Baaghi TV

Author: Ayesha Rehmani

  • دعا ملک کا انڈسٹری میں ہراسانی کا انکشاف

    دعا ملک کا انڈسٹری میں ہراسانی کا انکشاف

    اداکارہ دعا ملک نے انکشاف کیا ہے کہ انہیں اپنے کیریئر کے دوران کاسٹنگ کاؤچ کا سامناکرنا پڑا، اور اس واقعے میں ملوث شخصیت پاکستان کی ایک نہایت معروف ہستی ہیں۔

    دعا ملک نے پوڈکاسٹ میں گفتگو کے دوران شوبز انڈسٹری کے مختلف پہلوؤں اور اپنی ذاتی زندگی پر کھل کر روشنی ڈالی ان کا کہنا تھا کہ وہ نہیں چاہتیں کہ ان کے بچے بھی اس انڈسٹری کا حصہ بنیں، اسی لیے وہ انہیں امریکا لے آئیں تاکہ وہ اس ماحول سے دور رہیں۔

    کاسٹنگ کاؤچ پر بات کرتے ہوئے ابتدا میں دعا ملک نے کہا کہ انہیں کبھی ایسا تجربہ نہیں ہوا ان کے مطابق ہر فنکار کی اپنی شخصیت ہوتی ہے، اور اگر کوئی مضبوطی کے ساتھ ’نہ‘ کہہ سکے تو وہ اس قسم کی صورتحال سے بچ جاتا ہے، انڈسٹری میں بہت سی لڑکیاں اپنی کمزوری کے باعث دباؤ میں آ جاتی ہیں، لیکن وہ اور ان کی بہن حمائمہ ملک ہمیشہ ڈٹ کر جواب دیتی تھیں۔

    وزیراعظم کی زیر صدارت سرمایہ کاری کو فروغ دینے کے لیے اجلاس

    دعا ملک نے مزید بتایا کہ وہ بچپن سے کچھ ڈرپوک سی تھیں، لیکن ان کی بہن حمائمہ بہت بہادر ہیں، اسی لیے دونوں کو کبھی ایسے حالات کا سامنا نہیں کرنا پڑا، تاہم، بعد میں انہوں نے یہ انکشاف کیا کہ صرف ایک بار انہیں کاسٹنگ کاؤچ جیسے مسئلے کا سامنا کرنا پڑا، جس کے نتیجے میں ان کے کیریئر کو سخت نقصان پہنچا۔

    انہوں نے اس واقعے کی مزید تفصیلات بتانے سے گریز کرتے ہوئے کہا کہ ایسا کرنے والی شخصیت پاکستان کی ایک بہت بڑی ہستی ہیں، اس لیے وہ اس معاملے کو کبھی عوامی سطح پر ظاہر نہیں کریں گی۔ دعا ملک نے واضح کیا کہ اگرچہ وہ اس وقت امریکا میں مقیم ہیں لیکن ان کا خاندان پاکستان میں رہتا ہے، اور وہ نہیں چاہتیں کہ ان کے بیان کی وجہ سے ان کے اہلخانہ کو نقصان پہنچے۔

    پیپلز پارٹی، ن لیگ کی اتحادی نہیں ہے صرف ساتھ دیتے ہیں،شرجیل میمن

  • پیپلز پارٹی، ن لیگ کی اتحادی نہیں ہے صرف ساتھ دیتے ہیں،شرجیل میمن

    پیپلز پارٹی، ن لیگ کی اتحادی نہیں ہے صرف ساتھ دیتے ہیں،شرجیل میمن

    سندھ کے سینیئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کراچی میں جام صادق پل کا دورہ کیا –

    سینیئر وزیر نے یلو لائن بی آر ٹی منصوبے کے ترقیاتی کاموں کا جائزہ لیا، انجنیئرز، کنسلٹنٹس اور دیگر حکام نے سینیئر وزیر شرجیل انعام میمن کو منصوبے کی پیش رفت سے متعلق بریفنگ دی،سیکریٹری ٹرانسپورٹ اسد ضامن، یلو لائن بی آر ٹی کے پی ڈی بھی سینئر وزیر شرجیل انعام میمن کے ہمراہ تھے۔

    میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے شرجیل میمن کا کہنا تھا کہ جام صادق پر اب آخری مراحل میں ہے اور ایک ہفتے میں مکمل کر لیا جائے گا، پیپلز پارٹی عوام کو سہولیات دے رہی ہے اور ٹرانسپورٹ کے کئی منصوبوں پر کام جاری ہے، ڈبل ڈیکر بسیں بھی جلد کراچی پہنچ جائیں گی۔

    گندم کی قلت سے وفاق کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا پیپلز پارٹی، ن لیگ کی اتحادی نہیں ہے صرف ساتھ دیتے ہیں لیکن وفاقی حکومت کو گندم کی قلت کے حوالے سے خود کو عقل کل نہیں سمجھنا چاہیے۔

    قبل،ازیں،انہوں ںے کہاتھا کہ اس پل پر پیدل چلنے والوں اور سائیکل سواروں کے لیے علیحدہ راستے بنائے گئے ہیں، پل کی ایک راہداری بی آر ٹی کے لیے مخصوص ہوگی جبکہ باقی سڑک عام ٹریفک کے استعمال میں رہے گی، اس پُل کی تکمیل کے بعد پرانا جام صادق پل منہدم کرکے اسی طرز کا نیا پل تعمیر کیا جائے گا۔

    شرجیل انعام میمن نے کہا تھاکہ یلو لائن بی آر ٹی کے ڈیپوز پر بھی کام جاری ہے یہ منصوبہ تکمیل کے بعد کراچی کے شہریوں کے لیے نہایت جدید سہولت فراہم کرے گا، عالمی بینک کے تعاون سے جاری یہ منصوبہ شہر کی ٹرانسپورٹ میں نمایاں اضافہ کرے گا، اس منصوبے سے ٹریفک کے مسائل کم ہوں گے، ریڈ لائن بی آر ٹی کے مرکزی راہداری پر بھی کام تیز رفتاری سے ہو رہا ہے آئندہ ماہ شہر میں ڈبل ڈیکر بسیں لائی جائیں گی اور بڑی تعداد میں الیکٹرک بسیں بھی شامل کی جائیں گی۔

  • بلوچستان:  سوئی سے بگٹی قبیلے کے 9 چرواہے  اغوا

    بلوچستان: سوئی سے بگٹی قبیلے کے 9 چرواہے اغوا

    ضلع ڈیرہ بگٹی کی تحصیل سوئی میں کم از کم 9افراد کو اغوا کر لیا گیا۔

    لیویز حکام نے بتایا کہ مسلح افراد کے ایک گروپ نے تحصیل سوئی کے علاقے گوٹھان میں پہنچ کر لوگوں کو اسلحے کے زور پر یرغمال بنایا اور کم از کم 9 افراد کو نامعلوم مقام پر لے گئے،اغوا ہونے والے افراد بگٹی قبیلے کی ہجوّانی شاخ سے تعلق رکھتے ہیں اور مویشی چرانے کا کام کرتے تھے، اغوا کی اس واردات نے علاقے میں خوف و ہراس پھیلا دیا ہے۔

    لیویز اور دیگر سیکیورٹی اہلکار 9 افراد کے اغوا کی اطلاع ملتے ہی علاقے میں پہنچ گئے اور علاقے کو گھیرے میں لے لیا،اغوا شدہ چرواہوں کو تلاش کرنے اور تمام نو مغویوں کی بحفاظت بازیابی کو یقینی بنانے کے لیے آپریشن شروع کر دیا گیا ہے۔

  • کئی ماہ بعد پہلی بار  ایلون مسک اور ڈونلڈ ٹرمپ کی عوامی سطح پر ملاقات

    کئی ماہ بعد پہلی بار ایلون مسک اور ڈونلڈ ٹرمپ کی عوامی سطح پر ملاقات

    مریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور معروف ٹیکنالوجی کمپنی ٹیسلا کے سربراہ ایلون مسک کی کئی ماہ بعد پہلی بار عوامی سطح پر ملاقات ہوئی یہ ملاقات قدامت پسند سیاسی کارکن اور ٹرننگ پوائنٹ یو ایس اے تنظیم کے بانی چارلی کرک کی یاد میں منعقدہ تقریب میں ہوئی۔

    ملاقات کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئی جس میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ایلون مسک امریکی صدر کے پاس آئے اور ان کے ساتھ خالی نشست پر بیٹھ گئے۔ دونوں نے ہاتھ ملایا اور پھر پرجوش انداز میں گفتگو کرنے لگے یہ ان کی جون 2025 میں ہونے والی علیحدگی کے بعد پہلی عوامی ملاقات تھی،چارلی کرک کے یادگاری پروگرام میں ہونے والی اس غیر متوقع ملاقات کے بعد سیاسی حلقوں میں یہ قیاس آرائیاں زور پکڑ گئی ہیں کہ دونوں شخصیات کے درمیان تعلقات کی بحالی ممکن ہو سکتی ہے۔

    https://x.com/elonmusk/status/1969897602524328440

    ایلون مسک نے ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ اپنی ملاقات کی ایک تصویر سوشل میڈیا پر شیئر کی اور کیپشن میں لکھا ’چارلی کے لیے‘۔

    ایلون مسک سے ملاقات کے بعد جب صحافیوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے اس ملاقات پر سوال کیا تو انہوں نے کہا کہ ایلون مسک آئے اور سلام کیا، یہ ایک خوشگوار بات تھی کہ وہ خود چل کر ملنے آئے اور کچھ گفتگو بھی کی، ہمارے تعلقات ہمیشہ اچھے رہے ہیں، اور یہ ملاقات خوش آئند رہی۔

    https://x.com/WEdwarda/status/1969898422158434545

    واضح رہے کہ ایلون مسک اور ٹرمپ کے تعلقات میں اس وقت تناؤ پیدا ہوا تھا جب ایلون مسک نے صدر ٹرمپ کی پالیسیوں پر کھلےعام تنقید کی تھی، جس کے بعد وہ حکومتی عہدے سے الگ ہو گئے تھےایلون مسک نے خصوصی حکومتی مشیر کے طور پر 130 دن خدمات انجام دینے کا فیصلہ کیا تھا، جو 30 مئی کو مکمل ہونا تھیں، تاہم انہوں نے مدت مکمل ہونے سے 2 روز قبل ہی استعفیٰ دے دیا،اس کے بعد اپنی سوشل میڈیا پوسٹس میں ایلون مسک نے ڈونلڈ ٹرمپ پر شدید تنقید کی تھی-

  • شمالی کوریا کی امریکا  کےساتھ  مذاکرات کی مشرو ط پیشکش

    شمالی کوریا کی امریکا کےساتھ مذاکرات کی مشرو ط پیشکش

    شمالی کوریا کے سربراہ کم جونگ نے کہا ہے کہ اگر امریکا اصرار چھوڑ دے کہ شمالی کوریا اپنے ایٹمی ہتھیار ترک کرے، تو امریکا سے مذاکرات کے لیے کوئی رکاوٹ نہیں ہے۔

    سرکاری خبر رساں ادارے کے سی این اے کے مطابق کم جونگ ان نے اتوار کو سپریم پیپلز اسمبلی سے خطاب میں کہا کہ ذاتی طور پر میری امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ اچھی یادیں وابستہ ہیں، امریکا اور جنوبی کوریا کی مشترکہ فوجی مشقیں دراصل ایٹمی جنگ کی تیاری ہیں اور انہی خطرات کے پیشِ نظر شمالی کوریا کے لیے ایٹمی ہتھیار بنانا بقا کا مسئلہ ہے۔

    یہ پہلا موقع ہے کہ کم جونگ نے جنوری میں ٹرمپ کے منصبِ صدارت سنبھالنے کے بعد اُنہیں براہِ راست نام لے کر یاد کیا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق یہ امریکا کے لیے ایک دعوت ہے کہ وہ اپنی پالیسی پر نظرِ ثانی کرے۔

    دوسری جانب جنوبی کوریا کے صدر لی جے میونگ نے روئٹرز کو دیے گئے انٹرویو میں کہا کہ شمالی کوریا سالانہ 15 سے 20 ایٹمی بم تیار کر رہا ہے اگر اس پیداوار کو روکنے کا معاہدہ ہو جائے تو یہ ایک بڑی پیش رفت ہوگی جس سے طویل المدتی مذاکرات کے ذریعے ایٹمی ہتھیاروں میں کمی اور مستقبل میں مکمل تخفیفِ اسلحہ ممکن ہو سکتی ہے۔

    تاہم کم جونگ نے اس مرحلہ وار منصوبے کو بھی مسترد کر دیا اور کہا کہ واشنگٹن اور سیئول کے اقدامات کا مقصد دراصل شمالی کوریا کو کمزور کرنا اور اس کے نظام کو ختم کرنا ہےانہوں نے خبردار کیا کہ دنیا اچھی طرح جانتی ہے کہ امریکا کسی ملک کو ایٹمی ہتھیار چھوڑنے اور غیر مسلح کرنے کے بعد کیا کرتا ہے۔ ہم کبھی اپنے ایٹمی ہتھیار نہیں چھوڑیں گےتاہم مثبت لہجے کے باوجود انہوں نے واضح الفاظ میں کہا کہ وہ ایٹمی ہتھیار ترک نہیں کریں گے اور نہ ہی جنوبی کوریا کے ساتھ بات چیت کریں گے جسے انہوں نے اصل دشمن قرار دیا۔

  • امریکا نے فلسطین کو تسلیم کرنے کے فیصلے کو نمائشی اقدام قرار دیدیا

    امریکا نے فلسطین کو تسلیم کرنے کے فیصلے کو نمائشی اقدام قرار دیدیا

    واشنگٹن: امریکا نے فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کے اقدامات کو نمائشی قرار دے دیا۔

    امریکی محکمہ خارجہ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ برطانیہ، آسٹریلیا، کینیڈا اور دیگر ممالک کا فلسطین کو تسلیم کرنا نمائشی اقدام ہے ہماری ترجیح نمائشی اعلانات نہیں بلکہ سنجیدہ سفارتکاری ہے اور امن، اسرائیل کی سیکیورٹی اور یرغمالیوں کی رہائی ہماری ترجیح ہےخطے میں امن وخوشحالی صرف حماس کے بغیر ممکن ہے۔

    دوسری جانب اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے بھی اس اقدام کو ’دہشت گردی کے لیے غیر معمولی انعام‘ قرار دیا ہے،اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے کہا کہ ہمیں اقوام متحدہ سمیت ہر فورم پر اس پروپیگنڈے اور فلسطینی ریاست کے مطالبے کے خلاف لڑنا ہوگا، کیونکہ یہ اسرائیل کے وجود کو خطرے میں ڈالنے اور دہشت گردی کو انعام دینے کے مترادف ہے۔

    واضح رہے کہ آسٹریلیا، برطانیہ اور کینیڈا کے بعد آج فرانس بھی فلسطین کو ریاست تسلیم کرنے والے بڑے ممالک کی صف میں شامل ہو جائے گا،یہ فیصلہ 2 ریاستی حل کے حق میں عالمی کوششوں کو ایک بڑی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

    برطانوی وزیراعظم کیئر اسٹارمر نے کہا کہ مستقبل کی فلسطینی حکومت یا سیکیورٹی ڈھانچے میں حماس کا کوئی کردار نہیں ہوگا، ساتھ ہی انہوں نے حماس کے رہنماؤں پر نئی پابندیوں کا اعلان بھی کیا،کینیڈین وزیراعظم مارک کرنی نے کہا کہ اسرائیلی حکومت شعوری طور پر فلسطینی ریاست کے قیام کی راہ میں رکاوٹ ڈال رہی ہے، اسی لیے کینیڈا نے فلسطین کو تسلیم کرنے کا فیصلہ کیا،پرتگال کے وزیرِ خارجہ پاؤلو رینجل کے مطابق فلسطین کو تسلیم کرنا ان کی مستقل اور دیرینہ پالیسی ہے، جبکہ آسٹریلوی حکومت نے واضح کیا کہ یہ اقدام دو ریاستی حل کے لیے عالمی حمایت کا حصہ ہے۔

  • مودی کی بھارتی شہریوں سے غیر ملکی مصنوعات کے بائیکاٹ کی اپیل

    مودی کی بھارتی شہریوں سے غیر ملکی مصنوعات کے بائیکاٹ کی اپیل

    بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ غیر ملکی مصنوعات کے بجائے مقامی اشیا استعمال کریں –

    مودی کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکا اور بھارت کے تجارتی تعلقات میں تناؤ پایا جا رہا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے بھارتی مصنوعات پر 50 فیصد ٹیرف عائد کیے جانے کے بعد مودی نے ایک بار پھر ’سودیشی‘ یعنی بھارت میں تیار کردہ اشیا کے استعمال پر زور دیا ہے۔

    مودی نے قوم سے خطاب میں کہا کہ ہم روزمرہ کی زندگی میں بے شمار غیر ملکی مصنوعات استعمال کرتے ہیں، لیکن اب وقت آ گیا ہے کہ ہم اس عادت کو ترک کریں اور صرف بھارتی مصنوعات خریدیں، انہوں نے ریاستی حکومتوں اور دکانداروں سے بھی کہا کہ وہ مقامی اشیا کی پیداوار اور فروخت کو ترجیح دیں تاکہ ملکی معیشت کو سہارا مل سکے۔

    نریندر مودی نے قوم سے خطاب میں کہاکہ بہت سی مصنوعات جو ہم روزانہ استعمال کرتے ہیں غیر ملکی ہیں، ہمیں اس کا پتا نہیں ہوتاہمیں ان سے چھٹکارا حاصل کرنا ہو گاہمیں وہی مصنوعات خریدنی چاہییں جو بھارت میں بنی ہوں،’ تاہم انہوں نے کسی ملک کا نام نہیں لیا۔

    مودی نے اپنے خطاب میں جی ایس ٹی اصلاحات کا اعلان بھی کیا، جس کے تحت اب زیادہ تر روزمرہ کی اشیا پر صرف 5 اور 18 فیصد کے دو ٹیکس سلیب ہوں گے اس اقدام سے خوراک، دواؤں اور ضروری اشیا کی قیمتوں میں کمی اور کاروبار و سرمایہ کاری میں اضافے کی توقع ظاہر کی گئی ہے۔

    غیر ملکی میڈیا کے مطابق مودی کے حامیوں نے امریکی برانڈز جیسے میکڈونلڈز، پیپسی اور ایپل کے بائیکاٹ کی مہم بھی شروع کر دی ہے بھارت کی بڑی مارکیٹ میں یہ برانڈز خاص طور پر مقبول ہیں اور آن لائن ریٹیلر ایمیزون کے ذریعے ان کی رسائی چھوٹے شہروں تک بھی بڑھ چکی ہے،گزشتہ چند ہفتوں میں کئی کمپنیوں نے مقامی مصنوعات کی تشہیر میں اضافہ کر دیا ہے۔

    بھارت کے وزیرِ تجارت پیوش گوئل جلد ہی واشنگٹن کا دورہ کریں گے تاکہ تجارتی مذاکرات میں شریک ہو سکیں، یہ دورہ دو طرفہ تعلقات میں کشیدگی کم کرنے کی کوششوں کے دوران ہو گا

  • فرانس آج فلسطین کو ریاست تسلیم کرنے کا اعلان کرے گا

    فرانس آج فلسطین کو ریاست تسلیم کرنے کا اعلان کرے گا

    آج فرانس بھی فلسطین کو ریاست تسلیم کرنے کا اعلان کرے گا۔

    غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق باضابطہ اعلان سے پہلے ہی فرانس میں ایفل ٹاور پر فلسطین کے پرچم لگا دیئے گئے ہیں،فرانسیسی صدر ایمانویل میکرون کا کہنا ہے کہ اسرائیل کی حماس کے خلاف حکمت عملی ناکام ہوگئی اور غزہ جنگ سے اسرائیل کی ساکھ کو نقصان پہنچ رہا ہے، پائیدارامن کیلئے دوریاستی حل ضروری ہے۔

    واضح رہے کہ آسٹریلیا، برطانیہ، کینیڈا اور پرتگال فلسطین کو بطور ریاست تسلیم کر چکے ہیں،کینیڈین وزیراعظم مارک کارنی نے فلسطینی ریاست کو تسلیم کرتے ہوئے شراکت داری کی پیشکش بھی کی،

    آسٹریلیا نے بھی دو ریاستی حل کے حمایت کرتے ہوئے کہا کہ ان کی جانب سے فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنا دو ریاستی حل کیلئے عالمی کوششوں کا حصہ ہے،اسی طرح پرتگال کے وزیر خارجہ نے فلسطین کو باضابطہ ریاست تسلیم کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ یہ فیصلہ پرتگال کی خارجہ پالیسی کی ایک مستقل اور بنیادی لائن ہے جو دو ریاستی حل کو پائیدار امن کا واحد راستہ سمجھتا ہے۔

    دوسری جانب امریکا کا کہنا ہے کہ برطانیہ، آسٹریلیا، کینیڈا اور دیگر ممالک کا فلسطین کو تسلیم کرنا نمائشی اقدام ہےامریکی محکمہ خارجہ نے کہا کہ ہم سنجیدہ سفارتکاری پر یقین رکھتے ہیں، نمائشی اعلانات پر نہیں اور ہماری ترجیحات میں امن، اسرائیل کی سیکیورٹی اور یرغمالیوں کی رہائی شامل ہے۔

  • مسئلہ فلسطین کے منصفانہ حل کیلئے اپنی تمام تر توانائیاں بروئے کار لائیں گے،سعودی وزیر خارجہ

    مسئلہ فلسطین کے منصفانہ حل کیلئے اپنی تمام تر توانائیاں بروئے کار لائیں گے،سعودی وزیر خارجہ

    سعودی عرب کے وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان نےکہا ہے کہ فلسطینی عوام کی مشکلات کے خاتمے اوروہاں جاری پرتشدد چکر کو روکنے کے لیے کوششیں جاری رکھیں گے۔

    پاکستانی سرکاری خبر رساں ادارےکی رپورٹ کے مطابق سعودی وزیرخارجہ نے اس بات پر زور دیا کہ فلسطین کا مسئلہ سعودی عرب کی اولین ترجیحات میں شامل ہے اور ہر بین الاقوامی فورم پر مملکت اس پر اپنا مؤقف بھرپور انداز میں پیش کرتی ہے،سعودی عرب مسئلہ فلسطین کے منصفانہ حل کے لیے اپنی تمام تر توانائیاں بروئے کار لائے گا، جس کا آغاز آزاد فلسطینی ریاست کے قیام سے ہوگا اور جس کا مقصد خطے میں جامع اور پائیدار امن قائم کرنا ہے۔

    سعودی پریس ایجنسی واس سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس سال سعودی عرب اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اعلیٰ سطحی اجلاس میں امن اور انصاف کا پیغام لے کر شریک ہو رہا ہے،مملکت نے اپنے بانی شاہ عبدالعزیز کے دور سے لے کر آج تک اور موجودہ خادم حرمین شریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز اور ولی عہد و وزیراعظم شہزادہ محمد بن سلمان کی قیادت میں ہمیشہ امن کے قیام، مکالمے کو فروغ دینے اور پرامن حل تلاش کرنے میں قائدانہ کردار ادا کیا ہے۔

    شہزادہ فیصل بن فرحان نے کہا کہ سعودی عرب بدستور خطے اور دنیا میں منصفانہ امن کے قیام کے لیے ہر ممکن جدوجہد کر رہا ہےانہوں نے یاد دلایا کہ سعودی عرب اقوام متحدہ کے بانی ارکان میں سے ایک ہے اور اسے 1945 میں تنظیم کے پہلے اجلاس میں شرکت کا اعزاز حاصل ہے سعودی عرب تنازعات کے حل اور امن کے قیام کی بھرپور تاریخ رکھتا ہے جو اس کی متوازن خارجہ پالیسی اور وسیع تعلقات کی بدولت ممکن ہوا۔

    انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ سعودی عرب نے ہمیشہ اقوام متحدہ کے منشور کو عملی شکل دینے کے لیے بھرپور کردار ادا کیا ہے، جس کا مقصد بین الاقوامی قوانین کے احترام کو فروغ دینا ، دنیا میں سکیورٹی اور امن قائم کرنا اور کثیرالجہتی تعاون کے تمام مواقع کو تقویت دینا ہے۔

  • اسرائیل کا گریٹر اسرائیل کا منصوبہ خاک میں مل گیا ہے،حافظ طاہر محمود اشرفی

    پاکستان علما کونسل کے چیئرمین حافظ طاہر محمود اشرفی نے کہا ہے کہ پاکستان اور سعودی عرب کے دفاعی معاہدے کے بعد اسرائیل کا گریٹر اسرائیل کا منصوبہ خاک میں مل گیا ہے –

    لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے طاہر محمود اشرفی کا کہنا تھا کہ آج عالمی یوم امن ہے اور پاک-سعودی عرب معاہدہ پورے عالم میں امن کا ضامن بنے گا جب کہ بہت سارے اسلامی و عرب ممالک پاکستانی حکومت کے ساتھ رابطے میں ہیں،پاکستان اور سعودی عرب دفاعی معاہدہ سے سب سے پہلے گریٹر اسرائیل کا خواب زمیں بوس ہوگیا ہے، قطر کے بعد دنیائے اسلام سوچ رہی اپنے فیصلہ خود کرنے ہیں۔

    چیئرمین پاکستان علما کونسل نے کہا کہ کل کئی ممالک آزاد فلسطین ریاست کو تسلیم کرنے کا اعلان کریں گے، اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو جو بار بار پاکستان کا نام لیتا تھا، پاک – سعودی دفاعی معاہدے کے بعد اسے سانپ سونگھ گیا ہے، اگر ہم افغانستان کو روس سے آزادی دلا سکتے ہیں تو اپنے دفاع کی بھی جنگ لڑ سکتے ہیں۔

    حافظ طاہر اشرفی نے کہا کہ افغان بھائیوں کے لیے پاکستان نے بے شمار قربانیاں د یں اگر اس سرزمین سے کوئی ہمارے لوگوں کو شہید کرتا ہے تو کیا جائز ہے، کبھی کسی پاکستانی نے افغانستان میں کسی کا خون بہایا ہو تو دکھاؤ،پاکستان دفاعی لحاظ سے مضبوط ملک ہے، معرکہ حق میں پاک افواج نے بھارت کو شکست دی جب کہ افواج پاکستان دہشت گردی کے خلاف سیسہ پلائی دیوارکی مانند کھڑی ہے۔