی وفود ترتیب دیے جائیں، جن میں وفاقی اور صوبائی چیمبرز آف کامرس کے نمائندگان شامل ہوں، تاکہ مارکیٹ تک رسائی اور ریگولیٹری سہولت کاری پر توجہ مرکوز کی جا سکے، ہم نے یہ ماڈل بیلا روس سمیت دیگر جگہوں پر کامیابی سے آزمایا ہے، آئیے ایران کے لیے بھی یہی طریقہ اپنائیں، ان شعبوں سے آغاز کریں جہاں باہمی فائدے کی سب سے زیادہ گنجائش موجود ہے۔

    وزرا نے موجودہ تجارتی راہداریوں اور سرحدی سہولتوں کے مؤثر استعمال پر بھی اتفاق کیا، وفاقی وزیر جام کمال نے زور دیا کہ خطے میں تجارت کی صورت میں جو فوائد آسیان ممالک نے حاصل کیے، اسی طرح پاکستان اور ایران کو بھی چاہیے کہ جغرافیائی قربت کا فائدہ اٹھائیں، جغرافیہ ایک فائدہ ہے، پاکستان اور ایران کو فاصلے کے اس رعایتی فائدے کو استعمال کرنا چاہیے، اگر ہم نے یہ موقع ضائع کیا تو وقت اور لاگت دونوں کے نقصان کا سامنا ہوگا۔

    محمد اتابک نے پاکستان سے ایران کو برآمدات بڑھانے کے لیے جاری بات چیت کا ذکر کیا اور حال ہی میں طے پانے والے معاہدوں پر جلد عملدرآمد کی ترغیب دی، دونوں ممالک کے تاجر اور صنعت کار تیار ہیں۔ وہ ایک دوسرے پر اعتماد کرتے ہیں۔ اب انہیں صرف ہماری طرف سے ایک واضح اور مستقل سہولت کاری کا نظام درکار ہے۔“

    وزیر کمال نے کہا کہ دو طرفہ فوائد سے آگے بڑھ کر یہ رابطہ ترکی، وسطی ایشیا، روس اور مشرق وسطیٰ کے کچھ حصوں تک پھیل سکتا ہے، جو ایک مضبوط اور پائیدار اقتصادی بلاک کی بنیاد بن سکتا ہے،محمد اتابک نے اعلیٰ سطحی دوروں کے دوران باقاعدہ بی ٹو بی ڈے منعقد کرنے کی تجویز کی حمایت کی اور ایرانی کاروباری گروپوں کو پاکستان بھیجنے کی پیشکش بھی کی۔

    دونوں وزرا نے پاکستان اور ایران کے تاریخی تعلقات کا اعتراف کیا اور کہا کہ حالیہ علاقائی و عالمی حالات نے دونوں ممالک کو مزید قریب کر دیا ہے،محمد اتابک نے پاکستانی حکومت کے فعال کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ اگر آپ اور آپ کی ٹیم کی فوری شرکت اور عزم نہ ہوتا تو ہم اس مقام تک نہ پہنچتے، اب جو رفتار ہم نے حاصل کی ہے، اسے باقاعدہ تجارتی نتائج میں بدلنا ہوگا،جام کمال نے بھی اسی جذبے کا اظہار کیا اور کہا کہ دونوں حکومتوں اور نجی شعبے نے مل کر کام کرنے کی شدید خواہش ظاہر کی ہے۔

    انہوں نے کہا کہ سفارت کاری میں ایک ایسا لمحہ آتا ہے جب لوہا گرم ہوتا ہے، یہ وہی لمحہ ہے، ہمیں فوری عمل کرنا ہوگا، تاخیر چیزوں کو مزید پیچیدہ بنا دیتی ہے، جذبہ اور سیاسی عزم کے بعد ضابطہ کار آتا ہے، اور پاکستان ایران کے ساتھ اقتصادی تعلقات کو باقاعدہ چینلز جیسے جوائنٹ اکنامک کمیشن (جے ای سی)، بی ٹو بی تبادلے، اور شعبہ وار وفود کے ذریعے مزید گہرا کرنے کے لیے تیار ہے۔

    دونوں وزرا نے زراعت، لائیو اسٹاک، خدمات، توانائی، اور سرحد پار لاجسٹکس جیسے مخصوص شعبوں کی نشان دہی پر بھی اتفاق کیا، جن میں مستقبل میں تعاون بڑھایا جا سکتا ہے،باہمی تعلقات کے انسانی پہلو پر غور کرتے ہوئے، دونوں فریقین نے پاکستان اور ایران کے عوام کے درمیان ثقافتی اور لسانی اشتراک کو اجاگر کیا۔

    وزرا نے پاکستان-ایران جوائنٹ اکنامک کمیشن کے اگلے اجلاس کو تیزی سے منعقد کرنے، عوامی اور نجی شعبے کے اسٹیک ہولڈرز کی شرکت کو یقینی بنانے، اور سرحدی سہولت و تجارتی لاجسٹکس کو ترجیح دینے پر اتفاق کیا، میں کہا گیا کہ اعلیٰ سطح کی سیاسی ہم آہنگی اور باہمی اعتماد کے ساتھ، پاکستان اور ایران بظاہر اسٹریٹجک اقتصادی شراکت داری کے ایک نئے مرحلے میں داخل ہونے کے لیے تیار ہیں، جو خطے کی تجارت کو بدل سکتا ہے۔

  • پی سی بی کا ورلڈ چیمپئن شپ آف لیجنڈز کے رویے پر سخت ردعمل

    پی سی بی کا ورلڈ چیمپئن شپ آف لیجنڈز کے رویے پر سخت ردعمل

    لاہور: پاکستان کرکٹ بورڈ نے ورلڈ چیمپئن شپ آف لیجنڈز کے دوہرے معیار اور متعصبانہ رویے پر شدید مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے سخت ردعمل دیا ، آئندہ پاکستانی کھلاڑیوں کی اس ایونٹ میں شرکت پر مکمل پابندی عائد کر دی ہے۔

    چیئرمین پاکستان کرکٹ بورڈ محسن نقوی کی زیر صدارت پی سی بی کے بورڈ آف گورنرز کا خصوصی اجلاس ہوا، جس میں بورڈ ممبران ظہیر عباس، زاہد اختر زمان، سجاد علی کھوکھر، ظفر اللہ، تنویر احمد، محمد اسماعیل قریشی، انوار احمد خان، طارق سرور اور دیگر نے شرکت کی۔

    اس کے علاوہ چیف آپریٹنگ آفیسر پی سی بی سمیر احمد، چیف ایگزیکٹو آفیسر پی ایس ایل سلمان نصیر، چیف فنانشل آفیسر جاوید مرتضیٰ اور ڈائریکٹر انٹرنیشنل کرکٹ عثمان واہلہ بھی اجلاس میں شریک ہوئےاجلاس میں ورلڈ چیمپئن شپ آف لیجنڈز کے دوہرے معیار اور متعصبانہ رویے پر شدید مایوسی کا اظہار کیا گیا اور پاکستانی کھلاڑیوں پر آئندہ ورلڈ چیمپئن شپ آف لیجنڈز میں شرکت پر پابندی کا متفقہ فیصلہ کیا گیا۔

    اس حوالے سے بورڈ آف گورنرز پی سی بی نے کہا کہ ڈبلیو سی ایل نے جان بوجھ کر میچز نہ کھیلنے والی ٹیم کو پوائنٹس دینے کا یک طرفہ فیصلہ کیا جو کھیل کی روح کے منافی ہے، پاک بھارت میچز کی منسوخی کے حوالے سے جاری کردہ پریس ریلیز دوہرے معیار اور تعصب کا پلندہ تھی،پریس ریلیز میں کھیلوں کو سیاسی مفادات اور محدود کمرشل ترجیحات کے تابع کر کے چیمپئن شپ کے بڑے مقصد کو روندا گیا، پی سی بی ہمیشہ سے کھیل کو سیاست سے الگ رکھنے کا علمبردار رہا ہے، ٹورنامنٹ کے بنیادی اصولوں کو کسی بھی غیر مرئی دباؤ کے تحت پامال کرنا افسوسناک ہے۔

    بورڈ آف گورنرز نے کہا کہ لیجنڈز لیگ کے منتظمین کا یہ جانبدارانہ رویہ مستقبل کیلئےخطرناک اور تشویشناک ہے، ڈبلیو سی ایل کی جانب سے معذرت بلاواسطہ اعتراف ہے کہ میچز کی منسوخی کھیلوں کے اصولوں پر نہیں بلکہ مخصوص قوم پرستی کے بیانیے کے دباؤ پر ہوئی، بین الاقوامی کھیلوں کی دنیا میں یہ دوغلا اور متعصبانہ رویہ ناقابل برداشت اور ناقابل قبول ہے۔

    اجلاس کے مطابق بیرونی دباؤ پر کھیلوں کے غیر جانبدارانہ اصولوں کی خلاف ورزی سے انتہائی افسوسناک صورتحال پیدا ہوئی، پی سی بی آئندہ اپنی ٹیم کو اس ٹورنامنٹ میں شرکت کے لیے نہیں بھیج سکتا، پاکستانی کھلاڑیوں کو ایسے مقابلے میں شرکت کی اجازت نہیں دے سکتے جسے سیاست کی تنگ نظری نے داغدار کر دیا ہو۔

    خیال رہے کہ ورلڈ چیمپئن شپ آف لیجنڈز کے راؤنڈ میچ اور سیمی فائنل میں بھارت نے پاکستان کے ساتھ کھیلنے سے انکار کیاتھا، پاکستان اور بھارت کے درمیان آخری ٹیسٹ سیریز 2008 میں ہوئی تھی بعد ازاں ممبئی دھماکوں کے بعد بھارت نے دو طرفہ کرکٹ تعلقات ختم کر دیے تھے، پھر 2012 میں پاکستان نے ون ڈے سیریز کے لیے شاہد آفریدی کی قیادت میں بھارت کا دورہ کیا تھا جس میں بھارتی کو اپنی ہی عوام کے سامنے شکست کا سامنا ہوا تھا،بعد ازاں پاکستان اور بھارت کی ٹیمیں صرف آئی سی سی ٹورنامنٹ میں ایک دوسرے کے مدمقابل آئیں۔

    پھر حالیہ پہلگام واقعے کے بعد پاکستان اور بھارت کے درمیان تعلقات کشیدہ ہوئے جس کا اثر دونوں ممالک کے کھیلوں پر بھی ہوا۔ بھارت نے پہلگام واقعے کا الزام پاکستان پر لگایا تھا جس کے بعد صورتحال مزید بدتر ہوئی،بھارت کے کھیلوں کے میدان میں سیاست کو لانے کی وجہ سے کرکٹ کا نقصان ہوا ہے-

  • امریکی دھمکیوں کے باوجود بھارت روس سے تیل کی خریداری جاری رکھے گا

    امریکی دھمکیوں کے باوجود بھارت روس سے تیل کی خریداری جاری رکھے گا

    نئی دہلی:امریکی دھمکیوں کے باوجود بھارت روس سے تیل کی خریداری جاری رکھے گا۔

    غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی دباؤ اور صدر ٹرمپ کی جانب سے دی گئی دھمکیوں کے باوجود بھارت نے روس سے تیل خریدنے کی پالیسی تبدیل نہیں کی،بھارتی حکومت نے کسی بھی آئل کمپنی کو روسی خام تیل خریدنے سے روکنے کی ہدایات جاری نہیں کیں، بھارت اور روس کے درمیان تیل کے طویل المدتی معاہدے موجود ہیں، جنہیں فوری طور پر ختم کرنا ممکن نہیں۔ تاہم یہ بھی کہا گیا ہے کہ بھارت کی چار سرکاری آئل ریفائنریز نے اس بار روسی خام تیل میں دلچسپی ظاہر نہیں کی۔

    واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 14 جولائی کو اعلان کیا تھا کہ روس سے تیل خریدنے والے ممالک پر 100 فیصد ٹیرف عائد کیا جائے گاامریکہ نے بھارت پر 25 فیصد ٹیرف بھی لگا دیا ہے، جس کے بعد بھارت نے امریکا سے ففتھ جنریشن ایف 35 اسٹیلتھ فائٹر جیٹ خریدنے میں عدم دلچسپی ظاہر کر دی ہے،بین الاقوامی تجزیہ کاروں کے مطابق بھارت اپنی توانائی ضروریات اور خارجہ پالیسی کو امریکی دباؤ کے تحت نہیں چلائے گا اور روس کے ساتھ اپنے تعلقات برقرار رکھے گا۔

  • ایرانی صدر کی وزیراعظم ہاؤس آمد، شہباز شریف کی جانب سے پرتپاک استقبال،گارڈ آف آنر بھی پیش کیاگیا

    ایرانی صدر کی وزیراعظم ہاؤس آمد، شہباز شریف کی جانب سے پرتپاک استقبال،گارڈ آف آنر بھی پیش کیاگیا

    ایران کے صدر کے اعزاز میں وزیراعظم ہاؤس میں باضابطہ استقبالیہ تقریب منعقد کی گئی، وزیراعظم شہباز شریف نے صدر مسعود پزشکیان کی وزیراعظم ہاؤس آمد پر ان کا پرتپاک استقبال کیا۔

    ایوان وزیراعظم میں منعقدہ تقریب کے دوران دونوں ملکوں کے قومی ترانے پڑھے گئے، جس کے بعد مسلح افواج کے چاق وچوبند دستے نے معزز مہمان کو سلامی پیش کی،صدر مسعود پزشکیان نے سلامی کے چبوترے سے اتر کر گارڈ آف آنر کا معائنہ کیا اور جس کے بعد وزیراعظم نے ایرانی صدر کا اپنی کابینہ کا تعارف کرایا جبکہ مہمان صدر نے وزیراعظم شہریف کا اپنی کابینہ سے تعارف کرایا، بعدازاں ایرانی صدر ایوان صدر میں پودا لگایا۔

    ایرانی صدر گزشتہ روز پاکستان پہنچے تھے اور اپنے دورے کے آغاز پر انہوں نے لاہور میں شاعر مشرق علامہ اقبال کے مزار پر حاضری دی، جہاں انہوں نے پھولوں کی چادر چڑھائی اور فاتحہ خوانی کی۔ بعد ازاں انہوں نے مسلم لیگ (ن) کے صدر اور وزیراعظم پاکستان شہباز شریف سے بھی غیر رسمی ملاقات کی تھی۔

    سفارتی ذرائع کے مطابق وزیراعظم ہاؤس میں ہونے والی آج کی ملاقات میں دونوں رہنماؤں کے درمیان وفود کی سطح پر مذاکرات ہوں گے جن میں مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے کے لیے معاہدوں اور مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کیے جائیں گے ملاقات میں تجارت، توانائی، سرحدی تعاون، اور علاقائی امن و سلامتی جیسے اہم امور زیر بحث آئیں گے،ایرانی صدر چیئرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی اور اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق سے بھی علیحدہ ملاقاتیں کریں گے، جن میں پارلیمانی سطح پر تعاون کو فروغ دینے پر گفتگو ہوگی۔

    وزیراعظم ہاؤس میں ایرانی صدر کے اعزاز میں ظہرانے کا بھی اہتمام کیا گیا ہے، جس میں اعلیٰ حکومتی اور سفارتی شخصیات شرکت کریں گی،آج شام ایرانی صدر کی صدر مملکت آصف علی زرداری سے بھی ملاقات شیڈول ہے، جہاں دونوں صدور کے درمیان دوطرفہ تعلقات کو مزید وسعت دینے پر گفتگو ہوگی صدر پاکستان کی جانب سے ڈاکٹر مسعود پزشکیان کے اعزاز میں سرکاری عشائیہ بھی متوقع ہے۔

  • بنوں: فتنہ الہندوستان کا پولیس چوکی پر حملہ، اہلکار شہید، 3 دہشتگرد ہلاک

    بنوں: فتنہ الہندوستان کا پولیس چوکی پر حملہ، اہلکار شہید، 3 دہشتگرد ہلاک

    خیبرپختونخوا کے ضلع بنوں میں پولیس چوکی فتح خیل پر دہشتگرد حملے میں ایک اہلکار شہید جبکہ 3 زخمی ہوگئے، 3 دہشت گرد بھی مارے گئے۔

    بنوں میں پولیس چوکی فتح خیل پر دہشت گردوں نے رات گئے حملہ کیا، ایک پولیس اہلکار شہید اور تین زخمی ہوگئے، دہشت گردوں نے بھاری ہتھیاروں کا استعمال کیا،پولیس کے مطابق شہید اہلکارکی شناخت کانسٹیبل نیاز کے نام سے ہوئی، زخمیوں میں اہلکار منیر، سوداد اور مفتی محمود شامل ہیں، پولیس کی جانب سے مؤثر جوابی کارروائی میں 3 دہشت گرد مارے گئے، باقی فرار ہو گئے ان کے دیگر دم دبا کر ساتھی فرار ہوگئے، ریسکیو نے زخمی پولیس اہلکاروں کو ہسپتال منتقل کردیا، جہاں انہیں طبی امداد دی جارہی ہے۔

    وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے پولیس چوکی فتح خیل پر حملے کی شدید مذمت کی ہے، انہوں نے شہید اہلکار کو خراج عقیدت اور ورثا سے تعزیت کا اظہار کیا، انہوں نے زخمی اہلکاروں کی جلد صحت یابی کے لیے دعا بھی کی،محسن نقوی نے کہا کہ پولیس نے بھارتی حمایت یافتہ دہشت گردوں کا بہادری سے مقابلہ کیا، بھارتی اسپانسرڈ دہشت گردوں کی ہلاکت پر پولیس کو خراج تحسین کرتے ہیں۔

  • تونسہ کے مقام پر پانی کی سطح میں اضافہ، بستیاں اور فصلیں زیر آب

    تونسہ کے مقام پر پانی کی سطح میں اضافہ، بستیاں اور فصلیں زیر آب

    دریائے سندھ میں تونسہ کے مقام پر پانی کی سطح میں اضافہ ہوگیا اور دریا کنارے کچے کی مزید دو بستیاں اور فصلیں زیر آب آگئیں۔

    سیلاب متاثرین کی کشتیوں کے ذریعے نقل مکانی جاری ہے، ضلعی انتظامیہ کی جانب سےعلاقے میں 15 ریلیف کیمپس قائم کیے گئے لیکن سیلاب متاثرین منتقل نہ ہوئے،انتظامیہ کے مطابق کچے کے مکین اپنا گھر اور سامان چھوڑنے پر آمادہ نہیں ہیں۔

    ادھر حافظ آباد کے بعد مختلف دیہاتوں میں حالیہ بارش کے بعد پانی کی نکاسی نہ ہو سکی جس سے وبائی امراض پھیلنے لگے ہیں،اس کے علاوہ گلگت بلتستان میں شاہراہ بابوسر پر لاپتا سیاحوں کی تلاش تیرہویں روز بھی جاری ہے، نجی ٹی وی کی خاتون اینکر اور ان کا خاندان اب تک لاپتا ہیں،ترجمان گلگت بلتستان حکومت کے مطابق وزیراعظم پاکستان جلد گلگت بلتستان کادورہ کریں گے۔

    ادھرمحکمہ موسمیات نے ملک کے مختلف علاقوں میں تیز ہواؤں اور گرج چمک کے ساتھ بارش کی پیشگوئی کر دی،آج ملک کے بیشترعلاقوں میں موسم گرم اورشدید حبس برقرار رہنے کا امکان ہے۔اسلام آباد راولپنڈی میں مزید بارش ہونے کی توقع ہے،خطہ پوٹھوہار، بالائی خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان، کشمیر اور ملحقہ پہاڑی علاقوں میں تیز ہواؤں اور گرج چمک کے ساتھ چند مقامات پر بارش ہونے کا امکان ہےگذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران بالائی و وسطی پنجاب، کشمیر، بالائی خیبر پختونخوا اور ژوب میں تیزہواؤں اور گرج چمک کے ساتھ چند مقامات پر بارش ہوئی۔ ملک کے دیگر علاقوں میں موسم گرم اور شدید حبس رہا۔

    محکمہ موسمیات نے ملک بھر میں 4 سے 7 اگست کے دوران موسلادھار بارشوں کی پیش گوئی کی ہے جس کے مطابق کشمیر، گلگت بلتستان اور بالائی علاقوں میں تیز ہواؤں اور گرج چمک کے ساتھ بارش ہونے کا امکان ہے جبکہ اسلام آباد، پنجاب اور خیبرپختونخوا کے مختلف علاقوں میں بھی وقفے وقفے سے موسلادھار بارشیں ہونے کا امکان ہے، 6 اگست کوسندھ اور بلوچستان کے کئی علاقوں میں شدید بارشوں کا امکان ہے اور نشیبی علاقوں میں پانی جمع ہونے، ندی نالوں میں طغیانی اور مقامی سیلابی صورتحال پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔