Baaghi TV

Author: Ayesha Rehmani

  • محکمہ موسمیات کی بروقت پیشگوئی ، گلگت بلتستان میں سیکڑوں جانیں بچ گئیں

    محکمہ موسمیات کی بروقت پیشگوئی ، گلگت بلتستان میں سیکڑوں جانیں بچ گئیں

    گلگت بلتستان: محکمہ موسمیات کے بروقت پیشگی الرٹس اور ارلی وارننگ کے باعث سیکڑوں قیمتی جانیں بچا لی گئیں۔

    محکمہ موسمیات پاکستان کے مطابق گلگت بلتستان کے علاقے ہنزہ نگر میں واقع ہِسپر ہوُپر گلیشیئر کے پھٹنے اور ممکنہ سیلابی صورتحال کے پیش نظر قبل از وقت الرٹ جاری کیا گیا تھا الرٹ کے بعد مقامی انتظامیہ نے فوری کارروائی کرتے ہوئے آبادی کو محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا۔

    محکمہ موسمیات کے مطابق 5 جون کی رات 8 بج کر 52 منٹ پر ہِسپر گلیشیئر سے پانی کا اخراج شروع ہوا جو بعد ازاں خطرناک گلیشیائی سیلابی ریلے میں تبدیل ہوگیا،تاہم بروقت وارننگ اور مؤثر اقدامات کے باعث کسی قسم کا جانی نقصان نہیں ہوا۔

  • پنکی کوئی رول ماڈل نہیں جس پر ڈرامہ بنایا جائے،حنا پرویز بٹ

    پنکی کوئی رول ماڈل نہیں جس پر ڈرامہ بنایا جائے،حنا پرویز بٹ

    لاہور : مسلم لیگ ن کی رہنما اور چیئرپرسن پنجاب ویمن پروٹیکشن اتھارٹی حنا پرویز بٹ نے مبینہ طور پر منشیات فروشی میں ملوث کردار ‘انمول عرف پنکی’ پر ڈرامہ بنانے کی خبروں پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے متعلقہ پروڈکشن ہاؤسز کو آڑے ہاتھوں لے لیا، کہا پنکی کوئی رول ماڈل نہیں جس پرڈرامہ بنایا جائے۔

    سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ایکس’ پر جاری اپنے ایک بیان میں حنا پرویز بٹ کا کہنا تھا کہ اگر ‘پنکی’ پر واقعی کوئی ڈرامہ یا سیریل بنائی جا رہی ہے تو یہ ایک انتہائی شرمناک اور چھچھوری حرکت ہے،ایک جرائم پیشہ اور منشیات فروش خاتون معاشرے کے لیے کسی صورت رول ماڈل نہیں ہو سکتی جس کی زندگی کو سکرین پر پیش کیا جائے۔

    چیئرپرسن پنجاب ویمن پروٹیکشن اتھارٹی نے اس اقدام کو ملک کی باوقار خواتین کی تذلیل قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ عمل ان تمام عورتوں کی صریحاً بے عزتی ہے جنہوں نے معاشرے کی ترقی اور سدھار میں مثبت کردار ادا کیا ہے اور آج بھی کر رہی ہیں۔

    انہوں نے میڈیا انڈسٹری کی ترجیحات پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ ہم کب تک صرف ویورشپ اور پیسے کے لالچ میں ایسے منفی اور جرائم پیشہ افراد کو ہیرو یا رول ماڈل بنا کر پیش کرتے رہیں گے؟ انہوں نے مطالبہ کیا کہ ایسی کسی بھی کوشش کو فوری طور پر روکا جانا چاہیےجبکہ معاشرے میں بے شمار مثبت اور قابلِ تقلید شخصیات موجود ہیں جن کی جدوجہد اور کامیابیاں اجاگر کیے جانے کی مستحق ہیں۔

  • سائنسدانوں نے 5 ہزار سال پرانی ممی کےخمیر کی مدد سے روٹی تیارکر لی

    سائنسدانوں نے 5 ہزار سال پرانی ممی کےخمیر کی مدد سے روٹی تیارکر لی

    سائنسدانوں نے ایک حیران کن تجربے میں 5 ہزار سال پرانی ممی سے حاصل کیے گئے خمیر کی مدد سے کھٹی روٹی (سورڈو بریڈ) تیار کر لی ہےمحققین اب اسی قدیم خمیر کو استعمال کرتے ہوئے بیئر بنانے کے امکانات کا بھی جائزہ لے رہے ہیں۔

    یوراک ریسرچ کے انسٹی ٹیوٹ برائے ممی اسٹڈیز میں کام کرنے والے ماہرِ حیاتیات محمد سرحان اور ان کی ٹیم نے ممی سے حاصل شدہ خمیر کے نمونوں پر تحقیق کے بعد روٹی تیار کی محمد سرحان کے مطابق تجربات کے دوران بالآخر ایسا آٹا تیار کرنے میں کامیابی حاصل ہوئی جو 24 گھنٹوں کے اندر عام خمیر کی طرح اچھی طرح پھول گیا، انہوں نے اس سے قبل کبھی روٹی نہیں بنائی تھی، اس لیے ابتدائی نتائج میں مزید بہتری کی گنجائش موجود تھی، تاہم یہ تجربات اپنی نوعیت کے پہلے تجربات تھے اور ان کے نتائج حوصلہ افزا ثابت ہوئے۔

    محققین اب جرمنی کی معروف بریونگ کمپنی کے ماہرین خوراک کے ساتھ مل کر یہ جانچنے کا ارادہ رکھتے ہیں کہ آیا یہی قدیم خمیر بیئر کی تیاری میں بھی استعما ل کیا جا سکتا ہے یا نہیں یہ مخصوص خمیر سرد ماحول میں بہتر نشوونما پاتا ہے۔ سائنس دانوں کا خیال ہے کہ یہ خمیر ممی کے جسم میں اس کی زندگی کے دورا ن نہیں بلکہ موت کے کچھ عرصے بعد داخل ہوا تھا۔

    یہ ممی، جسے ’اوٹزی‘ کے نام سے جانا جاتا ہے، یورپ کی قدیم انسانی زندگی کے بارے میں اہم معلومات کا خزانہ سمجھی جاتی ہے تقریباً 5 ہزار سال پرانی یہ لاش غیر معمولی طور پر محفوظ حالت میں دریافت ہوئی تھی، اس کے جسم پر 61 ٹیٹو کے نشانات موجود ہیں، جو اب تک دریافت ہونے والے قدیم ترین ٹیٹوز میں شمار ہوتے ہیں۔

    ماہرین کا یہ بھی ماننا ہے کہ اوٹزی کو پہاڑوں میں ایک تیر مار کر قتل کیا گیا تھا، جس کے باعث اس کی موت کو دنیا کے قدیم ترین حل طلب قتل کے واقعات میں سے ایک سمجھا جاتا ہے۔ یہ نئی تحقیق قدیم مائیکرو آرگینزمز اور خوراک کی تاریخ کے مطالعے میں ایک دلچسپ پیشرفت قرار دی جا رہی ہے۔

  • دو اسرائیلی وزرا کےآئرلینڈ  میں داخلے پر پابندی

    دو اسرائیلی وزرا کےآئرلینڈ میں داخلے پر پابندی

    آئرلینڈ کے وزیر انصاف جم او کالگھن نے اسرائیلی وزیر قومی سلامتی اتمار بن گویر اور وزیر خزانہ بیزالیل سموٹرچ پر سفری پابندیاں عائد کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جس کی تصدیق آئرش وزیر اعظم مائیکل مارٹن نے کی ہے۔

    آئرش نشریاتی ادارے آر ٹی ای کے مطابق وزیر اعظم مائیکل مارٹن نے کہا کہ ان کے خیال میں یورپی یونین کو بھی ان وزرا کے خلاف مزید پابندیاں عائد کرنی چاہئیں فرانس، اسپین اور اٹلی پہلے ہی یورپی یونین سے بن گویر پر پابندیاں لگانے کا مطالبہ کر چکے ہیں بین الاقوامی برادری کو اس معاملے کو سنجیدگی سے لینا چاہیے اور آئرلینڈ اس سلسلے میں دیگر ممالک کے ساتھ مل کر کوششیں جاری رکھے گا دونوں وزرا کا رویہ یورپی یونین کی سطح پر پابندیوں کا جواز فراہم کرتا ہے، تاہم یہ الگ بات ہے کہ آیا اس مقصد کے لیے یورپی یونین کے تمام رکن ممالک کی مطلوبہ حمایت حاصل ہو سکے گی یا نہیں۔

    دوسری جانب آئرلینڈ کے وزیر انصاف کے ترجمان نے ایک بیان میں کہا کہ دونوں اسرائیلی وزرا پر سفری پابندیاں اس ہفتے کابینہ کے باضابطہ فیصلے کے بغیر آئرش حکومت کی منظوری کے بعد نافذ کی گئی ہیں وزیر انصاف نے امیگریشن حکام کو ہدایت جاری کر دی ہے کہ اگر اتمار بن گویر یا بیزالیل سموٹرچ آئرلینڈ میں داخل ہونے کی کوشش کریں تو انہیں ملک میں داخلے کی اجازت نہ دی جائے۔

    برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کے مطابق گزشتہ ماہ فرانس نے بھی بن گویر کے اپنے ملک میں داخلے پر پابندی عائد کر دی تھی یہ اقدام ایک ایسی ویڈیو کے بعد کیا گیا تھا جس میں بن گویر غزہ جانے والے امدادی بحری قافلے سے گرفتار کیے گئے پابند کارکنوں کا مذاق اڑاتے دکھائی دیے تھے اس واقعے پر امریکا، برطانیہ، فرانس، اٹلی اور کینیڈا سمیت متعدد ممالک نے شدید ردعمل کا اظہار کیا تھا اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے بھی بن گویر کے طرزِ عمل کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا تھا کہ یہ اقدامات اسرائیل کی اقدار کے مطابق نہیں ہیں۔

    گزشتہ برس برطانیہ، آسٹریلیا، ناروے، کینیڈا اور نیوزی لینڈ نے بھی بن گویر اور سموٹرچ پر فلسطینی برادریوں کے خلاف بار بار تشدد پر اکسانے کے الزامات کے تحت پابندیاں عائد کی تھیں ان پابندیوں کے تحت دونوں وزرا کے برطانیہ میں داخلے پر پابندی لگائی گئی تھی جبکہ ان کے اثاثے منجمد کرنے کا بھی حکم دیا گیا تھا یہ پہلا موقع تھا کہ کسی مغربی ملک کی حکومت نے اسرائیلی وزرا کے خلاف اس نوعیت کی پابندیاں عائد کی تھیں۔

    اُس وقت کے برطانوی وزیر خارجہ ڈیوڈ لیمی نے کہا تھا کہ وزیر خزانہ سموٹرچ اور وزیر قومی سلامتی بن گویر نے انتہاپسندانہ تشدد کو ہوا دی اور فلسطینیوں کے انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کی حوصلہ افزائی کی،جمعے کو مونٹی نیگرو میں یورپی یونین اور مغربی بلقان سربراہی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے آئر ش وزیر اعظم مائیکل مارٹن نے کہا کہ دونوں اسرائیلی وزرا کے بیانات اور اقدامات فلسطینیوں کو فلسطین سے ختم کرنے کی خواہش کے مترادف ہیں۔

  • گرفتار فتنہ الخوارج دہشتگرد کے تہلکہ خیز انکشافات

    سیکیورٹی فورسز کے ہاتھوں گرفتار فتنہ الخوارج کے دہشتگرد عمر دین عرف جذبہ نے اپنے اعترافی بیان میں تنظیم کے ڈھانچے، مالی معاونت، تربیتی مراکز اور دہشتگرد کارروائیوں سے متعلق اہم انکشافات کیے ہیں۔

    سیکیورٹی فورسز کے ہاتھوں گرفتار فتنہ الخوارج کے دہشتگرد عمر دین عرف جذبہ نے اپنے اعترافی بیان میں انکشاف کیا ہے کہ خوارجی نیٹ ورک کو افغانستان سے تربیت اور مالی مدد حاصل ہوتی ہے جبکہ تنظیم کے ارکان بھتہ خوری، اغوا برائے تاوان اور دیگر جرائم میں بھی ملوث ہیں اس نے 12 جنوری 2025 کو اپنے والد کے ساتھ جھگڑے کے بعد ٹی ٹی پی (فتنہ الخوارج) میں شمولیت اختیار کی تھی۔

    عمر دین کے مطابق تنظیم کے تمام اہم کمانڈروں کے ساتھ 60 سے 70 افغان جنگجو موجود ہیں جنہوں نے افغانستان میں تربیت حاصل کی ہے اس نے اعتراف کیا کہ خوارجی نیٹ ورک مختلف دہشتگرد کارروائیوں میں ملوث رہا ہے، جن میں شادی خیل بیس پر حملہ اور کوٹہ خواہ روڈ پر دھماکا بھی شامل ہے کوٹہ خواہ روڈ پر ہونے والے دھماکے میں ماہ رمضان کے دوران 7 پولیس اہلکار شہید ہوئے تھے۔

    عمر دین عرف جذبہ دعویٰ کیا کہ تنظیم کے ارکان منشیات کے عادی ہیں اور اپنے مراکز کے اندر غیر اخلاقی سرگرمیوں میں بھی ملوث رہتے ہیں خوارجی کمانڈر لڑکوں کے ساتھ غیر اخلاقی حرکات میں بھی ملوث ہیں فتنہ الخوارج کو افغانستان میں موجود کمانڈروں سے مالی معاونت حاصل ہوتی ہے اور تنظیم مختلف غیر قانونی سرگرمیوں کے ذریعے بھی اپنے اخراجات پورے کرتی ہے خوارجی گروہ بھتہ خوری، گاڑیاں چھیننے اور اغوا برائے تاوان جیسی وارداتوں میں بھی ملوث ہے، جبکہ تنظیمی کمانڈر شریعت کے نفاذ اور جہاد کے نام پر نوجوانوں کو ورغلا کر اپنے ساتھ شامل کرتے ہیں۔

    عمر دین عرف جذبہ نے نوجوانوں سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ وہ خوارج کے جھوٹے دعوؤں اور گمراہ کن پروپیگنڈے سے ہوشیار رہیں اور ایسے عناصر کے بہکاوے میں نہ آئیں۔

  • جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کے لیے مسئلہ جموں و کشمیر کا منصفانہ حل ضروری ہے، عاصم افتخار احمد

    جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کے لیے مسئلہ جموں و کشمیر کا منصفانہ حل ضروری ہے، عاصم افتخار احمد

    پاکستان نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں ایک بار پھر واضح کیا ہے کہ جموں و کشمیر اور فلسطین جیسے دیرینہ تنازعات کا اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق منصفانہ حل عالمی اور علاقائی امن و استحکام کے لیے ناگزیر ہے۔

    اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار احمد نے جنرل اسمبلی میں سلامتی کونسل کی سالانہ رپورٹ 2025 پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ یہ رپورٹ عالمی امن و سلامتی کے حوالے سے سلامتی کونسل کی کارکردگی کا جائزہ لینے کا ایک اہم ذریعہ ہے اور اس سے اقوام متحدہ کے رکن ممالک کو کونسل کی سرگرمیوں اور فیصلوں کا جائزہ لینے کا موقع ملتا ہے۔

    انہوں نے بتایا کہ جولائی 2025 میں سلامتی کونسل کی صدارت کے دوران پاکستان کو سالانہ رپورٹ کے ابتدائی حصے کی تیاری اور رابطہ کاری کی ذمہ دار ی سونپی گئی تھی، پاکستان نے اس عمل میں کھلے، تعمیری اور جامع انداز کو اپنایا اور مختلف رکن ممالک کی آرا کو رپورٹ میں شامل کرنے کی کوشش کی تاکہ ایک جامع اور تجزیاتی دستاویز تیار کی جا سکے رپورٹ سے ظاہر ہوتا ہے کہ 2025 کے دوران سلامتی کونسل نے افریقہ، مشرق وسطیٰ، مغربی ایشیا، جنوبی ایشیا، یورپ اور لاطینی امریکا سمیت مختلف خطوں میں امن و سلامتی کو درپیش چیلنجز پر فعال کردار ادا کیا، کونسل نے شہریوں کے تحفظ، تنازعات کے پرامن حل، اقوام متحدہ کے ا من مشنز، خواتین، امن اور سلامتی جیسے موضوعات پر بھی خصوصی توجہ دی۔

    انہوں نے کہا کہ شدید جغرافیائی سیاسی اختلافات کے باوجود سلامتی کونسل عالمی استحکام اور امن کے فروغ کے لیے مرکزی کردار ادا کرتی رہی، پاکستان کی جانب سے پیش کردہ قرارداد 2788 کی متفقہ منظوری اس امر کی عکاسی کرتی ہے کہ عالمی برادری تنازعات کے پرامن حل اور اقوام متحدہ کے منشور کے تحت تنازعات کی روک تھام کے طریقہ کار کو مؤثر بنانے کے لیے متفق ہے سلامتی کونسل کی رپورٹ نے ایک بار پھر فلسطین اور جموں و کشمیر جیسے دیرینہ تنازعات کی مسلسل اہمیت کو اجاگر کیا ہے یہ دونو ں تنازعات نہ صرف علاقائی بلکہ بین الاقوامی امن و سلامتی پر بھی اثر انداز ہوتے ہیں اور انہیں بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطا بق حل کیا جانا چاہیے۔

    انہوں نے نشاندہی کی کہ 2025 کے دوران بھارت اور پاکستان سے متعلق 20 سے زائد مراسلات سلامتی کونسل کے سامنے لائے گئے جبکہ مئی 2025 میں اس ایجنڈے پر بند کمرہ مشاورت بھی ہوئی یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ 7 دہائیوں سے زائد عرصے سے سلامتی کونسل کے ایجنڈے پر موجود جموں و کشمیر تنازع آج بھی عالمی توجہ کا مرکز ہےپاکستان کا مؤقف واضح ہے کہ جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کے لیے مسئلہ جموں و کشمیر کا منصفانہ حل ضروری ہے، جو سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں اور کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق ہونا چاہیے کشمیریوں کو حقِ خودارادیت دیا جانا چاہیے، جس کا وعدہ اقوام متحدہ اور عالمی برادری نے ان سے کر رکھا ہے۔

    عاصم افتخار احمد نے کہا کہ مقبوضہ فلسطینی علاقوں، خصوصاً غزہ، کی صورتحال سلامتی کونسل کے ایجنڈے پر نمایاں رہی انہوں نے غزہ امن منصوبے کی توثیق کرنے والی قرارداد 2803 کو امید کی ایک کرن قرار دیتے ہوئے اس پر مکمل عمل درآمد کی ضرورت پر زور دیا انہوں نے فلسطینی عوام کے حقِ خودارادیت، 1967 سے قبل کی سرحدوں پر مبنی آزاد اور خودمختار فلسطینی ریاست اور القدس الشریف کو اس کا دارالحکومت بنانے کے مؤقف کا اعادہ کیا۔

    پاکستانی مندوب نے اقوام متحدہ کے امن مشنز کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ پاکستان عالمی امن مشنز کو مزید مؤثر، وسائل سے لیس اور جدید چیلنجز سے ہم آہنگ بنانے کے لیے اپنی حمایت جاری رکھے گا سلامتی کونسل کے ذیلی اداروں کے سربراہان اور نائب سربراہان کی تقرری میں تاخیر سے کونسل کی کارکردگی متاثر ہوئی ہے ان کے مطابق کونسل کے طریقہ کار کو زیادہ شفاف، مؤثر اور قابلِ پیش گوئی بنانے کی ضرورت ہے۔

    عاصم افتخار احمد نے سلامتی کونسل میں اصلاحات کے موضوع پر بھی پاکستان کا مؤقف دہراتے ہوئے کہا کہ دنیا کو زیادہ جمہوری، نمائندہ اور جوابدہ عالمی نظام کی ضرورت ہے ویٹو پاور کے استعمال پر رکن ممالک میں تشویش پائی جاتی ہے اور سلامتی کونسل میں اصلاحات شفافیت، مساوات، شمولیت اور اتفاقِ رائے کے اصولوں کے مطابق ہونی چاہییں۔

    انہوں نے مستقل نشستوں اور ویٹو کے دائرہ کار میں توسیع کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان ایسی جامع اصلاحات کا حامی ہے جو چند ممالک نہیں بلکہ اقوام متحدہ کے بیشتر رکن ممالک کے مفادات کی عکاسی کریں، اصلاحات سب کے لیے، خصوصی مراعات کسی کے لیے نہیں۔

  • فیفا نے پانی کی بوتلوں پر پابندی کا فیصلہ واپس لے لیا

    فیفا نے پانی کی بوتلوں پر پابندی کا فیصلہ واپس لے لیا

    فٹبال کی عالمی تنظیم ’فیفا‘ نے شائقینِ فٹبال کو ورلڈ کپ 2026 کے میچوں کے دوران اسٹیڈیم میں ڈسپوزایبل پانی کی بوتل لانے کی مشروط اجازت دے دی ہے-

    فیفا کے چیف آپریٹنگ آفیسر ہیمو شرگی نے مائیکرو بلاگنگ پلیٹ فارم ‘ایکس‘ پر جاری کردہ ایک ویڈیو پیغام میں اس پالیسی کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ اب تمام شائقین کو امریکا اور کینیڈا میں ہونے والے فیفا ورلڈ کپ 2026 کے کسی بھی میچ کے دوران اپنے ساتھ فیکٹری سے سیل شدہ، نرم پلاسٹک کی 20 اونس (590 ملی لیٹر) کی ایک ڈسپوزایبل پانی کی بوتل اندر لے جانے کی اجازت ہوگی۔

    رپورٹس کے مطابق فیفا نے اس سے قبل سیکیورٹی اور کھلاڑیوں و شائقین کو کسی بھی ممکنہ چوٹ یا خطرے سے محفوظ رکھنے کے نام پر باہر سے لائی جانے والی بوتلوں پر پابندی کا دفاع کیا تھا، اور ادارے کا کہنا ہے کہ یہ سیکیورٹی خدشات اب بھی برقرار ہیں ہیمو شرگی نے ویڈیو میں واضح کیا کہ سخت باڈی والی یا دھاتی ری یوزایبل بوتلیں سیکیورٹی وجوہات کی بنا پر اب بھی مکمل طور پر ممنوع ہوں گی۔

    یہ تنازع ایک ایسے وقت میں شدت اختیار کر گیا تھا جب محکمہ موسمیات اور ماہرینِ موسمیات نے خبردار کیا ہے کہ امریکا، کینیڈا اور میکسیکو میں اوپن ائیر اسٹیڈیمز کے اندر شائقین کو شدید ترین گرمی کے باعث صحت کے سنگین خطرات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے،ایک حالیہ تحقیقی رپورٹ کے مطابق ورلڈ کپ کے 104 میچوں میں سے کم و بیش 26 میچز ایسے موسمی حالات میں کھیلے جائیں گے جہاں انسانی جسم پر گرمی اور حبس کے اثرات کو ناپنے والا پیمانہ مقررہ حد سے تجاوز کرجائے گا۔

    واضح رہے کہ گزشتہ سال امریکا ہی میں منعقدہ فیفا کلب ورلڈ کپ کے دوران بھی شدید گرمی کے باوجود شائقین کو اسٹیڈیم میں پانی کی بوتلیں لے جانے سے روک دیا گیا تھاجس پر بڑے پیمانے پر شکایات سامنے آئی تھیں اس بار عوامی ردِعمل کو دیکھتے ہوئے فیفا نے اسٹیڈیم کے اطراف میں مسٹنگ اسٹیشنز (پانی کی بوندیں برسانے والے نظام)، کولنگ ٹینٹس، پنکھے اور ہائیڈریشن اسٹیشنز قائم کرنے کا اعلان کیا ہےفیفا نے یقین دہانی کرائی ہے کہ اسٹیڈیم کے اندر فروخت ہونے والے پانی کی قیمتیں عام دنوں کی طرح معمول کے مطابق ہی رکھی جائیں گی تاکہ شائقین کو کسی قسم کی دشواری کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

    یہ اہم اعلان فیفا کے اس فیصلے کے محض دو دن بعد سامنے آیا ہے جس میں اسٹیڈیمز کے اندر دوبارہ استعمال ہونے والی پانی کی بوتلوں پر مکمل پابندی عائد کردی گئی تھی، جس پر شائقین نے سخت برہمی کا اظہار کیا تھا-

  • ریاض ایئر کو بوئنگ طیاروں کی پہلی کھیپ موصول

    ریاض ایئر کو بوئنگ طیاروں کی پہلی کھیپ موصول

    سعودی عرب کی نئی قومی ایئرلائن ‘ریاض ایئر’ نے اپنے بیڑے میں پہلے 2 کسٹم بلٹ بوئنگ 787-9 ڈریم لائنر طیارے شامل کر کے اپنی تجارتی پروازوں کے آغاز کی جانب ایک بہت بڑا سنگ میل عبور کر لیا ہے۔

    سعودی پریس ایجنسیکی رپورٹ کے مطابق یہ دونوں جدید ترین طیارے مقامی وقت کے مطابق صبح 10 بجے ریاض کے کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پہنچے، جہاں روایتی طور پر انہیں پانی کی توپوں سے سلامی دی گئی یہ طیارے ریاض ایئر کی جانب سے دیے گئے مجموعی 72 طیاروں کے آرڈر کی پہلی کھیپ ہیں، جو سعودی عرب کے پبلک انویسٹمنٹ فنڈ کی ملکیت ہے اور یہ مملکت کے ‘ویژن 2030’ کے تحت معیشت کو متنوع بنانے اور سیاحت و ہوا بازی کے شعبے کو مضبوط کرنے کی حکمتِ عمل کا ایک اہم حصہ ہے۔

    ریاض ایئر کے چیف ایگزیکٹو ٹونی ڈگلس نے اس موقع پر کہا کہ وہ صرف ایک ایئرلائن ہی نہیں بنا رہے، بلکہ مملکت کے دل سے دنیا کے لیے ایک نیا راستہ کھول رہے ہیں ایئرلائن کا ہدف ہے کہ وہ 2030 تک اپنے بیڑے کو 180 سے زائد طیاروں تک وسیع کرے اور ریاض کو دنیا بھر کے 100 سے زیادہ مقامات سے جوڑ دے۔

    توقع ہے کہ ایشیا، افریقہ اور یورپ کے سنگم پر واقع سعودی عرب کی جغرافیائی پوزیشن کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ریاض ایئر رواں سال کے آخر تک تقریباً 20 مقامات کے لیے اپنی سروسز کا آغاز کر دے گی کچھ ہی ہفتے قبل کمپنی نے اپنے نئے ڈریم لائنرز کے ذریعے ‘ریاض تا لندن’ روٹ کے لیے ٹکٹوں کی عمومی فروخت شروع کی ہے، جس کی باقاعدہ پروازیں یکم جولائی سے شروع ہوں گی۔

    لندن ہیتھرو کی یہ سروس ریاض ایئر کے بین الاقوامی نیٹ ورک کا سنگِ بنیاد ثابت ہوگیان نئے طیاروں کے اندرونی حصے کو 4 مختلف کیبن کیٹیگریز (بزنس الیٹ، بزنس، پریمیم اکانومی اور اکانومی) میں تقسیم کیا گیا ہے، جس میں جدید ترین ان فلائٹ انٹرٹینمنٹ سسٹم، بلوٹوتھ کنیکٹیویٹی اور تیز رابطہ کاری فراہم کی گئی ہے تاکہ ایئرلائن کے ٹیکنالوجی پر مبنی بزنس ماڈل کو سپورٹ کیا جا سکے۔

    واضح رہے کہ ریاض ایئر کو پی آئی ایف نے 2023 میں لانچ کیا تھا اور اسے اپریل 2025 میں جنرل اتھارٹی آف سول ایوی ایشن سے آپریٹر سرٹیفکیٹ ملا تھا سعودی حکام کے مطابق ریاض ایئر مستقبل میں مملکت کی غیر تیل ملکی معیشت میں تقریباً 20 ارب ڈالرز کا حصہ ڈالے گی اور 2 لاکھ سے زائد براہِ راست اور بالواسطہ ملازمتوں کے مواقع پیدا کرے گی اس وقت ایئرلائن کے چیئرمین پی آئی ایف کے گورنر یاسر الرمیان ہیں، جبکہ اس کی قیادت اتحاد ایئرویز کے سابق چیف ایگزیکٹو ٹونی ڈگلس کر رہے ہیں۔

  • انٹرنیشنل اسپیس اسٹیشن آکسیجن لیکیج سے ہنگامہ،اسٹیشن پر اچانک ہنگامی صورتحال

    انٹرنیشنل اسپیس اسٹیشن آکسیجن لیکیج سے ہنگامہ،اسٹیشن پر اچانک ہنگامی صورتحال

    انٹرنیشنل اسپیس اسٹیشن کے روسی ماڈیول میں ہوا کے اخراج کی رفتار اچانک دگنی ہونے اور روس کی جانب سے مرمت کے متنازع طریقہ کار کے باعث اسٹیشن پر اچانک ہنگامی صورتحال پیدا ہو گئی۔

    امریکی خلائی ایجنسی ناسا نے احتیاطی تدابیر کے طور پر پانچ خلابازوں کو فوری طور پر اسٹیشن خالی کرنے کی تیاری اور ’سیف ہیون‘ پروٹوکول کے تحت خلائی جہاز میں پناہ لینے کی ہدایت جاری کر دی تاہم، تقریباً دو گھنٹے جاری رہنے والے اس ہنگامی الرٹ کو بعد میں واپس لے لیا گیا ہنگامی صورتحال اس وقت پیدا ہوئی جب روسی خلائی ایجنسی روسکوسموس کے خلابازوں نے ’زویزدا سروس ماڈیول‘ میں موجود دراڑ تک رسائی حاصل کرنے کے لیے ایک ’آری‘ استعمال کرنے کا فیصلہ کیا۔

    ناسا کے اعلیٰ حکام نے روس کے اس خطرناک طریقہ کار سے شدید اختلاف کیا، جس کے بعد ناسا نے فوری طور پر خلابازوں کو محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کا حکم دیا ایک سینیئر ناسا عہدیدار نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بتایا کہ گزشتہ چند ماہ سے یہ لیکج معمولی تھی، لیکن جمعہ کے روز ہوا کے اخراج کی رفتار اچانک 1 پاؤنڈ روزانہ سے بڑھ کر 2 پاؤنڈ روزانہ تک پہنچ گئی، جس نے تشویش میں اضافہ کیا۔

    دوسری جانب روسی خلائی ایجنسی روسکوسموس نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ انہوں نے اسٹیشن پر دو مختلف جگہوں پر معمولی لیکج کا پتا لگایا تھا، جن میں سے پہلی کو فوری طور پر سِیل کر دیا گیا جبکہ دوسری پر کام جاری ہے۔ روسی حکام کا مؤقف ہے کہ اس سے عملے یا اسٹیشن کے سسٹمز کو کوئی فوری خطرہ لاحق نہیں تھا۔

    ناسا کی ترجمان کے مطابق، جیسے ہی روسی عملے نے آری کی مدد سے مرمت کا کام عارضی طور پر روکا، ناسا نے اپنا ہنگامی الرٹ منسوخ کر دیا اور خلابازوں کو دوبارہ اسٹیشن میں داخل ہونے کی اجازت دے دی وہ اب اس مسئلے کے مستقل اور محفوظ حل کے لیے روسی خلائی ایجنسی کے ساتھ مل کر کام کر رہے ہیں۔

    واضح رہے کہ انٹرنیشنل اسپیس اسٹیشن کی 27 سالہ تاریخ میں آج تک کبھی ایسی نوبت نہیں آئی کہ خلابازوں کو واقعی اسٹیشن چھوڑ کر زمین پر بھاگنا پڑا ہوخلائی ملبےکے ٹکراؤ کے خطرے یا ہوا کے دباؤ میں تبدیلی کے باعث ایسے الرٹس ماضی میں بھی انتہائی کم مواقع پر جاری کیے جاتے رہے ہیں یہ خلابازوں کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے طے شدہ بین الاقوامی قوانین کا حصہ ہیں۔

  • ٹرمپ حکومت کی  27 لاکھ زندہ افراد کو مردہ قرار دینے کی تجویز

    ٹرمپ حکومت کی 27 لاکھ زندہ افراد کو مردہ قرار دینے کی تجویز

    امریکا میں ٹرمپ حکومت کی جانب سے 27 لاکھ زندہ افراد کو مردہ قرار دینے کی تجویز سامنے آگئی۔

    غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق سینیٹ کمیٹیوں میں جمع کروائی گئی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ امریکا میں مہاجرین کو نکالنے کیلئے شہریوں کو مردہ ظاہر کرنےکا مبینہ منصوبہ سامنے آیا ہے یہ مبینہ منصوبہ ڈیپارٹمنٹ آف گورنمنٹ ایفیشنسی کے تحت تیار کیا گیا تھا جس کی قیادت ایلون مسک کر رہے تھے۔

    دوسری جانب سوشل سکیورٹی ایڈمنسٹریشن نے یہ دعوے رد کردیے ہیں جب کہ ہوم لینڈ سکیورٹی نے معلومات کے تبادلے کو قومی سلامتی سے جوڑ دیا ہے۔